سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1. بَابُ: الْحَثِّ عَلَى الْمَكَاسِبِ
باب: روزی کمانے کی ترغیب۔
حدیث نمبر: 2137
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، وَإِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ حَبِيبٍ قَالُوا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ أَطْيَبَ مَا أَكَلَ الرَّجُلُ مِنْ كَسْبِهِ، وَإِنَّ وَلَدَهُ مِنْ كَسْبِهِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آدمی کا سب سے عمدہ کھانا وہ ہے جو اس کی اپنی کمائی کا ہو، اور اس کی اولاد بھی اس کی کمائی ہے“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2137]
ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انسان کا بہترین کھانا وہ ہے جو اس کی کمائی سے (حاصل) ہو، اور اس کی اولاد بھی اس کی کمائی ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2137]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن النسائی/البیوع 1 (4454)، (تحفة الأشراف: 15961)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/البیوع 79 (3528)، سنن الترمذی/الأحکام 22 (1358)، مسند احمد (6/31، 42، 127، 162، 193، 220)، سنن الدارمی/البیوع 6 (2579) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اگر والدین محتاج اور ضرورت مند ہوں تو ان کا نفقہ (خرچ) اولاد پر واجب ہے، اور جو محتاج یا عاجز نہ ہوں تب بھی اولاد کی رضامندی سے اس کے مال میں سے کھا سکتے ہیں، مطلب حدیث کا یہ ہے کہ اولاد کا مال کھانا بھی طیب (پاکیزہ) اور حلال ہے، اور اپنے کمائے ہوئے مال کی طرح ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
حدیث نمبر: 2138
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ بَحِيرِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ ، عَنْ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِيكَرِبَ الزُّبَيْدِيِّ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَا كَسَبَ الرَّجُلُ كَسْبًا أَطْيَبَ مِنْ عَمَلِ يَدِهِ وَمَا أَنْفَقَ الرَّجُلُ عَلَى نَفْسِهِ، وَأَهْلِهِ وَوَلَدِهِ وَخَادِمِهِ، فَهُوَ صَدَقَةٌ".
مقدام بن معدیکرب زبیدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آدمی کی کوئی کمائی اس کمائی سے بہتر نہیں جسے اس نے اپنی محنت سے کمایا ہو، اور آدمی اپنی ذات، اپنی بیوی، اپنے بچوں اور اپنے خادم پر جو خرچ کرے وہ صدقہ ہے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2138]
حضرت مقدام بن معدیکرب زبیدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی آدمی اپنے ہاتھ کی کمائی سے زیادہ پاکیزہ (اور عمدہ) روزی حاصل نہیں کر سکتا اور آدمی اپنی ذات پر، اپنے بیوی بچوں پر اور اپنے خدام پر جو کچھ بھی خرچ کرتا ہے، وہ صدقہ ہوتا ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2138]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 11561)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/البیوع 15 (2072)، مسند احمد (4/131، 132) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
حدیث نمبر: 2139
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ ، حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنَا كُلْثُومُ بْنُ جَوْشَنٍ الْقُشَيْرِيُّ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" التَّاجِرُ الْأَمِينُ الصَّدُوقُ الْمُسْلِمُ مَعَ الشُّهَدَاءِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سچا، امانت دار مسلمان تاجر قیامت کے دن شہداء کے ساتھ ہو گا“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2139]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دیانت دار، سچا مسلمان تاجر قیامت کے دن شہیدوں کے ساتھ ہو گا۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2139]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 7598، ومصباح الزجاجة: 755) (حسن صحیح) (تراجع الألبانی: رقم: 248)»
وضاحت: ۱؎: تجارت کے ساتھ سچائی اور امانت داری بہت مشکل کام ہے، اکثر تاجر جھوٹ بولتے ہیں اور سودی لین دین کرتے ہیں، تو کوئی تاجر سچا امانت دار، متقی اور پرہیزگار ہو گا تو اس کو شہیدوں کا درجہ ملے گا، اس لئے کہ جان کے بعد آدمی کو مال عزیز ہے، بلکہ بعض مال کے لئے جان گنواتے ہیں جیسے شہید نے اپنی جان اللہ کی راہ میں قربان کی، ایسے ہی متقی تاجر نے اللہ تعالی کی راہ میں دولت خرچ کی، اور حرام کا لالچ نہ کیا۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
ضعيف
كلثوم بن جوشن: ضعيف(تقريب: 5655)
وللحديث شاهد ضعيف عند الترمذي (1209)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 456
ضعيف
كلثوم بن جوشن: ضعيف(تقريب: 5655)
وللحديث شاهد ضعيف عند الترمذي (1209)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 456
حدیث نمبر: 2140
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ الدَّرَاوَرْدِيُّ ، عَنْ ثَوْرِ بْنِ زَيْدٍ الدِّيلِيِّ ، عَنْ أَبِي الْغَيْثِ مَوْلَى ابْنِ مُطِيعٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" السَّاعِي عَلَى الْأَرْمَلَةِ وَالْمِسْكِينِ كَالْمُجَاهِدِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَكَالَّذِي يَقُومُ اللَّيْلَ وَيَصُومُ النَّهَارَ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیوہ عورتوں اور مسکینوں کے لیے محنت و کوشش کرنے والا اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے کے مانند ہے، اور اس شخص کے مانند ہے جو رات بھر قیام کرتا، اور دن کو روزہ رکھتا ہے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2140]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیوہ اور مسکین (کی ضروریات پوری کرنے) کے لیے دوڑ دھوپ کرنے والا، اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے کی طرح ہے، اور اس شخص کی طرح ہے جو رات کو قیام کرتا اور دن کو روزہ رکھتا ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2140]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/النفقات 1 (5353)، صحیح مسلم/الزہد والرقائق 2 (2982)، سنن الترمذی/البروالصلة 44 (1969)، سنن النسائی/الزکاة 78 (2578)، (تحفة الأشراف: 12914)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/361) (حسن صحیح)»
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
حدیث نمبر: 2141
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خُبَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَمِّهِ ، قَالَ: كُنَّا فِي مَجْلِسٍ فَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَى رَأْسِهِ أَثَرُ مَاءٍ، فَقَالَ لَهُ بَعْضُنَا: نَرَاكَ الْيَوْمَ طَيِّبَ النَّفْسِ، فَقَالَ:" أَجَلْ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ" ثُمَّ أَفَاضَ الْقَوْمُ فِي ذِكْرِ الْغِنَى، فَقَالَ:" لَا بَأْسَ بِالْغِنَى لِمَنِ اتَّقَى وَالصِّحَّةُ لِمَنِ اتَّقَى خَيْرٌ مِنَ الْغِنَى وَطِيبُ النَّفْسِ مِنَ النَّعِيمِ".
عبداللہ بن خبیب کے چچا سے روایت ہے ہم ایک مجلس میں تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی وہاں اچانک تشریف لے آئے، آپ کے سر مبارک پر پانی کا اثر تھا، ہم میں سے ایک آدمی نے آپ سے عرض کیا: آپ کو ہم آج بہت خوش دل پا رہے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، بحمداللہ خوش ہوں“، پھر لوگوں نے مالداری کا ذکر چھیڑ دیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اہل تقویٰ کے لیے مالداری کوئی حرج کی بات نہیں، اور تندرستی متقی کے لیے مالداری سے بہتر ہے، اور خوش دلی بھی ایک نعمت ہے“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2141]
حضرت معاذ بن عبداللہ رحمہ اللہ اپنے والد (حضرت عبداللہ بن خبیب رضی اللہ عنہ) سے اور وہ اپنے چچا (حضرت عبید رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا: ”ہم لوگ ایک مجلس میں موجود تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے۔ آپ کے سر مبارک پر پانی کا اثر تھا (غسل فرما کر تشریف لائے تھے۔) بعض لوگوں نے عرض کیا: ”آج ہم آپ کو خوش دیکھ رہے ہیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، اللہ کا شکر ہے۔“ پھر لوگوں نے خوشحالی (اور دولت مندی) کا ذکر چھیڑا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”متقی آدمی کے لیے دولت مند ہونے میں کوئی حرج نہیں۔ اور متقی کے لیے صحت دولت سے بہتر ہے۔ اور طبیعت خوش ہونا بھی (اللہ) کی نعمت ہے۔““ [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2141]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 15606، ومصباح الزجاجة: 756)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/372، 381) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: صحت اور خوش دلی کی نعمت تمام نعمتوں سے بڑھ کر ہے اگر مال لاکھوں کروڑوں ہو، لیکن صحت اور خوش دلی و اطمینان نفس نہ ہو تو سب بیکار ہے، یہ صحت اور طبیعت کی خوشی اللہ تعالی کی طرف سے ہے، جس بندے کو اللہ چاہتا ہے ان نعمتوں کو عطا کرتا ہے، یا اللہ ہم کو بھی ہمیشہ صحت و عافیت اور خوش دلی اور اطمینان قلب کی نعمت میں رکھ۔ آمین۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
2. بَابُ: الاِقْتِصَادِ فِي طَلَبِ الْمَعِيشَةِ
باب: روزی کمانے میں میانہ روی اپنانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2142
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيِّ ، عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ السَّاعِدِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَجْمِلُوا فِي طَلَبِ الدُّنْيَا، فَإِنَّ كُلًّا مُيَسَّرٌ لِمَا خُلِقَ لَهُ".
ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دنیا کی طلب میں اعتدال کا طریقہ اپناؤ اس لیے کہ جس چیز کے لیے آدمی پیدا کیا گیا ہے وہ اسے مل کر رہے گی“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2142]
حضرت ابوحمید (منذر بن سعد) ساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دنیا کے حصول کے لیے اچھا طریقہ اختیار کرو۔ ہر انسان کے لیے وہ کام آسان ہو جاتا ہے جس کے لیے وہ پیدا کیا گیا ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2142]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 11894، ومصباح الزجاجة: 757) (صحیح) (ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: 898- 2607- 2607)»
وضاحت: ۱؎: یعنی کمانے کے چکر میں زیادہ نہ پڑو، آدمی کے مقدر (قسمت) میں جو چیز اللہ تعالی نے لکھ دی ہے، وہ اسے مل کر رہے گی، تو بے اعتدالی اور ظلم کی کوئی ضرورت نہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
حدیث نمبر: 2143
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ بِهْرَامٍ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُثْمَانَ زَوْجُ بِنْتِ الشَّعْبِيِّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ يَزِيدَ الرَّقَاشِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَعْظَمُ النَّاسِ هَمًّا الْمُؤْمِنُ الَّذِي يَهُمُّ بِأَمْرِ دُنْيَاهُ وَأَمْرِ آخِرَتِهِ"، قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ تَفَرَّدَ بِهِ إِسْمَاعِيل.
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سب سے زیادہ فکرمندی اس مومن کو ہوتی ہے جسے دنیا کی بھی فکر ہو اور آخرت کی بھی“۔ ابوعبداللہ (ابن ماجہ) کہتے ہیں: یہ حدیث غریب ہے، اس لیے کہ اسماعیل اس کی روایت میں منفرد ہیں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2143]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سب سے زیادہ پریشانی اس مومن کو ہوتی ہے جو اپنی دنیا کے معاملات کی بھی فکر کرتا ہے اور اپنی آخرت کے معاملات کی بھی۔“ امام ابن ماجہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ: ”یہ حدیث غریب ہے، اسے صرف اسماعیل (بن بہرام) نے روایت کیا ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2143]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 1684، ومصباح الزجاجة: 758) (ضعیف)» (سند میں یزید الرقاشی، حسن بن محمد اور اسماعیل بن بہرام تینوں ضعیف ہیں)
وضاحت: ۱؎: بے دین آدمی کو آخرت سے کوئی غرض اور دلچسپی نہیں، اسے تو صرف دنیا کی فکر ہے، اور جو کچا مسلمان ہے اس کو دونوں فکریں لگی ہوتی ہیں، کیونکہ اللہ تعالی پر اس کو پورا بھروسہ اور اعتماد نہیں ہے، اور جو پکا مسلمان ہے اس کو فقط آخرت کی ہی فکر ہے، اور دنیا کی زیادہ فکر نہیں ہوتی، اللہ تعالیٰ رازق اور مسبب الاسباب ہے، جب تک زندگی ہے، وہ کہیں سے ضرور کھلائے اور پلائے گا۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
فيه علل منھا ضعف يزيد الرقاشي: زاهد ضعيف
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 456
إسناده ضعيف
فيه علل منھا ضعف يزيد الرقاشي: زاهد ضعيف
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 456
حدیث نمبر: 2144
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُصَفَّى الْحِمْصِيُّ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا اللَّهَ وَأَجْمِلُوا فِي الطَّلَبِ، فَإِنَّ نَفْسًا لَنْ تَمُوتَ حَتَّى تَسْتَوْفِيَ رِزْقَهَا، وَإِنْ أَبْطَأَ عَنْهَا، فَاتَّقُوا اللَّهَ وَأَجْمِلُوا فِي الطَّلَبِ خُذُوا مَا حَلَّ وَدَعُوا مَا حَرُمَ".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگو! اللہ سے ڈرو، اور دنیا طلبی میں اعتدال کا راستہ اختیار کرو، اس لیے کہ کوئی اس وقت تک نہیں مرے گا جب تک اپنی روزی پوری نہ کر لے گو اس میں تاخیر ہو، لہٰذا اللہ سے ڈرو، اور روزی کی طلب میں اعتدال کا راستہ اختیار کرو، صرف وہی لو جو حلال ہو، اور جو حرام ہو اسے چھوڑ دو“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2144]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے لوگو! اللہ سے ڈرو اور اچھے طریقے سے (اعتدال کے ساتھ) روزی طلب کرو کیونکہ کوئی انسان اپنا رزق پورا کیے بغیر نہیں مرے گا اگرچہ اس (رزق کے حصول) میں دیر ہو جائے۔ چنانچہ اللہ سے ڈرو اور اچھے طریقے سے روزی طلب کرو۔ جو حلال ہے، وہ لے لو اور جو حرام ہے، وہ چھوڑ دو۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2144]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 2880، ومصباح الزجاجة: 759) (صحیح)» (سند میں ولید بن مسلم، ابن جریج اور ابوالزبیر تینوں مدلس راوی ہیں، لیکن حدیث شواہد کی وجہ سے صحیح ہے، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: 2607)
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
3. بَابُ: التَّوَقِّي فِي التِّجَارَةِ
باب: تجارت میں احتیاط برتنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2145
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ شَقِيقٍ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي غَرَزَةَ ، قَالَ: كُنَّا نُسَمَّى فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ السَّمَاسِرَةَ فَمَرَّ بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَمَّانَا بِاسْمٍ هُوَ أَحْسَنُ مِنْهُ، فَقَالَ:" يَا مَعْشَرَ التُّجَّارِ، إِنَّ الْبَيْعَ يَحْضُرُهُ الْحَلِفُ وَاللَّغْوُ، فَشُوبُوهُ بِالصَّدَقَةِ".
قیس بن ابی غرزہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں «سماسرہ» (دلال) کہے جاتے تھے، ایک بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہمارے پاس سے گزر ہوا، تو آپ نے ہمارا ایک ایسا نام رکھا جو اس سے اچھا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے تاجروں کی جماعت! خرید و فروخت میں قسمیں اور لغو باتیں بھی ہوتی رہتی ہیں، تو تم اس میں صدقہ ملا دیا کرو“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2145]
حضرت قیس بن ابو غزرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ مبارک میں دلال کہلاتے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس سے گزرے تو آپ نے ہمارا اس سے بہتر نام رکھ دیا۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے تاجروں کی جماعت! خریدو فروخت میں قسمیں کھائی جاتی ہیں اور فضول باتیں ہو جاتی ہیں، (اس لیے) اس کے ساتھ ساتھ صدقہ بھی کرتے رہا کرو۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2145]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/البیوع 1 (3326، 3327)، سنن الترمذی/البیوع 4 (1208)، سنن النسائی/الأیمان 21 (3828)، البیوع 7 (4468)، (تحفة الأشراف: 11103)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/6، 280) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
حدیث نمبر: 2146
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ الطَّائِفِيُّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ عُبَيْدِ بْنِ رِفَاعَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ رِفَاعَةَ ، قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِذَا النَّاسُ يَتَبَايَعُونَ بُكْرَةً، فَنَادَاهُمْ:" يَا مَعْشَرَ التُّجَّارِ"، فَلَمَّا رَفَعُوا أَبْصَارَهُمْ وَمَدُّوا أَعْنَاقَهُمْ، قَالَ:" إِنَّ التُّجَّارَ يُبْعَثُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فُجَّارًا إِلَّا مَنِ اتَّقَى اللَّهَ وَبَرَّ وَصَدَقَ".
رفاعہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے کہ اچانک کچھ لوگ صبح کے وقت خرید و فروخت کرتے نظر آئے، آپ نے ان کو پکارا: ”اے تاجروں کی جماعت!“ جب ان لوگوں نے اپنی نگاہیں اونچی اور گردنیں لمبی کر لیں ۱؎ تو آپ نے فرمایا: ”تاجر قیامت کے دن اس حال میں اٹھائے جائیں گے کہ وہ فاسق و فاجر ہوں گے، سوائے ان کے جو اللہ سے ڈریں، اور نیکوکار اور سچے ہوں“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2146]
حضرت اسماعیل بن عبید اپنے والد (حضرت عبید بن رفاعہ) رضی اللہ عنہ سے اور وہ ان کے دادا (اپنے والد) حضرت رفاعہ بن رافع بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے فرمایا: ”ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ باہر گئے۔ لوگ صبح کے وقت خرید و فروخت میں مشغول تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں آواز دی: ”اے تاجروں کی جماعت!“ جب ان لوگوں نے نظریں اٹھائیں اور گردنیں لمبی کیں (اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف متوجہ ہو گئے) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تاجر لوگ قیامت کے دن فاجر (اور گناہ گار) بن کر اٹھیں گے، سوائے اس کے جو اللہ سے ڈرتا رہا اور اس نے نیکی کی اور سچ بولا۔ (یعنی جھوٹ اور دھوکے سے پرہیز کیا)۔““ [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2146]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/البیوع 4 (1210)، (تحفة الأشراف: 3607)، وقد أخرجہ: سنن الدارمی/البیوع 7 (2580) (صحیح)» (سند میں اسماعیل بن عبید ضعیف راوی ہے، لیکن اصل حدیث: «إن التجار يبعثون يوم القيامة فجارا» صحیح ہے، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: 1458)
وضاحت: ۱؎: نیک ہونے کا مطلب یہ ہے کہ لوگوں سے اچھا سلوک کرے،مفلس کو مہلت دے، بلکہ اگر ہو سکے تو معاف کر دے۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن