المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
38. أَقَلُّ سَاكِنِي الْجَنَّةِ النِّسَاءُ
جنت میں رہنے والوں میں عورتوں کی تعداد سب سے کم ہوگی
حدیث نمبر: 8997
حدثنا أبو أحمد بكر بن محمد الصَّيرَفي بمَرو من أصل كتابه، حدثنا عبد الصمد بن الفضل، حدثنا قَبِيصة بن عُقْبة، حدثنا سفيان، عن منصور، عن ذرٍّ، عن وائل بن مَهَانةَ التَّيْمي، عن عبد الله بن مسعود قال: قال رسول الله ﷺ:"يا معشرَ النساءِ، تَصدَّقنَ ولو من حُلِيِّكُنَّ، فإنكنَّ أكثرُ أهل جهنَّم" [فقالت امرأةٌ ليست من عِلْية النساء: وبِمَ يا رسول الله نحن أكثر أهل جهنم؟] (2) قال:"لأنكنَّ تُكثِرنَ اللَّعْنَ، وتَكْفُرنَ العَشِيرَ، وما رأيتُ من ناقصات عقلٍ ودينٍ أغلب للُبِّ الرجل منكنَّ" (3) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. وقد رواه جرير بن عبد الحميد عن منصور (1) بزيادة ألفاظ فيه:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8783 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. وقد رواه جرير بن عبد الحميد عن منصور (1) بزيادة ألفاظ فيه:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8783 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے عورتوں کی جماعت! صدقہ کیا کرو، خواہ اپنے زیورات ہی میں سے ہو، کیونکہ جہنم میں تمہاری تعداد سب سے زیادہ ہوگی۔“ ایک عام سی عورت نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! ہماری تعداد جہنم میں سب سے زیادہ کیوں ہوگی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس لیے کہ تم لعن طعن بہت کرتی ہو اور خاوند کی ناشکری کرتی ہو، اور میں نے عقل اور دین میں ناقص ہونے کے باوجود کسی مردِ عاقل کی عقل کو تم سے زیادہ مغلوب کر دینے والا کوئی نہیں دیکھا۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ اور اسے جریر بن عبدالحمید نے منصور سے کچھ زائد الفاظ کے ساتھ روایت کیا ہے: [المستدرك على الصحيحين/كتاب: الأهوال/حدیث: 8997]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ اور اسے جریر بن عبدالحمید نے منصور سے کچھ زائد الفاظ کے ساتھ روایت کیا ہے: [المستدرك على الصحيحين/كتاب: الأهوال/حدیث: 8997]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن إن شاء الله من أجل وائل بن مهانة» [ترقيم الرساله 8997] [ترقيم الشركة 8889] [ترقيم العلميه 8783]
الحكم على الحديث: صحيح لغيره
39. لِلْمُصَدِّقَةِ عَلَى الْأَزْوَاجِ وَالْأَيْتَامِ أَجْرَانِ
شوہروں اور یتیموں پر صدقہ کرنے والی خاتون کے لیے دوگنا اجر ہے
حدیث نمبر: 8998
حدَّثَناه أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا إسماعيل بن قُتَيبة السُّلَمِي، حدثنا يحيى بن يحيى التَّميمي، أخبرنا جَرِير عن منصور بن المُعتمِر قال: سمعتُ ذَرًّا يحدِّث عن وائل بن مَهَانة، عن عبد الله بن مسعود قال: قال رسول الله ﷺ:"يا معشرَ النساء، تَصدَّقن ولو من حُليّكُنَّ، فإنكُنَّ أكثرُ أهلِ جهنَّم يومَ القيامة" (2) .
وائل بن مہانہ سے روایت ہے کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے عورتوں کی جماعت! صدقہ کیا کرو خواہ اپنے زیورات ہی میں سے ہو، کیونکہ قیامت کے دن جہنم میں تمہاری تعداد سب سے زیادہ ہوگی۔“ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: الأهوال/حدیث: 8998]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن كسابقه» [ترقيم الرساله 8998]
الحكم على الحديث: صحيح لغيره
حدیث نمبر: 8999
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب الأُمَوي إملاءً، حدثنا أبو عمر أحمد ابن عبد الجبار بن عُمير (3) التَّميمي بالكوفة، حدثنا أبو معاوية، حدثنا الأعمش، عن شَقِيق، عن عمرو بن الحارث بن المُصطَلِق، عن ابن أخي زينبَ امرأةِ عبد الله، عن زينبَ قالت: خَطَبَنا رسولُ الله ﷺ، فقال:"يا معشر النساء، تَصدَّقن ولو من حُليِّكُنَّ، فإنكنَّ أكثرُ أهلِ جهنَّمَ يومَ القيامة". قالت: وكان عبد الله رجلًا خفيفَ ذاتِ اليد، وكان رسول الله ﷺ قد أُلقِيَ عليه المَهابةُ، فقلت له: سَلْ لي رسول الله ﷺ: أيُجزئُ عني من الصدقة النفقةُ على زوجي وأيتامٍ لي في حِجْري؟ قال لنا أبو العباس: وذكر الحديث (4) .
سیدہ زینب رضی اللہ عنہا (سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی زوجہ) سے ان کے بھتیجے کے واسطے سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطبہ دیا تو فرمایا: ”اے عورتوں کی جماعت! صدقہ کیا کرو خواہ اپنے زیورات ہی میں سے ہو، کیونکہ قیامت کے دن جہنم میں تمہاری تعداد سب سے زیادہ ہوگی۔“ سیدہ زینب فرماتی ہیں: سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کم مال والے آدمی تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بڑا رعب و دبدبہ تھا، اس لیے میں نے سیدنا عبداللہ سے کہا: ”آپ میرے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھیے: کیا میرا اپنے شوہر اور میری پرورش میں موجود یتیم بچوں پر خرچ کرنا میری طرف سے صدقہ شمار ہو جائے گا؟“ ابوالعباس نے ہم سے کہا: پھر انہوں نے مکمل حدیث ذکر کی۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: الأهوال/حدیث: 8999]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل أحمد بن عبد الجبار، وهو متابع، ومن فوقه ثقات إلّا أنَّ أبا معاوية» [ترقيم الرساله 8999]
الحكم على الحديث: حديث صحيح
حدیث نمبر: 8999M
فأخبرَناه أبو بكر أحمد بن جعفر بن حَمْدان الزاهد من أصل كتابه، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حَنبَل، حدثني أَبي، حدثنا أبو معاوية، حدثنا الأعمش، عن شَقيق، عن عمرو بن الحارث بن المُصطلِق، عن ابن أخي زينبَ امرأةِ عبد الله، عن زينبَ قالت: خَطَبَنا رسولُ الله ﷺ فقال:"يا معشرَ النساء، تصدَّقن ولو من حُليِّكُنَّ، فإنكنَّ أكثر أهل جهنَّم يومَ القيامة". قالت: وكان عبد الله رجلًا خفيفَ ذاتِ اليد فقلت له: سَلْ لي رسولَ الله ﷺ: أيُجزئُ عني من الصدقة النفقةُ على زوجي وأيتامٍ في حِجْري؟ قالت: وكان رسول الله ﷺ قد أُلقِيتَ عليه المَهابةُ، فقال لي عبد الله: اذهبي فسَلِيه، قالت: فانطلقتُ فانتهيتُ إلى الباب، فإذا عليه امرأةٌ من الأنصار حاجتُها كحاجَتي، قالت: فخرج إلينا بلالٌ فقلنا له: سَلْ لنا رسولَ الله ﷺ: أتُجزئُ عنا من الصدقة النفقةُ على أزواجنا وعلى أيتامٍ في حِجْرنا؟ قالت: فدخل عليه بلالٌ، فقال: على الباب زينبُ، قال:"أيُّ الزَّيانبِ؟" فقال: زينبُ امرأةُ عبد الله، وزينبُ امرأةٌ من الأنصار، يَسألانِك عن النفقة على أزواجهما وأيتامٍ في حُجورِهما: أيُجزئُ ذلك عنهما من الصَّدقة؟ قالت: فخرج إلينا بلالٌ، فقال: قال رسول الله ﷺ:"لهما أَجْرانِ: أَجرُ القَرَابة، وأجرُ الصَّدقة" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة، وتفرَّد مسلم ﵀ بإخراجه مختصرًا!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8784 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة، وتفرَّد مسلم ﵀ بإخراجه مختصرًا!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8784 - على شرط البخاري ومسلم
سیدہ زینب رضی اللہ عنہا سے (سابقہ سند کے ساتھ) روایت ہے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطبہ دیا تو فرمایا: ”اے عورتوں کی جماعت! صدقہ کیا کرو خواہ اپنے زیورات ہی میں سے ہو، کیونکہ قیامت کے دن جہنم میں تمہاری تعداد سب سے زیادہ ہوگی۔“ سیدہ زینب رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کم مال والے آدمی تھے، تو میں نے ان سے کہا: ”آپ میرے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھیے: کیا میرا اپنے شوہر اور میری پرورش میں موجود یتیم بچوں پر خرچ کرنا میری طرف سے صدقہ شمار ہو جائے گا؟“ سیدہ فرماتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بڑا رعب و دبدبہ تھا، اس لیے سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے مجھ سے کہا: ”تم خود جا کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھ لو۔“ وہ فرماتی ہیں: چنانچہ میں چل پڑی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دروازے پر پہنچی، تو وہاں انصار کی ایک عورت بھی موجود تھی جس کا سوال بھی میرے سوال جیسا تھا۔ وہ فرماتی ہیں: سیدنا بلال رضی اللہ عنہ ہمارے پاس نکل کر آئے تو ہم نے ان سے کہا: ”آپ ہمارے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھیے: کیا ہمارا اپنے شوہروں اور ہماری پرورش میں موجود یتیم بچوں پر خرچ کرنا ہماری طرف سے صدقہ شمار ہو جائے گا؟“ سیدہ فرماتی ہیں: تو سیدنا بلال رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی: ”دروازے پر زینب آئی ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”کون سی زینب؟“ انہوں نے عرض کی: ”عبداللہ کی بیوی زینب اور ایک انصاری عورت زینب ہیں، وہ آپ سے اپنے شوہروں اور اپنی پرورش میں موجود یتیم بچوں پر خرچ کرنے کے متعلق پوچھ رہی ہیں کہ کیا ان کا یہ خرچ کرنا ان کی طرف سے صدقہ شمار ہو جائے گا؟“ سیدہ فرماتی ہیں: تو سیدنا بلال رضی اللہ عنہ ہمارے پاس نکل کر آئے اور فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”ان دونوں کے لیے دو اجر ہیں: ایک قرابت داری کا اجر اور دوسرا صدقے کا اجر۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے اس سیاق کے ساتھ روایت نہیں کیا، اور امام مسلم رحمہ اللہ نے اسے مختصراً روایت کرنے میں تفرد اختیار کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: الأهوال/حدیث: 8999M]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے اس سیاق کے ساتھ روایت نہیں کیا، اور امام مسلم رحمہ اللہ نے اسے مختصراً روایت کرنے میں تفرد اختیار کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: الأهوال/حدیث: 8999M]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح،على وهمٍ فيه كما سبق» [ترقيم الرساله 8999M] [ترقيم الشركة 8890] [ترقيم العلميه 8784]
الحكم على الحديث: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 9000
حدثنا أبو إسحاق إبراهيم بن فراس الفقيه بمكة حَرَسَها الله، حدثنا بكر بن سهل الدِّمْياطي، حدثنا عبد الله بن يوسف، حدثنا سعيد بن عبد العزيز التَّنُوخي، عن زياد بن أبي سَوْدة قال: كان عبادةُ بن الصامت على سور بيتِ المَقدِس الشَّرقي يَبكي، فقال بعضهم: ما يبكيك يا أبا الوليد؟ فقال: من هاهنا أخبرنا رسولُ الله ﷺ أنه رأى جهنَّمَ (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8785 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8785 - صحيح
زیاد بن ابی سودہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بیت المقدس کی مشرقی دیوار پر رو رہے تھے، تو ان میں سے کسی نے پوچھا: اے ابوالولید! آپ کو کس چیز نے رلایا؟ تو انہوں نے فرمایا: ”اسی جگہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خبر دی تھی کہ آپ نے جہنم کو دیکھا ہے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: الأهوال/حدیث: 9000]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: الأهوال/حدیث: 9000]
تخریج الحدیث: «رجاله ثقات غير بكر بن سهل الدمياطي فإنه ضعيف، إلَّا أنه لم ينفرد به، فقد روي هذا الخبر من غير وجه عن سعيد بن عبد العزيز عن زياد بن أبي سودة، وزياد هذا روايته عن عبادة مرسلة كما سلف بيانه وتخريجه عند الرواية المتقدمة برقم (3828)» [ترقيم الرساله 9000] [ترقيم الشركة 8891] [ترقيم العلميه 8785]
الحكم على الحديث: رجاله ثقات غير بكر بن سهل الدمياطي فإنه ضعيف
40. صِفَةُ مَاءٍ كَالْمُهْلِ
پگھلے ہوئے تانبے (مہل) جیسے پانی کی صفت کا بیان
حدیث نمبر: 9001
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا بَحْر بن نَصْر، حدثنا عبد الله ابن وهب، أخبرني عمرو بن الحارث، عن دَرّاج، عن أبي الهيثم، عن أبي سعيد، أنَّ رسول الله ﷺ قال:" ﴿مَاءِ كَالْمُهْلِ﴾ [الكهف: 29] : كعَكَر الزَّيت، فإذا قَرَّبَه إلى فيهِ سَقَطَت فَرُوةُ وجهه فيه" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8786 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8786 - صحيح
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (اللہ تعالیٰ کے فرمان) ﴿مَاءِ كَالْمُهْلِ﴾ [سورة الكهف: 29] کے متعلق فرمایا: ”وہ زیتون کے تیل کی تلچھٹ کی طرح ہوگا، پس جب وہ (جہنمی) اسے اپنے منہ کے قریب کرے گا تو اس کے چہرے کی کھال اس میں گر پڑے گی۔“
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: الأهوال/حدیث: 9001]
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: الأهوال/حدیث: 9001]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف لضعف دراج في أبي الهيثم» [ترقيم الرساله 9001] [ترقيم الشركة 8892] [ترقيم العلميه 8786]
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
41. الْفُسَّاقُ النِّسَاءُ
نافرمان عورتوں کا تذکرہ
حدیث نمبر: 9002
أخبرنا إبراهيم بن عِصْمة العَدْل، حدثنا السَّرِيّ بن خُزَيمة، حدثنا مُسلِم بن إبراهيم، حدثنا هشام، عن يحيى بن أبي كَثير، عن أبي راشد الحُبْراني، عن عبد الرحمن بن شِبْل قال: سمعت رسول الله ﷺ يقول:"إِنَّ الفُسّاق هم أهلُ النار" قالوا: يا رسول الله، وما الفُسّاق؟ قال:"النساءُ" قال رجل: يا رسول الله، ألسْنَ أمَّهاتِنا وأخَواتِنا وأزواجَنا؟ قال:"بلى، ولكنَّهنَّ إذا أُعطِينَ لم يَشكُرن، وإذا ابتُلِينَ لم يَصبِرنَ" (3) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8787 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8787 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا عبدالرحمن بن شبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”بے شک فساق (نافرمان) ہی جہنم والے ہیں۔“ صحابہ کرام نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! فساق کون ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عورتیں۔“ ایک شخص نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! کیا یہ ہماری مائیں، ہماری بہنیں اور ہماری بیویاں نہیں ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیوں نہیں! لیکن (اکثر کا حال یہ ہے کہ) جب انہیں کچھ دیا جاتا ہے تو شکر ادا نہیں کرتیں، اور جب انہیں آزمائش میں ڈالا جاتا ہے تو صبر نہیں کرتیں۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: الأهوال/حدیث: 9002]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: الأهوال/حدیث: 9002]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وهذا إسناد رجاله ثقات إلَّا أنه اختلف فيه على يحيى بن أبي كثير كما سلف بيانه عند الحديث رقم (2174)، فهما من حديث واحد، وسلفت هذه القطعة برقم (2808) من رواية معمر عن يحيى بن أبي كثير» [ترقيم الرساله 9002] [ترقيم الشركة 8893] [ترقيم العلميه 8787]
الحكم على الحديث: حديث صحيح
42. ذِكْرُ أَوَّلِ مَنْ حَمَلَ الْعَرَبَ عَلَى عِبَادَةِ الْأَصْنَامِ
عربوں کو بت پرستی پر ابھارنے والے پہلے شخص کا تذکرہ
حدیث نمبر: 9003
أخبرنا عبد الرحمن بن حَمْدان الجَلّاب بهَمَذان، حدثنا هلال بن العلاء الرَّقّي، حدثنا أبي، حدثنا عُبيد الله بن عمرو، عن عبد الله بن محمد بن عَقِيل، عن الطُّفيل بن أُبيِّ بن كعب عن أبيه قال: بَيْنا نحن مع رسول الله ﷺ في صلاة الظُّهر، والناسُ في الصفوف خلفَ رسول الله ﷺ، فرأَينا رسولَ الله ﷺ يتناولُ شيئًا فجعل يتناولُه، فتأخَّر وتأخَّر الناس، ثم تأخَّر الثانيةَ فتأخَّر الناس، فقلت: يا رسول الله، رأيناك صنعتَ اليومَ شيئًا ما كنت تصنعه في الصلاة! فقال:"إنه عُرِضَت عليَّ الجنةُ بما فيها من الزَّهْرة والنَّضْرة، فتناولتُ قِطْفًا من عِنَبِها، ولو أخذتُه لأَكل منه ما بينَ السماء والأرض لا يَنقُصونَه، فحِيلَ بيني وبينَه، وعُرِضَت عليَّ النارُ، فلما وجدتُ سَفْعتها تأخَّرتُ عنها، وأكثرُ مَن رأيت فيها النساءُ، إنِ ائتُمِنَّ أَفَشَينَ، وإن سأَلن ألحَفْنَ، وإذا سُئلنَ بَخِلنَ، وإذا أُعطينَ لم يَشكُرنَ، ورأيت فيها عمرَو بن لُحَيٍّ يَجُرُّ قُصْبَه في النار، وأشبَهُ ما رأيت به مَعبَدُ بنُ أَكثَمَ الكَعْبي (1) " فقال معبدٌ: يا رسول الله، أتخشى عليَّ من شَبَهه، فإنه والدٌ؟ فقال:"لا، أنت مؤمنٌ وهو كافرٌ، وهو أولُ من حَمَلَ العربَ على عبادِة الأصنام" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8788 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8788 - صحيح
طفیل بن ابی بن کعب اپنے والد (سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ظہر کی نماز میں تھے اور لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے صفوں میں تھے، تو ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ کوئی چیز پکڑ رہے ہیں اور آپ اسے مسلسل پکڑنے کی کوشش کر رہے تھے، پھر آپ پیچھے ہٹے تو لوگ بھی پیچھے ہٹ گئے، پھر آپ دوسری مرتبہ پیچھے ہٹے تو لوگ بھی پیچھے ہٹ گئے۔ میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! ہم نے آپ کو آج (نماز میں) ایسا کام کرتے دیکھا ہے جو آپ پہلے نماز میں نہیں کرتے تھے! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھ پر جنت اپنی تمام تر رونقوں اور شادابیوں کے ساتھ پیش کی گئی، تو میں نے اس کے انگوروں کا ایک خوشہ پکڑنے کی کوشش کی، اگر میں اسے پکڑ لیتا تو آسمان و زمین کے درمیان موجود تمام مخلوق بھی اسے کھاتی تو وہ کم نہ ہوتا، مگر میرے اور اس (خوشے) کے درمیان رکاوٹ ڈال دی گئی۔ اور مجھ پر جہنم پیش کی گئی، تو جب میں نے اس کی تپش محسوس کی تو میں اس سے پیچھے ہٹ گیا، اور میں نے اس میں سب سے زیادہ تعداد عورتوں کی دیکھی (کیونکہ ان کا حال یہ ہے کہ) اگر ان کے پاس کوئی امانت (یا راز) رکھا جائے تو اسے افشا کر دیتی ہیں، اگر وہ سوال کریں تو چمٹ جاتی ہیں، اگر ان سے کچھ مانگا جائے تو بخل کرتی ہیں، اور اگر انہیں کچھ دیا جائے تو شکر ادا نہیں کرتیں۔ اور میں نے اس میں عمرو بن لحی کو دیکھا جو جہنم میں اپنی انتڑیاں کھینچ رہا تھا، اور میں نے اسے معبد بن اکثم کعبی کے سب سے زیادہ مشابہ پایا۔“ تو معبد نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! کیا آپ کو مجھ پر اس کی مشابہت کی وجہ سے کوئی اندیشہ ہے، کیونکہ وہ (میرا) باپ (یعنی جدِ امجد) ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، تم مومن ہو اور وہ کافر تھا، اور وہ پہلا شخص ہے جس نے عربوں کو بت پرستی پر لگایا۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: الأهوال/حدیث: 9003]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: الأهوال/حدیث: 9003]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، لتفرد عبد الله بن محمد بن عقيل به بهذه السياقة واضطرابه في إسناده، فكان مرة يجعله من حديثه عن الطفيل بن أُبي عن أبيه، ومرة من حديثه عن جابر بن عبد الله، وهذا هو المحفوظ» [ترقيم الرساله 9003] [ترقيم الشركة 8894] [ترقيم العلميه 8788]
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
43. لَا يَضُرُّ شَبَهُ الْمُسْلِمُ بِالْكَافِرِ
مسلمان کا کافر کے مشابہ ہونا (نادانستہ طور پر) نقصان دہ نہیں
حدیث نمبر: 9004
أخبرني أبو عبد الرحمن بن أبي الوَزير، حدثنا أبو حاتم الرّازي، حدثنا محمد بن عبد الله الأنصاري، حدثنا محمد بن عمرو، عن أبي سَلَمة، عن أبي هريرة قال: قال رسول الله ﷺ:"عُرِضَت عليَّ النارُ، فرأيتُ فيها عمرَو بنَ قَمَعَة بنِ خِندِفَ أبو عمرو، وهو يَجُرُّ قُصْبَه في النار، وهو أول من سَيَّبَ السَّوائب، وغَيَّر عهدَ إبراهيم ﵇، وأشبه من رأيتُ به أكثمُ بن أبي الجَوْن" قال: فقال أكثمُ: يا رسول الله، يَضرُّني شَبَهُه؟ قال:"لا، إنك مسلمٌ وإنه كافرٌ" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8789 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8789 - على شرط مسلم
ابوسلمہ، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھ پر جہنم پیش کی گئی، تو میں نے اس میں عمرو بن قمعہ بن خندف یعنی ابوعمرو کو دیکھا، اور وہ جہنم میں اپنی انتڑیاں کھینچ رہا تھا، اور وہ پہلا شخص ہے جس نے (بتوں کے نام پر) سائبہ (جانور) چھوڑے اور سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے دین (عہد) کو تبدیل کیا، اور میں نے اسے اکثم بن ابی الجون کے سب سے زیادہ مشابہ پایا۔“ راوی کہتے ہیں کہ اکثم نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! کیا اس کی مشابہت مجھے کوئی نقصان پہنچائے گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، یقیناً تم مسلمان ہو اور وہ کافر تھا۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: الأهوال/حدیث: 9004]
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: الأهوال/حدیث: 9004]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن، من أجل محمد بن عمرو: وهو ابن علقمة الليثي أبو حاتم الرازي: هو محمد بن إدريس بن المنذر، وأبو سلمة هو ابن عبد الرحمن بن عوف» [ترقيم الرساله 9004] [ترقيم الشركة 8895] [ترقيم العلميه 8789]
الحكم على الحديث: إسناده حسن
حدیث نمبر: 9005
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا بَحر بن نَصر الخَوْلاني، حدثنا عبد الله بن وهب، أخبرني عمرو بن الحارث، عن دَرّاج، عن أبي الهيثم، عن أبي سعيد، أنَّ رسول الله ﷺ قال:"إذا كان يوم القيامةِ عُرَّفَ (1) الكافِرُ بعملِهِ فَجَحَدَ وخاصمَ، فيقول له: جيرانك يَشهَدون عليك، فيقول: كَذَّبوا، فيقال: أهلُك وعشيرتُك، فيقول: كَذَبوا، فيقال: احْلِفُوا، فيَحلِفون، ثم يُصمِتُهم اللهُ، ويَشْهَدُ عليهم ألسنتُهم، فيُدخِلُهم النارَ" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8790 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8790 - على شرط مسلم
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب قیامت کا دن ہوگا تو کافر کو اس کے اعمال دکھائے جائیں گے، تو وہ انکار کرے گا اور جھگڑے گا۔ اس سے کہا جائے گا: تمہارے پڑوسی تم پر گواہی دے رہے ہیں، تو وہ کہے گا: انہوں نے جھوٹ بولا ہے۔ پھر کہا جائے گا: تمہارے گھر والے اور تمہارا خاندان (گواہی دے رہا ہے)، تو وہ کہے گا: انہوں نے جھوٹ بولا ہے۔ پھر کہا جائے گا: تم قسم کھاؤ، تو وہ قسم کھا لیں گے۔ پھر اللہ تعالیٰ انہیں خاموش کر دے گا اور ان کی زبانیں ان کے خلاف گواہی دیں گی، پھر وہ انہیں جہنم میں داخل فرما دے گا۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: الأهوال/حدیث: 9005]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: الأهوال/حدیث: 9005]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف لضعف درّاج في أبي الهيثم» [ترقيم الرساله 9005] [ترقيم الشركة 8896] [ترقيم العلميه 8790]
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف