🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
26. باب فِي رَجْمِ الْيَهُودِيَّيْنِ
باب: دو یہودیوں کے رجم کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4451
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ يَحْيَى أَبُو الْأَصْبَغِ الْحَرَّانِيُّ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ رَجُلًا مِنْ مُزَيْنَةَ، يُحَدِّثُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ:" زَنَى رَجُلٌ وَامْرَأَةٌ مِنْ الْيَهُودِ وَقَدْ أُحْصِنَا حِينَ قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ، وَقَدْ كَانَ الرَّجْمُ مَكْتُوبًا عَلَيْهِمْ فِي التَّوْرَاةِ، فَتَرَكُوهُ وَأَخَذُوا بِالتَّجْبِيهِ يُضْرَبُ مِائَةً بِحَبْلٍ مَطْلِيٍّ بِقَارٍ وَيُحْمَلُ عَلَى حِمَارٍ وَجْهُهُ مِمَّا يَلِي دُبُرَ الْحِمَارِ، فَاجْتَمَعَ أَحْبَارٌ مِنْ أَحْبَارِهِمْ، فَبَعَثُوا قَوْمًا آخَرِينَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: سَلُوهُ عَنْ حَدِّ الزَّانِي، وَسَاقَ الْحَدِيثَ، فَقَالَ فِيهِ: قَالَ: وَلَمْ يَكُونُوا مِنْ أَهْلِ دِينِهِ فَيَحْكُمَ بَيْنَهُمْ، فَخُيِّرَ فِي ذَلِكَ، قَالَ: فَإِنْ جَاءُوكَ فَاحْكُمْ بَيْنَهُمْ أَوْ أَعْرِضْ عَنْهُمْ سورة المائدة آية 42".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ یہود کے ایک مرد اور ایک عورت نے زنا کیا وہ دونوں شادی شدہ تھے، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت کر کے مدینہ آئے تو تورات میں رجم کا حکم تحریر تھا، لیکن انہوں نے اسے چھوڑے رکھا تھا اور اس کے بدلہ «تَجبیہ» کو اختیار کر لیا تھا، تارکول ملی ہوئی رسی سے اسے سو بار مارا جاتا، اسے گدھے پر سوار کیا جاتا اور اس کا چہرہ گدھے کے پچھاڑی کی طرف ہوتا، تو ان کے علماء میں سے کچھ عالم اکٹھا ہوئے ان لوگوں نے کچھ لوگوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجا اور کہا جا کر ان سے زنا کی حد کے متعلق پوچھو، پھر انہوں نے پوری حدیث بیان کی، اس میں ہے: چونکہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دین پر نہیں تھے کہ آپ ان کے درمیان فیصلہ کریں اسی لیے آپ کو اس سلسلہ میں اختیار دیا گیا اور فرمایا گیا «فإن جاءوك فاحكم بينهم أو أعرض عنهم» اگر وہ تمہارے پاس آئیں تو تمہیں اختیار ہے چاہو تو ان کے درمیان فیصلہ کر دو اور چاہو تو ٹال دو (سورۃ المائدہ: ۴۲)۔ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4451]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ یہودیوں کے ایک مرد اور عورت نے زنا کیا جو شادی شدہ تھے اور یہ ان دنوں کی بات ہے جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لے آئے تھے۔ اور ان یہودیوں میں تورات کے مطابق (زانیوں پر) رجم فرض تھا، مگر انہوں نے اسے چھوڑ کر انہیں ذلیل و رسوا کرنا اختیار کر لیا تھا کہ انہیں تار کول لگی رسی سے سو بار مارا جائے اور گدھے پر پچھلی جانب منہ کر کے بٹھایا جائے۔ تو ان کے کئی علماء اکٹھے ہوئے اور انہوں نے دوسرے کچھ لوگوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے زانی کی حد کے متعلق پوچھیں اور حدیث بیان کی۔ اس میں کہا کہ، چونکہ وہ اہل یہود آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دین پر نہ تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کا فیصلہ کرتے، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس میں اختیار دیا گیا، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿فَإِن جَاءُوكَ فَاحْكُم بَيْنَهُمْ أَوْ أَعْرِضْ عَنْهُمْ﴾ [سورة المائدة: 42] اگر وہ آپ کے پاس آ جائیں تو ان میں فیصلہ کریں یا ان سے اعراض کر جائیں۔ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4451]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبوداود، انظر حدیث(488)، (تحفة الأشراف: 15492) (ضعیف)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
انظر الحديث السابق (4450)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 157

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4452
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُوسَى الْبَلْخِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، قَالَ: مُجَالِدٌ أَخْبَرَنَا، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ:" جَاءَتْ الْيَهُودُ بِرَجُلٍ وَامْرَأَةٍ مِنْهُمْ زَنَيَا، فَقَالَ: ائْتُونِي بِأَعْلَمِ رَجُلَيْنِ مِنْكُمْ فَأَتَوْهُ بِابْنَيْ صُورِيَا، فَنَشَدَهُمَا: كَيْفَ تَجِدَانِ أَمْرَ هَذَيْنِ فِي التَّوْرَاةِ؟ قَالَا: نَجِدُ فِي التَّوْرَاةِ إِذَا شَهِدَ أَرْبَعَةٌ أَنَّهُمْ رَأَوْا ذَكَرَهُ فِي فَرْجِهَا مِثْلَ الْمِيلِ فِي الْمُكْحُلَةِ رُجِمَا، قَالَ: فَمَا يَمْنَعُكُمَا أَنْ تَرْجُمُوهُمَا، قَالَا: ذَهَبَ سُلْطَانُنَا فَكَرِهْنَا الْقَتْلَ، فَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالشُّهُودِ، فَجَاءُوا بِأَرْبَعَةٍ فَشَهِدُوا أَنَّهُمْ رَأَوْا ذَكَرَهُ فِي فَرْجِهَا مِثْلَ الْمِيلِ فِي الْمُكْحُلَةِ، فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِرَجْمِهِمَا".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ یہود اپنے میں سے ایک مرد اور ایک عورت کو لے کر آئے ان دونوں نے زنا کیا تھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دو ایسے شخصوں کو جو تمہارے سب سے بڑے عالم ہوں لے کر میرے پاس آؤ تو وہ لوگ صوریا کے دونوں لڑکوں کو لے کر آئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کا واسطہ دے کر ان دونوں سے پوچھا: تم تورات میں ان دونوں کا حکم کیا پاتے ہو؟ ان دونوں نے کہا: ہم تورات میں یہی پاتے ہیں کہ جب چار گواہ گواہی دیدیں کہ انہوں نے مرد کے ذکر کو عورت کے فرج میں ایسے ہی دیکھا ہے جیسے سلائی سرمہ دانی میں تو وہ رجم کر دئیے جائیں گے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: تو پھر انہیں رجم کرنے سے کون سی چیز روک رہی ہے؟ انہوں نے کہا: ہماری سلطنت تو رہی نہیں اس لیے اب ہمیں قتل اچھا نہیں لگتا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گواہوں کو بلایا، وہ چار گواہ لے کر آئے، انہوں نے گواہی دی کہ انہوں نے مرد کے ذکر کو عورت کی فرج میں ایسے ہی دیکھا ہے جیسے سلائی سرمہ دانی میں، چنانچہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کو رجم کرنے کا حکم دے دیا۔ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4452]
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ یہودی اپنے ایک مرد اور عورت کو لے کر آئے جنہوں نے زنا کیا تھا۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنے دو بڑے عالموں کو لے آؤ۔ پس وہ صوریا کے دو بیٹوں کو لے آئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں قسم دے کر پوچھا: تم ان کے بارے میں تورات میں کیا پاتے ہو؟ تو انہوں نے کہا: تورات میں ہم یہ پاتے ہیں کہ جب چار آدمی گواہی دے دیں کہ انہوں نے مرد کے ذکر کو عورت کی فرج میں ایسے دیکھا ہے جیسے سرمے دانی میں سلائی ہوتی ہے تو انہیں رجم کر دیا جائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو تمہیں ان کو رجم کرنے میں کیا مانع ہے؟ انہوں نے کہا: ہماری اپنی حکومت تو نہیں ہے، اس لیے قتل کرنا ہمیں برا لگتا ہو۔ تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گواہ طلب کیے تو وہ چار گواہ لے کر آئے۔ انہوں نے گواہی دی کہ انہوں نے مرد کے ذکر کو عورت کی فرج میں ایسے دیکھا ہے، جیسے سرمے دانی میں سلائی ہو، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو رجم کرنے کا حکم دیا۔ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4452]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن ابن ماجہ/ الأحکام (2328)، (تحفة الأشراف: 2346)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/387)، صحیح مسلم/الحدود 6 (2374) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ابن ماجه (2374)
مجالد ضعيف
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 157

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4453
حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، عَنْ هُشَيْمٍ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، وَالشَّعْبِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ، لَمْ يَذْكُرْ فَدَعَا بِالشُّهُودِ فَشَهِدُوا.
ابراہیم اور شعبی سے روایت ہے وہ دونوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح روایت کرتے ہیں لیکن اس میں راوی نے یہ ذکر نہیں کیا ہے کہ آپ نے گواہوں کو بلایا، اور انہوں نے گواہی دی۔ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4453]
ابراہیم اور شعبی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی مانند روایت کی ہے، مگر اس میں گواہوں کو طلب کرنے اور ان کی گواہی دینے کا بیان نہیں ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4453]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 2346، 18402، 18871) (صحیح)» ‏‏‏‏ (سابقہ حدیث سے تقویت پا کر یہ حدیث صحیح ہے ورنہ یہ مرسل ہے اور مرسل ضعیف کی اقسام سے ہے، اس لئے کہ ابراہیم نخعی اور عامر بن شراحیل شعبی تابعی ہیں)
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
السند مرسل،ومغيرة : مدلس وھشيم مدلس (طبقات المدلسين : 3/111) وعنعنا
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 157

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4454
حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، عَنْ هُشَيْمٍ، عَنِ ابْنِ شُبْرُمَةَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ بِنَحْوٍ مِنْهُ.
اس سند سے بھی شعبی سے اسی جیسی حدیث مروی ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4454]
ابن شبرمہ نے شعبی سے اس کی مانند روایت کیا۔ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4454]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 2346، 18871، 18402)» ‏‏‏‏
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
السند مرسل،ومغيرة : مدلس وھشيم مدلس (طبقات المدلسين : 3/111) وعنعنا
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 157

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4455
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَسَنٍ الْمِصِّيصِيُّ، حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا الزُّبَيْرِ، سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ:" رَجَمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا مِنْ الْيَهُودِ وَامْرَأَةً زَنَيَا".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کو کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہود کے ایک مرد اور ایک عورت کو جنہوں نے زنا کیا تھا رجم کیا۔ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4455]
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہودیوں کے ایک مرد اور عورت کو، جنہوں نے زنا کیا تھا، رجم کروایا تھا۔ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4455]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/ الحدود 6 (1701)، (تحفة الأشراف: 2814)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/321، 386) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (1701)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
27. باب فِي الرَّجُلِ يَزْنِي بِحَرِيمِهِ
باب: محرم سے زنا کرنے والے کے حکم کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4456
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا مُطَرِّفٌ، عَنْ أَبِي الْجَهْمِ، عَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، قَالَ:" بَيْنَا أَنَا أَطُوفُ عَلَى إِبِلٍ لِي ضَلَّتْ إِذْ أَقْبَلَ رَكْبٌ أَوْ فَوَارِسُ مَعَهُمْ لِوَاءٌ، فَجَعَلَ الْأَعْرَابُ يَطِيفُونَ بِي لِمَنْزِلَتِي مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِذْ أَتَوْا قُبَّةً فَاسْتَخْرَجُوا مِنْهَا رَجُلًا فَضَرَبُوا عُنُقَهُ، فَسَأَلْتُ عَنْهُ فَذَكَرُوا أَنَّهُ أَعْرَسَ بِامْرَأَةِ أَبِيهِ".
براء بن عازب رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں اپنے ایک گمشدہ اونٹ کو ڈھونڈ رہا تھا کہ اسی دوران کچھ سوار آئے، ان کے ساتھ ایک جھنڈا تھا، تو دیہاتی لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے میری قربت کی وجہ سے میرے اردگرد گھومنے لگے، اتنے میں وہ ایک قبہ کے پاس آئے، اور اس میں سے ایک شخص کو نکالا اور اس کی گردن مار دی، تو میں نے اس کے متعلق ان سے پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ اس نے اپنے باپ کی بیوی سے شادی کر رکھی تھی۔ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4456]
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک دفعہ میں اپنے گمشدہ اونٹ ڈھونڈ رہا تھا کہ اونٹ سواروں یا گھوڑ سواروں کا ایک قافلہ آیا، ان کے ساتھ جھنڈا تھا۔ چونکہ مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں ایک مقام حاصل تھا، اس وجہ سے اعرابی لوگ میرے اردگرد پھرنے لگے۔ پھر وہ ایک قبہ پر آئے، وہاں سے انہوں نے ایک مرد کو نکالا اور اس کی گردن اڑا دی۔ میں نے اس کے متعلق پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ اس نے اپنے باپ کی بیوی کے ساتھ نکاح کیا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4456]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن الترمذی/الأحکام 25 (1362)، سنن النسائی/النکاح 58 (3333)، سنن ابن ماجہ/الحدود 35 (2607)، (تحفة الأشراف: 15534، 1766)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/292، 295، 297)، سنن الدارمی/النکاح 43 (2285) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
مشكوة المصابيح (3172)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4457
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ قُسَيْطٍ الرَّقِّيُّ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْبَرَاءِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: لَقِيتُ عَمِّي وَمَعَهُ رَايَةٌ، فَقُلْتُ لَهُ: أَيْنَ تُرِيدُ، قَالَ:" بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى رَجُلٍ نَكَحَ امْرَأَةَ أَبِيهِ، فَأَمَرَنِي أَنْ أَضْرِبَ عُنُقَهُ وَآخُذَ مَالَهُ".
براء بن عازب رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں اپنے چچا سے ملا ان کے ساتھ ایک جھنڈا تھا میں نے ان سے پوچھا: کہاں کا ارادہ ہے؟ کہا: مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آدمی کی طرف بھیجا ہے جس نے اپنے باپ کی بیوی سے شادی کر رکھی ہے، اور حکم دیا ہے کہ میں اس کی گردن مار دوں اور اس کا مال لے لوں۔ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4457]
جناب یزید بن براء اپنے والد (براء رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے کہا: میں اپنے چچا سے ملا جبکہ ان کے پاس جھنڈا تھا۔ میں نے ان سے پوچھا: کہاں کا ارادہ ہے؟ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ایک آدمی کی طرف بھیجا ہے جس نے اپنے باپ کی بیوی کے ساتھ نکاح کیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں اس کی گردن مار دوں اور اس کا مال لے لوں۔ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4457]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 15534) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
مشكوة المصابيح (3172)
أخرجه النسائي (3334 وسنده صحيح)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
28. باب فِي الرَّجُلِ يَزْنِي بِجَارِيَةِ امْرَأَتِهِ
باب: بیوی کی لونڈی سے زنا کرنے والے شخص کے حکم کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4458
حَدَّثَنَا  مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا  أَبَانٌ ، عَنْ  قَتَادَةَ ، عَنْ  خَالِدِ بْنِ عُرْفُطَةَ ، عَنْ  حَبِيبِ بْنِ سَالِمٍ ، أَنَّ رَجُلا يُقَالُ لَهُ: عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ حُنَيْنٍ وَقَعَ عَلَى جَارِيَةِ امْرَأَتِهِ، فَرَفَعَ إِلَى النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ  وَهُوَ أَمِيرٌ عَلَى الْكُوفَةِ، فَقَالَ: " لأَقْضِيَنَّ فِيكَ بِقَضِيَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِنْ كَانَتْ أَحَلَّتْهَا لَكَ جَلَدْتُكَ مِائَةً، وَإِنْ لَمْ تَكْنُ أَحَلَّتْهَا لَكَ رَجَمْتُكَ بِالْحِجَارَةِ " . فَوَجَدُوهُ أَحَلَّتْهَا لَهُ فَجَلَدَهُ مِائَةً. قَالَ قَتَادَة: كَتَبْتُ إِلَى حَبِيبِ بْن سَالِمٍ فَكَتَبَ إِلَيَّ بِهَذَا.
حبیب بن سالم سے روایت ہے کہ عبدالرحمٰن بن حنین نامی ایک شخص نے اپنی بیوی کی لونڈی سے صحبت کر لی، معاملہ کوفہ کے امیر نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما کے پاس لایا گیا، تو انہوں نے کہا: میں بالکل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلہ کے مطابق تمہارا فیصلہ کروں گا، اگر تمہاری بیوی نے اسے تمہارے لیے حلال کر دیا تھا تو تمہیں سو کوڑے ماروں گا، اور اگر اسے تمہارے لیے حلال نہیں کیا تھا تو میں تمہیں رجم کروں گا، پھر پتا چلا کہ اس کی بیوی نے اس کے لیے اس لونڈی کو حلال کر دیا تھا تو آپ نے اسے سو کوڑے مارے۔ قتادہ کہتے ہیں: میں نے حبیب بن سالم کو لکھا تو انہوں نے یہ حدیث مجھے لکھ بھیجی۔ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4458]
حبیب بن سالم سے روایت ہے کہ ایک شخص جس کا نام عبدالرحمٰن بن حنین تھا اپنی بیوی کی لونڈی کے ساتھ ملوث ہو گیا۔ اس کا مقدمہ سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کے سامنے پیش کیا گیا جبکہ وہ کوفہ کے امیر تھے۔ تو انہوں نے کہا: میں تیرے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم والا فیصلہ کروں گا۔ اگر اس (عورت) نے اس لونڈی کو تیرے لیے حلال کر دیا تو میں تجھے سو کوڑے ماروں گا، اگر وہ حلال نہ کرے تو پتھروں سے سنگسار کروں گا۔ چنانچہ اس عورت نے اسے اس کے لیے حلال کر دیا۔ تو سیدنا نعمان رضی اللہ عنہ نے اس کو سو کوڑے مارے۔ جناب قتادہ نے کہا: میں نے حبیب بن سالم کو لکھا تو انہوں نے مجھے یہ روایت لکھ بھیجی۔ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4458]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن الترمذی/الحدود 21 (1451)، سنن النسائی/النکاح 70 (3362)، سنن ابن ماجہ/الحدود 8 (2551)، (تحفة الأشراف: 11613)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6 /272، 276، 277)، دي /الحدود 20 (2374) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (حبیب بن سالم کے بارے میں بہت کلام ہے، اور ان کا نعمان بن بشیر سے سماع ثابت نہیں ہے)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
أخرجه النسائي (3363) وأعله الترمذي (1452) وللحديث شواھد

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4459
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ عُرْفُطَةَ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ سَالِمٍ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الرَّجُلِ يَأْتِي جَارِيَةَ امْرَأَتِهِ، قَالَ:" إِنْ كَانَتْ أَحَلَّتْهَا لَهُ جُلِدَ مِائَةً، وَإِنْ لَمْ تَكُنْ أَحَلَّتْهَا لَهُ رَجَمْتُهُ".
نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کے بارے میں فرمایا جو اپنی بیوی کی لونڈی سے جماع کرتا ہو: اگر اس کی بیوی نے اس کے لیے لونڈی کو حلال کر دیا ہو تو اسے سو کوڑے مارے جائیں، اور اگر حلال نہ کیا ہو تو میں اسے رجم کروں گا۔ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4459]
سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا کہ: جو شخص اپنی بیوی کی لونڈی کے ساتھ ملوث ہو جائے تو اگر بیوی نے اسے اس کے لیے حلال کر دیا ہو تو اس (شوہر) کو سو کوڑے مارے جائیں اور اگر حلال نہ کرے تو میں اسے رجم کروں گا۔ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4459]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 11613) (ضعیف)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
أخرجه النسائي (3362) وانظر الحديث السابق (4458)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4460
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ حُرَيْثٍ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْمُحَبَّقِ،" أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى فِي رَجُلٍ وَقَعَ عَلَى جَارِيَةِ امْرَأَتِهِ: إِنْ كَانَ اسْتَكْرَهَهَا فَهِيَ حُرَّةٌ وَعَلَيْهِ لِسَيِّدَتِهَا مِثْلُهَا، فَإِنْ كَانَتْ طَاوَعَتْهُ فَهِيَ لَهُ وَعَلَيْهِ لِسَيِّدَتِهَا مِثْلُهَا"، قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَى يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ وَعَمْرُو بْنُ دِينَارٍ وَمَنْصُورُ بْنُ زَاذَانَ وَسَلَّامٌ عَنْ الْحَسَنِ، هَذَا الْحَدِيثَ بِمَعْنَاهُ، لَمْ يَذْكُرْ يُونُسُ، وَمَنْصُورٌ قَبِيصَةَ.
سلمہ بن محبق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کے متعلق جس نے اپنی بیوی کی لونڈی سے صحبت کر لی تھی فیصلہ کیا کہ اگر اس نے جبراً جماع کیا ہے تو لونڈی آزاد ہے، اور اس کی مالکہ کو اسے ویسی ہی لونڈی دینی ہو گی، اور اگر لونڈی نے خوشی سے اس کی مان لی ہے تو وہ اس کی ہو جائیگی، اور اسے لونڈی کی مالکہ کو ویسی ہی لونڈی دینی ہو گی ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4460]
سیدنا سلمہ بن محبق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جو شخص اپنی بیوی کی لونڈی سے ملوث ہو گیا، تو اس سلسلے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ فرمایا تھا کہ اگر اس شوہر نے لونڈی کو مجبور کیا ہو تو وہ لونڈی آزاد ہوگی، اور اس (شوہر) پر لازم ہوگا کہ اس کی مالکہ کو اسی جیسی لونڈی مہیا کرے۔ اگر لونڈی ازخود راضی تھی تو یہ اسی (شوہر) کی ہوئی اور شوہر پر لازم ہوگا کہ اس کی مالکہ کو اسی جیسی لونڈی لا کر دے۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ یونس بن عبید، عمرو بن دینار، منصور بن زاذان اور سلام نے حسن بصری سے یہ حدیث مذکورہ بالا روایت کے ہم معنی بیان کی ہے۔ یونس اور منصور نے اپنی سند میں قبیصہ (قبیصہ بن حریث) کا ذکر نہیں کیا۔ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4460]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن النسائی/النکاح 70 (3365)، سنن ابن ماجہ/الحدود 8 (2552)، (تحفة الأشراف: 4559)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/476، 5/6) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (قتادہ اور حسن بصری مدلس راوی ہیں، اور روایت عنعنہ سے ہے)
وضاحت: ۱؎: خطابی رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے کسی فقیہ کو نہ پایا جس نے اس حدیث کے مطابق فتویٰ دیا ہو، شاید یہ حدیث منسوخ ہو۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
أخرجه النسائي (3365) الحسن صرح بالسماع عند البيھقي (8/ 240)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں