سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
60. بَابُ: مَنْ أَسْلَمَ فِي شَيْءٍ فَلاَ يَصْرِفْهُ إِلَى غَيْرِهِ
باب: کسی چیز کی بیع سلم کر کے اس کو دوسری چیز سے نہ بدلنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2283
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا شُجَاعُ بْنُ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ خَيْثَمَةَ ، عَنْ سَعْدٍ ، عَنْ عَطِيَّةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا أَسْلَفْتَ فِي شَيْءٍ فَلَا تَصْرِفْهُ إِلَى غَيْرِهِ".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم کسی چیز میں بیع سلف کرو تو اسے کسی اور چیز کی طرف نہ پھیرو“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2283]
حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تو کسی چیز کی بیع سلف کرے تو اسے دوسری چیز (کی بیع) سے تبدیل نہ کر۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2283]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/البیوع 59 (3468)، (تحفة الأشراف: 4204) (ضعیف)» (سند میں عطیہ العوفی ضعیف راوی ہیں، نیز ملاحظہ ہو: الإرواء: 1375)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
سنن أبي داود (3468)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 460
إسناده ضعيف
سنن أبي داود (3468)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 460
حدیث نمبر: 2283M
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا شُجَاعُ بْنُ الْوَلِيدِ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ خَيْثَمَةَ ، عَنْ عَطِيَّةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَذَكَرَ مِثْلَهُ، وَلَمْ يَذْكُرْ سَعْدًا.
اس سند سے بھی ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، پھر آگے راوی نے اسی کے مثل ذکر کیا، اور اس کے راویوں میں سعد کا ذکر نہیں کیا ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2283M]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 4200) (ضعیف)» (ملاحظہ ہو: حدیث سابق)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
61. بَابُ: إِذَا أَسْلَمَ فِي نَخْلٍ بِعَيْنِهِ لَمْ يُطْلِعْ
باب: اگر کسی خاص درخت کی خریداری بیع سلم سے (یعنی پیشگی ادائیگی کے بعد) کی ہو اور اس میں پھل نہ آئے تو کیا حکم ہے؟
حدیث نمبر: 2284
حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق ، عَنْ النَّجْرَانِيِّ ، قَالَ: قُلْتُ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ : أُسْلِمُ فِي نَخْلٍ، قَبْلَ أَنْ يُطْلِعَ، قَالَ: لَا، قُلْتُ: لِمَ، قَالَ: إِنَّ رَجُلًا أَسْلَمَ فِي حَدِيقَةِ نَخْلٍ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَبْلَ أَنْ يُطْلِعَ النَّخْلُ فَلَمْ يُطْلِعِ النَّخْلُ شَيْئًا ذَلِكَ الْعَامَ، فَقَالَ الْمُشْتَرِي: هُوَ لِي حَتَّى يُطْلِعَ، وَقَالَ الْبَائِعُ: إِنَّمَا بِعْتُكَ النَّخْلَ هَذِهِ السَّنَةَ، فَاخْتَصَمَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لِلْبَائِعِ:" أَخَذَ مِنْ نَخْلِكَ شَيْئًا"، قَالَ: لَا، قَالَ:" فَبِمَ تَسْتَحِلُّ مَالَهُ ارْدُدْ عَلَيْهِ مَا أَخَذْتَ مِنْهُ وَلَا تُسْلِمُوا فِي نَخْلٍ حَتَّى يَبْدُوَ صَلَاحُهُ".
نجرانی کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے کہا: کیا میں کسی درخت کے کھجور کی ان کے پھلنے سے پہلے بیع سلم کروں؟ انہوں نے کہا: نہیں، میں نے کہا: کیوں؟ کہا: ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں کھجور کے ایک باغ کے پھلوں میں ان کے پھلنے سے پہلے بیع سلم کی، لیکن اس سال کھجور کے درخت میں پھل آیا ہی نہیں، تو خریدار نے کہا: یہ درخت میرے رہیں گے جب تک ان میں کھجور نہ پھلے، اور بیچنے والے نے کہا: میں نے تو صرف اسی سال کا کھجور تیرے ہاتھ بیچا تھا، چنانچہ دونوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں معاملہ لے گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیچنے والے سے کہا: ”کیا اس نے تمہارے کھجور کے درختوں سے کچھ پھل لیے“؟ وہ بولا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر تم کس چیز کے بدلے اس کا مال اپنے لیے حلال کرو گے، جو تم نے اس سے لیا ہے، اسے واپس کرو اور آئندہ کھجور کے درختوں میں بیع سلم اس وقت تک نہ کرو جب تک اس کے پھل استعمال کے لائق نہ ہو جائیں“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2284]
نجرانی سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے کہا: ”کیا میں خوشے نکلنے سے پہلے کھجوروں کے درختوں کی بیع سلم کر لیا کروں؟“ انہوں نے فرمایا: ”نہیں!“ میں نے کہا: ”کیوں؟“ انہوں نے فرمایا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایک شخص نے کھجوروں کے درختوں پر خوشے ظاہر ہونے سے پہلے کھجوروں کے ایک باغ کی بیع سلم کی۔ اس سال باغ میں پھل نہ لگا۔ خریدار نے کہا: خوشے آنے تک یہ میرا باغ ہے۔ بیچنے والے نے کہا: میں نے تجھے یہ باغ ایک سال کے لیے فروخت کیا تھا۔ انہوں نے اپنا مقدمہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیچنے والے سے کہا: ”کیا اس نے تیرے درختوں سے کچھ (پھل یا روپیہ پیسہ) وصول کیا ہے؟“ اس نے کہا: ”نہیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو پھر اس کا مال اپنے لیے کس طرح حلال سمجھتا ہے؟ اس سے جو کچھ لیا ہے، وہ اسے واپس کر دے اور (آئندہ) کھجور کے درختوں کی بیع سلم نہ کیا کرو جب تک اس کی صلاحیت ظاہر نہ ہو جائے۔““ [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2284]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/البیوع 58 (3467)، (تحفة الأشراف: 8595)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/البیوع 21 (49)، مسند احمد (2/25، 49، 51، 58، 144) (ضعیف)» (اس کی سند میں نجرانی مبہم راوی ہے)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
سنن أبي داود (3467)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 460
إسناده ضعيف
سنن أبي داود (3467)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 460
62. بَابُ: السَّلَمِ فِي الْحَيَوَانِ
باب: حیوانات میں بیع سلم کا بیان۔
حدیث نمبر: 2285
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَسْلَفَ مِنْ رَجُلٍ بَكْرًا، وَقَالَ:" إِذَا جَاءَتْ إِبِلُ الصَّدَقَةِ قَضَيْنَاكَ" فَلَمَّا قَدِمَتْ، قَالَ:" يَا أَبَا رَافِعٍ، اقْضِ هَذَا الرَّجُلَ بَكْرَهُ"، فَلَمْ أَجِدْ إِلَّا رَبَاعِيًا فَصَاعِدًا، فَأَخْبَرْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" أَعْطِهِ، فَإِنَّ خَيْرَ النَّاسِ أَحْسَنُهُمْ قَضَاءً".
ابورافع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص سے ایک جوان اونٹ کی بیع سلم کی یعنی اسے قرض کے طور پر لیا، اور فرمایا: ”جب صدقہ کے اونٹ آئیں گے تو ہم تمہارا اونٹ کا قرض ادا کر دیں گے“، چنانچہ جب صدقہ کے اونٹ آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابورافع! اس کے اونٹ کا قرض ادا کر دو“، ابورافع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے ڈھونڈا تو مجھے ویسا اونٹ نہیں ملا، سوائے ایک ایسے اونٹ کے جس نے اپنے سامنے کے چاروں دانت گرا رکھے تھے، جو اس کے اونٹ سے بہتر تھا، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسی کو دے دو کیونکہ لوگوں میں بہتر وہ ہے جو اپنے قرض کی ادائیگی میں بہتر ہو“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2285]
حضرت ابو رافع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی سے جوان اونٹ قرض لیا اور فرمایا: ”جب زکاۃ کے اونٹ آئیں گے، ہم تجھے (ایک اونٹ) ادا کر دیں گے۔“ جب اونٹ آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابو رافع! اس شخص کو اس کا جوان اونٹ ادا کر دو۔“ لیکن مجھے چار دانت یا اس سے زیادہ عمر والا اونٹ ہی ملا، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو (صورت حال سے) آگاہ کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہی دے دو، بہترین لوگ وہ ہوتے ہیں جو اچھے طریقے سے (قرض) ادا کرتے ہیں۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2285]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/البیوع 43 (1600)، سنن ابی داود/البیوع 11 (3346)، سنن الترمذی/البیوع 75 (1318)، سنن النسائی/البیوع 62 (4621)، (تحفة الأشراف: 12025)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/البیوع 43 (89)، مسند احمد (6/390)، سنن الدارمی/البیوع 31 (2607) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: مطلب یہ ہے کہ جو مال بغیر شرط کے قرض لیا تھا اس سے افضل دیتے ہیں،اگر قرض سے بہتر یا زیادہ مال دیا جائے تو مستحب اور اس کا لینا جائز ہے، لیکن شرط کے ساتھ جائز نہیں، کیونکہ وہ ربا (سود) ہے، اس حدیث سے یہ معلوم ہوا کہ بیع سلم بلکہ قرض لینا بھی جانور کا درست ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم
حدیث نمبر: 2286
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَاب ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ هَانِئٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ الْعِرْبَاضَ بْنَ سَارِيَةَ ، يَقُولُ: كُنْتُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ أَعْرَابِيٌّ: اقْضِنِي بَكْرِي، فَأَعْطَاهُ بَعِيرًا مُسِنًّا، فَقَالَ الْأَعْرَابِيُّ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَذَا أَسَنُّ مِنْ بَعِيرِي، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" خَيْرُ النَّاسِ خَيْرُهُمْ قَضَاءً".
عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھا کہ ایک اعرابی نے آ کر عرض کیا: میرا جوان اونٹ مجھے دیجئیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو ایک اونٹ دیا جو اس سے بڑا تھا، اعرابی (دیہاتی) بولا: اللہ کے رسول! اس کی عمر تو اس سے زیادہ ہے! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بہتر لوگ وہ ہیں جو اپنے قرض کی ادائیگی میں بہتر ہوں“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2286]
حضرت عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھا کہ ایک اعرابی نے عرض کیا: ”مجھے میرا اونٹ ادا فرما دیجئے۔“ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بڑی عمر کا اونٹ عطا فرمایا تو اس نے کہا: ”اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! اس کی عمر تو میرے اونٹ سے زیادہ ہے (اور یہ زیادہ قیمتی ہے۔)“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بہترین لوگ وہ ہوتے ہیں جو اچھے طریقے سے (قرض) ادا کریں۔“” [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2286]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن النسائی/البیوع 62 (4623)، (تحفة الأشراف: 9887)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/128) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
63. بَابُ: الشَّرِكَةِ وَالْمُضَارَبَةِ
باب: شرکت و مضاربت کا بیان۔
حدیث نمبر: 2287
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ ، وَأَبُو بَكْرٍ ابْنَا أَبِي شَيْبَةَ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُهَاجِرٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ قَائِدِ السَّائِبِ ، عَنْ السَّائِبِ ، قَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كُنْتَ شَرِيكِي فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَكُنْتَ خَيْرَ شَرِيكٍ لَا تُدَارِينِي وَلَا تُمَارِينِي".
سائب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: اللہ کے رسول! زمانہ جاہلیت میں آپ میرے شریک تھے، تو آپ بہت بہترین شریک ثابت ہوئے نہ آپ میری مخالفت کرتے تھے نہ جھگڑتے تھے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2287]
حضرت سائب بن صیفی مخزومی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: ”آپ زمانہ جاہلیت میں میرے شریک تھے تو آپ بہترین شریک تھے۔ آپ نہ مجھ سے مقابلہ کرتے تھے، نہ جھگڑا کرتے تھے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2287]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الأدب 20 (4836)، (تحفة الأشراف: 3791)، وقد أخرجہ: مسند احمد (/425) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: ابوداؤد کی روایت میں یوں ہے کہ نبوت سے پہلے سائب مخزومی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے شریک تھے، فتح مکہ کے دن وہ آئے، اور کہا: مرحباً، (خوش آمدید) میرے بھائی، میرے شریک، ایسے شریک کہ نہ کبھی انہوں نے مقابلہ کیا نہ جھگڑا، اس حدیث کے اور بھی کئی طریق ہیں، سبحان اللہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق شروع سے ایسے تھے کہ تعلیم و تربیت اور ریاضت کے بعد بھی ویسے اخلاق حاصل ہونا مشکل ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
سنن أبي داود (4836)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 461
إسناده ضعيف
سنن أبي داود (4836)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 461
حدیث نمبر: 2288
حَدَّثَنَا أَبُو السَّائِبِ سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الْحَفَرِيُّ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ:" اشْتَرَكْتُ أَنَا وَسَعْدٌ وَعَمَّارٌ يَوْمَ بَدْرٍ فِيمَا نُصِيبُ فَلَمْ أَجِئْ أَنَا وَلَا عَمَّارٌ بِشَيْءٍ وَجَاءَ سَعْدٌ بِرَجُلَيْنِ".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں سعد اور عمار تینوں بدر کے دن مال غنیمت میں شریک ہوئے، تو مجھ کو اور عمار کو کچھ نہ ملا، البتہ سعد کافروں کے دو آدمی پکڑ لائے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2288]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”میں نے، حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے اور حضرت عمار رضی اللہ عنہ نے جنگ بدر کے دن حاصل ہونے والے مال غنیمت میں شراکت کی۔ میں اور حضرت عمار رضی اللہ عنہ کچھ نہ لائے، جب کہ حضرت سعد رضی اللہ عنہ (کفار کے) دو آدمی (گرفتار کر کے) لے آئے۔ (جو ہم تینوں کے مشترکہ غلام ہوئے۔)“ [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2288]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/البیوع 30 (3388)، سنن النسائی/الأیمان 47 (3969)، البیوع 103 (4701)، (تحفة الأشراف: 9616) (ضعیف)» (سند میں ابوعبیدہ اور ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے درمیان انقطاع ہے، اس لئے کہ ابوعبیدہ کا اپنے والد سے سماع نہیں ثابت ہے، نیز ملاحظہ ہو: الإرواء: 1474)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
سنن أبي داود (3388) نسائي (3969،4701)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 461
إسناده ضعيف
سنن أبي داود (3388) نسائي (3969،4701)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 461
حدیث نمبر: 2289
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلَّالُ ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ ثَابِتٍ الْبَزَّارُ ، حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ الْقَاسِمِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ دَاوُدَ ، عَنْ صَالِحِ بْنِ صُهَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" ثَلَاثٌ فِيهِنَّ الْبَرَكَةُ الْبَيْعُ إِلَى أَجَلٍ وَالْمُقَارَضَةُ وَأَخْلَاطُ الْبُرِّ بِالشَّعِيرِ لِلْبَيْتِ لَا لِلْبَيْعِ".
صہیب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تین چیزوں میں برکت ہے: پہلی یہ کہ مقررہ مدت کے وعدے پر بیع کرنے میں، دوسری: مضاربت میں، تیسری: گیہوں اور جو ملانے میں جو کہ گھر کے کھانے کے لیے ہو، نہ کہ بیچنے کے لیے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2289]
حضرت صالح بن صہیب بن سنان رضی اللہ عنہ اپنے والد (حضرت صہیب رومی رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تین چیزوں میں برکت ہے: ادھار بیچنا، مقارضہ، اور گھر میں استعمال کے لیے گندم میں جو ملا لینا، بیچنے کے لیے نہیں۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2289]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 4963، ومصباح الزجاجة: 804) (ضعیف جدا)» (سند میں صالح صہیب، عبد الرحمن بن داود اور نصر بن قاسم وغیرہ سب مجہول راوی ہیں، نیز ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: 2100)
قال الشيخ الألباني: ضعيف جدا
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف جدًا
نصر: مجهول،وصالح (بن صهيب بن سنان الرومي): مجهول الحال (تقريب: 7123،2870) وأورده ابن الجوزي في الموضوعات (2/ 248،249)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 461
إسناده ضعيف جدًا
نصر: مجهول،وصالح (بن صهيب بن سنان الرومي): مجهول الحال (تقريب: 7123،2870) وأورده ابن الجوزي في الموضوعات (2/ 248،249)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 461
64. بَابُ: مَا لِلرَّجُلِ مِنْ مَالِ وَلَدِهِ
باب: اولاد کے مال میں والدین کے حق کا بیان۔
حدیث نمبر: 2290
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ عَمَّتِهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ أَطْيَبَ مَا أَكَلْتُمْ مِنْ كَسْبِكُمْ وَإِنَّ أَوْلَادَكُمْ مِنْ كَسْبِكُمْ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارے کھانوں میں سب سے پاکیزہ کھانا وہ ہے جو تمہارے ہاتھ کی کمائی کا ہو، اور تمہاری اولاد بھی تمہاری ایک قسم کی کمائی ہے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2290]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارا بہترین کھانا وہ ہے جو تمہاری کمائی سے (حاصل) ہو۔ اور تمہاری اولاد بھی تمہاری کمائی ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2290]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/البیوع 79 (3528)، سنن الترمذی/الأحکام 22 (1358)، سنن النسائی/البیوع 1 (4454)، (تحفة الأشراف: 17992)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/31، 32، 127، 162، 193، 220)، سنن الدارمی/البیوع 6 (2579) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
حدیث نمبر: 2291
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ إِسْحَاق ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ رَجُلًا، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ لِي مَالًا وَوَلَدًا، وَإِنَّ أَبِي يُرِيدُ أَنْ يَجْتَاحَ مَالِي، فَقَالَ:" أَنْتَ وَمَالُكَ لِأَبِيكَ".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص نے کہا: اللہ کے رسول! میرے پاس مال اور اولاد دونوں ہیں، اور میرے والد میرا مال ختم کرنا چاہتے ہیں! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اور تمہارا مال دونوں تمہارے والد کے ہیں“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2291]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے کہا: ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میرے پاس کچھ مال ہے اور میری اولاد بھی ہے اور میرا باپ میرا سارا مال لے لینا چاہتا ہے“، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو بھی اور تیرا مال بھی تیرے باپ ہی کا ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2291]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 3093، ومصباح الزجاجة: 805) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح