🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
8. لَا بَأْسَ بِالْعَرْجَاءِ إِذَا بَلَغَتِ الْمَنْسَكَ .
لنگڑے جانور کی قربانی میں کوئی حرج نہیں اگر وہ خود چل کر ذبح گاہ تک پہنچ جائے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7726
فحدَّثَناه علي بن حَمْشاذَ العدل، حدثنا إسماعيل بن إسحاق القاضي، حدثنا أبو الوليد الطَّيَالسي وأبو عمر الحَوْضي، قالا: حدثنا شُعبة، عن سَلَمة بن كُهيل قال: سمعتُ حُجَيَّة بن عَدِيّ يقول: سمعتُ عليًّا، وسأله رجلٌ عن البقرة، فقال: عن سبعةٍ، قال: وسأله عن القَرْن، قال: لا يضرُّك، قال: وسأله عن العَرَج (2) ، قال: إذا بلغَ المَنسَكَ، أمرنا رسولُ الله ﷺ أن نَستشرِفَ العينَ والأُذن (3) . هذه الأسانيد كلُّها صحيحة، ولم يحتجَّا بحُجيّة بن عديٍّ، وهو من كِبار أصحاب أمير المؤمنين عليٍّ ﵁.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7535 - صحيح
حجیہ بن عدی فرماتے ہیں: سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے کسی نے گائے کی قربانی کے بارے میں پوچھا آپ نے فرمایا: ایک گائے سات آدمیوں کی جانب سے قربان کی جا سکتی ہے۔ پھر اس شخص نے ایسے جانور کے بارے میں پوچھا جس کا سینگ ٹوٹا ہوا ہو؟ آپ نے فرمایا: کوئی حرج نہیں۔ اس نے عرجاء (لنگڑے جانور) کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا: اگر وہ اپنے قدموں پر چل کر قربان گاہ تک جا سکتا ہو تو جائز ہے۔ اور فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا ہے کہ ہم آنکھ اور کان کا اچھی طرح معاینہ کر لیا کریں۔ ٭٭ یہ تمام اسانید صحیح ہیں لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے حجیہ بن عدی کی روایات نقل نہیں کیں۔ حالانکہ وہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے قریبی ساتھیوں میں سے ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأضاحي/حدیث: 7726]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن كسابقيه»

الحكم على الحديث: إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7727
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الزاهد، حدثنا الحسن بن علي بن بحر البَرِّيّ، حدثني أبي، حدثنا عيسى بن يونس، حدثنا ثَوْر بن يزيد، حدثني أبو حُميد الرُّعَيني، حدثني يزيد بن خالد المصري، قال: أتيتُ عُتبة بن عبدٍ السُّلَمي، فقلت: يا أبا الوليد، إنِّي خرجتُ ألتمسُ الضحايا، فلم أجد شيئًا يُعجبني غير ثَرْماءَ، فكرهتُها، فما تقول؟ قال: أفلا جئتَني بها، فقلت: سبحانَ الله، أتجوزُ عنك، ولا تجوزُ عني؟! قال: نعم، إنك تشُكُّ ولا أشكُّ، إنما نهى رسولُ الله ﷺ عن المصفَّرة والمُستأصَلة والبَخْقاءِ والمُشيَّعةِ والكَسْراء والمصفَّرةُ: التي تُستأصَل أُذُنها حتى يبدُوَ سِماخُها، والمستأصَلةُ قرنُها، والبَخْقاءُ: التي تُبخَقُ عينُها، والمشيَّعةُ: التي لا تَتْبعُ الغنَمَ عَجَفًا وضعفًا، والكَسْراءُ: الكَسِير (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7536 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
یزید بن خالد مصری فرماتے ہیں: میں عتبہ بن عبد سلمی کے پاس گیا اور کہا: اے ابوالولید میں قربانی کا جانور لینے نکلا ہوں، لیکن مجھے کوئی جانور پسند نہیں آیا، ایک ثرماء (ٹوٹے ہوئے دانت والا) جانور ملا ہے، وہ مجھے پسند نہیں ہے۔ آپ اس کے بارے میں کیا فرماتے ہیں؟ انہوں نے کہا: کیا تم اس کو میرے پاس نہیں لا سکتے؟ میں نے کہا: سبحان اللہ وہ آپ کے لیے جائز اور میرے لیے ناجائز ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں تم شک کر رہے ہو اور مجھے کوئی شک نہیں ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مصفرہ، مستاصلہ، نحفاء، مشیعہ اور کسراء سے منع فرمایا ہے۔ ٭ مصفرہ اس جانور کہتے ہیں جس کا کان جڑ سے کٹ گیا ہو اور اس کا سوراخ نظر آ رہا ہو۔ ٭ مستاصلہ اس جانور کو کہتے ہیں، جس کا سینگ ٹوٹا ہوا ہے۔ ٭ نحفاء ایسے جانور کو کہتے ہیں جس کی آنکھیں بھینگی ہوں۔ ٭ مشیعہ ایسے جانور کو کہتے ہیں جو لاغری اور لنگڑے پن کی وجہ سے ریوڑ کے ساتھ نہ چل سکتا ہو۔ ٭ اور کسراء اس جانور کو کہتے ہیں، جس کی ٹانگ ٹوٹی ہوئی ہو۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأضاحي/حدیث: 7727]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، أبو حميد الرعيني وشيخه يزيد مجهولان، وانفردت رواية الحاكم بتسمية أبيه خالدًا، فإن صحَّت وإلّا فهي وهمٌ، فإن جميع من ترجم له وروى الحديث من طريقه سماه يزيد ذا مِصر حتى الحاكم في روايته السالفة برقم (1740)، وأما نسبته هنا بالمصري فيغلب على ظننا أنه محرَّف عن المُقرَئي»

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
9. إِنَّ الْجَذَعُ يُوفِي مِمَّا يُوفِي مِنْهُ الثَّنِيُّ .
جذع (چھ ماہ کا دنبہ) وہی کفایت کرتا ہے جو ثنی (ایک سال کا جانور) کرتا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7728
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن إسحاق الصَّغَاني، حدثنا علي بن عاصم، حدثني ابن طاووس، عن أبيه، عن ابن عباس قال: قال رسولُ الله ﷺ:"لا تجوزُ في البُدْن (2) : العَوْراءُ، والعَجْفاءُ، والجَرْباءُ، والمُصطَلَمةُ أَطْباؤُها كلُّها" (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7537 - علي بن عاصم ضعفوه
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: نذر میں عوراء (اندھا جانور)، عجفاء (کمزور جانور)، جرباء (خارش زدہ) اور جس کے سارے تھن کٹے ہوئے ہوں جائز نہیں ہے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأضاحي/حدیث: 7728]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، تفرَّد به مرفوعًا علي بن عاصم»

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7729
أخبرنا الشيخ أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا موسى بن إسحاق الأنصاري، أخبرنا عبد الله بن أبي شَيْبة، حدثنا عبد الله بن إدريس، حدثنا عاصم بن كُلَيب، عن أبيه، قال: كنا نُؤَمّر (1) علينا في المَغازي أصحابَ محمَّد ﷺ، وكُنَّا بفارسَ، فغَلَتْ علينا يومَ النَّحر المَسَانُّ، فكُنَّا نأخذُ المُسِنَّةَ بالجَذَعين، فقام فينا رجلٌ من مُزَينةَ فقال: كُنَّا مع رسول الله ﷺ فأصابَنا مثلُ هذا اليوم، فكُنَّا نأخذُ المُسِنَّةَ بِالجَذَعينِ والثلاثة، فقال رسول الله ﷺ:"إِنَّ الجَذَعَ يُوفِي بما يُوفِي به الثَّنِيُّ" (2) . رواه الثَّوري عن عاصم بن كليب، وسمَّى الصحابيَّ فيه:
عاصم بن کلیب اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں (وہ فرماتے ہیں کہ) جہاد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام کو ہمارا امیر بنایا جاتا تھا۔ ہم ایران میں ہوتے تھے، قربانی کے موقع پر بڑی عمر والے جانور ہمارے لیے دشوار ہو گیا تھا ہمیں دو یا تین جذعوں (کم عمر والے جانور) کے بدلے ایک مسنہ (زیادہ عمر والا جانور) لینا پڑتا تھا، مزینہ کا ایک آدمی کہنے لگا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھے، آج کی طرح اس وقت بھی ہمیں پریشانی ہوئی، تو ہم نے اس وقت بھی دو یا تین جذعوں (کم عمر والے جانور) کے بدلے ایک مسنہ (زیادہ عمر والا جانور) لیا تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جہاں دو دانت کا جانور جائز ہے وہاں ایک جذع (دنبے یا چھترے کا چھ ماہ کا بچہ) بھی جائز ہے۔ ٭٭ اس حدیث کو ثوری نے عاصم بن کلیب سے روایت کیا ہے اور اس میں صحابی کا نام مجاشع بن مسعود سلمی بتایا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأضاحي/حدیث: 7729]
تخریج الحدیث: «إسناده قوي، عاصم بن كليب»

الحكم على الحديث: إسناده قوي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7730
حدَّثَناه محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا السَّري بن خُزيمة، حدثنا أبو حُذيفة، حدثنا سفيان، عن عاصم بن كُليب، عن أبيه، قال: كُنَّا مع مُجاشِع بن مسعود السُّلَمي في غَزاةٍ فعزَّتِ الضَّحايا، فقال: سمعتُ رسول الله ﷺ يقول:"إِنَّ الجَذَعَ يُوفِي ممّا يُوفِي منه الثَّنِيُّ" (1) . رواه شُعبة عن عاصم بن كليب، ولم يسمِّ الصحابيَّ:
عاصم بن کلیب اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں (وہ فرماتے ہیں کہ) ہم سیدنا مجاشع بن مسعود سلمی رضی اللہ عنہ کے ہمراہ ایک جہاد میں تھے، وہاں قربانی کے جانوروں کا ریٹ بہت بڑھ گیا، انہوں نے فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ دو دانت کے جانور کی جگہ جذع (دنبے یا چھترے کا چھ ماہ کا بچہ) بھی کفایت کرے گا۔ ٭٭ اس حدیث کو شعبہ نے عاصم بن کلیب کے واسطے سے روایت کیا ہے لیکن انہوں نے صحابی کا نام ذکر نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأضاحي/حدیث: 7730]
تخریج الحدیث: «إسناده قوي، وسلف الكلام عليه في الحديث السابق»

الحكم على الحديث: إسناده قوي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7731
حدثنا أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثنا أبي، حدثنا محمد بن جعفر، حدثنا شُعبة، عن عاصم بن كُلَيب، عن أبيه، عن رجلٍ من مُزَينة أو جُهَينة، قال: كان أصحابُ رسول الله ﷺ إذا كان قبلَ الأضحى بيومٍ أو يومينِ أعطَوا جَذَعينٍ وأخذوا ثَنيًّا، فقال رسول الله ﷺ:"إنَّ الجَدْعَةَ تُجزئُ مما تُجزئُ منه الثَّنِيَّةُ" (2) .
هذا حديث مختلَف فيه على عاصم بن كُليب، وهو ممن لم يُخرِّجاه الشيخان ﵄، وقد اشترطتُ لنفسي الاحتجاجَ به، والحديثُ عندي صحيحٌ بعد أن أجمَعوا على ذكر الصحابيِّ فيه، ثم سمَّاه إمامُ الصَّنْعة سفيانُ بن سعيد الثَّوري ﵁.
شعبہ، عاصم بن کلیب کے واسطے سے ان کے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں، کہ مزینہ یا جہینہ کا ایک آدمی بیان کرتا ہے کہ قربانی سے ایک یا دو دن پہلے صحابہ کرام دو جذعے (کمر عمر والے جانور) دے کر اس کے بدلے میں دو دانت کا جانور لے لیتے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جذعہ (بھیڑ کا چھ ماہ کا بچہ) وہاں کفایت کر جاتا ہے جہاں دو دانت کا جانور کفایت کرتا ہے۔ ٭٭ اس حدیث میں عاصم بن کلیب پر اختلاف ہے، اس کو شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے نقل نہیں کیا۔ اور میری شرئط کے مطابق یہ حدیث لائق حجت ہے۔ اور یہ حدیث میرے نزدیک صحیح ہے کیونکہ اس حدیث میں جس راوی کا نام مجہول تھا اس کے نام پر راویوں کا اجماع ہو چکا ہے اور فن حدیث کے امام سیدنا سفیان بن سعید ثوری نے اپنی روایت میں ان کا نام بھی ذکر کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأضاحي/حدیث: 7731]
تخریج الحدیث: «إسناده قوي من أجل عاصم بن كليب وأبيه»

الحكم على الحديث: إسناده قوي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7732
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، أخبرنا محمد بن عبد الله بن عبد الحَكَم، أخبرنا ابن وهب، أخبرني عبد الرحمن بن سلمان، عن (1) عُقَيل، عن ابن قُسَيط، عن سعيد بن المسيّب، عن بعض أزواجِ النبيِّ ﷺ قالت: لأَن أُضحِّيَ بجَذَعٍ من الضَّأْن، أحبُّ إليَّ من أن أضحِّيَ بمُسِنَّة من المَعْز (2) . رواه محمد بن إسحاق القرشي عن يزيد بن عبد الله بن قُسيط، وسمَّى الصحابيةَ أمَّ سَلَمة:
سیدنا سعید بن مسیب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک ام المومنین نے کہا: بھیڑ کا چھ ماہ کا بچہ قربان کرنا میں زیادہ پسند کرتی ہوں یہ نسبت ایک سالہ بکری ذبح کرنے کے۔ ٭٭ محمد بن اسحاق قرشی نے یہ حدیث یزید بن عبداللہ بن قسط کے حوالے سے بیان کی ہے اور صحابیہ کا نام ام سلمہ بیان کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأضاحي/حدیث: 7732]
تخریج الحدیث: «خبر صحيح، عبد الرحمن بن سلمان»

الحكم على الحديث: خبر صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
10. دَمُ عَفْرَاءَ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ دَمِ سَوْدَاوَيْنِ .
سرخی مائل سفید جانور کا خون (قربانی) مجھے دو کالے جانوروں کے خون سے زیادہ پسند ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7733
حَدَّثَناه أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا أبو المثنّى، حدثنا مُسدَّد، حدثنا عبد الأعلى، حدثنا محمد بن إسحاق، حدثنا يزيد بن عبد الله بن قُسَيط، عن سعيد ابن المسيّب، عن أمِّ سَلَمة زوجِ النبيِّ ﷺ، قالت: لأَن أُضحِّيَ بجَذَع من الضَّأْن، أحبُّ إليَّ من أن أُضحِّيَ بمُسِنَّة من المَعْز (3) . وقد أُسنِد هذا الحديثُ عن أبي هريرة:
سیدنا سعید بن مسیب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ، ام المومنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: بھیڑ کا چھ ماہ کا بچہ قربان کرنا مجھے زیادہ پسند ہے بہ نسبت بکری ذبح کا ایک سالہ بچہ قربان کرنے کے۔ ٭٭ اس حدیث کی اسناد سیدنا ابوہریرہ تک بھی پہنچتی ہے۔ (جیسا کہ درج ذیل ہے) [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأضاحي/حدیث: 7733]
تخریج الحدیث: «خبر صحيح كسابقه، وهذا إسناد حسن من أجل محمد بن إسحاق: وهو ابن يسار»

الحكم على الحديث: خبر صحيح كسابقه
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7734
حدَّثَناه الشيخ أبو بكر، أخبرنا عبيد بن شَريك البزَّار، حدثنا أبو الجُمَاهر محمد بن عثمان التَّنُوخي، حدثنا عبد العزيز بن محمد الدَّراوَرْدي، عن أبي ثِفَال، عن رَبَاح بن عبد الرحمن (1) ، عن أبي هريرة، أنَّ رسول الله ﷺ قال:"دَمُ عَفْراء أحبُّ إليَّ من دمِ سَوداوينِ" (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7543 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ایک عفراء (سفید رنگ کے جانور) کا خون مجھے کالے رنگ کے دو جانوروں سے زیادہ پسند ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأضاحي/حدیث: 7734]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، أبو ثِفال»

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7735
حدثنا أبو بكر، عن عُبيد (3) ، حدثنا علي بن زيد الفرائضي، حدثنا إسحاق بن إبراهيم الحُنَيني عن داود بن قيس، عن أبي ثِفَال، عن أبي هريرة قال: قال رسول الله ﷺ:"الجَذَعُ من الضَّأْن خيرٌ من السيِّد من المَعْز" (4) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7544 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بھیڑ کا چھ ماہ کا بچہ بکری کے بڑے بچے سے بہتر ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأضاحي/حدیث: 7735]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، إسحاق بن إبراهيم الحنيني ضعيف، وأبو ثفال سبق الكلام عليه في الحديث السابق، كما انفرد داود بن قيس بروايته بهذا اللفظ»

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں