سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
24. باب رَجْمِ مَاعِزِ بْنِ مَالِكٍ
باب: ماعز بن مالک رضی اللہ عنہ کے رجم کا بیان۔
حدیث نمبر: 4431
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ. ح وحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ زَكَرِيَّا وَهَذَا لَفْظُهُ، عَنْ دَاوُدَ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ: لَمَّا" أَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِرَجْمِ مَاعِزِ بْنِ مَالِكٍ، خَرَجْنَا بِهِ إِلَى الْبَقِيعِ، فَوَاللَّهِ مَا أَوْثَقْنَاهُ وَلَا حَفَرْنَا لَهُ وَلَكِنَّهُ قَامَ لَنَا، قَالَ أَبُو كَامِلٍ: قَالَ فَرَمَيْنَاهُ بِالْعِظَامِ وَالْمَدَرِ وَالْخَزَفِ فَاشْتَدَّ وَاشْتَدَدْنَا خَلْفَهُ، حَتَّى أَتَى عَرْضَ الْحَرَّةِ فَانْتَصَبَ لَنَا فَرَمَيْنَاهُ بِجَلَامِيدِ الْحَرَّةِ حَتَّى سَكَتَ، قَالَ: فَمَا اسْتَغْفَرَ لَهُ وَلَا سَبَّهُ".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ماعز بن مالک رضی اللہ عنہ کے رجم کا حکم دیا تو ہم انہیں لے کر بقیع کی طرف چلے، قسم اللہ کی! نہ ہم نے انہیں باندھا، نہ ہم نے ان کے لیے گڑھا کھودا، لیکن وہ خود کھڑے ہو گئے، ہم نے انہیں ہڈیوں، ڈھیلوں اور مٹی کے برتن کے ٹوٹے ہوئے ٹکڑوں سے مار ا، تو وہ ادھر ادھر دوڑنے لگے، ہم بھی ان کے پیچھے دوڑے یہاں تک کہ وہ حرہ پتھریلی جگہ کی طرف آئے تو وہ کھڑے ہو گئے ہم نے انہیں حرہ کے بڑے بڑے پتھروں سے مارا یہاں تک کہ وہ ٹھنڈے ہو گئے، تو نہ تو آپ نے ان کی مغفرت کے لیے دعا کی، اور نہ ہی انہیں برا کہا۔ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4431]
سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ”جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ماعز بن مالک رضی اللہ عنہ کے رجم کرنے کا حکم فرمایا تو ہم اسے بقیع کی طرف لے چلے، اللہ کی قسم! نہ ہم نے اس کو باندھا اور نہ اس کے لیے گڑھا کھودا، لیکن وہ ہمارے سامنے کھڑا ہو گیا۔“ ابوکامل نے کہا: ”ہم نے اسے ہڈیاں، ڈھیلے اور ٹھیکرے مارے تو وہ بھاگ کھڑا ہوا اور ہم بھی اس کے پیچھے بھاگ لیے حتیٰ کہ وہ حرہ (پتھریلی زمین) کی جانب میں آ گیا اور ہمارے سامنے کھڑا ہو گیا تو ہم نے اسے اس جگہ کے بڑے بڑے پتھر مارے حتیٰ کہ وہ ٹھنڈا ہو گیا۔“ راوی نے کہا: ”پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے لیے نہ استغفار کیا اور نہ کسی طرح سے برا بھلا کہا۔“ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4431]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الحدود 5 (1694)، (تحفة الأشراف: 4313)، وقد أخرجہ: سنن الدارمی/الحدود 14 (2365) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (1694)
حدیث نمبر: 4432
حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل، عَنْ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ، وَلَيْسَ بِتَمَامِهِ، قَالَ: ذَهَبُوا يَسُبُّونَهُ فَنَهَاهُمْ، قَالَ: ذَهَبُوا يَسْتَغْفِرُونَ لَهُ فَنَهَاهُمْ، قَالَ: هُوَ رَجُلٌ أَصَابَ ذَنْبًا حَسِيبُهُ اللَّهُ.
ابونضرہ سے روایت ہے ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، آگے اسی جیسی روایت ہے، اور پوری نہیں ہے اس میں ہے: لوگ اسے برا بھلا کہنے لگے، تو آپ نے انہیں منع فرمایا، پھر لوگ اس کی مغفرت کی دعا کرنے لگے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں روک دیا، اور فرمایا: ”وہ ایک شخص تھا جس نے گناہ کیا، اب اللہ اس سے سمجھ لے گا (چاہے گا تو معاف کر دے ورنہ اسے سزا دے گا تم کیوں دخل دیتے ہو)“۔ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4432]
جریری نے ابونضرہ سے روایت کرتے ہوئے کہا کہ ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور مذکورہ بالا حدیث کی مانند روایت کیا، لیکن اس کی روایت مکمل نہیں ہے۔ راوی نے کہا کہ لوگ اسے گالیاں دینے لگے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو منع کیا۔ (پھر) وہ اس کے لیے استغفار کرنے لگے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو منع کر دیا اور کہا: ”یہ ایسا آدمی ہے جس نے گناہ کا ارتکاب کیا ہے اور اللہ ہی اس کا حساب لینے والا ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4432]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 4331) (ضعیف)» (ابو نضرة منذر بن مالک بن قطعة تابعی ہیں، اور انہوں نے واسطہ ذکر نہیں کیا ہے، اس لئے حدیث مرسل وضعیف ہے)
قال الشيخ الألباني: ضعيف مرسل
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
السند مرسل
أبو نضرة المنذر بن مالك من التابعين
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 156
إسناده ضعيف
السند مرسل
أبو نضرة المنذر بن مالك من التابعين
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 156
حدیث نمبر: 4433
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَعْلَى بْنِ الْحَارِثِ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ غَيْلَانَ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ، عَنْ ابْنِ بُرَيْدَةَ،عَنْ أَبِيهِ،" أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَنْكَهَ مَاعِزًا".
بریدہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ماعز کا منہ سونگھا (اس خیال سے کہ کہیں اس نے شراب نہ پی ہو)۔ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4433]
جناب سلیمان بن بریدہ اپنے والد رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ماعز بن مالک رضی اللہ عنہ کا منہ سونگھا تھا (کہ کہیں شراب نہ پی رکھی ہو)۔“ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4433]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الحدود 5 (1695)، (تحفة الأشراف: 1934)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/347، 348)، سنن الدارمی/الحدود 14 (2366) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (1695)
حدیث نمبر: 4434
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاق الْأَهْوَازِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ ، حَدَّثَنَا بُشَيْرُ بْنُ الْمُهَاجِرِ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: كُنَّا أَصْحَابَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَتَحَدَّثُ:" أَنَّ الْغَامِدِيَّةَ، وَمَاعِزَ بْنَ مَالِكٍ لَوْ رَجَعَا بَعْدَ اعْتِرَافِهِمَا، أَوْ قَالَ: لَوْ لَمْ يَرْجِعَا بَعْدَ اعْتِرَافِهِمَا لَمْ يَطْلُبْهُمَا، وَإِنَّمَا رَجَمَهُمَا عِنْدَ الرَّابِعَةِ" .
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کا ذکر کیا کرتے تھے کہ غامدیہ ۱؎ اور ماعز بن مالک رضی اللہ عنہما دونوں اگر اقرار سے پھر جاتے، یا اقرار کے بعد پھر اقرار نہ کرتے تو آپ ان دونوں کو سزا نہ دیتے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کو اس وقت رجم کیا جب وہ چار چار بار اقرار کر چکے تھے (اور ان کے اقرار میں کسی طرح کا کوئی شک باقی نہیں رہ گیا تھا)۔ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4434]
جناب عبداللہ بن بریدہ اپنے والد (رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کہا کرتے تھے: ”کاش غامدی عورت اور ماعز بن مالک اعتراف کے بعد ہی رجوع کر لیتے“ یا یوں کہا: ”اگر وہ دونوں اعتراف کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں نہ آتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کو طلب نہ کرتے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو چوتھے اعتراف پر رجم کیا تھا۔“ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4434]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 1948) (ضعیف)»
وضاحت: ۱؎: قبیلہ غامد کی ایک عورت جسے زنا کی وجہ سے رجم کیا گیا تھا۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
بشير بن المھاجر حسن الحديث
بشير بن المھاجر حسن الحديث
حدیث نمبر: 4435
حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، وَمُحَمَّدُ بْنُ دَاوُدَ بْنِ صَبِيحٍ، قَالَ عَبْدَةُ: أَخْبَرَنَا حَرَمِيُّ بْنُ حَفْصٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُلَاثَةَ،حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، أَنَّ خَالِدَ بْنَ اللَّجْلَاجِ حَدَّثَهُ، أَنَّ اللَّجْلَاجَ أَبَاهُ أَخْبَرَهُ،" أَنَّهُ كَانَ قَاعِدًا يَعْتَمِلُ فِي السُّوقِ فَمَرَّتِ امْرَأَةٌ تَحْمِلُ صَبِيًّا فَثَارَ النَّاسُ مَعَهَا وَثُرْتُ فِيمَنْ ثَارَ، فَانْتَهَيْتُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُوَ يَقُولُ: مَنْ أَبُو هَذَا مَعَكِ؟ فَسَكَتَتْ، فَقَالَ شَابٌّ حَذْوَهَا: أَنَا أَبُوهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَأَقْبَلَ عَلَيْهَا، فَقَالَ: مَنْ أَبُو هَذَا مَعَكِ؟ قَالَ الْفَتَى: أَنَا أَبُوهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَنَظَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى بَعْضِ مَنْ حَوْلَهُ يَسْأَلُهُمْ عَنْهُ، فَقَالُوا: مَا عَلِمْنَا إِلَّا خَيْرًا، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَحْصَنْتَ؟ قَالَ: نَعَمْ، فَأَمَرَ بِهِ فَرُجِمَ، قَالَ: فَخَرَجْنَا بِهِ فَحَفَرْنَا لَهُ حَتَّى أَمْكَنَّا ثُمَّ رَمَيْنَاهُ بِالْحِجَارَةِ حَتَّى هَدَأَ، فَجَاءَ رَجُلٌ يَسْأَلُ عَنِ الْمَرْجُومِ فَانْطَلَقْنَا بِهِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْنَا: هَذَا جَاءَ يَسْأَلُ عَنِ الْخَبِيثِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَهُوَ أَطْيَبُ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ، فَإِذَا هُوَ أَبُوهُ فَأَعَنَّاهُ عَلَى غُسْلِهِ وَتَكْفِينِهِ وَدَفْنِهِ، وَمَا أَدْرِي؟ قَالَ: وَالصَّلَاةِ عَلَيْهِ أَمْ لَا؟"، وَهَذَا حَدِيثُ عَبْدَةَ وَهُوَ أَتَمُّ.
خالد بن لجلاج کا بیان ہے کہ ان کے والد الجلاج نے انہیں بتایا کہ وہ بیٹھے بازار میں کام کر رہے تھے اتنے میں ایک عورت ایک لڑکے کو لیے گزری تو لوگ اس کو دیکھ کر اٹھ کھڑے ہوئے ان اٹھنے والوں میں میں بھی تھا، اور میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچا آپ اس سے پوچھ رہے تھے: ”اس بچہ کا باپ کون ہے؟“ وہ عورت چپ تھی، ایک نوجوان جو اس کے برابر میں تھا بولا: اللہ کے رسول! میں اس کا باپ ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم پھر اس عورت کی طرف متوجہ ہوئے، اور پوچھا: ”اس بچے کا باپ کون ہے؟“ تو نوجوان نے پھر کہا: اللہ کے رسول! میں اس کا باپ ہوں، یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اردگرد جو لوگ بیٹھے تھے ان میں سے کسی کی طرف دیکھا، آپ ان سے اس نوجوان کے متعلق دریافت فرما رہے تھے؟ تو لوگوں نے کہا: ہم تو اسے نیک ہی جانتے ہیں، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا: ”کیا تم شادی شدہ ہو؟“ اس نے کہا: جی ہاں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے رجم کرنے کا حکم دیا، چنانچہ وہ رجم کر دیا گیا، اس میں ہے کہ ہم اس کو لے کر نکلے اور ایک گڑھے میں اسے گاڑا پھر پتھروں سے اسے مارا یہاں تک کہ وہ ٹھنڈا ہو گیا، اتنے میں ایک شخص آیا، اور اس رجم کئے گئے شخص کے متعلق پوچھنے لگا، تو اسے لے کر ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، اور ہم نے کہا: یہ اس خبیث کے متعلق پوچھ رہا ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ اللہ کے نزدیک مشک کی بو سے بھی زیادہ پاکیزہ ہے“ پھر پتا چلا کہ وہ اس کا باپ تھا ہم نے اس کے غسل اور کفن دفن میں اس کی مدد کی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: مجھے معلوم نہیں کہ انہوں نے ”اور اس پر نماز پڑھنے میں بھی (مدد کی) کہا یا نہیں“ یہ عبدہ کی روایت ہے، اور زیادہ کامل ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4435]
سیدنا لجلاج رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ وہ بازار میں بیٹھے کام کر رہے تھے کہ ایک عورت بچے کو اٹھائے گزری، تو لوگ جوش میں اٹھ کھڑے ہوئے اور اٹھنے والوں میں میں بھی اٹھا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پہنچا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس عورت سے دریافت فرما رہے تھے: ”یہ جو (بچہ) تیرے ساتھ ہے اس کا باپ کون ہے؟“ تو وہ خاموش رہی۔ ایک جوان جو اس کے ساتھ تھا بولا: ”میں اس کا باپ ہوں، اے اللہ کے رسول!“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس عورت کی طرف متوجہ ہوئے اور پوچھا: ”یہ جو (بچہ) تیرے ساتھ ہے اس کا باپ کون ہے؟“ اس جوان نے کہا: ”میں اس کا باپ ہوں، اے اللہ کے رسول!“ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے ارد گرد کھڑے لوگوں کی طرف دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے اس جوان کے متعلق پوچھ رہے تھے، تو انہوں نے کہا: ”ہم اس کے متعلق اچھا ہی جانتے ہیں۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا: ”کیا تو شادی شدہ ہے؟“ اس نے کہا: ”ہاں،“ تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے متعلق حکم دیا تو اسے رجم کر دیا گیا۔ راوی نے کہا: ہم اسے لے کر نکلے اور اس کے لیے گڑھا کھودا اور اس کو اس میں گاڑ دیا۔ پھر پتھروں سے مارا حتیٰ کہ وہ ٹھنڈا ہو گیا۔ پھر ایک شخص آیا جو اس سنگسار شدہ کے متعلق پوچھنے لگا۔ ہم اس کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے گئے اور ہم نے عرض کیا کہ یہ آدمی آیا ہے اور اس خبیث کے متعلق پوچھتا ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ تو اللہ عزوجل کے ہاں کستوری کی خوشبو سے بڑھ کر پاکیزہ ہے۔“ تب معلوم ہوا کہ وہ آدمی اس کا والد تھا، تو ہم نے اس کی اس سنگسار شدہ کے غسل اور کفن دفن میں مدد کی۔ راوی نے کہا: مجھے یاد نہیں کہ نماز کا بھی کہا یا نہیں؟ اور یہ روایت عبدہ کی ہے اور کامل ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4435]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 11171)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/479) (حسن الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: حسن الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
حدیث نمبر: 4436
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ خَالِدٍ. ح وحَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَاصِمٍ الْأَنْطَاكِيُّ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ جَمِيعًا، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، وَقَالَ هِشَامٌ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الشُّعَيْثِيُّ، عَنْ مَسْلَمَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْجُهَنِيِّ، عَنْ خَالِدِ بْنِ اللَّجْلَاجِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِبَعْضِ هَذَا الْحَدِيثِ.
اس سند سے بھی الجلاج سے یہی روایت مرفوعاً آئی ہے اس میں اس حدیث کا کچھ حصہ ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4436]
خالد بن لجلاج نے اپنے والد رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس حدیث کا کچھ حصہ روایت کیا۔ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4436]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 11171) (حسن الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: حسن الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
انظر الحديث السابق (4435)
انظر الحديث السابق (4435)
حدیث نمبر: 4437
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا طَلْقُ بْنُ غَنَّامٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ حَفْصٍ، حَدَّثَنَا أَبُو حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَنَّ رَجُلًا أَتَاهُ فَأَقَرَّ عِنْدَهُ أَنَّهُ زَنَى بِامْرَأَةٍ سَمَّاهَا لَهُ، فَبَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْمَرْأَةِ، فَسَأَلَهَا عَنْ ذَلِكَ؟ فَأَنْكَرَتْ أَنْ تَكُونَ زَنَتْ، فَجَلَدَهُ الْحَدَّ وَتَرَكَهَا".
سہل بن سعد رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر اقرار کیا کہ اس نے ایک عورت سے جس کا اس نے آپ سے نام لیا، زنا کیا ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت کو بلوایا، اور اس کے بارے میں اس سے پوچھا تو اس نے اس بات سے انکار کیا کہ اس نے زنا کیا ہے، تو آپ نے اس مرد پر حد نافذ کی، اسے سو کوڑے لگائے اور عورت کو چھوڑ دیا۔ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4437]
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ”ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اقرار کیا کہ اس نے ایک عورت کے ساتھ بدکاری کی ہے، اس نے اس عورت کا نام بھی لیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت کو بلا بھیجا اور اس سے اس واقعہ کے متعلق دریافت کیا تو اس نے بدکاری سے انکار کیا۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آدمی کو حد کے (سو) کوڑے لگائے اور اس عورت کو چھوڑ دیا۔“ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4437]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 4705)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/339، 340)، ویأتی برقم (4466) (صحیح)»
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
حدیث نمبر: 4438
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا. ح حَدَّثَنَا ابْنُ السَّرْحِ الْمَعْنَى، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ:" أَنّ رَجُلًا زَنَى بِامْرَأَةٍ فَأَمَرَ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجُلِدَ الْحَدَّ، ثُمَّ أُخْبِرَ أَنَّهُ مُحْصَنٌ فَأَمَرَ بِهِ فَرُجِمَ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ الْبُرْسَانِيُّ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، مَوْقُوفًا عَلَى جَابِرٍ، وَرَوَاهُ أَبُو عَاصِمٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، بِنَحْوِ ابْنِ وَهْبٍ، لَمْ يَذْكُرِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِنَّ رَجُلًا زَنَى فَلَمْ يُعْلَمْ بِإِحْصَانِهِ فَجُلِدَ ثُمَّ عُلِمَ بِإِحْصَانِهِ فَرُجِمَ.
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے ایک عورت سے زنا کیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے متعلق حکم دیا تو اسے حد میں کوڑے لگائے گئے پھر آپ کو بتایا گیا کہ وہ تو شادی شدہ تھا تو آپ نے حکم دیا کہ اسے رجم کر دیا جائے چنانچہ وہ رجم کر دیا گیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اس حدیث کو محمد بن بکر برسانی نے ابن جریج سے جابر پر موقوفاً روایت کیا ہے، اور ابوعاصم نے ابن جریج سے اسی طرح روایت کیا ہے جیسے ابن وہب نے کیا ہے، اس میں انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر نہیں کیا ہے اس میں ہے کہ ایک شخص نے زنا کیا، اس کے شادی شدہ ہونے کا علم نہیں تھا، تو اسے کوڑے مارے گئے، پھر پتہ چلا کہ وہ شادی شدہ ہے تو اسے رجم کر دیا گیا۔ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4438]
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ”ایک شخص نے ایک عورت کے ساتھ بدکاری کی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے متعلق حکم دیا تو اسے حد کے کوڑے مارے گئے۔ پھر بتایا گیا کہ وہ شادی شدہ ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا تو اسے سنگسار کیا گیا۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ”اس حدیث کو محمد بن بکر برسانی نے ابن جریج سے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ پر موقوف روایت کیا ہے، اور ابوعاصم نے ابن جریج سے، ابن وہب کی مانند روایت کیا اور اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر نہیں کیا۔ کہا کہ ایک آدمی نے زنا کیا تو اس کے شادی شدہ ہونے کا معلوم نہ ہوا تو اس کو کوڑے مارے گئے۔ پھر معلوم ہوا کہ وہ شادی شدہ ہے تو رجم کیا گیا۔“ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4438]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 2832) (ضعیف)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ابن جريج وأبو الزبير عنعنا
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 157
إسناده ضعيف
ابن جريج وأبو الزبير عنعنا
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 157
حدیث نمبر: 4439
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ أَبُو يَحْيَى الْبَزَّازُ، أَخْبَرَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ:" أَنّ رَجُلًا زَنَى بِامْرَأَةٍ فَلَمْ يَعْلَمْ بِإِحْصَانِهِ فَجُلِدَ ثُمَّ عَلِمَ بِإِحْصَانِهِ فَرُجِمَ".
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے ایک عورت سے زنا کیا لیکن یہ پتہ نہیں چلا کہ وہ شادی شدہ ہے تو اسے کوڑے لگائے گئے، پھر معلوم ہوا کہ وہ شادی شدہ ہے تو اسے رجم کر دیا گیا۔ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4439]
جناب ابوزبیر نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کیا کہ ”ایک آدمی نے ایک عورت سے بدکاری کی اور معلوم نہ ہوا کہ وہ شادی شدہ ہے تو اس کو کوڑے مارے گئے۔ پھر معلوم ہوا کہ وہ شادی شدہ ہے تو اس کو رجم کیا گیا۔“ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4439]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 2832) (ضعیف)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
انظر الحديث السابق (4438)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 157
إسناده ضعيف
انظر الحديث السابق (4438)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 157
25. باب الْمَرْأَةِ الَّتِي أَمَرَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِرَجْمِهَا مِنْ جُهَيْنَةَ
باب: قبیلہ جہینہ کی ایک عورت کا ذکر جسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے رجم کرنے کا حکم دیا۔
حدیث نمبر: 4440
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَنَّ هِشَامًا الدَّسْتُوَائِيَّ، وَأَبَانَ ابْنَ يَزِيدَ، حَدَّثَاهُمُ الْمَعْنَى، عَنْ يَحْيَى، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ: أَنَّ امْرَأَةً، قَالَ فِي حَدِيثِ أَبَانَ: مِنْ جُهَيْنَةَ، أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ:" إِنَّهَا زَنَتْ وَهِيَ حُبْلَى، فَدَعَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلِيًّا لَهَا، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَحْسِنْ إِلَيْهَا فَإِذَا وَضَعَتْ فَجِئْ بِهَا، فَلَمَّا أَنْ وَضَعَتْ جَاءَ بِهَا، فَأَمَرَ بِهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَشُكَّتْ عَلَيْهَا ثِيَابُهَا، ثُمَّ أَمَرَ بِهَا فَرُجِمَتْ، ثُمَّ أَمَرَهُمْ فَصَلُّوا عَلَيْهَا، فَقَالَ عُمَرُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ تُصَلِّي عَلَيْهَا وَقَدْ زَنَتْ، قَالَ: وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَقَدْ تَابَتْ تَوْبَةً لَوْ قُسِّمَتْ بَيْنَ سَبْعِينَ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ لَوَسِعَتْهُمْ، وَهَلْ وَجَدْتَ أَفْضَلَ مِنْ أَنْ جَادَتْ بِنَفْسِهَا"، لَمْ يَقُلْ: عَنْ أَبَانَ، فَشُكَّتْ عَلَيْهَا ثِيَابُهَا.
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ قبیلہ جہینہ کی ایک عورت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی، اور اس نے عرض کیا کہ اس نے زنا کیا ہے، اور وہ حاملہ ہے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے ولی کو بلوایا، اور اس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کے ساتھ بھلائی سے پیش آنا، اور جب یہ حمل وضع کر چکے تو اسے لے کر آنا“ چنانچہ جب وہ حمل وضع کر چکی تو وہ اسے لے کر آیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا تو اس کے کپڑے باندھ دیئے گئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے رجم کرنے کا حکم دیا تو اسے رجم کر دیا گیا، پھر آپ نے لوگوں کو حکم دیا تو لوگوں نے اس کے جنازہ کی نماز پڑھی، عمر رضی اللہ عنہ کہنے لگے: اللہ کے رسول! ہم اس کی نماز جنازہ پڑھیں حالانکہ اس نے زنا کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، اس نے ایسی توبہ کی ہے کہ اگر وہ اہل مدینہ کے ستر آدمیوں میں تقسیم کر دی جائے تو انہیں کافی ہو گی، کیا تم اس سے بہتر کوئی بات پاؤ گے کہ اس نے اپنی جان قربان کر دی؟“۔ ابان کی روایت میں ”اس کے کپڑے باندھ دیئے گئے تھے“ کے الفاظ نہیں ہیں۔ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4440]
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک عورت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئی، ابان کی روایت میں ہے کہ وہ قبیلہ جہینہ سے تھی۔ اس نے کہا: ”میں نے زنا کیا ہے اور حمل سے ہوں۔“ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے ولی کو طلب کیا اور اس سے فرمایا: ”اس کے ساتھ اچھا سلوک کرنا اور جب بچے کی ولادت ہو جائے تو اس (عورت) کو لے آنا۔“ چنانچہ جب بچے کی ولادت ہو گئی تو وہ اسے لے آیا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا اور اس پر اس کے کپڑے سخت کر کے باندھ دیے گئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے متعلق حکم دیا اور اسے رجم کر دیا گیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا تو انہوں نے اس پر نماز (جنازہ) پڑھی۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! آپ اس پر نماز پڑھ رہے ہیں حالانکہ اس نے زنا کیا ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قسم اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اس نے ایسی توبہ کی ہے کہ اگر اسے اہل مدینہ کے ستر آدمیوں میں تقسیم کر دیں تو انہیں بھی کافی ہو جائے، اور کیا بھلا تم نے اس سے بڑھ کر بھی کوئی دیکھا ہے کہ اس نے اپنی جان قربان کر دی ہے؟“ ابان سے ”کپڑے سخت کر کے باندھنے“ کی بات مروی نہیں ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4440]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الحدود 5 (1696)، سنن الترمذی/الحدود 9 (1435)، سنن النسائی/الجنائز 64 (1959)، سنن ابن ماجہ/الحدود 9 (2555)، (تحفة الأشراف: 10879، 10881)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4 /420، 435، 437، 440)، دي /الحدود 18 (2370) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (1696)