المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
18. التَّوْبِيخُ لِمَنْ كَانَ لَهُ مَالٌ فَلَمْ يُضَحِّ .
اس شخص کے لیے سخت وعید جس کے پاس مال ہو اور وہ پھر بھی قربانی نہ کرے
حدیث نمبر: 7756
أخبرنا الحسين بن الحسن بن أيوب، حدثنا أبو حاتم الرازي، حدثنا عبد الله بن يزيد المُقرئ، حدثنا عبد الله بن عيَّاش، حدثنا عبد الرحمن الأعرَج، عن أبي هريرة قال: قال النبيُّ ﷺ:"مَن كان له مالٌ فلم يُضحِّ، فلا يَقرَبَنَّ مُصلَّانا". وقال مرةً:"مَن وَجَدَ سَعَةً فلم يَذبَحْ، فلا يَقرَبنَّ مُصلَّانا" (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7565 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7565 - صحيح
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کے پاس مالی وسعت ہو اور وہ قربانی نہ کرے، تو وہ ہرگز ہماری عیدگاہ کے قریب نہ آئے۔“ اور ایک مرتبہ (ان الفاظ میں) فرمایا: ”جس نے گنجائش پائی اور قربانی نہ کی، تو وہ ہرگز ہماری عیدگاہ کے قریب نہ آئے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأضاحي/حدیث: 7756]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأضاحي/حدیث: 7756]
تخریج الحدیث: «صحيح موقوفًا على أبي هريرة، وهذا إسناد ضعيف مرفوعًا من أجل عبد الله بن عياش، وسلف الكلام عليه برقم (3509)» [ترقيم الرساله 7756] [ترقيم الشركة 7664] [ترقيم العلميه 7565]
الحكم على الحديث: صحيح موقوفًا على أبي هريرة
حدیث نمبر: 7757
فحدَّثَناه أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن عبد الله بن عبد الحَكَم، أخبرنا ابن وهب، أخبرني عبد الله بن عيَّاش، أنَّ عبد الرحمن الأعرج حدَّثه عن أبي هريرة قال: مَن وَجَدَ سَعَةً فلم يُضحِّ معنا، فلا يَقرَبنَّ مُصلَّانا (1) . أوقَفَه عبدُ الله بن وهب، إلَّا أنَّ الزيادة من الثقة مقبولةٌ، وأبو عبد الرحمن المُقرئ فوقَ الثقة.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ (انہوں نے فرمایا): ”جس نے گنجائش پائی اور ہمارے ساتھ قربانی نہ کی، وہ ہرگز ہماری عیدگاہ کے قریب نہ آئے۔“
عبداللہ بن وہب نے اسے موقوفاً روایت کیا ہے، مگر ثقہ راوی کی طرف سے بیان کردہ اضافہ مقبول ہوتا ہے، اور ابو عبدالرحمن المقرئ ثقہ سے بھی بڑھ کر (عظیم المرتبت) راوی ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأضاحي/حدیث: 7757]
عبداللہ بن وہب نے اسے موقوفاً روایت کیا ہے، مگر ثقہ راوی کی طرف سے بیان کردہ اضافہ مقبول ہوتا ہے، اور ابو عبدالرحمن المقرئ ثقہ سے بھی بڑھ کر (عظیم المرتبت) راوی ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأضاحي/حدیث: 7757]
تخریج الحدیث: «خبر صحيح، وهذا إسناد ضعيف كسابقه» [ترقيم الرساله 7757] [ترقيم الشركة 7665]
الحكم على الحديث: خبر صحيح
حدیث نمبر: 7758
أخبرني الأستاذ أبو الوليد وأبوبكر بن عبد الله، قالا: حدثنا الحسن بن سفيان، حدثنا محمد بن أبي بكر المُقدَّمي، حدثنا عبد الصمد بن عبد الوارث، حدثني أبي، حدثنا عُتْبة بن عبد الملك السَّهْمي، أنَّ زُرَارة بن كَرِيم بن الحارث بن عمرو حدَّثه، أنَّ الحارث بن عمرو حدَّثه عن النبيِّ ﷺ قال:"مَن شاءَ فَرَّعَ ومَن شاءَ لم يُفرِّعْ، ومَن شاءَ عَتَرَ ومَن شاءَ لم يَعتِرْ، وفي الغنم أُضحيَّتُها" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7567 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7567 - صحيح
حارث بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو چاہے «فَرَّعَ» (اونٹنی کا پہلا بچہ بتوں کے نام پر ذبح) کرے اور جو چاہے نہ کرے، اور جو چاہے «عَتَرَ» (ماہِ رجب کی مخصوص قربانی) کرے اور جو چاہے نہ کرے، اور بکریوں میں ان کی قربانی (ہی مسنون) ہے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأضاحي/حدیث: 7758]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأضاحي/حدیث: 7758]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن، عتبة بن عبد الملك السهمي روى عنه جمع وذكره ابن حبان في "الثقات"، وقد توبع، وزرارة بن كريم قيل: له رؤية، وقد روى عنه جمع أيضًا وذكره ابن حبان في "الثقات"، وقال: من زعم أنَّ له صحبة فقد وهمَ» [ترقيم الرساله 7758] [ترقيم الشركة 7666] [ترقيم العلميه 7567]
الحكم على الحديث: إسناده حسن
19. كُلُوا الْأَضَاحِيَ وَادَّخِرُوا .
قربانی کا گوشت خود بھی کھاؤ اور ذخیرہ بھی کرو
حدیث نمبر: 7759
أخبرنا أبو العباس محمد بن أحمد المحبوبي، حدثنا سعيد بن مسعود، حدثنا يزيد بن هارون، أخبرنا سعيد بن إياس الجُرَيري، عن أبي نَضْرة، عن أبي سعيد الخُدْري قال: قال رسول الله ﷺ:"يا أهلَ المدينة، لا تأكلوا لحمَ الأضاحيِّ فوقَ ثلاثةِ أيام"، فشكوا ذلك إلى النبيِّ ﷺ أن لهم عِيالًا وحَشَمًا وخَدَمًا، فقال:"كُلُوا وأَطْعِمُوا واحبِسُوا" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7568 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7568 - صحيح
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے اہل مدینہ! تم قربانی کا گوشت تین دن سے زیادہ مت کھاؤ“، پھر لوگوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بات کی شکایت کی کہ ان کے اہل وعیال، حشم اور خادم (زیادہ) ہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(اب) تم خود بھی کھاؤ، دوسروں کو بھی کھلاؤ اور ذخیرہ بھی کر لیا کرو۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأضاحي/حدیث: 7759]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأضاحي/حدیث: 7759]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، رجاله ثقات ورواية يزيد بن هارون عن سعيد الجريري وإن كانت بعد اختلاطه، تابعه عليه عن سعيد من رواه قبل اختلاطه، وقد توبع سعيد أيضًا» [ترقيم الرساله 7759] [ترقيم الشركة 7667] [ترقيم العلميه 7568]
الحكم على الحديث: حديث صحيح