🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
24. باب رَجْمِ مَاعِزِ بْنِ مَالِكٍ
باب: ماعز بن مالک رضی اللہ عنہ کے رجم کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4421
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي الْحَذَّاءَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ:" أَنَّ مَاعِزَ بْنَ مَالِكٍ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنَّهُ زَنَى، فَأَعْرَضَ عَنْهُ فَأَعَادَ عَلَيْهِ مِرَارًا، فَأَعْرَضَ عَنْهُ، فَسَأَلَ قَوْمَهُ: أَمَجْنُونٌ هُوَ؟ قَالُوا: لَيْسَ بِهِ بَأْسٌ، قَالَ: أَفَعَلْتَ بِهَا؟ قَالَ: نَعَمْ، فَأَمَرَ بِهِ أَنْ يُرْجَمَ فَانْطُلِقَ بِهِ فَرُجِمَ وَلَمْ يُصَلِّ عَلَيْهِ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ماعز بن مالک رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، اور انہوں نے عرض کیا کہ میں نے زنا کر لیا ہے، آپ نے ان سے منہ پھیر لیا، پھر انہوں نے کئی بار یہی بات دہرائی، ہر بار آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا منہ پھیر لیتے تھے، پھر آپ نے ان کی قوم کے لوگوں سے پوچھا: کیا یہ دیوانہ تو نہیں؟ لوگوں نے کہا: نہیں ایسی کوئی بات نہیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا واقعی تم نے ایسا کیا ہے؟ انہوں نے عرض کیا: ہاں واقعی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں سنگسار کئے جانے کا حکم دیا، تو انہیں لا کر سنگسار کر دیا گیا، اور آپ نے ان پر جنازہ کی نماز نہیں پڑھی۔ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4421]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ماعز بن مالک رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا اور کہا: بیشک میں نے زنا کیا ہے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے رخ پھیر لیا۔ اس نے کئی بار ایسے کہا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس سے اپنا منہ پھیرتے رہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی قوم سے پوچھا: کیا یہ مجنون اور پاگل ہے؟ انہوں نے کہا: نہیں، اس میں ایسی کوئی بات نہیں ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا: کیا تو نے واقعتاً اس کے ساتھ کیا ہے؟ اس نے کہا: ہاں۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے متعلق حکم دیا کہ اسے رجم کر دیا جائے۔ چنانچہ اسے لے جایا گیا اور سنگسار کر دیا گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر نماز جنازہ نہ پڑھی۔ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4421]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 6065) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
انظر الحديث الآتي (4427)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4422
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ:" رَأَيْتُ مَاعِزَ بْنَ مَالِكٍ حِينَ جِيءَ بِهِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا قَصِيرًا أَعْضَلَ لَيْسَ عَلَيْهِ رِدَاءٌ، فَشَهِدَ عَلَى نَفْسِهِ أَرْبَعَ مَرَّاتٍ أَنَّهُ قَدْ زَنَى، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَلَعَلَّكَ قَبَّلْتَهَا، قَالَ: لَا وَاللَّهِ إِنَّهُ قَدْ زَنَى الْآخِرُ، قَالَ: فَرَجَمَهُ، ثُمَّ خَطَبَ فَقَالَ: أَلَا كُلَّمَا نَفَرْنَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ خَلَفَ أَحَدُهُمْ لَهُ نَبِيبٌ كَنَبِيبِ التَّيْسِ يَمْنَحُ إِحْدَاهُنَّ الْكُثْبَةَ، أَمَا إِنَّ اللَّهَ إِنْ يُمَكِّنِّي مِنْ أَحَدٍ مِنْهُمْ إِلَّا نَكَلْتُهُ عَنْهُنَّ".
جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ماعز بن مالک کو جس وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا، میں نے انہیں دیکھا کہ وہ ایک پست قد فربہ آدمی تھے، ان کے جسم پر چادر نہ تھی، انہوں نے اپنے خلاف خود ہی چار مرتبہ گواہیاں دیں کہ انہوں نے زنا کیا ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہو سکتا ہے تم نے بوسہ لیا ہو؟ انہوں نے کہا: نہیں، قسم اللہ کی اس رذیل ترین نے زنا کیا ہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں رجم کیا، پھر خطبہ دیا، اور فرمایا: آگاہ رہو جب ہم اللہ کی راہ میں جہاد کے لیے چلے جاتے ہیں، اور ان میں سے کوئی ان خاندانوں باقی رہ جاتا ہے تو وہ ویسے ہی پھنکارتا ہے جیسے بکرا جفتی کے وقت بکری پر پھنکارتا ہے، پھر وہ ان عورتوں میں سے کسی کو تھوڑا سامان (جیسے دودھ اور کھجور وغیرہ دے کر اس سے زنا کر بیٹھتا ہے) تو سن لو! اگر اللہ ایسے کسی آدمی پر ہمیں قدرت بخشے گا تو میں اسے ان سے روکوں گا (یعنی سزا دوں گا رجم کی یا کوڑے کی)۔ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4422]
سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ جب ماعز بن مالک کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لایا گیا تو میں نے اسے دیکھا کہ وہ چھوٹے قد کا موٹا آدمی تھا، اس پر چادر نہیں تھی۔ اس نے اپنے اوپر چار گواہیاں دیں کہ اس نے زنا کیا ہے۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: شاید تو نے اس کا بوسہ لیا ہوگا؟ اس نے کہا: نہیں اللہ کی قسم! اس نالائق نے زنا کیا ہے۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے رجم کیا (یعنی حکم دیا) پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیا اور فرمایا: خبردار! ہم جب اللہ عزوجل کی راہ (جہاد) میں نکلتے ہیں تو کوئی ان میں پیچھے رہ جاتا ہے، ایسے آواز نکالتا ہے جیسے کہ بکرا نکالتا ہے، پھر کسی عورت کو تھوڑی سی کوئی چیز دے دیتا ہے، خبردار! اگر اللہ نے مجھ کو ان میں سے کسی پر قدرت دی تو میں اسے نشانِ عبرت بنا دوں گا۔ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4422]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/الحدود 5 (1692)، (تحفة الأشراف: 2196)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/86، 87) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (1692)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4423
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ سِمَاكٍ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ بِهَذَا الْحَدِيثِ، وَالْأَوَّلُ أَتَمُّ، قَالَ: فَرَدَّهُ مَرَّتَيْنِ، قَالَ سِمَاكٌ: فَحَدَّثْتُ بِهِ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ، فَقَالَ: إِنَّهُ رَدَّهُ أَرْبَعَ مَرَّاتٍ.
سماک کہتے ہیں میں نے جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے یہی حدیث سنی ہے، اور پہلی روایت زیادہ کامل ہے، اس میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ماعز کے اقرار کو دوبار رد کیا، سماک کہتے ہیں: میں نے اسے سعید بن جبیر سے بیان کیا تو انہوں نے کہا: آپ نے ان کے اقرار کو چار بار رد کیا تھا۔ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4423]
شعبہ نے سماک سے روایت کیا، کہا کہ میں نے سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے یہ حدیث سنی، جبکہ پہلے والی حدیث زیادہ کامل ہے۔ کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو دوبارہ واپس کیا۔ سماک کہتے ہیں کہ میں نے سعید بن جبیر کو یہ روایت بیان کی تو انہوں نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو چار بار لوٹایا تھا۔ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4423]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 2181) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (1692)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4424
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْغَنِيِّ بْنُ أَبِي عَقِيلٍ الْمِصْرِيُّ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: قَالَ شُعْبَةُ: فَسَأَلْتُ سِمَاكًا عَنِ الْكُثْبَةِ؟ فَقَالَ: اللَّبَنُ الْقَلِيلُ.
شعبہ کہتے ہیں میں نے سماک سے «کثبہ» کے بارے میں پوچھا کہ وہ کیا ہے تو انہوں نے کہا: «کثبہ» تھوڑے دودھ کو کہتے ہیں۔ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4424]
شعبہ کہتے ہیں کہ میں نے جناب سماک سے پوچھا کہ «كُثْبَة» کا کیا مفہوم ہے؟ انہوں نے کہا: تھوڑا سا دودھ۔ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4424]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏انظر حدیث رقم: (4222) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح مقطوع
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4425
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِمَاعِزِ بْنِ مَالِك:" أَحَقٌّ مَا بَلَغَنِي عَنْكَ؟ قَالَ: وَمَا بَلَغَكَ عَنِّي؟ قَالَ: بَلَغَنِي عَنْكَ أَنَّكَ وَقَعْتَ عَلَى جَارِيَةِ بَنِي فُلَانٍ، قَالَ: نَعَمْ فَشَهِدَ أَرْبَعَ شَهَادَاتٍ، فَأَمَرَ بِهِ فَرُجِمَ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ماعز بن مالک رضی اللہ عنہ سے فرمایا: کیا تمہارے متعلق جو بات مجھے معلوم ہوئی ہے صحیح ہے؟ وہ بولے: میرے متعلق آپ کو کون سی بات معلوم ہوئی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ تم نے بنی فلاں کی باندی سے زنا کیا ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں، پھر چار بار اس کی گواہی دی، تو آپ نے انہیں رجم کرنے کا حکم دیا، چنانچہ وہ رجم کر دیئے گئے۔ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4425]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ماعز بن مالک سے کہا: کیا جو بات مجھے تیرے متعلق پہنچی ہے وہ حق ہے؟ انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو میرے متعلق کیا خبر پہنچی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے معلوم ہوا ہے کہ تم بنو فلاں کی لڑکی کے ساتھ زنا کر بیٹھے ہو؟ انہوں نے کہا: ہاں، چنانچہ اس نے چار گواہیاں دیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے متعلق حکم دیا تو اسے رجم کر دیا گیا۔ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4425]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/الحدود 5 (1693)، سنن الترمذی/الحدود 4 (1427)، (تحفة الأشراف: 5519)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/245، 314، 328) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (1693)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4426
حَدَّثَنَا  نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ ، أَخْبَرَنَا  أَبُو أَحْمَدَ ، أَخْبَرَنَا  إِسْرَائِيلُ ، عَنْ  سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ  سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ  ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: جَاءَ مَاعِزُ بْنُ مَالِكٍ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاعْتَرَفَ بِالزِّنَا مَرَّتَيْنِ فَطَرَدَهُ، ثُمَّ جَاءَ فَاعْتَرَفَ بِالزِّنَا مَرَّتَيْنِ، فَقَالَ: " شَهِدْتَ عَلَى نَفْسِكَ أَرْبَعَ مَرَّاتٍ، اذْهَبُوا بِهِ فَارْجُمُوهُ " .
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ماعز بن مالک رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے، اور انہوں نے زنا کا دو بار اقرار کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بھگا دیا، وہ پھر آئے اور انہوں نے پھر دو بار زنا کا اقرار کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نے اپنے خلاف چار بار گواہی دے دی، لے جاؤ اسے سنگسار کر دو۔ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4426]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، انہوں نے کہا کہ سیدنا ماعز بن مالک رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے اور انہوں نے زنا کا اعتراف کیا، دو بار، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو واپس بھیج دیا۔ وہ پھر آئے اور زنا کرنے کا دو بار اعتراف کیا، تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو نے اپنے اوپر چار بار شہادت دی ہے۔ اسے لے جاؤ اور رجم کر دو۔ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4426]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 5520)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/314) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4427
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، حَدَّثَنِي يَعْلَى، عَنْ عِكْرِمَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. ح حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَعُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، قَالَ: سَمِعْتُ يَعْلَى يَعْنِي ابْنَ حَكِيمٍ يُحَدِّثُ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِمَاعِزِ بْنِ مَالِكٍ:" لَعَلَّكَ قَبَّلْتَ أَوْ غَمَزْتَ أَوْ نَظَرْتَ؟ قَالَ: لَا، قَالَ: أَفَنِكْتَهَا؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَعِنْدَ ذَلِكَ أَمَرَ بِرَجْمِهِ"، وَلَمْ يَذْكُرْ مُوسَى: عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَهَذَا لَفْظُ وَهْبٍ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ماعز بن مالک رضی اللہ عنہ سے فرمایا: شاید تو نے بوسہ لیا ہو گا، یا ہاتھ سے چھوا ہو گا، یا دیکھا ہو گا؟ انہوں نے کہا: نہیں، ایسا نہیں ہوا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر کیا تم نے اس سے جماع کیا ہے؟ انہوں نے عرض کیا: جی ہاں، تو اس اقرار کے بعد آپ نے انہیں رجم کرنے کا حکم دیا۔ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4427]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ماعز بن مالک سے کہا: شاید تو نے بوسہ لیا ہوگا، یا چٹکی بھری ہوگی یا (ویسے ہی) دیکھا ہوگا۔ اس نے کہا: نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا بھلا تو نے اس سے فی الواقع جماع کیا ہے؟ اس نے کہا: ہاں۔ تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو رجم کرنے کا حکم دیا۔ موسیٰ (موسیٰ بن اسماعیل) کی روایت میں ابن عباس رضی اللہ عنہ کا واسطہ مذکور نہیں اور یہ لفظ وہب کے ہیں۔ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4427]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏خ /الحدود 28 (6824)، (تحفة الأشراف: 6276، 19125)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/238، 270) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن، صحيح بخاري (6824)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4428
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الصَّامِتِ ابْنَ عَمِّ أَبِي هُرَيْرَةَ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ:" جَاءَ الْأَسْلَمِيُّ إِلَى نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَشَهِدَ عَلَى نَفْسِهِ أَنَّهُ أَصَابَ امْرَأَةً حَرَامًا أَرْبَعَ مَرَّاتٍ كُلُّ ذَلِكَ يُعْرِضُ عَنْهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَقْبَلَ فِي الْخَامِسَةِ، فَقَالَ: أَنِكْتَهَا؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: حَتَّى غَابَ ذَلِكَ مِنْكَ فِي ذَلِكَ مِنْهَا؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: كَمَا يَغِيبُ الْمِرْوَدُ فِي الْمُكْحُلَةِ وَالرِّشَاءُ فِي الْبِئْرِ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَهَلْ تَدْرِي مَا الزِّنَا؟ قَالَ: نَعَمْ أَتَيْتُ مِنْهَا حَرَامًا مَا يَأْتِي الرَّجُلُ مِنَ امْرَأَتِهِ حَلَالًا، قَالَ: فَمَا تُرِيدُ بِهَذَا الْقَوْلِ؟ قَالَ: أُرِيدُ أَنْ تُطَهِّرَنِي، فَأَمَرَ بِهِ فَرُجِمَ، فَسَمِعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلَيْنِ مِنْ أَصْحَابِهِ، يَقُولُ أَحَدُهُمَا لِصَاحِبِهِ: انْظُرْ إِلَى هَذَا الَّذِي سَتَرَ اللَّهُ عَلَيْهِ فَلَمْ تَدَعْهُ نَفْسُهُ حَتَّى رُجِمَ رَجْمَ الْكَلْبِ، فَسَكَتَ عَنْهُمَا ثُمَّ سَارَ سَاعَةً حَتَّى مَرَّ بِجِيفَةِ حِمَارٍ شَائِلٍ بِرِجْلِهِ، فَقَالَ: أَيْنَ فُلَانٌ وَفُلَانٌ؟ فَقَالَا: نَحْنُ ذَانِ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: انْزِلَا فَكُلَا مِنْ جِيفَةِ هَذَا الْحِمَارِ، فَقَالَا: يَا نَبِيَّ اللَّهِ مَنْ يَأْكُلُ مِنْ هَذَا؟ قَالَ: فَمَا نِلْتُمَا مِنْ عِرْضِ أَخِيكُمَا آنِفًا أَشَدُّ مِنْ أَكْلٍ مِنْهُ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنَّهُ الْآنَ لَفِي أَنْهَارِ الْجَنَّةِ يَنْقَمِسُ فِيهَا".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ قبیلہ اسلم کا ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے اپنے خلاف چار بار گواہی دی کہ اس نے ایک عورت سے جو اس کے لیے حرام تھی زنا کر لیا ہے، ہر بار آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا منہ اس کی طرف سے پھیر لیتے تھے، پانچویں بار آپ اس کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: کیا تم نے اس سے جماع کیا ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تیرا عضو اس کے عضو میں غائب ہو گیا بولا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایسے ہی جیسے سلائی سرمہ دانی میں، اور رسی کنویں میں داخل ہو جاتی ہے اس نے کہا: ہاں ایسے ہی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تجھے معلوم ہے زنا کیا ہے؟ اس نے کہا: ہاں، میں نے اس سے حرام طور پر وہ کام کیا ہے، جو آدمی اپنی بیوی سے حلال طور پر کرتا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: اچھا، اب تیرا اس سے کیا مطلب ہے؟ اس نے کہا: میں چاہتا ہوں آپ مجھے گناہ سے پاک کر دیجئیے، پھر آپ نے حکم دیا تو وہ رجم کر دیا گیا، پھر آپ نے اس کے ساتھیوں میں سے دو شخصوں کو یہ کہتے سنا کہ اس شخص کو دیکھو، اللہ نے اس کی ستر پوشی کی، لیکن یہ خود اپنے آپ کو نہیں بچا سکا یہاں تک کہ پتھروں سے اسی طرح مارا گیا جیسے کتا مارا جاتا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ سن کر خاموش رہے، اور تھوڑی دیر چلتے رہے، یہاں تک کہ ایک مرے ہوئے گدھے کی لاش پر سے گزرے جس کے پاؤں اٹھے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: فلاں اور فلاں کہاں ہیں؟ وہ دونوں بولے: ہم حاضر ہیں اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اترو اور اس گدھے کا گوشت کھاؤ ان دونوں نے کہا: اللہ کے رسول! اس کا گوشت کون کھائے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نے ابھی جو اپنے بھائی کی عیب جوئی کی ہے وہ اس کے کھانے سے زیادہ سخت ہے، قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے وہ اس وقت جنت کی نہروں میں غوطے کھا رہا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4428]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ (ماعز اسلمی) اسلمی رضی اللہ عنہ، اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اپنے متعلق گواہی دی کہ وہ ایک عورت کے ساتھ زنا کر بیٹھا، یہ گواہی اس نے اپنے خلاف چار مرتبہ دی۔ ہر بار نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس سے اپنا منہ پھیر لیتے تھے۔ پھر وہ پانچویں بار سامنے ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا: کیا تو نے فی الواقع اس کے ساتھ جماع کیا ہے؟ اس نے کہا: ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: حتیٰ کہ تیرا ذکر اس کی فرج میں غائب ہو گیا تھا؟ اس نے کہا: ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا بھلا جس طرح سلائی سرمے دانی میں غائب ہو جاتی ہے اور ڈول کی رسی کنویں میں چلی جاتی ہے؟ اس نے کہا: ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر پوچھا: کیا بھلا جانتے بھی ہو کہ زنا کیا ہوتا ہے؟ اس نے کہا: ہاں، میں اس سے حرام کام کر بیٹھا ہوں جیسے کہ شوہر اپنی بیوی سے حلال کرتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو اپنی اس بات سے کیا چاہتا ہے؟ اس نے کہا: میں چاہتا ہوں کہ آپ مجھے پاک کر دیں۔ تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا تو اسے رجم کیا گیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم میں سے دو آدمیوں کو سنا کہ ایک دوسرے سے کہہ رہا تھا: اس کو دیکھو کہ اللہ نے اس پر پردہ ڈالا تھا، مگر اس کے نفس نے اس کو نہیں چھوڑا حتیٰ کہ پتھروں سے مارا گیا جیسے کہ کتے کو مارا جاتا ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے خاموش رہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کچھ دیر چلتے رہے حتیٰ کہ ایک مردہ گدھے کے پاس سے گزرے جس کی ٹانگیں اوپر کو اٹھی ہوئی تھیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: فلاں اور فلاں کہاں ہیں؟ انہوں نے کہا: ہم یہ رہے، اے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اترو اور اس مردار گدھے کا گوشت کھاؤ۔ انہوں نے کہا: اے اللہ کے نبی! بھلا یہ بھی کوئی کھاتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابھی جو تم نے اپنے بھائی کی عزت پامال کی ہے، وہ اس کے کھانے سے بدتر ہے۔ قسم اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے وہ اس وقت جنت کی نہروں میں غوطے کھا رہا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4428]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 13599) (ضعیف)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (3627)
عبد الرزاق صرح بالسماع عند ابن الجارود (814)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4429
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ ابْنِ عَمِّ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ بِنَحْوِهِ، زَادَ: وَاخْتَلَفُوا عَلَيَّ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ: رُبِطَ إِلَى شَجَرَةٍ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ وُقِفَ.
اس سند سے بھی ابوہریرہ سے ایسی ہی حدیث مروی ہے اس میں اتنا اضافہ ہے کہ لوگوں میں اختلاف ہے کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ اسے ایک درخت سے باندھ دیا گیا تھا اور کچھ کا کہنا ہے کہ اسے (میدان میں) کھڑا کر دیا گیا تھا۔ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4429]
ابوزبیر نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے چچازاد سے روایت کیا، انہوں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مذکورہ بالا حدیث کی مانند بیان کیا اور مزید کہا کہ: راویوں نے اختلاف کیا ہے، بعض نے کہا کہ اسے درخت سے باندھا گیا اور بعض نے کہا کہ اسے کھڑا کیا گیا۔ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4429]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 13599) (ضعیف)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
انظر الحديث السابق (4428)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4430
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُتَوَكِّلِ الْعَسْقَلَانِيُّ، وَالْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَسْلَمَ جَاءَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" فَاعْتَرَفَ بِالزِّنَا فَأَعْرَضَ عَنْهُ، ثُمَّ اعْتَرَفَ فَأَعْرَضَ عَنْهُ، حَتَّى شَهِدَ عَلَى نَفْسِهِ أَرْبَعَ شَهَادَاتٍ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَبِكَ جُنُونٌ؟ قَالَ: لَا، قَالَ: أُحْصِنْتَ، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَأَمَرَ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرُجِمَ فِي الْمُصَلَّى، فَلَمَّا أَذَلَقَتْهُ الْحِجَارَةُ فَرَّ فَأُدْرِكَ فَرُجِمَ حَتَّى مَاتَ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: خَيْرًا، وَلَمْ يُصَلِّ عَلَيْهِ".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ قبیلہ اسلم کا ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے زنا کا اقرار کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے اپنا منہ پھیر لیا، پھر اس نے آ کر اعتراف کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر اس سے اپنا منہ پھیر لیا، یہاں تک کہ اس نے اپنے خلاف چار بار گواہیاں دیں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: کیا تجھے جنون ہے؟ اس نے کہا: ایسی کوئی بات نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تو شادی شدہ ہے اس نے کہا: ہاں، اس پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے متعلق حکم دیا، تو انہیں عید گاہ میں رجم کر دیا گیا، جب ان پر پتھروں کی بارش ہونے لگی تو وہ بھاگے، پھر پکڑ لیے گئے، اور پتھروں سے مارے گئے، یہاں تک کہ ان کی موت ہو گئی، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی تعریف فرمائی اور ان پر نماز جنازہ نہیں پڑھی۔ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4430]
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ قبیلہ اسلم کا ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا۔ اس نے آ کر زنا کرنے کا اعتراف کیا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منہ موڑ لیا۔ اس نے پھر اعتراف کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اعراض کر لیا حتیٰ کہ اس نے اپنے اوپر چار گواہیاں دیں۔ تب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے کہا: کیا تو مجنون ہے؟ بولا: نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا تو شادی شدہ ہے؟ کہنے لگا: ہاں۔ تب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے متعلق حکم دیا تو اس کو عیدگاہ میں رجم کر دیا گیا۔ پھر جب اسے زور زور سے پتھر پڑنے لگے تو وہ بھاگا، پس اسے جا لیا گیا اور پتھر مارے گئے حتیٰ کہ مر گیا۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے متعلق اچھی بات کہی مگر اس کا جنازہ نہیں پڑھا۔ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4430]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏خ /الطلاق 11 (5270)، الحدود 21 (6814)، 25 (6820)، صحیح مسلم/الحدود 5 (1691)، سنن الترمذی/الحدود 5 (1429)، ن /الجنائز 63 (1958)، (تحفة الأشراف: 3149)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/323)، دي /الحدود 12 (2361) (صحیح) إلا أن (خ) قال: وصلي علیہ وھي شاذة» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
اختصره مسلم (1691) ولم يسق متنه وحديثه يدل علٰي أن الزھري سمع من أبي سلمة ھذا الحديث

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں