سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
28. باب فِي الرَّجُلِ يَزْنِي بِجَارِيَةِ امْرَأَتِهِ
باب: بیوی کی لونڈی سے زنا کرنے والے شخص کے حکم کا بیان۔
حدیث نمبر: 4461
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُسَيْنٍ الدِّرْهَمِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْمُحَبَّقِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: وَإِنْ كَانَتْ طَاوَعَتْهُ فَهِيَ وَمِثْلُهَا مِنْ مَالِهِ لَسَيِّدَتِهَا.
سلمہ بن محبق رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی جیسی حدیث روایت کرتے ہیں مگر اس میں ہے کہ اگر اس نے اس کی بات بخوشی مان لی ہو، تو وہ لونڈی اور اسی جیسی ایک اور لونڈی خاوند کے مال سے اس کی مالکن کو دلائی جائے گی۔ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4461]
سیدنا سلمہ بن محبق رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مذکورہ بالا حدیث کی مانند روایت کیا، مگر یوں کہا کہ ”اگر لونڈی راضی تھی تو یہ اس شوہر کی ہوئی اور اس کی قیمت کے برابر مال اس کی مالکہ کو دینا ہو گا۔“ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4461]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 4559) (ضعیف)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
أخرجه النسائي (3366 وسنده صحيح)
أخرجه النسائي (3366 وسنده صحيح)
29. باب فِيمَنْ عَمِلَ عَمَلَ قَوْمِ لُوطٍ
باب: اغلام بازی (قوم لوط کے فعل) کی سزا کا بیان۔
حدیث نمبر: 4462
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ وَجَدْتُمُوهُ يَعْمَلُ عَمَلَ قَوْمِ لُوطٍ فَاقْتُلُوا الْفَاعِلَ وَالْمَفْعُولَ بِهِ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَاهُ سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو مِثْلَهُ، وَرَوَاهُ عَبَّادُ بْنُ مَنْصُورٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَفَعَهُ، وَرَوَاهُ ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَفَعَهُ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جسے قوم لوط کا عمل (اغلام بازی) کرتے ہوئے پاؤ تو کرنے والے اور جس کے ساتھ کیا گیا ہے دونوں کو قتل کر دو“۔ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4462]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جسے تم پاؤ کہ وہ قومِ لوط کا سا عمل کرتا ہے تو فاعل اور مفعول (دونوں) کو قتل کر دو۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سلیمان بن بلال نے بواسطہ عمرو بن ابوعمرو اسی کی مانند روایت کیا۔ اور عباد بن منصور نے بواسطہ عکرمہ، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مرفوعاً روایت کیا۔ نیز ابن جریج نے بسند «إِبْرَاهِيمَ عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ» مرفوعاً روایت کیا۔ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4462]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الحدود 24 (1456)، سنن ابن ماجہ/الحدود 12 (2561)، (تحفة الأشراف: 6176)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/269، 300) (حسن صحیح)»
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
أخرجه الترمذي (1456 وسنده حسن) وابن ماجه (2561 وسنده حسن)
أخرجه الترمذي (1456 وسنده حسن) وابن ماجه (2561 وسنده حسن)
حدیث نمبر: 4463
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ رَاهَوَيْهِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ خُثَيْمٍ، قَالَ: سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ، وَمُجَاهِدًا يُحَدِّثَانِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ،" فِي الْبِكْرِ يُؤْخَذُ عَلَى اللُّوطِيَّةِ، قَالَ: يُرْجَمُ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: حَدِيثُ عَاصِمٍ يُضَعِّفُ حَدِيثَ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے کنوارے کے بارے میں جو اغلام بازی میں پکڑا جائے مروی ہے کہ اسے سنگسار کر دیا جائے گا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: عاصم والی روایت عمرو بن ابی عمرو والی روایت کی تضعیف کرتی ہے ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4463]
جناب سعید بن جبیر اور مجاہد، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ ”کنوارا اگر قوم لوط کا سا کام کرتا پایا جائے، تو اسے سنگسار کیا جائے۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ”عاصم (عاصم بن ابی النجود) کی حدیث (جو آگے آ رہی ہے۔ 4465) عمرو بن ابی عمرو کی حدیث (4464) کو ضعیف کرتی ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4463]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح الإسناد)»
وضاحت: ۱؎: یعنی اوپر کی حدیث (۴۴۶۲) ابوداود کا یہ قول غالباً غلطی سے یہاں درج ہو گیا ہے، حدیث نمبر: (۴۴۶۵) کے بعد بھی یہ قول درج ہے اور وہی اس کی اصل جگہ ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد موقوف
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
حديث عاصم يأتي (4465)
حديث عاصم يأتي (4465)
30. باب فِيمَنْ أَتَى بَهِيمَةً
باب: جانور سے جماع کرنے والے کی سزا کا بیان۔
حدیث نمبر: 4464
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ أَبِي عَمْرٍو، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ أَتَى بَهِيمَةً فَاقْتُلُوهُ وَاقْتُلُوهَا مَعَهُ، قَالَ: قُلْتُ لَهُ: مَا شَأْنُ الْبَهِيمَةِ؟ قَالَ: مَا أُرَاهُ قَالَ ذَلِكَ، إِلَّا أَنَّهُ كَرِهَ أَنْ يُؤْكَلَ لَحْمُهَا وَقَدْ عُمِلَ بِهَا ذَلِكَ الْعَمَلُ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: لَيْسَ هَذَا بِالْقَوِيِّ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو کسی جانور سے جماع کرے اسے قتل کر دو، اور اس کے ساتھ اس جانور کو بھی قتل کر دو“۔ عکرمہ کہتے ہیں: میں نے ابن عباس سے پوچھا: اس چوپایہ کا کیا جرم ہے؟ تو انہوں نے کہا: میں یہ سمجھتا ہوں کہ آپ نے یہ صرف اس وجہ سے فرمایا کہ ایسے جانور کے گوشت کھانے کو آپ نے برا جانا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حدیث قوی نہیں ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4464]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو کوئی کسی چوپائے سے بدفعلی کرے اس شخص کو قتل کر دو اور اس کے ساتھ اس چوپائے کو بھی مار ڈالو۔“ (عکرمہ رحمہ اللہ کہتے ہیں) میں نے ان (ابن عباس رضی اللہ عنہما) سے کہا کہ چوپائے کے قتل کی وجہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا: ”میرا خیال ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکروہ جانا کہ اس کا گوشت کھایا جائے جبکہ اس کے ساتھ ایسا کام کیا گیا ہے۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ”یہ روایت قوی نہیں ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4464]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم (4462)، (تحفة الأشراف: 6176) (حسن صحیح)»
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (3576)
أخرجه الترمذي (1455 وسنده حسن)
مشكوة المصابيح (3576)
أخرجه الترمذي (1455 وسنده حسن)
حدیث نمبر: 4465
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، أَنَّ شَرِيكًا، وَأَبَا الْأَحْوَصِ، وَأَبَا بَكْرِ بْنَ عَيَّاشٍ، حَدَّثُوهُمْ عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي رَزِينٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:" لَيْسَ عَلَى الَّذِي يَأْتِي الْبَهِيمَةَ حَدٌّ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَكَذَا قَالَ عَطَاءٌ، وقَالَ الْحَكَمُ: أَرَى أَنْ يُجْلَدَ وَلَا يُبْلَغَ بِهِ الْحَدَّ، وقَالَ الْحَسَنُ: هُوَ بِمَنْزِلَةِ الزَّانِي، قَالَ أَبُو دَاوُد: حَدِيثُ عَاصِمٍ يُضَعِّفُ حَدِيثَ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ جو چوپائے سے جماع کرے اس پر حد نہیں ہے، ابوداؤد کہتے ہیں: اسی طرح عطاء نے کہا ہے۔ اور حکم کہتے ہیں: میری رائے یہ ہے کہ اسے کوڑے مارے جائیں، لیکن اتنے کوڑے جو حد سے کم ہوں۔ اور حسن کہتے ہیں: وہ زانی ہی کے درجہ میں ہے یعنی اس کی وہی سزا ہو گی جو زانی کی ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: عاصم کی حدیث عمرو بن ابی عمرو کی حدیث کی تضعیف کر رہی ہے ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4465]
ابورزین، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ ”جو شخص چوپائے سے بدفعلی کرے اس پر حد نہیں ہے۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ”عطاء رحمہ اللہ نے بھی ایسے ہی کہا ہے۔“ حکم رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ”اس کو کوڑے لگائے جائیں، مگر اس تعداد میں کہ حد کو نہ پہنچیں۔“ حسن بصری رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ”ایسا آدمی زانی کی مانند ہے۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ”عاصم کی حدیث عمرو بن ابوعمرو کی روایت (4464) کو ضعیف کرتی ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4465]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الحدود 23 (1455)، انظر حدیث رقم (4462)، (تحفة الأشراف: 6176) (حسن)»
وضاحت: ۱؎: ملاحظہ ہو حدیث نمبر (۴۴۶۲)
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (3586)
مشكوة المصابيح (3586)
31. باب إِذَا أَقَرَّ الرَّجُلُ بِالزِّنَا وَلَمْ تُقِرَّ الْمَرْأَةُ
باب: جب مرد زنا کا اقرار کرے اور عورت انکار کرے تو کیا ہو گا؟
حدیث نمبر: 4466
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا طَلْقُ بْنُ غَنَّامٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ حَفْصٍ، حَدَّثَنَا أَبُو حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَنَّ رَجُلًا أَتَاهُ فَأَقَرَّ عِنْدَهُ أَنَّهُ زَنَى بِامْرَأَةٍ سَمَّاهَا لَهُ، فَبَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْمَرْأَةِ، فَسَأَلَهَا عَنْ ذَلِكَ فَأَنْكَرَتْ أَنْ تَكُونَ زَنَتْ، فَجَلَدَهُ الْحَدَّ وَتَرَكَهَا".
سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر یہ اعتراف کیا کہ اس نے ایک عورت سے جس کا اس نے نام لیا زنا کیا ہے، تو آپ نے اس عورت کو بلوایا، اور اس سے اس بارے میں پوچھا، اس نے انکار کیا، تو آپ نے حد میں صرف مرد کو کوڑے مارے، اور عورت کو چھوڑ دیا۔ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4466]
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ”ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا، اس نے ایک عورت کے ساتھ زنا کرنے کا اقرار کیا، اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اس عورت کا نام بھی لیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت کو بلوایا اور اس سے اس کے بارے میں پوچھا تو عورت نے زنا سے انکار کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کو حد کے کوڑے لگائے اور عورت کو چھوڑ دیا۔“ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4466]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: (4437)، (تحفة الأشراف: 4705) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
انظر الحديث السابق (4437)
انظر الحديث السابق (4437)
حدیث نمبر: 4467
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ هَارُونَ الْبُرْدِيُّ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ فَيَّاضٍ الْأَبْنَاوِيِّ، عَنْ خَلَّادِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ ابْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ:" أَنّ رَجُلًا مِنْ بَكْرِ بْنِ لَيْثٍ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَقَرَّ أَنَّهُ زَنَى بِامْرَأَةٍ أَرْبَعَ مَرَّاتٍ،فَجَلَدَهُ مِائَةً وَكَانَ بِكْرًا ثُمَّ سَأَلَهُ الْبَيِّنَةَ عَلَى الْمَرْأَة، فَقَالَتْ: كَذَبَ وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَجَلَدَهُ حَدَّ الْفِرْيَةِ ثَمَانِينَ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ قبیلہ بکر بن لیث کے ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر چار بار اقرار کیا کہ اس نے ایک عورت سے زنا کیا ہے تو آپ نے اسے سو کوڑے لگائے، وہ کنوارا تھا، پھر اس سے عورت کے خلاف گواہی طلب کی تو عورت نے کہا: قسم اللہ کی وہ جھوٹا ہے، اللہ کے رسول! تو اس پر آپ نے بہتان کے بھی اسی (۸۰) کوڑے لگائے۔ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4467]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ قبیلہ بکر بن لیث کا ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اقرار کیا کہ اس نے ایک عورت کے ساتھ زنا کیا ہے، اس نے چار بار یہ اقرار کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو سو کوڑے لگائے، اس لیے کہ وہ غیر شادی شدہ تھا، پھر اس سے عورت پر گواہی لی، تو عورت نے کہا: ”اللہ کی قسم! اے اللہ کے رسول! یہ جھوٹ بولتا ہے۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی تہمت کی حد اسی کوڑے لگائی۔ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4467]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 5664) (منکر)»
قال الشيخ الألباني: منكر
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
نسائي في الكبريٰ (7348)
القاسم بن فياض مختلف فيه،وضعفه ابن معين وغيره،والجرح مقدم وفي التحرير (5483) ’’ضعيف ‘‘
وقال الحافظ ابن حجر في التقريب :’’ مجهول ‘‘ (!)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 157
إسناده ضعيف
نسائي في الكبريٰ (7348)
القاسم بن فياض مختلف فيه،وضعفه ابن معين وغيره،والجرح مقدم وفي التحرير (5483) ’’ضعيف ‘‘
وقال الحافظ ابن حجر في التقريب :’’ مجهول ‘‘ (!)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 157
32. باب فِي الرَّجُلِ يُصِيبُ مِنَ الْمَرْأَةِ دُونَ الْجِمَاعِ فَيَتُوبُ قَبْلَ أَنْ يَأْخُذَهُ الإِمَامُ
باب: آدمی عورت سے جماع کے علاوہ سارے کام کر لے پھر گرفتاری سے پہلے توبہ کر لے تو کیا حکم ہے؟
حدیث نمبر: 4468
حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، حَدَّثَنَا سِمَاكٌ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، وَالْأَسْوَدِ، قَالَا: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ" جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنِّي عَالَجْتُ امْرَأَةً مِنْ أَقْصَى الْمَدِينَةِ فَأَصَبْتُ مِنْهَا مَا دُونَ أَنْ أَمَسَّهَا فَأَنَا هَذَا فَأَقِمْ عَلَيَّ مَا شِئْتَ، فَقَالَ عُمَرُ: قَدْ سَتَرَ اللَّهُ عَلَيْكَ لَوْ سَتَرْتَ عَلَى نَفْسِكَ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا، فَانْطَلَقَ الرَّجُلُ فَأَتْبَعَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا، فَدَعَاهُ فَتَلَا عَلَيْهِ وَأَقِمِ الصَّلاةَ طَرَفَيِ النَّهَارِ وَزُلَفًا مِنَ اللَّيْلِ سورة هود آية 114 إِلَى آخِرِ الْآيَةِ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَهُ خَاصَّةً أَمْ لِلنَّاسِ كَافَّةً؟ فَقَالَ: لِلنَّاسِ كَافَّةً".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا اور عرض کیا: مدینہ کے آخری کنارے کی ایک عورت سے میں لطف اندوز ہوا، لیکن جماع نہیں کیا، تو اب میں حاضر ہوں میرے اوپر جو چاہیئے حد قائم کیجئے، عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ نے تیری پردہ پوشی کی تھی تو تو خود بھی پردہ پوشی کرتا تو بہتر ہوتا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کوئی جواب نہیں دیا، تو وہ شخص چلا گیا، پھر اس کے پیچھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو بھیجا، وہ اسے بلا کر لایا تو آپ نے اس پر یہ آیت تلاوت فرمائی «وأقم الصلاة طرفى النهار وزلفا من الليل» ”دن کے دونوں سروں میں نماز قائم کرو اور رات کی کچھ ساعتوں میں بھی“۔ (ھود: ۱۱۴) ۱؎ تو ان میں سے ایک شخص نے پوچھا: اللہ کے رسول! کیا یہ اسی کے لیے خاص ہے، یا سارے لوگوں کے لیے ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سارے لوگوں کے لیے ہے“۔ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4468]
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا: ”بیشک مدینے سے باہر میں نے ایک عورت سے بوس و کنار کیا ہے، مگر مجامعت نہیں کی ہے اور اب میں آپ کے سامنے حاضر ہوں، تو جو چاہیں مجھے سزا دیں۔“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”اللہ نے تیری پردہ پوشی کی تھی، اگر تو بھی اپنے آپ پر پردہ ڈالے رکھتا (تو بہتر تھا)۔“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو کوئی جواب نہ دیا۔ تو وہ آدمی چلا گیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے پیچھے آدمی بھیجا اور اسے طلب کیا، پھر اس پر یہ آیت تلاوت فرمائی: ﴿وَأَقِمِ الصَّلَاةَ طَرَفَيِ النَّهَارِ وَزُلَفًا مِّنَ اللَّيْلِ ۚ إِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ ۚ ذَٰلِكَ ذِكْرَىٰ لِلذَّاكِرِينَ﴾ [سورة هود: 114] ”دن کے دونوں اطراف میں نماز قائم کرو اور رات کے اوقات میں بھی۔ بلاشبہ نیکیاں، برائیوں کو ختم کر دیتی ہیں، یہ نصیحت ہے نصیحت حاصل کرنے والوں کے لیے۔“ قوم میں سے ایک آدمی بولا: ”اے اللہ کے رسول! کیا یہ اسی کے لیے خاص ہے یا سب لوگوں کے لیے ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سبھی لوگوں کے لیے ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4468]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/التوبة 7 (2763)، (تحفة الأشراف: 9162)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/مواقیت الصلاة 4 (526)، التفسیر 4 (4687)، سنن الترمذی/التفسیر 12 (3112)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 193 (1398) (حسن صحیح)»
وضاحت: ۱؎: دن کے دونوں سرے مراد فجر، ظہر اور عصر کی نمازیں ہیں، اور رات کی ساعتوں سے مراد مغرب اور عشاء کی نمازیں ہیں۔
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (526) صحيح مسلم (2763)
33. باب فِي الأَمَةِ تَزْنِي وَلَمْ تُحْصَنْ
باب: غیر شادی شدہ لونڈی زنا کرے تو اس کا کیا حکم ہے؟
حدیث نمبر: 4469
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَزَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ،" أن رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنِ الْأَمَةِ إِذَا زَنَتْ وَلَمْ تُحْصَنْ؟ قَالَ: إِنْ زَنَتْ فَاجْلِدُوهَا ثُمَّ إِنْ زَنَتْ فَاجْلِدُوهَا ثُمَّ إِنْ زَنَتْ فَاجْلِدُوهَا ثُمَّ إِنْ زَنَتْ فَبِيعُوهَا وَلَوْ بِضَفِيرٍ"، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: لَا أَدْرِي فِي الثَّالِثَةِ أَوِ الرَّابِعَةِ، وَالضَّفِيرُ: الْحَبْلُ.
ابوہریرہ اور زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ لونڈی جب زنا کرے اور وہ شادی شدہ نہ ہو (تو اس کا کیا حکم ہے) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر وہ زنا کرے تو اسے کوڑے لگاؤ، پھر اگر وہ زنا کرے تو اسے پھر کوڑے لگاؤ، پھر اگر وہ زنا کرے تو اسے پھر کوڑے لگاؤ، پھر اگر وہ زنا کرے تو اسے بیچ دو، گو ایک رسی ہی کے عوض میں ہو“۔ ابن شہاب زہری کہتے ہیں: مجھے اچھی طرح معلوم نہیں کہ یہ آپ نے تیسری بار میں فرمایا: یا چوتھی بار میں اور «ضفیر» کے معنی ”رسی“ کے ہیں۔ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4469]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ غیر شادی شدہ لونڈی اگر زنا کرے تو (اس کا کیا حکم ہے)؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر زنا کرے تو اسے کوڑے لگاؤ۔ اگر پھر زنا کرے تو اسے کوڑے لگاؤ۔ اگر پھر زنا کرے تو کوڑے لگاؤ۔ اگر پھر زنا کرے تو اسے بیچ ڈالو، خواہ ایک رسی ہی کے بدلے ہو۔“ ابن شہاب نے کہا: ”مجھے نہیں معلوم کہ تیسری بار میں کہا: یا چوتھی بار یہ کہا (کہ اسے بیچ ڈالو)“ اور «الضَّفِيرُ» کے معنی ہیں ”رسی۔“ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4469]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «خ /الحدود 22 (6837 و 6838)، صحیح مسلم/الحدود 6 (1703)، سنن ابن ماجہ/الحدود 14 (2565)، (تحفة الأشراف: 3756)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الحدود 13 (1433)، موطا امام مالک/الحدود 3 (14)، دي الحدود 18 (2371) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (2153، 2154) صحيح مسلم (1703)
حدیث نمبر: 4470
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيُّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِذَا زَنَتْ أَمَةُ أَحَدِكُمْ فَلْيَحُدَّهَا وَلَا يُعَيِّرْهَا ثَلَاثَ مِرَارٍ، فَإِنْ عَادَتْ فِي الرَّابِعَةِ فَلْيَجْلِدْهَا وَلْيَبِعْهَا بِضَفِيرٍ أَوْ بِحَبْلٍ مِنْ شَعْرٍ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کسی کی لونڈی زنا کرے تو اس پر حد قائم کرنا چاہیئے، یہ نہیں کہ اسے ڈانٹ ڈپٹ کر چھوڑ دے، ایسا وہ تین بار کرے، پھر اگر وہ چوتھی بار بھی زنا کرے تو چاہیئے کہ ایک رسی کے عوض یا بال کی رسی کے عوض اسے بیچ دے“۔ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4470]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کسی کی لونڈی زنا کرے تو چاہیے کہ اسے حد لگائے اور عار نہ دلائے اور تین بار تک ایسا کرے، اگر چوتھی بار بھی کرے تو اسے حد لگائے اور ایک رسی کے بدلے بیچ ڈالے۔“ یا فرمایا: ”بالوں کی رسی کے عوض بیچ دے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4470]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/ الحدود 6 (1703)، انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 12985)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/376) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (1703)