المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
4. (لِكُلِّ امْرِئٍ مِنْهُمْ يَوْمَئِذٍ شَأْنٌ يُغْنِيهِ)
اس دن ہر شخص کو ایسی فکر لاحق ہوگی جو اسے دوسروں سے بے نیاز کر دے گی
حدیث نمبر: 8898
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا أبو عُتْبة، حدثنا بَقيَّة، حدثنا محمد بن الوليد الزُّبيدي، عن الزُّهْري، عن عُرْوة بن الزبير، عن عائشة، أنَّ النبي ﷺ قال:"يُبعَثُ الناسُ يومَ القيامة حُفاةً عُراةً غُرْلًا" فقالت عائشة: يا رسول الله، فكيفَ بالعَوْرات؟ فقال:"لكلِّ امرئٍ منهم يومئذٍ شأنٌ يُغنيهِ" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم ولم يُخرجاه بهذه الزيادة (1) ، إنما اتَّفق الشيخان ﵄ على حديثَي عَمْرو بن دينار والمُغيرة بن النُّعمان عن سعيد بن جُبَير عن ابن عباس بطوله دون ذِكْر العَوْراتِ فيه (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8684 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
هذا حديث صحيح على شرط مسلم ولم يُخرجاه بهذه الزيادة (1) ، إنما اتَّفق الشيخان ﵄ على حديثَي عَمْرو بن دينار والمُغيرة بن النُّعمان عن سعيد بن جُبَير عن ابن عباس بطوله دون ذِكْر العَوْراتِ فيه (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8684 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت کے دن لوگ ننگے پاؤں، برہنہ بدن اور غیر مختون (بغیر ختنہ کیے ہوئے) اٹھائے جائیں گے۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! پھر شرمگاہوں کا کیا بنے گا؟ (یعنی کیا لوگ ایک دوسرے کو دیکھیں گے؟) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس دن ہر شخص کی ایسی حالت ہوگی جو اسے (دوسروں سے) بے نیاز کر دے گی۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے اس اضافے کے ساتھ روایت نہیں کیا، جبکہ شیخین کا اتفاق عمرو بن دینار اور مغیرہ بن نعمان کی سعید بن جبیر سے مروی اس طویل روایت پر ہے جو ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے لیکن اس میں شرمگاہوں کا تذکرہ نہیں ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: الأهوال/حدیث: 8898]
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے اس اضافے کے ساتھ روایت نہیں کیا، جبکہ شیخین کا اتفاق عمرو بن دینار اور مغیرہ بن نعمان کی سعید بن جبیر سے مروی اس طویل روایت پر ہے جو ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے لیکن اس میں شرمگاہوں کا تذکرہ نہیں ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: الأهوال/حدیث: 8898]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وهذا إسناد حسن في المتابعات والشواهد من أجل أبي عتبة: وهو أحمد بن الفرج الكندي الحمصي، ومن أجل شيخه بقية: وهو ابن الوليد» [ترقيم الرساله 8898] [ترقيم الشركة 8789] [ترقيم العلميه 8684]
الحكم على الحديث: حديث صحيح
5. النَّاسُ يُحْشَرُونَ ثَلَاثَةَ أَفْوَاجٍ يَوْمَ الْقِيَامَةِ
قیامت کے دن لوگ تین گروہوں کی شکل میں محشر کی طرف لائے جائیں گے
حدیث نمبر: 8899
أخبرنا أبو الفضل الحسن بن يعقوب بن يوسف العَدْل، أخبرنا يحيى بن أبي طالب، حدثنا زيد بن الحُبَاب، حدثني الوليد بن جُمَيع القُرشي، حدثني أبو الطُّفَيل عامر بن واثلةَ، عن حُذيفة بن أَسِيد، عن أبي ذرٍّ قال: حدثني الصادقُ المصدوقُ: ﷺ"أنَّ الناس يُحشرون ثلاثةَ أفواج: فوجًا طَاعِمِينَ كاسِينَ راكبينَ، وفوجًا يَمشُون ويَسعَوْن، وفوجًا تَسحَبُهم الملائكةُ على وجوهِهم إلى النار". فقلنا: با أبا ذر، قد عَرفْنا هؤلاء وهؤلاء، فما بالُ الذين يمشون ويَسعَون؟ قال: يُلقي اللهُ الآفةَ على الظَّهْر فلا ظهرَ (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد إلى الوليد بن جميع، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح الإسناد إلى الوليد بن جميع، ولم يُخرجاه.
سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ مجھ سے ”صادق و مصدوق“ (سچے اور جس کی سچائی کی تصدیق کی گئی ہو) صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمایا: ”لوگ تین گروہوں کی صورت میں محشور کیے جائیں گے: ایک گروہ وہ ہوگا جو کھاتے پیتے، لباس پہنے ہوئے اور سوار ہوں گے، دوسرا گروہ وہ ہوگا جو پیدل چل رہے ہوں گے اور دوڑ رہے ہوں گے، اور تیسرا گروہ وہ ہوگا جنہیں فرشتے ان کے چہروں کے بل آگ کی طرف گھسیٹ کر لے جائیں گے۔“ ہم نے عرض کیا: اے ابوذر! ہم نے پہلے اور تیسرے گروہ کو تو پہچان لیا، لیکن ان لوگوں کا کیا معاملہ ہے جو پیدل چلیں گے اور دوڑیں گے؟ انہوں نے کہا: اللہ تعالیٰ سواریوں پر کوئی آفت بھیج دے گا جس کی وجہ سے کوئی سواری باقی نہیں رہے گی۔
یہ حدیث ولید بن جمیع تک صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: الأهوال/حدیث: 8899]
یہ حدیث ولید بن جمیع تک صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: الأهوال/حدیث: 8899]
تخریج الحدیث: «حديث حسن إن شاء الله، وقد سلف الكلام عليه عند المصنف برقم (3429) حيث رواه هناك من طريق يزيد بن هارون عن الوليد بن جُميع» [ترقيم الرساله 8899] [ترقيم الشركة 8790]
الحكم على الحديث: حديث حسن إن شاء الله
حدیث نمبر: 8900
حدثنا أبو بكر أحمد بن سلمان بن الحسن الفقيه ببغداد، حدثنا أحمد بن سعيد الجمَّال، حدثنا يزيد بن هارون وعلي بن عاصم قالا: حدثنا بَهز بن حكيم بن معاوية. وحدثنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الحافظ - واللفظُ له حدثنا يحيى بن محمد بن يحيى، حدثنا مُسدَّد، حدثنا المعتمِر قال: سمعتُ بهزَ بنَ حَكيم يُحدِّث عن أبيه، عن جدِّه قال: قلت: يا رسول الله، أين تأمرُني؟ خِرْ لي، قال: فنَحَا بيدِه نحوَ الشام، فقال:"إنَّكم محشورون رجالًا ورُكْبانًا وتُجَرُّون على وجوهكم هاهنا"؛ ونَحا بيدِه (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وقد رواه أبو قَزَعة سُوَيدُ بن حُجَير عن حَكيم بن معاوية مثلَ رواية بَهْزٍ، على أنَّ بهزًا أيضًا ثقةً مأمونٌ لا يحتاج في روايته إلى مُتابعٍ.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8686 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وقد رواه أبو قَزَعة سُوَيدُ بن حُجَير عن حَكيم بن معاوية مثلَ رواية بَهْزٍ، على أنَّ بهزًا أيضًا ثقةً مأمونٌ لا يحتاج في روايته إلى مُتابعٍ.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8686 - صحيح
سیدنا معاویہ بن حیدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ مجھے کہاں (جانے کا) حکم دیتے ہیں؟ میرے لیے (کسی جگہ کا) انتخاب فرمائیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے شام کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا: ”تم لوگ پیدل، سوار اور یہاں اپنے چہروں کے بل گھسیٹے جاتے ہوئے محشور کیے جاؤ گے“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے اشارہ فرمایا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اسے ابو قزعہ سوید بن حجیر نے بھی حکیم بن معاویہ سے بہز کی روایت کی طرح روایت کیا ہے، اگرچہ بہز بذاتِ خود ثقہ اور مامون ہیں اور ان کی روایت میں کسی متابعت کی ضرورت نہیں ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: الأهوال/حدیث: 8900]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اسے ابو قزعہ سوید بن حجیر نے بھی حکیم بن معاویہ سے بہز کی روایت کی طرح روایت کیا ہے، اگرچہ بہز بذاتِ خود ثقہ اور مامون ہیں اور ان کی روایت میں کسی متابعت کی ضرورت نہیں ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: الأهوال/حدیث: 8900]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن من أجل بهز بن حَكيم وأبيه حكيم» [ترقيم الرساله 8900] [ترقيم الشركة 8791] [ترقيم العلميه 8686]
الحكم على الحديث: إسناده حسن
حدیث نمبر: 8901
حدَّثَناه أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا الرَّبيع بن سليمان، حدثنا أَسَد ابن موسى، حدثنا حماد بن سَلَمة، عن أبي قَزَعة، عن حَكيم بن معاوية، عن أبيه (2) قال: سمعت رسول الله ﷺ: يقول:"يُحشَرون هاهنا حُفاةً مُشاةً ورُكْبانًا وعلى وجوههم، تُعرَضون على الله على أَفواهِكم الفِدَامُ، وإنَّ أوّل ما يُعرِبُ عن أحدِكم فَخِذُه (3) .
سیدنا معاویہ بن حیدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”لوگ یہاں ننگے پاؤں، پیدل، سوار اور اپنے چہروں کے بل (گھسیٹتے ہوئے) اکٹھے کیے جائیں گے، تم اللہ کے حضور اس حال میں پیش کیے جاؤ گے کہ تمہارے مونہوں پر «الفِدَامُ» (کپڑے کے ٹکرے یا مہریں جو بولنے سے روک دیں) ہوں گی، اور تم میں سے سب سے پہلے جو عضو تمہاری طرف سے کلام کرے گا وہ ران ہوگی۔“ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: الأهوال/حدیث: 8901]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن من أجل حكيم بن معاوية» [ترقيم الرساله 8901] [ترقيم الشركة 8792]
الحكم على الحديث: إسناده حسن
6. رِحَالُ الْمُتَّقِينَ الذَّهَبُ وَأَزِمَّتُهَا الزَّبَرْجَدُ
متقیوں کی سواریاں سونے کی ہوں گی جن کی لگامیں زبرجد کی ہوں گی
حدیث نمبر: 8902
حدثنا الشيخ أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا موسى بن إسحاق القاضي، حدثنا مِنجابُ بن الحارث، حدثنا علي بن مُسهِر، عن عبد الرحمن بن إسحاق، عن النُّعمان بن سعد قال: كنا جلوسًا عند علي بن أبي طالب فقرأ: ﴿يَوْمَ نَحْشُرُ الْمُتَّقِينَ إِلَى الرَّحْمَنِ وَفْدًا﴾ [مريم: 85] قال: لا والله ما على أرجلهم يُحشَرون، ولا يُساقُون سَوْقًا، ولكنهم يُؤتون بنُوقٍ من نُوق الجنَّة لم (1) تَنظُرِ الخلائق إلى مثلِها (2) ، رِحالُهم الذهبُ وأزِمَّتُها الزَّبَرجَد، فيَقعُدون عليها حتى يَقرَعوا بابَ الجنة (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8688 - ليس بصحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8688 - ليس بصحيح
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿يَوْمَ نَحْشُرُ الْمُتَّقِينَ إِلَى الرَّحْمَنِ وَفْدًا﴾ [سورة مريم: 85] کی تلاوت کی اور فرمایا: نہیں، اللہ کی قسم! وہ (اہلِ تقویٰ) اپنے پیروں پر چل کر نہیں لائے جائیں گے اور نہ ہی انہیں (جانوروں کی طرح) ہنکایا جائے گا، بلکہ انہیں جنت کی ایسی اونٹنیوں پر لایا جائے گا کہ مخلوق نے ان جیسی اونٹنیاں کبھی نہیں دیکھی ہوں گی، ان کے کجاوے سونے کے اور ان کی لگامیں زبرجد کی ہوں گی، وہ ان پر سوار ہوں گے یہاں تک کہ جنت کا دروازہ کھٹکھٹائیں گے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: الأهوال/حدیث: 8902]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: الأهوال/حدیث: 8902]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف لضعف عبد الرحمن بن إسحاق» [ترقيم الرساله 8902] [ترقيم الشركة 8793] [ترقيم العلميه 8688]
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
حدیث نمبر: 8903
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا بَحْر بن نَصْر، حدثنا عبد الله بن وهب، أخبرني عمرو بن الحارث، أنَّ سعيد بن أبي هلال حدَّثه، أنه سمع عثمانَ بن عبد الرحمن القُرَظي يقول: قرأَتْ عائشة قول الله ﷿: ﴿وَلَقَدْ جِئْتُمُونَا فُرَادَى كَمَا خَلَقْنَاكُمْ أَوَّلَ مَرَّةٍ﴾ [الأنعام: 9] ، فقالت: يا رسول الله، واسَوْأَتاه، إِنَّ الرجال والنساء يُحشَرون جميعًا يَنظُر بعضُهم إلى سَوْاةِ بعض؟! فقال رسول الله ﷺ:"لكلِّ امرِئٍ منهم يومَئِذٍ شأنٌ يُغنيه، لا ينظرُ الرجالُ إلى النساءُ، ولا النساء إلى الرجال، شُغِلَ بعضُهم عن بعض" (4) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8689 - فيه انقطاع
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8689 - فيه انقطاع
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے اللہ عزوجل کے اس فرمان ﴿وَلَقَدْ جِئْتُمُونَا فُرَادَى كَمَا خَلَقْنَاكُمْ أَوَّلَ مَرَّةٍ﴾ [سورة الأنعام: 94] کی تلاوت کی اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ہائے افسوس، کیا مرد اور عورتیں سب ایک ساتھ جمع ہوں گے اور ایک دوسرے کی شرمگاہوں کی طرف دیکھیں گے؟! تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس دن ہر شخص کی ایسی حالت ہوگی جو اسے (دوسروں سے) بے نیاز کر دے گی، نہ مرد عورتوں کی طرف دیکھیں گے اور نہ ہی عورتیں مردوں کی طرف، ہر کوئی اپنی اپنی فکر میں مشغول ہوگا۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: الأهوال/حدیث: 8903]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: الأهوال/حدیث: 8903]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف عثمان بن عبد الرحمن القرظي لم نقف له على ترجمة بهذا الاسم، إلَّا أن يكون هو عثمان بن عبد الرحمن الزهري الوقّاصي، فإنه ابن أخت محمد بن كعب القرظي، وهو من طبقة سعيد بن أبي هلال، فلعلَّ سعيدًا ذهل فنسبه إليه، وقد أشار الإمام أحمد ...» [ترقيم الرساله 8903] [ترقيم الشركة 8794] [ترقيم العلميه 8689]
الحكم على الحديث: حديث صحيح
7. إِنَّ آخِرَ مَنْ يُحْشَرُ رَاعِيَانِ مِنْ مُزَيْنَةَ
حشر کے میدان میں لائے جانے والے آخری دو افراد قبیلہ مزینہ کے چرواہے ہوں گے
حدیث نمبر: 8904
حدثنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه، أخبرنا عُبيد بن شَريك البزَّار، حدثنا يحيى بن عبد الله بن بُكَير، حدثنا اللَّيث بن سعد، عن عُقَيل بن خالد، عن ابن شِهاب، عن سعيد بن المسيّب، عن أبي هريرة أن رسول الله ﷺ قال:"إِنَّ آخرَ من يُحْشَرُ راعيانِ من مُزَينةَ يريدانِ المدينةَ، يَنعِقانِ بغنمهما، فيَجِدانِها وُحوشًا، حتى إذا بَلَغا ثَنِيَّةَ الوداع خرَّا على وجوهِهما (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8690 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8690 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سب سے آخر میں جن کا حشر ہوگا وہ قبیلہ مزینہ کے دو چرواہے ہوں گے جو مدینہ جانے کا ارادہ رکھتے ہوں گے، وہ اپنی بکریوں کو آواز دیں گے لیکن انہیں وہاں (بکریوں کے بجائے) وحشی درندے ملیں گے، یہاں تک کہ جب وہ ثنیۃ الوداع (گھاٹی) پر پہنچیں گے تو اپنے چہروں کے بل گر پڑیں گے۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: الأهوال/حدیث: 8904]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: الأهوال/حدیث: 8904]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وهذا إسناد قوي من أجل عبيد بن شريك» [ترقيم الرساله 8904] [ترقيم الشركة 8795] [ترقيم العلميه 8690]
الحكم على الحديث: حديث صحيح
حدیث نمبر: 8905
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا بَحْر بن نَصر الخَوْلاني، حدثنا عبد الله بن وهب، أخبرنا إسحاق بن يحيى بن طَلْحة بن عُبيد الله، عن مَعبَد بن خالد قال: دخلتُ المسجدَ فإذا فيه شيخٌ يَتفلَّى، فسلَّمتُ عليه فردَّ عليَّ السلام، وجلستُ إليه فقلت: مَن أنت يا عم؟ فقال: بل مَن أنت يا ابنَ أخي؟ قلت: أنا مَعبَدُ بن خالد فقال: مَرحبًا بك، قد عرفتُ أباك، كان معي بدمشقَ، وإني وأباكَ لأَوَّلُ فارسَينِ وَقَفا بباب (2) عَذْراءَ - مدينة بالشام - فقلت: مَن أنت؟ قال: أنا أبو سَرِيحة الغِفاري، صاحبُ النبي ﷺ، فقلت: حدِّثني عن رسول الله ﷺ، قال: نعم، سمعتُ رسول الله ﷺ يقول:"يُحْشَرُ رَجُلانِ من مُزَينةَ، هما آخرُ الناس يُحشَران، يُقبِلانِ من جبلٍ قد تَسوَّراه حتى يأتِيَا معالمَ الناس، فيجدان الأرضَ وُحوشًا، حتى يأتيَا المدينةَ، فإذا بلغا أدنى المدينةِ قالا: أين الناسُ؟ فلا يَرَيانِ أحدًا، فيقول أحدُهما لصاحبه: الناسُ في دُورهم، فيدخلانِ الدُّورَ فإذا ليس في الدُّور أحدٌ، وإذا على الفُرُش الثعالبُ والسَّنانير، فيقولان: أين الناسُ؟ فيقول أحدُهما الناسُ في المسجد، فيأتيانِ المسجدَ فلا يَجِدانِ أحدًا، فيقولان: أين الناسُ؟ فيقول أحدهما: الناسُ في السُّوق، شَغَلَتهم الأسواقُ، فيخرجان حتى يأتيا الأسواقَ فلا يجدانِ فيها أحدًا، فيَنطلِقان حتى يأتيَا الثَّنِيَّةَ، فإذا عليها مَلَكانِ فيأخذان الملكان (1) بأرجُلِهما فيسحبانِهما إلى الأرض، أرضِ المَحشَر، وهما آخرُ الناس حَشْرًا" (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8691 - إسحاق بن يحيى بن طلحة قال أحمد متروك
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8691 - إسحاق بن يحيى بن طلحة قال أحمد متروك
معبد بن خالد سے روایت ہے کہ میں مسجد میں داخل ہوا تو وہاں ایک بزرگ کو دیکھا جو (اپنے کپڑوں سے) جوئیں نکال رہے تھے، میں نے انہیں سلام کیا تو انہوں نے سلام کا جواب دیا، میں ان کے پاس بیٹھ گیا اور پوچھا: اے چچا! آپ کون ہیں؟ انہوں نے کہا: بلکہ اے بھتیجے! تم کون ہو؟ میں نے کہا: میں معبد بن خالد ہوں، انہوں نے کہا: خوش آمدید، میں تمہارے والد کو جانتا تھا، وہ دمشق میں میرے ساتھ تھے، میں اور تمہارے والد پہلے وہ دو شہسوار تھے جنہوں نے (شام کے شہر) عذراء کے دروازے پر پڑاؤ ڈالا تھا، میں نے پوچھا: آپ کون ہیں؟ انہوں نے کہا: میں ابو سریحہ غفاری ہوں، جو کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ہیں، میں نے کہا: مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی حدیث سنائیں، انہوں نے کہا: ہاں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”مزینہ قبیلے کے دو شخص سب سے آخر میں محشور کیے جائیں گے، وہ ایک پہاڑ سے اتر کر آئیں گے یہاں تک کہ انسانی آبادی کے نشانات تک پہنچ جائیں گے تو دیکھیں گے کہ زمین جنگلی جانوروں سے بھری پڑی ہے، یہاں تک کہ وہ مدینہ پہنچیں گے، جب مدینہ کے قریب پہنچیں گے تو کہیں گے: لوگ کہاں گئے؟ لیکن انہیں کوئی نظر نہیں آئے گا، ان میں سے ایک اپنے ساتھی سے کہے گا: لوگ اپنے گھروں میں ہوں گے، وہ گھروں میں داخل ہوں گے تو وہاں بھی کوئی نہیں ہوگا بلکہ بستروں پر لومڑیاں اور بلیاں بیٹھی ہوں گی، وہ پھر کہیں گے: لوگ کہاں گئے؟ ان میں سے ایک کہے گا: لوگ مسجد میں ہوں گے، وہ مسجد میں آئیں گے تو وہاں بھی کسی کو نہیں پائیں گے، وہ پھر کہیں گے: لوگ کہاں گئے؟ ان میں سے ایک کہے گا: لوگ بازاروں میں ہوں گے، انہیں کاروبار نے مشغول کر رکھا ہوگا، وہ نکل کر بازاروں میں جائیں گے تو وہاں بھی کوئی نہیں ہوگا، وہ چلتے ہوئے گھاٹی (ثنیہ) تک پہنچیں گے تو وہاں دو فرشتے ہوں گے جو ان کے پاؤں سے پکڑ کر انہیں زمینِ محشر کی طرف گھسیٹیں گے، اور وہ حشر کے لیے جمع کیے جانے والے سب سے آخری انسان ہوں گے۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: الأهوال/حدیث: 8905]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: الأهوال/حدیث: 8905]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف جدًّا، إسحاق بن يحيى متروك الحديث وبه أعلَّه الذهبي في "تلخيصه"، وحديثه هذا منكر كما بيَّن ذلك الشيخ أحمد الغماري ﵀ في "المداوي" 1/ 12» [ترقيم الرساله 8905] [ترقيم الشركة 8796] [ترقيم العلميه 8691]
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف جدًّا
8. قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: " أَرْجُو أَنْ تَكُونُوا شَطْرَ أَهْلِ الْجَنَّةِ "
نبی کریم ﷺ نے فرمایا: مجھے امید ہے کہ تم (میری امت) اہل جنت کا آدھا حصہ ہو گے
حدیث نمبر: 8906
أخبرني أبو عبد الله محمد بن علي بن عبد الحميد الصَّنعاني بمكة حَرَسَها الله، حدثنا إسحاق بن إبراهيم الدَّبَرِي، أخبرنا عبد الرزاق، أخبرنا مَعمَر، عن قَتَادة عن أنس قال: لما نَزَلَت ﴿يَاأَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمْ إِنَّ زَلْزَلَةَ السَّاعَةِ شَيْءٌ عَظِيمٌ﴾ [الحج: 1] على النبي ﷺ وهو في مَسيرٍ له، فرَفَعَ بها صوتَه حتى أنابَ (3) إليه أصحابُه، فقال:"أتدرون أيُّ يومٍ هذا؟ يومَ يقول الله لآدمَ: يا آدمُ، قمْ فابعَثْ بَعْثَ النارِ، من كلِّ ألفٍ تسعَ مئةٍ وتسعةً وتسعين"، فكَبُرَ ذلك على المسلمين، فقال النبي ﷺ:"سدِّدوا وقارِبوا وأَبشِروا، فوالَّذي نفسي بيدِه ما أنتم في الأُمم إلَّا كالشَّامَةِ في جَنْبِ البعير، أو كالرَّقْمة في ذراع الدابَّة، فإنَّ معكم الخَليقتَينِ (1) ، ما كانتا مع شيءٍ إِلَّا كَثَّرتاه، يأجوج ومأجوج، ومَن هَلَكَ من كَفَرَةِ الجنِّ والإنس" (2) . هذا إسناد صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایک سفر کے دوران یہ آیت ﴿يَاأَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمْ إِنَّ زَلْزَلَةَ السَّاعَةِ شَيْءٌ عَظِيمٌ﴾ [سورة الحج: 1] نازل ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی آواز بلند فرمائی یہاں تک کہ آپ کے صحابہ آپ کی طرف متوجہ ہو گئے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم جانتے ہو کہ یہ کون سا دن ہوگا؟ یہ وہ دن ہوگا جب اللہ تعالیٰ آدم (علیہ السلام) سے فرمائے گا: اے آدم! اٹھو اور «بَعْثَ النَّارِ» ”آگ (جہنم) کا لشکر“ نکالو، ہر ہزار میں سے نو سو ننانوے نکال لو۔“ یہ بات مسلمانوں پر بہت گراں گزری، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سیدھے راستے پر رہو، میانہ روی اختیار کرو اور خوشخبری حاصل کرو، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! تم دیگر امتوں کے مقابلے میں (تعداد میں) ایسے ہو جیسے اونٹ کے پہلو میں ایک تل کا نشان ہو، یا جیسے چوپائے کے ہاتھ پر کوئی مخصوص نشان ہو، تمہارے ساتھ دو ایسی مخلوقات ہوں گی جو جس چیز کے ساتھ بھی ہوں اس کی تعداد کو بہت زیادہ کر دیتی ہیں، یعنی یاجوج اور ماجوج، اور جنوں اور انسانوں میں سے وہ کفار جو ہلاک ہو گئے۔“
یہ سند شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: الأهوال/حدیث: 8906]
یہ سند شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: الأهوال/حدیث: 8906]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح لكن من حديث عمران بن حصين كما سلفت الإشارة إليه عند المصنف برقم (79) حيث رواه هناك من طريق محمود بن غيلان عن عبد الرزاق» [ترقيم الرساله 8906] [ترقيم الشركة 8797]
الحكم على الحديث: حديث صحيح ل
حدیث نمبر: 8907
وقد أخبرَناهُ عبدُ الله بن محمد الدَّورَقي، حدثنا محمد بن إسحاق الإمام، حدثنا محمد بن يحيى، حدثنا عبد الرزاق؛ فساق الحديثَ بمثلِه سواءً. ثم قال محمد بن يحيى في آخره هذا الحديث عندنا غيرُ محفوظٍ عن أنس، ولكن المحفوظ عندنا حديثُ قتادةَ عن الحسن عن عِمرانَ بن حُصَين.
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے یہی حدیث مروی ہے۔ محمد بن یحییٰ نے اس کے آخر میں کہا کہ یہ حدیث ہمارے نزدیک سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے محفوظ نہیں ہے، بلکہ محفوظ روایت وہ ہے جو قتادہ کی حسن بصری سے اور ان کی سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: الأهوال/حدیث: 8907]
تخریج الحدیث: [ترقيم الرساله 8907] [ترقيم الشركة 8798]