المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
11. الْحَلِفُ حِنْثٌ أَوْ نَدَمٌ
قسم کھانا یا تو اسے توڑنے (حنث) کا باعث بنتا ہے یا ندامت کا
حدیث نمبر: 8032
حدَّثَناه أحمد بن سهل البُخاري، حدثنا سهل بن المتوكِّل، حدثنا إبراهيم بن المنذر، حدثنا أبو ضَمْرة، عن عاصم بن محمد بن زيد بن عبد الله بن عمر بن الخطاب، عن أبيه، عن ابن عمر قال: إنما اليمينُ مَأْثَمةٌ أو مَنْدَمةٌ (1) . آخر كتاب الأيمان [كتاب النذور]
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7836 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7836 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”قسم تو محض گناہ کا بوجھ ہے یا پھر باعثِ پشیمانی ہے۔“ [المستدرك على الصحيحين/كتاب النذور/حدیث: 8032]
تخریج الحدیث: «رجاله ثقات، لكن اختلف على عاصم بن محمد فيه، فرواه عنه أبو ضمرة وهو أنس بن عياض بن ضمرة» [ترقيم الرساله 8032] [ترقيم الشركة 7935] [ترقيم العلميه 7836]
الحكم على الحديث: رجاله ثقات
1. النَّذْرُ لَا يُقَدِّمُ شَيْئًا وَلَا يُؤَخِّرُهُ
نذر کسی چیز کو وقت سے پہلے لا سکتی ہے اور نہ ٹال سکتی ہے
حدیث نمبر: 8033
حدثنا الشيخ أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا علي بن الحسين بن جُنَيد، حدثنا المُعافَى بن سليمان الحَرَّاني، حدثنا فُلَيح بن سليمان، عن سعيد بن الحارث، أنه سمع عبد الله بن عمرو بن عمر، وسأله رجلٌ من بني كعب يقالُ له: مسعود بن عمرو: يا أبا عبد الرحمن، إنَّ ابني كان بأرضِ فارسَ فيمن كان عند عمر بن عبيد الله، وإنه وقع بالبصرة طاعونٌ شديد، فلما بلغ ذلك نَذَرتُ إن الله جاء بابني أن أمشيَ (1) إلى الكعبة، فجاء مريضًا، فمات، فما ترى؟ فقال ابن عمر: أَوَلَم تُنهَوا عن النَّذر؟ إِنَّ رسول الله ﷺ قال:"النَّدْرُ لا يُقدِّمُ شيئًا ولا يُؤخِّرُه، فإنما يُستخرج به من البخيل"، أُوفِ بنَذركِ (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7837 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7837 - على شرط البخاري ومسلم
سعید بن حارث سے روایت ہے کہ انہوں نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو سنا جب بنو کعب کے مسعود بن عمرو نامی ایک شخص نے ان سے دریافت کیا کہ اے ابوعبدالرحمن! میرا بیٹا ملکِ فارس میں ان لوگوں کے ہمراہ تھا جو عمر بن عبید اللہ کے پاس مقیم تھے، اور اسی دوران بصرہ میں شدید طاعون کی وبا پھیل گئی، جب مجھے اس کی اطلاع ملی تو میں نے یہ منت مانی کہ اگر اللہ تعالیٰ میرے بیٹے کو بخیر و عافیت واپس لے آئے تو میں پیدل چل کر بیت اللہ جاؤں گا، چنانچہ وہ بیمار حالت میں واپس آیا اور پھر فوت ہو گیا، اب اس بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”کیا تمہیں نذر ماننے سے منع نہیں کیا گیا تھا؟ یقیناً رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: «النَّذْرُ لَا يُقَدِّمُ شَيْئًا وَلَا يُؤَخِّرُهُ، فَإِنَّمَا يُسْتَخْرَجُ بِهِ مِنَ الْبَخِيلِ» ”نذر (تقدیر کی) کسی چیز کو نہ تو وقت سے پہلے لا سکتی ہے اور نہ ہی اسے ٹال سکتی ہے، اس کے ذریعے تو صرف بخیل سے مال نکلوایا جاتا ہے“، تم اپنی نذر پوری کرو۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے ان الفاظ کے سیاق و سباق کے ساتھ روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب النذور/حدیث: 8033]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے ان الفاظ کے سیاق و سباق کے ساتھ روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب النذور/حدیث: 8033]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن، في المتابعات والشواهد من أجل فليح بن سليمان، وقد توبع» [ترقيم الرساله 8033] [ترقيم الشركة 7936] [ترقيم العلميه 7837]
الحكم على الحديث: إسناده حسن
2. بَيَانُ حَقِيقَةِ النَّذْرِ
نذر کی حقیقت کا بیان
حدیث نمبر: 8034
حدثنا علي بن حَمْشاذ العَدْل، حدثنا أبو عمرو أحمد بن المبارك وأبو سعيد محمد بن شاذانَ، قالا: حدثنا قُتيبة بن سعيد، حدثنا إسماعيل بن جعفر، حدثنا عمرو بن أبي عمرو مولى ابن المطَّلِب، عن عبد الرحمن الأعرج، عن أبي هريرة، أنَّ النبيَّ ﷺ قال:"إنَّ النَّذرَ لم (1) يُقرب من ابن آدم شيئًا لم يكن الله تعالى قدَّره له، ولكنّ النَّذِرَ يُوافِقُ القَدَرَ فيُخرجُ بذلك من البخيل ما لم يكنِ البخيلُ يريدُ أن يُخرِجَه" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7838 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7838 - على شرط مسلم
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلاشبہ نذر (منت) ابنِ آدم کے لیے ایسی کوئی چیز قریب نہیں لاتی جو اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے مقدر نہ کی ہو، بلکہ نذر تو تقدیر کے الہیٰ کے موافق ہو جاتی ہے، اس طرح نذر کے ذریعے بخیل (کنجوس) سے وہ مال نکلوا لیا جاتا ہے جسے وہ (عام حالات میں اپنی مرضی سے) نکالنا نہیں چاہتا تھا۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے ان الفاظ کے سیاق و سباق کے ساتھ روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب النذور/حدیث: 8034]
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے ان الفاظ کے سیاق و سباق کے ساتھ روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب النذور/حدیث: 8034]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وهذا إسناد جيد من أجل عمرو بن أبي عمرو، وقد توبع» [ترقيم الرساله 8034] [ترقيم الشركة 7937] [ترقيم العلميه 7838]
الحكم على الحديث: حديث صحيح
حدیث نمبر: 8035
أخبرنا أبو يحيى ابن المقرئ الإمام بمكة، حدثنا علي بن عبد العزيز، حدثنا مسلم بن إبراهيم وحجَّاج بن مِنْهال، قالا: حدثنا حمّاد بن سَلَمة، عن حبيب المُعلِّم، عن عطاء، عن جابر: أنَّ رجلًا نَذَرَ أن يُصلِّيَ في بيت المَقدِس، فسأل عن ذلك رسولَ الله ﷺ، فقال له رسول الله ﷺ:"صلِّ هاهنا" يعني في المسجد الحرام، فقال: يا رسولَ الله، إنما نذرتُ أن أُصلِّيَ في بيت المقدس! فقال:"صلِّ هاهنا" (2) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7839 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7839 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے نذر مانی کہ وہ بیت المقدس میں نماز پڑھے گا، اس نے اس بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: ”یہیں نماز پڑھ لو“ یعنی مسجد حرام میں، اس نے (دوبارہ) عرض کی: اے اللہ کے رسول! میں نے تو بیت المقدس میں نماز پڑھنے کی نذر مانی ہے! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (پھر) فرمایا: ”یہیں نماز پڑھ لو۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب النذور/حدیث: 8035]
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب النذور/حدیث: 8035]
تخریج الحدیث: «إسناده قوي من أجل حبيب المعلم» [ترقيم الرساله 8035] [ترقيم الشركة 7938] [ترقيم العلميه 7839]
الحكم على الحديث: إسناده قوي
3. لَا نَذْرَ فِي مَعْصِيَةٍ وَكَفَّارَتُهُ كَفَّارَةُ يَمِينٍ
گناہ کے کام میں نذر نہیں ہوتی اور اس کا کفارہ وہی ہے جو قسم کا کفارہ ہے
حدیث نمبر: 8036
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الزاهد، حدثنا أحمد بن محمد ابن عيسى القاضي، حدثنا أبو نُعيم وأبو حذيفة، قالا: حدثنا سفيان، عن محمد بن الزُّبير، عن الحسن، عن عمران بن حُصين قال: قال رسول الله ﷺ:"لا نذرَ في غضبٍ، وكفَّارتُه كفارة يمين" (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7840 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7840 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”غصے کی حالت میں مانی گئی نذر کی (شرعی) حیثیت نہیں، اور اس کا کفارہ وہی ہے جو قسم کا کفارہ ہوتا ہے۔“ [المستدرك على الصحيحين/كتاب النذور/حدیث: 8036]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف جدًّا، محمد بن الزُّبير» [ترقيم الرساله 8036] [ترقيم الشركة 7939] [ترقيم العلميه 7840]
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف جدًّا
حدیث نمبر: 8037
أخبرَناه الحسن بن يعقوب العَدْل، حدثنا يحيى بن أبي طالب، حدثنا عبد الوهاب بن عطاء، أخبرنا محمد بن الزُّبير الحَنظَلي، عن أبيه، عن رجل، عن عِمران بن حُصَين، أنَّ النبي ﷺ قال:"لا نذرَ في غضبٍ، وكفَّارتُه كفَّارة يمين" (2) .
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”غصے کی حالت میں مانی گئی نذر معتبر نہیں، اور اس کا کفارہ وہی ہے جو قسم کا کفارہ ہے۔“ [المستدرك على الصحيحين/كتاب النذور/حدیث: 8037]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف جدًّا، من أجل محمد بن الزُّبير، ووالده الزبير تفرَّد بالرواية عنه ابنه محمد، وفيه أيضًا رجل مبهم. عبد الوهاب بن عطاء: هو الخفّاف. وأخرجه الطحاوي في "شرح معاني الآثار" 3/ 129» [ترقيم الرساله 8037] [ترقيم الشركة 7940]
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف جدًّا
حدیث نمبر: 8038
حدَّثَناه عبد الله بن إسحاق الخُراساني، حدثنا إبراهيم بن الهيثم البَلَدي، حدثنا محمد بن كَثير الحِمصي، حدثنا الأوزاعي، حدثني يحيى، عن محمد بن الزُّبير الحنظلي، عن أبيه، عن عِمران بن حُصين، أنَّ النبي ﷺ قال:"لا نذرَ في غضب، وكفّارتُه كفارةُ يمين" (1) . وقد أعضَلَه مَعمرٌ عن يحيى بن أبي كثير:
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”غصے میں مانی گئی نذر لازم نہیں ہوتی، اور اس کا کفارہ قسم کے کفارے کے مانند ہے۔“
اور (امام حاکم فرماتے ہیں کہ) معمر نے اسے یحییٰ بن ابی کثیر سے روایت کرتے ہوئے معضل (سند میں انقطاع کے ساتھ) بیان کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب النذور/حدیث: 8038]
اور (امام حاکم فرماتے ہیں کہ) معمر نے اسے یحییٰ بن ابی کثیر سے روایت کرتے ہوئے معضل (سند میں انقطاع کے ساتھ) بیان کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب النذور/حدیث: 8038]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف جدًّا كسابقه، ولم يذكر فيه الرجل المبهم، كما أنَّ الزبير لم يسمع من عمران، قال البيهقي 10/ 70: الزبير لم يسمع من عمران، وأسند عن محمد بن الزُّبير أنَّ أباه لم يسمع من عمران» [ترقيم الرساله 8038]
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف جدًّا كسابقه
حدیث نمبر: 8039
حدَّثَناه أبو بكر بن إسحاق، حدثنا الحسن بن علي بن زياد، حدثنا إبراهيم بن موسى، حدثنا هشام بن يوسف، عن مَعمَر، عن يحيى بن أبي كثير قال: حدثني رجلٌ من بني حَنيفة، عن عِمران بن حُصَين (1) ، أنَّ رسول الله ﷺ قال:"لا نذرَ في مَعصِيَةٍ" (2) . الرجل الذي لم يُسمِّه معمرٌ عن يحيى هو محمد بن الزُّبير بلا شكٍّ، فإنه أراد أن يقول: من بني حنظلة، فقال: من بني حنيفة، فأما قولُه ﷺ:"لا نذرَ في معصية" فقد اتَّفق عليه الشيخان (3) ، ومدار الحديث الآخر على محمد بن الزُّبير الحنظلي، وليس يصحُّ.
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی نافرمانی کے کام میں مانی گئی نذر کی کوئی حیثیت نہیں (یعنی وہ پوری نہیں کی جائے گی)۔“
امام حاکم فرماتے ہیں کہ وہ راوی جس کا نام معمر نے یحییٰ کے واسطے سے بیان نہیں کیا وہ بلا شک محمد بن زبیر ہے، کیونکہ اس نے ”بنو حنظلہ“ کہنے کے بجائے غلطی سے ”بنو حنیفہ“ کہہ دیا، جہاں تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد ”نافرمانی میں نذر جائز نہیں“ کا تعلق ہے تو اس پر شیخین (بخاری و مسلم) کا اتفاق ہے، جبکہ دوسری حدیث (غصے والی) کا مدار محمد بن زبیر حنظلی پر ہے اور وہ (سنداً) صحیح نہیں ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب النذور/حدیث: 8039]
امام حاکم فرماتے ہیں کہ وہ راوی جس کا نام معمر نے یحییٰ کے واسطے سے بیان نہیں کیا وہ بلا شک محمد بن زبیر ہے، کیونکہ اس نے ”بنو حنظلہ“ کہنے کے بجائے غلطی سے ”بنو حنیفہ“ کہہ دیا، جہاں تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد ”نافرمانی میں نذر جائز نہیں“ کا تعلق ہے تو اس پر شیخین (بخاری و مسلم) کا اتفاق ہے، جبکہ دوسری حدیث (غصے والی) کا مدار محمد بن زبیر حنظلی پر ہے اور وہ (سنداً) صحیح نہیں ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب النذور/حدیث: 8039]
تخریج الحدیث: «صحيح بهذا اللفظ، وهذا إسناده ضعيف لإبهام الرجل الحنفي، ولإرساله، وقد صحَّ من غير هذا الطريق كما سيأتي» [ترقيم الرساله 8039] [ترقيم الشركة 7941]
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف