المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
15. مَوْتُ ابْنِ وَهْبٍ بِسَمْعِ كِتَابِ الْأَهْوَالِ
کتابِ اہوال (قیامت کی ہولناکیوں کا ذکر) سن کر ابن وہب کی وفات کا قصہ
حدیث نمبر: 8928
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا الربيع بن سليمان، حدثنا أَسَد بن موسى، حدثنا أبو معاوية محمد بن خازِم، عن موسى بن مُسِلم - وهو الصَّغير - عن هلال بن يِسَاف عن أم الدرداء قالت: قلت لأبي الدرداء: ألا تبتغي لأضيافِك ما يبتغي الرجالُ لأضيافهم؟ فقال: سمعت رسول الله ﷺ يقول:"إِنَّ أمَامَكُم عَقَبَةٌ كَؤُودٌ، لا يَجُوزها المُثقِلون"، فأُحِبُّ أن أتخفَّفَ لتلك العَقَبة (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8713 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8713 - صحيح
سیدہ ام درداء رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ سے کہا: کیا آپ اپنے مہمانوں کے لیے وہ آسائشیں تلاش نہیں کرتے جو دیگر لوگ اپنے مہمانوں کے لیے کرتے ہیں؟ تو انہوں نے جواب دیا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”تمہارے سامنے ایک نہایت کٹھن اور دشوار گزار گھاٹی ہے، جس سے بوجھ تلے دبے ہوئے لوگ نہیں گزر سکیں گے“، لہٰذا میں پسند کرتا ہوں کہ اس گھاٹی کو پار کرنے کے لیے اپنا بوجھ ہلکا رکھوں۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: الأهوال/حدیث: 8928]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: الأهوال/حدیث: 8928]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح» [ترقيم الرساله 8928] [ترقيم الشركة 8819] [ترقيم العلميه 8713]
الحكم على الحديث: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 8929
حدثني أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيَه وأبو بكر أحمد بن جعفر ببغداد قالا: حدثنا عبد الله بن أحمد بن حَنبَل [حدثنا أَبي] (1) حدثنا أبو داود، حدثنا شُعْبة، عن خالدٍ الحذَاء قال: سمعت أبا عثمان النَّهْديَّ يُحدِّث، أنَّ النبي ﷺ قال:"يُرفع للرجل (2) الصحيفةُ يومَ القيامة حتى يُرَى أنه [ناجٍ] (3) فما تزالُ مظالمُ بني آدم تَتْبعُه حتى ما تبقى حسنةٌ، ويُزادُ عليه من سيِّئاتِهم". قال: فقلت له - أو قال: فقال له عاصم -: عمَّن يا أبا عثمان؟ فقال: عن سلمان وسعدٍ وابن مسعود، حتى عدَّ ستةً أو سبعةً من أصحاب رسول الله ﷺ. قال شعبةُ: فسألتُ عاصمًا عن هذا الحديث، فحدَّثَنيه عن أبي عثمان عن سلمان. وأخبرني عثمان بن غياث: أنه سمع أبا عثمانَ يُحدِّث بهذا عن سلمانَ وأصحابِ رسول الله ﷺ (4)
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8714 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8714 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا سلمان فارسی، سیدنا سعد اور سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہم سمیت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چھ یا سات صحابہ کرام سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت کے دن کسی شخص کا نامہ اعمال پیش کیا جائے گا یہاں تک کہ وہ سمجھے گا کہ وہ نجات پا گیا ہے، مگر پھر لوگوں کے حقوق اور ان پر کیے گئے مظالم اس کا تعاقب کریں گے یہاں تک کہ اس کی کوئی نیکی باقی نہیں رہے گی اور ان کے گناہ اس کے کھاتے میں ڈال دیے جائیں گے۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: الأهوال/حدیث: 8929]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: الأهوال/حدیث: 8929]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح» [ترقيم الرساله 8929] [ترقيم الشركة 8820] [ترقيم العلميه 8714]
الحكم على الحديث: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 8930
حدثنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الزاهد الأصبهاني، حدثنا محمد بن مَسلَمة (1) الواسطي، حدثنا يزيد بن هارون حدثنا همَّام بن يحيى، حدثنا القاسم بن عبد الواحد، عن عبد الله بن محمد بن عَقِيل، عن جابر بن عبد الله قال: بَلَغَني عن رجل من أصحاب رسول الله ﷺ حديثٌ (2) سمعه من رسول الله ﷺ في القِصَاص لم أسمَعْه منه، فابتعَتُ بعيرًا فَشَدَدتُ رَحْلي، ثم سِرتُ إليه شهرًا حتى قدمتُ مصرَ - أو قال: الشام - فأتيت عبدَ الله بنَ أُنيس، فقلت: حديثٌ بَلَغَني عنك تحدِّثُ به، سمعتَه من رسول الله ﷺ ولم أسمعه في القصاص، خَشِيتُ أن أموتَ قبل أن أسمعَه، فقال عبد الله: سمعت رسول الله ﷺ يقول:"يوم يُحشَرُ العبادُ - أو قال: الناس - عُراةً غُرْلًا بُهْمًا ليس معهم شيءٌ، ثم يناديهم بصوتٍ يَسمعُه من بَعُدَ كما يسمعُه من قَرُبَ: أنا المَلِكُ، أنا الدَّيَّانُ، لا ينبغي لأحدٍ من أهل الجنة أن يدخلَ الجنة ولأحدٍ من أهل النار عليه مَظلِمةٌ حتى أُقِصَّه منه، ولا ينبغي لأحدٍ من أهل النار أن يدخلَ النارَ ولأحدٍ من أهل الجنة [عنده] مَظلِمةٌ حتى أُقِصَّه منه، حتى اللَّطْمةُ"، قال: قلنا: كيف وإنَّا إِنَّما نأتي الله ﷿ عُراةً حُفاةً غُرْلًا بُهْمًا؟ قال: الحَسَناتُ والسَّيِّئَاتُ" (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8715 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8715 - صحيح
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابی سے قصاص کے متعلق ایک حدیث معلوم ہوئی جو انہوں نے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نہیں سنی تھی، چنانچہ انہوں نے ایک اونٹ خریدا، اس پر کجاوہ کسا اور ایک ماہ کی مسافت طے کر کے مصر (یا شام) پہنچے اور سیدنا عبداللہ بن انیس رضی اللہ عنہ سے ملے اور کہا: مجھے آپ سے ایک حدیث کے متعلق معلوم ہوا ہے جو آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے لیکن میں نے قصاص کے بارے میں اسے نہیں سنا، مجھے اندیشہ ہوا کہ اسے سنے بغیر کہیں میری موت نہ آ جائے، تو سیدنا عبداللہ بن انیس رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”جس دن بندوں کو - یا فرمایا: لوگوں کو - اس حال میں محشور کیا جائے گا کہ وہ ننگے بدن، غیر مختون اور «بُهْمًا» (خالی ہاتھ) ہوں گے، ان کے پاس کچھ بھی نہ ہوگا، پھر اللہ تعالیٰ انہیں ایسی آواز میں پکارے گا جسے دور والا بھی ویسے ہی سنے گا جیسے قریب والا سنتا ہے: میں بادشاہ ہوں، میں جزا و سزا دینے والا ہوں، کسی جنتی کے لیے یہ لائق نہیں کہ وہ جنت میں داخل ہو جائے جبکہ کسی دوزخی کا اس پر کوئی حق (مظلمہ) باقی ہو یہاں تک کہ میں اسے اس کا قصاص دلا دوں، اور کسی دوزخی کے لیے یہ لائق نہیں کہ وہ دوزخ میں داخل ہو جائے جبکہ کسی جنتی کا اس پر کوئی حق باقی ہو یہاں تک کہ میں اسے اس کا قصاص دلا دوں، یہاں تک کہ ایک تھپڑ کا بھی (بدلہ لیا جائے گا)“، ہم نے عرض کیا: یہ کیسے ممکن ہے جبکہ ہم اللہ کے حضور ننگے بدن اور خالی ہاتھ حاضر ہوں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(یہ بدلہ) نیکیوں اور برائیوں کے ذریعے ہوگا۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: الأهوال/حدیث: 8930]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: الأهوال/حدیث: 8930]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن في المتابعات والشواهد من أجل القاسم بن عبد الواحد وابن عقيل. ومحمد بن مسلمة» [ترقيم الرساله 8930] [ترقيم الشركة 8821] [ترقيم العلميه 8715]
الحكم على الحديث: إسناده حسن
16. جَعْلُ اللَّهِ الْقِصَاصَ بَيْنَ الدَّوَابِّ
اللہ تعالیٰ نے جانوروں کے درمیان بھی قصاص (برابری کا بدلہ) رکھا ہے
حدیث نمبر: 8931
أخبرنا أبو عبد الله الصَّفّار، حدثنا أحمد بن مهران، حدثنا رَوْح بن عُبَادة، أخبرنا عوف، عن أبي المغيرة القَوَّاس عن عبد الله بن عمرو بن العاص قال: إذا كان يومُ القيامة مُدَّت الأرضُ مدَّ الأَديم، وحَشَرَ اللهُ الخلائقَ الإنسَ والجنَّ والدوابَّ والوحوش، فإذا كان ذلك اليومُ جعلَ الله القِصاصَ بين الدوابِّ حتى تُقَصَّ الشاةُ الجَمَّاءُ من القَرْناء بنَطْحها، فإذا فَرَغَ الله من القِصاص بين الدوابِّ قال لها: كوني ترابًا، فتكونُ ترابًا، فيَراها الكافر فيقول: يا ليتني كنتُ ترابًا (1) . رواتُه عن آخرهم ثِقاتٌ غيرَ أنَّ أبا المغيرة مجهولٌ، وتفسيرُ الصحابي مُسندَ (2) .
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جب قیامت کا دن ہوگا تو زمین کو چمڑے کی طرح پھیلا دیا جائے گا اور اللہ تعالیٰ تمام مخلوقات یعنی انسانوں، جنوں، چوپایوں اور وحشی جانوروں کو اکٹھا فرمائے گا، پس جب وہ دن ہوگا تو اللہ تعالیٰ جانوروں کے درمیان بھی قصاص قائم فرمائے گا یہاں تک کہ بغیر سینگوں والی بکری کو سینگوں والی بکری کے مارنے کا بدلہ دلایا جائے گا، پھر جب اللہ تعالیٰ جانوروں کے درمیان قصاص کے فیصلے سے فارغ ہوگا تو ان سے فرمائے گا: تم مٹی ہو جاؤ، تو وہ سب مٹی ہو جائیں گے، اس وقت کافر (یہ منظر دیکھ کر) کہے گا: ﴿يَا لَيْتَنِي كُنْتُ تُرَابًا﴾ ”اے کاش! میں مٹی ہوتا۔“ [سورة النبأ: 40]
اس کے تمام راوی ثقہ ہیں سوائے ابومغیرہ کے جو کہ مجہول ہیں، اور صحابی کی تفسیر مسند ہوتی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: الأهوال/حدیث: 8931]
اس کے تمام راوی ثقہ ہیں سوائے ابومغیرہ کے جو کہ مجہول ہیں، اور صحابی کی تفسیر مسند ہوتی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: الأهوال/حدیث: 8931]
تخریج الحدیث: «إسناده محتمل للتحسين، من أجل أبي المغيرة القوّاس فهو تابعيٌّ انفرد بالرواية عنه عوف بن أبي جميلة الأعرابي، وعوف هذا ثقة مشهور، وقد وثق أبا المغيرة يحيى بنُ معين كما في "الجرح والتعديل" 9/ 439، وذكره ابن حبان في "ثقاته" 5/ 565، وتكلّم فيه سليمان التيمي من أجل مذهبه في علي بن أبي طالب» [ترقيم الرساله 8931] [ترقيم الشركة 8822]
الحكم على الحديث: إسناده محتمل للتحسين
17. الدَّوَاوِينُ ثَلَاثَةٌ
اعمال کے رجسٹر (دیوان) تین طرح کے ہیں
حدیث نمبر: 8932
أخبرنا أبو بكر بن أبي نَصْر المزكِّي بمَرْو، حدثنا عبد الله بن رَوْح المَدائني، حدثنا يزيد بن هارون أخبرنا صَدَقةُ بن موسى، عن أبي عمران الجَوْني، عن يزيد بن بابَنُوس، عن عائشة قالت: قال رسول الله ﷺ:"الدَّواوينُ ثلاثةٌ، فديوانٌ لا يَغْفِرُ الله منه شيئًا، وديوانٌ لا يَعبَأ الله به شيئًا، وديوانٌ لا يَترُكُ الله منه شيئًا، فأما الديوانُ الذي لا يَغْفِرُ الله منه شيئًا، فالإشراكُ بالله، قال الله ﷿: ﴿إِنَّ اللَّهَ لَا يَغْفِرُ أَنْ يُشْرَكَ بِهِ وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذَلِكَ لِمَنْ يَشَاءُ﴾ [النساء: 48] ، وأما الديوانُ الذي لا يَعبَأُ الله به شيئًا قطُّ، فظُلمُ العبد نفسه فيما بينه وبين ربِّه، وأما الديوانُ الذي لا يَتُرك الله منه شيئًا، فمظالمُ العبادِ بينهم، القِصاصُ لا مَحالةَ" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8717 - صدقة ضعفوه وابن بابنوس فيه جهالة
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8717 - صدقة ضعفوه وابن بابنوس فيه جهالة
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اعمال کے دفاتر تین طرح کے ہیں، ایک وہ دفتر ہے جسے اللہ کبھی معاف نہیں فرمائے گا، ایک وہ دفتر ہے جس کی اللہ کوئی پروا نہیں کرے گا، اور ایک وہ دفتر ہے جس میں سے اللہ کچھ بھی نہیں چھوڑے گا، رہا وہ دفتر جسے اللہ کبھی معاف نہیں فرمائے گا تو وہ اللہ کے ساتھ شرک کرنا ہے، اللہ عزوجل کا فرمان ہے: ﴿إِنَّ اللَّهَ لَا يَغْفِرُ أَنْ يُشْرَكَ بِهِ وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذَلِكَ لِمَنْ يَشَاءُ﴾ [سورة النساء: 48] ، اور رہا وہ دفتر جس کی اللہ بالکل پروا نہیں کرے گا تو وہ بندے کا اپنے نفس پر وہ ظلم ہے جو اس کے اور اس کے رب کے درمیان گناہوں کی صورت میں ہو، اور رہا وہ دفتر جس میں سے اللہ کچھ بھی نہیں چھوڑے گا تو وہ بندوں کے آپسی مظالم ہیں، جن کا بدلہ (قصاص) بہرصورت لیا جائے گا۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: الأهوال/حدیث: 8932]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: الأهوال/حدیث: 8932]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف لضعف صدقة بن موسى وقد تفرَّد به وقال الذهبي في "تلخيصه": صدقة ضعَّفوه وابن بابنوس فيه جهالة» [ترقيم الرساله 8932] [ترقيم الشركة 8823] [ترقيم العلميه 8717]
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
18. إِذَا لَمْ يَبْقَ مِنَ الْحَسَنَاتِ فَيُحْمَلُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنَ الْأَوْزَارِ
قیامت کے دن جب نیکیاں باقی نہیں رہیں گی تو (دوسروں کے) گناہ لاد دیے جائیں گے
حدیث نمبر: 8933
حدثنا أبو منصور محمد بن القاسم العَتَكي، حدثنا أبو عبد الله محمد بن أحمد بن أنس القُرَشي، حدثنا عبد الله بن بكر السَّهْمي، أخبرنا عبَّاد بن شَيْبة الحَبَطي، عن سعيد بن أنس، عن أنس بن مالك قال: بَيْنا رسولُ الله ﷺ جالسٌ إذ رأيناه ضَحِكَ حتى بَدَتْ ثَناياه، فقال له عمر ما أضحَكَك يا رسولَ الله بأبي أنت وأمِّي؟ قال:"رجلانِ من أمَّتي جَثَيَا بين يَدَيْ ربِّ العِزَّة، فقال أحدُهما: يا ربِّ، خُذْ لي مَظْلِمَتي من أخي، فقال الله ﵎ للطالب: فكيف تَصنعُ بأخيك ولم يَبْقَ من حسناته شيءٌ؟ قال: يا ربِّ، فليَحمِلْ من أَوزاري، قال: وفاضت عَيْنا رسولِ الله ﷺ بالبكاء، ثم قال:"إِنَّ ذاكَ اليومَ عظيمٌ، يحتاج الناسُ أن يُحمَلَ عنهم من أَوزارِهم، فقال الله للطالب: ارفَعْ بصرَك فانظُرْ في الجِنَان، فرفع رأسَه فقال: يا ربِّ، أَرى مدائنَ من ذهبٍ وقُصورًا من ذهب مُكلَّلةٌ (2) باللؤلؤ، لأيِّ نبيٍّ هذا، أو لأيِّ صِدِّيق هذا، أو لأيِّ شهيدٍ هذا؟ قال: هذا لمن أَعطى الثَّمنَ، قال: يا ربِّ، ومن يَملِكُ ذلك؟ قال: أنت تَملِكُه، قال: بماذا؟ قال: بعَفْوِك عن أخيك، قال: يا ربِّ، فإني قد عَفَوتُ عنه، قال الله ﷿: فخُذْ بيدِ أخيك فأَدخِلْه الجنةَ"، فقال رسول الله ﷺ عند ذلك:"اتَّقُوا الله وأَصلحوا ذاتَ بينِكم، فإنَّ الله يُصلِحُ بين المسلمين" (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما تھے کہ ہم نے دیکھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس طرح مسکرائے کہ آپ کے سامنے کے دانت مبارک ظاہر ہو گئے، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، کس بات نے آپ کو ہنسایا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری امت کے دو شخص رب العزت کے سامنے گھٹنوں کے بل گرے ہوئے تھے، ان میں سے ایک نے عرض کیا: اے میرے رب! اپنے اس بھائی سے میرا حق (مظلمہ) دلا دے، تو اللہ عزوجل نے مطالبہ کرنے والے سے فرمایا: تم اپنے بھائی کے ساتھ کیا کرو گے جبکہ اس کی نیکیوں میں سے اب کچھ بھی باقی نہیں رہا؟ اس نے عرض کیا: اے میرے رب! پھر یہ میرے گناہوں کا بوجھ اٹھا لے“، (یہ بیان کرتے ہوئے) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے، پھر فرمایا: ”بے شک وہ دن بہت عظیم ہوگا، لوگ اس بات کے محتاج ہوں گے کہ ان کے گناہوں کا بوجھ بانٹ لیا جائے، پھر اللہ نے مطالبہ کرنے والے سے فرمایا: اپنی نگاہ اٹھاؤ اور ان جنتوں کی طرف دیکھو، اس نے اپنا سر اٹھایا اور عرض کیا: اے میرے رب! میں سونے کے شہر اور سونے کے ایسے محلات دیکھ رہا ہوں جو موتیوں سے جڑے ہوئے ہیں، یہ کس نبی، کس صدیق یا کس شہید کے لیے ہیں؟ اللہ نے فرمایا: یہ اس کے لیے ہے جو اس کی قیمت ادا کرے، اس نے عرض کیا: اے میرے رب! اس کی قیمت کا کون مالک ہو سکتا ہے؟ اللہ نے فرمایا: تم اس کے مالک بن سکتے ہو، اس نے پوچھا: کس طرح؟ فرمایا: اپنے بھائی کو معاف کرنے کے ذریعے، اس نے عرض کیا: اے میرے رب! میں نے اسے معاف کر دیا، تب اللہ عزوجل نے فرمایا: اپنے بھائی کا ہاتھ پکڑو اور اسے جنت میں لے جاؤ“، اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ سے ڈرو اور اپنے باہمی معاملات درست کرو، کیونکہ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کے درمیان صلح کراتا ہے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: الأهوال/حدیث: 8933]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: الأهوال/حدیث: 8933]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف بمرَّة، عباد بن شيبة ضعيف منكر الحديث، وشيخه لا يُعرف كما قال الذهبي في "تلخيصه"، وذكر له البخاري في "تاريخه الكبير" 3/ 459 هذا الحديث في المظالم وقال: لا يتابع عليه، وقال ابن حجر بعد أن ساقه في "المطالب العالية" (4590) عن أبي يعلى: ضعيف جدًّا» [ترقيم الرساله 8933] [ترقيم الشركة 8824]
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف بمرَّة
حدیث نمبر: 8934
أخبرني أبو عبد الله محمد بن علي الصَّنعاني بمكة حَرَسها الله، حدثنا إسحاق بن إبراهيم الدَّبَري، أخبرنا عبد الرزاق، أخبرنا عبد الله بن بَحِير، عن عبد الرحمن بن يزيد قال: سمعت ابنَ عمر يقول: قال رسول الله ﷺ:"من سَرَّه أن يَنظُرَ إلى يوم القيامة كأنه رأيُ عينٍ، فليقرأ: ﴿إِذَا الشَّمْسُ كُوِّرَتْ﴾ و ﴿إِذَا السَّمَاءُ انْفَطَرَتْ﴾ و ﴿إِذَا السَّمَاءُ انْشَقَّتْ﴾ (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8719 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8719 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جسے یہ پسند ہو کہ وہ قیامت کے دن کو اس طرح دیکھے کہ گویا وہ اس کی آنکھوں کے سامنے ہے، تو اسے چاہیے کہ وہ ﴿إِذَا الشَّمْسُ كُوِّرَتْ﴾ [سورة التكوير: 1] ، ﴿إِذَا السَّمَاءُ انْفَطَرَتْ﴾ [سورة الانفطار: 1] اور ﴿إِذَا السَّمَاءُ انْشَقَّتْ﴾ [سورة الانشقاق: 1] کی تلاوت کرے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: الأهوال/حدیث: 8934]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: الأهوال/حدیث: 8934]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن من أجل عبد الرحمن بن يزيد الصنعاني» [ترقيم الرساله 8934] [ترقيم الشركة 8825] [ترقيم العلميه 8719]
الحكم على الحديث: إسناده حسن
حدیث نمبر: 8935
حدثنا الحسن بن يعقوب العَدْل، حدثنا يحيى بن أبي طالب، أخبرنا عبد الوهاب بن عطاء، أخبرنا الفضل بن عيسى الرَّقَاشي، عن محمد بن المُنكدِر، عن جابر بن عبد الله قال: قال رسول الله ﷺ:"إنَّ العارَ لَيَلزَمُ المرءَ يومَ القيامة حتى يقول: يا ربِّ، لإَرسالُك بي إلى النار، أُيسرُ عليَّ ممّا أَلقَى، وإنه لَيعلمُ ما فيها من شدَّةِ العذاب" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8720 - الفضل واه
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8720 - الفضل واه
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بے شک قیامت کے دن شرم و ندامت انسان کو اس قدر لاحق ہوگی کہ وہ پکار اٹھے گا: اے میرے رب! میرا جہنم کی طرف بھیج دیا جانا میرے لیے اس (رسوائی) سے زیادہ آسان ہے جس کا میں سامنا کر رہا ہوں، حالانکہ وہ بخوبی جانتا ہوگا کہ اس آگ میں کتنا سخت عذاب ہے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: الأهوال/حدیث: 8935]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: الأهوال/حدیث: 8935]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف جدًّا من أجل الفضل بن عيسى، فإنه واهٍ كما قال الذهبي في "تلخيصه". وأخرجه البزار (3423)» [ترقيم الرساله 8935] [ترقيم الشركة 8826] [ترقيم العلميه 8720]
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف جدًّا من أجل الفضل بن عيسى
19. ذِكْرُ عَرْضِ الْأَنْبِيَاءِ بِأَتْبَاعِهِمْ عَلَى نَبِيِّنَا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
انبیاء علیہم السلام کا اپنے متبعین کے ساتھ ہمارے نبی ﷺ کے سامنے پیش کیے جانے کا تذکرہ
حدیث نمبر: 8936
وأخبرنا الحسن بن يعقوب، حدثنا يحيى بن أبي طالب، أخبرنا عبد الوهاب بن عطاء، أخبرنا سعيد، عن قَتَادةَ، عن الحسن والعلاءِ بن زياد، عن عِمْران بن حُصَين، عن عبد الله بن مسعود قال: تحدَّثْنا عند نبيِّ الله ﷺ ذَاتَ ليلةٍ وأَكْرَيْنا (1) الحديثَ، قال: ثم تَراجَعْنا إلى البيوت، فلما أصبَحْنا غَدَوْنا على النبي ﷺ، فقال نبيُّ الله ﷺ"عُرضت عليَّ الأنبياءُ الليلةَ بأَتْباعِها من أمَّتها، فجعل النبيُّ يجيءُ ومعه الثلاثةُ من قومِه، والنبيُّ ومعه العِصابةُ، والنبيُّ ومعه النَّفْرُ، والنبيُّ ليس معه أحدٌ من قومه، حتى أَتى (2) عليَّ موسى بنُ عِمران في كَبْكبةٍ من بني إسرائيل، فلما رأيتهم أعجَبُوني، فقلت: ربِّ، مَن هؤلاء؟ قال: هذا أخوك موسى بنُ عِمران ومن تَبِعَه من بني إسرائيل، قال: قلت: ربِّ، فأين أمَّتي؟ فقيل لي: انظُرْ عن يمينِك، فإذا الظِّرابُ (3) ، ظِرابُ مكة، قد سُدَّ بوجوه الرِّجال فقلت: ربِّ مَن هؤلاء؟ قال: أمَّتُك، قال: فقيل لي: هل رَضِيتَ؟ فقلت: ربِّ، رضيتُ، قال: ثم قيل لي: إنَّ مع هؤلاءِ سبعين ألفًا يدخلون الجنةَ لا حساب عليهم"، قال: فأنشأَ عُكَاشةُ بن مِحصَن أخو بني أَسد بن خُزَيمة قال: يا نبيَّ الله، ادْعُ ربَّك أن يجعلَني منهم، قال: فقال:"اللهمَّ اجعَلْه منهم"، ثم أنشأ رجلٌ آخرُ فقال: يا نبيَّ الله، ادعُ ربَّك أن يجعلَني منهم، قال: فقال:"سَبَقَك بها عُكّاشة". قال: ثم قال نبي الله ﷺ"فِدًى لكم أَبي وأُمي، إن استطعتم أن تكونوا من السبعين فكونوا، فإن عَجَزتُم وقصَّرتُم فكونوا من أهل الظِّراب، فإن عَجَرْتُم وقصَّرتُم فكونوا من أهل الأُفُق، فإني رأيتُ ثَمَّ ناسًا يَتهرَّشُون (4) كثيرًا". قال: ثم قال رسول الله ﷺ:"إني لأرجو أن يكونَ مَن تَبِعَني من أمّتي رُبعَ أهلِ الجنة" قال: فكبَّرْنا، ثم قال:"إني لأرجو أن تكونوا الثُّلثَ" فكبَّرْنا، ثم قال:"إني لأرجو الشَّطرَ" فكبَّرْنا، قال: فتَلَا نبيُّ الله - صلى الله عليه وسل - ﴿ثُلَّةٌ مِنَ الْأَوَّلِينَ (39) وَثُلَّةٌ مِنَ الْآخِرِينَ﴾ [الواقعة: 39 - 40] . قال: فراجع المسلمون على هؤلاء السبعين، فقالوا: أَتُراهم ناسًا وُلِدوا في الإسلام ثم لم يَزالُوا يعملون به حتى ماتوا عليه؟! فنُمِيَ حديثُهم ذلك إلى نبي الله ﷺ فقال:" ليس كذلكَ، ولكنَّهم الذين لا يَستَرْقُون ولا يَكتَوُون ولا يتطيَّرُون، وعلى ربِّهم يَتوكَّلون" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8721 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8721 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ایک رات ہم اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے گفتگو کر رہے تھے اور ہم نے اپنی گفتگو کو طویل کر دیا۔ پھر ہم اپنے گھروں کو لوٹ گئے۔ جب صبح ہوئی تو ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، تو اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آج رات مجھ پر انبیاء اپنی امتوں کے پیروکاروں کے ساتھ پیش کیے گئے۔ چنانچہ کوئی نبی اس حال میں گزر رہا تھا کہ اس کے ساتھ اس کی قوم کے تین آدمی تھے، کوئی نبی گزر رہا تھا اور اس کے ساتھ ایک جماعت تھی، کوئی نبی گزر رہا تھا اور اس کے ساتھ چند لوگ تھے، اور کوئی نبی گزر رہا تھا اور اس کے ساتھ اس کی قوم کا کوئی فرد نہیں تھا۔ یہاں تک کہ میرے سامنے سے موسیٰ بن عمران (علیہ السلام) بنی اسرائیل کی ایک بڑی جماعت کے ساتھ گزرے۔ جب میں نے انہیں دیکھا تو وہ مجھے بہت اچھے لگے، تو میں نے عرض کی: اے میرے رب! یہ کون ہیں؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: یہ آپ کے بھائی موسیٰ بن عمران ہیں اور یہ بنی اسرائیل میں سے ان کے پیروکار ہیں۔ میں نے عرض کی: اے میرے رب! پھر میری امت کہاں ہے؟ تو مجھ سے کہا گیا: اپنی دائیں طرف دیکھیے۔ تو اچانک کیا دیکھتا ہوں کہ مکہ کی پہاڑیاں لوگوں کے چہروں سے بھری ہوئی تھیں۔ تو میں نے عرض کی: اے میرے رب! یہ کون ہیں؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: یہ آپ کی امت ہے۔ پھر مجھ سے پوچھا گیا: کیا آپ راضی ہو گئے؟ تو میں نے عرض کی: اے میرے رب! میں راضی ہو گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر مجھ سے کہا گیا: ان لوگوں کے ساتھ ستر ہزار ایسے لوگ ہیں جو بغیر حساب کے جنت میں داخل ہوں گے۔“ راوی کہتے ہیں کہ (یہ سن کر) بنی اسد بن خزیمہ کے بھائی عکاشہ بن محصن رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور عرض کی: اے اللہ کے نبی! اپنے رب سے دعا فرمائیے کہ وہ مجھے ان (ستر ہزار) میں شامل فرما دے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی: ”اے اللہ! اسے ان میں شامل فرما دے۔“ پھر ایک اور شخص کھڑا ہوا اور عرض کی: اے اللہ کے نبی! اپنے رب سے دعا فرمائیے کہ وہ مجھے بھی ان میں شامل فرما دے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عکاشہ اس معاملے میں تم پر بازی لے گیا ہے۔“ راوی کہتے ہیں، پھر اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے ماں باپ تم پر فدا ہوں! اگر تم ان ستر ہزار میں سے ہو سکتے ہو تو ہو جاؤ، اور اگر تم عاجز آ جاؤ اور کوتاہی ہو جائے تو پھر ان پہاڑیوں والوں میں سے ہو جاؤ، اور اگر اس سے بھی عاجز رہو اور کوتاہی ہو جائے تو پھر افق والوں (یعنی عام مجمع) میں سے ہو جاؤ، کیونکہ میں نے وہاں بہت سے لوگوں کا ہجوم دیکھا ہے۔“ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے امید ہے کہ میری امت کے پیروکار اہلِ جنت کا ایک چوتھائی ہوں گے۔“ راوی کہتے ہیں: تو ہم نے تکبیر (اللہ اکبر) کہی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے امید ہے کہ تم ایک تہائی ہوگے۔“ تو ہم نے تکبیر کہی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے امید ہے کہ تم آدھے ہوگے۔“ تو ہم نے تکبیر کہی۔ پھر اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی: ﴿ثُلَّةٌ مِنَ الْأَوَّلِينَ وَثُلَّةٌ مِنَ الْآخِرِينَ﴾ ”ایک بڑی جماعت پہلوں میں سے ہوگی، اور ایک بڑی جماعت پچھلوں میں سے۔“ [سورة الواقعة: 39 - 40] راوی کہتے ہیں: پھر مسلمانوں نے ان ستر ہزار کے بارے میں آپس میں گفتگو کی، اور کہا: کیا تمہارا خیال ہے کہ یہ وہ لوگ ہیں جو اسلام میں پیدا ہوئے اور پھر مرتے دم تک اسی پر عمل پیرا رہے؟! تو ان کی یہ بات اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایسا نہیں ہے، بلکہ یہ وہ لوگ ہیں جو نہ دم کرواتے ہیں، نہ داغ لگواتے ہیں، نہ بدشگونی لیتے ہیں، اور (اپنے ہر معاملے میں) صرف اپنے رب پر بھروسہ کرتے ہیں۔“
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے اس سیاق کے ساتھ روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: الأهوال/حدیث: 8936]
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے اس سیاق کے ساتھ روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: الأهوال/حدیث: 8936]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وهذا إسناد قوي من أجل يحيى بن أبي طالب وشيخه عبد الوهاب بن عطاء، والحسنُ» [ترقيم الرساله 8936] [ترقيم الشركة 8827] [ترقيم العلميه 8721]
الحكم على الحديث: حديث صحيح
حدیث نمبر: 8937
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الشَّيباني، حدثنا يحيى بن محمد بن يحيى الذُّهْلي، حدثنا مُسدَّد، حدثنا ابن عُليَّة، عن يونس بن عُبيد، عن الحسن، عن عائشة قالت: ذَكَرتُ النار فبكيتُ فقال رسول الله ﷺ"ما لَكِ يا عائشة؟" قالت: ذكرتُ النارَ فبكيتُ، فهل تذكرون أهليكم يومَ القيامة؟ فقال رسول الله ﷺ:"أمّا في ثلاثِ مواطنَ، فلا يَذكُرُ أحدٌ أحدًا: [عند الميزان] (1) حتى يعلم أيَخِفُّ ميزانُه أم يَثقُل، وعند الكُتُب حين يقال هاؤُم اقرؤُوا كتابِيَهْ، حتى يعلمَ أين يقعُ كتابُه، أفي يمينِه أم في شِمالِه أو من وراءِ ظهرهِ، وعند الصِّراطِ إذا وُضِعَ بين ظَهْرَي جَهَنَّمَ، حافَتَاه كَلاليبُ كثيرة وحَسَكٌ كثير، يَحبِسُ اللهُ بها من شاءَ من خلقِه، حتى يعلمَ أينجُو أم لا" (2) .
هذا حديث صحيح، إسناده على شرط الشيخين لولا إرسالٌ فيه بين الحسن وعائشة، على أنه قد صحَّت الرواياتُ أنَّ الحسن كان يَدخُل وهو صبيٌّ منزلَ عائشة وأمِّ سَلَمة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8722 - على شرط البخاري ومسلم لولا إرسال فيه بين الحسن وعائشة
هذا حديث صحيح، إسناده على شرط الشيخين لولا إرسالٌ فيه بين الحسن وعائشة، على أنه قد صحَّت الرواياتُ أنَّ الحسن كان يَدخُل وهو صبيٌّ منزلَ عائشة وأمِّ سَلَمة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8722 - على شرط البخاري ومسلم لولا إرسال فيه بين الحسن وعائشة
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے جہنم کو یاد کیا تو رو پڑی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”اے عائشہ! تمہیں کیا ہوا؟“ میں نے عرض کی: میں نے جہنم کو یاد کیا تو رو پڑی، کیا آپ لوگ قیامت کے دن اپنے گھر والوں کو یاد رکھیں گے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تین مقامات ایسے ہیں جہاں کوئی کسی کو یاد نہیں رکھے گا: [میزان کے پاس] یہاں تک کہ اسے معلوم ہو جائے کہ اس کا ترازو ہلکا ہوتا ہے یا بھاری۔ اور نامہ اعمال ملنے کے وقت، جب کہا جائے گا: «هَاؤُمُ اقْرَءُوا كِتَابِيَهْ» ”آؤ میرا نامہ اعمال پڑھو۔“ یہاں تک کہ اسے معلوم ہو جائے کہ اس کا نامہ اعمال کہاں دیا جاتا ہے، اس کے دائیں ہاتھ میں، بائیں ہاتھ میں، یا اس کی پیٹھ کے پیچھے۔ اور پل صراط کے پاس، جب اسے جہنم کی پیٹھ پر رکھا جائے گا، اس کے دونوں کناروں پر بہت سے آنکڑے اور کانٹے ہوں گے، اللہ ان کے ذریعے اپنی مخلوق میں سے جسے چاہے گا روک لے گا، (ان مقامات پر کوئی کسی کو یاد نہیں کرے گا) یہاں تک کہ اسے معلوم ہو جائے کہ وہ نجات پاتا ہے یا نہیں۔“
یہ حدیث صحیح ہے، اس کی سند شیخین کی شرط پر ہے، اگرچہ اس میں حسن اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے درمیان ارسال (انقطاع) ہے۔ تاہم یہ روایات صحیح ثابت ہیں کہ حسن بچپن میں سیدہ عائشہ اور سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہما کے گھر جایا کرتے تھے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: الأهوال/حدیث: 8937]
یہ حدیث صحیح ہے، اس کی سند شیخین کی شرط پر ہے، اگرچہ اس میں حسن اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے درمیان ارسال (انقطاع) ہے۔ تاہم یہ روایات صحیح ثابت ہیں کہ حسن بچپن میں سیدہ عائشہ اور سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہما کے گھر جایا کرتے تھے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: الأهوال/حدیث: 8937]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف لانقطاعه بين الحسن» [ترقيم الرساله 8937] [ترقيم الشركة 8828] [ترقيم العلميه 8722]
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف