المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
1. باب:
باب:
حدیث نمبر: 7792
أخبرنا أبو عبد الله الصَّفَّار، حدثنا أحمد بن مِهْران، حدثنا أبو نُعيم، حدثنا سفيان، عن سِمَاك بن حَرب، عن مُرَي بن قَطَري، عن عَدِيِّ بن حاتم قال: قلت: يا رسولَ الله، إِنَّا نَصيدُ الصيدَ فلا نجدُ سِكّينًا إِلَّا الظَّرَارَ (1) وشِقَّةَ العصا، فقال:"أمِرَّ الدَّمَ بما شِئتَ، واذكر اسم الله ﷿" (2) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يخرجاه. آخر كتاب الذبائح [كتاب التوبة والإنابة] ﷽
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7600 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يخرجاه. آخر كتاب الذبائح [كتاب التوبة والإنابة] ﷽
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7600 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم شکار کرتے ہیں، (کئی مرتبہ) ہمارے پاس چھری نہیں ہوتی، صرف، دھاری دار پتھر، یا بانس کا چھلکا ہوتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس چیز کے ساتھ بھی ہو، خون بہانا ضروری ہے۔ اور اللہ کا نام لینا ضروری ہے۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التوبة والإنابة/حدیث: 7792]
2. مِنْ سَعَادَةِ الْمَرْءِ أَنْ يَطُولَ عُمْرُهُ وَيَرْزُقَهُ اللَّهُ الْإِنَابَةَ .
انسان کی خوش بختی یہ ہے کہ اس کی عمر طویل ہو اور اللہ اسے رجوع و انابت کی توفیق دے
حدیث نمبر: 7793
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا هارون بن سليمان، حدثنا عبد الرحمن بن مَهدي. وأخبرنا أحمد بن جعفر القَطِيعي، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي، حدثنا عبد الرحمن، عن سفيان، عن سَلَمة بن كُهَيل، عن عِمران بن الحَكَم (1) السُّلَمي، عن ابن عباس قال: قالت قريشٌ للنبيِّ ﷺ: ادعُ لنا ربَّك أن يجعلَ لنا الصَّفا ذهبًا ونؤمنَ بك، قال:"أفتَفعَلون؟" قالوا: نعم، فدعا، فأتاه جبريلُ ﵇ فقال:"إنَّ الله تعالى يقرأُ عليك السَّلامَ، ويقول: إن شئتَ أصبحَ الصَّفا ذهبًا، فمن كَفَرَ بعدَ ذلك عذّبتُه عذابًا لا أُعذِّبُه أحدًا من العالَمِين، وإن شئتَ فَتَحتُ لهم بابَ التَّوبة والرَّحمة، قال: بل بابَ التَّوبةِ والرَّحمة" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7601 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7601 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: قریش نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں عرض کی: آپ ہمارے لیے دعا کریں کہ صفا پہاڑ ہمارے لیے سونا بن جائے، تب ہم آپ پر ایمان لائیں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم واقعی ایمان لے آؤ گے۔ انہوں نے کہا: جی ہاں۔ تب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا مانگی۔ فوراً سیدنا جبریل امین علیہ السلام حاضر بارگاہ ہو گئے اور عرض کی: اللہ تعالیٰ آپ کو سلام ارشاد فرماتا ہے اور فرماتا ہے، اگر آپ کی خواہش ہے تو ہم کوہ صفا سونے کا بنا دیتے ہیں، لیکن اگر اس کے باوجود کسی نے انکار کیا تو پھر میں ان کو ایسا عذاب دونگا جو ساری کائنات میں کبھی کسی کو نہیں دیا ہو گا۔ اور اگر آپ چاہیں تو میں ان کے لیے توبہ اور رحمت کے دروازے کھول دیتا ہوں۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ٹھیک ہے یا اللہ۔ ان کے لیے توبہ اور رحمت کے دروازے کھول دے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التوبة والإنابة/حدیث: 7793]
3. إِنَّ حُسْنَ الظَّنِّ بِاللَّهِ مِنْ عِبَادَةِ اللَّهِ .
اللہ کے ساتھ حسنِ ظن رکھنا اللہ کی عبادت کا حصہ ہے
حدیث نمبر: 7794
حدثنا علي بن حَمْشَاذَ العَدْل، حدثنا محمد بن إسماعيل السُّلمي، حدثنا إسحاق بن محمد الفَرْوي، حدثنا كَثير بن زيد، حدثنا الحارث بن أبي يزيد، قال: سمعتُ جابر بن عبد الله: [سمعت رسول الله ﷺ] (3) يقول:"إنَّ من سَعادةِ المرءِ أنْ يَطُولَ عُمُرُه ويرزقَه الله الإنابةَ" (4) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7602 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7602 - صحيح
سیدنا جابر صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: انسان کی سعادت مندی میں سے یہ بھی ہے کہ اس کی عمر زیادہ ہو، اور اللہ تعالیٰ اس کو توبہ کی توفیق دے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التوبة والإنابة/حدیث: 7794]
حدیث نمبر: 7795
أخبرني الحسن بن حَلِيم (1) المروَزي، أخبرنا أبو الموجِّه، أخبرنا عَبْدان، أخبرنا عبد الله، أخبرنا هشام بن الغاز، عن حَيَّان أبي النَّضر أنه حدّثه قال: سمعتُ واثلةَ بن الأسقع يقول: سمعتُ رسول الله ﷺ يقول:"قال الله ﵎: أنا عندَ ظَنِّ عبدي بي، فليَظُنَّ بي ما شاءَ" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7603 - صحيح وعلى شرط مسلم
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7603 - صحيح وعلى شرط مسلم
سیدنا واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میں اپنے بندے کے گمان کے مطابق ہوں، اب اس کا جو دل چاہے میرے بارے میں گمان رکھ لے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التوبة والإنابة/حدیث: 7795]
حدیث نمبر: 7796
حدثنا علي بن حَمْشاذ العَدْل، حدثنا علي بن عبد العزيز البَغَوي وأبو مسلم، قالا: حدثنا حجَّاجُ بن مِنْهال، حدثنا حمّاد بن سَلَمة، محمد بن واسع، عن شُتَير بن نَهَار، عن أبي هريرة، عن النبيِّ ﷺ قال:"إِنَّ حُسْنَ الظَّنِّ بالله تعالى من حُسْن عبادةِ الله" (3) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7604 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7604 - على شرط مسلم
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ کے بارے میں حسن طن رکھنا بھی عبادت ہے۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق ہے لیکن شیخین نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التوبة والإنابة/حدیث: 7796]
4. قَالَ اللَّهُ لَوْ لَقِيتَنِي بِقُرَابِ الْأَرْضِ خَطَايَا مَا لَمْ تُشْرِكْ بِي لَقِيتُكَ بِقُرَابِهَا مَغْفِرَةً .
اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اگر تو مجھ سے زمین بھر گناہوں کے ساتھ ملے، بشرطیکہ شرک نہ کیا ہو، تو میں اتنی ہی مغفرت کے ساتھ تجھ سے ملوں گا
حدیث نمبر: 7797
أخبرنا عبد الله بن إسحاق الخُزاعي بمكة حرسها الله، حدثنا أبو يحيى ابن أبي مَسَرَّة (1) ، حدثنا عبد الله بن يزيد المُقرئ، حدثنا همَّام بن يحيى، عن عاصم، عن المَعْرور بن سُوَيد، أنَّ أبا ذرٍّ قال: حدثنا الصادقُ المصدوقُ ﷺ فيما يروي عن ربِّه ﵎ أنه قال:"الحَسَنةُ بعَشْر أمثالِها أو أَزِيدُ، والسيئةُ واحدةٌ أو أغفِرُها. ولو لَقِيتَني بقُرَابِ الأرض خطايا ما لم تُشرِكْ بي، لَقِيتُك بقُرَابها مغفرةً" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7605 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7605 - صحيح
سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: نیکی کو دس گنا یا اس سے بھی زیادہ بڑھا دیا جاتا ہے اور گناہ صرف ایک ہی رکھا جاتا ہے یا اسے بھی معاف کر دیا جاتا ہے۔ اگر تو زمین بھر گناہ لے کر مجھ سے ملے گا، تیرے نامہ اعمال میں شرک کا گناہ نہ ہو، تو میں تجھ سے زمین بھر مغفرت کے ساتھ ملوں گا۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التوبة والإنابة/حدیث: 7797]
5. دَوَاءُ الذُّنُوبِ أَنْ تَسْتَغْفِرَ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - .
گناہوں کی دوا اللہ عزوجل سے استغفار کرنا ہے
حدیث نمبر: 7798
أخبرنا أبو إسحاق إبراهيم بن فِرَاس المكي الفقيه بمكة حرسها الله تعالى، حدثنا يزيد بن عبد الصمد الدِّمشقي، حدثنا أبو مُسهر عبد الأعلى بن مُسهِر، حدثنا سعيد بن عبد العزيز، عن رَبيعة بن يزيد، عن أبي إدريس الخَوْلاني، عن أبي ذرٍّ، عن رسول الله ﷺ، عن الله ﵎ أنه قال:"يا عبادي، إنَّكم الذين تُخطئِون بالليل والنهار، وأنا الذي أغفِرُ الذنوبَ ولا أبالي، فاستغفِرُوني أغفِرْ لكم. يا عبادي، كلُّكم جائعٌ إلَّا من أطعمتُ، فاستَطعمِوني أُطعِمْكم. يا عبادي، كلُّكم عارٍ إِلَّا من كَسَوتُ، فاستَكسُوني أَكسُكُمْ. يا عبادي، لو أنَّ أوّلَكم وآخرَكم وإنسَكم وجِنَّكم كانوا على أتقى قلبِ رجلٍ منكم، لم يَزِدْ ذلك في مُلْكي شيئًا، يا عبادي، لو أنَّ أوّلَكم وآخرَكم وإنسَكم وجِنَّكم كانوا على أفجَرِ قلبِ رجلٍ منكم، لم يَنقُصْ ذلك من مُلْكي شيئًا، يا عبادي لو أنَّ أوّلَكم وآخرَكم وإنسَكم وجِنَّكم اجتَمَعوا في صعيدٍ واحدٍ فسألوني، فأعطيتُ (1) كلَّ إنسان منهم ما سألَ، لم يَنقُصْ ذلك من مُلْكى شيئًا إلَّا كما يَنقُصُ البحرُ إِنْ يُعْمَسُ فيه المِخيَطُ غَمسةً واحدةً. يا عبادي، إنَّما هي أعمالُكم أحفَظُها عليكم، فمن وَجَدَ خيرًا فليَحمَدِ اللهَ تعالى، ومن وَجَدَ غير ذلك فلا يَلُومَنَّ إلَّا نفسَه" (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7606 - هو في مسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7606 - هو في مسلم
سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: اے میرے بندو! تم دن رات گناہ کرتے ہو، اور میں وہ ہوں جو گناہ معاف کرتا ہوں، اور مجھے اس کی کوئی پرواہ بھی نہیں ہے، اس لیے اے بندو، مجھ سے مغفرت طلب کرو، میں تمہیں بخش دوں گا۔ اے میرے بندو، تم سب بھوکے ہو، سوائے اس کے کہ جس کو میں کھلا دوں، اس لیے مجھ سے کھانا طلب کرو، میں تمہیں کھانا دوں گا۔ اے میرے بندو! تم سب کے سب ننگے ہو، سوائے اس کے کہ جس کو میں پہناؤں، اس لیے مجھ سے لباس طلب کرو، میں تمہیں لباس پہناؤں گا۔ اے میرے بندو، اگر تمہارے سب اگلے اور پچھلے، اور تمام انسان اور تمام جنات، سب متقی اور پرہیزگار بن جائیں تو اس سے میرے ملک میں ایک ذرہ بھی اضافہ نہیں ہو گا، اور اے میرے بندو، اگر تمہارے اگلے اور پچھلے، تمہارے انسان اور تمام جنات، سب فاسق و فاجر ہو جائیں تو اس کی وجہ سے میرے ملک میں کچھ بھی نقصان واقع نہیں ہو گا۔ اے میرے بندو! اگر تمہارے اگلے، پچھلے، تمام انسان اور تمام جنات ایک جگہ پر جمع ہو جائیں۔ اور مجھ سے مانگیں، اور میں ہر ایک کو اس کی خواہش کے مطابق نواز دوں، تو میرے خزانے میں اتنی بھی کمی نہیں آئے گی کہ سوئی کو سمندر میں ڈبو کر نکالے تو اس کے کنارے پر جتنا پانی لگا ہوتا ہے۔ اس لیے جو بھلائی پائے، وہ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرے، اور جو بھائی کے علاوہ کچھ پائے وہ اپنے سوا کسی کو ملامت نہ کرے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو اس اسناد کے ہمراہ نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التوبة والإنابة/حدیث: 7798]
حدیث نمبر: 7799
حدثني أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيه، حدثنا محمد بن بشر بن مَطَر، حدثنا خالد بن خِدَاش الزَّهْراني، حدثنا بشَّار بن الحَكَم، عن ثابت البُناني، عن أنس ابن مالك: أنَّ أبا ذرٍّ الغِفاري بالَ قائمًا، فانتَضَحَ من بَوْلِه على ساقَيْه وقَدَمَيه، فقال له رجلٌ: إنه قد أصابَ من بولك قدمَيْك وساقَيْك، فلم يَرُدَّ عليه شيئًا حتى انتهى إلى دار قوم، فاستوهبهم طَهُورًا، فأخرجوا إليه، فتوضأ وغَسَلَ ساقيه وقَدَميه، ثم أقبلَ على الرَّجل، فقال: ماذا قلتَ؟ فقال: أمَّا الآنَ فقد فعلت فقال أبو ذرٍّ: هذا دواءُ هذا، دواءُ الذُّنوب أن تستغفرَ الله ﷿ (1) . هذا وإن كان موقوفًا، فإنَّ إسناده صحيح عن أنس عن أبي ذر، وهذا موضعُه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7607 - صحيح
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7607 - صحيح
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نے کھڑے ہو کر پیشاب کیا، ان کے پیشاب کے قطرے ان کی پنڈلی اور پاؤں پر ٹپک رہے تھے، ایک آدمی نے ان سے کہا: آپ کے پیشاب کے قطرے آپ کی ٹانگ اور پاؤں پر پڑ رہے ہیں، آپ رضی اللہ عنہ نے اس کو کوئی جواب نہ دیا اور کسی آدمی کے گھر سے پانی مانگا، انہوں نے ان کو پانی دیا، آپ رضی اللہ عنہ نے وضو کیا، اپنی پنڈلیاں اور پاؤں دھوئے، پھر اس آدمی کے پاس آئے اور اس سے پوچھا: تم کیا کہہ رہے تھے؟ اس نے بتایا کہ ابھی تم نے جو حرکت کی ہے میں اسی کے بارے میں آپ کو آگاہ کر رہا تھا، سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اس عمل کا یہ حل ہے، اور گناہوں کا علاج یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کی جائے۔ ٭٭ یہ حدیث اگرچہ موقوف ہے لیکن اس کی اسناد صحیح ہے جو کہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التوبة والإنابة/حدیث: 7799]
حدیث نمبر: 7800
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الحافظ، حدثنا إبراهيم بن عبد الله، أخبرنا يزيد بن هارون، أخبرنا همام بن يحيى، عن إسحاق بن عبد الله بن أبي طلحة قال: كان قاصٌّ بالمدينة يُقال له: عبد الرحمن بن أبي عَمْرة، فسمعتُه يقول: سمعتُ أبا هريرة يقول: سمعتُ رسولَ الله ﷺ يقول:"إنَّ عبدًا أصابَ ذنبًا، فقال: يا ربِّ، أذنبتُ ذنبًا فاغفِرْ لي، فقال له ربُّه: عَلِمَ عبدي أنَّ له ربًّا يغفِرُ الذنبَ ويأخذُ به، فغفرَ له، ثم مَكَثَ ما شاء اللهُ، ثم أذنب ذنبًا آخر، فقال: يا ربِّ، أذنبتُ ذنبًا فاغفِرْ لي، فقال ربُّه ﷿: عَلِمَ عبدي أنَّ له ربًّا يغفِرُ الذنب ويأخذُ به، قد غفرتُ لعبدي، فلْيَعْمَلْ ما شاءَ، ثم عاد فأذنبَ ذنبًا، فقال: ربِّ اغفِرْ لي ذنبي، فقال الله ﵎: أذنب عبدي ذنبًا فعَلِمَ أنَّ له ربًّا يغفِرُ الذنب ويأخذُ بالذنب، اعمَلْ ما شئتَ قد غفرتُ لك" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7608 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7608 - على شرط البخاري ومسلم
اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ بیان کرتے ہیں: مدینہ منورہ میں ایک قصہ گو شخص رہتا تھا، اس کا نام ” عبدالرحمن ابن ابی عمرہ “ تھا۔ وہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بندہ کوئی گناہ کر بیٹھتا ہے، پھر کہتا ہے: اے میرے رب! میں گناہ کر بیٹھا ہوں، تو مجھے معاف کر دے، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میرا بندہ یہ جانتا ہے کہ اس کا ایک رب ہے، جو اس کو بخش بھی سکتا ہے اور مؤاخذہ بھی کر سکتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کو معاف کر دیتا ہے، وہ کچھ عرصہ اپنی توبہ پر قائم رہتا ہے، لیکن پھر گناہ کا ارتکاب کر لیتا ہے، (لیکن پھر نادم ہو کر) اللہ تعالیٰ سے عرض کرتا ہے: اے میرے رب میں گناہ کر بیٹھا ہوں، مجھے معاف کر دے، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے، میرا بندہ یہ یقین رکھتا ہے کہ اس کا ایک رب ہے جو اس کو بخش بھی سکتا ہے اور پکڑ بھی سکتا ہے، میں نے اپنے بندے کو بخش دیا ہے، یہ جو چاہے عمل کرے۔ وہ بندہ پھر گناہ کرتا ہے، (لیکن نادم ہو کر پھر) اپنے رب کی بارگاہ میں عرض کرتا ہے: اے میرے رب، میرے گناہ کو بخش دے، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میرے بندے نے گناہ کیا اور اس کو یہ پتہ ہے کہ اس کا ایک رب ہے، جو کہ گناہوں کو بخش بھی سکتا ہے اور گناہ پر بندے کی پکڑ بھی کر سکتا ہے، تو جو چاہے عمل کر لے، میں نے تجھے بخش دیا ہے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التوبة والإنابة/حدیث: 7800]
6. اللَّهُ أَشَدُّ فَرَحًا بِتَوْبَةِ عَبْدِهِ مِنَ الرَّجُلِ بِرَاحِلَتِهِ .
اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی توبہ پر اس شخص سے زیادہ خوش ہوتا ہے جس کی گمشدہ سواری مل جائے
حدیث نمبر: 7801
حدثنا علي بن حَمشاذ العَدْل، حدثنا أبو عمرو أحمد بن المبارك، حدثنا قُتيبة بن سعيد، حدثنا جابر بن مرزوق المكيّ، عن عبد الله بن عبد العزيز بن عبد الله ابن عمر بن الخطّاب، عن أبي طُوَالة، عن أنس بن مالك قال: قال رسول الله ﷺ:"مَن أذنب ذنبًا فعَلِمَ أنَّ له ربًّا إن شاء أن يغفرَه له غفرَه له، وإنْ شاءَ عذَّبَه، كان حقًّا على الله أن يَغْفِرَ له" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7609 - لا والله ومن جابر حتى يكون حجة بل هو نكرة وحديثه منكر والعمري هو الزاهد أحد الثقات
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7609 - لا والله ومن جابر حتى يكون حجة بل هو نكرة وحديثه منكر والعمري هو الزاهد أحد الثقات
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص گناہ کر بیٹھے، پھر اس کو یہ یقین ہو کہ اس کا رب اگر چاہے تو اس کو بخش سکتا ہے اور اگر چاہے تو اس کو عذاب بھی دے سکتا ہے، اللہ تعالیٰ پر یہ حق ہے کہ اس بندے کو معاف کر دے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التوبة والإنابة/حدیث: 7801]