🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
33. باب فِي الأَمَةِ تَزْنِي وَلَمْ تُحْصَنْ
باب: غیر شادی شدہ لونڈی زنا کرے تو اس کا کیا حکم ہے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4471
حَدَّثَنَا ابْنُ نُفَيْلٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا الْحَدِيثِ، قَالَ فِي كُلِّ مَرَّةٍ: فَلْيَضْرِبْهَا كِتَابُ اللَّهِ وَلَا يُثَرِّبْ عَلَيْهَا، وَقَالَ فِي الرَّابِعَةِ: فَإِنْ عَادَتْ فَلْيَضْرِبْهَا كِتَابُ اللَّهِ ثُمَّ لِيَبِعْهَا وَلَوْ بِحَبْلٍ مِنْ شَعْرٍ.
اس سند سے بھی ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے یہی حدیث مرفوعاً مروی ہے، اس میں ہے کہ ہر بار اسے اللہ کی کتاب کے موافق یعنی پچاس کوڑے مارے ۱؎ اور صرف ڈانٹ ڈپٹ کر نہ چھوڑ دے، یا حد لگانے کے بعد پھر نہ ڈانٹے، اور چوتھی بار میں فرمایا: اگر وہ پھر زنا کرے تو پھر اسے اللہ کی کتاب کے موافق حد لگائے، پھر چاہیئے کہ اسے بیچ دے، گو بال کی ایک رسی ہی کے بدلے کیوں نہ ہو۔ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4471]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ حدیث روایت کی، اس پر ہر بار یوں کہا: ”اسے مارے (حد لگائے)، یہ اللہ کی کتاب کا حکم ہے اور عار مت دلائے (یعنی عار دلانے پر کفایت نہ کرے)۔“ اور چوتھی بار فرمایا: ”اگر پھر بھی ایسا کرے تو اسے مارے، یہ کتاب اللہ کا حکم ہے، پھر اسے فروخت کر ڈالے خواہ بالوں کی رسی کے بدلے ہی ہو۔“ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4471]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏انظر حدیث رقم: 4469، (تحفة الأشراف: 14319) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: کیونکہ لونڈی کی حد آزاد عورت کے نصف ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (6839) صحيح مسلم (1703)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
34. باب فِي إِقَامَةِ الْحَدِّ عَلَى الْمَرِيضِ
باب: مریض پر حد نافذ کرنے کے حکم کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4472
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الْهَمْدَانِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو أُمَامَةَ بْنُ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ بَعْضُ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْأَنْصَارِ:" أَنَّهُ اشْتَكَى رَجُلٌ مِنْهُمْ حَتَّى أُضْنِيَ، فَعَادَ جِلْدَةً عَلَى عَظْمٍ فَدَخَلَتْ عَلَيْهِ جَارِيَةٌ لِبَعْضِهِمْ فَهَشَّ لَهَا فَوَقَعَ عَلَيْهَا، فَلَمَّا دَخَلَ عَلَيْهِ رِجَالُ قَوْمِهِ يَعُودُونَهُ أَخْبَرَهُمْ بِذَلِكَ، وَقَالَ: اسْتَفْتُوا لِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِنِّي قَدْ وَقَعْتُ عَلَى جَارِيَةٍ دَخَلَتْ عَلَيَّ، فَذَكَرُوا ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالُوا: مَا رَأَيْنَا بِأَحَدٍ مِنَ النَّاسِ مِنَ الضُّرِّ مِثْلَ الَّذِي هُوَ بِهِ لَوْ حَمَلْنَاهُ إِلَيْكَ لَتَفَسَّخَتْ عِظَامُهُ مَا هُوَ إِلَّا جِلْدٌ عَلَى عَظْمٍ، فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَأْخُذُوا لَهُ مِائَةَ شِمْرَاخٍ فَيَضْرِبُوهُ بِهَا ضَرْبَةً وَاحِدَةً".
ابوامامہ اسعد بن سہل بن حنیف انصاری رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کچھ انصاری صحابہ نے انہیں بتایا کہ انصاریوں میں کا ایک آدمی بیمار ہوا وہ اتنا کمزور ہو گیا کہ صرف ہڈی اور چمڑا باقی رہ گیا، اس کے پاس انہیں میں سے کسی کی ایک لونڈی آئی تو وہ اسے پسند آ گئی اور وہ اس سے جماع کر بیٹھا، پھر جب اس کی قوم کے لوگ اس کی عیادت کرنے آئے تو انہیں اس کی خبر دی، اور کہا میرے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مسئلہ پوچھو، کیونکہ میں نے ایک لونڈی سے صحبت کر لی ہے، جو میرے پاس آئی تھی، چنانچہ انہوں نے یہ واقعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کیا، اور کہا: ہم نے تو اتنا بیمار اور ناتواں کسی کو نہیں دیکھا جتنا وہ ہے، اگر ہم اسے لے کر آپ کے پاس آئیں تو اس کی ہڈیاں جدا ہو جائیں، وہ صرف ہڈی اور چمڑے کا ڈھانچہ ہے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ درخت کی سو ٹہنیاں لیں، اور اس سے اسے ایک بار مار دیں۔ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4472]
جناب ابوامامہ بن سہل بن حنیف رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعض انصاری صحابیوں رضی اللہ عنہم نے بیان کیا کہ ان کا ایک آدمی بیمار ہو گیا اور اس قدر نحیف ہو گیا کہ بس ہڈیوں پر چمڑا رہ گیا۔ اس کے پاس کسی کی لونڈی آئی، اسے دیکھ کر اسے جوش آ گیا اور پھر اس سے جماع کر بیٹھا۔ جب اس کی قوم کے لوگ اس کی عیادت کے لیے گئے تو اس نے انہیں اپنی یہ بات بتائی اور کہا: ”میرے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کرو، بیشک میرے پاس ایک لونڈی آئی تھی اور میں اس سے جماع کر بیٹھا ہوں۔“ چنانچہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا اور بتایا: ”ہم نے اس جیسا بیمار کوئی نہیں دیکھا، اگر ہم اسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اٹھا کر بھی لائیں تو اس کی ہڈیاں جدا ہو جائیں گی، وہ تو بس ہڈیوں پر چمڑا ہے۔“ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کے لیے کھجور کی ایک ایسی ڈالی حاصل کرو جس میں باریک سو شاخیں ہوں، وہ اسے ایک ہی مار دو۔“ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4472]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 15528)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الحدود 18 (2574) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4473
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا إِسْرَائِيلُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى، عَنْ أَبِي جَمِيلَةَ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" فَجَرَتْ جَارِيَةٌ لِآلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا عَلِيُّ انْطَلِقْ فَأَقِمْ عَلَيْهَا الْحَدَّ، فَانْطَلَقْتُ فَإِذَا بِهَا دَمٌ يَسِيلُ لَمْ يَنْقَطِعْ فَأَتَيْتُهُ، فَقَالَ: يَا عَلِيُّ أَفَرَغْتَ؟ قُلْتُ: أَتَيْتُهَا وَدَمُهَا يَسِيلُ، فَقَالَ: دَعْهَا حَتَّى يَنْقَطِعَ دَمُهَا ثُمَّ أَقِمْ عَلَيْهَا الْحَدَّ، وَأَقِيمُوا الْحُدُودَ عَلَى مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَكَذَلِكَ رَوَاهُ أَبُو الْأَحْوَصِ،عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى، وَرَوَاهُ شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى، فَقَالَ فِيهِ قَال: لَا تَضْرِبْهَا حَتَّى تَضَعَ، وَالْأَوَّلُ أَصَحُّ.
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل بیت میں سے کسی کی لونڈی نے حرام کاری کر لی تو آپ نے فرمایا: ”علی! جاؤ اور اس پر حد قائم کرو“ میں گیا تو کیا دیکھتا ہوں کہ اس کا خون بہے چلا جا رہا ہے، رکتا ہی نہیں، یہ دیکھ کر میں آپ کے پاس واپس آ گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”علی! کیا حد لگا کر آ گئے؟“ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں اس کے پاس آیا دیکھا تو اس کا خون بہ رہا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اچھا بند ہونے تک رکے رہو، جب بند ہو جائے تو اسے ضرور حد لگاؤ، اور حدوں کو اپنے غلاموں اور لونڈیوں پر بھی قائم کیا کرو“۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسی طرح ابوالاحوص نے عبدالاعلیٰ سے روایت کیا ہے، اور اسے شعبہ نے بھی عبدالاعلی سے روایت کیا ہے، اس میں ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے حد نہ لگانا جب تک وہ بچہ جن نہ دے“ لیکن پہلی روایت زیادہ صحیح ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4473]
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک لونڈی نے بدکاری کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے علی! جاؤ اور اس کو حد لگاؤ۔“ کہتے ہیں کہ میں چلا تو معلوم ہوا کہ اس سے خون بہہ رہا ہے جو رکتا ہی نہیں ہے۔ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آ گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”اے علی! کیا فارغ ہو گئے ہو؟“ میں نے عرض کیا: ”میں اس کے پاس گیا تھا مگر اس سے خون بہہ رہا ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے چھوڑ دے۔ حتیٰ کہ اس کا خون رک جائے۔ اس کے بعد اس کو حد لگانا اور اپنے غلاموں کو بھی حد لگایا کرو۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”یہ حدیث ابوالاحوص نے عبدالاعلیٰ سے ایسے ہی روایت کی ہے اور شعبہ نے عبدالاعلیٰ سے روایت کی تو اس میں کہا: ”جب تک وضع حمل نہ ہو جائے حد نہ لگانا۔“ اور پہلی روایت زیادہ صحیح ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4473]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 10283)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الحدود 7 (1705)، سنن الترمذی/الحدود 13 (1441)، مسند احمد (1/89، 95، 135، 136، 145) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح م دون قوله وأقيموا الحدود
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
عبدالأعلي بن عامر الثعلبي ضعيف
وحديث مسلم (1705) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 158

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
35. باب فِي حَدِّ الْقَذْفِ
باب: زنا کی تہمت کی حد کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4474
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ الثَّقَفِيُّ، وَمَالِكُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ الْمِسْمَعِيُّ، وَهَذَا حَدِيثُهُ: أَنَّ ابْنَ أَبِي عَدِيٍّ حَدَّثَهُمْ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ:" لَمَّا نَزَلَ عُذْرِي، قَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ، فَذَكَرَ ذَاكَ وَتَلَا تَعْنِي الْقُرْآنَ فَلَمَّا نَزَلَ مِنَ الْمِنْبَرِ أَمَرَ بِالرَّجُلَيْنِ وَالْمَرْأَةِ فَضُرِبُوا حَدَّهُمْ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ جب میری برات کی آیتیں نازل ہوئیں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر کھڑے ہوئے، آپ نے اس کا ذکر کیا، اور قرآن کی ان آیتوں کی تلاوت کی، پھر جب منبر پر سے اترے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو مردوں اور ایک عورت کے سلسلے میں حکم دیا تو ان پر حد جاری کیا گیا۔ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4474]
ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ”جب میری برات کی آیات نازل ہوئیں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر کھڑے ہوئے اور اس واقعہ کا ذکر کیا اور قرآن کی آیات تلاوت فرمائیں۔ جب منبر سے نیچے اترے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو مردوں اور ایک عورت کے متعلق حکم دیا اور انہیں حد لگائی گئی۔“ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4474]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن الترمذی/تفسیر النور 25 (3181)، سنن ابن ماجہ/الحدود (2567)، (تحفة الأشراف: 17898)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/286، 6/35، 61) (حسن)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
مشكوة المصابيح (3579)
أخرجه الترمذي (3181 وسنده حسن) وابن ماجه (2567 وسنده حسن) محمد بن إسحاق صرح بالسماع عند البيھقي (8/ 250)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4475
حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق بِهَذَا الْحَدِيثِ، لَمْ يَذْكُرْ عَائِشَةَ، قَالَ: فَأَمَرَ بِرَجُلَيْنِ وَامْرَأَةٍ مِمَّنْ تَكَلَّمَ بِالْفَاحِشَةِ: حَسَّانَ بْنِ ثَابِتٍ، وَمِسْطَحِ بْنِ أُثَاثَةَ، قَالَ النُّفَيْلِيُّ: وَيَقُولُونَ: الْمَرْأَةُ حَمْنَةُ بِنْتُ جَحْشٍ.
اس سند سے بھی محمد بن اسحاق سے یہی حدیث مروی ہے اس میں انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا کا ذکر نہیں کیا ہے اس میں ہے: آپ نے دو مردوں اور ایک عورت کو جنہوں نے بری بات منہ سے نکالی تھی (کوڑے لگانے کا) حکم دیا، وہ حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ اور مسطح بن اثاثہ رضی اللہ عنہ تھے نفیل کہتے ہیں: اور لوگ کہتے ہیں کہ عورت حمنہ بنت جحش رضی اللہ عنہا تھیں۔ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4475]
محمد بن اسحاق نے یہ روایت بیان کی اور اس میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا ذکر نہیں کیا، بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”دو مردوں اور ایک عورت کو جو اس تہمت میں شریک تھے، کے متعلق (حد لگانے کا) حکم دیا۔“ یعنی حسان بن ثابت اور مسطح بن اثاثہ رضی اللہ عنہما۔ نفیلی نے کہا کہ ”عورتوں میں حمنہ بنت جحش رضی اللہ عنہا کا ذکر کرتے ہیں۔“ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4475]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 17898) (حسن)» ‏‏‏‏ (سابقہ حدیث سے تقویت پاکر یہ حدیث حسن ہے)
قال الشيخ الألباني: حسن لغيره
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
انظر الحديث السابق (4474)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
36. باب الْحَدِّ فِي الْخَمْرِ
باب: شراب کی حد کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4476
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَهَذَا حَدِيثُهُ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ رُكَانَةَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ،" أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَقِتْ فِي الْخَمْرِ حَدًّا"، وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: شَرِبَ رَجُلٌ فَسَكِرَ فَلُقِيَ يَمِيلُ فِي الْفَجِّ فَانْطُلِقَ بِهِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا حَاذَى بِدَارِ الْعَبَّاسِ انْفَلَتَ فَدَخَلَ عَلَى الْعَبَّاسِ فَالْتَزَمَهُ، فَذُكِرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَضَحِكَ، وَقَالَ: أَفَعَلَهَا وَلَمْ يَأْمُرْ فِيهِ بِشَيْءٍ؟، قَالَ أَبُو دَاوُد: هَذَا مِمَّا تَفَرَّدَ بِهِ أَهْلُ الْمَدِينَةِ: حَدِيثُ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ هَذَا.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شراب کے حد کی تعیین نہیں فرمائی، ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص نے شراب پی اور بدمست ہو کر جھومتے ہوئے راستے میں لوگوں کو چلتے ملا تو اسے پکڑ کر وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے کر آئے جب وہ عباس رضی اللہ عنہ کے گھر کے سامنے ہوا تو چھڑا کر بھاگا اور عباس رضی اللہ عنہ کے مکان میں جا گھسا، اور ان سے چمٹ گیا، پھر یہ قصہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کیا گیا تو آپ ہنسے، اور صرف اتنا فرمایا: ”کیا اس نے ایسا کیا ہے؟“ آپ نے اس کے بارے میں کوئی اور حکم نہیں دیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: حسن بن علی کی اس حدیث کی روایت میں اہل مدینہ منفرد ہیں۔ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4476]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے شراب نوشی کی حد متعین نہیں کی تھی۔ ابن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے شراب پی لی، اس سے اسے نشہ ہو گیا اور وہ گلی میں لہرا لہرا کر چلنے لگا۔ پھر اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں لے چلے۔ جب وہ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کے گھر کے سامنے آیا تو وہ گھوم کر ان کے گھر میں چلا گیا اور ان سے جا چمٹا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بتایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہنس پڑے اور پوچھا: ”کیا واقعی اس نے اس طرح کیا ہے؟“ اور پھر اس کے بارے میں کچھ نہیں فرمایا۔ امام ابوداؤد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ”حسن بن علی کی اس حدیث کی روایت میں اہل مدینہ متفرد ہیں۔“ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4476]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 6212)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/322) (ضعیف)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
مشكوة المصابيح (3622)
ابن جريج صرح بالسماع عند النسائي في الكبريٰ (5290)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4477
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو ضَمْرَةَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْهَادِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ،" أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِرَجُلٍ قَدْ شَرِبَ، فَقَالَ: اضْرِبُوهُ، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: فَمِنَّا الضَّارِبُ بِيَدِهِ وَالضَّارِبُ بِنَعْلِهِ وَالضَّارِبُ بِثَوْبِهِ، فَلَمَّا انْصَرَفَ، قَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ: أَخْزَاكَ اللَّهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تَقُولُوا هَكَذَا لَا تُعِينُوا عَلَيْهِ الشَّيْطَانَ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا جس نے شراب پی رکھی تھی، تو آپ نے فرمایا: ”اسے مارو“ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: تو ہم میں سے کسی نے ہاتھ سے، کسی نے جوتے سے، اور کسی نے کپڑے سے، اسے مارا، پھر جب فارغ ہوئے تو کسی نے کہا: اللہ تجھے رسوا کرے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایسا نہ کہو اس کے خلاف شیطان کی مدد نہ کرو“۔ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4477]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک آدمی لایا گیا جس نے شراب پی تھی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے مارو۔“ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم میں سے کسی نے اسے ہاتھ سے مارا، کسی نے جوتے سے مارا اور کسی نے کپڑے سے مارا۔ جب وہ آدمی وہاں سے چلا تو قوم میں سے کسی نے کہہ دیا: ”اللہ تجھے رسوا کرے۔“ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس طرح مت کہو، اس کے خلاف شیطان کی مدد مت کرو۔“ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4477]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الحدود 4 (6777)، 5 (6781)، (تحفة الأشراف: 14999)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/299، 300) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (6777)
مشكوة المصابيح (3621)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4478
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ دَاوُدَ بْنِ أَبِي نَاجِيَةَ الْإِسْكَنْدَرَانِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، وَحَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ، وَابْنُ لَهِيعَةَ، عَنِ ابْنِ الْهَادِ بِإِسْنَادِهِ، وَمَعْنَاهُ قَالَ فِيهِ بَعْدَ الضَّرْبِ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَصْحَابِهِ: بَكِّتُوهُ، فَأَقْبَلُوا عَلَيْهِ، يَقُولُونَ: مَا اتَّقَيْتَ اللَّهَ مَا خَشِيتَ اللَّهَ وَمَا اسْتَحْيَيْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ أَرْسَلُوهُ، وَقَالَ فِي آخِرِهِ: وَلَكِنْ قُولُوا: اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ اللَّهُمَّ ارْحَمْهُ، وَبَعْضُهُمْ يَزِيدُ الْكَلِمَةَ وَنَحْوَهَا.
ابن الہاد سے اسی سند سے اسی مفہوم کی روایت آئی ہے اس میں ہے کہ اسے مار چکنے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب سے فرمایا: ”تم لوگ اسے زبانی عار دلاؤ“، تو لوگ اس کی طرف یہ کہتے ہوئے متوجہ ہوئے: ”نہ تو تو اللہ سے ڈرا، نہ اس سے خوف کھایا نہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شرمایا“ پھر لوگوں نے اسے چھوڑ دیا، اور اس کے آخر میں ہے: ”لیکن یوں کہو: اے اللہ اس کو بخش دے، اس پر ر حم فرما“ کچھ لوگوں نے اس سیاق میں کچھ کمی بیشی کی ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4478]
یحییٰ بن ایوب، حیوہ بن شریح اور ابن لہیعہ نے ابن ہاد سے اس کی سند سے مذکورہ بالا حدیث کے ہم معنی بیان کیا۔ اس روایت میں مارنے کے ذکر کے بعد یوں ہے کہ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے فرمایا: ”اسے ذرا شرم دلاؤ، تنبیہ کرو۔“ چنانچہ وہ اسے اس طرح کہنے لگے: ”تجھے اللہ کا خوف نہ آیا؟ تو اللہ سے ڈرا نہیں؟ تجھے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے حیا نہ آئی؟“ پھر اس کو چھوڑ دیا اور روایت کے آخر میں ہے: ”لیکن یوں کہو: اے اللہ! اس کو معاف کر دے۔ اے اللہ! اس پر رحم فرما۔“ اور بعض راویوں نے اسی قسم کے الفاظ زیادہ کیے ہیں۔ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4478]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 14999) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
مشكوة المصابيح (3621)
انظر الحديث السابق (4477)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4479
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ. ح وحَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ هِشَامٍ الْمَعْنَى، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ،" أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَلَدَ فِي الْخَمْرِ بِالْجَرِيدِ وَالنِّعَالِ وَجَلَدَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَرْبَعِينَ، فَلَمَّا وُلِّيَ عُمَرُ دَعَا النَّاسَ، فَقَالَ لَهُمْ: إِنَّ النَّاسَ قَدْ دَنَوْا مِنَ الرِّيفِ، وَقَالَ مُسَدَّدٌ: مِنَ الْقُرَى وَالرِّيفِ فَمَا تَرَوْنَ فِي حَدِّ الْخَمْرِ؟ فَقَالَ لَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ: نَرَى أَنْ تَجْعَلَهُ كَأَخَفِّ الْحُدُودِ فَجَلَدَ فِيهِ ثَمَانِينَ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَاهُ ابْنُ أَبِي عَرُوبَةَ عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ جَلَدَ بِالْجَرِيدِ وَالنِّعَالِ أَرْبَعِينَ، وَرَوَاهُ شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: ضَرَبَ بِجَرِيدَتَيْنِ نَحْوَ الْأَرْبَعِينَ.
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے شراب پینے پر کھجور کی ٹہنیوں اور جوتوں سے مارا، اور ابوبکر رضی اللہ عنہ نے چالیس کوڑے لگائے، پھر جب عمر رضی اللہ عنہ خلیفہ ہوئے تو آپ نے لوگوں کو بلایا، اور ان سے کہا: لوگ گاؤں سے قریب ہو گئے ہیں (اور مسدد کی روایت میں ہے) بستیوں اور گاؤں سے قریب ہو گئے ہیں (یعنی شراب زیادہ پینے لگے ہیں) تو اب شراب کی حد کے بارے میں تمہاری کیا رائے ہے؟ تو عبدالرحمٰن بن عوف نے ان سے کہا: ہماری رائے یہ ہے کہ سب سے ہلکی جو حد ہے وہی آپ اس میں مقرر کر دیں، چنانچہ اسی (۸۰) کوڑے مارنے کا حکم ہوا (کیونکہ سب سے ہلکی حد یہی حدقذف تھی)۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے ابن ابی عروبہ نے قتادہ سے، قتادہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرفوعاً روایت کیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھجور کی ٹہنیوں اور جوتوں سے چالیس مار ماریں۔ اور اسے شعبہ نے قتادہ سے، قتادہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے کہ آپ نے کھجور کی دو ٹہنیوں سے چالیس کے قریب مار ماریں۔ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4479]
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے شراب نوشی کی حد میں کھجور کی چھڑیوں اور جوتوں سے مارا ہے۔ اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے چالیس درے (کوڑے) لگائے۔ جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ خلیفہ ہوئے تو انہوں نے صحابہ کو بلایا اور ان سے مشورہ چاہا کہ ”لوگ اپنے کھیتوں اور زمینوں میں چلے گئے ہیں۔ (یعنی جہاں کھجوریں اور انگور وغیرہ کی فراوانی ہے اور وہ شراب پینے لگے ہیں)۔“ مسدد کے الفاظ میں ہے کہ ”لوگ بستیوں اور زمینوں میں چلے گئے ہیں۔ تو تم لوگ شراب کی حد کے بارے میں کیا کہتے ہو؟“ تو سیدنا عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے کہا: ”ہم سمجھتے ہیں کہ آپ اسے سب سے ہلکی حد کی مانند کر دیں۔“ چنانچہ انہوں نے اس میں اسی درے (کوڑے) لگائے۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ابن ابی عروبہ نے بواسطہ قتادہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ حدیث بیان کی کہ ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھجور کی چھڑیوں اور جوتوں سے چالیس ضربیں لگائیں۔“ جبکہ شعبہ نے قتادہ سے بواسطہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا تو کہا کہ ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھجور کی دو شاخوں سے تقریباً چالیس ضربیں لگائیں۔“ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4479]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الحدود 2 (6773)، صحیح مسلم/الحدود 8 (1706)، سنن الترمذی/الحدود 14 (1443)، سنن ابن ماجہ/الحدود 16 (2570)، (تحفة الأشراف: 1352)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/115، 180)، سنن الدارمی/الحدود 9 (2357) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (6773) صحيح مسلم (1706)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4480
حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ، وَمُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل الْمَعْنَى، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْمُخْتَارِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ الدَّانَاجُ، حَدَّثَنِي حُضَيْنُ بْنُ الْمُنْذِرِ الرَّقَاشِيُّ هُوَ أَبُو سَاسَانَ، قَالَ:" شَهِدْتُ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ وَأُتِيَ بِالْوَلِيدِ بْنِ عُقْبَةَ، فَشَهِدَ عَلَيْهِ حُمْرَانُ، وَرَجُلٌ آخَرُ، فَشَهِدَ أَحَدُهُمَا أَنَّهُ رَآهُ شَرِبَهَا يَعْنِي الْخَمْرَ وَشَهِدَ الْآخَرُ أَنَّهُ رَآهُ يَتَقَيَّأُ، فَقَالَ عُثْمَانُ: إِنَّهُ لَمْ يَتَقَيَّأْ حَتَّى شَرِبَهَا، فَقَالَ لِعَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَقِمْ عَلَيْهِ الْحَدَّ، فَقَالَ عَلِيٌّ لِلْحَسَنِ: أَقِمْ عَلَيْهِ الْحَدَّ، فَقَالَ الْحَسَنُ: وَلِّ حَارَّهَا مَنْ تَوَلَّى قَارَّهَا، فَقَالَ عَلِيٌّ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ: أَقِمْ عَلَيْهِ الْحَدَّ، قَالَ: فَأَخَذَ السَّوْطَ فَجَلَدَهُ وَعَلِيٌّ يَعُدُّ فَلَمَّا بَلَغَ أَرْبَعِينَ، قَالَ: حَسْبُكَ جَلَدَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعِينَ، أَحْسَبُهُ قَالَ: وَجَلَدَ أَبُو بَكْرٍ أَرْبَعِينَ، وَعُمَرُ ثَمَانِينَ، وَكُلٌّ سُنَّةٌ وَهَذَا أَحَبُّ إِلَيَّ".
حضین بن منذر رقاشی ابوساسان کہتے ہیں کہ میں عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے پاس موجود تھا کہ ولید بن عقبہ کو ان کے پاس لایا گیا، اور حمران اور ایک اور شخص نے اس کے خلاف گواہی دی، ان میں سے ایک نے گواہی دی کہ اس نے شراب پی ہے، اور دوسرے نے گواہی دی کہ میں نے اسے (شراب) قے کرتے دیکھا ہے، تو عثمان نے کہا: جب تک پیئے گا نہیں قے نہیں کر سکتا، پھر انہوں نے علی رضی اللہ عنہ سے کہا: تم اس پر حد قائم کرو، تو علی نے حسن رضی اللہ عنہ سے کہا: تم اس پر حد قائم کرو، تو حسن نے کہا: جو خلافت کی آسانیوں اور خیرات کا ذمہ دار رہا ہے وہی اس کی سختیوں اور برائیوں کا بھی ذمہ دار ہے، پھر علی رضی اللہ عنہ نے عبداللہ بن جعفر سے کہا: تم اس پر حد قائم کرو، تو انہوں نے کوڑا لے کر اسے مارنا شروع کیا، اور علی رضی اللہ عنہ گننے لگے، تو جب چالیس کوڑے ہوئے تو علی رضی اللہ عنہ نے کہا: بس کافی ہے، اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چالیس کوڑے ہی مارے ہیں، اور میرا خیال ہے انہوں نے یہ بھی کہا کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بھی چالیس کوڑے مارے ہیں، اور عمر رضی اللہ عنہ نے اسی، اور سب سنت ہے، اور یہ چالیس کوڑے مجھے زیادہ پسند ہیں۔ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4480]
حضین بن منذر رقاشی ابو ساسان کہتے ہیں کہ ”میں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے ہاں حاضر تھا کہ ولید بن عقبہ کو لایا گیا۔ تو حمران اور ایک دوسرے آدمی نے اس پر گواہی دی۔ ایک نے کہا کہ میں نے اس کو شراب پیتے دیکھا ہے اور دوسرے نے کہا کہ میں نے اس کو قے کرتے دیکھا ہے۔ تو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا: ”اس نے شراب پی تبھی قے کی۔“ پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے کہا کہ ”اس کو حد لگاؤ۔“ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے سیدنا حسن رضی اللہ عنہ سے کہا کہ ”اس کو حد لگاؤ۔“ تو سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ”اس کی حرارت اسی کے حوالے کریں جو اس کی ٹھنڈک سے لطف اندوز ہوتا ہے۔“ (اشارہ تھا کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ ہی کو یہ کڑوا کسیلا کام کرنا چاہیے)۔ پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے سیدنا عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ سے کہا کہ ”اس کو حد لگاؤ۔“ تو انہوں نے کوڑا لیا اور مارنے لگے اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ گنتے جاتے تھے۔ جب چالیس کو پہنچے تو کہا کہ ”بس، کافی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے چالیس ضربیں ماری تھیں۔“ (حضین نے کہا) میرا خیال ہے کہ یوں کہا: ”سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے چالیس اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اسی ضربیں ماریں اور سب ہی سنت ہے اور یہ مجھے زیادہ محبوب ہے۔““ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4480]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/الحدود 8 (1707)، سنن ابن ماجہ/الحدود 16 (2571)، (تحفة الأشراف: 1352، 10080)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الحدود 4 (6773)، مسند احمد (1/82، 140، 144)، سنن الدارمی/الحدود 9 (2358) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (1707)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں