🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
435. تَفْسِيرُ سُورَةِ الْفَلَقِ
تفسیر سورہ الفلق
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4033
حدَّثنا أبو جعفر أحمد بن عُبيد بن إبراهيم الحافظ بهَمَذان، حدَّثنا إبراهيم بن الحسين، حدَّثنا آدم بن أبي إياس، حدَّثنا ابن أبي ذِئْب، عن خاله الحارث بن عبد الرحمن، عن أبي سَلَمة، عن عائشة: أنَّ رسول الله ﷺ أَخَذَ بيدِها فأشار بها إلى القمر، فقال:"استَعيذِي بالله من شرِّ هذا، فإنه الغاسقُ إِذا وَقَبَ" (2) . صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3989 - صحيح
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا ہاتھ پکڑا اور چاند کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: اس کے شر سے اللہ کی پناہ مانگو، کیونکہ یہی اندھیرا کرنے والا (چاند) ہے جب وہ چھپ جائے۔
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 4033]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وهذا إسناد جيد من أجل الحارث بن عبد الرحمن، فهو صدوق لا بأس به، وقد توبع. ابن أبي ذئب: هو محمد بن عبد الرحمن، وأبو سلمة: هو ابن عبد الرحمن بن عوف.» [ترقيم الرساله 4033] [ترقيم الشركة 4011] [ترقيم العلميه 3989]

الحكم على الحديث: حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
436. رُقْيَةُ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ لِكُلِّ دَاءٍ
ہر بیماری کے لیے جبریل علیہ السلام کے دم (رقیہ) کا تذکرہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4034
حدَّثنا علي بن حَمْشَاذَ العَدْل، حدَّثنا محمد بن المغيرة السُّكَّري، حدَّثنا القاسم بن الحَكَم، حدَّثنا سفيان، عن عاصم، عن زياد بن ثُوَيب (1) ، عن أبي هريرة قال: جاء النبي ﷺ يَعودُني فقال:"ألا أرقيكَ برُقْيةٍ رَقَاني بها جبريلُ ﵇؟" فقلت: بَلَى، بأبي وأمي، قال:"باسم الله أرقيك، والله يَشْفيك من كل داءٍ فيك، من شرِّ النَّفاثاتِ في العُقَد، ومن شرِّ حاسدٍ إذا حَسَد"، فرَقَى بها ثلاثَ مرات (2) . ﷽ [
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3990 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میری عیادت کے لیے تشریف لائے اور فرمایا: کیا میں تمہیں وہ دم نہ کروں جو جبرائیل علیہ السلام نے مجھے کیا تھا؟ میں نے عرض کیا: کیوں نہیں! میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «بِاسْمِ اللَّهِ أَرْقِيكَ، وَاللَّهُ يَشْفِيكَ مِنْ كُلِّ دَاءٍ فِيكَ، مِنْ شَرِّ النَّفَّاثَاتِ فِي الْعُقَدِ، وَمِنْ شَرِّ حَاسِدٍ إِذَا حَسَدَ» میں اللہ کے نام کے ساتھ تجھے دم کرتا ہوں، اور اللہ تجھے ہر اس بیماری سے شفا دے گا جو تجھ میں ہے، گرہوں میں پھونکنے والیوں کے شر سے، اور حاسد کے شر سے جب وہ حسد کرے۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دم تین مرتبہ کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 4034]
تخریج الحدیث: «المرفوع منه» [ترقيم الرساله 4034] [ترقيم الشركة 4012] [ترقيم العلميه 3990]

الحكم على الحديث: المرفوع منه
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
437. تَفْسِيرُ سُورَةِ النَّاسِ
تفسیر سورہ الناس
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4035
أخبرنا محمد بن علي الصَّنعاني بمكة، حدَّثنا إسحاق بن إبراهيم بن عبَّاد، أخبرنا عبد الرزاق، أخبرنا سفيان الثَّوري، عن حَكيم بن جُبير، عن سعيد ابن جُبير، عن ابن عبَّاس قال: ما مولودٌ إِلَّا على قلبه الوَسْواسُ، فَإِنْ ذَكَرَ الله خَنَس، وإن غَفَلَ وَسوَس، وهو قوله ﷿: ﴿الْوَسْوَاسِ الْخَنَّاسِ﴾ (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. آخر كتاب التفسير والحمد لله رب العالمين، وصلَّى الله على سيدنا محمد وآله ﷽ وبه نستعين اللهمَّ صلِّ على سيدنا محمد وعلى آله وسلِّم (1) حدَّثنا الحاكم أبو عبد الله محمد بن عبد الله الحافظ إملاءً في شهر ربيع الآخر سنة إحدى وأربع مئة: كتاب تواريخ المتقدّمين من الأنبياء والمرسلين وذكر مناقبهم وأخبارهم مع الأمم على لسان سيدنا المصطفى صلى الله عليه وعليهم أجمعين فإنَّ الإمامَ أبا عبد الله محمدَ بنَ إسماعيلَ أخرجه في هذا المَوضع من"الجامع الصحيح" قبل بَدء الشريعة وذِكْر الصحابة، فاقتدَيتُ به. ذِكرُ ما رُوِيَ بالأسانيد الصحيحة من ذكر آدمَ أبي البشر صلوات الله عليه وامرأته حوّاءَ حين أُهبِطا إلى الأرض، مما لم يُخرجاه الشيخان:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3991 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: کوئی بھی پیدا ہونے والا بچہ ایسا نہیں جس کے دل پر وسوسہ ڈالنے والا (شیطان) نہ ہو، پس اگر وہ اللہ کا ذکر کرے تو وہ پیچھے ہٹ جاتا ہے، اور اگر وہ غافل ہو جائے تو وہ وسوسہ ڈالتا ہے۔ اور یہی اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کا مطلب ہے: ﴿الْوَسْوَاسِ الْخَنَّاسِ﴾ [سورة الناس: 4]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
(یہاں کتاب التفسیر مکمل ہوئی، اور تمام تعریفیں اللہ رب العالمین کے لیے ہیں، اور درود و سلام ہو ہمارے سردار محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کی آل پر۔ ہم اسی سے مدد مانگتے ہیں۔
امام حاکم فرماتے ہیں کہ میں نے یہ املاء ربیع الآخر 401 ہجری میں کروائی: یہ پچھلے انبیاء اور رسولوں کی تاریخ، ان کے مناقب، اور ان کی امتوں کے ساتھ ان کے واقعات کا بیان ہے جو ہمارے سردار مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی مروی ہیں۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے بھی الجامع الصحیح میں شریعت کی ابتدا اور صحابہ کے ذکر سے پہلے اسے اسی مقام پر بیان کیا ہے، لہٰذا میں نے بھی ان کی پیروی کی ہے۔ ابوالبشر سیدنا آدم علیہ السلام اور ان کی زوجہ سیدہ حوا کے زمین پر اتارے جانے کے ذکر کے بارے میں صحیح اسانید کے ساتھ مروی روایات کا بیان، جنہیں شیخین نے روایت نہیں کیا:) [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 4035]
تخریج الحدیث: «خبر صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف حكيم بن جبير، وقد توبع.» [ترقيم الرساله 4035] [ترقيم الشركة 4013] [ترقيم العلميه 3991]

الحكم على الحديث: خبر صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں