🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
26. يَرِدُ النَّاسُ النَّارَ ثُمَّ يَصْدُرُونَ عَنْهَا بِأَعْمَالِهِمْ .
لوگ دوزخ پر وارد ہوں گے پھر اپنے اعمال کے مطابق وہاں سے نکلیں گے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8958
حدَّثَنيه أبو علي الحافظ، حدثنا أبو عبد الرحمن النَّسَائي، حدثنا محمد بن المثَّنى، حدثنا عبد الرحمن بن مَهْدي، حدثنا شُعبة، عن السُّدّي، عن مُرّة، عن عبد الله: ﴿وَإِنْ مِنْكُمْ إِلَّا وَارِدُهَا﴾ قال: يَرِدُونها ثم يَصدُرون عنها بأعمالِهم. قال عبد الرحمن بن مَهْدي: فحدَّثتُ شعبةَ عن إسرائيلَ عن السُّدِّي عن مُرّة عن عبد الله مرفوعًا عن النبي ﷺ، [قال: شعبةُ وقد سمعتُه من السُّدّي مرفوعًا] (1) ولكني أَدَعُه عَمْدًا (2) .
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے اللہ تعالیٰ کے فرمان ﴿وَإِنْ مِنْكُمْ إِلَّا وَارِدُهَا﴾ کے متعلق روایت ہے، انہوں نے فرمایا: لوگ اس پر وارد ہوں گے، پھر اپنے اعمال کے بقدر اس سے پار ہو جائیں گے۔ عبدالرحمن بن مہدی کہتے ہیں: میں نے شعبہ سے یہ حدیث بطریق اسرائیل، سدی، مرہ اور عبداللہ کے واسطے سے مرفوعاً نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے بیان کی، تو شعبہ نے کہا: میں نے بھی اسے سدی سے مرفوعاً سنا ہے لیکن میں نے جان بوجھ کر اسے (مرفوع بیان کرنے کو) ترک کر دیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: الأهوال/حدیث: 8958]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن» [ترقيم الرساله 8958] [ترقيم الشركة 8849]

الحكم على الحديث: إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8959
حدثني علي بن حَمْشَاذَ العَدْل، حدثنا إسماعيل بن إسحاق القاضي والحسين بن الفضل البَجَلي، حدثنا سليمان بن حرب، حدثنا أبو صالح غالب بن سليمان، عن كَثير بن زيادٍ أبي سهل، عن مُسَّةَ الأزْديَّة، عن عبد الرحمن بن شَيْبة قال: اختلَفْنا هاهنا في الوُرود، فقال قوم: لا يدخلُها مؤمنٌ، وقال آخرون: يدخلونها جميعًا ثم يُنجِّي الله الذين اتَّقَوا [فَلَقِيتُ جابر بن عبد الله فسألته، فقال: يدخلونها جميعًا ثم يُنجي الله الذين اتَّقَوا] (3) فقلت له: إنا اختلفنا فيها بالبصرة، فقال قوم: لا يدخلُها مؤمنٌ، وقال آخرون: يدخلونها جميعًا ثم ينجِّي الله الذين اتَّقَوْا، فأهوى بإصبَعيهِ إلى أُذنيه فقال: صُمَّتا إن لم أكن سمعتُ رسول الله ﷺ يقول:"الوُرودُ الدخولُ، لا يبقى بَرٌّ ولا فاجرٌ إلَّا دخلها، فتكون على المؤمن بردًا وسلامًا كما كانت على إبراهيمَ، حتى إنَّ للنار - أو قال: لجهنَّم - ضجيجًا من بَرْدِها (4) ، قال: ثم يُنجِّي اللهُ الذين اتَّقَوْا وَيَذَرُ الظالمين فيها جِثِيًّا" (5)
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8744 - صحيح
عبدالرحمن بن شیبہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ہمارا یہاں (آیت میں مذکور لفظ) ورود (وارد ہونے) کے متعلق اختلاف ہو گیا، تو ایک گروہ نے کہا کہ اس میں کوئی مومن داخل نہیں ہوگا، اور دوسروں نے کہا کہ وہ سب اس میں داخل ہوں گے، پھر اللہ تعالیٰ پرہیزگاروں کو نجات دے گا۔ میں سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے ملا تو ان سے اس بارے میں پوچھا، تو انہوں نے فرمایا: وہ سب اس میں داخل ہوں گے، پھر اللہ پرہیزگاروں کو نجات دے گا۔ میں نے ان سے عرض کی: ہمارا بصرہ میں اس بارے میں اختلاف ہوا ہے، ایک گروہ کہتا ہے کہ کوئی مومن اس میں داخل نہیں ہوگا، اور دوسرے کہتے ہیں کہ سب داخل ہوں گے، پھر اللہ متقیوں کو نجات دے گا۔ یہ سن کر انہوں نے اپنی دونوں انگلیاں اپنے کانوں کی طرف کیں اور فرمایا: میرے یہ دونوں کان بہرے ہو جائیں اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے نہ سنا ہو: ورود سے مراد داخل ہونا ہے، کوئی نیک اور بد ایسا باقی نہیں رہے گا جو اس میں داخل نہ ہو، مگر وہ (آگ) مومن پر اس طرح ٹھنڈک اور سلامتی بن جائے گی جیسے وہ ابراہیم (علیہ السلام) پر بن گئی تھی، یہاں تک کہ اس کی ٹھنڈک کی وجہ سے آگ کی، یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جہنم کی، چیخ و پکار سنائی دے گی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر اللہ پرہیزگاروں کو نجات دے گا اور ظالموں کو اس میں گھٹنوں کے بل گرا ہوا چھوڑ دے گا۔
اس حدیث کی سند صحیح ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: الأهوال/حدیث: 8959]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف لجهالة مسة الأزدية، ولاضطراب كثير بن زياد فيه» [ترقيم الرساله 8959] [ترقيم الشركة 8850] [ترقيم العلميه 8744]

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف لجهالة مسة الأزدية
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8960
أخبرنا أبو بكر محمد بن عبد الله بن الجرّاح العَدْل بمَرُو، حدثنا يحيى بن ساسَوَيهِ، حدثنا علي بن حُجْر، حدثنا داود بن الزِّبْرِقان، عن إسماعيل بن أبي خالد، عن الشَّعبي، عن مُرّة الهَمْداني: أنَّ ابن مسعود سُئل عن قوله ﷿: ﴿وَإِنْ مِنْكُمْ إِلَّا وَارِدُهَا﴾، قال: وإن منكم إلَّا داخِلُها ﴿كَانَ عَلَى رَبِّكَ حَتْمًا مَقْضِيًّا﴾ ثم يُنجِّي الله الذين اتقوا ويذرُ الظالمين فيها جِثِيًّا (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8745 - داؤد بن الزبر تركه أبو داود
مرہ ہمدانی سے روایت ہے کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے اللہ عزوجل کے اس فرمان ﴿وَإِنْ مِنْكُمْ إِلَّا وَارِدُهَا﴾ [سورة مريم: 71] کے متعلق پوچھا گیا، تو انہوں نے فرمایا: اور تم میں سے کوئی (ایسا) نہیں مگر وہ اس میں داخل ہونے والا ہے۔ ﴿كَانَ عَلَى رَبِّكَ حَتْمًا مَقْضِيًّا﴾ یہ آپ کے رب پر لازم اور طے شدہ بات ہے۔ [سورة مريم: 71] (پھر فرمایا:) پھر اللہ پرہیزگاروں کو نجات دے گا اور ظالموں کو اس میں گھٹنوں کے بل گرا ہوا چھوڑ دے گا۔
اس حدیث کی سند صحیح ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: الأهوال/حدیث: 8960]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف جدًّا من أجل داود بن الزبرقان، فإنه متروك الحديث» [ترقيم الرساله 8960] [ترقيم الشركة 8851] [ترقيم العلميه 8745]

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف جدًّا من أجل داود بن الزبرقان
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8961
حدثنا أبو زكريا يحيى بن محمد العَنبَري وعلي بن عيسى بن إبراهيم قالا: حدثنا أبو عبد الله محمد بن إبراهيم العبدي، حدثنا عُبَيد بن عَبِيدة القُرشي، حدثنا المُعتمِر بن سليمان قال: سمعت أبي يقول: حدثنا قَتادة، عن عُقْبة بن عبد الغافر، عن أبي سعيد الخُدْري، أنَّ رسول الله ﷺ قال:"لَيَأْخُذَنَّ (2) رجلٌ بيد أَبيه يومَ القيامة، فلُيقطِّعنَّه النارَ يريد أن يُدخِلَه الجنةَ، قال: فيُنادَى: إِنَّ الجنةَ لا يَدخلُها مشركٌ، ألا إِنَّ الله قد حرَّمَ الجنةَ على كل مشركٍ، قال: فيقول: أيْ ربِّ، أَبي، فيُحوَّل في صورة قبيحةٍ وريحٍ مُنتِنة، فيتركُه". قال: فكان أصحابُ رسولَ الله ﷺ يرونَ أنه إبراهيمُ ﵇، ولم يَزِدْهم رسولُ الله ﷺ على ذلك (3) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8746 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن ایک شخص اپنے والد کا ہاتھ پکڑے گا، اور اسے آگ سے پار کراتے ہوئے یہ چاہے گا کہ اسے جنت میں داخل کر دے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پس آواز دی جائے گی: بے شک جنت میں کوئی مشرک داخل نہیں ہو سکتا، سن لو! بے شک اللہ نے ہر مشرک پر جنت کو حرام کر دیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو وہ عرض کرے گا: اے میرے رب! (یہ) میرے والد (ہیں)۔ چنانچہ اس کے والد کو ایک نہایت قبیح اور بدبودار صورت میں تبدیل کر دیا جائے گا، تو وہ اسے چھوڑ دے گا۔ راوی کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام کا یہ خیال تھا کہ وہ شخص سیدنا ابراہیم علیہ السلام ہیں، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے اس سے زیادہ کچھ بیان نہیں فرمایا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: الأهوال/حدیث: 8961]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح» [ترقيم الرساله 8961] [ترقيم الشركة 8852] [ترقيم العلميه 8746]

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8962
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا سعيد بن محمد الحَجْواني بالكوفة، حدثنا وكيع بن الجرَّاح، حدثنا إسماعيل بن أبي خالد، عن قيس بن أبي حازم قال: بَكَى عبد الله بن رَوَاحة فبَكَت، امرأتُه فقال: ما يُبكيكِ؟ قالت: رأيتُك تبكي فبكيتُ، قال: إني نُبِّئتُ أني واردُها، ولم أُنبَّأْ أني صادرٌ (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين ولم يُخرجاه.
قیس بن ابی حازم سے روایت ہے، انہوں نے کہا: سیدنا عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ روئے تو ان کی بیوی بھی رونے لگی۔ انہوں نے اس سے پوچھا: تمہیں کس چیز نے رلایا؟ اس نے کہا: میں نے آپ کو روتے دیکھا تو میں بھی رو پڑی۔ انہوں نے فرمایا: مجھے یہ خبر تو دی گئی ہے کہ میں اس (جہنم) پر وارد ہونے والا (پل صراط سے گزرنے والا) ہوں، لیکن یہ خبر نہیں دی گئی کہ میں اس سے پار ہونے والا بھی ہوں۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: الأهوال/حدیث: 8962]
تخریج الحدیث: «رجاله ثقات غير سعيد بن محمد الحجواني، فقد ضعَّفه الدارقطني كما في "سؤالات الحاكم له" (109)، لكنه لم ينفرد به» [ترقيم الرساله 8962] [ترقيم الشركة 8853]

الحكم على الحديث: رجاله ثقات غير سعيد بن محمد الحجواني
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8963
حدثنا أبو العباس محمد بن علي بن عبد الحميد الصَّنعاني بمكَّة حَرَسَها الله، حدثنا إسحاق بن إبراهيم الدَّبَري، أخبرنا عبد الرزاق، أخبرنا ابن عُيَينة، عن إسماعيل بن أبي خالد، عن قيس بن أبي حازم قال: كان عبدُ الله بن رَوَاحةً واضعًا رأسَه في حَجْرِ امرأتِه، فبكى فبَكَت امرأتُه فقال: ما يُبكيكِ؟ قالت: رأيتُك تبكي فبكيتُ، قال: إني ذكرتُ قول الله ﷿: ﴿كَانَ عَلَى رَبِّكَ حَتْمًا مَقْضِيًّا﴾ فلا أدري أنَنجُو منها أم لا (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8748 - فيه إرسال
قیس بن ابی حازم سے روایت ہے، انہوں نے کہا: سیدنا عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ اپنی بیوی کی گود میں سر رکھے ہوئے تھے کہ وہ رو پڑے، تو ان کی بیوی بھی رونے لگی۔ انہوں نے اس سے پوچھا: تمہیں کس چیز نے رلایا؟ اس نے کہا: میں نے آپ کو روتے دیکھا تو میں بھی رو پڑی۔ انہوں نے فرمایا: مجھے اللہ عزوجل کا یہ فرمان یاد آ گیا: ﴿كَانَ عَلَى رَبِّكَ حَتْمًا مَقْضِيًّا﴾ یہ آپ کے رب پر لازم اور طے شدہ بات ہے۔ [سورة مريم: 71] تو مجھے نہیں معلوم کہ ہم اس (آگ) سے نجات پائیں گے یا نہیں۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: الأهوال/حدیث: 8963]
تخریج الحدیث: «رجاله ثقات. وهو في "تفسير عبد الرزاق" 2/ 10» [ترقيم الرساله 8963] [ترقيم الشركة 8854] [ترقيم العلميه 8748]

الحكم على الحديث: رجاله ثقات.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
27. رُجُوعُ النَّاسِ لِلشَّفَاعَةِ إِلَى الْأَنْبِيَاءِ عَلَيْهِمُ السَّلَامُ
لوگوں کا سفارش (شفاعت) کے لیے انبیاء علیہم السلام کی طرف رجوع کرنا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8964
أخبرني أبو العباس محمد بن أحمد المحبُوبي بمَرْو، حدثنا سعيد بن مسعود، حدثنا يزيد بن هارون، أخبرنا أبو مالك سعد بن طارق الأشجَعيّ، عن رِبْعيّ بن حِرَاش، عن حُذَيفة بن اليَمَان وأبي هريرة قالا: قال رسول الله ﷺ:"يَجمَعُ اللَّهُ الناسَ، فيقومُ المؤمنون حين تُزلَفُ الجنةُ، فيأتون آدمَ ﵇ فيقولون: يا أبانا، استفِتحْ لنا الجنةَ، فيقول: وهل أخرَجَكم من الجنة إلَّا خطيئةُ أبيكم؟ لستُ بصاحب ذاكَ، اعْمِدُوا إلى إبراهيمَ خليلِ ربِّه، فيقول إبراهيم: لستُ بصاحبِ ذاك، إنما كنتُ خليلًا من وراءَ وراءَ، اعمِدُوا إلى النبي موسى الذي كَلَّمه اللهُ تكليمًا، فيأتون موسى فيقول: لستُ بصاحبِ ذاك، اذهبوا إلى كلمةِ الله ورُوحِه عيسى، فيقول عيسى: لستُ بصاحبِ ذاك، فيأتون محمدًا ﷺ، فيقومُ فيُؤذَنُ له، ويُرسَل معه الأمانةُ والرَّحِمُ، فيقفانِ بالصِّراط يمينَه وشِمالَه، فيمرُّ أوّلُكم كمَرِّ البَرْق" قلت: بأبي وأمِّي، أيُّ شيءٍ مرُّ البرق؟ قال:"ألم ترَ إلى البرقِ كيف يمرُّ ثم يَرجِعُ في طَرْفةٍ، ثم كمَرِّ الريح، ومرِّ الطَّيرِ، وشدِّ الرِّجال تَجْري بهم أعمالُهم، ونبيُّكم قائمٌ على الصِّراط: ربِّ سلِّمْ سلِّمْ، قال: حتى تُعجِزَ أعمالُ الناس، حتى يجيءَ الرجلُ فلا يستطيع أن يمرَّ إِلَّا زَحْفًا، قال: وفي حافَتَيِ الصراطِ كلاليبُ معلَّقةٌ مأمورةٌ تأخذ من أُمِرَت به، فمخدوشٌ ناج، ومُكردَسٌ في النار". والذي نفسُ أبي هريرة بيدِه إن قَعْرَ جَهَنَّمَ لِسبعينَ خريفًا (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8749 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا حذیفہ بن یمان اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ لوگوں کو جمع فرمائے گا، تو جب جنت (اہلِ تقویٰ کے) قریب لائی جائے گی تو مومن کھڑے ہوں گے، وہ سیدنا آدم علیہ السلام کے پاس آئیں گے اور عرض کریں گے: اے ہمارے باپ! ہمارے لیے جنت کا دروازہ کھلوائیے، وہ فرمائیں گے: تمہیں تمہارے باپ کی خطا ہی نے تو جنت سے نکالا تھا؟ میں اس منصب کا اہل نہیں، تم اللہ کے خلیل سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے پاس جاؤ، سیدنا ابراہیم علیہ السلام فرمائیں گے: میں اس کا اہل نہیں، میں تو بصد عجز دور سے خلیل تھا، تم اللہ کے نبی سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے پاس جاؤ جن سے اللہ نے براہِ راست کلام فرمایا تھا، وہ سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے پاس آئیں گے تو وہ فرمائیں گے: میں اس کا اہل نہیں، تم اللہ کے کلمے اور اس کی روح سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کے پاس جاؤ، سیدنا عیسیٰ علیہ السلام فرمائیں گے: میں اس کا اہل نہیں، پھر وہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں گے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم (مقامِ شفاعت پر) کھڑے ہوں گے اور آپ کو اجازت دے دی جائے گی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ امانت اور صلہ رحمی کو بھیجا جائے گا، وہ پل صراط کے دائیں اور بائیں جانب کھڑی ہو جائیں گی، پس تم میں سے پہلا گروہ بجلی کی چمک کی طرح گزرے گا۔ (راوی کہتے ہیں کہ) میں نے عرض کی: میرے ماں باپ آپ پر قربان! بجلی کی چمک کی طرح گزرنے سے کیا مراد ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم نے بجلی کو نہیں دیکھا کہ وہ کس طرح پلک جھپکتے گزر کر واپس آ جاتی ہے؟ پھر ہوا کے گزرنے کی طرح، پھر پرندے کے اڑنے کی طرح اور تیز رفتار آدمیوں کے دوڑنے کی طرح، ان کے اعمال انہیں لے کر چلیں گے، اور تمہارے نبی پل صراط پر کھڑے یہ دعا کر رہے ہوں گے: «رَبِّ سَلِّمْ سَلِّمْ» اے میرے رب! سلامت رکھ، سلامت رکھ۔ یہاں تک کہ لوگوں کے اعمال عاجز آ جائیں گے، یہاں تک کہ ایک آدمی آئے گا تو وہ گھسٹنے کے سوا گزرنے کی طاقت نہیں رکھے گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پل صراط کے دونوں کناروں پر لٹکے ہوئے آنکڑے ہوں گے جنہیں حکم ہوگا کہ وہ ان لوگوں کو اچک لیں جن کے بارے میں انہیں حکم دیا گیا ہے، پس کوئی زخمی ہو کر نجات پا جائے گا اور کوئی جہنم میں اوندھا گرا دیا جائے گا۔ اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں ابوہریرہ کی جان ہے! جہنم کی گہرائی ستر سال کی مسافت ہے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: الأهوال/حدیث: 8964]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، لكن ذكر أبي هريرة مجموعًا إلى حذيفة فيه من رواية ربعي بن حراش عنهما وهمٌ، وهمَ فيه مَن دون أبي مالك الأشجعي، والصواب أن لأبي مالك فيه إسنادين» [ترقيم الرساله 8964] [ترقيم الشركة 8855] [ترقيم العلميه 8749]

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8965
حدثنا أبو القاسم عبد الرحمن بن الحسن القاضي بهَمَذان، حدثنا إبراهيم بن الحسين، حدثنا آدم بن أبي إياس، حدثنا حمّاد بن سَلَمة، عن أيوب السَّخِتياني، عن ابن سِيرين، عن أبي هريرة قال: قال رسول الله ﷺ:"يَلقَى رجلٌ أباه يومَ القيامة، فيقول له: يا أبتِ، أيَّ ابنٍ كنت لك؟ فيقول: خيرَ ابنٍ، فيقول: هل أنت مُطيعي اليومَ؟ فيقول: نعم، فيقول: خُذْ بإزْرَتي، فيأخذُ بإزرتِه، ثم ينطلقُ حتى يأتيَ الله ﵎ وهو يَعرِضُ الخلقَ، فيقول: يا عَبْدي ادخُلْ من أيِّ أبوابِ الجنة شئتَ، فيقول: أي ربِّ، فأَبي معي؟ فإنك وعدتني أن لا تُخزِيَني، قال: فيُعرِضُ عنه، ثم يقول يا عبدي، ادخُلْ من أيِّ أبوابِ الجنة شئتَ، فيقول: أي ربِّ، فأَبي معي؟ فإنك وعدتَني أن لا تُخزِيَني، قال: فيُعرِضُ عنه، ثم يقول: يا عبدي، ادخُل من أيِّ أبوابِ الجنة شئتَ، فيقول: أيْ ربِّ، وأَبي معي؟ فإنك وعدتنَي أن لا تُخزِيَني، قال: فيَمَسَخُ الله أباه ضَبُعًا، فيَهوِي في النار، فيأخذُ بأنفِه، فيقول الله ﵎: يا عَبْدي، أبوك هو؟ فيقول: لا وعِزَّتِك" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8750 - على شرط مسلم
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن ایک شخص اپنے باپ سے ملے گا، تو اس سے کہے گا: اے میرے باپ! میں آپ کا کیسا بیٹا تھا؟ وہ کہے گا: بہترین بیٹا۔ بیٹا کہے گا: کیا آج آپ میری بات مانیں گے؟ وہ کہے گا: ہاں۔ بیٹا کہے گا: میرا تہبند پکڑ لیں۔ چنانچہ وہ اس کا تہبند پکڑ لے گا، پھر وہ چلے گا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کے دربار میں آئے گا جبکہ اللہ مخلوق کو اپنے سامنے پیش کر رہا ہوگا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: اے میرے بندے! تو جنت کے جس دروازے سے چاہے داخل ہو جا۔ وہ عرض کرے گا: اے میرے رب! کیا میرے والد بھی میرے ساتھ (داخل ہوں گے)؟ کیونکہ تو نے مجھ سے وعدہ فرمایا تھا کہ تو مجھے رسوا نہیں کرے گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو اللہ تعالیٰ اس سے اعراض فرمائے گا۔ پھر فرمائے گا: اے میرے بندے! تو جنت کے جس دروازے سے چاہے داخل ہو جا۔ وہ عرض کرے گا: اے میرے رب! کیا میرے والد بھی میرے ساتھ؟ کیونکہ تو نے مجھ سے وعدہ فرمایا تھا کہ تو مجھے رسوا نہیں کرے گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو اللہ تعالیٰ اس سے پھر اعراض فرمائے گا۔ پھر فرمائے گا: اے میرے بندے! تو جنت کے جس دروازے سے چاہے داخل ہو جا۔ وہ پھر عرض کرے گا: اے میرے رب! اور میرے والد بھی میرے ساتھ؟ کیونکہ تو نے مجھ سے وعدہ فرمایا تھا کہ تو مجھے رسوا نہیں کرے گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو اللہ تعالیٰ اس کے باپ کو بجو (ایک قسم کے جانور) کی شکل میں مسخ کر دے گا، تو وہ جہنم میں گر پڑے گا اور اسے اس کی ناک سے پکڑ لیا جائے گا۔ تب اللہ تعالیٰ فرمائے گا: اے میرے بندے! کیا یہ تیرا باپ ہے؟ وہ عرض کرے گا: نہیں، تیری عزت کی قسم!
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: الأهوال/حدیث: 8965]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف شيخ المصنف عبد الرحمن بن الحسن القاضي، لكنه متابع» [ترقيم الرساله 8965] [ترقيم الشركة 8856] [ترقيم العلميه 8750]

الحكم على الحديث: حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
28. تَقْسِيمُ النُّورِ عَلَى قَدْرِ أَعْمَالِهِمْ
نور کی تقسیم لوگوں کے اعمال کے مطابق ہوگی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8966
أخبرني أبو جعفر محمد بن دُحَيم الشَّيباني بالكوفة من أصل كتابه، حدثنا أحمد بن حازم بن أبي غَرَزة الغفاري، حدثنا مالك بن إسماعيل النَّهْدي، حدثنا عبد السلام بن حَرْب، حدثنا يزيد بن عبد الرحمن أبو خالد الدَّالَاني، حدثنا المِنهال بن عمرو، عن أبي عُبَيدة عن مسروق، عن عبد الله بن مسعود، أنَّ رسول الله ﷺ قال:"يَجمَعُ الله الناسَ يومَ القيامة، فينادي منادٍ: يا أيها الناس، ألم ترضَوا من ربِّكم الذي خلقكم وصوِّركم ورَزَقكم أن يُولّيَ كلَّ إنسانٍ ما كان يعبدُ في الدنيا ويتولَّى، أليس ذلك عَدْلٌ من ربِّكم؟ قالوا: بلى، قال: فينطلقُ كلُّ إنسانٍ منكم إلى ما كان يتولَّى في الدنيا، ويُمثَّلُ لهم ما كانوا يَعبُدون في الدنيا، وقال: يُمثَّلُ لمن كان يعبدُ عيسى شيطانُ عيسى، ويُمثَّل لمن كان يعبدُ عُزَيرًا شيطانُ عُزير، حتى يُمثَّلَ لهم الشجرُ والعودُ والحجرُ، ويبقى أهلُ الإسلام جُثومًا، فيقول لهم: ما لكم لم تَنطلِقوا كما انطلق الناس؟ فيقولون: إنَّ لنا ربًّا ما رأَيناه بعدُ، قال: فيقول: فبِمَ تعرفون ربَّكم إن رأيتُموه؟ قالوا: بيننا وبينَه علامةٌ، إنْ رأيَناه عَرَفْناه، قال: وما هي؟ (1) فيُكشَف عن ساقٍ قال: فيَخِرُّ (2) كلُّ من كان لظَهرِه طَبَقٌ ساجدًا، ويبقى قومٌ ظهورُهم كصَيَاصي بقرٍ، يريدون السجودَ فلا يستطيعون. قال: ثم يُؤمَرون فيَرفعون رؤوسهم، فيُعطَون نورهم على قَدْرِ أعمالهم، فمنهم من يُعطَى نورَه مثل الجبل بين يديه، ومنهم من يُعطَى نورَه دونَ ذلك، ومنهم من يُعطَى نورَه مثلَ النَّخْلة بيمينه، ومنهم من يُعطَى دون ذلك، حتى يكونَ آخرُ ذلك يُعطَى نورَه على إبهام قدمه، يُضيءُ مرّةً ويَطفَأُ مرّةً، فإذا أضاء قدَّم قدمه، وإذا طَفِئَ قام، فيمرُّون على الصِّراط، والصراطُ كحدِّ السيف، دَحْضٌ مَزَلَّةٌ، قال: فيقال انجُوا على قَدْر نورِكم، فمنهم من يمرُّ كانقِضَاض الكوكب، ومنهم من يمرُّ كالرِّيح، ومنهم من يمرُّ كشدِّ الرَّجُل ويَرمُل رَمَلًا، فيمرُّون على قَدْر أعمالهم، حتى يمرَّ الذي نورُه على إبهام قدمه، تَخِرُّ يدٌ وتَعلَقُ يدٌ، وتَخِرُّ رجلٌ وتَعلَقُ رجلٌ، فتصيبُ جوانبه النارُ. قال: فيَخلُصون، فإذا خَلَصُوا قالوا: الحمدُ لله الذي نجَّانا منكِ بعدَ إذ رأيناكِ، فقد أعطانا اللهُ ما لم يُعطِ أحدًا. فينطلقون إلى ضَحْضاحٍ (1) عند باب الجنة [فيغتسلون، فيعودُ إليهم ريحُ أهلِ الجنة وألوانهم، ويَرَونَ من خَلَلِ باب الجنة] (2) وهو مُصفَقٌ منزلًا في أدنى الجنة، فيقولون: ربَّنا أعطِنا ذلكَ المنزل، قال: فيقول لهم: تسألوني الجنةَ (3) وقد نَجَّيتُكم من النارِ؟! [فيقولون: ربَّنا، أعطناه، اجعَلْ بيننا وبين النار] هذا البابَ، لا [نسمعُ] حَسِيسَها، فيقول لهم: لعلَّكم إن أُعطِيتُموه أن تسألوني غيرَه؟ قال: فيقولون: لا وعزَّتِك لا نسألُك غيرَه، وأيُّ منزلٍ يكون أحسنَ منه؟ قال: فيُعطَوْهُ، فيُرفَعُ لهم أمامَ ذلك منزلٌ آخرُ، كأنَّ الذي أُعطُوه قبل ذلك حُلْمٌ عند الذي رأَوْا، قال: [فيقولون: ربَّنا، أَعطِنا ذلك المنزل، فيقول لهم: لعلَّكم إن أُعطِيتُموه أن تسألوني غيَره؟] فيقولون: لا وعزَّتِك لا نسألُك غيره، وأيُّ منزلٍ أحسنُ منه؟ ثم يَسكُتون، قال: فيقال لهم: ما لكم لا تَسألون؟ فيقولون: ربَّنا قد سألْنا حتى استَحْيَينا، قال: فيقول لهم: ألم تَرضَوا أني أعطيتُكم مثل الدنيا منذُ يومِ خلقتُها إلى يومِ أفنيتُها وعَشَرة أضعافها". قال: قال مسروق: فما بَلَغَ عبد الله هذا المكانَ من الحديث إِلَّا ضَحِكَ، قال: فقال له: رجل يا أبا عبد الرحمن، لقد حدَّثت بهذا الحديث مِرارًا، فما بلغتَ هذا المكان من هذا الحديث إلَّا ضحكت قال: فقال عبد الله: سمعت رسول الله ﷺ يحدِّث بهذا الحديث مِرارًا، فما بلغ هذا المكان من هذا الحديث إلَّا ضحك حتى تَبدُوَ لَهَواتُه ويَبدُوَ آخرُ ضِرسٍ من أضراسه، لقول إنسان: [أتهزأُ بي وأنتَ المَلِكُ؟] (4) قال: فيقول الربُّ ﵎: لا، ولكنِّي على ذلك قادرٌ، فسَلُوني، قال: فيقولون: ربَّنا ألحِقْنا الناسَ [فيقول لهم: الحَقُوا الناسَ] (3) . قال: فينطلقون يَرمُلون في الجنة حتى يبدوَ للرجل منهم قصرٌ من دُرّةٍ مجوَّفةٍ، قال: فيَخِرُّ ساجدًا، قال: فيقال له: ارفَعْ رأسَك، فيَرفعُ رأسَه، فيقال: إِنَّما هذا منزلٌ من منازلِك، قال: فيَنطلقُ فيَستقبِلُه رجلٌ فيقول: أنت مَلِكٌ أو مَلَك؟ فيقال: إنما ذلك قَهرمانٌ من قَهارِمتِك، عبدٌ من عبيدِك، قال: فيأتيه فيقول: إنما أنا قَهرمانٌ من قهارمتِك على هذا القصر، تحت يدي ألفُ قَهرمان، كلُّهم على ما أنا عليه، قال: فيَنطلِق به عند ذلك حتى يفتحَ القصر، وهو دُرَّةٌ مجوَّفةٌ سقائفُها وأبوابُها وأغلاقُها ومفاتيحُها منها، فيفتحُ له القصر، فيستقبلُه جوهرةٌ خضراءُ مبطَّنةٌ بحمراءَ سبعون ذراعًا، فيها ستون بابًا، كلُّ بابٍ يُفْضي إلى جوهرة واحدة على غير لون صاحبتها، في كلِّ جوهرةٍ سُرُرٌ وأزواجٌ وتصاريفُ - أو قال: ووصائف (1) قال: فيدخل فإذا هو بحَوْراءَ عَيناءَ عليها سبعون حُلَّةً، يُرى مخ ساقها من وراء حُلَلِها، كَبِدُها مِرآتُه وكَبِدُه مِرأتُها، إذا أعرض عنها إعراضةً ازدادت في عينه سبعين ضِعفًا [عمَّا كان قبلَ ذلك، فيقول: لقد ازدَدتِ في عيني سبعين ضِعفًا] (2) وتقول له مثل ذلك، قال: فيُشرِفُ ببصرِه على مُلكِه مسيرةَ مئةِ عام. قال: فقال عمرُ عند ذلك: يا كعبُ، ألا تسمعُ إلى ما يحدِّثُنا ابن أمِّ عبدٍ عن أدنى أهلِ الجنة ما له، فكيف بأعلاهم؟ قال: يا أمير المؤمنين، ما لا عينٌ رأت، ولا أُذنٌ سَمِعَت، إنَّ الله كان فوق العرشِ والماءِ فخلق لنفسِه دارًا بيده، فزَيَّنَها بما شاء، وجعل فيها من الثَّمَرات والشَّراب، ثم أطبَقَها فلم يرها أحدٌ من خلقه منذُ يوم خَلَقَها، جبريلُ ولا غيرُه من الملائكة؛ ثم قرأَ كعبٌ: ﴿فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَا أُخْفِيَ لَهُمْ مِنْ قُرَّةِ أَعْيُنٍ﴾ [السجدة: 17] ، وخلق دونَ ذلك جنَّتين، فزَيَّنَهما بما شاء، وجعل فيهما ما ذَكَرَ من الحرير والسُّندُس والإستبرَق، وأَراهما من شاء من خلقِه من الملائكة، فمن كان كتابُه في عِلِّيِّينَ يُرَى في تلك الدار، فإذا رَكِبَ الرجلُ من أهل عِلِّيِّين في مُلكِه لم يبقَ (1) خيمةٌ من خيام الجنة إلَّا دخلها من ضَوْء وجهه، حتى إنهم يستنشقون ريحَه ويقولون: واهًا لهذه الريح الطَّيِّبة، ويقولون: لقد أشرَفَ علينا اليوم رجلٌ من أهل عِليِّين، فقال عمر: وَيحَك يا كعبُ، إنَّ هذه القلوبَ قد استَرسَلَت فاقبِضْها، فقال كعب: يا أميرَ المؤمنين، إنَّ لجهنَّمَ زَفْرةً ما من مَلَكٍ مُقرَّب ولا نبيٍّ، إلَّا يَخِرُّ الرُكبتَيهِ، حتى يقولَ إبراهيمُ خليل الله: ربِّ نَفْسي نَفْسي، وحتى لو كان لك عملُ سبعين نبيًا إلى عملِك، لظننتَ أن لا تَنجُوَ منها (2) . رواةُ هذا الحديث عن آخرهم ثِقاتٌ، غيرَ أنهما لم يُخرِّجا أبا خالد الدَّالاني في"الصحيحين" لما ذُكِرَ من انحرافه عن السُّنة في ذِكْر الصحابة، فأما الأئمةُ المتقدِّمون فكلُّهم شَهِدوا لأبي خالد بالصدق والإتقان، والحديث صحيح، ولم يُخرجاه، وأبو خالد الدَّالاني ممَّن يُجمَع حديثُه في أئمَّة أهل الكوفة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8751 - ما أنكره حديثا على جودة إسناده
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ قیامت کے دن لوگوں کو جمع فرمائے گا، تو ایک منادی آواز دے گا: اے لوگو! کیا تم اپنے اس رب سے راضی نہیں جس نے تمہیں پیدا کیا، تمہاری صورت گری کی اور تمہیں رزق دیا، کہ وہ ہر انسان کو اسی کے حوالے کر دے جس کی وہ دنیا میں عبادت کرتا تھا اور اس سے عقیدت رکھتا تھا، کیا یہ تمہارے رب کی طرف سے انصاف نہیں ہے؟ لوگ کہیں گے: کیوں نہیں! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: چنانچہ تم میں سے ہر انسان اس کی طرف چلا جائے گا جس سے وہ دنیا میں عقیدت رکھتا تھا، اور ان کے سامنے ان چیزوں کی شکلیں بنا دی جائیں گی جن کی وہ دنیا میں عبادت کرتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے دنیا میں سیدنا عیسیٰ کی عبادت کی ہوگی اس کے لیے عیسیٰ کے شیطان کی شکل بنا دی جائے گی، جس نے عزیر کی عبادت کی ہوگی اس کے لیے عزیر کے شیطان کی شکل بنا دی جائے گی، یہاں تک کہ ان کے سامنے درخت، لکڑی اور پتھر کی شکلیں بھی پیش کر دی جائیں گی۔ اور اہل اسلام گھٹنوں کے بل گرے ہوئے باقی رہ جائیں گے۔ اللہ تعالیٰ ان سے فرمائے گا: تمہیں کیا ہوا، تم اس طرح کیوں نہیں چلے گئے جس طرح باقی لوگ چلے گئے ہیں؟ وہ عرض کریں گے: بے شک ہمارا ایک رب ہے جسے ہم نے ابھی تک نہیں دیکھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو اللہ تعالیٰ پوچھے گا: اگر تم اپنے رب کو دیکھ لو تو اسے کیسے پہچانو گے؟ وہ عرض کریں گے: ہمارے اور اس کے درمیان ایک نشانی ہے، اگر ہم اسے دیکھ لیں گے تو پہچان لیں گے۔ اللہ تعالیٰ پوچھے گا: وہ نشانی کیا ہے؟ پس پنڈلی سے پردہ ہٹا دیا جائے گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو ہر وہ شخص جس کی پیٹھ (دنیا میں سجدے کے لیے جھکتی) تھی، سجدہ کرتے ہوئے گر پڑے گا، اور کچھ ایسے لوگ باقی رہ جائیں گے جن کی پیٹھیں گائے کے سینگوں کی طرح (سخت) ہوں گی، وہ سجدہ کرنا چاہیں گے لیکن نہیں کر سکیں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر انہیں حکم دیا جائے گا تو وہ اپنے سر اٹھائیں گے، تو انہیں ان کے اعمال کے بقدر نور عطا کیا جائے گا۔ ان میں سے کسی کو اس کے سامنے پہاڑ جتنا نور دیا جائے گا، کسی کو اس سے کم نور دیا جائے گا، کسی کو اس کے دائیں ہاتھ میں کھجور کے درخت جتنا نور دیا جائے گا، اور کسی کو اس سے بھی کم دیا جائے گا، یہاں تک کہ ان میں سب سے آخری شخص وہ ہوگا جسے اس کے پاؤں کے انگوٹھے پر نور دیا جائے گا، جو کبھی جلے گا اور کبھی بجھ جائے گا، جب وہ جلے گا تو وہ اپنا قدم آگے بڑھائے گا اور جب بجھ جائے گا تو کھڑا ہو جائے گا۔ چنانچہ وہ پل صراط پر سے گزریں گے، اور پل صراط تلوار کی دھار کی طرح تیز اور پھسلنے والی جگہ ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو کہا جائے گا کہ اپنے نور کے بقدر نجات حاصل کرو (گزر جاؤ)۔ چنانچہ ان میں سے کوئی ٹوٹتے ہوئے تارے کی طرح گزرے گا، کوئی ہوا کی طرح گزرے گا، کوئی آدمی کے تیز دوڑنے کی طرح اور کوئی ہلکی دوڑ دوڑتے ہوئے گزرے گا۔ وہ اپنے اعمال کے بقدر گزریں گے، یہاں تک کہ وہ شخص گزرے گا جس کا نور اس کے پاؤں کے انگوٹھے پر ہوگا، اس کا ایک ہاتھ گرے گا تو دوسرا لٹک جائے گا، ایک پاؤں گرے گا تو دوسرا لٹک جائے گا، اور آگ اس کے پہلوؤں کو چھوئے گی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو وہ (اس طرح) نجات پا جائیں گے، اور جب وہ نجات پا لیں گے تو کہیں گے: تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے تجھے دیکھنے کے بعد ہمیں تجھ سے نجات عطا فرمائی، یقیناً اللہ نے ہمیں وہ کچھ عطا فرما دیا ہے جو اس نے کسی اور کو عطا نہیں کیا۔ پھر وہ جنت کے دروازے کے قریب ایک کم گہرے پانی کی طرف جائیں گے، اس میں غسل کریں گے تو ان کی طرف جنتیوں کی خوشبو اور ان کے رنگ لوٹ آئیں گے، اور وہ جنت کے دروازے کی درزوں سے دیکھیں گے، جبکہ وہ دروازہ بند ہوگا، اور یہ جنت کے سب سے نچلے درجے میں ایک مقام ہوگا۔ وہ عرض کریں گے: اے ہمارے رب! ہمیں یہ مقام عطا فرما دے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ ان سے فرمائے گا: تم مجھ سے جنت مانگ رہے ہو حالانکہ میں نے تمہیں ابھی آگ سے نجات دی ہے؟! وہ عرض کریں گے: اے ہمارے رب! ہمیں یہ عطا فرما دے، اور اس دروازے کو ہمارے اور آگ کے درمیان آڑ بنا دے تاکہ ہم اس کی آواز نہ سنیں۔ اللہ تعالیٰ ان سے فرمائے گا: اگر تمہیں یہ عطا کر دیا جائے تو شاید تم مجھ سے اس کے علاوہ کچھ اور مانگنے لگو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ عرض کریں گے: نہیں، تیری عزت کی قسم! ہم تجھ سے اس کے علاوہ کچھ اور نہیں مانگیں گے، اور بھلا اس سے بہتر اور کون سا مقام ہو سکتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو انہیں وہ دے دیا جائے گا، پھر ان کے سامنے اس سے آگے ایک اور مقام بلند کیا جائے گا، جسے دیکھ کر انہیں اپنا پہلا مقام ایک خواب معلوم ہوگا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ عرض کریں گے: اے ہمارے رب! ہمیں وہ مقام عطا فرما دے۔ اللہ تعالیٰ ان سے فرمائے گا: اگر تمہیں یہ عطا کر دیا جائے تو شاید تم مجھ سے اس کے علاوہ کچھ اور مانگنے لگو؟ وہ عرض کریں گے: نہیں، تیری عزت کی قسم! ہم تجھ سے اس کے علاوہ کچھ اور نہیں مانگیں گے، اور بھلا اس سے بہتر اور کون سا مقام ہو سکتا ہے؟ پھر وہ خاموش ہو جائیں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو ان سے کہا جائے گا: تمہیں کیا ہوا، تم سوال کیوں نہیں کرتے؟ وہ عرض کریں گے: اے ہمارے رب! ہم نے اتنا مانگا ہے کہ اب ہمیں حیا آنے لگی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو اللہ تعالیٰ ان سے فرمائے گا: کیا تم اس بات پر راضی نہیں کہ میں تمہیں دنیا کی تخلیق سے لے کر اس کے فنا ہونے تک کی مقدار کے برابر اور پھر اس سے دس گنا زیادہ عطا فرما دوں۔ مسروق بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ حدیث کے اس حصے پر پہنچے تو ہنس پڑے۔ ایک شخص نے ان سے عرض کی: اے ابوعبدالرحمن! آپ نے یہ حدیث کئی مرتبہ بیان کی ہے، اور جب بھی آپ اس حصے پر پہنچتے ہیں تو ہنس پڑتے ہیں؟ تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ حدیث کئی مرتبہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے، اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس حصے پر پہنچتے تھے تو اتنا ہنستے تھے کہ آپ کا حلق اور آخری داڑھ ظاہر ہو جاتی تھی، کیونکہ وہ انسان کہے گا: کیا تو مجھ سے مذاق کر رہا ہے حالانکہ تو بادشاہ ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو رب عزوجل فرمائے گا: نہیں، لیکن میں ایسا کرنے پر پوری قدرت رکھتا ہوں، پس مجھ سے مانگو۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو وہ عرض کریں گے: اے ہمارے رب! ہمیں لوگوں کے ساتھ ملا دے۔ تو اللہ تعالیٰ ان سے فرمائے گا: لوگوں کے ساتھ مل جاؤ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو وہ جنت میں دوڑتے ہوئے جائیں گے، یہاں تک کہ ان میں سے ایک شخص کے سامنے ایک کھوکھلے موتی کا محل ظاہر ہوگا، تو وہ سجدے میں گر پڑے گا۔ اس سے کہا جائے گا: اپنا سر اٹھاؤ۔ وہ سر اٹھائے گا تو کہا جائے گا: یہ تو تمہارے محلات میں سے صرف ایک محل ہے۔ وہ چلے گا تو اس کے سامنے ایک شخص آئے گا، وہ پوچھے گا: تو کوئی بادشاہ ہے یا فرشتہ؟ اسے بتایا جائے گا: یہ تو تمہارے خادموں میں سے ایک خادم اور تمہارے غلاموں میں سے ایک غلام ہے۔ وہ شخص اس کے پاس آ کر کہے گا: میں تو اس محل پر مقرر تمہارے خادموں میں سے ایک خادم ہوں، میرے ماتحت ایک ہزار خادم ہیں اور وہ سب اسی حالت پر ہیں جس پر میں ہوں۔ پس وہ اسے لے کر چلے گا یہاں تک کہ وہ محل کا دروازہ کھولے گا، اور وہ ایک کھوکھلا موتی ہوگا جس کی چھتیں، دروازے، تالے اور چابیاں بھی اسی موتی میں سے ہوں گی۔ اس کے لیے محل کھلے گا تو اس کے سامنے ستر ہاتھ لمبا ایک سبز ہیرا آئے گا جس کے اندر سرخ رنگ ہوگا، اس میں ساٹھ دروازے ہوں گے، ہر دروازہ ایک ایسے ہیرے کی طرف کھلے گا جس کا رنگ دوسرے سے مختلف ہوگا۔ ہر ہیرے میں تخت، بیویاں، اور خادمائیں ہوں گی۔ وہ اس میں داخل ہوگا تو ایک خوبصورت بڑی آنکھوں والی حور کے پاس پہنچے گا جس نے ستر جوڑے پہنے ہوں گے، ان جوڑوں کے پیچھے سے اس کی پنڈلی کا گودا نظر آ رہا ہوگا، اس حور کا جگر اس شخص کا آئینہ ہوگا اور اس شخص کا جگر اس حور کا آئینہ ہوگا۔ جب وہ اس سے تھوڑی دیر کے لیے رخ پھیرے گا تو وہ اس کی نظروں میں پہلے سے ستر گنا زیادہ خوبصورت ہو جائے گی، اور وہ کہے گا: تم میری آنکھوں میں ستر گنا زیادہ حسین ہو گئی ہو۔ اور وہ بھی اسے یہی کہے گی۔ وہ اپنی اس بادشاہت پر نظر دوڑائے گا جو سو سال کی مسافت کے برابر ہوگی۔ (یہ سن کر) سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے کعب! کیا آپ سن رہے ہیں کہ ابن ام عبد (عبداللہ بن مسعود) ہمیں جنت کے سب سے نچلے درجے والے شخص کے بارے میں کیا بتا رہے ہیں کہ اسے کیا ملے گا، تو پھر جنت کے اعلیٰ درجے والوں کا کیا حال ہوگا؟ تو کعب نے فرمایا: اے امیرالمومنین! (ان کے لیے وہ کچھ ہے) جو نہ کسی آنکھ نے دیکھا اور نہ کسی کان نے سنا۔ بے شک اللہ تعالیٰ عرش اور پانی کے اوپر تھا تو اس نے اپنے ہاتھ سے اپنے لیے ایک گھر بنایا، پھر اسے جس چیز سے چاہا مزین کیا، اور اس میں پھل اور مشروبات رکھے، پھر اسے بند کر دیا تو اس کی پیدائش کے دن سے لے کر آج تک اسے اس کی مخلوق میں سے کسی نے نہیں دیکھا، نہ جبرائیل نے اور نہ ہی کسی اور فرشتے نے۔ پھر کعب نے یہ آیت تلاوت فرمائی: ﴿فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَا أُخْفِيَ لَهُمْ مِنْ قُرَّةِ أَعْيُنٍ﴾ پس کوئی شخص نہیں جانتا کہ ان کے لیے آنکھوں کی کیسی ٹھنڈک چھپا کر رکھی گئی ہے۔ [سورة السجدة: 17] اور اس سے نیچے اس نے دو اور جنتیں بنائیں اور انہیں جس چیز سے چاہا مزین کیا، اور ان میں وہ ریشم، سندس اور استبرق رکھا جس کا ذکر کیا گیا ہے، اور اسے اپنی مخلوق اور فرشتوں میں سے جسے چاہا دکھایا۔ پس جس کا نامہ اعمال علیین میں ہوگا وہ اس گھر میں دیکھا جا سکے گا، اور جب علیین والوں میں سے کوئی شخص اپنی بادشاہت میں سوار ہو کر نکلے گا تو جنت کے خیموں میں سے کوئی خیمہ ایسا نہیں بچے گا جس میں اس کے چہرے کی روشنی نہ پہنچے، یہاں تک کہ وہ اس کی خوشبو سونگھیں گے اور کہیں گے: واہ! کیا عمدہ خوشبو ہے۔ اور کہیں گے: آج علیین والوں میں سے کسی شخص نے ہم پر جھانکا ہے۔ یہ سن کر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تجھ پر رحم ہو اے کعب! ان دلوں کو کچھ ڈھیل مل گئی ہے، اب انہیں ذرا سکیڑئیے (یعنی آخرت کا خوف دلایئے)۔ تو کعب نے فرمایا: اے امیرالمومنین! بے شک جہنم کی ایک ایسی چیخ ہوگی کہ کوئی مقرب فرشتہ اور کوئی نبی ایسا نہیں بچے گا جو گھٹنوں کے بل نہ گر پڑے، یہاں تک کہ اللہ کے خلیل ابراہیم علیہ السلام بھی کہیں گے: اے میرے رب! (آج مجھے صرف) میری جان، میری جان (کی فکر ہے)۔ اور اگر آپ کے پاس آپ کے اپنے عمل کے ساتھ مزید ستر انبیاء کا عمل بھی ہو، تب بھی آپ یہی گمان کریں گے کہ آپ اس سے نجات نہیں پا سکتے۔
اس حدیث کے تمام راوی ثقہ ہیں، البتہ ان دونوں (شیخین) نے صحیحین میں ابوالخالد دالانی سے تخریج نہیں کی کیونکہ ان کے بارے میں صحابہ کرام کے تذکرے میں سنت سے انحراف کا ذکر کیا گیا ہے، لیکن متقدمین ائمہ نے ابوالخالد کی سچائی اور پختگی کی گواہی دی ہے۔ اور یہ حدیث صحیح ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اور ابوالخالد دالانی اہل کوفہ کے ان ائمہ میں سے ہیں جن کی احادیث جمع کی جاتی ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: الأهوال/حدیث: 8966]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن من أجل أبي خالد الدالاني، وقال ابن القيم في "حادي الأرواح": هذا حديث كبير حسنٌ» [ترقيم الرساله 8966] [ترقيم الشركة 8857] [ترقيم العلميه 8751]

الحكم على الحديث: إسناده حسن من أجل أبي خالد الدالاني
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
29. مَا مِنْ مُسْلِمَيْنِ يَمُوتُ لَهُمَا أَرْبَعَةٌ إِلَّا أَدْخَلَهُمُ اللَّهُ الْجَنَّةَ
جن مسلمان والدین کے چار بچے (فوت ہو جائیں)، اللہ انہیں جنت میں داخل فرمائے گا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8967
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الحافظ، حدثنا يحيى بن محمد بن يحيى، حدثنا مُسدَّد، حدثنا عبد الأعلى بن عبد الأعلى، حدثنا داود بن أبي هِنْد، عن عبد الله بن قيس قال: كنت أرفعُ القضاءَ إلى أبي بُرْدةَ، فكنت عنده فدخل عليه الحارثُ بنُ أُقيشٍ (1) ، وكانت له صُحْبة، فحَدَّث ليلتَئذٍ عن النبي ﷺ قال:"ما من مُسلمين (2) يموت لهما أربعةٌ، إلَّا أدخلهم الله الجنةَ بفَضْل رحمتِه إيَّاهما قلنا: يا رسول الله، وثلاثةٌ؟ قال:"وثلاثةٌ" قلنا: يا رسول الله، واثنانِ؟ قال:"واثنانِ" ثم قال:"إنَّ من أمَّتي لَمَن يُعظَّم للنّار حتى يكونَ أحدَ زواياها، وإنَّ من أمتي لَمَن يَدخُل بشفاعتِه الجنةَ أكثرُ من مُضَرَ" (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8752 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
عبداللہ بن قیس سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں ابوبردہ کے پاس مقدمات (فیصلے کے لیے) لے جایا کرتا تھا۔ ایک روز میں ان کے پاس تھا کہ حارث بن اقیش رضی اللہ عنہ ان کے پاس تشریف لائے، اور انہیں (نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی) صحبت کا شرف حاصل تھا۔ انہوں نے اس رات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حدیث بیان کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کوئی سے دو مسلمان ایسے نہیں جن کے چار بچے فوت ہو جائیں، مگر اللہ اپنی رحمت کے فضل سے ان دونوں کو جنت میں داخل فرمائے گا۔ ہم نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! اور اگر تین ہوں تو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تین ہوں تب بھی۔ ہم نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! اور اگر دو ہوں تو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر دو ہوں تب بھی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بلاشبہ میری امت میں سے کسی (نافرمان) کو جہنم کے لیے اتنا بڑا کر دیا جائے گا کہ وہ اس کے کونوں میں سے ایک کونا بن جائے گا، اور بلاشبہ میری امت میں سے ایک شخص ایسا بھی ہوگا جس کی شفاعت سے قبیلہ مضر کی تعداد سے بھی زیادہ لوگ جنت میں داخل ہوں گے۔
اس حدیث کی سند امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: الأهوال/حدیث: 8967]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، وهذا إسناد محتمل للتحسين كما سبق بيانه عند الرواية السالفة برقم (239)» [ترقيم الرساله 8967] [ترقيم الشركة 8858] [ترقيم العلميه 8752]

الحكم على الحديث: صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں