🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
5. بَابُ: قَضِيَّةِ الْحَاكِمِ لاَ تُحِلُّ حَرَامًا وَلاَ تُحَرِّمُ حَلاَلاً
باب: حاکم کا فیصلہ حرام کو حلال اور حلال کو حرام نہیں کرتا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2318
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ وَلَعَلَّ بَعْضَكُمْ أَنْ يَكُونَ أَلْحَنَ بِحُجَّتِهِ مِنْ بَعْضٍ فَمَنْ قَطَعْتُ لَهُ مِنْ حَقِّ أَخِيهِ قِطْعَةً فَإِنَّمَا أَقْطَعُ لَهُ قِطْعَةً مِنَ النَّارِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تو ایک انسان ہی ہوں، ہو سکتا ہے تم میں کوئی اپنی دلیل بیان کرنے میں دوسرے سے زیادہ چالاک ہو، تو جس کے لیے میں اس کے بھائی کے حق میں سے کوئی ٹکڑا کاٹوں تو گویا میں اس کے لیے جہنم کا ایک ٹکڑا کاٹ رہا ہوں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأحكام/حدیث: 2318]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تو محض ایک انسان ہوں۔ شاید تم میں سے ایک شخص اپنی دلیل کو دوسرے کی نسبت بہتر طور پر بیان کر سکتا ہو، لہٰذا جس کو اس کے بھائی کے حق میں سے ایک ٹکڑا کاٹ کر دے دوں تو میں اسے (جہنم کی) آگ کا ایک ٹکڑا کاٹ کر دے رہا ہوں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأحكام/حدیث: 2318]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 15095، ومصباح الزجاجة: 814)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/332، 6/307) (حسن صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
6. بَابُ: مَنِ ادَّعَى مَا لَيْسَ لَهُ وَخَاصَمَ فِيهِ
باب: جس نے دوسرے کے مال پر دعویٰ کر کے اس میں جھگڑا کیا اس پر وارد وعید کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2319
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ بْنِ عَبْدِ الْوَارِثِ بْنِ سَعِيدٍ أَبُو عُبَيْدَةَ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ أَبِيهِ ، حَدَّثَنِي الْحُسَيْنُ بْنُ ذَكْوَانَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ يَعْمَرَ ، أَنَّ أَبَا الْأَسْوَدِ الدِّيلِيّ حَدَّثَهُ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" مَنِ ادَّعَى مَا لَيْسَ لَهُ فَلَيْسَ مِنَّا وَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ".
ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: جو کسی ایسی چیز پر دعویٰ کرے جو اس کی نہیں ہے، تو وہ ہم میں سے نہیں، اور اسے اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لینا چاہیئے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأحكام/حدیث: 2319]
حضرت ابوذر (جندب بن جنادہ غفاری رضی اللہ عنہ) سے روایت ہے، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ فرما رہے تھے: جو شخص اس چیز کا دعویٰ کرے جو اس کی نہیں تو وہ ہم میں سے نہیں، اسے اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لینا چاہیے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأحكام/حدیث: 2319]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 11933)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/المناقب 5 (3508)، صحیح مسلم/الإیمان 27 (61)، مسند احمد (5/166) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2320
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ ثَعْلَبَةَ بْنِ سَوَاءٍ ، حَدَّثَنِي عَمِّي مُحَمَّدُ بْنُ سَوَاءٍ ، عَنْ حُسَيْنٍ الْمُعَلِّمِ ، عَنْ مَطَرٍ الْوَرَّاقِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ أَعَانَ عَلَى خُصُومَةٍ بِظُلْمٍ أَوْ يُعِينُ عَلَى ظُلْمٍ لَمْ يَزَلْ فِي سَخَطِ اللَّهِ حَتَّى يَنْزِعَ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو کسی جھگڑے میں کسی کی ناحق مدد کرے گا، تو اللہ تعالیٰ اس سے ناراض رہے گا یہاں تک کہ وہ (اس سے) باز آ جائے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأحكام/حدیث: 2320]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے کسی مقدمے میں ظلم میں (ظالم کی) مدد کی، وہ ہمیشہ اللہ کی ناراضی کا مستحق رہتا ہے حتی کہ (اس گناہ سے) باز آ جائے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأحكام/حدیث: 2320]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن ابی داود/الأقضیة 14 (3598)، (تحفة الأشراف: 8445) (صحیح)» ‏‏‏‏ (سند میں مطر الوارق ضعیف راوی ہیں، لیکن حدیث متابعات کی وجہ سے صحیح ہے، ملاحظہ ہو: الإرواء: 7/ 350 و سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: 437، 1021)
وضاحت: ۱؎: یعنی اس کام سے توبہ کر لے اور اس کو چھوڑ دے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
7. بَابُ: الْبَيِّنَةُ عَلَى الْمُدَّعِي وَالْيَمِينُ عَلَى الْمُدَّعَى عَلَيْهِ
باب: مدعی اپنے دعوے کے حق میں گواہی پیش کرے اور مدعیٰ علیہ (یعنی جس کے خلاف دعویٰ ہے) اس پر قسم کھائے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2321
حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى الْمِصْرِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَنْبَأَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَوْ يُعْطَى النَّاسُ بِدَعْوَاهُمُ ادَّعَى نَاسٌ دِمَاءَ رِجَالٍ وَأَمْوَالَهُمْ وَلَكِنْ الْيَمِينُ عَلَى الْمُدَّعَى عَلَيْهِ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر لوگوں کو ان کے دعویٰ کے مطابق دے دیا جائے، تو لوگ دوسروں کی جان اور مال کا (ناحق) دعویٰ کر بیٹھیں گے، لیکن مدعیٰ علیہ کو قسم کھانا چاہیئے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأحكام/حدیث: 2321]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر لوگوں کو محض ان کے دعوے کی بنا پر چیز دے دی جائے تو لوگ دوسرے افراد کے جان و مال پر دعوے کر دیں، لیکن قسم کھانا مدعا علیہ کے ذمے ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأحكام/حدیث: 2321]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الرہن 6 (2514)، الشہادات 20 (2668)، تفسیر سورة آل عمران 3 (4552)، صحیح مسلم/الاقضیة 1 (1711)، سنن ابی داود/الاقضیة 23 (3619)، سنن الترمذی/الاحکام 12 (1342)، سنن النسائی/آداب القضاة 35 (5427)، (تحفة الأشراف: 5792)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/253، 288، 343، 351، 356، 363) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: جب مدعی کے پاس گواہ نہ ہو اور مدعی علیہ قسم کھا لے تو وہ دعویٰ سے بری ہو گیا، اگر مدعی علیہ قسم اٹھانے پر تیار نہ ہو تو وہ دعویٰ کے مطابق مدعی کا حق ادا کرے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2322
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ ، قَالَا: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ شَقِيقٍ ، عَنِ الْأَشْعَثِ بْنِ قَيْسٍ ، قَالَ: كَانَ بَيْنِي وَبَيْنَ رَجُلٍ مِنَ الْيَهُودِ أَرْضٌ فَجَحَدَنِي فَقَدَّمْتُهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هَلْ لَكَ بَيِّنَةٌ؟ قُلْتُ: لَا، قَالَ لِلْيَهُودِيِّ:" احْلِفْ"، قُلْتُ: إِذًا يَحْلِفَ فِيهِ فَيَذْهَبَ بِمَالِي، فَأَنْزَلَ اللَّهُ سُبْحَانَهُ إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلا سورة آل عمران آية 77 إِلَى آخِرِ الْآيَةِ".
اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میرے اور ایک یہودی کے درمیان ایک زمین مشترک تھی، اس نے میرے حصہ کا انکار کر دیا، تو میں اس کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے کر آیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تمہارے پاس گواہ ہیں؟ میں نے عرض کیا: نہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہودی سے کہا: تم قسم کھاؤ، میں نے عرض کیا: تب تو وہ قسم کھا لے گا اور میرا مال ہڑپ کر جائے گا، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری: «إن الذين يشترون بعهد الله وأيمانهم ثمنا قليلا» (سورة آل عمران: 77) جو لوگ اللہ کے عہد اور اپنی قسموں کے بدلے تھوڑا مال لیتے ہیں ان کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں اور اللہ تعالیٰ ان سے بات تک نہیں کرے گا، نہ قیامت کے دن ان پر رحمت کی نگاہ ڈالے گا، نہ گناہوں سے ان کو پاک کرے گا، اور ان کو نہایت درد ناک عذاب ہوتا رہے گا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأحكام/حدیث: 2322]
حضرت اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: زمین کا ایک ٹکڑا میری اور ایک یہودی کی مشترکہ ملکیت تھا۔ اس نے میرا حصہ تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔ میں نے اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: کیا تیرے پاس کوئی گواہ ہے؟ میں نے کہا: نہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہودی سے کہا: قسم کھا۔ میں نے کہا: وہ تو (جھوٹی) قسم کھا کر میرا مال لے لے گا۔ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: ﴿إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلًا﴾ [سورة آل عمران: 77] بے شک جو لوگ اللہ کے عہد اور اپنی قسموں کو تھوڑی قیمت پر بیچ ڈالتے ہیں ان کے لیے آخرت میں کوئی حصہ نہیں، اللہ تعالیٰ نہ تو ان سے بات چیت کرے گا، نہ ان کی طرف قیامت کے دن دیکھے گا، نہ انہیں پاک کرے گا، اور ان کے لیے درد ناک عذاب ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأحكام/حدیث: 2322]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/المسافات 4 (2356، 2357)، الرہن 6 (2515، 2516)، الخصومات 4 (2416، 2417)، الأحکام 30 (7183، 7184)، صحیح مسلم/الایمان 61 (138)، سنن ابی داود/الأقضیة 25 (3621)، سنن الترمذی/البیوع 42 (1269)، (تحفة الأشراف: 158، 9244)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/211) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
8. بَابُ: مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ فَاجِرَةٍ لِيَقْتَطِعَ بِهَا مَالاً
باب: جھوٹی قسم کھا کر کسی کا مال ہڑپ کر لینے کی شناعت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2323
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ ، قَالَا: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ شَقِيقٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ وَهُوَ فِيهَا فَاجِرٌ يَقْتَطِعُ بِهَا مَالَ امْرِئٍ مُسْلِمٍ لَقِيَ اللَّهَ وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص کسی چیز کے لیے قسم کھائے اور وہ اس قسم میں جھوٹا ہو، اور اس کے ذریعہ وہ کسی مسلمان کا مال ہڑپ کر لے، تو اللہ تعالیٰ سے اس حال میں ملے گا کہ اللہ تعالیٰ اس سے ناراض ہو گا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأحكام/حدیث: 2323]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے کوئی قسم کھائی جبکہ وہ قسم کھاتے ہوئے گناہ (جھوٹ) کا ارتکاب کر رہا ہے اور اس (جھوٹی قسم) کے ذریعے سے کسی مسلمان کے مال کا کچھ حصہ حاصل کرتا ہے، جب اللہ سے اس کی ملاقات ہو گی تو اللہ اس پر ناراض ہو گا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأحكام/حدیث: 2323]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الشرب والمساقات 4 (2356)، صحیح مسلم/الإیمان 61 (138)، سنن ابی داود/الأقضیة 25 (3621)، سنن الترمذی/البیوع 42 (1269)، (تحفة الأشراف: 158)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/377) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2324
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ كَثِيرٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَخَاهُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ كَعْبٍ ، أَنَّ أَبَا أُمَامَةَ الْحَارِثِيَّ حَدَّثَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" لَا يَقْتَطِعُ رَجُلٌ حَقَّ امْرِئٍ مُسْلِمٍ بِيَمِينِهِ إِلَّا حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ وَأَوْجَبَ لَهُ النَّارَ"، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: يَا رَسُولَ اللَّهِ وَإِنْ كَانَ شَيْئًا يَسِيرًا؟ قَالَ:" وَإِنْ كَانَ سِوَاكًا مِنْ أَرَاكٍ".
ابوامامہ حارثی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: جو شخص بھی قسم کے ذریعہ کسی مسلمان آدمی کا حق مارے گا، تو اللہ تعالیٰ اس پر جنت کو حرام کر دے گا، اور جہنم کو اس کے لیے واجب کر دے گا، لوگوں میں سے ایک شخص نے کہا: اللہ کے رسول! اگرچہ وہ معمولی چیز ہو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں، خواہ وہ پیلو کی ایک مسواک ہی ہو۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأحكام/حدیث: 2324]
حضرت ابوامامہ حارثی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: جو شخص قسم کھا کر کسی مسلمان آدمی کا حق مارتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس پر جنت حرام اور جہنم واجب کر دیتا ہے۔ حاضرین میں سے ایک صاحب نے کہا: اگرچہ کوئی معمولی سی چیز ہو؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگرچہ پیلو کی ایک مسواک ہو۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأحكام/حدیث: 2324]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/الإیمان 61 (137)، سنن النسائی/آداب القضاة 29 (5421)، (تحفة الأشراف: 1744)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/260) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
9. بَابُ: الْيَمِينِ عِنْدَ مَقَاطِعِ الْحُقُوقِ
باب: حقوق دلانے کی جگہوں پر قسم کھانے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2325
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ، ح وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ ثَابِتٍ الْجَحْدَرِيُّ ، حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ عِيسَى ، قَالَا: حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ هَاشِمٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نِسْطَاسٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ حَلَفَ بِيَمِينٍ آثِمَةٍ عِنْدَ مِنْبَرِي هَذَا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ وَلَوْ عَلَى سِوَاكٍ أَخْضَرَ".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص میرے اس منبر کے پاس جھوٹی قسم کھائے، وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لے، خواہ وہ ایک ہری مسواک ہی کے لیے ہو ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأحكام/حدیث: 2325]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے میرے اس منبر کے پاس گناہ والی (جھوٹی) قسم کھائی، اسے چاہیے کہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لے، اگرچہ تازہ مسواک کے لیے (قسم کھائی) ہو۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأحكام/حدیث: 2325]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن ابی داود/الأیمان 3 (2346)، (تحفة الأشراف: 2376)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الأقضیة 8 (10)، مسند احمد (3/344) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جھوٹی قسم متبرک مقام میں کھانا اور زیادہ سخت گناہ ہے، اگرچہ ہر جگہ جھوٹی قسم کھانا خود ایک سخت گناہ ہے،بعض علماء نے یہ کہا ہے کہ مدعی کو اختیار ہے جہاں پر چاہے اور جن الفاظ سے چاہے مدعی علیہ سے قسم لے سکتا ہے، اور بعضوں نے کہا: صرف عدالت میں قسم ہے وہ بھی اللہ تعالی کے نام کی قسم کھانا کافی ہے، اس سے زیادہ کے لئے مدعی جبر نہیں کر سکتا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2326
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، وَزَيْدُ بْنُ أَخْزَمَ ، قَالَا: حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ مَخْلَدٍ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ فَرُّوخَ ، قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى وَهُوَ أَبُو يُونُسَ الْقَوِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا سَلَمَةَ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا يَحْلِفُ عِنْدَ هَذَا الْمِنْبَرِ عَبْدٌ وَلَا أَمَةٌ عَلَى يَمِينٍ آثِمَةٍ وَلَوْ عَلَى سِوَاكٍ رَطْبٍ إِلَّا وَجَبَتْ لَهُ النَّارُ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس منبر کے پاس کوئی غلام یا لونڈی جھوٹی قسم نہیں کھاتا، اگرچہ وہ قسم ایک تازہ مسواک ہی کے لیے ہو، مگر جہنم کی آگ اس پر واجب ہو جاتی ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأحكام/حدیث: 2326]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس منبر کے پاس جو بھی بندہ یا بندی گناہ والی (جھوٹی) قسم کھائے گا، خواہ تازہ مسواک کے لیے کھائے، اس کے لیے جہنم واجب ہو جائے گی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأحكام/حدیث: 2326]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 14949، ومصباح الزجاجة: 815)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/518) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
10. بَابُ: بِمَا يُسْتَحْلَفُ أَهْلُ الْكِتَابِ
باب: اہل کتاب کو کن الفاظ میں قسم دلائی جائے گی اس کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2327
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعَا رَجُلًا مِنْ عُلَمَاءِ الْيَهُودِ فَقَالَ:" أَنْشُدُكَ بِاللهِ الَّذِي أَنْزَلَ التَّوْرَاةَ عَلَى مُوسَى".
براء بن عازب رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک یہودی عالم کو بلایا، اور فرمایا: میں تم کو اس ذات کی قسم دلاتا ہوں جس نے موسیٰ علیہ السلام پر تورات اتاری ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأحكام/حدیث: 2327]
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک یہودی عالم کو بلایا اور فرمایا: میں تجھے اس ذات کی قسم دیتا ہوں جس نے حضرت موسیٰ علیہ السلام پر تورات نازل فرمائی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأحكام/حدیث: 2327]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/الحدود 6 (1700)، سنن ابی داود/الحدود 26 (4447، 4448)، (تحفة الأشراف: 1771)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/286، 290، 300) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: ایسا کہنے سے یہودی کے دل پر زیادہ اثر ہوتا ہے، اور نصرانی سے یوں کہیں گے قسم کھا اس اللہ کی جس نے عیسی علیہ السلام پر انجیل اتاری۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں