المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
26. لَا يَشْبَعُ الرَّجُلُ دُونَ جَارِهِ
آدمی اپنے پڑوسی کو چھوڑ کر (اکیلے) پیٹ بھر کر نہ کھائے
حدیث نمبر: 7495
أخبرَناه أحمد بن جعفر القَطِيعيّ، حدّثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدَّثني أبيّ، حدّثنا عبد الرحمن، عن سفيان، عن أبيه عن عَبَاية بن رِفاعة، قال: بلغ عمرَ أنَّ سعدًا لمّا بنى القصرَ قال: انقطَعَ الصُّوَيت (1) ، فبعث إليه محمدَ بن مَسلَمة … الحديث، وقال في آخره قال عمر: إنِّي كرهتُ أن آمرَ لك، فيكون لك الباردُ وليَ الحارُّ، وحولي أهلُ المدينة قد قتلهم الجوعُ، وقد سمعتُ رسول الله ﷺ يقول:"لا يَشبَعُ الرجلُ دون جارِه" (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7308 - سنده جيد
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7308 - سنده جيد
سیدنا عبایہ بن رفاعہ بیان کرتے ہیں: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو اطلاع ملی کہ جب سیدنا سعد نے محل بنوایا تو فرمایا: آواز ختم ہو گئی ہے۔ پھر ان کی جانب محمد بن مسلمہ کو بھیجا۔ اس کے بعد پوری حدیث بیان کی، اس کے آخر میں ہے ” سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: مجھے یہ بات اچھی نہ لگی کہ میں تجھے حکم دوں اور تیرے لئے ٹھنڈا ہو اور میرے لئے گرم۔ اور میرے اردگرد مدینہ والے ہیں، وہ بھوک سے مر رہے ہیں، اور میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ آدمی اپنے پڑوسی کے بغیر شکم سیر نہیں ہو سکتا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب البر والصلة/حدیث: 7495]
حدیث نمبر: 7496
أخبرنا أحمد بن يعقوب الثقفيّ، حدّثنا موسى بن هارون، حدّثنا أبو الربيع الزَّهْرانيّ، حدّثنا جعفر بن سليمان، عن أبي عِمران الجَوْنيّ، عن يزيد بن بابَنُوس، عن عائشة قالت: قلت: يا رسول الله، إنَّ لي جارَينِ بأيِّهما أبدأُ؟ قال:"بأقرَبِهما منكِ بابًا" (3) . هكذا يرويه جعفر بن سليمان عن أبي عمران الجَونيّ، والصحيحُ رواية شُعبة:
7496 - یزید بن بابنوس حضرت عائشہ (رضی اللہ عنہا) سے روایت کرتی ہیں کہ: میں نے عرض کیا: "یا رسول اللہ! میرے دو پڑوسی ہیں، میں (تحفہ یا خیرات دینے میں) کس سے ابتدا کروں؟" آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "جس کا دروازہ تم سے زیادہ قریب ہو"۔ جعفر بن سلیمان اسے ابو عمران جونی سے اسی طرح روایت کرتے ہیں، جبکہ صحیح (روایت) شعبہ کی ہے (جو آگے آ رہی ہے): [المستدرك على الصحيحين/كتاب البر والصلة/حدیث: 7496]
حدیث نمبر: 7497
حدَّثَناه أبو العباس محمد بن يعقوب، حدّثنا إبراهيم بن مرزوق، حدّثنا وهب بن جَرير، عن شُعبة. وأخبرنا أحمد بن جعفر، حدّثنا عبد الله بن أحمد بن حَنبَل، حدَّثني أبيّ، حدّثنا محمد بن جعفر، عن شُعْبة (1) ، عن أبي عِمران الجَوْنيّ، عن طلحة بن عبد الله، رجل من بني تَيْم الله، عن عائشة قالت: قلتُ: يا رسولَ الله، إِنَّ لي جارَينِ، فإلى أيِّهما أُهدي؟ قال:"إلى أقرَبِهما منكِ بابًا" (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، فإنَّ طلحة بن عبد الله بن عَوف (3) ممَّن اتَّفقا على إخراجه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7309 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، فإنَّ طلحة بن عبد الله بن عَوف (3) ممَّن اتَّفقا على إخراجه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7309 - على شرط البخاري ومسلم
ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے دو پڑوسی ہیں، میں ان میں سے کس سے (حسن سلوک کا) آغاز کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس کا دروازہ تمہارے دروازے کے زیادہ قریب ہے۔ ٭٭ یہ حدیث اسی طرح جعفر بن سلیمان کے واسطے سے ابوعمران جونی سے بھی مروی ہے۔ جبکہ شعبہ نے ابوعمران جونی، پھر طلحہ بن عبداللہ جو کہ بنی تیم اللہ کا ایک شخص تھا، کے واسطے سے ام المومنین سیدہ عائشہ سے روایت کیا ہے، آپ فرماتی ہیں: میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے دو پڑوسی ہیں، میں ان میں سے کس کی جانب تحفہ بھیجا کروں؟ فرمایا: جس کا دروازہ تمہارے دروازے کے زیادہ قریب ہے۔ ٭٭ یہ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے، طلحہ بن عبداللہ بن عوف ان راویوں میں سے ہیں جن کی مرویات امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے بھی نقل کی ہیں اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے بھی نقل کی ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب البر والصلة/حدیث: 7497]
27. دَاءُ الْأُمَمِ الْأَشَرُ وَالْبَطَرُ
امتوں کی بیماری حد سے بڑھی ہوئی خوشی اور تکبر ہے
حدیث نمبر: 7498
حدّثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، أخبرنا محمد بن عبد الله بن عبد الحَكَم، أخبرنا ابن وهب، أخبرني حَيْوة، عن ابن الهادِ، أنَّ الوليد بن أبي هشام حدَّثه عن أبي موسى الأشعريّ، أنَّ رسول الله ﷺ قال:"لن تُؤْمِنوا حتى تحابُّوا، أفلا أدلُّكم على ما تَحابُّون (4) عليه؟" قالوا: بلى يا رسولَ الله، قال:"أَفشُوا السلامَ بينكم تَحابُّوا، والذي نفسي بيده، لا تدخلوا الجنَّةَ حتى تَراحَمُوا" قالوا: يا رسولَ الله، كلُّنا رحيمٌ، قال:"إنه ليس برحمةِ أحدِكم (1) ، ولكن رحمةُ العامَّة، رحمةُ العامَّة" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7310 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7310 - صحيح
سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتے جب تک تم آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ محبت نہ کرو، کیا میں تمہیں ایسی چیز نہ بتاؤں، جس سے تمہیں آپس میں محبت ہو جائے؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کی: کیوں نہیں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم آپس میں سلام کو عام کرو، تمہارے درمیان محبت پیدا ہو جائے گی، اور اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے، تم اس وقت تک جنت میں نہیں جا سکتے جب تک تم آپس میں ایک دوسرے پر رحم نہیں کرو گے، صحابہ کرام نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم تو سب ہی رحیم ہیں، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کسی ایک پر رحم کرنا، رحم نہیں ہے، رحمت وہ ہے جو سب لوگوں کے لئے عام ہو۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب البر والصلة/حدیث: 7498]
حدیث نمبر: 7499
حدّثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، أخبرنا محمد بن عبد الله، أخبرنا ابن وهب، أخبرني أبو هانئ حُميد بن هانئ الخَوْلانيّ، حدَّثني أبو سعيد الغِفَاريّ، أنه قال: سمعتُ أبا هريرة يقول: سمعتُ رسول الله ﷺ يقول:"سيصيبُ أمتي داءُ الأُمَم" فقالوا: يا رسولَ الله، وما داءُ الأمم؟ قال:"الأَشَرُ، والبَطَرُ، والتكاثرُ، والتناجشُ (3) في الدنيا، والتباغُض، والتحاسُدُ حتى يكونَ البَغْيُ" (4) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7311 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7311 - صحيح
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میری امت میں سابقہ امتوں والی بیماریاں ہوں گی، صحابہ کرام نے پوچھا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سابقہ امتوں والی بیماریاں کیا ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اکڑ، اترانا، مال جمع کرنا، دنیا میں زیادہ دلچسپی، ایک دوسرے کے ساتھ چھپی ہوئی دشمنی رکھنا، ایک دوسرے کے ساتھ حسد کرنا، بغاوت کرنا۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب البر والصلة/حدیث: 7499]
28. أَحِبَّ لِأَخِيكَ مَا تُحِبُّ لِنَفْسِكَ
اپنے بھائی کے لیے وہی پسند کرو جو اپنے لیے پسند کرتے ہو
حدیث نمبر: 7500
أخبرني عبد الرحمن بن الحسن القاضي بهَمَذان، حدّثنا إبراهيم بن الحسين، حدّثنا آدم بن أبي إياس، حدّثنا شُعبة، عن أبي بَلْج يحيى بن أبي سُليم، قال: سمعت عَمرو (1) بن ميمون، يحدّث عن أبي هريرة قال: قال رسول الله ﷺ:"مَن سرَّه أن يَجِدَ طعم الإيمان، فليُحِبَّ المرء لا يُحِبُّه إلا الله ﷿" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7312 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7312 - صحيح
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص ایمان کی حلاوت محسوس کرنا چاہتا ہے کہ اپنے مسلمان بھائی کے ساتھ فقط اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر محبت کرے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب البر والصلة/حدیث: 7500]
حدیث نمبر: 7501
أخبرنا الأستاذ أبو الوليد وأبو بكر بن قُريش، قالا: حدّثنا الحسن بن سفيان، حدّثنا محمد بن يحيى القُطَعي ومحمد بن أبي بكر المُقدَّمي ونصر بن عليّ، قالوا: حدّثنا رَوْح بن عطاء، حدّثنا سيّار أبو الحَكَم: أنه شَهِدَ خالدَ بن عبد الله القَسْريَّ وهو يَخْطُب على منبر البصرة، وهو يقول: حدَّثني أبيّ، عن جديّ، قال: قال رسول الله ﷺ:"يا يزيدَ بنَ أسدِ، أتحبُّ الجنة؟" قلت: نعم، قال:"فأحِبَّ لأخيك المسلمِ ما تحبُّ لنفسِك" (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. ويزيد بن أَسد بن كُرْز صحابيٌّ سكن البصرة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7313 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. ويزيد بن أَسد بن كُرْز صحابيٌّ سكن البصرة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7313 - صحيح
خالد بن عبداللہ قسری اپنے والد سے، وہ ان کے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اے یزید بن اسد! کیا تم جنت سے محبت کرتے ہو؟ میں نے کہا: جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو تم اپنے مسلمان بھائی کے لئے وہی چیز پسند کرو جو تم اپنے لئے پسند کرتے ہو۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ اور یزید بن اسد بن کرز صحابی رسول ہیں، بصرہ میں رہا کرتے تھے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب البر والصلة/حدیث: 7501]
29. الْمُتَحَابُّونَ فِي اللَّهِ يُظِلُّهُمُ اللَّهُ فِي ظِلِّ عَرْشِهِ يَوْمَ لَا ظِلَّ إِلَّا ظِلُّهُ
اللہ کے لیے آپس میں محبت کرنے والوں کو اللہ اپنے عرش کے سائے میں جگہ دے گا
حدیث نمبر: 7502
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب، حدّثنا حامد بن أبي حامد المقرئ. وأخبرنا عبد الرحمن بن حمدان الهَمَذانيّ، حدّثنا إسحاق بن إبراهيم (1) الخرّاز؛ قالا حدّثنا إسحاق بن سليمان الرازي، قال: سمعتُ مالك بن أنس يُحدَّث عن أبي حازم بن دينار، عن أبي إدريس الخَوْلانيّ، قال: دخلتُ مسجد دمشق، فإذا فتى برَّاقُ الثَّنايا وإذا الناس معه إذا اختُلفوا في شيء أسنَدوا إليه، وصدَرُوا عن رأيه، فسألتُ عنه، فقيل: هذا معاذُ بن جَبَل، فلمّا كان من الغد هجَّرتُ فوجدتُه قد سَبَقَنيّ، ووجدتُه يُصلِّي، قال: فانتظرتُه حتى قضى صلاتَه، ثم جئتُه من قِبَل وجهه فسلَّمتُ، وقلتُ: والله إني لأُحبُّك في الله، فقال: اللهِ؟ فقلتُ: اللهِ، فقال: اللهِ؟ فقلت: اللهِ، قال: فأخذ بحُبوة رِدائي وجَذَبني إليه، وقال: أبشِرْ، فإنِّي سمعتُ رسول الله ﷺ يقول:"قال الله ﷿: وَجَبَتْ مَحبَّتي للمتحابَّين فيّ، والمتجالسين فيَّ، والمتباذِلين فيَّ، والمُتزاوِرين فيَّ" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يخرجاه. وقد جمع أبو إدريس بإسناد صحيح بين معاذ وعُبادة بن الصامت في هذا المتن:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7314 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يخرجاه. وقد جمع أبو إدريس بإسناد صحيح بين معاذ وعُبادة بن الصامت في هذا المتن:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7314 - على شرط البخاري ومسلم
ابوادریس خولانی بیان کرتے ہیں: میں جامع مسجد دمشق میں داخل ہوا، میں نے ایک نوجوان کو دیکھا، اس کے دانت انتہائی چمکدار تھے، کچھ لوگ بھی اس کے پاس موجود تھے، لوگوں میں جب کسی بات میں اختلاف ہوتا تو سب اپنا معاملہ اس نوجوان کے سپرد کر دیتے اور اس کی رائے کو تسلیم کرتے۔ میں نے اس کے بارے میں دریافت کیا تو مجھے بتایا گیا کہ یہ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ ہیں، اگلے دن میں تہجد کے وقت اٹھ کر مسجد میں گیا لیکن اس دن بھی وہ مجھ سے پہلے وہاں پر موجود تھے اور نماز پڑھ رہے تھے، آپ فرماتے ہیں: میں ان کا انتظار کرنے لگا: جب انہوں نے نماز مکمل کر لی تو میں ان کے سامنے کی جانب سے ان کے پاس آیا، میں نے ان کو سلام کیا اور کہا: اللہ کی قسم! میں اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے تم سے محبت کرتا ہوں، اس نے کہا: کیا تم اللہ کی قسم کھا کر یہ بات کہتے ہو؟ میں نے کہا: جی ہاں میں اللہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں، انہوں نے پھر پوچھا: کیا تم اللہ کی قسم کھا کر کہتے ہو؟ میں نے کہا: جی ہاں میں اللہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں، انہوں نے میری چادر کا پلو پکڑ کر مجھے اپنے ساتھ چپکا لیا اور فرمایا: تجھے خوشخبری ہو، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: میں ان دو آدمیوں سے محبت کرتا ہوں، جو میری خوشی کے لئے ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں، اور میری خوشی کے لئے ایک دوسرے پر خرچ کرتے ہیں اور میری خوشی کی خاطر ایک دوسرے سے ملنے کے لئے جاتے ہیں۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن انہوں نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب البر والصلة/حدیث: 7502]
30. لِلَّهِ عِبَادٌ يَغْبِطُهُمُ النَّبِيُّونَ وَالصِّدِّيقُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ
اللہ کے کچھ ایسے بندے ہیں جن پر قیامت کے دن انبیاء اور صدیقین بھی رشک کریں گے
حدیث نمبر: 7503
حدّثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، أخبرنا العباس بن الوليد بن مَزْيَد، أخبرني أَبي، حدَّثني الأوزاعيّ، عن ابن حَلْبس، عن أبي إدريس عائذِ الله، قال: مرَّ رجلٌ فقمتُ إليه، فقلتُ: إِنَّ هذا حدَّثني بحديثِ رسول الله ﷺ، فهل سمعته؛ يعني معاذًا؟ قال: ما كان يُحدِّثُك إلا حقًّا، فأخبرتُه، فقال: قد سمعت هذا من رسول الله ﷺ؛ يعنيّ:"المتحابِّين في الله يُظلُّهم الله في ظِلِّ عرشِه يوم لا ظِلَّ إلَّا ظِلُّه"، وما هو أفضلَ منه، قلتُ: أَيْ رَحِمَك الله، وما هو أفضل منه؟ قال: سمعتُ رسول الله ﷺ يَأْثُر عن الله ﷿ قال:"حَقَّتْ محبَّتي للمتحابِّين فيّ، وحَقَّت محبَّتي للمتواصِلين فيَّ، وحَقَّت محبَّتي للمتزاوِرين فيَّ، وحَقَّت محبتي للمتباذِلِين فيّ"، ولا أدري بأيَّتِهما بدأَ، قلتُ: مَن أنت رَحِمَك الله؟ قال: أنا عُبادة بن الصامت (1) . وهذا إسناد صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7315 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7315 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
ابوادریس عائذ اللہ فرماتے ہیں: ایک آدمی میرے قریب سے گزرا، میں اس کے لئے کھڑا ہو گیا، میں نے کہا: اس شخص نے مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث سنائی ہے، کیا تم نے وہ سنی ہے؟ اس نے کہا: وہ جو کچھ بھی تمہیں سناتا تھا سب حق ہوتا تھا، میں نے ان کو بتایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حدیث اس سے سنی ہے (وہ حدیث یہ ہے) ” جو لوگ اللہ کی رضا کی خاطر ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں اللہ تعالیٰ قیامت کے دن جب اس کو اپنے عرش کے سائے میں جگہ عطا فرمائے گا جس دن اس کے سائے کے علاوہ دوسرا کوئی سایہ نہ ہو گا “۔ اور ایک حدیث اس سے بھی زیادہ فضیلت والی سنی ہے، میں نے کہا: اللہ تعالیٰ تجھ پر رحمت فرمائے، اس سے بھی زیادہ فضیلت والی بات کیا ہے؟ اس نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے ” وہ دو آدمی میری محبت کے حقدار ہیں جو میری رضا کے لئے ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں، اور میری محبت کے حقدار ہیں وہ لوگ جو میری رضا کی خاطر ایک دوسرے سے ملتے ہیں، اور میری محبت کے حقدار ہیں وہ لوگ جو میری رضا کے لئے ایک دوسرے سے ملنے جاتے ہیں، اور میری محبت کے حقدار ہیں وہ لوگ جو مجھے خوش کرنے کے لئے ایک دوسرے پر خرچ کرتے ہیں۔ راوی کہتے ہیں: مجھے یہ یاد نہیں ہے کہ ان جملوں میں سے کس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے گفتگو کا آغاز فرمایا تھا۔ میں نے پوچھا: اللہ تعالیٰ تم پر رحمت فرمائے، تم کون ہو؟ انہوں نے کہا: میں عبادہ بن صامت ہوں۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن انہوں نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب البر والصلة/حدیث: 7503]
حدیث نمبر: 7504
حدّثنا أحمد بن كامل القاضي، حدّثنا محمد بن سعد العَوْفيّ، حدّثنا سعيد بن عامر، حدّثنا شُعبة. أخبرَناه أحمد بن جعفر القَطِيعي، حدّثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدَّثني أبي، حدّثنا محمد بن جعفر، حدّثنا شُعبة، عن يعلى بن عطاء، عن الوليد بن عبد الرحمن، عن أبي إدريس الخولانيّ، قال: جلستُ مجلسًا فيه عِشرون من أصحاب محمد ﷺ، فإذا فيهم شابٌّ حسنُ الوجه، حسنُ السِّنّ، أدعج العينين، أغَرُّ الثَّنايا، فإذا اختُلفوا في شيء فقالوا قولًا، انتهَوْا إلى قوله، فإذا هو معاذُ بن جبل، فلمّا كان من الغدِ جئتُ، فإذا هو يُصلِّي عند ساريةٍ، فحَذَفَ صلاته ثم احتَبَى فسكتَ، فقلتُ: إِنِّي لأُحبُّك من جَلال الله، فقال: اللهِ؟ فقلت: الله، فقال: فإنَّ المتحابِّين في الله - قال: أحسبُ أنه قال: في ظِلِّ الله يومَ لا ظِلَّ إِلَّا ظِلُّه، ثم ليس في بقيّته شك - يُوضَع لهم كراسيُّ من نور، يَغبِطُهم بمجلسِهم من الربِّ ﵎ النبيُّون والصِّدِّيقون والشهداءُ. قال: فحدَّثتُ به عُبادةَ بن الصامت فقال: لا أُحدِّثك إِلَّا ما سمعتُ على لسان رسول الله ﷺ، إنه قال:"حَقَّتْ محبّتي للمتحابِّين فيَّ، وحَفَّت محبَّتي للمتباذِلين فيَّ، وحَقَّت محبَّتي للمتصافِينَ فيَّ، وحَقَّت محبَّتي للمتزاوِرين فيَّ، وحَقَّتْ محبَّتي للمتواصلين فيَّ"؛ شكّ شعبةُ في المتواصلين والمتزاورين (1) . و
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. وقد رواه عطاء الخُراساني عن أبي إدريس الخولانيّ:
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. وقد رواه عطاء الخُراساني عن أبي إدريس الخولانيّ:
ابوادریس خولانی فرماتے ہیں: میں ایک مجلس میں بیٹھا تھا، اس مجلس میں بیس کے قریب اصحاب رسول موجود تھے، ان میں ایک نوجوان حسین و جمیل شخص بھی موجود تھا، جس کے دانت بھی خوبصورت اور چمکیلے تھے، آنکھیں بڑی بڑی اور کالی تھیں، سامنے کے دانت چمکدار تھے۔ جب ان لوگوں کا کسی سلسلہ میں اختلاف ہوتا یا کوئی بات کرتے تو اس کی انتہاء اسی نوجوان کی بات پر ہوتی، وہ نوجوان سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ تھے، جب اگلا دن ہوا تو میں وہاں آیا، وہ مجھ سے بھی پہلے وہاں پر ایک ستون کے قریب محو نماز تھے، انہوں نے نماز مختصر کی، اور چادر لپیٹ کر خاموش ہو کر بیٹھ گئے، میں نے ان سے کہا: میں اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے تم سے محبت کرتا ہوں، انہوں نے کہا: کیا تم اللہ کی قسم کھا کر یہ کہتے ہو؟ میں نے کہا: جی ہاں، میں اللہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں۔ انہوں نے کہا: جو لوگ اللہ کی رضا کے لئے ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں (راوی کہتے ہیں میرا خیال ہے کہ انہوں نے اس موقع پر یہ لفظ کہے تھے) وہ لوگ قیامت کے دن اللہ کے (عرش کے) سائے میں ہوں گے جبکہ اس کے (عرش کے) سائے کے علاوہ کوئی سایہ نہ ہو گا۔ (اس کے آگے جو حدیث بیان کی ہے اس میں ان کو کوئی شک نہیں ہے وہ یہ ہے) ان کے لئے نور کی کرسیاں رکھی جائیں گی، اللہ تبارک و تعالیٰ کی بارگاہ میں ان کو جو مقام ملے گا اس پر نبی، صدیقین اور شہداء بھی رشک کریں گے۔ پھر میں نے سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کو حدیث سنائی۔ انہوں نے کہا: میں تمہیں صرف وہ چیز سنا رہا ہوں جو میں نے زبان مصطفی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو لوگ میری رضا کے لئے آپس میں محبت کرتے ہیں، وہ میری محبت کے حقدار ہو گئے، اور جو لوگ میری خوشی کے لئے ایک دوسرے پر مال خرچ کرتے ہیں وہ میری محبت کے حقدار ہو گئے، اور جو لوگ میری رضا کے لئے ایک دوسرے کو تحائف دیتے ہیں، وہ میری محبت کے حقدار ہو گئے، اور جو لوگ مجھے خوش کرنے کے لئے ایک دوسرے سے ملنے جاتے ہیں، وہ میری محبت کے حقدار ہو گئے، اور جو لوگ میری رضا کی خاطر ایک دوسرے سے ملتے ہیں وہ میری محبت کے حقدار ہو گئے، سیدنا شعبہ کو متواصلین اور متزاورین کے الفاظ میں شک ہے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن انہوں نے اس کو نقل نہیں کیا۔ اسی حدیث کو عطاء خراسانی نے بھی ابوادریس خولانی سے روایت کیا ہے (جیسا کہ درج ذیل ہے) [المستدرك على الصحيحين/كتاب البر والصلة/حدیث: 7504]