سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
21. باب فِي السَّارِقِ تُعَلَّقُ يَدُهُ فِي عُنُقِهِ
باب: چور کا ہاتھ کاٹ کر اس کے گلے میں لٹکانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 4411
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُحَيْرِيزٍ، قَالَ: سَأَلْنَا فَضَالَةَ بْنَ عُبَيْدٍ عَنْ تَعْلِيقِ الْيَدِ فِي الْعُنُقِ لِلسَّارِقِ أَمِنَ السُّنَّةِ هُوَ؟ قَالَ:" أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَارِقٍ فَقُطِعَتْ يَدُهُ ثُمَّ أَمَرَ بِهَا فَعُلِّقَتْ فِي عُنُقِهِ".
عبدالرحمٰن بن محیریز کہتے ہیں کہ میں نے فضالہ بن عبید سے چور کا ہاتھ کاٹ کر اس کے گلے میں لٹکانے کے متعلق پوچھا کہ کیا یہ مسنون ہے؟ تو آپ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک چور لایا گیا تو اس کا ہاتھ کاٹا گیا پھر آپ نے اس کے متعلق حکم دیا تو اسے اس کے گلے میں لٹکا دیا گیا۔ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4411]
عبدالرحمن بن محیریز سے روایت ہے کہ ہم نے سیدنا فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ: ”کیا چور کا ہاتھ اس کی گردن میں لٹکا دینا سنت ہے؟“ تو انہوں نے کہا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک چور کو لایا گیا تو اس کا ہاتھ کاٹ دیا گیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے ہاتھ کے متعلق حکم دیا تو اس کی گردن میں لٹکا دیا گیا۔“ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4411]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الحدود 17 (1447)، سنن النسائی/قطع السارق 15 (4985)، سنن ابن ماجہ/الحدود 23 (2587)، (تحفة الأشراف: 11029)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/19) (ضعیف)» (سند میں حجاج بن ارطاة ضعیف اور عبدالرحمن بن محیریز مجہول ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ترمذي (1447) نسائي (4985) ابن ماجه (2587)
حجاج بن أرطاة مدلس و عنعن وقال النسائي : ’’ الحجاج بن أرطاة ضعيف ولا يحتج به‘‘
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 156
إسناده ضعيف
ترمذي (1447) نسائي (4985) ابن ماجه (2587)
حجاج بن أرطاة مدلس و عنعن وقال النسائي : ’’ الحجاج بن أرطاة ضعيف ولا يحتج به‘‘
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 156
22. باب بَيْعِ الْمَمْلُوكِ إِذَا سَرَقَ
باب: غلام چوری کرے تو اسے بیچ ڈالنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 4412
حَدَّثَنَا مُوسَى يَعْنِي ابْنَ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا سَرَقَ الْمَمْلُوكُ فَبِعْهُ وَلَوْ بِنَشٍّ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب غلام چوری کرے تو اسے بیچ ڈالو اگرچہ ایک نش ۱؎ میں ہو“۔ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4412]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب مملوک غلام چوری کرے تو اسے بیچ ڈالو، خواہ آدھے اوقیہ (بیس درہم) سے بیچو۔“ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4412]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن النسائی/قطع السارق 13 (4983)، سنن ابن ماجہ/الحدود 25 (2589)، (تحفة الأشراف: 14979) (ضعیف)»
وضاحت: ۱؎: نش کہتے ہیں نصف کو یعنی نصف اوقیہ میں یا جو غلام کی قیمت ہو اس کے نصف میں۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
مشكوة المصابيح (3606)
أخرجه النسائي (4983 وسنده حسن) وابن ماجه (2589 وسنده حسن) عمر بن أبي سلمة حسن الحديث
مشكوة المصابيح (3606)
أخرجه النسائي (4983 وسنده حسن) وابن ماجه (2589 وسنده حسن) عمر بن أبي سلمة حسن الحديث
23. باب فِي الرَّجْمِ
باب: شادی شدہ زانی کے رجم کا بیان۔
حدیث نمبر: 4413
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ ثَابِتٍ الْمَرْوَزِيُّ، حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ يَزِيدَ النَّحْوِيِّ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:" وَاللَّاتِي يَأْتِينَ الْفَاحِشَةَ مِنْ نِسَائِكُمْ فَاسْتَشْهِدُوا عَلَيْهِنَّ أَرْبَعَةً مِنْكُمْ فَإِنْ شَهِدُوا فَأَمْسِكُوهُنَّ فِي الْبُيُوتِ حَتَّى يَتَوَفَّاهُنَّ الْمَوْتُ أَوْ يَجْعَلَ اللَّهُ لَهُنَّ سَبِيلا سورة النساء آية 15، وَذَكَرَ الرَّجُلَ بَعْدَ الْمَرْأَةِ ثُمَّ جَمَعَهُمَا، فَقَالَ: وَاللَّذَانِ يَأْتِيَانِهَا مِنْكُمْ فَآذُوهُمَا فَإِنْ تَابَا وَأَصْلَحَا فَأَعْرِضُوا عَنْهُمَا سورة النساء آية 16، فَنَسَحَ ذَلِكَ بِآيَةِ الْجَلْدِ، فَقَالَ: الزَّانِيَةُ وَالزَّانِي فَاجْلِدُوا كُلَّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا مِائَةَ جَلْدَةٍ سورة النور آية 2".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «واللاتي يأتين الفاحشة من نسائكم فاستشهدوا عليهن أربعة منكم فإن شهدوا فأمسكوهن في البيوت حتى يتوفاهن الموت أو يجعل الله لهن سبيلا» ”تمہاری عورتوں میں سے جو بےحیائی کا کام کریں ان پر اپنے میں سے چار گواہ طلب کرو، اگر وہ گواہی دیں تو ان عورتوں کو گھروں میں قید رکھو یہاں تک کہ موت ان کی عمریں پوری کر دے یا اللہ ان کے لیے کوئی اور راستہ نکال دے“ (سورۃ النساء: ۱۵) اور مرد کا ذکر عورت کے بعد کیا، پھر ان دونوں کا ایک ساتھ ذکر کیا فرمایا: «واللذان يأتيانها منكم فآذوهما فإن تابا وأصلحا فأعرضوا عنهما» ”تم میں دونوں جو ایسا کر لیں انہیں ایذا دو اور اگر وہ توبہ اور اصلاح کر لیں تو ان سے منہ پھیر لو“ (سورۃ النساء: ۱۶)، پھر یہ «جَلْد» والی آیت «الزانية والزاني فاجلدوا كل واحد منهما مائة جلدة» ”زنا کرنے والی عورت اور زنا کرنے والے مرد دونوں کو سو سو کوڑے مارو“ (سورۃ النور: ۲) منسوخ کر دی گئی۔ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4413]
جناب عکرمہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ آیت کریمہ ﴿وَاللَّاتِي يَأْتِينَ الْفَاحِشَةَ مِنْ نِسَائِكُمْ فَاسْتَشْهِدُوا عَلَيْهِنَّ أَرْبَعَةً مِنْكُمْ فَإِنْ شَهِدُوا فَأَمْسِكُوهُنَّ فِي الْبُيُوتِ حَتَّى يَتَوَفَّاهُنَّ الْمَوْتُ أَوْ يَجْعَلَ اللَّهُ لَهُنَّ سَبِيلًا﴾ [سورة النساء: 15] ”تمہاری عورتوں میں سے جو کوئی بدکاری (زنا) کا ارتکاب کریں تو ان پر اپنے میں سے چار گواہ لاؤ، اگر وہ گواہی دیں تو ان عورتوں کو گھروں میں قید رکھو یہاں تک کہ انہیں موت آ جائے یا اللہ ان کے لیے کوئی راستہ نکال دے۔“ کے سلسلے میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”آیت کریمہ میں مرد کا بیان عورت کے بعد ہے۔ پھر ان دونوں (مرد اور عورت) کو جمع کرتے ہوئے فرمایا: ﴿وَاللَّذَانِ يَأْتِيَانِهَا مِنْكُمْ فَآذُوهُمَا فَإِنْ تَابَا وَأَصْلَحَا فَأَعْرِضُوا عَنْهُمَا﴾ [سورة النساء: 16] ”اور تم میں سے جو یہ کام کریں تو انہیں ایذا دو، پھر اگر وہ توبہ کر لیں اور اپنی اصلاح کر لیں تو ان سے درگزر کرو۔“ پھر یہ حکم (سورۃ النور کی) اس آیت سے منسوخ کر دیا گیا جس میں سو کوڑے مارنے کا بیان ہے: ﴿الزَّانِيَةُ وَالزَّانِي فَاجْلِدُوا كُلَّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا مِائَةَ جَلْدَةٍ﴾ [سورة النور: 2] ”زانی عورت اور زانی مرد ہر ایک کو سو سو کوڑے مارو۔“” [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4413]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 6267) (حسن الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: حسن الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
حدیث نمبر: 4414
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ ثَابِتٍ، حَدَّثَنَا مُوسَى يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ، عَنْ شِبْلٍ، عَنْ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجِاهِدٍ، قَالَ: السَّبِيلُ الْحَدُّ، قَالَ سُفْيَانُ فَآذُوهُمَا سورة النساء آية 16 الْبِكْرَانِ،فَأَمْسِكُوهُنَّ فِي الْبُيُوتِ سورة النساء آية 15 الثَّيِّبَاتُ.
مجاہد کہتے ہیں کہ «سبیل» سے مراد حد ہے۔ سفیان کہتے ہیں: «فآذوهما» سے مراد کنوارا مرد اور کنواری عورت ہے، اور «فأمسكوهن في البيوت» سے مراد غیر کنواری عورتیں ہیں۔ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4414]
ابن ابی نجیح رحمہ اللہ نے جناب مجاہد رحمہ اللہ سے روایت کیا کہ ” «سَبِيل» (راستے) سے مراد حد کا نازل کرنا ہے۔“ سفیان رحمہ اللہ نے کہا: ” ﴿وَاللَّذَانِ يَأْتِيَانِهَا مِنْكُمْ فَآذُوهُمَا﴾ [سورة النساء: 16] ”ان دونوں کو سزا دو“ سے مراد غیر شادی شدہ مرد و عورت ہیں، اور ﴿فَأَمْسِكُوهُنَّ فِي الْبُيُوتِ﴾ [سورة النساء: 15] ”ان کو گھر میں روکے رکھو“ سے مراد شادی شدہ عورتیں ہیں۔“ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4414]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 19267) (حسن)»
قال الشيخ الألباني: حسن مقطوع
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ابن أبي نجيح عنعن
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 156
إسناده ضعيف
ابن أبي نجيح عنعن
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 156
حدیث نمبر: 4415
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ حَطَّانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الرَّقَاشِيِّ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" خُذُوا عَنِّي خُذُوا عَنِّي قَدْ جَعَلَ اللَّهُ لَهُنَّ سَبِيلًا الثَّيِّبُ بِالثَّيِّبِ جَلْدُ مِائَةٍ وَرَمْيٌ بِالْحِجَارَةِ وَالْبِكْرُ بِالْبِكْرِ جَلْدُ مِائَةٍ وَنَفْيُ سَنَةٍ".
عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھ سے سیکھ لو، مجھ سے سیکھ لو، اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے راہ نکال دی ہے غیر کنوارہ مرد غیر کنواری عورت کے ساتھ زنا کرے تو سو کوڑے اور رجم ہے اور کنوارا مرد کنواری عورت کے ساتھ زنا کرے تو سو کوڑے اور ایک سال کی جلا وطنی ہے“۔ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4415]
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھ سے لے لو، مجھ سے لے لو، تحقیق اللہ تعالیٰ نے ان عورتوں کے لیے راہ نکال دی ہے، اگر شادی شدہ، شادی شدہ کے ساتھ (ملوث ہو اور بدکاری) کرے تو سو کوڑے ہیں اور پتھر مارنا ہے، اور کنوارا کنواری کے ساتھ کرے تو سو کوڑے ہیں اور ایک سال کے لیے شہر بدری ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4415]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الحدود 3 (1690)، سنن الترمذی/الحدود 8 (1434)، سنن ابن ماجہ/الحدود 7 (2550)، (تحفة الأشراف: 5083)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/475، 5/313، 317، 318، 320)، سنن الدارمی/الحدود 19 (2372) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (1690)
حدیث نمبر: 4416
حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ بْنِ سُفْيَانَ، قَالَا: حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ الْحَسَنِ، بِإِسْنَادِ يَحْيَى، وَمَعْنَاهُ قَالَ: جَلْدُ مِائَةٍ وَالرَّجْمُ.
اس طریق سے بھی حسن سے یحییٰ والی سند ہی سے اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے اس میں ہے (جب غیر کنوارا مرد غیر کنواری عورت کے ساتھ زنا کرے تو) سو کوڑے اور رجم ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4416]
جناب حسن بصری رحمہ اللہ نے بسندِ یحییٰ اس روایت کے ہم معنی بیان کرتے ہوئے کہا: ”سو کوڑے ہیں (غیر شادی شدہ کو) اور رجم کرنا ہے (شادی شدہ کو)۔“ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4416]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 5083) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (1690)
حدیث نمبر: 4417
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَوْفٍ الطَّائِيُّ، حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ رَوْحِ بْنِ خُلَيْدٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدٍ يَعْنِي الْوَهْبِيَّ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دَلْهَمٍ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْمُحَبَّقِ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِت، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا الْحَدِيثِ، فَقَالَ نَاسٌ لِسَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ: يَا أَبَا ثَابِتٍ قَدْ نَزَلَتِ الْحُدُودُ لَوْ أَنَّكَ وَجَدْتَ مَعَ امْرَأَتِكَ رَجُلًا كَيْفَ كُنْتَ صَانِعًا؟ قَالَ: كُنْتُ ضَارِبَهُمَا بِالسَّيْفِ حَتَّى يَسْكُتَا أَفَأَنَا أَذْهَبُ فَأَجْمَعُ أَرْبَعَةَ شُهَدَاءٍ فَإِلَى ذَلِكَ قَدْ قَضَى الْحَاجَةَ فَانْطَلَقُوا فَاجْتَمَعُوا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَمْ تَرَ إِلَى أَبِي ثَابِتٍ؟ قَالَ: كَذَا وَكَذَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَفَى بِالسَّيْفِ شَاهِدًا، ثُمَّ قَالَ: لَا لَا أَخَافُ أَنْ يَتَتَابَعَ فِيهَا السَّكْرَانُ وَالْغَيْرَانُ، قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَى وَكِيعٌ أَوَّلَ هَذَا الْحَدِيثِ، عَنِ الْفَضْلِ بْنِ دَلْهَمٍ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ حُرَيْثٍ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْمُحَبَّقِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَإِنَّمَا هَذَا إِسْنَادُ حَدِيثِ ابْنِ الْمُحَبَّقِ: أَنَّ رَجُلًا وَقَعَ عَلَى جَارِيَةِ امْرَأَتِهِ، قَالَ أَبُو دَاوُد: الْفَضْلُ بْنُ دَلْهَمٍ لَيْسَ بِالْحَافِظِ كَانَ قَصَّابًا بِوَاسِطَ.
عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی حدیث روایت کرتے ہیں اس میں ہے کہ کچھ لوگوں نے سعد بن عبادہ سے کہا: اے ابوثابت! حدود نازل ہو چکے ہیں اگر آپ اپنی بیوی کے ساتھ کسی مرد کو پائیں تو کیا کریں، انہوں نے کہا: ان دونوں کا کام تلوار سے تمام کر دوں گا، کیا میں چار گواہ جمع کرنے جاؤں گا تب تک تو وہ اپنا کام پورا کر چکے گا، چنانچہ وہ چلے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچے اور ان لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا آپ نے ابوثابت کو نہیں سنا وہ ایسا ایسا کہہ رہے ہیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ازروئے گواہ تلوار ہی کافی ہے“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، نہیں، اسے قتل مت کرنا کیونکہ مجھے اندیشہ ہے کہ غصہ ور، اور غیرت مند پیچھے پڑ کر (بغیر اس کی تحقیق کئے کہ اس سے زنا سرزد ہوا ہے یا نہیں محض گمان ہی پر) اسے قتل نہ کر ڈالیں“۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اس حدیث کا ابتدائی حصہ وکیع نے فضل بن دلہم سے، فضل نے حسن سے، حسن نے قبیصہ بن حریث سے، قبیصہ نے سلمہ بن محبق سے سلمہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرفوعاً روایت کیا ہے، یہ سند جس کا ذکر وکیع نے کیا ہے ابن محبق والی روایت کی سند ہے جس میں ہے کہ ایک شخص نے اپنی بیوی کی لونڈی سے مجامعت کر لی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: فضل بن دلہم حافظ حدیث نہیں تھے، وہ واسط میں ایک قصاب تھے۔ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4417]
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ حدیث بیان کی تو لوگوں نے سعد بن عبادہ سے کہا: ”اے ابوثابت! حدود نازل ہوئی ہیں، اگر تم اپنی بیوی کے ساتھ کسی کو پاؤ تو کیا کرو گے؟“ انہوں نے کہا: ”میں تلوار سے ان دونوں کا کام تمام کر دوں گا حتیٰ کہ دونوں ٹھنڈے ہو جائیں۔ کیا بھلا میں چار گواہ ڈھونڈنے جاؤں گا؟ تب تک وہ اپنا کام کر جائیں گے (بدکاری کر کے بھاگ جائے گا)۔“ چنانچہ وہ چلے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں اکٹھے ہوئے اور کہنے لگے: ”اے اللہ کے رسول! کیا آپ نے ابوثابت کو دیکھا کہ ایسے ایسے کہتا ہے؟“ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(ایسے موقع پر) تلوار کی گواہی کافی ہے۔“ پھر فرمایا: ”نہیں، نہیں۔ مجھے اندیشہ ہے کہ کوئی (ویسے ہی) بحالت نشہ یا بوجہ غیرت اس کے درپے نہ ہو جائے۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس حدیث کا ابتدائی حصہ وکیع نے فضل بن دلہم سے، انہوں نے جناب حسن سے، انہوں نے قبیصہ بن حریث سے، انہوں نے سلمہ بن محبق سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے۔ حالانکہ یہ سند ابن محبق کی اس روایت کی ہے جس میں ہے کہ ایک آدمی اپنی بیوی کی لونڈی سے زنا کر بیٹھا تھا۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ فضل بن دلہم حافظ نہیں ہے۔ یہ واسط میں قصاب تھا۔ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4417]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 5088)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/476) (ضعیف)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ابن ماجه (2606)
الفضل بن دلھم : لين
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 156
إسناده ضعيف
ابن ماجه (2606)
الفضل بن دلھم : لين
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 156
حدیث نمبر: 4418
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ عُمَر يَعْنِي ابْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ خَطَبَ، فَقَالَ:" إِنَّ اللَّهَ بَعَثَ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحَقِّ وَأَنْزَلَ عَلَيْهِ الْكِتَابَ فَكَانَ فِيمَا أُنْزِلَ عَلَيْهِ آيَةُ الرَّجْمِ فَقَرَأْنَاهَا وَوَعَيْنَاهَا، وَرَجَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَجَمْنَا مِنْ بَعْدِهِ، وَإِنِّي خَشِيتُ إِنْ طَالَ بِالنَّاسِ الزَّمَانُ أَنْ يَقُولَ قَائِلٌ: مَا نَجِدُ آيَةَ الرَّجْمِ فِي كِتَابِ اللَّهِ فَيَضِلُّوا بِتَرْكِ فَرِيضَةٍ أَنْزَلَهَا اللَّهُ تَعَالَى، فَالرَّجْمُ حَقٌّ عَلَى مَنْ زَنَى مِنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ إِذَا كَانَ مُحْصَنًا إِذَا قَامَتِ الْبَيِّنَةُ أَوْ كَانَ حَمْلٌ أَوِ اعْتِرَافٌ، وَايْمُ اللَّهِ لَوْلَا أَنْ يَقُولَ النَّاسُ زَادَ عُمَرُ فِي كِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ لَكَتَبْتُهَا".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ عمر رضی اللہ عنہ نے خطبہ دیا اس میں آپ نے کہا: اللہ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو حق کے ساتھ بھیجا اور آپ پر کتاب نازل فرمائی، تو جو آیتیں آپ پر نازل ہوئیں ان میں آیت رجم بھی ہے، ہم نے اسے پڑھا، اور یاد رکھا، خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رجم کیا، آپ کے بعد ہم نے بھی رجم کیا، اور مجھے اندیشہ ہے کہ اگر زیادہ عرصہ گزر جائے تو کوئی کہنے والا یہ نہ کہے کہ ہم اللہ کی کتاب میں آیت رجم نہیں پاتے، تو وہ اس فریضہ کو جسے اللہ نے نازل فرمایا ہے چھوڑ کر گمراہ ہو جائے، لہٰذا مردوں اور عورتوں میں سے جو زنا کرے اسے رجم (سنگسار) کرنا برحق ہے، جب وہ شادی شدہ ہو اور دلیل قائم ہو چکی ہو، یا حمل ہو جائے یا اعتراف کرے، اور قسم اللہ کی اگر لوگ یہ نہ کہتے کہ عمر نے اللہ کی کتاب میں زیادتی کی ہے تو میں اسے یعنی آیت رجم کو مصحف میں لکھ دیتا۔ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4418]
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے خطبہ دیا اور کہا: ”تحقیق اللہ تعالیٰ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا اور ان پر اپنی کتاب نازل کی۔ اس نازل کردہ (کتاب) میں رجم کی آیت بھی تھی۔ ہم نے اسے پڑھا اور یاد کیا ہے۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رجم کیا ہے اور ان کے بعد ہم نے بھی رجم کیا ہے۔ مجھے اندیشہ ہے کہ کہیں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ کوئی یہ نہ کہنے لگے کہ رجم والی آیت ہم کتاب اللہ میں نہیں پاتے ہیں، اس طرح وہ اللہ کے نازل کردہ فریضہ کو ترک کر کے گمراہ نہ ہو جائیں۔ پس جس کسی مرد یا عورت نے زنا کیا ہو اور وہ شادی شدہ ہو اور گواہی ثابت ہو جائے یا حمل ہو یا اعتراف ہو، تو اس پر رجم حق ہے۔ اللہ کی قسم! اگر یہ بات نہ ہوتی کہ لوگ کہیں گے کہ عمر نے اللہ کی کتاب میں اضافہ کر دیا ہے تو میں اس آیت کو کتاب اللہ میں درج کر دیتا۔“ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4418]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الحدود 30 (6829)، صحیح مسلم/الحدود 4 (1691)، سنن الترمذی/الحدود 7 (1432)، سنن ابن ماجہ/الحدود 9 (2553)، (تحفة الأشراف: 10508)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الحدود 1 (8)، مسند احمد (1/23، 24، 40، 47، 55)، سنن الدارمی/الحدود 16 (2368) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (6829) صحيح مسلم (1691)
24. باب رَجْمِ مَاعِزِ بْنِ مَالِكٍ
باب: ماعز بن مالک رضی اللہ عنہ کے رجم کا بیان۔
حدیث نمبر: 4419
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْأَنْبَارِيُّ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ نُعَيْمِ بْنِ هَزَّالٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ:" كَانَ مَاعِزُ بْنُ مَالِكٍ يَتِيمًا فِي حِجْرِ أَبِي فَأَصَابَ جَارِيَةً مِنَ الْحَيِّ، فَقَالَ لَهُ أَبِي: ائْتِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبِرْهُ بِمَا صَنَعْتَ لَعَلَّهُ يَسْتَغْفِرُ لَكَ، وَإِنَّمَا يُرِيدُ بِذَلِكَ رَجَاءَ أَنْ يَكُونَ لَهُ مَخْرَجًا، فَأَتَاهُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي زَنَيْتُ فَأَقِمْ عَلَيَّ كِتَابَ اللَّهِ، فَأَعْرَضَ عَنْهُ فَعَادَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي زَنَيْتُ فَأَقِمْ عَلَيَّ كِتَابَ اللَّهِ، فَأَعْرَضَ عَنْهُ فَعَادَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي زَنَيْتُ فَأَقِمْ عَلَيَّ كِتَابَ اللَّهِ، حَتَّى قَالَهَا أَرْبَعَ مِرَارٍ، قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّكَ قَدْ قُلْتَهَا أَرْبَعَ مَرَّاتٍ، فَبِمَنْ؟ قَالَ: بِفُلَانَةٍ، فَقَالَ: هَلْ ضَاجَعْتَهَا؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: هَلْ بَاشَرْتَهَا؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: هَلْ جَامَعْتَهَا؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَأَمَرَ بِهِ أَنْ يُرْجَمَ فَأُخْرِجَ بِهِ إِلَى الْحَرَّةِ، فَلَمَّا رُجِمَ فَوَجَدَ مَسَّ الْحِجَارَةِ جَزِعَ، فَخَرَجَ يَشْتَدُّ فَلَقِيَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُنَيْسٍ وَقَدْ عَجَزَ أَصْحَابُهُ، فَنَزَعَ لَهُ بِوَظِيفِ بَعِيرٍ فَرَمَاهُ بِهِ فَقَتَلَهُ، ثُمَّ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ: هَلَّا تَرَكْتُمُوهُ لَعَلَّهُ أَنْ يَتُوبَ فَيَتُوبَ اللَّهُ عَلَيْهِ".
نعیم بن ہزال بن یزید اسلمی رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میرے والد کی گود میں ماعز بن مالک یتیم تھے محلہ کی ایک لڑکی سے انہوں نے زنا کیا، ان سے میرے والد نے کہا: جاؤ جو تم نے کیا ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتا دو، ہو سکتا ہے وہ تمہارے لیے اللہ سے مغفرت کی دعا کریں، اس سے وہ یہ چاہتے تھے کہ ان کے لیے کوئی سبیل نکلے چنانچہ وہ آپ کے پاس آئے اور انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں نے زنا کر لیا ہے مجھ پر اللہ کی کتاب کو قائم کیجئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے اپنا چہرہ پھیر لیا، پھر وہ دوبارہ آئے اور انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں نے زنا کر لیا ہے، مجھ پر اللہ کی کتاب کو قائم کیجئے، یہاں تک کہ ایسے ہی چار بار انہوں نے کہا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”تم چار بار کہہ چکے کہ میں نے زنا کر لیا ہے تو یہ بتاؤ کہ کس سے کیا ہے؟“ انہوں نے کہا: فلاں عورت سے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم اس کے ساتھ سوئے تھے؟“ ماعز نے کہا: ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا تم اس سے چمٹے تھے؟“ انہوں نے کہا: ہاں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا تم نے اس سے جماع کیا تھا؟“ انہوں نے کہا: ہاں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں رجم (سنگسار) کئے جانے کا حکم دیا، انہیں حرہ ۱؎ میں لے جایا گیا، جب لوگ انہیں پتھر مارنے لگے تو وہ پتھروں کی اذیت سے گھبرا کے بھاگے، تو وہ عبداللہ بن انیس کے سامنے آ گئے، ان کے ساتھی تھک چکے تھے، تو انہوں نے اونٹ کا کھر نکال کر انہیں مارا تو انہیں مار ہی ڈالا، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، اور ان سے اسے بیان کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے اسے چھوڑ کیوں نہیں دیا ۲؎، شاید وہ توبہ کرتا اور اللہ اس کی توبہ قبول کر لیتا“۔ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4419]
جناب یزید بن نعیم بن ہزال اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ سیدنا ماعز بن مالک رضی اللہ عنہ یتیم لڑکا تھا اور میرے والد کی سرپرستی میں تھا۔ پھر وہ قبیلے کی ایک لڑکی کے ساتھ زنا کر بیٹھا۔ تو میرے والد نے اس سے کہا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤ اور جو کچھ تم نے کیا ہے اس کی انہیں خبر دو، شاید وہ تیرے لیے استغفار کریں۔“ اور اس سے ان کا مقصد صرف یہی امید تھی کہ اسے کوئی راہ مل جائے۔ چنانچہ وہ حاضر ہوا اور کہا: ”اے اللہ کے رسول! میں نے زنا کیا ہے، لہٰذا اللہ کی کتاب کا حکم مجھ پر نافذ فرما دیجیے۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے رخ پھیر لیا۔ اس نے پھر کہا: ”اے اللہ کے رسول! میں نے زنا کیا ہے، مجھ پر اللہ کی کتاب کا حکم نافذ فرما دیجیے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے رخ پھیر لیا۔ تو اس نے (تیسری بار) پھر کہا: ”اے اللہ کے رسول! میں نے زنا کیا ہے۔ مجھ پر اللہ کی کتاب کا حکم نافذ کر دیجیے۔“ حتیٰ کہ اس نے چار بار اس طرح کہا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو نے چار بار یہ بات کہی ہے، تو نے کس کے ساتھ کیا ہے؟“ کہا: ”فلاں لڑکی کے ساتھ۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”تو اس کے ساتھ اکٹھے لیٹا ہے؟“ کہا: ”ہاں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”تو اس کے ساتھ چمٹا ہے؟“ کہا: ”ہاں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”تو نے اس کے ساتھ جماع کیا ہے؟“ کہا: ”ہاں۔“ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو سنگسار کرنے کا حکم دیا۔ چنانچہ اس کو حرہ کی طرف لے جایا گیا۔ جب اسے پتھر مارے گئے اور اس نے پتھروں کی چوٹ محسوس کی تو برداشت نہ کر پایا اور بھاگ کھڑا ہوا۔ تو سیدنا عبداللہ بن انیس رضی اللہ عنہ نے اس کو پا لیا، جبکہ دیگر ساتھی تھک گئے تھے۔ تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے اس کو اونٹ کا پایا نکال مارا اور اسے قتل کر دیا، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر یہ سب بیان کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے اس کو چھوڑ کیوں نہ دیا، شاید وہ توبہ کر لیتا اور اللہ اس کی توبہ قبول فرما لیتا۔“ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4419]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبودواد، (تحفة الأشراف: 11652)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/217) (صحیح)» آخری ٹکڑا: «لعله أن يتوب ...» صحیح نہیں ہے
وضاحت: ۱؎: مدینہ کے قریب ایک سیاہ پتھریلی جگہ ہے اس وقت شہر میں داخل ہے۔ ط ۲؎: کیونکہ ہو سکتا ہے کہ وہ اپنے اقرار سے مکر جاتا اور اس سزا سے بچ جاتا نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا قول «هلا تركتموه» اس بات کی دلیل ہے کہ اقرار کرنے والا اگر بھاگنے لگ جائے تو اسے مارنا بند کر دیا جائے گا، پھر اگر وہ بصراحت اپنے اقرار سے پھر جائے تو اسے چھوڑ دیا جائے گا ورنہ رجم کر دیا جائے گا یہی قول امام شافعی اور امام احمد کا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح دون قوله لعله أن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (3565، 3581)
انظر الحديث السابق (4377)
مشكوة المصابيح (3565، 3581)
انظر الحديث السابق (4377)
حدیث نمبر: 4420
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ مَيْسَرَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق، قَالَ: ذَكَرْتُ لِعَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ قِصَّةَ مَاعِزِ ابْنِ مَالِكٍ، فَقَالَ لِي: حَدَّثَنِي حَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي ذَلِكَ، مِنْ قَوْلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَهَلَّا تَرَكْتُمُوهُ مَنْ شِئْتُمْ مِنْ رِجَالِ أَسْلَمَ مِمَّنْ لَا أَتَّهِمُ، قَالَ: وَلَمْ أَعْرِفْ هَذَا الْحَدِيثَ، قَالَ: فَجِئْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، فَقُلْتُ: إِنَّ رِجَالًا مِنْ أَسْلَمَ يُحَدِّثُونَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُمْ حِينَ ذَكَرُوا لَهُ جَزَعَ مَاعِزٍ مِنَ الْحِجَارَةِ حِينَ أَصَابَتْهُ: أَلَّا تَرَكْتُمُوهُ، وَمَا أَعْرِفُ الْحَدِيثَ، قَالَ: يَا ابْنَ أَخِي أَنَا أَعْلَمُ النَّاسِ بِهَذَا الْحَدِيثِ كُنْتُ فِيمَنْ رَجَمَ الرَّجُلَ،" إِنَّا لَمَّا خَرَجْنَا بِهِ فَرَجَمْنَاهُ فَوَجَدَ مَسَّ الْحِجَارَةِ، صَرَخَ بِنَا: يَا قَوْمُ رُدُّونِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِنَّ قَوْمِي قَتَلُونِي وَغَرُّونِي مِنْ نَفْسِي، وَأَخْبَرُونِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَيْرُ قَاتِلِي، فَلَمْ نَنْزَعْ عَنْهُ حَتَّى قَتَلْنَاهُ، فَلَمَّا رَجَعْنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَخْبَرْنَاهُ، قَالَ: فَهَلَّا تَرَكْتُمُوهُ وَجِئْتُمُونِي بِهِ لِيَسْتَثْبِتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْهُ فَأَمَّا لِتَرْكِ حَدٍّ فَلَا"، قَالَ: فَعَرَفْتُ وَجْهَ الْحَدِيثِ.
محمد بن اسحاق کہتے ہیں کہ میں نے عاصم بن عمر بن قتادہ سے ماعز بن مالک رضی اللہ عنہ کے واقعہ کا ذکر کیا تو انہوں نے مجھ سے کہا کہ مجھ سے حسن بن محمد بن علی بن ابی طالب نے بیان کیا ہے وہ کہتے ہیں: مجھے قبیلہ اسلم کے کچھ لوگوں نے جو تمہیں محبوب ہیں اور جنہیں میں متہم نہیں قرار دیتا بتایا ہے کہ «فهلا تركتموه» رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا قول ہے، حسن کہتے ہیں: میں نے یہ حدیث سمجھی نہ تھی، تو میں جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کے پاس آیا، اور ان سے کہا کہ قبیلہ اسلم کے کچھ لوگ بیان کرتے ہیں کہ لوگوں نے پتھر پڑنے سے ماعز کی گھبراہٹ کا جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کیا تو آپ نے ان سے فرمایا: ”تم نے اسے چھوڑ کیوں نہیں دیا“ یہ بات میرے سمجھ میں نہیں آئی، تو جابر رضی اللہ عنہ نے کہا: بھتیجے! میں اس حدیث کا سب سے زیادہ جانکار ہوں، میں ان لوگوں میں سے تھا جنہوں نے انہیں رجم کیا جب ہم انہیں لے کر نکلے اور رجم کرنے لگے اور پتھر ان پر پڑنے لگا تو وہ چلائے اور کہنے لگے: لوگو! مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس واپس لے چلو، میری قوم نے مجھے مار ڈالا، ان لوگوں نے مجھے دھوکہ دیا ہے، انہوں نے مجھے یہ بتایا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے مار نہیں ڈالیں گے، لیکن ہم لوگوں نے انہیں جب تک مار نہیں ڈالا چھوڑا نہیں، پھر جب ہم لوٹ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ سے اس کا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے اسے چھوڑ کیوں نہیں دیا، میرے پاس لے آتے“ یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس لیے فرمایا تاکہ آپ ان سے مزید تحقیق کر لیتے، نہ اس لیے کہ آپ انہیں چھوڑ دیتے، اور حد قائم نہ کرتے، وہ کہتے ہیں: تو میں اس وقت حدیث کا مطلب سمجھ سکا۔ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4420]
حسن بن محمد بن علی بن ابوطالب رحمہ اللہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان: ”تم نے اس کو چھوڑ کیوں نہ دیا۔“ مجھ کو قبیلہ اسلم کے کئی لوگوں نے بیان کیا جنہیں میں جھوٹ سے متہم نہیں سمجھتا، انہوں نے کہا کہ میرے لیے یہ حدیث واضح نہ تھی، چنانچہ میں سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کے پاس حاضر ہوا اور ان سے کہا: ”قبیلہ اسلم کے لوگ یہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (ماعز کو رجم کرنے والے) لوگوں سے کہا، جب انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا کہ ماعز کو جب پتھر لگے تو وہ ان کی چوٹ برداشت نہ کر سکا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے اس کو چھوڑ کیوں نہ دیا۔“ میں یہ حدیث سمجھ نہیں سکا ہوں۔“ تو سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”اے بھتیجے! میں اس حدیث کے متعلق سب لوگوں سے بڑھ کر جانتا ہوں، میں ان لوگوں میں شامل تھا جنہوں نے اس کو رجم کیا تھا، جب ہم اس کو لے کر نکلے اور اسے پتھر مارے اور اسے پتھروں کی چوٹ پڑی تو وہ چیخ اٹھا: ”اے قوم! مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس واپس لے چلو، میری قوم نے مجھے مروا ڈالا ہے، انہوں نے مجھے میری جان کے متعلق دھوکا دیا ہے، انہوں نے مجھ سے کہا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تجھے قتل نہیں کریں گے۔“ مگر ہم اس سے پیچھے نہ ہٹے حتیٰ کہ اسے مار ڈالا، پھر جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پہنچے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی خبر دی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے اسے چھوڑ کیوں نہ دیا اور اسے میرے پاس کیوں نہ لے آئے۔“ (غرض یہ تھی کہ) اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اس کو ثابت قدم رہنے کا کہتے (یعنی دنیا کا عذاب، آخرت کے مقابلے میں ہلکا اور آسان ہے)، لیکن یہ مفہوم ہو کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حد چھوڑ دینے کی غرض سے یہ کہا ہو، ایسے نہیں ہے، چنانچہ تب میں (حسن بن محمد رحمہ اللہ) حدیث کا مطلب سمجھ سکا۔“ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4420]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 2231)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/381) (حسن)»
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن