المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
430. بَحْثٌ فِي مَعَانِي آيَةِ (فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ)
آیت "فصل لربک وانحر" (پس اپنے رب کے لیے نماز پڑھیے اور قربانی کیجیے) کے معانی کی تحقیق
حدیث نمبر: 4023M
من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3979 - على شرط البخاري ومسلم
جہاں تک اللہ عزوجل کے اس فرمان ﴿فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ﴾ [سورة الكوثر: 2] کا تعلق ہے، تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اس کی تفسیر و تاویل میں اختلاف کیا ہے، اور ان میں سب سے بہترین قول وہ ہے جو امیر المومنین سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے دو روایتوں میں مروی ہے، جن میں سے پہلی روایت یہ ہے: [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 4023M]
تخریج الحدیث: [ترقيم الرساله 4023M] [ترقيم الشركة 4002] [ترقيم العلميه 3979]
حدیث نمبر: 4024
ما حدَّثَناه علي بن حَمْشَاذَ العَدْل، حدَّثنا هشام بن علي ومحمد بن أيوب قالا: حدَّثنا موسى بن إسماعيل، حدَّثنا حماد بن سلمة، عن عاصم الجَحْدَري، عن عُقْبة بن صُهبان، عن علي: ﴿فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ﴾، قال: هو وَضْعُك يمينَك على شمالِك في الصلاة (2) . والرواية الثانية:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3980 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3980 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے ﴿فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ﴾ [سورة الكوثر: 2] کے متعلق روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”اس سے مراد نماز میں تمہارا دائیں ہاتھ کو بائیں ہاتھ پر رکھنا ہے۔“
اور دوسری روایت یہ ہے: [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 4024]
اور دوسری روایت یہ ہے: [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 4024]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، عقبة الراوي عن علي: هو ابن ظَبْيان، وليس ابن صهبان كما وقع في رواية المصنف وعنه البيهقي في "السنن الكبرى" 2/ 29، وهو مجهول لا يُعرَف، ولم يعرفه الإمام أحمد كما في "علل الرجال" (1644)، ومع ذلك ذكره ابن حبان في "ثقاته" 5/ 227.» [ترقيم الرساله 4024] [ترقيم الشركة 4002] [ترقيم العلميه 3980]
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
حدیث نمبر: 4025
حدَّثَناه أبو محمد عبد الرحمن بن حَمْدان الجَلّاب بهَمَذان، حدَّثنا أبو حاتم محمد بن إدريس الرّازي، حدَّثنا وهب (1) بن أبي مَرحُوم، حدَّثنا إسرائيل بن حاتم، عن مقاتل بن حيَّان، عن الأصبَغ بن نُبَاتة، عن علي بن أبي طالب قال: لما نَزَلَت هذه الآيةُ على رسول الله ﷺ: ﴿إِنَّا أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ (1) فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ﴾، قال النبي ﷺ جبريل:"ما هذه النَّحِيرةُ التي أَمَرني بها ربِّي؟ قال: إنها ليست بنَحيرةٍ، ولكنه يأمرُك إذا تَحرَّمتَ للصلاة أن تَرفَعَ يديك إذا كبَّرت، وإذا ركعتَ وإذا رفعتَ رأسَك من الركوع، فإنها صلاتُنا وصلاةُ الملائكة الذين في السماوات السَّبْع"، قال النبي ﷺ:"رفعُ الأيدي من الاستكانةِ التي قال الله ﷿: ﴿فَمَا اسْتَكَانُوا لِرَبِّهِمْ وَمَا يَتَضَرَّعُونَ﴾ [المؤمنون: 76] " (1) . [
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3981 - إسرائيل صاحب عجائب لا يعتمد عليه وأصبغ شيعي متروك عند النسائي
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3981 - إسرائيل صاحب عجائب لا يعتمد عليه وأصبغ شيعي متروك عند النسائي
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ آیت نازل ہوئی: ﴿إِنَّا أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ (1) فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ﴾ [سورة الكوثر: 1-2] ، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جبرائیل علیہ السلام سے پوچھا: ”یہ کون سی قربانی ہے جس کا میرے رب نے مجھے حکم دیا ہے؟“ انہوں نے عرض کیا: ”یہ قربانی نہیں ہے، بلکہ وہ آپ کو حکم دیتا ہے کہ جب آپ نماز کے لیے تحریمہ باندھیں تو تکبیر کہتے وقت اپنے دونوں ہاتھ اٹھائیں، اور جب رکوع کریں اور جب رکوع سے سر اٹھائیں تب بھی (ہاتھ اٹھائیں)، کیونکہ یہ ہماری اور ساتوں آسمانوں کے فرشتوں کی نماز ہے۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاتھوں کا اٹھانا اس عاجزی کا حصہ ہے جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: ﴿فَمَا اسْتَكَانُوا لِرَبِّهِمْ وَمَا يَتَضَرَّعُونَ﴾ ”پس وہ نہ تو اپنے رب کے سامنے جھکے اور نہ گڑگڑاتے ہیں۔“ [سورة المؤمنون: 76] “ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 4025]
تخریج الحدیث: «إسناده تالف، أصبغ بن نباتة متروك، وإسرائيل بن حاتم يروي عن مقاتل بن حيان الموضوعات كما قال ابن حبان في "المجروحين"، وقال الذهبي في "تلخيص المستدرك": إسرائيل صاحب عجائب لا يعتمد عليه، وأصبغ شيعي متروك عند النسائي، وقال الحافظ ابن حجر في "التلخيص الحبير" 1/ 273: إسناده ضعيف جدًّا.» [ترقيم الرساله 4025] [ترقيم الشركة 4003] [ترقيم العلميه 3981]
الحكم على الحديث: إسناده تالف
431. تَفْسِيرُ سُورَةِ الْكَافِرُونَ - سُورَةُ الْكَافِرُونَ بَرَاءَةٌ مِنَ الشِّرْكِ
تفسیر سورہ الکافرون - سورہ الکافرون شرک سے بیزاری کا ذریعہ ہے
حدیث نمبر: 4026
حدَّثنا أبو محمد أحمد بن عبد الله المُزَني، حدَّثنا أبو جعفر الحَضْرمي، حدَّثنا أحمد بن يونُس، حدَّثنا زُهَير، عن أبي إسحاق، عن فَرْوة بن نوفل الأشجعي، عن أبيه، أنه قال للنبي ﷺ: مُرْني بشيءٍ أقولُه، فقال:"إذا أَوَيتَ إلى مَضجَعِك فاقرأ ﴿قُلْ يَاأَيُّهَا الْكَافِرُونَ﴾ إلى خاتمتِها، فإنها بَراءةٌ من الشِّرْك" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3982 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3982 - صحيح
نوفل اشجعی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: مجھے کوئی ایسی چیز بتائیے جو میں (سوتے وقت) پڑھا کروں۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم اپنے بستر پر جاؤ تو ﴿قُلْ يَاأَيُّهَا الْكَافِرُونَ﴾ [سورة الكافرون: 1] آخر تک پڑھ لیا کرو، کیونکہ یہ شرک سے براءت (بیزاری) ہے۔“
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 4026]
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 4026]
تخریج الحدیث: «حديث حسن كما سلف برقم (2102)، أبو جعفر الحضرمي: هو الحافظ محمد بن عبد الله بن سليمان المعروف بمطيَّن، وأحمد بن يونس: هو أحمد بن عبد الله بن يونس، نُسب إلى جدِّه، وزهير هو ابن معاوية الجُعْفيّ، وأبو إسحاق: هو عمرو بن عبد الله السَّبيعي.» [ترقيم الرساله 4026] [ترقيم الشركة 4004] [ترقيم العلميه 3982]
الحكم على الحديث: حديث حسن كما سلف برقم (2102)
432. تَفْسِيرُ سُورَةِ النَّصْرِ
تفسیر سورہ النصر
حدیث نمبر: 4027
أخبرنا أبو العبَّاس محمد بن أحمد المحبُوبي، حدَّثنا الفَضْل بن عبد الجبار، حدَّثنا النَّضْر بن شُمَيل، حدَّثنا شُعبة، حدَّثنا أبو إسحاق: سمعتُ أبا عُبيدة يحدِّث عن عبد الله قال: كان رسول الله ﷺ يُكثِرُ أن يقول:"سُبحانَك ربَّنا وبحمدِك"، فلما نزلت: ﴿إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ﴾، قال:"سبحانَك ربَّنا وبحمدِك، اللهمَّ اغْفِرْ لي إنَّك أنت التوابُ الرَّحيم" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3983 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3983 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کثرت سے یہ پڑھا کرتے تھے: «سُبْحَانَكَ رَبَّنَا وَبِحَمْدِكَ» ”پاک ہے تو اے ہمارے رب اور اپنی تعریفوں کے ساتھ۔“ پھر جب یہ سورت نازل ہوئی: ﴿إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ﴾ [سورة النصر: 1] ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (یہ دعا) پڑھنی شروع کر دی: «سُبْحَانَكَ رَبَّنَا وَبِحَمْدِكَ، اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي، إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ» ”پاک ہے تو اے ہمارے رب اور اپنی تعریفوں کے ساتھ، اے اللہ! مجھے بخش دے، بیشک تو ہی بہت توبہ قبول کرنے والا، نہایت رحم کرنے والا ہے۔“
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 4027]
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 4027]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، وهذا إسناد رجاله ثقات، إلا أنه منقطع، فأبو عبيدة» [ترقيم الرساله 4027] [ترقيم الشركة 4005] [ترقيم العلميه 3983]
الحكم على الحديث: حسن لغيره
433. تَفْسِيرُ سُورَةِ أَبِي لَهَبٍ - حِكَايَةُ أَخْذِ الْأَسَدِ ابْنَ أَبِي لَهَبٍ
تفسیر سورہ ابی لہب - ابولہب کے بیٹے کو شیر کے ہلاک کرنے کا قصہ
حدیث نمبر: 4028
أخبرني أبو بكر بن أبي نصر المزكِّي بمَرْو، حدَّثنا الحارث بن أبي أسامة، حدَّثنا العبَّاس بن الفضل الأنصاري، حدَّثنا الأسوَد بن شَيْبان، عن أبي نَوفَل بن أبي عَقرَب، عن أبيه قال: كان لهبُ بن أبي لهبٍ يَسُبُّ النبيَّ ﷺ، فقال النبي ﷺ:"اللهمَّ سلِّطْ عليه كَلْبَك"، فخرج في قافلةٍ يريد الشام، فنزلوا منزلًا، فقال: إِنِّي أخافُ دعوةَ محمدٍ، قالوا له: كلَّا، فحَطُّوا مَتاعَهم (2) حولَه وقعدوا يَحرُسونه، فجاء الأسدُ فانتزَعَه فذهبَ به (3) . صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3984 - صحيح
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3984 - صحيح
ابوعقرب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: (ابولہب کا بیٹا) لہب بن ابی لہب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو برا بھلا کہتا تھا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے (بددعا کرتے ہوئے) فرمایا: ”اے اللہ! اس پر اپنے کتوں میں سے کوئی کتا مسلط کر دے۔“ پھر وہ ایک قافلے میں شام کی طرف نکلا۔ انہوں نے ایک جگہ پڑاؤ ڈالا تو وہ کہنے لگا: ”مجھے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی بددعا کا ڈر ہے۔“ لوگوں نے اس سے کہا: ”ہرگز نہیں (کچھ نہیں ہوگا)۔“ پھر انہوں نے اپنا سامان اس کے اردگرد رکھ دیا اور بیٹھ کر اس کا پہرہ دینے لگے۔ اتنے میں ایک شیر آیا اور اسے اچک کر لے گیا۔
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 4028]
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 4028]
تخریج الحدیث: «حسن بشواهده إن شاء الله، وحسَّنه الحافظ ابن حجر في "فتح الباري" 6/ 129، وهذا إسناد ضعيف جدًّا من أجل العبَّاس بن الفضل، وذكر الأنصاريِّ في نسبه وهمٌ لعله من المصنف أو من شيخه، فإنَّ هذا الخبر عند الحارث بن أبي أسامة في "مسنده" كما في "بغية الباحث" (511) وذكره ...» [ترقيم الرساله 4028] [ترقيم الشركة 4006] [ترقيم العلميه 3984]
الحكم على الحديث: حسن بشواهده إن شاء الله
حدیث نمبر: 4029
أخبرني محمد بن المؤمَّل بن الحسن، حدَّثنا الفضل بن محمد، حدَّثنا أحمد بن حَنبَل، قال: قُرِئَ على سفيان بن عُيينة وأنا شاهدٌ: الزُّهْرِيُّ، عن عُبيد الله، عن ابن عباس: ﴿مَا أَغْنَى عَنْهُ مَالُهُ وَمَا كَسَبَ﴾، قال: كَسْبُه: ولدُه (1) . قال أحمدُ بن حَنبَل: لم يَذكُر ابن عُيينة سماعَه فيه، ثم بَلَغني أنه سمعه من عمر بن حَبِيب.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3985 - عمرو بن حبيب واه
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3985 - عمرو بن حبيب واه
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے ﴿مَا أَغْنَى عَنْهُ مَالُهُ وَمَا كَسَبَ﴾ [سورة المسد: 2] کے متعلق روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”اس کی کمائی سے مراد اس کی اولاد ہے۔“
احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے فرمایا: ابن عیینہ نے اس میں اپنے سماع (سننے) کا ذکر نہیں کیا، پھر مجھے یہ بات پہنچی کہ انہوں نے اسے عمر بن حبیب سے سنا تھا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 4029]
احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے فرمایا: ابن عیینہ نے اس میں اپنے سماع (سننے) کا ذکر نہیں کیا، پھر مجھے یہ بات پہنچی کہ انہوں نے اسے عمر بن حبیب سے سنا تھا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 4029]
تخریج الحدیث: «خبر صحيح، رجاله ثقات إلّا أنَّ سفيان لم يذكر فيه سماعه من الزهري كما قال أحمد بن حنبل، فإن ثبت أنه سمعه من عمر بن حبيب فالإسناد متصل صحيح، فعمر بن حبيب هذاهو المكي القاضي سكن اليمن، وهو ثقة حافظ، وذهلَ الذهبي في "تلخيصه" فظنه العدوي البصري الضعيف فوهاه، ولكليهما ...» [ترقيم الرساله 4029] [ترقيم الشركة 4007] [ترقيم العلميه 3985]
الحكم على الحديث: خبر صحيح
حدیث نمبر: 4030
وأخبرني محمد بن المؤمَّل، حدَّثنا الفضل، حدَّثنا أحمد بن حَنبَل، حدَّثنا عبد الرزاق، أخبرنا مَعمَر، عن ابن خُثَيم، عن أبي الطُّفَيل قال: كنت عند ابن عبَّاس يومًا، فجاءه بنو أبي لهبٍ يختصمون في شيءٍ لهم، فقام يُصلِحُ بينهم، فدَفَعه بعضُهم فوَقَع على الفِراش، فغَضِبَ ابن عبَّاس وقال: أخرِجوا عني الكَسْب الخبيثَ - يعني: ولدَه - ﴿مَا أَغْنَى عَنْهُ مَالُهُ وَمَا كَسَبَ﴾ (2) . ﷽ [
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3986 - على شرط البخاري
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3986 - على شرط البخاري
ابو طفیل رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں ایک دن سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس موجود تھا کہ ابولہب کے بیٹے ان کے پاس اپنے کسی معاملے میں جھگڑتے ہوئے آئے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما ان کے درمیان صلح کروانے کے لیے کھڑے ہوئے، تو ان میں سے کسی نے انہیں دھکا دے دیا اور وہ بستر پر گر پڑے۔ اس پر سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما غصے میں آ گئے اور فرمایا: ”اس خبیث کمائی کو میرے پاس سے نکال دو۔“ ان کی مراد اس (ابولہب) کی اولاد تھی، (جیسا کہ فرمانِ الٰہی ہے) ﴿مَا أَغْنَى عَنْهُ مَالُهُ وَمَا كَسَبَ﴾ ”اس کا مال اور جو کچھ اس نے کمایا (یعنی اولاد) اس کے کچھ کام نہ آیا۔“ [سورة المسد: 2] [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 4030]
تخریج الحدیث: «إسناده قوي، من أجل ابن خثيم: وهو عبد الله بن عثمان بن خثيم. أبو الطفيل: هو عامر بن واثلة.» [ترقيم الرساله 4030] [ترقيم الشركة 4008] [ترقيم العلميه 3986]
الحكم على الحديث: إسناده قوي
434. تَفْسِيرُ سُورَةِ الْإِخْلَاصِ
تفسیر سورہ الاخلاص
حدیث نمبر: 4031
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الحافظ وأبو جعفر محمد بن صالح (1) قالا: حدَّثنا الحسين بن الفضل، حدَّثنا محمد بن سابق، حدَّثنا أبو جعفر الرَّازي، عن الرَّبيع بن أنس، عن أبي العاليَة، عن أُبيِّ بن كعب: أنَّ المشركين قالوا: يا محمدُ، انسُبْ لنا ربَّك، فأنزل الله: ﴿قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ (1) اللَّهُ الصَّمَدُ (2) لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ (3) وَلَمْ يَكُنْ لَهُ كُفُوًا أَحَدٌ﴾، لأنه ليس شيءٌ يُولَدُ إِلَّا سيموتُ، وليس شيءٌ يموت إلا سيُورَثُ، وإنَّ الله لا يموتُ ولا يُورَثُ، ﴿وَلَمْ يَكُنْ لَهُ كُفُوًا أَحَدٌ﴾: لم يكن له شبيهٌ ولا عِدْلٌ، وليس كمثلِه شيءٌ (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. ﷽ [
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3987 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. ﷽ [
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3987 - صحيح
سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ مشرکین نے کہا: ”اے محمد! ہمارے سامنے اپنے رب کا نسب بیان کریں۔“ تو اللہ تعالیٰ نے یہ سورت نازل فرمائی: ﴿قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ (1) اللَّهُ الصَّمَدُ (2) لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ (3) وَلَمْ يَكُنْ لَهُ كُفُوًا أَحَدٌ﴾ [سورة الإخلاص: 1-4] ، کیونکہ جو چیز بھی پیدا ہوتی ہے وہ ضرور مرے گی، اور جو چیز مرتی ہے اس کا کوئی وارث ہوتا ہے، جبکہ اللہ تعالیٰ نہ مرے گا اور نہ اس کا کوئی وارث ہوگا۔ ﴿وَلَمْ يَكُنْ لَهُ كُفُوًا أَحَدٌ﴾ یعنی اس کے مشابہ اور اس کے برابر کوئی نہیں ہے، اور اس جیسی کوئی چیز نہیں۔
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 4031]
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 4031]
تخریج الحدیث: [ترقيم الرساله 4031] [ترقيم الشركة 4009] [ترقيم العلميه 3987]
435. تَفْسِيرُ سُورَةِ الْفَلَقِ
تفسیر سورہ الفلق
حدیث نمبر: 4032
حدَّثنا أبو العبَّاس محمد بن يعقوب، حدَّثنا العبَّاس بن محمد الدُّوري، حدَّثنا وهب بن جَرير، حدَّثنا أبي، سمعتُ يحيى بن أيوب يحدِّث عن يزيد بن أبي حَبيب، عن أسلمَ أبي عِمْران التُّجِيبي، عن عُقْبة بن عامر قال: قلتُ: يا رسول الله، أقرأ من سورة يوسفَ وسورة هودٍ، قال:"يا عقبهُ، اقرأ بـ ﴿أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ﴾، فإنك لن تقرأ بسورةٍ أحبَّ إلى الله، وأبلغَ عندَه منها، فإنِ استطعتَ أن لا تَفُوتَك فافعَلْ" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3988 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3988 - صحيح
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! کیا میں سورہ یوسف اور سورہ ہود پڑھوں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے عقبہ! تم ﴿أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ﴾ [سورة الفلق: 1] پڑھا کرو، کیونکہ تم کوئی ایسی سورت نہیں پڑھ سکتے جو اللہ کے نزدیک اس سے زیادہ محبوب اور زیادہ اثر رکھنے والی ہو۔ پس اگر تم سے ہو سکے کہ یہ تم سے نہ چھوٹے تو ایسا ہی کرو۔“
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 4032]
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 4032]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل يحيى بن أيوب» [ترقيم الرساله 4032] [ترقيم الشركة 4010] [ترقيم العلميه 3988]
الحكم على الحديث: حديث صحيح