🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
417. بَيَانُ لَيْلَةِ الْقَدْرِ مُفَصَّلًا
لیلة القدر کا مفصل بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4004
أخبرنا أبو زكريا العَنبرَي، حدَّثنا محمد بن عبد السلام، حدَّثنا إسحاق، أخبرنا أبو عامر العَقَدي، حدَّثنا عِكْرمة بن عمار اليَمَامي، عن أبي زُمَيل سِمَاك الحنفي قال: حدثني مالك بن مَرثَد، عن أبيه قال: قلتُ لأبي ذرٍّ: هل سمعتَ رسولَ الله ﷺ يذكرُ ليلةَ القَدْر؟ فقال: نعم، قلتُ: يا رسول الله، أخبِرْني عن ليلة القَدْر، أفي رمضان أم في غير رمضان؟ قال:"بل في رمضانَ" قلت: أخبرني يا رسول الله، أهي مع الأنبياء ما كانوا، فإذا قُبِضَ الأنبياءُ رُفِعَت، أم هي إلى يوم القيامة؟ قال:"لا، بل إلى يوم القيامة" قلت: يا رسول الله، أخبِرني في أيِّ رمضانَ هي؟ قال:"في العَشْر الأواخر، لا تَسأَلْني عن شيءٍ بعدَها" فقلت: أقسمتُ عليك بحقِّي عليك يا رسول الله في أيِّ عَشرٍ هي؟ قال: فغضبَ عليَّ غضبًا شديدًا ما غضبَ عليَّ قبلُ ولا بعدُ مثلَه، وقال:"لو شاء الله لأطلَعَكم عليها (1) ، التمِسوها في السَّبع الأواخر، لا تَسألْني عن شيءٍ بعدَها" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3960 - صحيح
مالک بن مرثد رحمہ اللہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے کہا: میں نے سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے پوچھا: کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو شبِ قدر کا ذکر کرتے ہوئے سنا ہے؟ تو انہوں نے فرمایا: ہاں! میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! مجھے شبِ قدر کے بارے میں بتائیے، کیا یہ رمضان میں ہوتی ہے یا غیر رمضان میں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بلکہ یہ رمضان میں ہوتی ہے۔ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! مجھے بتائیے، کیا یہ انبیاء کے ساتھ ہوتی تھی اور جب انبیاء وفات پا گئے تو اسے اٹھا لیا گیا، یا یہ قیامت تک باقی رہے گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں، بلکہ یہ قیامت تک باقی رہے گی۔ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! مجھے بتائیے کہ یہ رمضان کے کون سے حصے میں ہوتی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آخری عشرے میں، اس کے بعد مجھ سے کچھ نہ پوچھنا۔ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میرا آپ پر جو حق ہے، میں اس کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں کہ یہ (آخری) عشرے کے کس حصے میں ہوتی ہے؟ راوی کہتے ہیں: اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھ پر اتنے سخت ناراض ہوئے کہ اس سے پہلے اور اس کے بعد مجھ پر کبھی اتنے ناراض نہیں ہوئے تھے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر اللہ چاہتا تو تمہیں اس پر مطلع فرما دیتا، اسے آخری سات راتوں میں تلاش کرو، اس کے بعد مجھ سے کچھ نہ پوچھنا۔
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 4004]
تخریج الحدیث: «إسناده محتمل للتحسين من أجل مرثد والد مالك، وقد سلف الكلام عليه برقم (1613) حيث روى المصنف هذا الحديث من طريقين آخرين عن عكرمة بن عمار. إسحاق: هو ابن راهويه، وأبو عامر العقدي: هو عبد الملك بن عمرو القيسي.» [ترقيم الرساله 4004] [ترقيم الشركة 3982] [ترقيم العلميه 3960]

الحكم على الحديث: إسناده محتمل للتحسين من أجل مرثد والد مالك
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
418. شَأْنُ نُزُولِ آيَةِ (قُلْ لَوْ كَانَ الْبَحْرُ مِدَادًا) الْآيَةَ
آیت "قل لو كان البحر مداداً" (کہہ دیجیے اگر سمندر سیاہی بن جائے) کے شانِ نزول کا تذکرہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4005
حدَّثنا أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا إسماعيل بن قُتيبة، حدَّثنا يحيى بن يحيى، أخبرنا ابن أبي زائدة، عن داود بن أبي هند، عن عِكْرمة، عن ابن عبَّاس قال: قالت قريشٌ لليهود: أعطُونا شيئًا نَسألَ عنه هذا الرجلَ، فقالوا: سَلُوه عن الرُّوح، فنزلت ﴿وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الرُّوحِ قُلِ الرُّوحُ مِنْ أَمْرِ رَبِّي وَمَا أُوتِيتُمْ مِنَ الْعِلْمِ إِلَّا قَلِيلًا﴾ [الإسراء: 85] ، قالوا: نحن لم نُؤْتَ من العلم إلا قليلًا، وقد أُوتينا التوراةَ فيها حكمُ الله، ومن أُوتِيَ التوراةَ فقد أوتيَ خيرًا كثيرًا، قال: فنَزَلت: ﴿قُلْ لَوْ كَانَ الْبَحْرُ مِدَادًا لِكَلِمَاتِ رَبِّي لَنَفِدَ الْبَحْرُ قَبْلَ أَنْ تَنْفَدَ كَلِمَاتُ رَبِّي وَلَوْ جِئْنَا بِمِثْلِهِ مَدَدًا﴾ [الكهف:109] (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. 98 - تفسير سورة (لم يَكُن)
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3961 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: قریش نے یہودیوں سے کہا کہ ہمیں کوئی ایسی چیز بتاؤ جس کے بارے میں ہم اس شخص (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ) سے سوال کریں۔ تو انہوں نے کہا کہ ان سے روح کے بارے میں پوچھو۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی: ﴿وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الرُّوحِ قُلِ الرُّوحُ مِنْ أَمْرِ رَبِّي وَمَا أُوتِيتُمْ مِنَ الْعِلْمِ إِلَّا قَلِيلًا﴾ [سورة الإسراء: 85] یہودیوں نے (یہ سن کر) کہا: ہم تو ایسے نہیں کہ ہمیں تھوڑا علم دیا گیا ہو، ہمیں تو تورات دی گئی ہے جس میں اللہ کا حکم ہے، اور جسے تورات مل گئی اسے تو بہت بڑی بھلائی مل گئی۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی: ﴿قُلْ لَوْ كَانَ الْبَحْرُ مِدَادًا لِكَلِمَاتِ رَبِّي لَنَفِدَ الْبَحْرُ قَبْلَ أَنْ تَنْفَدَ كَلِمَاتُ رَبِّي وَلَوْ جِئْنَا بِمِثْلِهِ مَدَدًا﴾ [سورة الكهف: 109]
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 4005]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح،يحيى بن يحيى: هو النيسابوري، وابن أبي زائدة: هو يحيى بن زكريا بن أبي زائدة.» [ترقيم الرساله 4005] [ترقيم الشركة 3983] [ترقيم العلميه 3961]

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
419. تَفْسِيرُ سُورَةِ (لَمْ يَكُنْ)
تفسیر سورہ لم یکن (سورہ البینہ)
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4006
حدَّثنا أبو العبَّاس محمد بن يعقوب، حدَّثنا إبراهيم بن مرزوق، حدَّثنا أبو داود، حدَّثنا شُعبة، عن عاصم، عن زرٍّ، عن أبيِّ بن كعب: أنَّ النبي ﷺ قرأ عليه ﴿لَمْ يَكُنِ﴾، وقرأَ فيها: (إِنَّ ذاتَ الدِّينِ عندَ الله الحَنِيفيّةُ لا اليهوديةُ ولا النصرانيةُ ولا المجوسيةُ، ومن يَعمَلْ خيرًا فلن يُكفَرَه) (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3962 - صحيح
سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے سامنے سورۃ ﴿لَمْ يَكُنِ﴾ کی تلاوت فرمائی، اور اس میں (ان الفاظ کی بھی) تلاوت فرمائی: بیشک اللہ کے نزدیک اصل دین حنیفیت (دین ابراہیمی) ہے، یہودیت، نصرانیت اور مجوسیت نہیں ہے، اور جو کوئی بھلائی کرے گا تو اس کی ہرگز ناقدری نہیں کی جائے گی۔
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 4006]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن من أجل عاصم: وهو ابن أبي النجود. أبو داود: هو سليمان بن داود الطيالسي، وزر: هو ابن حُبيش.» [ترقيم الرساله 4006] [ترقيم الشركة 3984] [ترقيم العلميه 3962]

الحكم على الحديث: إسناده حسن.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4007
أخبرنا أبو زكريا العَنبَري، حدَّثنا محمد بن عبد السلام، حدَّثنا إسحاق، أخبرنا جَرير، عن مُغيرة، قال: سمعتُ الفُضَيل بنَ عمرو يقول لأبي وائل شَقيق بن سَلَمة: أسمعتَ عبدَ الله بنَ مسعود: يقول: مَن قال: إني مؤمنٌ، فليقل: إني في الجنّة؟ فقال: نعم. فقال المغيرة: وقرأ أبو وائل شقيقُ بن سَلَمة: ﴿لَمْ يَكُنِ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ﴾ حتى بلغ ﴿وَمَا أُمِرُوا إِلَّا لِيَعْبُدُوا اللَّهَ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ﴾ إلى قوله: ﴿وَذَلِكَ دِينُ الْقَيِّمَةِ﴾، قرأها وهو يُعرِّض بالمُرجِئة (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. 99 - تفسير سورة (إذا زُلزلت)
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3963 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
مغیرہ رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے فضیل بن عمرو کو ابو وائل شقیق بن سلمہ سے یہ کہتے ہوئے سنا: کیا آپ نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ: جو شخص یہ کہے کہ میں (پکا) مومن ہوں، تو اسے (پھر یہ بھی دعویٰ) کہنا چاہیے کہ میں جنتی ہوں؟ تو انہوں نے جواب دیا: ہاں۔ مغیرہ کہتے ہیں: پھر ابو وائل شقیق بن سلمہ نے ﴿لَمْ يَكُنِ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ﴾ کی تلاوت شروع کی، یہاں تک کہ وہ ﴿وَمَا أُمِرُوا إِلَّا لِيَعْبُدُوا اللَّهَ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ﴾ سے لے کر ﴿وَذَلِكَ دِينُ الْقَيِّمَةِ﴾ [سورة البينة: 1-5] تک پہنچے، اور انہوں نے یہ تلاوت اس حال میں کی کہ وہ مرجئہ (گمراہ فرقے) پر طنز اور رد کر رہے تھے۔
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 4007]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح،إسحاق: هو ابن راهويه، وجرير: هو ابن عبد الحميد، ومغيرة: هو ابن مقسم الضبي.» [ترقيم الرساله 4007] [ترقيم الشركة 3985] [ترقيم العلميه 3963]

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
420. تَفْسِيرُ سُورَةِ الزَّلْزَلَةِ - فَضِيلَةُ سُورَةِ: {إِذَا زُلْزِلَتِ}
تفسیر سورہ الزلزلہ - سورہ "اذا زلزلت" کی فضیلت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4008
حدَّثنا محمد بن صالح بن هانئ والحسن بن يعقوب قالا: حدَّثنا السَّرِي بن خُزَيمة، حدَّثنا عبد الله بن يزيد المقرئ، حدَّثنا سعيد بن أبي أيوب، حدَّثنا عيّاش بن عبَّاس القِتْباني، عن عيسى بن هلال الصَّدَفي، عن عبد الله بن عمرو قال: أتى رجلٌ رسول الله ﷺ فقال: أقرئني يا رسول الله، فقال له رسول الله ﷺ:"اقرأ ثلاثًا من ذواتِ (الر) "، فقال الرجل كَبِرَت سنِّي، واشتدَّ قلبي، وغَلُظَ لساني، قال:"اقرأ ثلاثًا من ذواتِ (حم) ، فقال مثلَ مَقالتِه الأولى، فقال:"اقرأ ثلاثًا من المسبِّحات"، فقال مثلَ مقالتِه، فقال الرجل: يا رسول الله، أقرئْني سورةً جامعةً، فأقرأه رسول الله ﷺ ﴿إِذَا زُلْزِلَتِ﴾ حتى فَرَغَ منها، فقال الرجل: والَّذي بعثَك بالحقِّ لا أزيدُ عليها أبدًا. ثم أدبَرَ الرجل، فقال رسول الله ﷺ:"أَفْلَحَ الرُّوَيجِلُ"، ثم ذَكَر ما يقيمه (1) (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3964 - بل صحيح
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! مجھے قرآن پڑھائیے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: (الر) والی سورتوں میں سے تین سورتیں پڑھ لو۔ اس شخص نے کہا: میری عمر زیادہ ہو گئی ہے، میرا دل سخت ہو گیا ہے، اور میری زبان موٹی ہو گئی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر (حم) والی سورتوں میں سے تین سورتیں پڑھ لو۔ اس نے پھر وہی بات دہرائی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر مسبحات (سبح اور یسبح سے شروع ہونے والی سورتوں) میں سے تین سورتیں پڑھ لو۔ اس نے پھر وہی عذر پیش کیا، اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! مجھے کوئی ایک جامع سورت پڑھا دیجیے۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ﴿إِذَا زُلْزِلَتِ﴾ پڑھائی، یہاں تک کہ آپ اس سے فارغ ہوئے۔ اس شخص نے کہا: اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے! میں اس پر کبھی اضافہ نہیں کروں گا۔ پھر وہ شخص پیٹھ پھیر کر چلا گیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ چھوٹا سا آدمی کامیاب ہو گیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ اعمال ذکر کیے جو اسے قائم رکھیں گے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 4008]
تخریج الحدیث: «إسناده فيه لينٌ، عيسى بن هلال الصدفي تفرَّد به، ولم يؤثر توثيقه عن غير ابن حبان ويعقوب الفسوي، وفي القلب من أحاديثه شيء.» [ترقيم الرساله 4008] [ترقيم الشركة 3986] [ترقيم العلميه 3964]

الحكم على الحديث: إسناده فيه لينٌ
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4009
حدَّثنا محمد بن صالح والحسن بن يعقوب، قالا: حدَّثنا السَّرِي بن خُزيمة، حدَّثنا عبد الله بن يزيد المقرئ، حدَّثنا سعيدٌ بن أبي أيوب، حدثني يحيى بن أبي سليمان، عن سعيد المَقبُري، عن أبي هريرة قال: قرأ رسول الله ﷺ هذه الآية: ﴿يَوْمَئِذٍ تُحَدِّثُ أَخْبَارَهَا﴾، قال:"أتدرون ما أخبارُها؟" قالوا: الله ورسوله أعلمُ، قال:"فإِنَّ أخبارَها أن تشهدَ على كلِّ عبدٍ وأَمَةٍ بما عَمِلَ على ظهرها أن تقول: عمل كذا في يوم كذا وكذا، فذلك أخبارُها" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3965 - يحيى هذا منكر الحديث قاله البخاري
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت ﴿يَوْمَئِذٍ تُحَدِّثُ أَخْبَارَهَا﴾ [سورة الزلزلة: 4] کی تلاوت فرمائی اور پوچھا: کیا تم جانتے ہو کہ اس کی خبریں کیا ہیں؟ صحابہ کرام نے عرض کیا: اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کی خبریں یہ ہیں کہ یہ ہر اس بندے اور بندی کے خلاف گواہی دے گی جو اس کی پیٹھ پر عمل کرتا رہا، یہ کہے گی کہ اس نے فلاں فلاں دن فلاں فلاں عمل کیا تھا۔ پس یہی اس کی خبریں ہیں۔
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 4009]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف لضعف يحيى بن أبي سليمان. وقد سلف برقم (3049).» [ترقيم الرساله 4009] [ترقيم الشركة 3987] [ترقيم العلميه 3965]

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4010
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الصَّفّار وأبو بكر الشافعي، قالا: حدَّثنا محمد بن مَسلَمة الواسطي، حدَّثنا يزيد بن هارون، أخبرنا سفيان بن حُسين، عن أيوب، عن أبي قِلابة، عن أبي أسماء الرَّحَبي قال: بَيْنا أبو بكر الصِّديق يَتغدَّى مع رسول الله ﷺ إذْ نَزَلت هذه الآية: ﴿فَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ (7) وَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَرَهُ﴾، فأمسك أبو بكر وقال: يا رسول الله، أكلُّ ما عَمِلنا من سوءٍ رأيناه؟ فقال:"ما تَرونَ مما تكرهون، فذلك ما تُجزَونَ، يُؤخَّرُ الخيرُ لأهله في الآخرة" (2) . صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3966 - مرسل
ابو اسماء رحبی رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ایک مرتبہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کھانا کھا رہے تھے کہ یہ آیت نازل ہوئی: ﴿فَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ (7) وَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَرَهُ﴾ [سورة الزلزلة: 7-8] تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے (کھانے سے ہاتھ) روک لیا اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا ہم نے جو بھی برائی کی ہے، ہم اسے دیکھیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (دنیا میں) تمہیں جو تکلیف دہ اور ناپسندیدہ چیزیں پیش آتی ہیں، وہ انہی برائیوں کا بدلہ ہوتی ہیں، جبکہ بھلائی اور خیر کو اس کے حق داروں کے لیے آخرت کے واسطے مؤخر کر دیا جاتا ہے۔
اس کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 4010]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، محمد بن مسلمة الواسطي لين الحديث، إلا أنه متابع، فقد عزا السيوطي هذا الحديث في "الدر المنثور" 8/ 593 إلى إسحاق بن راهويه وعبد بن حميد، وهما من طبقة محمد بن مسلمة يرويان عن يزيد بن هارون، فالغالب أنهما روياه عن يزيد فبذلك تسقط العهدة عن محمد بن ...» [ترقيم الرساله 4010] [ترقيم الشركة 3988] [ترقيم العلميه 3966]

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
421. تَفْسِيرُ سُورَةِ وَالْعَادِيَاتِ
تفسیر سورہ والعادیات
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4011
أخبرنا محمد بن أحمد المحبُوبي بمَرُو، حدَّثنا سعيدٌ بن مسعود، حدَّثنا عُبيد الله بن موسى، حدَّثنا إسرائيل، أخبرني عبد الكريم الجَزَري، عن مجاهدٍ، عن ابن عبَّاس في قوله: ﴿وَالْعَادِيَاتِ ضَبْحًا﴾ قال: هي الخيلُ ﴿فَالْمُورِيَاتِ قَدْحًا﴾ قال: الرجلُ إِذا أَوْرَى زَنْدَه ﴿فَالْمُغِيرَاتِ صُبْحًا﴾ قال: الخيلُ تصبِّحُ العدوَّ ﴿فَأَثَرْنَ بِهِ نَقْعًا﴾ قال: الترابُ ﴿فَوَسَطْنَ بِهِ جَمْعًا﴾ قال: العدوُّ ﴿إِنَّ الْإِنْسَانَ لِرَبِّهِ لَكَنُودٌ﴾ قال: الكَفُورُ (1) . [
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3967 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿وَالْعَادِيَاتِ ضَبْحًا﴾ کے متعلق روایت ہے، انہوں نے فرمایا: اس سے مراد گھوڑے ہیں۔ اور ﴿فَالْمُورِيَاتِ قَدْحًا﴾ کے متعلق فرمایا: (اس سے مراد) وہ آدمی ہے جب وہ چقماق سے آگ نکالے۔ اور ﴿فَالْمُغِيرَاتِ صُبْحًا﴾ کے متعلق فرمایا: وہ گھوڑے جو صبح کے وقت دشمن پر حملہ کرتے ہیں۔ اور ﴿فَأَثَرْنَ بِهِ نَقْعًا﴾ کے متعلق فرمایا: غبار اور مٹی (جو وہ اڑاتے ہیں)۔ اور ﴿فَوَسَطْنَ بِهِ جَمْعًا﴾ کے متعلق فرمایا: دشمن (کی جماعت کے درمیان گھس جاتے ہیں)۔ اور ﴿إِنَّ الْإِنْسَانَ لِرَبِّهِ لَكَنُودٌ﴾ کے متعلق فرمایا: ( «كنود» سے مراد) انتہائی ناشکرا شخص ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 4011]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح.» [ترقيم الرساله 4011] [ترقيم الشركة 3989] [ترقيم العلميه 3967]

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
422. تَفْسِيرُ سُورَةِ الْقَارِعَةِ
تفسیر سورہ القارعہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4012
أخبرنا أبو القاسم عبد الرحمن بن الحسن القاضي بهَمَذان، حدَّثنا إبراهيم بن الحسين بن ديزيل، حدَّثنا آدم بن أبي إياس، حدَّثنا المبارَك بن فَضَالة، عن الحسن قال: قال رسول الله ﷺ:"إذا مات العبدُ تَلقَّى روحَه أرواحُ المؤمنين فتقولُ له: ما فعل فلانٌ؟ فإذا قال: مات قالوا: ذُهِبَ به إلى أمِّه الهاوية، فبِئسَتِ الأمُّ، وبِئسَتِ المربِّيةُ" (1) .
هذا حديث مُرسَل صحيح الإسناد، فإني لم أجِدْ لهذه السورة تفسيرًا على شرط الكتاب، فأخرجتُه إذ لم أستجِزْ إخلاءَه من حديث (2) . [
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3968 - مرسل
حسن بصری رحمہ اللہ سے مرسل روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب بندہ مر جاتا ہے تو مومنوں کی روحیں اس کی روح سے ملتی ہیں اور اس سے پوچھتی ہیں: فلاں نے کیا کیا (وہ کیسا ہے)؟ پس اگر وہ کہے کہ وہ تو مر چکا ہے، تو وہ کہتی ہیں: اسے اس کی ماں (جہنم کے گڑھے) ہاویہ کی طرف لے جایا گیا ہے، پس وہ کتنی بری ماں ہے اور کتنی بری پرورش کرنے والی ہے۔
یہ حدیث مرسل ہے مگر اس کی سند صحیح ہے، مجھے اس سورت کی تفسیر میں اس کتاب کی شرط کے مطابق کوئی حدیث نہیں ملی، اس لیے میں نے اسے روایت کر دیا کیونکہ میں نے اسے حدیث سے خالی چھوڑنا مناسب نہیں سمجھا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 4012]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لإرساله، وشيخ المصنف فيه ضعف لكنه لم ينفرد به، ومبارك بن فضالة صدوق حسن الحديث، وباقي رجاله ثقات. الحسن: هو البصري، من أئمة التابعين.» [ترقيم الرساله 4012] [ترقيم الشركة 3990] [ترقيم العلميه 3968]

الحكم على الحديث: صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
423. تَفْسِيرُ سُورَةِ (أَلْهَاكُمُ التَّكَاثُرُ)
تفسیر سورہ الھاکم التکاثر (سورہ التکاثر)
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4013
حدَّثنا أبو عمرو عثمان بن عبد الله بن السَّمّاك ببغداد، حدَّثنا عبد الرحمن بن محمد بن منصور الحارثي، حدَّثنا معاذ بن هشام، حدثني أبي، عن قَتَادةَ، عن مُطرِّف ابن عبد الله بن الشِّخير، أنَّ أباه حدَّثه قال: انتهيتُ إلى رسول الله ﷺ وهو يقرأ ﴿أَلْهَاكُمُ التَّكَاثُرُ﴾، وهو يقول:"يقول ابنُ آدمَ: مالي مالي، وهل لكَ من مالِك إلا ما أكلتَ فأفنَيتَ، أو لَبِستَ فأبلَيتَ، أو تصدَّقتَ فأمضَيتَ؟" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، وليس من شرط الشيخين، فليس لعبد الله بن الشِّخِّير راوٍ غيرُ ابنِه مطرِّف، نظرتُ فإذا مسلمٌ قد أخرجه من حديث شعبة عن قَتادةَ مختصرًا (2) !
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3969 - أخرجه مسلم مختصرا
مطرف بن عبداللہ بن شخیر رحمہ اللہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے کہا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ﴿أَلْهَاكُمُ التَّكَاثُرُ﴾ [سورة التكاثر] کی تلاوت فرما رہے تھے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: ابن آدم کہتا ہے: میرا مال، میرا مال! حالانکہ تیرے مال میں سے تیرا تو صرف وہی ہے جو تو نے کھا کر ختم کر دیا، یا پہن کر پرانا کر دیا، یا صدقہ کر کے آگے بھیج دیا۔
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن یہ شیخین کی شرط پر نہیں ہے، کیونکہ عبداللہ بن شخیر کا ان کے بیٹے مطرف کے علاوہ کوئی راوی نہیں ہے۔ تاہم جب میں نے غور کیا تو معلوم ہوا کہ امام مسلم نے اسے شعبہ کی حدیث سے، جو قتادہ سے مروی ہے، مختصراً روایت کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 4013]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل عبد الرحمن بن محمد الحارثي، وقد توبع.» [ترقيم الرساله 4013] [ترقيم الشركة 3991] [ترقيم العلميه 3969]

الحكم على الحديث: حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں