المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
423. تَفْسِيرُ سُورَةِ (أَلْهَاكُمُ التَّكَاثُرُ)
تفسیر سورہ الھاکم التکاثر (سورہ التکاثر)
حدیث نمبر: 4014
حدَّثنا أبو العبَّاس محمد بن يعقوب، حدَّثنا محمد بن سِنَان القزَّاز، حدَّثنا محمد بن بكر البُرْساني، حدَّثنا جعفر بن بُرْقان قال: سمعت يزيدَ بن الأصمِّ يحدِّث عن أبي هريرة قال: قال رسول الله ﷺ:"ما أخشى عليكم الفقرَ، ولكنِّي أخشى عليكم التكاثُرَ، وما أخشى عليكم الخطأ، ولكنِّي أخشى عليكم التعمُّدَ" (1)
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه. [
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3970 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه. [
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3970 - على شرط مسلم
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں تم پر فقر و فاقہ (غریبی) سے نہیں ڈرتا، بلکہ میں تم پر کثرت کی ہوس (مال کی فراوانی اور اس پر فخر) سے ڈرتا ہوں، اور میں تم پر (انجانے میں ہونے والی) خطا سے نہیں ڈرتا، بلکہ جان بوجھ کر گناہ کرنے سے ڈرتا ہوں۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 4014]
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 4014]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وهذا إسناد حسن في المتابعات والشواهد من أجل محمد بن سنان القزاز، وقد توبع، وباقي رجاله ثقات.» [ترقيم الرساله 4014] [ترقيم الشركة 3992] [ترقيم العلميه 3970]
الحكم على الحديث: حديث صحيح
424. تَفْسِيرُ سُورَةِ (وَالْعَصْرِ)
تفسیر سورہ والعصر
حدیث نمبر: 4015
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الصَّفّار، حدَّثنا أحمد بن مِهْران، حدَّثنا عُبيد الله بن موسى، أخبرنا إسرائيل، عن أبي إسحاق، عن عمرٍو ذي مُرٍّ، عن علي: أنه قرأ (والعصر ونَوائبِ الدَّهرِ إِنَّ الإنسانَ لَفِي خُسْرٍ) (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3971 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3971 - صحيح
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے (اس سورت کی) تلاوت (بطور تفسیر) یوں فرمائی: «وَالْعَصْرِ وَنَوَائِبِ الدَّهْرِ إِنَّ الْإِنْسَانَ لَفِي خُسْرٍ» ”قسم ہے زمانے کی اور زمانے کے مصائب کی، بیشک انسان خسارے میں ہے۔“
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 4015]
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 4015]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف لتفرُّد عمرو ذي مرٍّ به، فإنه في عِداد المجاهيل، لم يروعنه غير أبي إسحاق السبيعي، وقال البخاري وابن عدي: لا يعرف، وقال ابن حبان في "المجروحين": في حديثه مناكير كثيرة، وانفرد العجلي فوثقه.» [ترقيم الرساله 4015] [ترقيم الشركة 3993] [ترقيم العلميه 3971]
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف لتفرُّد عمرو ذي مرٍّ به
425. تَفْسِيرُ سُورَةِ الْهُمَزَةِ
تفسیر سورہ الھمزہ
حدیث نمبر: 4016
حدَّثنا أبو حفص أحمد بن أَحْيَد الفقيه ببُخارَى، حدَّثنا صالح بن محمد بن حبيب الحافظ، حدَّثنا هارون بن سعيد الأيْلي، حدَّثنا عبد الله بن وَهْب، أخبرني عمرو بن الحارث، عن درَّاج أبي السَّمْح، عن أبي الهيثم، عن أبي سعيد الخُدْري: ﴿وَيْلٌ لِكُلِّ هُمَزَةٍ لُمَزَةٍ﴾، قال: الويلُ: وادٍ في جهنَّم يَهْوي فيه الكافرُ أربعين خريفًا قبل أن يُفرَغ من حِساب الناس (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3972 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3972 - صحيح
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿وَيْلٌ لِكُلِّ هُمَزَةٍ لُمَزَةٍ﴾ [سورة الهمزة: 1] کے متعلق روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ” «ويل» ہنم کی ایک وادی ہے جس میں کافر چالیس سال تک گرتا رہے گا، اس سے پہلے کہ لوگوں کا حساب کتاب ختم ہو۔“
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 4016]
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 4016]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف لضعف رواية درّاج أبي السمح عن أبي الهيثم: وهو سليمان بن عمرو العُتْواري.» [ترقيم الرساله 4016] [ترقيم الشركة 3994] [ترقيم العلميه 3972]
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
حدیث نمبر: 4017
حدَّثنا أبو الحسن علي بن محمد بن عُبيد القرشي بالكوفة، حدَّثنا الحسن بن علي بن عفّان العامري، حدَّثنا يحيى بن آدم، حدَّثنا حمزة الزَّيات، عن أبي إسحاق، عن عاصم بن ضَمْرة، عن علي: أنه ذَكَرَ النار فعظَّم أمرَها، وذَكَر منها ما شاء الله أن يَذكُر، ثم قال: ﴿إِنَّهَا عَلَيْهِمْ مُؤْصَدَةٌ (8) فِي عَمَدٍ (2) مُمَدَّدَةٍ﴾ (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. [
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3973 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. [
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3973 - صحيح
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے جہنم کی آگ کا ذکر کیا، اس کے معاملے کی ہولناکی کو بیان کیا، اور اس کے بارے میں جو اللہ نے چاہا وہ بیان فرمایا، پھر (یہ آیات) تلاوت فرمائیں: ﴿إِنَّهَا عَلَيْهِمْ مُؤْصَدَةٌ (8) فِي عَمَدٍ مُمَدَّدَةٍ﴾ ”بیشک وہ (آگ) ان پر بند کر دی گئی ہوگی، لمبے لمبے ستونوں میں۔“ [سورة الهمزة: 8-9]
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 4017]
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 4017]
تخریج الحدیث: «إسناده قوي، حمزة الزيات: هو ابن حبيب، أحد القراء السبعة، وأبو إسحاق: هو عمرو بن عبد الله السَّبيعي.» [ترقيم الرساله 4017] [ترقيم الشركة 3995] [ترقيم العلميه 3973]
الحكم على الحديث: إسناده قوي
426. تَفْسِيرُ سُورَةِ الْفِيلِ -قِصَّةُ أَصْحَابِ الْفِيلِ
تفسیر سورہ الفیل - اصحابِ فیل (ہاتھی والوں) کا قصہ
حدیث نمبر: 4018
أخبرنا أبو زكريا العَنبرَي، حدَّثنا محمد بن عبد السلام، حدَّثنا إسحاق بن إبراهيم، أخبرنا جَرِير، عن قابوس بن أبي ظَبْيان، عن أبيه، عن ابن عبَّاس قال: أقبلَ أصحابُ الفيل حتى إذا دَنَوْا من مكة استقبلَهم عبدُ المطَّلب، فقال لملكِهم: ما جاء بك إلينا، ما عنَّاكَ يا ربَّنا (1) ، ألا بعثتَ فنأتيَكَ بكل شيءٍ أردتَ، فقال: أُخبِرتُ بهذا البيتِ الذي لا يَدخُلُه أحدٌ إِلَّا أَمِنَ، فجئتُ أُخِيفُ أهله، فقال: إِنَّا نأتيكَ بكل شيءٍ تريد فارجِعْ، فأبى إلا أن يَدخلَه، وانطلَقَ يسيرُ نحوه، وتَخلَّف عبدُ المطَّلب فقام على جبل، فقال: لا أَشهَدُ مَهلِكَ هذا البيتِ وأهلهِ، ثم قال: اللهمَّ إن لكلِّ إلهٍ حِلالًا فامنَعْ حِلَالَكْ لا يَغلِبَنَّ مِحالُهُم [أبدًا] (2) مِحالَك اللهمَّ فإنْ فعلتَ فأمْرٌ ما بَدَا لَكْ فأقبلَتْ مثلُ السَّحابة من نحو البحر حتى أظلَّتهم طيرٌ أبابيلُ، التي قال الله ﷿: ﴿تَرْمِيهِمْ بِحِجَارَةٍ مِنْ سِجِّيلٍ﴾ قال: فجعل الفيلُ يَعِجُّ عَجًّا ﴿فَجَعَلَهُمْ كَعَصْفٍ مَأْكُولٍ﴾ (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. [
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3974 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. [
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3974 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ہاتھی والے (ابراہہ کا لشکر) آگے بڑھے، یہاں تک کہ جب وہ مکہ کے قریب پہنچے تو عبدالمطلب ان کے استقبال کے لیے گئے۔ انہوں نے ان کے بادشاہ (ابراہہ) سے کہا: ”تم ہمارے پاس کیوں آئے ہو؟ اے ہمارے سردار! آپ نے (خود آ کر) کیوں زحمت کی؟ کیا آپ کسی کو بھیج نہیں سکتے تھے کہ ہم آپ کی مطلوبہ ہر چیز لے کر آپ کے پاس آ جاتے۔“ ابراہہ نے کہا: ”مجھے اس گھر کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ جو بھی اس میں داخل ہوتا ہے وہ امن پا جاتا ہے، لہٰذا میں اس کے رہنے والوں کو خوفزدہ کرنے آیا ہوں۔“ عبدالمطلب نے کہا: ”ہم آپ کو آپ کی ہر مطلوبہ چیز دیں گے، آپ واپس چلے جائیں۔“ لیکن ابراہہ نے انکار کر دیا اور بضد رہا کہ وہ اس (کعبہ) میں ضرور داخل ہوگا۔ پھر وہ کعبہ کی طرف بڑھا۔ عبدالمطلب پیچھے ہٹ گئے اور ایک پہاڑ پر جا کھڑے ہوئے اور کہا: ”میں اس گھر اور اس کے رہنے والوں کی بربادی کا منظر نہیں دیکھ سکتا۔“ پھر انہوں نے (یہ اشعار پڑھ کر) دعا کی: ”اے اللہ! بیشک ہر معبود کی ایک پناہ گاہ اور حلال کردہ حدود ہوتی ہیں، پس تو بھی اپنی حدود (اپنے گھر) کی حفاظت فرما۔ ان کی تدبیریں کبھی بھی تیری تدبیر پر غالب نہ آئیں۔ اے اللہ! اگر تو ایسا کرے (یعنی انہیں کعبہ ڈھانے دے) تو یہ کوئی ایسا کام ہوگا جو تو نے طے کر رکھا ہوگا۔“ پھر سمندر کی طرف سے بادل کی طرح پرندوں کے جھنڈ کے جھنڈ آئے، جنہیں اللہ تعالیٰ نے ﴿طَيْرًا أَبَابِيلَ﴾ کہا ہے، یہاں تک کہ انہوں نے ان پر سایہ کر لیا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿تَرْمِيهِمْ بِحِجَارَةٍ مِنْ سِجِّيلٍ﴾ [سورة الفيل: 4] ”وہ ان پر کنکر کی پتھریاں پھینکتے تھے۔“ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: پس ہاتھی زور زور سے چنگھاڑنے لگا، ﴿فَجَعَلَهُمْ كَعَصْفٍ مَأْكُولٍ﴾ [سورة الفيل: 5] ”پھر اللہ نے انہیں کھائے ہوئے بھوسے کی طرح کر دیا۔“
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 4018]
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 4018]
تخریج الحدیث: «إسناده فيه لين من أجل قابوس بن أبي ظبيان، لكن هذه الحادثة مشتهرة في كتب السيرة وغيرها، وشهرتها تغني عن إسنادها.» [ترقيم الرساله 4018] [ترقيم الشركة 3996] [ترقيم العلميه 3974]
الحكم على الحديث: إسناده فيه لين من أجل قابوس بن أبي ظبيان
427. تَفْسِيرُ سُورَةِ قُرَيْشٍ - فَضْلُ قُرَيْشٍ بِسَبْعِ خِلَالٍ
تفسیر سورہ قریش - سات خصلتوں کی بنا پر قریش کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 4019
حدَّثنا بكر بن محمد بن حَمْدان الصَّيرَفي، حدَّثنا أحمد بن عبيد الله النَّرْسي، حدَّثنا يعقوب بن محمد الزُّهْري، حدَّثنا إبراهيم بن محمد بن ثابت بن شُرَحبيل، حدثني عثمان بن عبد الله بن أبي عَتيق، عن سعيد بن عمرو بن جَعْدة بن هُبيرة، عن أبيه، عن جدَّته أم هانئ بنت أبي طالب، أَنَّ رسول الله ﷺ قال:"فَضَّل اللهُ قريشًا بسبع خِلالٍ: أنِّي فيهم، وأنَّ النبوَّةَ فيهم، والحِجابةَ فيهم، والسِّقاية فيهم، وأنَّ الله نَصَرَهم على الفِيل، وأنهم عَبَدوا الله عشرَ سنين لا يَعبدُه غيرُهم، وأنَّ الله أَنزَلَ فيهم سورةً من القرآن" ثم تَلاها رسول الله ﷺ: ﴿بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ. لإِيلَافِ قُرَيْشٍ (1) إِيلَافِهِمْ رِحْلَةَ الشِّتَاءِ وَالصَّيْفِ (2) فَلْيَعْبُدُوا رَبَّ هَذَا الْبَيْتِ (3) الَّذِي أَطْعَمَهُمْ مِنْ جُوعٍ وَآمَنَهُمْ مِنْ خَوْفٍ﴾ (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. [
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3975 - يعقوب ضعيف وإبراهيم صاحب مناكير هذا أنكرها
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. [
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3975 - يعقوب ضعيف وإبراهيم صاحب مناكير هذا أنكرها
سیدہ ام ہانی بنت ابی طالب رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے قریش کو سات خصلتوں کی وجہ سے فضیلت بخشی ہے: (1) یہ کہ میں ان میں سے ہوں، (2) یہ کہ نبوت ان میں ہے، (3) کعبہ کی پردہ داری (حجابت) ان میں ہے، (4) حاجیوں کو پانی پلانا (سقایت) ان میں ہے، (5) یہ کہ اللہ نے ہاتھی والوں کے مقابلے میں ان کی مدد فرمائی، (6) یہ کہ انہوں نے دس سال تک اللہ کی (ایسے) عبادت کی کہ ان کے سوا کوئی اس کی عبادت نہیں کرتا تھا، (7) اور یہ کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں قرآن کی ایک سورت نازل فرمائی۔“ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی تلاوت فرمائی: ﴿بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ. لِإِيلَافِ قُرَيْشٍ (1) إِيلَافِهِمْ رِحْلَةَ الشِّتَاءِ وَالصَّيْفِ (2) فَلْيَعْبُدُوا رَبَّ هَذَا الْبَيْتِ (3) الَّذِي أَطْعَمَهُمْ مِنْ جُوعٍ وَآمَنَهُمْ مِنْ خَوْفٍ﴾ [سورة قريش: 1-4]
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 4019]
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 4019]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، يعقوب بن محمد الزهري فيه ضعف، لكنه متابع، وإبراهيم بن محمد بن ثابت ذكر ابن أبي حاتم في "الجرح والتعديل" 2/ 125 عن أبيه أنه قال فيه: صدوق، وقال ابن عدي في "الكامل" 1/ 262: روي عنه مناكير. وقد خولف كما سيأتي، وقد أعله الذهبي في "تلخيصه" بهما ...» [ترقيم الرساله 4019] [ترقيم الشركة 3997] [ترقيم العلميه 3975]
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
428. تَفْسِيرُ سُورَةِ الْمَاعُونِ
تفسیر سورہ الماعون
حدیث نمبر: 4020
أخبرنا أبو عبد الله الصَّفّار، حدَّثنا أحمد بن مِهْران، حدَّثنا أبو نُعيم، حدَّثنا سفيان، عن حَبيب بن أبي ثابت، عن سعيد بن جُبير، عن ابن عبَّاس قال: الماعونُ: العارِيَّة (1) . صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3976 - على شرط البخاري ومسلم
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3976 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”(سورۃ الماعون میں) «الماعون» سے مراد عاریتاً (عارضی استعمال کے لیے مانگ کر) لی جانے والی چیزیں ہیں۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 4020]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 4020]
تخریج الحدیث: «خبر صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل أحمد بن مِهْران، وقد توبع. أبو نعيم: هو الفضل بن دُكين، وسفيان: هو الثوري.» [ترقيم الرساله 4020] [ترقيم الشركة 3998] [ترقيم العلميه 3976]
الحكم على الحديث: خبر صحيح
حدیث نمبر: 4021
حدثني علي بن عيسى، حدَّثنا إبراهيم بن أبي طالب، حدَّثنا ابن أبي عمر، حدَّثنا سفيان، عن ابن أبي نَجِيحٍ، عن مجاهدٍ، عن عليّ: ﴿وَيَمْنَعُونَ الْمَاعُونَ﴾ قال: هي الزكاةُ المفروضةُ، يُراؤون بصلواتهم ويَمنعُون زكاتَهم (2) . هذا إسناد صحيح مُرسَل، فإنَّ مجاهدًا لم يَسمَعْ من علي. [
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3977 - منقطع
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3977 - منقطع
مجاہد رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ﴿وَيَمْنَعُونَ الْمَاعُونَ﴾ [سورة الماعون: 7] کے متعلق فرمایا: ”اس سے مراد فرض زکوٰۃ ہے، وہ اپنی نمازوں میں دکھاوا کرتے ہیں اور اپنی زکوٰۃ روکتے ہیں۔“
یہ سند صحیح ہے لیکن مرسل ہے، کیونکہ مجاہد نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے نہیں سنا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 4021]
یہ سند صحیح ہے لیکن مرسل ہے، کیونکہ مجاہد نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے نہیں سنا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 4021]
تخریج الحدیث: «رجاله ثقات إلّا أنه منقطع، مجاهد لم يسمع من علي كما قال المصنف. سفيان: هو ابن عيينة.» [ترقيم الرساله 4021] [ترقيم الشركة 3999] [ترقيم العلميه 3977]
الحكم على الحديث: رجاله ثقات إلّا أنه منقطع
429. تَفْسِيرُ سُورَةِ الْكَوْثَرِ - صِفَةُ الْكَوْثَرِ
تفسیر سورہ الکوثر - حوضِ کوثر کی صفات کا تذکرہ
حدیث نمبر: 4022
حدَّثنا الشيخ أبو بكر بن إسحاق وعلي بن حَمْشَاذَ العَدْل، وأحمد بن يعقوب الثَّقفي وعَمرو بن محمد بن منصور العَدْلُ الخَتَنُ (3) ، قالوا: حدَّثنا عمر بن حفص السَّدُوسي، حدَّثنا عاصم بن علي، حدَّثنا أبو أُوَيس، عن الزُّهْري، عن أخيه عبد الله بن مُسلم بن شِهاب، عن أنس بن مالك قال: سُئِلَ رسولُ الله ﷺ عن الكَوثَر، قال:"هو نهرٌ أعطانيه الله في الجنة: ترابُها (1) مِسكٌ أبيضُ من اللبَن، وأحلى من العَسَل، يَرِدُه طائرٌ (1) أعناقُها مثلُ أعناق الجُزُر" فقال أبو بكر: يا رسول الله، إنها لناعمةٌ، فقال:"آكِلُها أنعمُ منها" (2) . قد أخرج مسلم هذا الحديث من حديث عبد الواحد بن زياد عن المختار بن فُلفُل عن أنس: لما نَزَلَت ﴿إِنَّا أَعْطَيْنَاكَ﴾ (3) ، أتمَّ وأطولَ، لكني أخرجتُه في أفراد عاصم ابن علي فإنَّ أبا أُويسٍ ثقة! ولا نحفظ للزُّهريِّ عن أخيه حديثًا مسندًا غيرَ هذا، والمشهور هذا من حديث محمد بن عبد الله بن مُسلِم عن أبيه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3978 - أخرجه مسلم
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3978 - أخرجه مسلم
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کوثر کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ ایک نہر ہے جو اللہ نے مجھے جنت میں عطا فرمائی ہے، اس کی مٹی کستوری ہے، وہ دودھ سے زیادہ سفید اور شہد سے زیادہ میٹھی ہے۔ اس پر ایسے پرندے آتے ہیں جن کی گردنیں اونٹوں کی گردنوں جیسی ہوں گی۔“ تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! وہ تو بڑی نرم و نازک ہوں گی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انہیں کھانے والے ان سے بھی زیادہ نرم و نازک ہوں گے۔“
امام مسلم نے یہ حدیث عبدالواحد بن زیاد سے، انہوں نے مختار بن فلفل سے، انہوں نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے اس وقت کی روایت سے بیان کی ہے جب ﴿إِنَّا أَعْطَيْنَاكَ﴾ [سورة الكوثر: 1] نازل ہوئی، جو زیادہ مکمل اور طویل ہے، لیکن میں نے اسے عاصم بن علی کے تفردات میں نکالا ہے کیونکہ ابو اویس ثقہ ہیں! اور ہم زہری سے ان کے بھائی کے حوالے سے اس کے علاوہ کوئی مسند حدیث محفوظ نہیں پاتے، اور یہ محمد بن عبداللہ بن مسلم کی ان کے والد سے مروی حدیث کے طور پر مشہور ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 4022]
امام مسلم نے یہ حدیث عبدالواحد بن زیاد سے، انہوں نے مختار بن فلفل سے، انہوں نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے اس وقت کی روایت سے بیان کی ہے جب ﴿إِنَّا أَعْطَيْنَاكَ﴾ [سورة الكوثر: 1] نازل ہوئی، جو زیادہ مکمل اور طویل ہے، لیکن میں نے اسے عاصم بن علی کے تفردات میں نکالا ہے کیونکہ ابو اویس ثقہ ہیں! اور ہم زہری سے ان کے بھائی کے حوالے سے اس کے علاوہ کوئی مسند حدیث محفوظ نہیں پاتے، اور یہ محمد بن عبداللہ بن مسلم کی ان کے والد سے مروی حدیث کے طور پر مشہور ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 4022]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وهذا إسناد حسن في المتابعات والشواهد من أجل أبي أُويس - وهو عبد الله بن عبد الله بن أُويس الأصبحي - وقد توبع، وعاصم بن علي صدوق حسن الحديث، وباقي رجاله ثقات. الزهري: هو محمد بن مسلم بن عبيد الله بن عبد الله بن شهاب القرشي الزهري.» [ترقيم الرساله 4022] [ترقيم الشركة 4000] [ترقيم العلميه 3978]
الحكم على الحديث: حديث صحيح
حدیث نمبر: 4023
أخبرني إبراهيم بن عِصْمةَ بن إبراهيم العَدْل، حدَّثنا أبي، حدَّثنا يحيى بن يحيى، أخبرنا هُشَيم، أخبرنا أبو بِشْر، عن سعيد بن جُبير، عن ابن عبَّاس: ﴿إِنَّا أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ﴾ قال: الكوثرُ: الخيرُ الكثير الذي أعطاه الله إياه. قال أبو بِشْر: فقلتُ لسعيد: إنَّ ناسًا يَزعُمون أنه نهرٌ في الجنة، فقال: والنهرُ من الخير الكثير (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه! فأما قولُه ﷿: ﴿فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ﴾، فقد اختلف الصحابةُ في تأويلها، وأحسنُها ما رُوي عن أمير المؤمنين عليّ بن أبي طالب في روايتين: الأولى منهما:
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه! فأما قولُه ﷿: ﴿فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ﴾، فقد اختلف الصحابةُ في تأويلها، وأحسنُها ما رُوي عن أمير المؤمنين عليّ بن أبي طالب في روايتين: الأولى منهما:
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے ﴿إِنَّا أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ﴾ [سورة الكوثر: 1] کے متعلق روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”الکوثر سے مراد وہ خیر کثیر (بہت زیادہ بھلائی) ہے جو اللہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا فرمائی ہے۔“ ابو بشر کہتے ہیں کہ میں نے سعید بن جبیر سے کہا: لوگ تو یہ گمان کرتے ہیں کہ یہ جنت کی ایک نہر ہے۔ تو انہوں نے فرمایا: ”وہ نہر بھی اسی خیر کثیر کا حصہ ہے۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ اور اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ﴾ [سورة الكوثر: 2] کے متعلق صحابہ کرام نے اس کی تاویل میں اختلاف کیا ہے، اور ان میں سب سے بہتر وہ ہے جو امیر المومنین سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے دو روایات میں مروی ہے۔ ان میں سے پہلی روایت یہ ہے: [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 4023]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ اور اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ﴾ [سورة الكوثر: 2] کے متعلق صحابہ کرام نے اس کی تاویل میں اختلاف کیا ہے، اور ان میں سب سے بہتر وہ ہے جو امیر المومنین سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے دو روایات میں مروی ہے۔ ان میں سے پہلی روایت یہ ہے: [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 4023]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح،يحيى بن يحيى: هو النيسابوري، وأبو بشر: هو جعفر بن أبي وحشية.» [ترقيم الرساله 4023] [ترقيم الشركة 4001]
الحكم على الحديث: إسناده صحيح