🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
30. لِلَّهِ عِبَادٌ يَغْبِطُهُمُ النَّبِيُّونَ وَالصِّدِّيقُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ
اللہ کے کچھ ایسے بندے ہیں جن پر قیامت کے دن انبیاء اور صدیقین بھی رشک کریں گے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7505
حدثناه أبو العباس محمد بن يعقوب، حدّثنا الربيع بن سليمان، حدّثنا بشر بن بكر، حدَّثني ابن جابر، حدّثنا عطاء الخُراسانيّ، قال: سمعتُ أبا إدريس الخَوْلاني يقول: دخلتُ مسجد حِمص، فجلستُ في حَلْقة كلُّهم يُحدِّث عن رسول الله ﷺ، وفيهم فتًى شاب إذا تكلَّم أنصت القومُ، وإذا حدث رجلًا منهم أنصتَ له، فتفرَّقوا ولم أعلم مَن ذلك الفتى، ثم ذكر الحديثَ بطوله (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7316 - على شرط البخاري ومسلم
عطاء خراسانی کہتے ہیں: میں نے ابوادریس خولانی کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے میں حمص کی مسجد میں داخل ہوا، میں ایک حلقے میں بیٹھا، اس حلقے میں سب لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث بیان کر رہے تھے، ان میں ایک نوجوان بھی موجود تھا، جب وہ بولتا تو سب خاموش ہو جاتے، اور اگر مجلس میں سے کوئی اور شخص بولتا تو اس کو اس نوجوان کی خاطر خاموش کروا دیا جاتا، یہ حلقہ ختم ہو گیا لیکن مجھے ابھی تک یہ پتا نہ چل سکا تھا کہ وہ نوجوان کون ہے، اس کے بعد انہوں نے پوری حدیث بیان کی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب البر والصلة/حدیث: 7505]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
31. الْمَرْءُ عَلَى دِينِ خَلِيلِهِ فَلْيَنْظُرْ مَنْ يُخَالِلُ
انسان اپنے دوست کے دین پر ہوتا ہے، لہذا دیکھو کہ تم کس سے دوستی کر رہے ہو
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7506
حدّثنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الزاهد الأصبهانيّ، حدّثنا أحمد بن يونس الضبيِّ بأصبهان، حدّثنا أبو بدر شُجَاع بن الوليد، قال: سمعتُ زياد بن خيثمة يُحدِّث عن أبيه، عن ابن عمر قال: قال رسول الله ﷺ:"إِنَّ الله عبادًا ليسوا بأنبياءَ ولا شهداءَ، يَغبِطُهم [النبيُّون والشهداء] (1) يوم القيامة بقربهم ومجلسهم منه"، فجَثَا أعرابيٌّ على رُكبتيه، فقال: يا رسولَ الله، قوم ليسوا بأنبياءَ ولا شهداءَ، يَغبِطُهم الأنبياءُ والشهداءُ بقُربِهم من الله تعالى ومجلسِهم منه! صفهم لنا وجَلِّهم لنا، قال:"قومٌ من أفناءِ الناس من نُزَّاع القبائل تَصَافَوا في الله، وتَحابُّوا فيه، يضعُ اللَّهُ ﷿ لهم يوم القيامة منابرَ من نور، يَخافُ الناسُ ولا يَخافُون، هم أولياء الله ﷿ الذين لا خوفٌ عليهم ولا هم يَحزَنون" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7318 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بے شک اللہ تعالیٰ کے کچھ ایسے بندے بھی ہیں، جو نہ تو نبی ہیں اور نہ ہی شہید ہیں، لیکن قیامت کے دن ان کو اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں جو قرب کا مقام ملے گا، اس پر نبی اور شہید رشک کریں گے۔ ایک دیہاتی شخص اپنے گھٹنوں اور پاؤں کی انگلیوں کے بل دو زانوں ہو کر کہنے لگا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، آپ ان لوگوں کی نشانیاں بھی ہمیں بتا دیجئے، اور ان کا حلیہ بھی ہمیں بتا دیجئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ لوگ قبائل کے جھگڑوں میں اللہ کی رضا پر راضی رہنے والے ہوں گے، وہ اللہ کی رضا کی خاطر ایک دوسرے کو تحائف دیں گے، اللہ کی رضا کی خاطر ایک دوسرے سے محبت کریں گے، قیامت کے دن ان کے لئے نور کے منبر بچھائے گا، لوگ اس دن خوفزدہ ہوں گے لیکن یہ لوگ نہیں گھبرائیں گے۔ یہ لوگ اللہ تعالیٰ کے وہ دوست ہوں گے جن کو نہ اس دنیا میں کوئی خوف ہے اور نہ وہ قیامت میں پریشان ہوں گے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب البر والصلة/حدیث: 7506]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7507
حدّثنا أبو عمرو عثمان بن أحمد الدَّقّاق ببغداد، حدّثنا جعفر بن الزِّبرِقان، حدّثنا أبو عامر العَقَديّ، حدّثنا زهير بن محمد العَنَبريّ، حدَّثني موسى بن وَرْدان، أنه سمع أبا هريرة يقول: قال رسول الله ﷺ:"المرءُ على دينِ خَليلِه، فليَنظُرْ أحدُكم من يُخالُّ" (1) . وقد رُوي عن أبي الحُباب سعيد بن يسار عن أبي هريرة:
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: آدمی اپنے دوست کے دین پر ہوتا ہے، اس لئے دوست بناتے وقت اس کے دینی معاملات دیکھ لینے چاہئیں۔ یہی حدیث ابوحباب سعید بن یسار نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب البر والصلة/حدیث: 7507]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
32. إِذَا أَحَبَّ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ فَلْيُعْلِمْهُ إِيَّاهُ
جب تم میں سے کوئی اپنے بھائی سے محبت کرے تو اسے بتا دے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7508
حدَّثَناه أبو العباس محمد بن يعقوب، حدّثنا أحمد بن عيسى اللَّخْميّ، حدّثنا عمرو بن أبي سلمة، حدّثنا صَدَقة بن عبد الله، عن إبراهيم بن محمد الأنصاريّ، عن سعيد بن يسار، عن أبي هريرة قال: قال رسول الله ﷺ:"المرءُ على دين خَليلِه، فليَنظُرْ أحدُكم من يُخالِلُ" (2) . حديث أبي الحُبَاب صحيح إن شاء الله تعالى، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7320 - صحيح إن شاء الله
سیدنا سعید بن یسار سے مروی ہے، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ نے ارشاد فرمایا: آدمی اپنے دوست کے دین پر ہوتا ہے، اس لئے دوست بنانے سے پہلے اس کے دینی معاملات پر غور کر لینا چاہیے۔ ٭٭ ابوالحباب کی حدیث صحیح ہے، لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب البر والصلة/حدیث: 7508]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7509
أخبرني عَبْدان بن يزيد الدَّقاق بهَمَذان، حدّثنا إبراهيم بن الحسين، حدّثنا موسى بن داود الضَّبيّ، حدّثنا المبارك بن فَضَالة، عن ثابت، عن أنس قال: مَرَّ بالنبيِّ ﷺ رجلٌ، فقال رجلٌ: إِنِّي لأُحبُّه في الله ﷿، فقال النبيُّ ﷺ:"أأعلمتَه؟" قال: لا، قال:"فأَعلِمْه"، قال: فلقيتُ الرجلَ فأعلمتُه، فقال: أحبَّك الذي أحببتَني له (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وشاهدُه حديث المقدام بن مَعْدي كَرِبَ:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7321 - صحيح
سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے ایک آدمی گزرا، ایک شخص نے کہا: میں اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے اس سے محبت کرتا ہوں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تو نے اس کو اس بات سے آگاہ کیا ہے؟ اس نے کہا: نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو اس کو بتا دے، وہ فرماتے ہیں: میں اس آدمی سے ملا، اور اس کو بتا دیا (کہ میں تجھ سے محبت کرتا ہوں) اس نے کہا: اللہ تعالیٰ تیرے ساتھ محبت فرمائے جس کی رضا کی خاطر تم مجھ سے محبت کرتے ہو۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ اور اس کی شاہد حدیث سیدنا مقدام بن معدی کرب کی روایت کردہ درج ذیل حدیث ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب البر والصلة/حدیث: 7509]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7510
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الشَّيبانيّ، حدّثنا يحيى بن محمد بن يحيى، حدّثنا مُسدَّد، حدّثنا يحيى بن سعيد، حدّثنا ثَور بن يزيد، عن حبيب بن عُبيد، عن المِقدام بن مَعْدي كَرِبَ، عن النبيّ ﷺ قال:"إذا أحبَّ أحدُكم أخاه، فليُعلِمْه إياه" (2) .
سیدنا مقداد بن معدی کرب فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کسی کو اپنے بھائی سے محبت ہو جائے تو اسے چاہئے کہ اپنے بھائی کو آگاہ کر دے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب البر والصلة/حدیث: 7510]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
33. حَقُّ الزَّوْجِ عَلَى الزَّوْجَةِ
بیوی پر شوہر کے حقوق کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7511
حدّثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدّثنا محمد بن سنان القزَّاز، حدّثنا أبو عاصم، حدّثنا مبارك بن فَضَالة، عن ثابت، عن أنس قال: قال رسول الله ﷺ:"ما تحابَّ رجلان في الله تعالى، إِلَّا كان أفضلهُما أشدَّ حبًّا لصاحبِه" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7323 - صحيح
سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو دو شخص ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں، ان میں جو زیادہ محبت کرتا ہے وہ دوسرے سے افضل ہے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب البر والصلة/حدیث: 7511]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7512
حدّثنا علي بن حَمْشَاذَ العَدْل، حدّثنا محمد بن المغيرة السُّكريّ، حدّثنا القاسم بن الحَكَم العُرَنيّ، حدّثنا سليمان بن أبي سليمان، عن يحيى بن أبي كثير، عن أبي سلمة، عن أبي هريرة قال: جاءتِ امرأةٌ إلى رسول الله ﷺ، فقالت: يا رسولَ الله، أنا فلانةُ بنت فلان، قال:"قد عرفتُكِ، فما حاجَتُكِ؟" قالت: حاجَتي أَنَّ ابن عمِّي فلانٌ العابدُ، قال رسول الله ﷺ:"قد عرفتُه" قالت: يَخطُبُنيّ، فأخبِرْني ما حقُّ الزَّوج على الزوجة، فإن كان شيءٌ أطيقُه تزوجتُه، وإن لم أُطِقْه لا أتزوَّجُ، قال:"من حقِّ الزَّوج على الزوجة أن لو سالَ دمًا وقَيحًا وصَديدًا فلَحسَتْه بلسانها، ما أدَّتْ حقَّه، ولو كان ينبغي لبشرٍ أن يَسجُدَ لبشرٍ، لأمرتُ الزوجة أن تسجُدَ لزوجها إذا دخل عليها، لِمَا فَضَّلَه الله تعالى عليها" قالت: والذي بعثك بالحقِّ لا أتزوَّجُ ما بقيتُ في الدنيا (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7324 - بل سليمان هو اليماني ضعفوه
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ایک خاتون رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں آئی، اور کہنے لگی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں فلانہ بنت فلاں ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تجھے پہچانتا ہوں، تم کس لئے آئی ہو؟ اس نے کہا: میرا کام یہ ہے کہ میرے چچا کا فلاں بیٹا عبادت گزار ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں اسے بھی جانتا ہوں، اس خاتون نے کہا: اس نے مجھے پیغام نکاح بھیجا ہے، آپ مجھے بتائیے کہ بیوی پر اپنے شوہر کے کیا حقوق ہیں؟ اگر وہ میرے بس میں ہوئے تو میں نکاح کروں گی ورنہ نہیں کروں گی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیوی پر شوہر کے حقوق میں سے یہ بھی ہے کہ اگر شوہر کے جسم سے خون اور پیپ بہہ رہی ہو اور بیوی اپنی زبان کے ساتھ اسے چاٹے، تب بھی وہ اس کا حق ادا نہیں کر پائی۔ اس نے کہا: اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے میں ساری زندگی شادی نہیں کروں گی۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب البر والصلة/حدیث: 7512]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7513
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الصَّفّار، حدّثنا أحمد بن مَهدي بن رُستُم الأصفهانيّ، حدّثنا معاذ بن هشام الدَّسْتُوائيّ، حدَّثني أبيّ، حدَّثني القاسم بن عَوف الشَّيبانيّ، عن ابن أبي ليلى، عن أبيه، عن معاذ بن جبل: أنه أتى الشامَ، فرأى النصارى يسجدون لأساقِفَتِهم وقِسِّيسيهِم وبَطارقَتِهم، ورأى اليهودَ يسجدون لأحبارهم وربّانِيهم وعلمائِهم وفقهائِهم، فقال: لأيِّ شيء تفعلون هذا؟ قالوا: هذه تحيةُ الأنبياءِ ﵈، قلتُ: فنحن أحقُّ أن نَصنَعَ بنبيِّنا، فقال نبي الله ﷺ:"إنهم كَذَّبوا على أنبيائهم كما حرَّفوا كتابَهم، لو أمرتُ أحدًا أن يَسجُدَ لأحدٍ، لأَمرتُ المرأةَ أن تسجدَ لزوجِها من عِظَمِ حقِّه عليها، ولا تجدُ امرأةٌ حلاوةَ الإيمان حتى تؤدِّيَ حقَّ زوجِها، ولو سألها نفسَها وهي على ظهرِ قَتَبٍ" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7325 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: وہ ملک شام میں گئے تو انہوں نے دیکھا وہاں پر نصاریٰ اپنے اساقفہ، قسیسین اور بطارق کو سجدے کرتے ہیں، اور یہودیوں کو دیکھا کہ وہ اپنے احبار، رہبان، ربانیین، علما اور فقہاء کو سجدے کرتے ہیں، آپ نے پوچھا کہ وہ لوگ ان کو سجدے کیوں کرتے ہیں؟ لوگوں نے بتایا کہ یہ انبیاء کی عبادت کا طریقہ ہے میں نے کہا: تب تو ہم زیادہ حق رکھتے ہیں کہ ہم اپنے نبی کے ساتھ ایسا کریں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انہوں نے اپنے نبیوں کے بارے میں جھوٹ بولا ہے جیسا کہ انہوں نے ان کی کتابوں میں تحریف کی ہے۔ اگر میں کسی غیراللہ کو سجدہ کرنے کی اجازت دیتا تو بیوی کو حکم دیتا کہ وہ اپنے شوہر کو سجدہ کرے کیونکہ اس پر شوہر کا بہت زیادہ حق ہے۔ اور کوئی عورت عبادت کی حلاوت نہیں پا سکتی جب تک کہ وہ اپنے شوہر کا حق ادا نہ کرے، اگرچہ شوہر اپنی بیوی کی خواہش اس حال میں کرے جب کہ وہ عورت کجاوہ میں بیٹھی ہو۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن انہوں نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب البر والصلة/حدیث: 7513]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
34. خَيْرُكُمْ خَيْرُكُمْ لِلنِّسَاءِ
تم میں سے بہترین وہ ہے جو اپنی عورتوں کے لیے بہترین ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7514
حدَّثني محمد بن صالح بن هانئ، حدّثنا السَّري بن خُزَيمة، حدّثنا عبد العزيز بن الخطّاب، حدّثنا حِبَّان (2) بن عليّ، عن صالح بن حَيَّان، عن عبد الله ابن بريدة، عن أبيه: أنَّ رجلًا أتى النبيّ ﷺ فقال: يا رسولَ الله، علِّمني شيئًا أزدادُ به يقينًا، قال: فقال:"ادْعُ تلك الشجرةَ"، فدعا بها فجاءت حتى سلَّمت على النبيِّ ﷺ، قال لها:"ارجِعيّ"، فرجعت، قال: ثم أَذِنَ له فقبَّل رأسَه ورِجلَيه، وقال:"لو كنتُ آمرًا أحدًا أن يسجُدَ لأحدٍ، لأَمرتُ المرأةَ أن تسجُدَ لزوجِها" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7326 - بل واه
سیدنا عبداللہ بن بریدہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ ایک آدمی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوا۔ اور کہنے لگا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے کوئی ایسی چیز سکھائیے جس کے ساتھ میرے یقین میں اضافہ ہو جائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس درخت کو میرے پاس بلاؤ، اس نے بلایا تو وہ درخت چل کر بارگاہ مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم میں حاضر ہو گیا اور آ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر سلام پڑھنے لگ گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فرمایا: واپس چلا جا، تو وہ واپس چلا گیا، راوی کہتے ہیں: پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آدمی کو اجازت دی تو اس نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سر اور پاؤں کو بوسہ دیا۔ اور فرمایا: اگر میں کسی کو غیر خدا کے لئے سجدہ کرنے کا حکم دیتا تو عورت کو حکم دیتا کہ وہ اپنے شوہر کو سجدہ کرے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب البر والصلة/حدیث: 7514]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں