🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
13. الدُّعَاءُ عِنْدَ الذَّبْحِ .
ذبح کے وقت کی دعا کا تذکرہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7746
وحدَّثَناه محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا السَّرِي بن خُزَيمة، حدثنا عبد الله بن يزيد المُقرئ، حدثنا سعيد بن أبي أيوب، حدثني أبو عَقيل زُهْرة بن مَعبَد، عن جدِّه عبد عبد الله بن هشام -وكان قد أدرك النبيَّ ﷺ ذهبَتْ به أُمُّه زينبُ بنت حُميد إلى رسولِ الله ﷺ وهو صغيرٌ، فمسح رأسَه ودعا له - قال: كان رسول الله ﷺ يُضحِّي بالشاةِ الواحدة عن جميع أهلِه (2) . هذه الأحاديثُ كلُّها صحيحة الأسانيد في الرُّخصة في الأُضحيّة بالشاة الواحدة عن الجماعة التي لا يُحصى عددُهم، خلافَ مَن يتوهَّم أنها لا تُجزِئُ إِلَّا عن الواحد. وقد رُويت أخبارٌ في الأضحيّة عن الأموات: فمنها:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7555 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن ہشام رضی اللہ عنہ صحابی رسول ہیں، ان کی والدہ زینب بنت حمید ان کو بچپن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں لائی تھیں، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے سر پر ہاتھ بھی پھیرا تھا اور ان کے لیے دعا بھی فرمائی تھی۔ آپ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پورے گھر والوں کی طرف سے ایک ہی بکری قربانی کیا کرتے تھے۔ ٭٭ ان تمام احادیث کی اسنادیں صحیح ہیں، ان سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ متعدد لوگوں کی جانب سے ایک بکری قربان کی جا سکتی ہے۔ اس حدیث کے رایوں کی تعداد بہت زیادہ ہے، اور جو لوگ اس موقف کے قائل ہیں کہ ایک بکری صرف ایک شخص ہی کی جانب سے ہو سکتی ہے ان کی تعداد بہت کم ہے۔ اور فوت شدگان کی طرف سے قربانی کرنے کے حوالے سے بھی احادیث موجود ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأضاحي/حدیث: 7746]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح»

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7747
ما حدَّثَناه الشيخ أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا بشر بن موسى الأسدي وعلي بن عبد العزيز البَغَوي، قالا: حدثنا محمد بن سعيد بن الأصبهاني، حدثنا شَريك، عن أبي الحَسْناء عن الحَكَم، عن حَنَشٍ، قال: ضحَّى عليٌّ بكبشَينِ كبشٍ عن النبيِّ ﷺ وكبشٍ عن نفسِه، وقال: أمَرَني رسولُ الله ﷺ أن أُضحِّيَ عنه، فأنا أُضحِّي عنه أبدًا (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وأبو الحَسناء هذا: هو الحسنُ بن الحَكَم النَّخَعَي (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7556 - صحيح
سیدنا حنش رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے دو مینڈھے قربان کیے، ایک مینڈھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب سے اور ایک مینڈھا اپنی جانب سے۔ اور فرمایا: مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا ہے کہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے قربانی کیا کروں تو میں ہمیشہ (یعنی زندگی بھر) ایسا کرتا رہوں گا۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ یہ ابوالحسناء، حسن بن حکم نخعی ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأضاحي/حدیث: 7747]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف بمرّة، شريك»

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف بمرّة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7748
أخبرنا الحسن بن يعقوب العَدْل، حدثنا يحيى بن أبي طالب، حدثنا زيد ابن الحُبَاب، عن معاوية بن صالح، حدثني أبو الزاهريّة، عن جُبَير بن نُفير، عن ثوبانَ مولي رسول الله ﷺ قال: ذَبَحَ رسولُ الله ﷺ أُضحيَّتَه في السَّفَر، ثم قال:"يا ثَوبَانُ، أصلح لحمَها"، فلم أزَلْ أُطْعِمُه منها حتى قَدِمْنا المدينةَ (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7557 - صحيح
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آزاد کردہ غلام سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سفر میں بھی قربانی کا جانور ذبح کیا۔ پھر فرمایا: اے ثوبان۔ اس کا گوشت سنبھال لو۔ ہم مدینہ منورہ واپس آنے تک اس کا گوشت کھاتے رہے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأضاحي/حدیث: 7748]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وهذا إسناد قوي من أجل يحيى بن أبي طالب، وقد توبع»

الحكم على الحديث: حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
14. الْبَقَرَةُ عَنْ سَبْعَةٍ، الْبَدَنَةُ عَنْ عَشَرَةٍ .
گائے سات افراد کی طرف سے اور اونٹ دس افراد کی طرف سے (کافی) ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7749
أخبرني علي بن عيسى الحِيري، حدثنا إبراهيم بن أبي طالب، حدثنا محمد بن المثنّى ومحمد بن بشّار، قالا: حدثنا عبد الرحمن، عن سفيان، عن أبي الزُّبير، عن جابر قال: نَحَرْنا يومَ الحُدَيبية سبعين بَدَنةً، البَدَنةُ عن عَشَرةٍ، وقال رسول الله ﷺ:"ليَشتَركِ النَّفْرُ في الهَدْي" (2) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه. وقد رُوي: البَدَنةُ عن عشرة، عن عبد الله بن عباس أيضًا:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7558 - على شرط مسلم
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: حدیبیہ کے موقع پر ہم نے ستر اونٹ قربان کیے، ایک اونٹ دس آدمیوں کی طرف سے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قربانی کے لیے گائے میں شراکت ہو سکتی ہے۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین نے اس کو نقل نہیں کیا۔ ایک اونٹ دس آدمیوں کی طرف سے قربان کرنے کے متعلق ایک حدیث عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے بھی مروی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأضاحي/حدیث: 7749]
تخریج الحدیث: «صحيح بلفظ: "البدنة عن سبعة"، وهذا إسناد رجاله ثقات لكن قوله: "البدنة عن عشرة" شاذٌّ مخالف لما رواه أصحاب سفيان الثوري عنه، ولما رواه أصحاب أبي الزبير»

الحكم على الحديث: صحيح بلفظ: "البدنة عن سبعة"
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
15. أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ فِي الْعِيدَيْنِ أَنْ نَلْبَسَ أَجْوَدَ مَا نَجِدُ .
رسول اللہ ﷺ نے ہمیں حکم دیا کہ عیدین میں جو بہترین میسر ہو وہ پہنیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7750
أخبرَناه أبو العباس السَّيَّاري، حدثنا إبراهيم بن هلال، حدثنا علي بن الحسن بن شَقِيق، حدثنا الحسين بن واقد، عن عِكْرمة، عن ابن عباس قال: كُنَّا مع رسول الله ﷺ في سَفَر، فحضر النَّحْرُ، فاشتركنا في البقرة عن سبعةٍ، وفي الجَزُور عن عَشَرة (1) . و
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7559 - على شرط البخاري
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ سفر میں تھے، قربانی کا دن آ گیا، ہم نے ایک گائے سات آدمیوں کی طرف سے ذبح کی۔ اور ایک اونٹ دس آدمیوں کی طرف سے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأضاحي/حدیث: 7750]
تخریج الحدیث: «رجاله ثقات غير إبراهيم بن هلال»

الحكم على الحديث: رجاله ثقات
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
16. أَفْضَلُ الضَّحَايَا أَغْلَاهَا وَأَسْمَنُهَا .
افضل قربانی وہ ہے جو قیمت میں مہنگی اور جسم میں زیادہ فربہ (موٹی تازی) ہو
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7751
أخبرنا أبو بكر محمد بن عبد الله بن عتَّاب العَبْدي ببغداد، حدثنا أبو الأحوَص محمد بن الهيثم القاضي، حدثنا أبو صالح عبد الله بن صالح، حدثني الليث بن سعد، عن إسحاق بن بَزُرْجَ (1) ، عن زيد بن الحسن بن علي، عن أبيه قال: أمَرَنا رسولُ الله ﷺ في العيدين أن نَلبَسَ أجودَ ما نَجِد، وأن نتطيَّبَ بأجودِ ما نجدُ، وأن نُضحِّيَ بأسمن ما نجدُ، البقرة عن سبعة، والجَزُور عن عشرة، وأن تُظهِرَ التكبيرَ وعلينا السَّكينةُ والوَقَارُ (2) . لولا جهالةُ إسحاق بن بَزُرْجَ، لحكمتُ للحديث بالصِّحة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7560 - لولا جهالة إسحاق لحكمت بصحته
سیدنا زید بن حسن بن علی اپنے والد سے روایت کرتے ہیں: وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ہم عید کے دن نئے کپڑے پہنیں، اور بہترین خوشبو لگائیں، اور موٹا تازہ جانور ذبح کریں، گائے سات آدمیوں کی طرف سے اور اونٹ دس آدمیوں کی طرف سے۔ بلند آواز سے تکبیر کہیں، اور سکون اور وقار کے ساتھ چلیں۔ ٭٭ اگر اس حدیث میں اسحاق بن بزرج کی جہالت نہ ہوتی تو میں اس حدیث کو صحیح قرار دے دیتا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأضاحي/حدیث: 7751]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، أبو صالح عبد الله بن صالح»

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7752
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا أبو عُتبة أحمد بن الفَرَج، حدثنا بقيّة بن الوليد، حدثنا عثمان بن زُفَر الجُهَني، حدثني أبو الأسود السُّلمي، عن أبيه، عن جدِّه قال: كنتُ سابعَ سبعةٍ [مع] (3) رسولِ الله ﷺ في سفرةٍ، فأدركَنا الأضحى، فأمرَنا رسولُ الله ﷺ فَجَمَعَ كل رجل منّا درهمًا، فاشترينا أُضحيَّةً بسبعةِ دراهمَ، وقلنا: يا رسولَ الله، لقد غَلَّيْنا بها، فقال:"إنَّ أفضلَ الضَّحايا أغلاها وأسمنُها". قال: ثم أمرَنا رسولُ الله ﷺ فأخذ رجلٌ برجلٌ، ورجْلٍ برجلٌ بيدٍ، ورجلٌ بيدٍ، ورجلٌ بقَرْنٍ، ورجلٌ [بقَرْن] (4) ، وذَبَحَ السابعُ، وكبَّروا عليها جميعًا (5) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7561 - عثمان بن زفر ثقة
ابوالاسود سلمی اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ ایک سفر میں، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھا، ہم کل سات لوگ تھے، سفر میں ہی قربانی کا دن آ گیا، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر ہم نے ایک ایک درہم جمع کر کے سات درہموں کی ایک گائے خریدی۔ ہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ گائے ہمیں بہت مہنگی ملی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سب سے بہترین قربانی وہی ہے جو مہنگی ہو اور فربہ ہو۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر ایک نے اس گائے کا پچھلا پاؤں پکڑ لیا، ایک نے دوسرا پچھلا پاؤں پکڑ لیا، ایک نے اگلا ایک پاؤں پکڑا، ایک نے اگلا دوسرا پاؤں پکڑا، ایک نے ایک سینگ پکڑا، ایک نے دوسرا سینگ پکڑا اور ساتویں نے اس کو ذبح کیا، اور تکبیر تمام نے مل کر پڑھی۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأضاحي/حدیث: 7752]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف جدًا، مسلسل بالضعفاء والمجاهيل، أحمد بن الفرج وبقية بن الوليد فيهما ضعف، وعثمان بن زفر الجهني روى عنه اثنان وذكره ابن حبان في "الثقات"، وأبو الأسود السلمي، ويقال له أيضًا: أبو الأشد، وأبو الأسد، انفرد بالرواية عنه عثمان بن زفر، ولم يؤثر توثيقه عن أحد، فهو مجهول، وأبوه لم نقف له على ترجمة، واختُلف في اسم جده، فقيل: هو أبو المعلَّى، وقيل: هو عمرو بن عَبَسة»

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف جدًا
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
17. لِتَحِدَّ الشَّفْرَةَ قَبْلَ إِضْجَاعِ الْأُضْحِيَّةِ .
قربانی کے جانور کو لٹانے سے پہلے چھری کو اچھی طرح تیز کر لیا جائے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7753
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب، حدثنا يحيى بن محمد بن يحيى، حدثنا مُسدَّد، حدثنا إسماعيل ابن عُليَّة، حدثنا زياد بن مِخراق، عن معاوية بن قُرَّة، عن أبيه: أنَّ رجلًا قال: يا رسول الله، إنِّي لأرحمُ الشاةَ أن أذبحها، فقال رسولُ الله ﷺ:"إنْ رَحِمتَها رَحِمَك الله" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7562 - صحيح
سیدنا معاویہ بن قرہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں (وہ فرماتے ہیں) ایک آدمی نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے بکری ذبح کرتے ہوئے اس پر بہت رحم آتا ہے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تو اس پر رحم کرے گا تو اللہ تعالیٰ تجھ پر رحم کرے گا۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأضاحي/حدیث: 7753]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح»

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7754
حدثنا محمد بن صالح بن هانئ حدثنا يحيى بن محمد بن يحيى بن يحيى الشهيد ﵀، حدثنا عبد الرحمن بن المبارك العايشي، حدثنا حماد بن زيد، عن عاصم، عن عِكْرمة، عن عبد الله بن عباس: أنَّ رجلًا أَضجَعَ شَاةً يريدُ أن يذبحها وهو يَحُدُّ شَفْرتَه، فقال النبيُّ ﷺ:"أتريدُ أن تُمِيتَها مَوْتاتٍ، هلَّا حَدَدْتَ شَفْرتَك قبل أن تُضجِعَها؟!" (2) .
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7563 - على شرط البخاري
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ایک آدمی نے ذبح کرنے کے لیے بکری کو لٹایا ہوا تھا اور اپنی چھری تیز کر رہا تھا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم اس کو کئی بار مارنا چاہتے ہو؟ تم نے اس کو لٹانے سے پہلے اپنی چھری کو تیز کیوں نہیں کر لیا؟ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأضاحي/حدیث: 7754]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح»

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
18. التَّوْبِيخُ لِمَنْ كَانَ لَهُ مَالٌ فَلَمْ يُضَحِّ .
اس شخص کے لیے سخت وعید جس کے پاس مال ہو اور وہ پھر بھی قربانی نہ کرے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7755
أخبرنا أبو عبد الله الصَّفّار، حدثنا أحمد بن مِهران، حدثنا عُبيد الله (1) ابن موسى، عن إسرائيل، عن سماك، عن عِكْرمة، عن ابن عباس: ﴿وَإِنَّ الشَّيَاطِينَ لَيُوحُونَ إِلَى أَوْلِيَائِهِمْ﴾ [الأنعام: 121] ، قال يقولون: ما ذُبِحَ فذُكِرَ اسمُ الله عليه فلا تأكلوه، وما لم يُذكَرِ اسمُ الله عليه فكُلوه، فقال الله ﷿: ﴿وَلَا تَأْكُلُوا مِمَّا لَمْ يُذْكَرِ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ﴾ [الأنعام: 121] (2) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7564 - على شرط مسلم
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے سورۃ الانعام کی آیت نمبر 121 وَإِنَّ الشَّيَاطِينَ لَيُوحُونَ إِلَى أَوْلِيَائِهِمْ اور بے شک شیطان اپنے دوستوں کے دلوں میں ڈالتے ہیں کہ تم سے جھگڑیں اور اگر تم ان کا کہنا مانو اس وقت تم مشرک ہو کے بارے میں فرمایا: وہ لوگ کہتے تھے کہ جس جانور کو ذبح کرتے ہوئے اس پر اللہ تعالیٰ کا نام لیا جائے اس کو مت کھایا کرو، اور جس پر اللہ کا نام نہ لیا گیا ہو، اس کو کھا لیا کرو۔ تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ وَلَا تَأْكُلُوا مِمَّا لَمْ يُذْكَرِ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ (الأنعام: 121) اور اسے نہ کھاؤ جس پر اللہ کا نام نہ لیا گیا اور وہ بے شک حکم عدولی ہے ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأضاحي/حدیث: 7755]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، سماك»

الحكم على الحديث: حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں