🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
42. مَنْ كُنَّ لَهُ ثَلَاثُ بَنَاتٍ فَصَبَرَ عَلَى لَأْوَائِهِنَّ أَدْخَلَهُ اللَّهُ الْجَنَّةَ
جس کی تین بیٹیاں ہوں اور وہ ان کی تنگی و سختی پر صبر کرے، اللہ اسے جنت میں داخل فرمائے گا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7535
حدّثنا الحسن بن يعقوب بن يوسف العدل، حدّثنا محمد بن عبد الوهاب، أخبرنا جعفر بن عَون، أخبرنا أبو مالك الأشجعيّ، عن زياد بن حُدَير، عن ابن عباس قال: قال رسول الله ﷺ:"من وُلِدَت له أنثى فلم يَئِدْها، ولم يُهِنْها، ولم يُؤثِرْ ولدَه - يعني الذَّكر - عليها، أدخله الله بها الجنَّةَ" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7348 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس کے ہاں دو بیٹیاں پیدا ہوئیں، اس نے ان کو زندہ دفن نہ کیا، ان کو برا نہ جانا، اور نہ ہی بیٹوں کو ان پر ترجیح دی، اللہ تعالیٰ اس کے بدلے میں اس کو جنت میں داخل فرمائے گا۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب البر والصلة/حدیث: 7535]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
43. مَنْ عَالَ جَارِيَتَيْنِ حَتَّى تُدْرِكَا دَخَلْتُ الْجَنَّةَ أَنَا وَهُوَ كَهَاتَيْنِ
جس نے دو بچیوں کی پرورش کی یہاں تک کہ وہ جوان ہو گئیں، میں اور وہ جنت میں ان دو انگلیوں کی طرح ہوں گے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7536
أخبرنا أبو الحسن محمد بن علي بن بكر العدل ابن ابنةِ إبراهيم بن هانئ، حدّثنا السَّرِيّ بن خُزَيمة، حدّثنا مسلم بن إبراهيم، حدّثنا عُبيد الرحمن بن فَضَالة، حدّثنا بكر بن عبد الله المُزَنيّ، عن أنس بن مالك قال: جاءت امرأةٌ إلى عائشة تسألُ ومعها صبيَّانِ، فأعطتها ثلاثَ تَمَرات، فأعطَتْ كلَّ صبي تمرةً، وأمسكَتْ لنفسِها تمرةً، فأكل الصبيَّانِ التمرتينِ، فعَمَدَتْ إلى التمرة فشقَّتها نِصفَينِ، فأعطَتْ كلَّ صبيٍّ لها نصفَ تمرة، فجاء النبيُّ ﷺ فَأَخبَرَتْه، فقال:"وما يُعجِبُكِ منها، لقد رَحِمَها الله برحمتِها صَبِيَّيْها" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7349 - صحيح
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ایک عورت ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں کوئی مسئلہ پوچھنے کے لئے آئی، اس کے ہمراہ اس کے دو بچے بھی تھے، ام المومنین نے اس کو تین کھجوریں عطا کیں، اس نے دونوں بچوں کو ایک ایک کھجور دے دی، اور ایک کھجور اپنے لئے رکھ لی، دونوں بچوں نے اپنی اپنی کھجوریں کھا لیں، اس عورت نے تیسری کھجور بھی توڑ کر دونوں کو آدھی آدھی دے دی (اور خود کچھ نہ کھایا) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو ام المومنین نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ واقعہ سنایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو چیز تجھے اس عورت کی اچھی لگی ہے، اللہ تعالیٰ اس کے اپنے بچوں پر رحم کرنے کی وجہ سے اس عورت پر رحم کرے گا۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب البر والصلة/حدیث: 7536]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
44. مَا مِنْ مُسْلِمٍ تُدْرِكُ لَهُ ابْنَتَانِ إِلَّا أَدْخَلَتَاهُ الْجَنَّةَ
جس مسلمان کی دو بیٹیاں جوان ہو جائیں (اور وہ ان سے بھلائی کرے)، وہ اسے جنت میں لے جائیں گی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7537
أخبرنا علي بن محمد بن عُقبة الشَّيباني بالكوفة، حدّثنا إبراهيم بن إسحاق القاضيّ، حدّثنا محمد بن عُبيد الطنافسي، حدَّثني محمد بن عبد العزيز الراسِبيّ، عن أبي بكر بن عبيد الله بن أنس، عن أنس قال: قال رسول الله ﷺ:"مَن عالَ جاريتَينِ حتى تُدرِكا، دخلت الجنةَ أنا وهو كهاتَينِ - وأشار بإصبعيه السَّبّابةِ والوُسطى - وبابانِ مُعجَّلانِ عقوبتهما في الدنيا: البَغْيُ والعُقوقُ" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7350 - صحيح
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس نے دو بیٹیوں کی کفالت کی حتیٰ کہ ان کی شادی کر دی، اور وہ جنت میں یوں داخل ہوں گے (یہ فرماتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی درمیانی اور شہادت کی انگلی ملا کر اشارہ فرمایا) اور دو گناہ ایسے ہیں جن کی سزا دنیا میں بھی ملتی ہے۔ اور وہ ہے بغاوت اور ماں باپ کی نافرمانی ۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب البر والصلة/حدیث: 7537]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7538
أخبرنا أبو الطيِّب محمد بن علي بن الحسن (1) الحِيريّ، حدّثنا محمد بن عبد الوهاب بن حَبيب، حدّثنا يعلى بن عُبيد، حدّثنا فِطر بن خَليفة، قال: كنتُ جالسًا عند زيد بن علي بالمدينة، فمرَّ عليه شيخٌ يقال له: شُرَحبيل أبو سعد، فقال له زيد: من أين جئتَ يا أبا سعد؟ قال: من عند أميرِ المدينة، حدّثتُه بحديث، قال: فحدِّثْ به القومَ، قال: سمعتُ ابن عباس يقول: قال رسول الله ﷺ:"ما مِن مسلمٍ تُدرِكُ له ابنتانِ فيُحسِنُ إليهما ما صَحِبَتاه أو صَحِبَهما، إِلَّا أَدخَلَتاه الجنَّةَ" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
فطر بن خلیفہ بیان کرتے ہیں: میں مدینہ منورہ میں امام زید رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا، ان کے پاس سے شرحبیل ابوسعد نامی ایک بزرگ کا گزر ہوا، سیدنا زید نے ان سے پوچھا: اے ابوسعد تم کہاں سے آ رہے ہو؟ انہوں نے بتایا کہ میں امیر مدینہ کے پاس سے آ رہا ہوں، میں نے ان کو ایک حدیث سنائی ہے، انہوں نے کہا: تو وہ حدیث آپ دیگر لوگوں کو بھی سنا دیجئے، انہوں نے کہا: سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس مسلمان کی دو بیٹیاں ہوں، وہ ان کی اچھی کفالت کرے، ان کے ساتھ حسن سلوک کرے، وہ لڑکیاں اس کو جنت میں لے جائیں گی۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب البر والصلة/حدیث: 7538]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
45. مَنْ لَمْ يَرْحَمْ صَغِيرَنَا وَيَعْرِفْ حَقَّ كَبِيرِنَا فَلَيْسَ مِنَّا
جو ہمارے چھوٹوں پر رحم نہ کرے اور ہمارے بڑوں کا حق نہ پہچانے وہ ہم میں سے نہیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7539
وقد حدَّثَناه أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن دينار وأبو بكر محمد بن عبد الله الحَفيد، قالا: حدّثنا أحمد بن محمد بن نصر، حدّثنا أبو نُعيم، حدّثنا فِطر، عن شُرَحبيل بن مسلم، عن ابن عباس، عن النبيّ ﷺ، نحوَه (3) . هذا وهمٌ، فإنَّ شُرَحبيلَ هذا هو أبو سعد شرحبيل بن سعد، شيخٌ من أهل المدينة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7351 - شرحبيل بن سعد واه
شرحبیل بن مسلم نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے حوالے سے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مذکورہ فرمان نقل کیا ہے، امام حاکم کہتے ہیں۔ یہ غلطی ہے، کیونکہ یہ شرحبیل ابوسعید شرحبیل بن سعد ہیں، اہل مدینہ کے شیوخ میں سے ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب البر والصلة/حدیث: 7539]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں