🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
25. باب الْمَرْأَةِ الَّتِي أَمَرَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِرَجْمِهَا مِنْ جُهَيْنَةَ
باب: قبیلہ جہینہ کی ایک عورت کا ذکر جسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے رجم کرنے کا حکم دیا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4441
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْوَزِيرِ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، قَالَ: فَشُكَّتْ عَلَيْهَا ثِيَابُهَا يَعْنِي فَشُدَّتْ.
اوزاعی سے مروی ہے اس میں ہے «فشكت عليها ثيابها» کے معنی یہ ہیں کہ اس کے کپڑے باندھ دیئے گئے تھے (تاکہ پتھر مارنے میں وہ نہ کھلیں)۔ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4441]
جناب اوزاعی رحمہ اللہ سے مروی ہے، انہوں نے کہا: اس پر اس کے کپڑے سخت کر کے باندھے گئے۔ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4441]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 10881) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
انظر الحديث السابق (4440)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4442
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى الرَّازِيُّ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنْ بُشَيْرِ بْنِ الْمُهَاجِرِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ: أَنَّ امْرَأَةً يَعْنِي مِنْ غَامِدَ أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ:" إِنِّي قَدْ فَجَرْتُ، فَقَالَ: ارْجِعِي فَرَجَعَتْ، فَلَمَّا أَنْ كَانَ الْغَدُ أَتَتْهُ، فَقَالَتْ: لَعَلَّكَ أَنْ تَرُدَّنِي كَمَا رَدَدْتَ مَاعِزَ بْنَ مَالِكٍ فَوَاللَّهِ إِنِّي لَحُبْلَى، فَقَالَ لَهَا: ارْجِعِي فَرَجَعَتْ، فَلَمَّا كَانَ الْغَدُ أَتَتْهُ، فَقَالَ لَهَا: ارْجِعِي حَتَّى تَلِدِي فَرَجَعَتْ، فَلَمَّا وَلَدَتْ أَتَتْهُ بِالصَّبِيِّ، فَقَالَتْ: هَذَا قَدْ وَلَدْتُهُ، فَقَالَ لَهَا: ارْجِعِي فَأَرْضِعِيهِ حَتَّى تَفْطِمِيهِ فَجَاءَتْ بِهِ وَقَدْ فَطَمَتْهُ وَفِي يَدِهِ شَيْءٌ يَأْكُلُهُ، فَأَمَرَ بِالصَّبِيِّ فَدُفِعَ إِلَى رَجُلٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ، وَأَمَرَ بِهَا فَحُفِرَ لَهَا وَأَمَرَ بِهَا فَرُجِمَتْ، وَكَانَ خَالِدٌ فِيمَنْ يَرْجُمُهَا فَرَجَمَهَا بِحَجَرٍ فَوَقَعَتْ قَطْرَةٌ مِنْ دَمِهَا عَلَى وَجْنَتِهِ فَسَبَّهَا، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَهْلًا يَا خَالِدُ فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَقَدْ تَابَتْ تَوْبَةً لَوْ تَابَهَا صَاحِبُ مَكْسٍ لَغُفِرَ لَهُ، وَأَمَرَ بِهَا فَصُلِّيَ عَلَيْهَا فَدُفِنَتْ".
بریدہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ قبیلہ غامد کی ایک عورت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئی اور عرض کیا: میں نے زنا کر لیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: واپس جاؤ، چنانچہ وہ واپس چلی گئی، دوسرے دن وہ پھر آئی، اور کہنے لگی: شاید جیسے آپ نے ماعز بن مالک کو لوٹایا تھا، اسی طرح مجھے بھی لوٹا رہے ہیں، قسم اللہ کی میں تو حاملہ ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جاؤ واپس جاؤ چنانچہ وہ پھر واپس چلی گئی، پھر تیسرے دن آئی تو آپ نے اس سے فرمایا: جاؤ واپس جاؤ بچہ پیدا ہو جائے پھر آنا چنانچہ وہ چلی گئی، جب اس نے بچہ جن دیا تو بچہ کو لے کر پھر آئی، اور کہا: اسے میں جن چکی ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جاؤ واپس جاؤ اور اسے دودھ پلاؤ یہاں تک کہ اس کا دودھ چھڑا دو دودھ چھڑا کر پھر وہ لڑکے کو لے کر آئی، اور بچہ کے ہاتھ میں کوئی چیز تھی جسے وہ کھا رہا تھا، تو بچہ کے متعلق آپ نے حکم دیا کہ اسے مسلمانوں میں سے کسی شخص کو دے دیا جائے، اور اس کے متعلق حکم دیا کہ اس کے لیے گڈھا کھودا جائے، اور حکم دیا کہ اسے رجم کر دیا جائے، تو وہ رجم کر دی گئی۔ خالد رضی اللہ عنہ اسے رجم کرنے والوں میں سے تھے انہوں نے اسے ایک پتھر مارا تو اس کے خون کا ایک قطرہ ان کے رخسار پر آ کر گرا تو اسے برا بھلا کہنے لگے، ان سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خالد! قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، اس نے ایسی توبہ کی ہے کہ ٹیکس اور چنگی وصول کرنے والا بھی ایسی توبہ کرتا تو اس کی بھی بخشش ہو جاتی، پھر آپ نے حکم دیا تو اس کی نماز جنازہ پڑھی گئی اور اسے دفن کیا گیا۔ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4442]
جناب عبداللہ بن بریدہ اپنے والد سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ بنوغامد کی ایک عورت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور کہنے لگی: میں نے بدکاری کی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: واپس چلی جا۔ تو وہ لوٹ گئی۔ پھر جب اگلا دن ہوا تو وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ گئی اور بولی: شاید آپ مجھے اسی طرح لوٹا دینا چاہتے ہیں جس طرح آپ نے ماعز بن مالک کو واپس کیا تھا۔ اللہ کی قسم! میں حاملہ ہوں (یعنی زنا سے)۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: جا واپس چلی جا۔ تو وہ لوٹ گئی۔ پھر جب اگلا دن ہوا تو وہ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آ گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: واپس چلی جا حتیٰ کہ تیرے بچے کی ولادت ہو جائے۔ تو وہ واپس لوٹ گئی۔ جب بچہ پیدا ہوا تو وہ بچے کو لے کر آ گئی اور کہنے لگی: یہ رہا وہ، اس کو میں نے جنم دیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: واپس جا اور اس کو دودھ پلا حتیٰ کہ تو اس کا دودھ چھڑا دے۔ وہ پھر اسے لے کر آئی جب کہ اس نے اس کا دودھ چھڑا دیا تھا، بچے کے ہاتھ میں کوئی چیز تھی جسے وہ کھا رہا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بچے کے متعلق حکم دیا جو مسلمانوں میں سے ایک آدمی کے حوالے کر دیا گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت کے متعلق حکم دیا تو اس کے لیے گڑھا کھودا گیا اور حکم دیا تو اسے رجم کر دیا گیا۔ اور سیدنا خالد رضی اللہ عنہ ان لوگوں میں تھے جو اسے پتھر مار رہے تھے۔ انہوں نے اس کو ایک پتھر مارا تو اس سے خون کا ایک قطرہ ان کے رخسار پر جا لگا، اس کی وجہ سے انہوں نے اس کو برا بھلا کہا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: خالد! ذرا ٹھہرو (اس کو برا بھلا مت کہو) قسم اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اس نے اس قدر توبہ کی ہے کہ اگر کوئی ظالم بھتا لینے والا بھی اس قدر توبہ کرتا تو بخش دیا جاتا۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے متعلق حکم دیا، چنانچہ اس پر نمازِ جنازہ پڑھی گئی اور پھر اسے دفن بھی کیا گیا۔ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4442]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/الحدود 5 (1695)، (تحفة الأشراف: 1947)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/547، 348)، سنن الدارمی/الحدود 14 (2366) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (1695)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4443
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعُ بْنُ الْجَرَّاحِ، عَنْ زَكَرِيَّا أَبِي عِمْرَانَ، قَالَ: سَمِعْتُ شَيْخًا يُحَدِّثُ، عَنِ ابْنِ أَبِي بَكْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ،" أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجَمَ امْرَأَةً فَحُفِرَ لَهَا إِلَى الثَّنْدُوَةِ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: أَفْهَمَنِي رَجُلٌ، عَنْ عُثْمَانَ، قَالَ أَبُو دَاوُد: قَالَ الْغَسَّانِيُّ: جُهَيْنَةُ، وَغَامِدٌ، وَبَارِقٌ وَاحِدٌ.
ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک عورت کو رجم کرنا چاہا تو اس کے لیے ایک گڈھا سینے تک کھودا گیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: غسانی کا کہنا ہے کہ جہینہ، غامد اور بارق تینوں ایک ہی قبیلہ ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4443]
ابن ابی بکرہ اپنے والد رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک عورت کو رجم کیا تو اس کے لیے سینے تک گڑھا کھودا گیا۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں: مجھے یہ حدیث ایک آدمی نے سمجھائی۔ (وہ عثمان سے کماحقہ نہیں سمجھ سکے تھے)۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے (مزید) کہا کہ غسانی نے کہا: جہینہ، غامد اور بارق تینوں ایک ہی قبیلے (کے نام) ہیں۔ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4443]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 11684)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/36، 42، 43) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
فيه شيخ مجھول
والحديث السابق (الأصل : 4442) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 157

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4444
قَالَ أَبُو دَاوُد: حُدِّثْتُ عَنْ عَبْدِ الصَّمَدِ بْنِ عَبْدِ الْوَارِثِ، قَالَ: حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ سُلَيْمٍ بِإِسْنَادِهِ نَحْوَهُ، زَادَ ثُمَّ رَمَاهَا بِحَصَاةٍ مِثْلَ الْحِمِّصَةِ، ثُمَّ قَالَ: ارْمُوا وَاتَّقُوا الْوَجْهَ، فَلَمَّا طَفِئَتْ أَخْرَجَهَا فَصَلَّى عَلَيْهَا، وَقَالَ فِي التَّوْبَةِ نَحْوَ حَدِيثِ بُرَيْدَةَ.
ابوداؤد کہتے ہیں مجھ سے یہ حدیث عبدالصمد بن عبدالوارث کے واسطہ سے بیان کی گئی ہے، زکریا بن سلیم نے اسی سند سے اسی جیسی حدیث بیان کی ہے، اس میں اتنا اضافہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے چنے کے برابر ایک کنکری سے مارا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مارو لیکن چہرے کو بچا کر مارنا پھر جب وہ مر گئی تو آپ نے اسے نکالا، پھر اس پر نماز پڑھی، اور توبہ کے سلسلہ میں ویسے ہی فرمایا جیسے بریدہ کی روایت میں ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4444]
زکریا بن سلیم نے اپنی سند سے مذکورہ بالا حدیث کی مانند روایت کیا اور مزید کہا پھر (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے) اسے ایک کنکری ماری جیسے کہ چنا ہو اور فرمایا: مارو لیکن چہرہ بچاؤ۔ جب وہ ٹھنڈی ہو گئی تو اس کو گڑھے سے نکالا اور اس پر نماز (جنازہ) پڑھی اور اس کی توبہ میں اس طرح بیان کیا، جیسے کہ سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ کی حدیث (4442) میں ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4444]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 11684) (ضعیف)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
شيخ أبي داود مجھول
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 157

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4445
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَزَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، أَنَّهُمَا أَخْبَرَاهُ" أَنَّ رَجُلَيْنِ اخْتَصَمَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ أَحَدُهُمَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ اقْضِ بَيْنَنَا بِكِتَابِ اللَّهِ، وَقَالَ الْآخَرُ وَكَانَ أَفْقَهَهُمَا: أَجَلْ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَاقْضِ بَيْنَنَا بِكِتَابِ اللَّهِ وَائْذَنْ لِي أَنْ أَتَكَلَّمَ، قَالَ: تَكَلَّمْ، قَالَ: إِنَّ ابْنِي كَانَ عَسِيفًا عَلَى هَذَا وَالْعَسِيفُ الْأَجِيرُ فَزَنَى بِامْرَأَتِهِ، فَأَخْبَرُونِي أَنَّ عَلَى ابْنِي الرَّجْمَ فَافْتَدَيْتُ مِنْهُ بِمِائَةِ شَاةٍ وَبِجَارِيَةٍ لِي، ثُمَّ إِنِّي سَأَلْتُ أَهْلَ الْعِلْمِ فَأَخْبَرُونِي أَنَّ عَلَى ابْنِي جَلْدُ مِائَةٍ وَتَغْرِيبُ عَامٍ وَإِنَّمَا الرَّجْمُ عَلَى امْرَأَتِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَمَا وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَأَقْضِيَنَّ بَيْنَكُمَا بِكِتَابِ اللَّهِ، أَمَّا غَنَمُكَ وَجَارِيَتُكَ فَرَدٌّ إِلَيْكَ وَجَلَدَ ابْنَهُ مِائَةً وَغَرَّبَهُ عَامًا، وَأَمَرَ أُنَيْسًا الْأَسْلَمِيَّ أَنْ يَأْتِيَ امْرَأَةَ الْآخَرِ فَإِنِ اعْتَرَفَتْ رَجَمَهَا، فَاعْتَرَفَتْ فَرَجَمَهَا".
ابوہریرہ اور زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ دو آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جھگڑا لے گئے، ان میں سے ایک نے کہا: اللہ کے رسول! ہمارے مابین اللہ کی کتاب کی روشنی میں فیصلہ فرما دیجئیے، اور دوسرے نے جو ان دونوں میں زیادہ سمجھ دار تھا کہا: ہاں، اللہ کے رسول! ہمارے درمیان اللہ کی کتاب سے فیصلہ فرمائیے، لیکن پہلے مجھے کچھ کہنے کی اجازت دیجئیے، آپ نے فرمایا: اچھا کہو اس نے کہنا شروع کیا: میرا بیٹا اس کے یہاں «عسیف» یعنی مزدور تھا، اس نے اس کی بیوی سے زنا کر لیا تو ان لوگوں نے مجھے بتایا کہ میرے بیٹے پر رجم ہے، تو میں نے اسے اپنی سو بکریاں اور ایک لونڈی فدیئے میں دے دی، پھر میں نے اہل علم سے مسئلہ پوچھا، تو ان لوگوں نے مجھے بتایا کہ میرے بیٹے پر سو کوڑے اور ایک سال کی جلا وطنی ہے، اور رجم اس کی بیوی پر ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سنو! قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، میں ضرور بالضرور تم دونوں کے درمیان اللہ کی کتاب سے فیصلہ کروں گا، رہی تمہاری بکریاں اور تمہاری لونڈی تو یہ تمہیں واپس ملیں گی اور اس کے بیٹے کو آپ نے سو کوڑے لگوائے، اور اسے ایک سال کے لیے جلا وطن کر دیا، اور انیس اسلمی کو حکم دیا کہ وہ اس دوسرے شخص کی بیوی کے پاس جائیں، اور اس سے پوچھیں اگر وہ اقرار کرے تو اسے رجم کر دیں، چنانچہ اس نے اقرار کر لیا، تو انہوں نے اسے رجم کر دیا۔ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4445]
سیدنا ابوہریرہ اور زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ دو آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اپنا جھگڑا لے کر آئے۔ ایک نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم میں اللہ کی کتاب کے مطابق فیصلہ کر دیں۔ اور دوسرے نے کہا، اور وہ اس سے بڑھ کر سمجھدار تھا: ہاں اے اللہ کے رسول! ہم میں اللہ کی کتاب کے مطابق فیصلہ فرما دیں اور مجھے اجازت دیں کہ بات کروں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کہو۔ اس نے کہا: میرا بیٹا اس شخص کے ہاں نوکر تھا، «عَسِيف» کے معنی ہیں نوکر، مزدور، تو اس نے اس کی بیوی کے ساتھ زنا کیا۔ لوگوں نے مجھے بتایا کہ میرے بیٹے پر رجم ہے، میں نے اس کی طرف سے سو بکریاں اور اپنی ایک لونڈی فدیہ دی ہے۔ پھر میں نے اہل علم سے معلوم کیا تو انہوں نے مجھے بتایا کہ میرے بیٹے پر سو کوڑے اور ایک سال کے لیے شہر بدری ہے اور سنگساری اس کی بیوی پر ہے۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قسم اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! میں تم میں اللہ تعالیٰ کی کتاب کے مطابق فیصلہ کروں گا۔ تیری بکریاں اور تیری لونڈی تجھے واپس ہوں گی۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے لڑکے کو سو کوڑے لگائے اور ایک سال کے لیے شہر بدر کر دیا اور انیس اسلمی رضی اللہ عنہ کو فرمایا کہ دوسرے کی بیوی کے پاس جائے، اگر وہ اعتراف کر لے تو اس کو سنگسار کر دے، چنانچہ اس نے اعتراف کر لیا تو انہوں نے اس کو سنگسار کر دیا۔ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4445]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الوکالة 13 (2314)، الصلح 5 (2655)، الشروط 9 (2724)، الأیمان 3 (6633)، الحدود 30 (6827)، 34 (6835)، 38 (6859)، 46 (6860)، الأحکام 43 (7193)، الأحاد 1 (7258)، صحیح مسلم/الحدود 5 (1697)، سنن الترمذی/الحدود 8 (1433)، سنن النسائی/آداب القضاة 21 (5412)، سنن ابن ماجہ/الحدود 7 (2549)، (تحفة الأشراف: 3755)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الحدود 1 (6)، مسند احمد (4/115، 116)، سنن الدارمی/الحدود 12 (2363) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (6633، 6634) صحيح مسلم (1698)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
26. باب فِي رَجْمِ الْيَهُودِيَّيْنِ
باب: دو یہودیوں کے رجم کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4446
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مِالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ قَالَ:" إِنَّ الْيَهُودَ جَاءُوا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرُوا لَهُ أَنَّ رَجُلًا مِنْهُمْ وَامْرَأَةً زَنَيَا، فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا تَجِدُونَ فِي التَّوْرَاةِ فِي شَأْنِ الزِّنَا؟ فَقَالُوا: نَفْضَحُهُمْ وَيُجْلَدُونَ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَامٍ: كَذَبْتُمْ إِنَّ فِيهَا الرَّجْمَ، فَأَتَوْا بِالتَّوْرَاةِ فَنَشَرُوهَا فَجَعَلَ أَحَدُهُمْ يَدَهُ عَلَى آيَةِ الرَّجْمِ، ثُمَّ جَعَلَ يَقْرَأُ مَا قَبْلَهَا وَمَا بَعْدَهَا، فَقَالَ لَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَامٍ: ارْفَعْ يَدَيْكَ، فَرَفَعَهَا فَإِذَا فِيهَا آيَةُ الرَّجْمِ، فَقَالُوا: صَدَقَ يَا مُحَمَّدُ فِيهَا آيَةُ الرَّجْمِ، فَأَمَرَ بِهِمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرُجِمَا، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ: فَرَأَيْتُ الرَّجُلَ يَحْنِي عَلَى الْمَرْأَةِ يَقِيهَا الْحِجَارَةَ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ یہود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے اور آپ سے ذکر کیا کہ ان میں سے ایک مرد اور ایک عورت نے زنا کر لیا ہے، تو ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: تم تورات میں زنا کے معاملہ میں کیا حکم پاتے ہو؟ تو ان لوگوں نے کہا: ہم انہیں رسوا کرتے اور کوڑے لگاتے ہیں، تو عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے کہا: تم لوگ جھوٹ کہتے ہو، اس میں تو رجم کا حکم ہے، چنانچہ وہ لوگ تورات لے کر آئے، اور اسے کھولا تو ان میں سے ایک نے آیت رجم پر اپنا ہاتھ رکھ لیا، پھر وہ اس کے پہلے اور بعد کی آیتیں پڑھنے لگا، تو عبداللہ بن سلام نے اس سے کہا: اپنا ہاتھ اٹھاؤ، اس نے اٹھایا تو وہیں آیت رجم ملی، تو وہ کہنے لگے: صحیح ہے اے محمد! اس میں رجم کی آیت موجود ہے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کے رجم کا حکم دے دیا، چنانچہ وہ دونوں رجم کر دیے گئے۔ عبداللہ بن عمر کہتے ہیں: میں نے اس شخص کو دیکھا کہ وہ عورت کو پتھر سے بچانے کے لیے اس پر جھک جھک جایا کرتا تھا۔ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4446]
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ کچھ یہودی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا کہ ہمارے ایک مرد اور عورت نے بدکاری کی ہے۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا: تم لوگ زنا کے سلسلے میں تورات میں کیا پاتے ہو؟ انہوں نے کہا: ہم انہیں بے عزت کرتے ہیں اور انہیں کوڑے مارے جاتے ہیں۔ تو سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے کہا: تم جھوٹ کہتے ہو۔ بلاشبہ اس میں رجم کا حکم ہے۔ چنانچہ وہ تورات لے آئے اور اسے کھولا تو ان میں سے ایک نے اپنا ہاتھ رجم والی آیت پر رکھ لیا، پھر اس کے آگے پیچھے سے پڑھنے لگا۔ تو سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا: اپنا ہاتھ اٹھا۔ اس نے ہاتھ اٹھایا تو اس میں رجم والی آیت موجود تھی۔ تو وہ بولے: سچ ہے اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! اس میں رجم کی آیت موجود ہے۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے متعلق حکم دیا اور انہیں سنگسار کر دیا گیا۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: میں نے اس مرد کو دیکھا کہ وہ اس عورت کو پتھروں سے بچانے کے لیے اس پر جھکتا تھا۔ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4446]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الجنائز 60 (1329)، المناقب 26 (3635)، الحدود 24 (648)، صحیح مسلم/الحدود 6 (1699)، سنن الترمذی/الحدود 10 (1436)، سنن ابن ماجہ/الحدود 10 (2556)، (تحفة الأشراف: 8014، 8324)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/7/ 63، 76)، موطا امام مالک/الحدود 1(1)، سنن الدارمی/الحدود 15 (2367) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (6841) صحيح مسلم (1699)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4447
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، قَالَ:" مَرُّوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَهُودِيٍّ قَدْ حُمِّمَ وَجْهُهُ وَهُوَ يُطَافُ بِهِ، فَنَاشَدَهُمْ: مَا حَدُّ الزَّانِي فِي كِتَابِهِمْ؟ قَالَ: فَأَحَالُوهُ عَلَى رَجُلٍ مِنْهُمْ، فَنَشَدَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا حَدُّ الزَّانِي فِي كِتَابِكُمْ؟ فَقَالَ: الرَّجْمُ، وَلَكِنْ ظَهَرَ الزِّنَا فِي أَشْرَافِنَا، فَكَرِهْنَا أَنْ يُتْرَكَ الشَّرِيفُ وَيُقَامُ عَلَى مَنْ دُونَهُ، فَوَضَعْنَا هَذَا عَنَّا، فَأَمَرَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرُجِمَ، ثُمَّ قَالَ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَوَّلُ مَنْ أَحْيَا مَا أَمَاتُوا مِنْ كِتَابِكَ".
براء بن عازب رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے لوگ ایک یہودی کو لے کر گزرے جس کو ہاتھ منہ کالا کر کے گھمایا جا رہا تھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے اللہ کا واسطہ دے کر پوچھا کہ ان کی کتاب میں زانی کی حد کیا ہے؟ ان لوگوں نے آپ کو اپنے میں سے ایک شخص کی طرف اشارہ کر کے پوچھنے کے لیے کہا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے اللہ کا واسطہ دے کر پوچھا کہ تمہاری کتاب میں زانی کی حد کیا ہے؟ تو اس نے کہا: رجم ہے، لیکن زنا کا جرم ہمارے معزز لوگوں میں عام ہو گیا، تو ہم نے یہ پسند نہیں کیا کہ معزز اور شریف آدمی کو چھوڑ دیا جائے اور جو ایسے نہ ہوں ان پر حد جاری کی جائے، تو ہم نے اس حکم ہی کو اپنے اوپر سے اٹھا لیا، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے رجم کا حکم دیا تو وہ رجم کر دیا گیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ! میں وہ پہلا شخص ہوں جس نے تیری کتاب میں سے اس حکم کو زندہ کیا ہے جس پر لوگوں نے عمل چھوڑ دیا تھا۔ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4447]
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے ایک یہودی کو لے کر گزرے، اس کا چہرہ کالا کیا ہوا تھا اور وہ اسے گھما پھرا رہے تھے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں قسم دے کر ان سے پوچھا: تمہاری کتاب میں زانی کی حد کیا ہے؟ انہوں نے یہ بات اپنے ایک آدمی کی طرف تحویل کر دی۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو قسم دے کر پوچھا: تمہاری کتاب میں زانی کی حد کیا ہے؟ اس نے کہا: سنگسار کرنا، لیکن جب ہمارے شرفاء میں زنا کاری عام ہو گئی، تو ہم نے نامناسب جانا کہ شریف (صاحب حیثیت) کو چھوڑ دیا جائے اور گھٹیا (غریب) پر حد قائم کی جائے، سو ہم نے اس کو ترک کر دیا۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے متعلق حکم دیا اور اسے رجم کر دیا گیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَوَّلُ مَنْ أَحْيَا أَمْرَكَ إِذْ أَمَاتُوهُ» اے اللہ! میں وہ پہلا شخص ہوں جو تیری کتاب کے اس حکم کو زندہ کر رہا ہوں جسے انہوں نے مردہ کر چھوڑا تھا۔ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4447]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/الحدود 6 (1700)، سنن ابن ماجہ/الأحکام 10 (2327)، الحدود 10 (2558)، (تحفة الأشراف: 1771)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/286، 290، 300) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (1700)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4448
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، قَالَ:" مُرَّ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَهُودِيٍّ مُحَمَّمٍ مَجْلُودٍ، فَدَعَاهُمْ، فَقَالَ: هَكَذَا تَجِدُونَ حَدَّ الزَّانِي، فَقَالُوا: نَعَمْ، فَدَعَا رَجُلًا مِنْ عُلَمَائِهِمْ، قَالَ لَهُ: نَشَدْتُكَ بِاللَّهِ الَّذِي أَنْزَلَ التَّوْرَاةَ عَلَى مُوسَى أَهَكَذَا تَجِدُونَ حَدَّ الزَّانِي فِي كِتَابِكُمْ؟ فَقَالَ: اللَّهُمَّ لَا وَلَوْلَا أَنَّكَ نَشَدْتَنِي بِهَذَا لَمْ أُخْبِرْكَ، نَجِدُ حَدَّ الزَّانِي فِي كِتَابِنَا الرَّجْمَ، وَلَكِنَّهُ كَثُرَ فِي أَشْرَافِنَا فَكُنَّا إِذَا أَخَذْنَا الرَّجُلَ الشَّرِيفَ تَرَكْنَاهُ، وَإِذَا أَخَذْنَا الرَّجُلَ الضَّعِيفَ أَقَمْنَا عَلَيْهِ الْحَدَّ، فَقُلْنَا: تَعَالَوْا فَنَجْتَمِعُ عَلَى شَيْءٍ نُقِيمُهُ عَلَى الشَّرِيفِ وَالْوَضِيعِ، فَاجْتَمَعْنَا عَلَى التَّحْمِيمِ وَالْجَلْدِ وَتَرَكْنَا الرَّجْمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَوَّلُ مَنْ أَحْيَا أَمْرَكَ إِذْ أَمَاتُوهُ، فَأَمَرَ بِهِ فَرُجِمَ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: يَأَ أيُّهَا الرَّسُولُ لا يَحْزُنْكَ الَّذِينَ يُسَارِعُونَ فِي الْكُفْرِ إِلَى قَوْلِهِ يَقُولُونَ إِنْ أُوتِيتُمْ هَذَا فَخُذُوهُ وَإِنْ لَمْ تُؤْتَوْهُ فَاحْذَرُوا سورة المائدة آية 41 إِلَى قَوْلِهِ وَمَنْ لَمْ يَحْكُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ فَأُولَئِكَ هُمُ الْكَافِرُونَ فِي الْيَهُودِ إِلَى قَوْلِهِ وَمَنْ لَمْ يَحْكُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ فَأُولَئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ سورة المائدة آية 44 ـ 45 فِي الْيَهُودِ، إِلَى قَوْلِهِ وَمَنْ لَمْ يَحْكُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ فَأُولَئِكَ هُمُ الْفَاسِقُونَ سورة المائدة آية 47"، قَالَ: هِيَ فِي الْكُفَّارِ كُلُّهَا يَعْنِي هَذِهِ الْآيَةَ.
براء بن عازب رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سے ایک یہودی گزارا گیا جس کے منہ پر سیاہی ملی گئی تھی، اسے کوڑے مارے گئے تھے تو آپ نے انہیں بلایا اور پوچھا: کیا تورات میں تم زانی کی یہی حد پاتے ہو؟ لوگوں نے کہا: جی ہاں، پھر آپ نے ان کے علماء میں سے ایک شخص کو بلایا اور اس سے فرمایا: ہم تم سے اس اللہ کا جس نے تورات نازل کی ہے واسطہ دے کر پوچھتے ہیں، بتاؤ کیا تم اپنی کتاب میں زانی کی یہی حد پاتے ہو؟ اس نے اللہ کا نام لے کر کہا: نہیں، اور اگر آپ مجھے اتنی بڑی قسم نہ دیتے تو میں آپ کو ہرگز نہ بتاتا، ہماری کتاب میں زانی کی حد رجم ہے، لیکن جب ہمارے معزز اور شریف لوگوں میں اس کا کثرت سے رواج ہو گیا تو جب ہم کسی معزز شخص کو اس جرم میں پکڑتے تھے تو اسے چھوڑ دیتے تھے اور اگر کسی کمزور کو پکڑتے تو اس پر حد قائم کرتے تھے، پھر ہم نے کہا: آؤ ہم تم اس بات پر متفق ہو جائیں کہ اسے شریف اور کم حیثیت دونوں پر جاری کریں گے، تو ہم نے منہ کالا کرنے اور کوڑے لگانے پر اتفاق کر لیا، اور رجم کو چھوڑ دیا، یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ! میں پہلا وہ شخص ہوں جس نے تیرے حکم کو زندہ کیا ہے، جبکہ ان لوگوں نے اسے ختم کر دیا تھا پھر آپ نے اسے رجم کا حکم دیا، چنانچہ وہ رجم کر دیا گیا، اس پر اللہ نے یہ آیت «يا أيها الرسول لا يحزنك الذين يسارعون في الكفر» سے «يقولون إن أوتيتم هذا فخذوه وإن لم تؤتوه فاحذروا» اے رسول! آپ ان لوگوں کے پیچھے نہ کڑھئیے جو کفر میں سبقت کر رہے ہیں، خواہ وہ ان (منافقوں) میں سے ہوں جو زبانی تو ایمان کا دعویٰ کرتے ہیں، لیکن حقیقتاً ان کے دل میں ایمان نہیں، اور یہودیوں میں سے کچھ لوگ ایسے ہیں جو غلط باتیں سننے کے عادی ہیں، اور ان لوگوں کے جاسوس ہیں جو اب تک آپ کے پاس نہیں آئے، وہ کلمات کے اصلی موقع کو چھوڑ کر انہیں متغیر کر دیا کرتے ہیں، کہتے ہیں کہ اگر تم یہی حکم دیئے جاؤ تو قبول کرنا، اور یہ حکم دیئے جاؤ تو الگ تھلگ رہنا (سورۃ المائدہ: ۴۱) تک، اور «ومن لم يحكم بما أنزل الله فأولئك هم الظالمون» ہم نے تورات نازل فرمائی جس میں ہدایت و نور ہے، یہودیوں میں اس تورات کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے ماننے والے انبیاء (علیہم السلام) اور اہل اللہ، اور علماء فیصلہ کرتے تھے کیونکہ انہیں اللہ کی اس کتاب کی حفاظت کا حکم دیا گیا تھا۔ اور اس پر اقراری گواہ تھے اب چاہیئے کہ لوگوں سے نہ ڈرو، اور صرف میرا ڈر رکھو، میری آیتوں کو تھوڑے تھوڑے مول پر نہ بیچو، جو لوگ اللہ کی اتاری ہوئی وحی کے ساتھ فیصلے نہ کریں وہ (پورے اور پختہ) کافر ہیں (سورۃ المائدہ: ۴۴) تک، اور «ومن لم يحكم بما أنزل الله فأولئك هم الظالمون» اور ہم نے یہودیوں کے ذمہ تورات میں یہ بات مقرر کر دی تھی کہ جان کے بدلے جان، اور آنکھ کے بدلے آنکھ، اور ناک کے بدلے ناک، اور کان کے بدلے کان، اور دانت کے بدلے دانت، اور خاص زخموں کا بھی بدلہ ہے، پھر جو شخص اس کو معاف کر دے تو وہ اس کے لیے کفارہ ہے، اور جو اللہ کے نازل کئے ہوئے مطابق حکم نہ کریں، وہی لوگ ظالم ہیں (سورۃ المائدہ: ۴۵) تک یہود کے متعلق اتاری، نیز «ومن لم يحكم بما أنزل الله فأولئك هم الفاسقون» اور انجیل والوں کو بھی چاہیئے کہ اللہ تعالیٰ نے جو کچھ انجیل میں نازل فرمایا ہے اسی کے مطابق حکم کریں، اور جو اللہ تعالیٰ کے نازل کردہ سے ہی حکم نہ کریں وہ (بدکار) فاسق ہیں (سورۃ المائدہ: ۴۷) تک اتاری۔ یہ ساری آیتیں کافروں کے متعلق نازل ہوئی ہیں۔ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4448]
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے ایک ایسے یہودی کا گزر ہوا جس کا منہ کالا کیا ہوا تھا اور اس کو مارا بھی جا رہا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کو بلایا اور پوچھا: کیا تم زانی کی حد ایسے ہی پاتے ہو؟ انہوں نے کہا: ہاں۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ایک عالم کو بلایا اور اس سے فرمایا: میں تجھے اس اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں جس نے سیدنا موسیٰ علیہ السلام پر تورات نازل کی! کیا تم اپنی کتاب میں زانی کی حد ایسے ہی پاتے ہو؟ اس نے کہا: یا اللہ! نہیں۔ اگر آپ نے مجھے یہ قسم نہ دی ہوتی تو میں آپ کو نہ بتاتا۔ ہم اپنی کتاب میں زانی کی حد «الرَّجْمُ» رجم ہی پاتے ہیں، لیکن ہمارے شرفاء میں یہ زنا بہت بڑھ گیا تو ہم جب کسی شریف (بااثر شخص) کو پکڑتے تو اسے چھوڑ دیتے تھے اور اگر کسی کمزور کو پکڑتے تو اس پر حد قائم کر دیتے تھے۔ پھر ہم نے کہا: آؤ کسی ایسی بات پر متفق ہو جائیں جو ہم شریف اور کمزور سب پر نافذ کر سکیں۔ چنانچہ ہم منہ کالا کرنے اور دھول دھپے پر متفق ہو گئے اور رجم کرنا چھوڑ دیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ! میں وہ پہلا آدمی ہوں جو تیرے حکم کو زندہ کر رہا ہوں جبکہ انہوں نے اس کو مردہ کر چھوڑا تھا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس زانی کے متعلق حکم دیا تو اسے رجم کر دیا گیا۔ پس اللہ تعالیٰ نے سورہ المائدہ کی یہ آیات نازل فرمائیں: ﴿يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ لَا يَحْزُنكَ الَّذِينَ يُسَارِعُونَ فِي الْكُفْرِ﴾ [سورة المائدة: 41] اے رسول! جو لوگ کفر میں جلدی کرتے ہیں آپ ان کے بارے میں غم نہ کریں۔۔۔ ﴿إِنْ أُوتِيتُمْ هَٰذَا فَخُذُوهُ وَإِن لَّمْ تُؤْتَوْهُ فَاحْذَرُوا﴾ [سورة المائدة: 41] وہ کہتے ہیں کہ اگر تم کو یہ حکم ملے (کوڑے مارنے کا) تو قبول کر لینا۔ اگر یہ نہ ملے تو اس سے دور رہنا۔۔۔ ﴿وَمَن لَّمْ يَحْكُم بِمَا أَنزَلَ اللَّهُ فَأُولَٰئِكَ هُمُ الْكَافِرُونَ﴾ [سورة المائدة: 44] اور جو اللہ کے نازل کردہ کے مطابق فیصلہ نہ کریں تو وہ کافر ہیں۔ یہ یہودیوں کے بارے میں ہے۔۔۔ ﴿وَمَن لَّمْ يَحْكُم بِمَا أَنزَلَ اللَّهُ فَأُولَٰئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ﴾ [سورة المائدة: 45] اور جو اللہ کے نازل کردہ کے مطابق فیصلہ نہ کریں تو وہ ظالم ہیں۔ یہ یہودیوں کے بارے میں ہے۔۔۔ ﴿وَمَن لَّمْ يَحْكُم بِمَا أَنزَلَ اللَّهُ فَأُولَٰئِكَ هُمُ الْفَاسِقُونَ﴾ [سورة المائدة: 47] اور جو اللہ کے نازل کردہ کے مطابق فیصلہ نہ کریں تو وہ فاسق ہیں۔ یہ سب آیات کفار کے متعلق ہیں۔ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4448]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 1771) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (1700)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4449
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الْهَمْدَانِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، أَنَّ زَيْدَ بْنَ أَسْلَمَ حَدَّثَهُ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: أَتَى نَفَرٌ مِنْ يَهُودَ فَدَعَوْا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْقُفِّ فَأَتَاهُمْ فِي بَيْتِ الْمِدْرَاسِ، فَقَالُوا:" يَا أَبَا الْقَاسِمِ إِنَّ رَجُلًا مِنَّا زَنَى بِامْرَأَةٍ، فَاحْكُمْ بَيْنَهُمْ، فَوَضَعُوا لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وِسَادَةً فَجَلَسَ عَلَيْهَا، ثُمَّ قَالَ: ائْتُونيِ بِالتَّوْرَاةِ فَأُتِيَ بِهَا، فَنَزَعَ الْوِسَادَةَ مِنْ تَحْتِهِ فَوَضَعَ التَّوْرَاةَ عَلَيْهَا، ثُمَّ قَالَ: آمَنْتُ بِكِ وَبِمَنْ أَنْزَلَكِ، ثُمَّ قَالَ: ائْتُونِي بِأَعْلَمِكُمْ، فَأُتِيَ بِفَتًى شَابٍّ"، ثُمَّ ذَكَرَ قِصَّةَ الرَّجْمِ، نَحْوَ حَدِيثِ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ یہود کے کچھ لوگ آئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بلا کر قف ۱؎ لے گئے آپ ان کے پاس بیت المدارس (مدرسہ) میں آئے تو وہ کہنے لگے: ابوالقاسم! ہم میں سے ایک شخص نے ایک عورت سے زنا کر لیا ہے، آپ ان کا فیصلہ کر دیجئیے، ان لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ایک گاؤ تکیہ لگایا، آپ اس پر ٹیک لگا کر بیٹھے، پھر آپ نے فرمایا: میرے پاس تورات لاؤ چنانچہ وہ لائی گئی، آپ نے اپنے نیچے سے گاؤ تکیہ نکالا، اور تورات کو اس پر رکھا اور فرمایا: میں تجھ پر ایمان لایا اور اس نبی پر جس پر اللہ نے تجھے نازل کیا ہے پھر آپ نے فرمایا: جو تم میں سب سے بڑا عالم ہو اسے بلاؤ چنانچہ ایک نوجوان کو بلا کر لایا گیا آگے واقعہ رجم کا اسی طرح ذکر ہے جیسے مالک کی روایت میں ہے جسے انہوں نے نافع سے روایت کیا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4449]
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ یہودیوں کی ایک جماعت آئی اور وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو وادی قف میں بلا لے گئے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس ایک گھر میں گئے جو ان کا مدرسہ تھا۔ انہوں نے کہا: اے ابوالقاسم! ہم میں سے ایک آدمی نے ایک عورت سے زنا کیا ہے، سو آپ ان میں فیصلہ کر دیں۔ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ایک تکیہ رکھ دیا، آپ اس پر تشریف فرما ہوئے۔ پھر فرمایا: تورات لے آؤ۔ تو اسے لے آیا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تکیہ اپنے نیچے سے نکالا اور تورات کو اس پر رکھا۔ پھر فرمایا: «آمَنْتُ بِكِ وَبِمَنْ أَنْزَلَكِ» میں تجھ پر ایمان لایا ہوں اور اس ذات پر بھی جس نے تجھے اتارا ہے۔ پھر فرمایا: اپنا بڑا عالم لے آؤ۔ تو ایک نوجوان کو لے آیا گیا۔ پھر رجم کا قصہ بیان کیا، جیسے کہ مالک عن نافع کی حدیث (4446) میں بیان ہوا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4449]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 6730) (حسن)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: مدینہ میں ایک وادی کا نام ہے۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4450
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، حَدَّثَنَا رَجُلٌ مِنْ مُزَيْنَةَ. ح وحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا عَنْبَسَةُ، حَدَّثَنَا يُونُسُ، قَالَ: قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ سَمِعْتُ رَجُلًا مِنْ مُزَيْنَةَ مِمَّنْ يَتَّبِعُ الْعِلْمَ وَيَعِيهِ ثُمَّ اتَّفَقَا، وَنَحْنُ عِنْدَ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، فَحَدَّثَنَا عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَهَذَا حَدِيثُ مَعْمَرٍ، وَهُوَ أَتَمُّ، قَالَ:" زَنَى رَجُلٌ مِنَ الْيَهُودِ، وَامْرَأَةٌ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ: اذْهَبُوا بِنَا إِلَى هَذَا النَّبِيِّ فَإِنَّهُ نَبِيٌّ بُعِثَ بِالتَّخْفِيفِ، فَإِنْ أَفْتَانَا بِفُتْيَا دُونَ الرَّجْمِ قَبِلْنَاهَا وَاحْتَجَجْنَا بِهَا عِنْدَ اللَّهِ، قُلْنَا: فُتْيَا نَبِيٍّ مِنْ أَنْبِيَائِكَ، قَالَ: فَأَتَوْا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ جَالِسٌ فِي الْمَسْجِدِ فِي أَصْحَابِهِ، فَقَالُوا: يَا أَبَا الْقَاسِمِ مَا تَرَى فِي رَجُلٍ وَامْرَأَةٍ زَنَيَا؟ فَلَمْ يُكَلِّمْهُمْ كَلِمَةً حَتَّى أَتَى بَيْتَ مِدْرَاسِهِمْ، فَقَامَ عَلَى الْبَابِ، فَقَالَ: أَنْشُدُكُمْ بِاللَّهِ الَّذِي أَنْزَلَ التَّوْرَاةَ عَلَى مُوسَى، مَا تَجِدُونَ فِي التَّوْرَاةِ عَلَى مَنْ زَنَى إِذَا أَحْصَنَ؟ قَالُوا: يُحَمَّمُ وَيُجَبَّهُ وَيُجْلَدُ وَالتَّجْبِيهُ أَنْ يُحْمَلَ الزَّانِيَانِ عَلَى حِمَارٍ وَتُقَابَلُ أَقْفِيَتُهُمَا وَيُطَافُ بِهِمَا، قَالَ: وَسَكَتَ شَابٌّ مِنْهُمْ، فَلَمَّا رَآهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَكَتَ أَلَظَّ بِهِ النِّشْدَةَ، فَقَالَ: اللَّهُمَّ إِذْ نَشَدْتَنَا فَإِنَّا نَجِدُ فِي التَّوْرَاةِ الرَّجْمَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَمَا أَوَّلُ مَا ارْتَخَصْتُمْ أَمْرَ اللَّهِ، قَالَ: زَنَى ذُو قَرَابَةٍ مِنْ مَلِكٍ مِنْ مُلُوكِنَا فَأَخَّرَ عَنْهُ الرَّجْمَ، ثُمَّ زَنَى رَجُلٌ فِي أُسْرَةٍ مِنَ النَّاسِ فَأَرَادَ رَجْمَهُ فَحَالَ قَوْمُهُ دُونَهُ، وَقَالُوا: لَا يُرْجَمُ صَاحِبُنَا حَتَّى تَجِيءَ بِصَاحِبِكَ فَتَرْجُمَهُ، فَاصْطَلَحُوا عَلَى هَذِهِ الْعُقُوبَةِ بَيْنَهُمْ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَإِنِّي أَحْكُمُ بِمَا فِي التَّوْرَاةِ، فَأَمَرَ بِهِمَا فَرُجِمَا"، قَالَ الزُّهْرِيُّ: فَبَلَغَنَا أَنَّ هَذِهِ الْآيَةَ نَزَلَتْ فِيهِمْ إِنَّا أَنْزَلْنَا التَّوْرَاةَ فِيهَا هُدًى وَنُورٌ يَحْكُمُ بِهَا النَّبِيُّونَ الَّذِينَ أَسْلَمُوا سورة المائدة آية 44، كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْهُمْ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ یہود کے ایک مرد اور ایک عورت نے زنا کیا تو ان میں سے بعض بعض سے کہنے لگے: ہم سب اس نبی کے پاس چلیں کیونکہ وہ تخفیف و آسانی کے لیے بھیجا گیا ہے، اگر اس نے رجم کے علاوہ کوئی اور فتویٰ دیا تو ہم اسے مان لیں گے، اور اسے اللہ کے سامنے دلیل بنائیں گے، ہم کہیں گے کہ یہ تیرے نبیوں میں سے ایک نبی کا فتویٰ ہے، چنانچہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، آپ مسجد نبوی میں اپنے صحابہ میں بیٹھے ہوئے تھے، اور پوچھنے لگے: آپ اس مرد اور عورت کے متعلق کیا کہتے ہیں جس نے زنا کیا ہو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں کوئی جواب نہیں دیا جب تک کہ آپ ان کے مدرسہ میں نہیں آ گئے، پھر مدرسہ کے دروازے پر کھڑے ہو کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تم سے اس اللہ کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں جس نے موسیٰ پر تورات نازل کی ہے بتاؤ تم تورات میں اس شخص کا کیا حکم پاتے ہو جو شادی شدہ ہو کر زنا کرے؟ لوگوں نے کہا: اس کا منہ کالا کیا جائے گا، اسے گدھے پر بٹھا کر پھرایا جائے گا، اور کوڑے لگائے جائیں گے ( «تَجبیہ» یہ ہے کہ مرد اور عورت کو گدھے پر اس طرح سوار کیا جائے کہ ان کی گدی ایک دوسرے کے مقابل میں ہو، اور انہیں پھرایا جائے) ان میں کا ایک نوجوان چپ رہا، تو جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو خاموش دیکھا تو اس سے سخت قسم دلا کر پوچھا، تو اس نے اللہ کا نام لے کر کہا: جب آپ نے ہمیں قسم دلائی ہے تو صحیح یہی ہے کہ تورات میں ایسے شخص کا حکم رجم ہے، یہ سن کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر کب سے تم لوگوں نے اللہ کے اس حکم کو چھوڑ رکھا ہے؟ تو اس نے بتایا: ہمارے بادشاہوں میں ایک بادشاہ کے کسی رشتہ دار نے زنا کیا تو اس نے اسے رجم نہیں کیا، پھر ایک عام شخص نے زنا کیا، تو بادشاہ نے اسے رجم کرنا چاہا تو اس کی قوم کے لوگ آڑے آ گئے، اور کہنے لگے: ہمارے آدمی کو اس وقت تک رجم نہیں کیا جا سکتا جب تک کہ آپ اپنے آدمی کو لا کر رجم نہ کر دیں، چنانچہ اس سزا پر لوگوں نے آپس میں مصالحت کر لی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تو وہی فیصلہ کروں گا جو تورات میں ہے چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کو رجم کرنے کا حکم دیا تو انہیں رجم کر دیا گیا۔ زہری کہتے ہیں: ہمیں یہ بات معلوم ہوئی ہے کہ آیت کریمہ «إنا أنزلنا التوراة فيها هدى ونور يحكم بها النبيون الذين أسلموا» ہم نے تورات نازل کیا جس میں ہدایت اور نور ہے اللہ کے ماننے والے انبیاء کرام اسی سے فیصلہ کرتے تھے (المائدہ: ۴۴) انہیں کے بارے میں اتری ہے، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بھی انہیں میں سے تھے۔ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4450]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے اور یہ معمر کی روایت ہے اور زیادہ کامل ہے، انہوں نے کہا کہ یہودیوں میں ایک مرد اور عورت نے زنا کیا تو ان میں سے بعض نے بعض سے کہا: چلو اس نبی کے پاس چلتے ہیں، بیشک یہ نبی ہے جو نرمی اور تخفیف کے ساتھ مبعوث ہوا ہے۔ اگر اس نے رجم کے علاوہ کوئی اور فتویٰ دیا تو ہم اسے قبول کر لیں گے اور اس کو اللہ کے ہاں دلیل بنا لیں گے۔ ہم کہیں گے کہ یہ تیرے ایک نبی کا فتویٰ تھا۔ چنانچہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے جبکہ آپ مسجد میں اپنے صحابہ کے ساتھ تشریف فرما تھے۔ کہنے لگے: اے ابوالقاسم! آپ کی ایسے مرد اور عورت کے بارے میں کیا رائے ہے جنہوں نے زنا کیا ہو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کوئی بات نہ کی حتیٰ کہ آپ ان کے اس گھر میں آئے جس میں ان کا مدرسہ تھا۔ آپ دروازے پر کھڑے ہوئے اور فرمایا: میں تمہیں اس اللہ کی قسم دیتا ہوں جس نے سیدنا موسیٰ علیہ السلام پر تورات نازل کی ہے، تم لوگ شادی شدہ زانی کے متعلق تورات میں کیا پاتے ہو؟ انہوں نے کہا کہ منہ کالا کیا جائے، گدھے پر الٹا کر کے بٹھایا جائے اور مارا پیٹا جائے۔ «التَّجْبِيَةُ» کے معنی یہ ہیں کہ دونوں زنا کاروں کو گدھے پر یوں بٹھایا جائے کہ اس کی پشت ایک دوسرے کی طرف ہو اور انہیں پھرایا جائے۔ اور ایک نوجوان ان میں خاموش رہا۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو خاموش دیکھا تو آپ نے اس کو بڑی سخت قسم دی۔ تو اس نے کہا: اے اللہ! جب آپ نے ہمیں قسم دے دی ہے تو (حقیقت یہ ہے کہ) ہم تورات میں رجم ہی پاتے ہیں۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس بات کی ابتدا کیسے ہوئی کہ تم لوگوں نے اللہ کے حکم میں رخصت اپنا لی؟ اس نے کہا کہ ہمارے ایک بادشاہ کے قریبی نے زنا کیا تو اس نے رجم کو اس سے ٹال دیا۔ پھر ایک دوسرے قبیلے میں کسی نے زنا کیا تو اس نے اس کو رجم کرنا چاہا۔ تو اس کی قوم اس کے آڑے آ گئی اور کہنے لگی کہ جب تک تم اپنا آدمی نہ لاؤ اور اسے رجم نہ کر دو ہمارے آدمی کو رجم نہیں کیا جائے گا۔ چنانچہ انہوں نے آپس میں اس سزا پر اتفاق کر لیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تورات کے مطابق فیصلہ کرتا ہوں، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کے متعلق حکم دیا تو انہیں رجم کر دیا گیا۔ زہری رحمہ اللہ کہتے ہیں: ہمیں یہ بات پہنچی ہے کہ ﴿إِنَّا أَنْزَلْنَا التَّوْرَاةَ فِيهَا هُدًى وَنُورٌ يَحْكُمُ بِهَا النَّبِيُّونَ الَّذِينَ أَسْلَمُوا﴾ [سورة المائدة: 44] انہیں کے سلسلے میں اتری تھی۔ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم انہی میں سے تھے۔ (جو اللہ کے حکم بردار اور ہدایت و نور کے مطابق فیصلہ کرنے والے تھے۔) [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4450]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبوداود، انظر حدیث (488) (تحفة الأشراف: 15492) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (سند میں مبہم راوی ہے)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
انظر الحديثان السابقان (488،3624)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 157

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں