المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
16. ارْحَمْ مَنْ فِي الْأَرْضِ يَرْحَمْكَ مَنْ فِي السَّمَاءِ .
تم زمین والوں پر رحم کرو، آسمان والا تم پر رحم فرمائے گا
حدیث نمبر: 7822
أخبرني أبو بكر محمد بن عبد الله الشَّافعي، حَدَّثَنَا محمد بن مَسْلَمة الواسطي ومحمد بن رِبْح السَّمَّاك، قالا: حَدَّثَنَا يزيد بن هارون، أخبرنا سعيد بن إياس الجُرَيري، عن أبي عبد الله الجَسْري، حَدَّثَنَا جُندُب قال: جاء أعرابيٌّ فأناخ راحلتَه ثم عَقَلَها، فصلَّى خلفَ رسول الله ﷺ، فلما سلَّم رسولُ الله ﷺ أتى راحلتَه فأطلقَ عِقالَها ثم رَكِبَها (2) ، ثم نادى: اللهمَّ ارحَمْني ومحمدًا ولا تُشرِكْ في رحمتنا أحدًا، فقال النَّبِيُّ ﷺ:"أتقولونَ: هو أضلُّ أم بَعِيرُه؟ ألم تَسمَعوا ما قال؟" قالوا: بلى، قال:"لقد حَظَرَ رحمةَ الله واسعةً، إِنَّ الله خَلَقَ مئةَ رحمةٍ، فأنزل رحمةً تَعاطَفُ بها الخلائقُ جِنُّها وإنسُها وبهائمُها، وعنده تسعٌ وتسعون، تقولون: هو أضلُّ أم بعيرُه؟" (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7630 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7630 - صحيح
سیدنا جندب فرماتے ہیں: ایک دیہاتی شخص آیا، اس نے اپنی سواری بٹھائی، اس کو باندھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھی، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا تو وہ اپنی سواری کے پاس آیا، اس کی رسی کھولی اور اس پر سوار ہو گیا، پھر ندا دی: اے اللہ! تو مجھ پر اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر رحمت فرما اور ہماری رحمت میں کسی دوسرے کو شامل نہ فرما۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی بات سن کر صحابہ کرام سے فرمایا: تمہارا کیا خیال ہے؟ یہ شخص زیادہ گمراہ ہے یا اس کا اونٹ؟ تم نے سنا نہیں ہے، اس نے دعا مانگتے ہوئے کیا کہا؟ صحابہ کرام نے عرض کی: جی ہاں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم نے سنا ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس نے اللہ تعالیٰ کی وسیع رحمت کو روکنا چاہا ہے۔ بے شک اللہ تعالیٰ نے ایک سو رحمتیں پیدا فرمائی ہیں، ان میں سے ایک رحمت دنیا میں اتاری ہے جس کے باعث انسان، جنات، جانور اور تمام مخلوقات ایک دوسرے پر رحمت کرتے ہیں، جبکہ 99 رحمتیں اللہ تعالیٰ کے پاس ہیں۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التوبة والإنابة/حدیث: 7822]
حدیث نمبر: 7823
حَدَّثَنَا أبو عبد الله محمد بن يعقوب بن يوسف الشَّيباني، حَدَّثَنَا علي بن الحسن الهِلالي، حَدَّثَنَا عبد الملك بن إبراهيم، حَدَّثَنَا شُعبة، عن أبي إسحاق، عن أبي عُبيدة، عن عبد الله قال: قال رسول الله ﷺ:"ارحَمْ مَن فِي الأَرْضِ يَرحَمْكَ مَن في السَّماء" (4)
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7631 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7631 - صحيح
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم اہل زمین پر رحم کرو، تم پر آسمان والا رحم کرے گا۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التوبة والإنابة/حدیث: 7823]
17. مَا خَلَقَ اللَّهُ مِنْ شَيْءٍ إِلَّا وَقَدْ خَلَقَ لَهُ مَا يَغْلِبُهُ .
اللہ نے کوئی ایسی چیز پیدا نہیں کی جس کے لیے اسے مغلوب کرنے والی چیز پیدا نہ کی ہو
حدیث نمبر: 7824
أخبرني إبراهيم بن عِصمة بن إبراهيم العَدْل، حَدَّثَنَا أبي، حَدَّثَنَا يحيى بن يحيى، أخبرنا جَرير، عن منصور، عن أبي عثمان، عن أبي هريرة قال: قال خَليلي وصَفِيِّي صاحبُ هذه الحُجْرة ﷺ:"ما نُزِعَتِ الرَّحمةُ إِلَّا مِن شَقِيٍّ" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وأبو عثمان هذا: هو مولى المغيرة، وليس بالنَّهْديِّ، ولو كان النَّهديَّ لحكمتُ بصحَّته على شرط الشيخين.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7632 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وأبو عثمان هذا: هو مولى المغيرة، وليس بالنَّهْديِّ، ولو كان النَّهديَّ لحكمتُ بصحَّته على شرط الشيخين.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7632 - صحيح
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میرے دوست، اس حجرے میں رہنے والے نے فرمایا ہے: رحمت صرف بدبخت شخص سے الگ کی جاتی ہے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ اور اس کی سند میں جو ابوعثمان ہیں، یہ مغیرہ کے آزاد کردہ غلام ہیں، یہ نہدی نہیں ہیں۔ اور یہ نہدی ہوتے تو میں فیصلہ کر دیتا کہ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التوبة والإنابة/حدیث: 7824]
حدیث نمبر: 7825
أخبرني الحسين بن علي الدَّارمي، حَدَّثَنَا محمد بن إسحاق، حَدَّثَنَا عمر بن حفص الشَّيْباني، حَدَّثَنَا أبي، حَدَّثَنَا عبد الرحيم بن كَرْدَم بن أَرطَبَانَ ابْنُ عَمِّ ابن عَون، عن زيد بن أسلم، عن عطاء بن يَسَار، عن أبي سعيد الخُدْري قال: قال رسول الله ﷺ:"ما خلقَ اللهُ من شيء إلَّا وقد خَلَقَ له ما يَغلِبُه، وخلق رحمتَه تَغلِبُ غضبَه" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه هكذا. أخبرنا الحاكم أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن محمد بن حَمْدَوَيهِ الحافظ:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7633 - هذا منكر
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه هكذا. أخبرنا الحاكم أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن محمد بن حَمْدَوَيهِ الحافظ:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7633 - هذا منكر
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ نے جو چیز بھی پیدا فرمائی ہے اس کے لیے کوئی دوسری چیز بھی پیدا فرمائی ہے جو اس پہلی پر غالب آ جائے۔ اور اللہ تعالیٰ نے رحمت پیدا فرمائی، یہ اللہ تعالیٰ کے غضب پر غالب آ جاتی ہے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التوبة والإنابة/حدیث: 7825]
حدیث نمبر: 7826
أخبرنا أبو علي الحافظ، أخبرنا علي بن العباس البَجَلي، حَدَّثَنَا يحيى بن حَكيم، حَدَّثَنَا خالد بن الحارث، حَدَّثَنَا شُعبة، أخبرني عَدِيُّ بن ثابت وعطاء بن السائب، عن سعيد بن جُبير، عن ابن عباس - قال شعبةُ: ذكرَ أحدُهما عن رسول الله ﷺ - قال:"إنَّ جبريلَ ﵇ جعلَ يَدُسُّ في فَمِ فرعونَ الطِّينَ خَشْيةَ أن يقولَ: لا إله إلَّا الله، فيرَحِمَهُ اللهُ ﷿" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وله شاهدٌ من حديث علي بن زيد:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7634 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وله شاهدٌ من حديث علي بن زيد:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7634 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: سیدنا جبریل امین علیہ السلام فرعون کے منہ میں مٹی ٹھونس رہے تھے کہ کہیں یہ لا الہ الا اللہ پڑھ کر اللہ تعالیٰ کی رحمت کا مستحق نہ ہو جائے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ سیدنا علی بن زید سے مروی درج ذیل حدیث مذکورہ حدیث کی شاہد ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التوبة والإنابة/حدیث: 7826]
18. مَنْ نُوقِشَ الْحِسَابَ هَلَكَ .
جس کے حساب میں جرح (بحث) کی گئی وہ ہلاک ہو گیا
حدیث نمبر: 7827
أخبرَناه الحسين بن الحسن بن أيوب، حَدَّثَنَا علي بن عبد العزيز، حَدَّثَنَا حجَّاج بن مِنْهال، حَدَّثَنَا حمَّاد بن سَلَمة، عن علي بن زيد، عن يوسف بن مِهْران، عن ابن عباس: أنَّ جبريلَ ﵇ قال للنبيِّ ﷺ: لو رأيتَني وأنا آخُذُ من حالِ البحرِ فأدُسُّه في فِي فِرعونَ (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7635 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7635 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا علی بن زید، یوسف بن مہران کے واسطے سے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا یہ ارشاد نقل کرتے ہیں کہ سیدنا جبریل امین علیہ السلام نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: کاش کہ آپ اس وقت مجھے دیکھتے جب فرعون دریا میں عرق ہو رہا تھا، میں اس کے منہ اس وقت مٹی ٹھونس رہا تھا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التوبة والإنابة/حدیث: 7827]
19. حِكَايَةُ عَابِدٍ عَبَدَ اللَّهَ خَمْسَمِائَةِ سَنَةٍ فَتُوُفِّيَ سَاجِدًا .
ایک عابد کا قصہ جس نے پانچ سو سال اللہ کی عبادت کی اور سجدے کی حالت میں فوت ہوا
حدیث نمبر: 7828
أخبرنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حَدَّثَنَا أبو زُرْعة الدمشقي، حَدَّثَنَا أحمد بن خالد الوَهْبي، حَدَّثَنَا محمد بن إسحاق، حدثني عبد الواحد بن حمزة بن عبد الله بن الزُّبير، عن عبَّاد بن عبد الله بن الزُّبير، عن عائشة قالت: سمعتُ رسول الله ﷺ يقول في بعض صلاتِه:"اللهمَّ حاسِبْني حِسابًا يسيرًا"، فلما انصرف قلتُ: يا رسولَ الله، ما الحسابُ اليسير؟ قال:"يُنظَرُ في كتابِه ويُتجاوَزُ له عنه، إنه من نُوقِشَ الحسابَ يا عائشةُ هَلَكَ، وكلُّ ما يُصيبُ المؤمنَ كَفَّرَ اللهُ عنه حتَّى الشوكةُ تَشُوكُه" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7636 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7636 - على شرط مسلم
ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ نے کسی نماز کے وقت یہ دعا مانگی ” اے اللہ! میرا حساب آسانی سے لینا۔ جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم فارغ ہوئے تو میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، آسان حساب کس کو کہتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نامہ اعمال کو دیکھا تو جائے لیکن اس کے مندرجات پر بحث نہ ہو، کیونکہ اے عائشہ اس دن جس کے اعمال کی تفتیش شروع ہو گئی وہ مارا جائے گا۔ اور مومن کو جو بھی تکلیف آتی ہے اللہ تعالیٰ اس کے بدلے اس کے گناہ مٹاتا ہے، حتی کہ جو مومن کو جو کانٹا بھی چبھتا ہے اس کے بدلے بھی گناہ معاف کیے جاتے ہیں۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن انہوں نے اس اسناد کے ہمراہ اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التوبة والإنابة/حدیث: 7828]
20. مَنْ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ دَخَلَ الْجَنَّةَ وَوَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ .
جس نے "لا الہ الا اللہ" کہا وہ جنت میں داخل ہو گیا اور اس کے لیے جنت واجب ہو گئی
حدیث نمبر: 7829
أخبرني أحمد بن محمد بن سَلَمة العَنَزي، حَدَّثَنَا عثمان بن سعيد الدَّارِمي، حَدَّثَنَا عبد الله بن صالح المصري، حَدَّثَنَا سليمان بن هَرِمٍ القرشي. وحدثنا علي بن حَمْشاذ العَدْل، حَدَّثَنَا عُبيد بن شَريك، حَدَّثَنَا يحيى بن بُكير، حَدَّثَنَا الليث بن سعد، عن سليمان بن هَرِم، عن محمد بن المُنكدِر، عن جابر بن عبد الله قال: خرجَ علينا النَّبِيُّ ﷺ فقال:"خَرَجَ من عندي خَليلي جبريلُ آنفًا، فقال: يا محمدُ، والذي بعثَك بالحقِّ، إِنَّ الله عبدًا من عَبيدِه عَبَدَ الله تعالى خمسَ مئةِ سنةٍ على رأس جبلٍ في البَحْر، عَرْضُه وطولُه ثلاثون ذِراعًا في ثلاثين ذِراعًا، والبحرُ محيطٌ به أربعةُ آلافِ فَرْسخٍ من كلِّ ناحية، وأخرجَ الله تعالى له عَينًا عَذْبةً بِعَرْضِ الإصبَع تَبِضُّ بماءٍ عَذْب، فتستنقِعُ في أسفل الجبل، وشجرةَ (2) رمَّانٍ تُخرِج له كلَّ ليلة رُمَّانةً فتُغذِّيه يومَه، فإذا أمسى نزلَ فأصاب من الوَضُوء، وأخذ تلك الرُّمانةَ فأكلَها، ثم قامَ لصلاتِه، فسأل ربَّه ﷿ عندَ وقتِ الأجَلِ أن يَقبِضَه ساجدًا، وأن لا يجعلَ للأرض ولا لشيء يُفسِده عليه سبيلًا حتَّى يَبعثَه وهو ساجد. قال: ففعل، فنحن نمرُّ عليه إذا هَبَطْنا وإذا عَرَجْنا، فنجدُ له في العِلْم أَن يُبعَثَ يومَ القيامة فيُوقفَ بين يدي الله ﷿، فيقول له الربُّ: أَدخِلوا عبدي الجنَّةِ برحمتي، فيقول: ربِّ، بل بعَمَلي، فيقول الربُّ: أَدخِلوا عبدي الجنَّةَ برحمتي، فيقول: ربِّ، بل بعَمَلي، فيقول الربُّ: أَدخِلوا عبدي الجنَّةَ برحمتي، فيقول: ربِّ، بل بعَمَلي، فيقول الله ﷿ للملائكة: قايِسُوا عبدي بنِعمتي عليه وبعملِه، فتُوجَدُ نعمةُ البَصَر قد أحاطَتْ بعبادة خمسِ مئة سنةٍ، وبقيَت نعمةُ الجسد فضلًا عليه، فيقولُ: أَدخِلوا عبدي النَّار، قال: فيُجَرُّ (1) إلى النار، فينادي: ربِّ برحمتِكَ أدخِلني الجنَّةَ، فيقول: رُدُّوه، فيقفُ بين يديه، فيقول: يا عبدي، مَن خلقَك ولم تكُ شيئًا؟ فيقول: أنتَ يا ربِّ، فيقول: كان ذلك من قِبَلِك أو برحمتي؟ فيقول: بل برحمتِكَ، فيقول: مَن قَوَّاك لعبادة خمسِ مئة عام؟ فيقول: أنت يا ربِّ، فيقول: مَن أنزلَك في جبل وَسَطَ اللُّجَّة، وأخرجَ لك الماءَ العَذْبَ من الماء المالح، وأخرجَ لك كلَّ ليلةٍ رُمَّانةً وإنما تخرُجُ مرةً في السَّنة، وسألتَني أن أقبضِكَ ساجدًا، ففعلتُ ذلك بك؟ فيقول: أنتَ يا ربِّ، فقال الله ﷿: فذلك برحمتي، وبرحمتي أُدخِلُك الجنَّةَ، أَدِخلوا عبدي الجنَّةَ، فنِعْمَ العبدُ كنتَ يا عبدي، فيُدخِله اللهُ الجنَّةَ، قال جِبريلُ ﵇: إنما الأشياءُ برحمةِ الله تعالى يا محمدُ" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، فإنَّ سليمان بن هَرِمٍ العابدَ (3) من زُهَّاد أهل الشام (4) ، والليثُ بن سعد لا يَروِي عن المجهولين.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7637 - لا والله وسليمان بن هرم غير معتمد
هذا حديث صحيح الإسناد، فإنَّ سليمان بن هَرِمٍ العابدَ (3) من زُهَّاد أهل الشام (4) ، والليثُ بن سعد لا يَروِي عن المجهولين.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7637 - لا والله وسليمان بن هرم غير معتمد
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے، اور فرمایا: ابھی ابھی میرے پاس سے میرے دوست جبریل امین علیہ السلام تشریف لے کر گئے ہیں، انہوں نے مجھے کہا: اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! اس ذات کی قسم! جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے، اللہ تعالیٰ کے بندوں میں سے ایک بندہ ایسا ہے جس نے پانچ سو سال تک ایک پہاڑ کی چوٹی پر عبادت کی ہے، وہ پہاڑ تیس ذراع مربع ہے۔ اور اس پہاڑ کو چاروں طرف سے چار ہزار فرسخ دریا نے اپنے گھیرے میں لیا ہوا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے اس بندے کے لیے ایک انگلی کی مقدار مقام سے پانی کا چشمہ جاری فرمایا، تھوڑا تھوڑا میٹھا پانی رستا رہتا تھا، پھر وہ پہاڑ کی نچلی جانب سے صاف ستھرا ہو کر نکلتا۔ وہاں انار کا ایک درخت تھا، ہر رات اس کو ایک انار لگتا، جس سے اس کو ایک دن کی عذا مل جاتی۔ جب شام ہوتی تو وہ وضو کرنے کے لیے نیچے اترتا، اور اس انار کو کھا لیتا۔ اور دوبارہ عبادت میں مصروف ہو جاتا، اس نے اللہ تعالیٰ سے دعا مانگی کہ یا اللہ اس کو سجدے کی حالت میں موت عطا کرنا۔ اور زمین یا کوئی بھی چیز اس کو نقصان نہ پہنچائے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے ملک الموت کو بھیجا تو وہ آدمی اس وقت سجدے میں تھا۔ سجدے کے عالم اس کی روح کو قبض کیا گیا، (سیدنا جبریل امین علیہ السلام فرماتے ہیں) ہم آتے جاتے اس کو دیکھتے تھے، ہمیں یہ علم تھا کہ اس کو قیامت کے دن اٹھایا جائے گا اور اس کو اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں کھڑا کیا جائے گا، اللہ تعالیٰ اس بندے کے بارے میں فرمائے گا: میرے بندے کو میری رحمت کی بناء پر جنت میں داخل کر دو، وہ بندہ کہے گا: اے میرے رب، میرے اعمال کی بناء پر مجھے جنت میں بھیجا جائے، اللہ تعالیٰ پھر فرمائے گا: میرے بندے کو میری رحمت سے جنت میں بھیج دو، وہ کہے گا: (رحمت نہیں) بلکہ مجھے میرے اعمال صالحہ کی بناء پر جنت بھیجا جائے، اللہ تعالیٰ پھر فرمائے گا: میرے بندے کو میری رحمت سے جنت میں بھیج دو، وہ کہے گا: اے میرے رب، میرے عمل کی بناء پر مجھے جنت میں بھیج دو۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: اس بندے کے اعمال اور اس پر جو میری نعمتیں ہیں ان کا موازنہ کیا جائے، صرف انکھوں کی نعمت ہی اس کے پانچ سو سال کی عبادت سے زائد ہو گی، اور باقی پورا جسم تو اس کی عبادت سے کہیں زائد ہو گا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: میرے بندے کو دوزخ میں ڈال دیا جائے، چنانچہ اس بندے کو دوزخ کی جانب گھسیٹا جائے گا تو پکار پکار کر کہے گا: اے میرے رب مجھے اپنی رحمت سے جنت میں داخل فرما دے۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: اس کو چھوڑ دو، اس کو دوبارہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں کھڑا کیا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: اے میرے بندے! تو کچھ بھی نہ تھا، تجھے پیدا کس نے کیا ہے؟ وہ کہے گا: اے میرے رب تو نے۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا وہ تیری طرف سے ہوا یا میری رحمت سے؟ وہ کہے گا: یا اللہ محض تیری رحمت سے۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: پانچ سو سال تجھے عبادت کی طاقت کس نے بخشی؟ وہ کہے گا: اے میرے پروردگار تو نے۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: تجھے پہاڑ کے درمیان غار کے اندر کس نے اتارا؟ اور کھاری پانی میں سے تیرے لیے میٹھا پانی کس نے نکالا تھا؟ اور ہر رات تیرے لیے انار کون مہیا کرتا تھا؟ اور تو پورے سال میں ایک مرتبہ باہر نکلتا تھا اور تو نے مجھ سے دعا مانگی تھی کہ میں تجھے سجدے کی حالت میں موت دوں، یہ سب تیرے لیے کس نے کیا؟ وہ کہے گا: اے میرے رب، سب تو نے ہی کیا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: وہ سب میری رحمت کی بناء پر تھا، اور اپنی رحمت ہی سے تجھے میں جنت میں داخل کروں گا۔ (پھر فرشتوں سے فرمائے گا) میرے بندے کو جنت میں داخل کر دو۔ اے میرے بندے تو کتنا ہی اچھا بندہ ہے۔ اللہ تعالیٰ اس بندے کو جنت میں داخل فرمائے گا۔ سیدنا جبریل امین علیہ السلام نے فرمایا: اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! سب کچھ اللہ تعالیٰ کی رحمت ہی سے ہے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا،” سلیمان بن ہرم “ اہل شام کے عبادت گزار لوگوں میں سے ہیں۔ اور لیث بن سعد مجہول راویوں کی روایات نقل نہیں کرتے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التوبة والإنابة/حدیث: 7829]
21. الْكَيِّسُ مَنْ دَانَ نَفْسَهُ .
عقل مند وہ ہے جو اپنے نفس کا محاسبہ کرے
حدیث نمبر: 7830
حَدَّثَنَا أبو بكر محمد بن داود بن سليمان الزاهد، حَدَّثَنَا الحسن بن أحمد بن الليث، حَدَّثَنَا أحمد بن [أبي] سُرَيج (1) ، أخبرنا عمر (2) بن يونس اليَمَامي، حَدَّثَنَا يحيى بن شُعْبة بن يزيد، حدثني إسحاق بن عبد الله بن أبي طلحة الأنصاري، عن أبيه، عن جدِّه، قال: قال رسول الله ﷺ:"مَن قال: لا إله إلَّا اللهُ، دخلَ الجنَّةَ - أو وَجَبَتْ له الجنَّةُ -. ومَن قال: سبحانَ الله وبحمدِه مئةَ [مرّة، كَتَبَ اللهُ له مئةَ] (3) ألفَ حسنةٍ وأربعًا وعشرين ألفَ حسنةً" قالوا: يا رسولَ الله، إذًا لا يَهلِكَ منا أحدٌ! قال:"بلى إنَّ أحدَكم لَيجيءُ بالحسناتِ لو وُضِعتْ على جبلٍ أثقَلَته، ثم [تجيءُ] (4) النِّعَمُ فتذهبُ بتلك، ثم يتطاولُ الربُّ بعد ذلك برحمتِه" (5) .
هذا حديث صحيح الإسناد، شاهدٌ لحديث سليمان بن هَرِم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7638 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، شاهدٌ لحديث سليمان بن هَرِم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7638 - صحيح
اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ انصاری اپنے والد سے، وہ ان کے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس نے ” لا الہ الا اللہ “ کہا، وہ جتنی ہے اور اس کے لیے جنت ثابت ہو چکی ہے۔ اور جس نے سبحان اللہ و بحمدہ 100 مرتبہ پڑھا، اس کے لیے 1024 نیکیاں لکھے گا۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: تب تو ہم میں سے کوئی بھی ہلاک نہیں ہو گا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں، تم میں سے کوئی آدمی اتنی نیکیاں لے کر آئے گا کہ اگر وہ پہاڑ پر رکھی جائیں تو اس کو بھی بھاری لگیں، پھر وہ سب نیکیاں نعمتوں کے بدلے میں پوری ہو جائیں گی۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے لوگوں پر کرم فرمائے گا۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ یہ حدیث سلیمان بن ہرم کی حدیث کی شاہد ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التوبة والإنابة/حدیث: 7830]
حدیث نمبر: 7831
أخبرنا أبو العباس السَّيَّاري، حَدَّثَنَا أبو المُوجَّه، أخبرنا عَبْدان، أخبرنا عبد الله، أخبرنا أبو بكر بن أبي مريم الغسَّاني، عن ضَمْرة بن حَبيب، عن شدَّاد بن أَوس قال: قال رسول الله ﷺ:"الكَيِّسُ مَن دانَ نفسَه وعَمِلَ لما بعدَ الموت، والعاجزُ من أتْبعَ نفسَه هواها، وتَمَنَّى على الله ﷿" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7639 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7639 - صحيح
سیدنا شداد بن اوس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: عقلمند وہ ہے جس نے اپنے آپ کو نیک کیا اور موت کے بعد کے لیے اچھے عمل کیے۔ اور عاجز وہ شخص ہے جو نفسانی خواہشات کی پیروی میں لگا رہا اور اللہ تعالیٰ پر امیدیں لگائے رہا۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التوبة والإنابة/حدیث: 7831]