🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
47. ضَرْبُ عُنُقِ مَنْ تَزَوَّجَ امْرَأَةَ أَبِيهِ
جو شخص اپنے باپ کی بیوی سے نکاح کرے اس کی گردن مارنے کا حکم
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2813
فحدَّثَناه أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا الحسن بن علي بن عفّان، حدثنا أسباط بن محمد، عن مُطَرِّف، عن أبي الجَهْم، عن البراء بن عازب، قال: إني لأطوفُ على إبلٍ لي ضَلّت في عهد رسول الله ﷺ، فبَيْنا أنا أجُول في أبيات، فإذا أنا برَكْبٍ وفوارسَ جاؤوا فأطافُوا فاستخرجُوا رجلًا، فما سألوه ولا كَلَّموه حتى ضربوا عنقَه، فلما ذهبُوا سألتُ عنه، قالوا: عَرَّس بامرأةِ أبيه (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2778 - إسناده مليح
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں میرا اونٹ گم ہو گیا، میں اس کو ڈھونڈتا پھر رہا تھا اور مختلف گھروں میں چکر لگا رہا تھا تو میں نے کچھ سواروں کو دیکھا کہ وہ آئے اور گھوم پھر کر انہوں نے ایک شخص کو گرفتار کیا، انہوں نے اس سے کوئی بات نہیں کی اور اس کو قتل کر ڈالا، جب وہ چلے گئے تو میں نے لوگوں سے اس کے متعلق دریافت کیا تو لوگوں نے مجھے بتایا کہ اس نے اپنے باپ کی بیوی کے ساتھ شادی کی تھی۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب النكاح/حدیث: 2813]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
48. قِصَّةُ إِسْلَامِ غَيْلَانَ بْنِ سَلَمَةَ الثَّقَفِيِّ وَتَخْيِيرِهِ لِأَرْبَعَةٍ مِنَ النِّسَاءِ
غیلان بن سلمہ ثقفی کے اسلام لانے اور چار عورتوں کے انتخاب کا واقعہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2814
حدثنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الحافظ، حدثنا إبراهيم بن عبد الله السَّعدي، أخبرنا يزيد بن هارون. وأخبرنا أبو العباس محمد بن أحمد المحبُوبي بمَرْو، حدثنا سعيد بن مسعود، حدثنا يزيد بن هارون، أخبرنا سعيد بن أبي عَرُوبة. وأخبرنا الحسن بن يعقوب العَدْل، حدثنا يحيى بن أبي طالب، أخبرنا عبد الوهاب بن عطاء، أخبرنا سعيد، عن معمر، عن الزُّهْري، عن سالم، عن أبيه، قال: أسلم غَيلانُ بن سَلَمة الثَّقَفي وعنده عشرُ نِسوةٍ، فأمره النبيُّ ﷺ أن يأخذَ منهن أربعًا (1) . هكذا رواه المتقدّمون من أصحاب سعيد: يزيد بن زُريع وإسماعيلُ ابن عُلَيَّة وغُنْدَر والأئمة الحفاظ من أهل البصرة، وقد حكم الإمام مسلم بن الحجّاج أنَّ هذا الحديث ممّا وَهِمَ فيه معمرٌ بالبصرة، فإن رواه عنه ثقةٌ خارجَ البصريين حكمْنا له بالصحة، فوجدتُ سفيان الثَّوْري وعبدَ الرحمن بن محمد المُحارِبي وعيسى بن يونس، وثلاثتُهم كوفيون، حدَّثوا به عن معمر. أما حديث الثَّوْري:
سیدنا سالم رضی اللہ عنہ اپنے والد کا بیان نقل کرتے ہیں: غیلان بن سلمہ ثقفی مسلمان ہوئے تو ان کے نکاح میں دس عورتیں تھیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو حکم دیا کہ ان میں سے چار کا انتخاب کر لے (اور باقی کو چھوڑ دے)۔ ٭٭ اس حدیث کو اسی طرح سعید بن یزید بن زریع کے شاگردوں، اسماعیل بن علیہ، غندر اور اہلِ بصرہ کے حافظہ اَئمہ نے بھی روایت کی ہے۔ امام مسلم بن حجاج رحمۃ اللہ علیہ نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ اس حدیث میں معمر کو بصرہ کی وجہ وہم ہے۔ اگر اس حدیث کو بصریوں کے علاوہ کوئی دوسرا ثقہ راوی روایت کرتا تو ہم اس کی صحت کا حکم لگاتے۔ پھر سفیان الثوری، عبدالرحمن بن محمد المحاربی اور عیسیٰ بن یونس یہ تینوں کوفی ہیں، ان سب نے محمد کے ذریعے زہری کے واسطے سے سالم کے حوالے سے ان کے والد کا یہ بیان نقل کیا ہے کہ جب غیلان بن سلمہ مسلمان ہوئے، تو اس کے نکاح میں دس عورتیں تھیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو حکم دیا کہ ان میں سے چار کا انتخاب کر لے (اور باقی کو چھوڑ دے)۔ محاربی کی حدیث: [المستدرك على الصحيحين/كتاب النكاح/حدیث: 2814]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2815
فحدَّثَناه علي بن حَمْشَاذَ العَدْل ويحيى بن منصور القاضي، قالا: حدثنا علي بن عبد العزيز، حدثنا أبو عُبيد، حدثنا يحيى بن سعيد، عن سفيان، عن معمر، عن الزُّهْري، عن سالم، عن أبيه: أنَّ غَيلان بن سَلَمة أسلم وعنده عشرُ نِسوةٍ، فأمره رسولُ الله ﷺ أن يَختارَ منهن أربعًا (1) . وأما حديث المُحارِبي:
محاربی کی سند کے ہمراہ مروی ہے کہ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: غیلان بن سلمہ جب مسلمان ہوئے تو جاہلیت میں ان کے نکاح میں دس عورتیں تھیں، وہ سب بھی ان کے ساتھ ہی مسلمان ہو گئیں تھیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو فرمایا: ان میں سے صرف چار کا انتخاب کر لو (باقیوں کو چھوڑ دو)۔ عیسیٰ کی حدیث: [المستدرك على الصحيحين/كتاب النكاح/حدیث: 2815]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2816
فحدَّثَناه إسماعيل بن أحمد التاجر، أخبرنا علي بن أحمد بن الحسين العِجْلي، حدثنا محمد بن طَريف، حدثنا المُحارِبي، عن معمر، عن الزُّهْري، عن سالم بن عبد الله، عن أبيه: أنَّ غَيلان بن سَلَمة أسلَم وعنده عشرُ نِسوةٍ في الجاهلية، وأسلَمْن معه، فقال رسول الله ﷺ:"اختَرْ منهن أربعًا" (2) . وأما حديث عيسى:
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ غیلان بن سلمہ رضی اللہ عنہ جب اسلام لائے تو (زمانہ جاہلیت کی) ان کی دس بیویاں تھیں جو ان کے ساتھ ہی اسلام لے آئیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ان میں سے (اپنی پسند کی) چار منتخب کر لو (اور باقی کو چھوڑ دو)۔ اور جہاں تک عیسیٰ کی حدیث کا تعلق ہے: [المستدرك على الصحيحين/كتاب النكاح/حدیث: 2816]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2817
فحدَّثَناه علي بن حَمْشاذَ، حدثنا محمد بن أيوب، أخبرنا إبراهيم بن موسى، أخبرنا عيسى بن يونس، عن معمر، عن الزُّهْري، عن سالم بن عبد الله، عن أبيه، قال: أسلَم غَيلانَ بن سَلَمة الثَّقَفي وله عشرُ نِسوةٍ، فأمرَه رسولُ الله ﷺ أن يَتَخيّر منهن أربعًا، ويَتركَ سائرَهن (1) . وهكذا وجدتُ الحديثَ عند أهل اليَمَامة عن معمر:
عیسیٰ بن یونس کی سند کے ہمراہ مروی ہے کہ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: غیلان بن سلمہ الثقفی اسلام لائے تو اس وقت ان کے نکاح میں دس عورتیں تھیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو حکم دیا کہ ان میں سے چار کا انتخاب کر لے اور باقی تمام کو چھوڑ دے۔ ٭٭ یونہی خراسان کے ائمہ کی بھی معمر سے روایت موجود ہے۔ (جو کہ درج ذیل ہے) [المستدرك على الصحيحين/كتاب النكاح/حدیث: 2817]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2818
حدثني [أبو] (2) الحسين بن يعقوب الحافظ، أخبرنا محمد بن محمد بن سليمان، أنَّ أحمد بن محمد بن عمر بن يونس حدثهم، حدثني أَبي، حدثنا عمر بن يونس، حدثنا يحيى بن أبي كثير، أخبرنا معمر، عن الزُّهْري، عن سالم، عن أبيه، قال: أسلم غَيلانُ بن سَلَمة الثَّقَفي وله ثمانِ نسوةٍ، فأمره رسولُ الله ﷺ أن يَتخيّر منهن أربعًا (3) . وهكذا وجدتُ الحديث عن الأئمة الخُراسانيين عن معمر:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2782 - أحمد بن محمد كذاب
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ غیلان بن سلمہ ثقفی اسلام لائے تو اس وقت ان کی دس بیویاں تھیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو حکم دیا کہ ان میں سے چار رکھ لیں۔ ٭٭ خراسانی ائمہ بھی اس حدیث کو سیدنا معمر سے اسی طرح روایت کرتے ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب النكاح/حدیث: 2818]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2819
حدثني أبو العباس أحمد بن سعيد المروَزي ببُخاري، حدثنا عبد الله بن محمود السَّعْدي، حدثنا محمد بن موسى الخلّال، حدثنا الفضل بن موسى، حدثنا معمر، عن الزُّهْري، عن سالم بن عبد الله، عن أبيه: أنَّ غَيلان بن سَلَمة الثَّقَفي أَسلَم وعنده عشرُ نِسوةٍ، فأمره رسولُ الله ﷺ أن يُمسِكَ أربعًا، ويُفارقَ سائرَهنّ (1) . والذي يؤدِّي إليه اجتهادي أنَّ معمر بن راشد حدَّث به على الوجهَين، أرسله مرةً ووصلَه مرةً، والدليل عليه أنَّ الذين وصلُوه عنه من أهل البصرة فقد أرسلوه أيضًا، والوصلُ أولَى من الإرسال، فإنَّ الزيادة من الثقة مقبولة، والله أعلم.
مذکورہ سند کے ہمراہ بھی مروی ہے کہ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ غیلان بن سلمہ ثقفی اسلام لائے تو اس وقت ان کے پاس دس عورتیں تھیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو حکم دیا کہ ان میں سے چار کا انتخاب کر لے اور باقی تمام کو الگ کر دے۔ ٭٭ میں نے اپنی کوششوں اور محنتوں کا جو نتیجہ اخذ کیا ہے، وہ یہ ہے کہ معمر بن راشد نے یہ حدیث دو سندوں کے ہمراہ روایت کی ہے۔ ایک سند میں وہ ارسال کرتے ہیں اور دوسری میں وصل ۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ اہلِ بصرہ میں سے جن راویوں نے اس حدیث کو معمر سے موصولاً بیان کیا انہوں نے ارسال بھی کیا ہے اور ارسال سے وصل بہتر ہوتا ہے کیونکہ ثقہ کی جانب سے زیادتی مقبول ہوتی ہے۔ (واللہ اعلم بالصواب)۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب النكاح/حدیث: 2819]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2820
حدثنا أبو أحمد الحسين بن علي التميمي، حدثنا الإمام أبو بكر محمد بن إسحاق، حدثنا بشر بن معاذ العَقَدي، حدثنا يزيد بن زُريع، حدثنا حَبيبٌ المعلِّم، قال: جاء رجلٌ من أهل الكوفة إلى عمرو بن شعيب، فقال: ألا تَعجَبُ، إنَّ الحسن يقول: إنَّ الزانيَ المجلُودَ لا يَنكِحُ إِلّا مَجلُودةً مثلَه؟ فقال عمرو: وما يُعجِبُك، حدَّثَناه سعيدٌ المقبُري، عن أبي هريرة، عن النبي ﷺ، وكان عبدُ الله بن عمرو ينادي بها نداءً (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2784 - صحيح
سیدنا حبیب المعلم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ایک شخص اہلِ کوفہ سے عمرو بن شعیب کے پاس آیا اور کہنے لگا: کیا آپ کو حسن کی اس بات سے تعجب نہیں ہوتا کہ سزایافتہ زانی کے ساتھ اسی جیسی سزایافتہ زانیہ ہی کا نکاح کیا جائے ۔ عمرو بولے: اس میں تعجب کی بات کیا ہے؟ سعیدالمقبری نے ہمیں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہی فرمان بیان کیا ہے۔ اور عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ تو اس کا اعلان کروایا کرتے تھے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب النكاح/حدیث: 2820]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2821
حدثنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه، أخبرنا أبو المُثنَّى، حدثنا مُسدَّد، حدثنا المُعتمِر، عن أبيه، قال: حدثنا الحَضرميُّ بن لاحِق، عن القاسم بن محمد، عن عبد الله بن عمرو: أنَّ رجلًا من المسلمين استأذن نبيَّ الله ﷺ في امرأةٍ يُقال لها: أم مَهزُول، كانت تُسافِح وتشترط أن تُنفِقَ (1) عليه، وأنه استأذنَ فيها نبيَّ الله ﷺ، وذكَرَ له أمرَها، فقرأ نبيُّ الله ﷺ: ﴿الزَّانِي لَا يَنْكِحُ إِلَّا زَانِيَةً أَوْ مُشْرِكَةً﴾، ونزلت ﴿وَالزَّانِيَةُ لَا يَنْكِحُهَا إِلَّا زَانٍ أَوْ مُشْرِكٌ﴾ [النور: 3] (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2785 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، ایک مسلمان شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک پیشہ ور طوائفہ کے ساتھ شادی کرنے کی اجازت مانگی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھا: (اَلزَّانِیْ لَا یَنْکِحُ اِلاَّ زَانِیَۃً اَوْ مُشْرِکَۃً) (النور: 3) بدکار مرد نکاح نہ کرے مگر بدکار عورت یا شرک والی سے ۔۔ پھر یہ آیت نازل ہوئی: (الزَّانِیَۃُ لَا یَنْکِحُھَآ اِلَّا زَانٍ اَوْ مُشْرِکٌ) (النور: 3) بدکار عورت سے نکاح نہ کرے مگر بدکار مرد یا مشرک ۔۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب النكاح/حدیث: 2821]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2822
أخبرنا الحسين بن الحسن بن أيوب، حدثنا أبو يحيى بن أبي مَسَرّة، حدثنا خَلّاد بن يحيى وعبد الصمد بن حسان، قالا: حدثنا سفيان بن سعيد، عن حبيب بن أبي عَمْرة، عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس: ﴿الزَّانِي لَا يَنْكِحُ إِلَّا زَانِيَةً أَوْ مُشْرِكَةً﴾ قال: أمَا إنه ليس بالنكاح، ولكنه الجِماعُ؛ لا يزني بها إلّا زانٍ أو مشركٌ (1) . صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2786 - صحيح
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ (اَلزَّانِیْ لَا یَنْکِحُ اِلاَّ زَانِیَۃً اَوْ مُشْرِکَۃً) میں نکاح مراد نہیں ہے بلکہ جماع مراد ہے۔ (یعنی جو اس سے جماع کرے گا وہ زانی یا مشرک ہی ہو گا)۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب النكاح/حدیث: 2822]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں