Eng Ur-Latn Book Store
🏠 💻 📰 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
9. بَابُ: الرَّجْمِ
باب: زانی کو رجم کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2553
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ " لَقَدْ خَشِيتُ أَنْ يَطُولَ بِالنَّاسِ زَمَانٌ حَتَّى يَقُولَ قَائِلٌ: مَا أَجِدُ الرَّجْمَ فِي كِتَابِ اللَّهِ فَيَضِلُّوا بِتَرْكِ فَرِيضَةٍ مِنْ فَرَائِضِ اللَّهِ أَلَا وَإِنَّ الرَّجْمَ حَقٌّ إِذَا أُحْصِنَ الرَّجُلُ وَقَامَتِ الْبَيِّنَةُ أَوْ كَانَ حَمْلٌ أَوِ اعْتِرَافٌ وَقَدْ قَرَأْتُهَا الشَّيْخُ وَالشَّيْخَةُ إِذَا زَنَيَا فَارْجُمُوهُمَا الْبَتَّةَ رَجَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَجَمْنَا بَعْدَهُ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کہا: مجھے اندیشہ ہے کہ جب زمانہ زیادہ گزر جائے گا تو کہنے والا یہ کہے گا کہ میں کتاب اللہ میں رجم (کا حکم) نہیں پاتا، اور اس طرح لوگ اللہ تعالیٰ کے ایک فریضے کو ترک کر کے گمراہ ہو جائیں، واضح رہے کہ رجم حق ہے، جب کہ آدمی شادی شدہ ہو گواہی قائم ہو، یا حمل ٹھہر جائے، یا زنا کا اعتراف کر لے، اور میں نے رجم کی یہ آیت پڑھی ہے: «الشيخ والشيخة إذا زنيا فارجموهما البتة» جب بوڑھا مرد اور بوڑھی عورت زنا کریں تو ان دونوں کو ضرور رجم کرو ... ۱؎، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رجم کیا، اور آپ کے بعد ہم نے بھی رجم کیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الحدود/حدیث: 2553]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الحدود 30 (6829، 6830)، صحیح مسلم/الحدود 4 (1691)، سنن ابی داود/الحدود 23 (4418)، سنن الترمذی/الحدود 7 (1431، 1432)، (تحفة الأشراف: 10508)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الحدود 1 (1)، مسند احمد (1/ 23، 40، 47، 55)، سنن الدارمی/الحدود 16 (2368) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: بوڑھا مرد اور بوڑھی عورت سے مراد شادی شدہ لوگ ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2554
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: جَاءَ مَاعِزُ بْنُ مَالِكٍ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنِّي زَنَيْتُ فَأَعْرَضَ عَنْهُ، ثُمَّ قَالَ: إِنِّي قَدْ زَنَيْتُ، فَأَعْرَضَ عَنْهُ، ثُمَّ قَالَ: إِنِّي زَنَيْتُ فَأَعْرَضَ عَنْهُ، ثُمَّ قَالَ: قَدْ زَنَيْتُ، فَأَعْرَضَ عَنْهُ، حَتَّى أَقَرَّ أَرْبَعَ مَرَّاتٍ فَأَمَرَ بِهِ أَنْ يُرْجَمَ فَلَمَّا أَصَابَتْهُ الْحِجَارَةُ أَدْبَرَ يَشْتَدُّ فَلَقِيَهُ رَجُلٌ بِيَدِهِ لَحْيُ جَمَلٍ فَضَرَبَهُ فَصَرَعَهُ، فَذُكِرَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِرَارُهُ حِينَ مَسَّتْهُ الْحِجَارَةُ فَقَالَ:" فَهَلَّا تَرَكْتُمُوهُ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ماعز بن مالک رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، اور کہا: میں نے زنا کیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی طرف سے منہ پھیر لیا، انہوں نے پھر کہا: میں نے زنا کیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر منہ پھیر لیا، انہوں نے پھر کہا: میں نے زنا کیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر منہ پھیر لیا، انہوں نے پھر کہا: میں نے زنا کیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر منہ پھیر لیا یہاں تک کہ چار بار زنا کا اقرار کیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ انہیں رجم کر دیا جائے، چنانچہ جب ان پر پتھر پڑے تو وہ پیٹھ پھیر کر بھاگنے لگے، ایک شخص نے انہیں پا لیا، اس کے ہاتھ میں اونٹ کے جبڑے کی ہڈی تھی، اس نے ماعز کو مار کر گرا دیا، پتھر پڑتے وقت ان کے بھاگنے کا تذکرہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آخر تم نے انہیں چھوڑ کیوں نہ دیا؟۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الحدود/حدیث: 2554]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 15034)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الطلاق 11 (5270)، صحیح مسلم/الحدود 5 (1694)، سنن ابی داود/الحدود 24 (4419)، سنن الترمذی/الحدود 5 (1428) (حسن صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: تاکہ ان سے پھر پوچھے شاید وہ اپنے اقرار سے پھر جاتے اور حد ساقط ہو جاتی، زنا کا اقرار ایک بار کرنا حد کے لئے کافی ہے، اور صحیح مسلم میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے غامدیہ کو رجم کیا، اس نے ایک ہی بار اقرار کیا تھا، ایک یہودی اور یہودیہ کا رجم آگے مذکور ہو گا، اس میں بھی چار بار اقرار کا ذکر نہیں ہے۔
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2555
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عُثْمَانَ الدِّمَشْقِيُّ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَمْرٍو ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَبِي الْمُهَاجِرِ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ الْحُصَيْنِ ،" أَنَّ امْرَأَةً أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاعْتَرَفَتْ بِالزِّنَا، فَأَمَرَ بِهَا، فَشُكَّتْ عَلَيْهَا ثِيَابُهَا، ثُمَّ رَجَمَهَا، ثُمَّ صَلَّى عَلَيْهَا".
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک عورت نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر زنا کا اعتراف کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا تو اس کے کپڑے باندھ دئیے گئے، پھر اس کو رجم کیا، اس کے بعد اس کی نماز جنازہ پڑھی ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الحدود/حدیث: 2555]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 10879)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الحدود 5 (1696)، سنن ابی داود/الحدود 25 (4440)، سنن الترمذی/الحدود 9 (1435)، سنن النسائی/الجنائز 64 (1959)، مسند احمد (4/420، 433، 437)، سنن الدارمی/الحدود 17 (2370) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: یعنی آپ نے اس کو رجم کرنے کا حکم دیا تو اس کے کپڑے باندھ دیئے گئے تاکہ بے پردگی نہ ہو، بعضوں نے اس کے حق میں کچھ برے الفاظ نکالے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس نے ایسی توبہ کی ہے کہ اگر وہ سارے مدینہ والوں میں بانٹ دی جائے تو ان کو کافی ہو جائے گی، بے شک یہ عورت اس زمانہ کے تمام عابدوں اور زاہدوں سے درجہ میں زیادہ تھی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے گناہ کا اقرار کیا، سزا پائی، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز جنازہ سے مشرف ہوئی، اللہ ان کے درجہ کو بلند کرے، آمین۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
10. بَابُ: رَجْمِ الْيَهُودِيِّ وَالْيَهُودِيَّةِ
باب: یہودی مرد اور عورت کے رجم کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2556
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" رَجَمَ يَهُودِيَّيْنِ أَنَا فِيمَنْ رَجَمَهُمَا، فَلَقَدْ رَأَيْتُهُ وَإِنَّهُ يَسْتُرُهَا مِنَ الْحِجَارَةِ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک یہودی جوڑے کو رجم کیا، میں بھی اس کو رجم کرنے والوں میں شامل تھا، میں نے دیکھا کہ یہودی مرد یہودیہ کو پتھروں سے بچانے کے لیے آڑے آ جاتا تھا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الحدود/حدیث: 2556]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 8014)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الحدود 24 (6148)، صحیح مسلم/الحدود 6 (1699)، سنن ابی داود/الحدود 26 (4446)، سنن الترمذی/االحدود 10 (1436)، موطا امام مالک/الحدود 1 (1)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/7، 63، 76)، سنن الدارمی/الحدود 15 (2367) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2557
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" رَجَمَ يَهُودِيًّا وَيَهُودِيَّةً".
جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک یہودی اور ایک یہودیہ کو رجم کیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الحدود/حدیث: 2557]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الحدود 10 (1437)، (تحفة الأشراف: 2175)، وقد أخرجہ: (حم (5/91، 94، 96، 97، 104) (صحیح)» ‏‏‏‏ (سابقہ شاہد سے یہ صحیح ہے)
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2558
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، قَالَ: مَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَهُودِيٍّ مُحَمَّمٍ مَجْلُودٍ، فَدَعَاهُمْ فَقَالَ:" هَكَذَا تَجِدُونَ فِي كِتَابِكُمْ حَدَّ الزَّانِي"، قَالُوا: نَعَمْ، فَدَعَا رَجُلًا مِنْ عُلَمَائِهِمْ، فَقَالَ:" أَنْشُدُكَ بِاللَّهِ الَّذِي أَنْزَلَ التَّوْرَاةَ عَلَى مُوسَى أَهَكَذَا تَجِدُونَ حَدَّ الزَّانِي؟" قَالَ: لَا، وَلَوْلَا أَنَّكَ نَشَدْتَنِي لَمْ أُخْبِرْكَ، نَجِدُ حَدَّ الزَّانِي فِي كِتَابِنَا الرَّجْمَ، وَلَكِنَّهُ كَثُرَ فِي أَشْرَافِنَا الرَّجْمُ، فَكُنَّا إِذَا أَخَذْنَا الشَّرِيفَ تَرَكْنَاهُ، وَكُنَّا إِذَا أَخَذْنَا الضَّعِيفَ أَقَمْنَا عَلَيْهِ الْحَدَّ، فَقُلْنَا: تَعَالَوْا فَلْنَجْتَمِعْ عَلَى شَيْءٍ نُقِيمُهُ عَلَى الشَّرِيفِ وَالْوَضِيعِ، فَاجْتَمَعْنَا عَلَى التَّحْمِيمِ وَالْجَلْدِ مَكَانَ الرَّجْمِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اللَّهُمَّ إِنِّي أَوَّلُ مَنْ أَحْيَا أَمْرَكَ إِذْ أَمَاتُوهُ" وَأَمَرَ بِهِ فَرُجِمَ.
براء بن عازب رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر ایک یہودی کے پاس سے ہوا جس کا منہ کالا کیا گیا تھا اور جس کو کوڑے لگائے گئے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان یہودیوں کو بلایا اور پوچھا: کیا تم لوگ اپنی کتاب توریت میں زانی کی یہی حد پاتے ہو؟ لوگوں نے عرض کیا: ہاں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے عالموں میں سے ایک شخص کو بلایا، اور اس سے پوچھا: میں تمہیں اس اللہ کا واسطہ دے کر کہتا ہوں جس نے موسیٰ پر توراۃ نازل فرمائی: کیا تم اپنی کتاب میں زانی کی حد یہی پاتے ہو؟ اس نے جواب دیا: نہیں، اور اگر آپ نے مجھے اللہ کی قسم نہ دی ہوتی تو میں آپ کو کبھی نہ بتاتا، ہماری کتاب میں زانی کی حد رجم ہے، لیکن ہمارے معزز لوگوں میں کثرت سے رجم کے واقعات پیش آئے، تو جب ہم کسی معزز آدمی کو زنا کے جرم میں پکڑتے تو اسے چھوڑ دیتے اور اگر پکڑا جانے والا معمولی آدمی ہوتا تو ہم اس پر حد جاری کرتے، پھر ہم نے لوگوں سے کہا کہ آؤ ایسی حد پر اتفاق کریں کہ جو معزز اور معمولی دونوں قسم کے آدمیوں پر ہم یکساں طور پر قائم کر سکیں، چنانچہ ہم نے رجم کی جگہ منہ کالا کرنے اور کوڑے مارنے کی سزا پر اتفاق کر لیا، یہ سن کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «اللهم إني أول من أحيا أمرك إذ أماتوه» یعنی اے اللہ! میں پہلا وہ شخص ہوں جس نے تیرے اس حکم کو زندہ کیا ہے جسے ان لوگوں نے مردہ کر دیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا اور وہ یہودی رجم کر دیا گیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الحدود/حدیث: 2558]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الحدود 6 (1700)، سنن ابی داود/الحدود 26 (4447)، (تحفة الأشراف: 1771)، وقد أخرجہ: مسند احمد (286، 290، 300) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
11. بَابُ: مَنْ أَظْهَرَ الْفَاحِشَةَ
باب: کوئی عورت فاحشہ معلوم ہو لیکن زنا ثابت نہ ہو تو اس کے حکم کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2559
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ الدِّمَشْقِيُّ ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ عُبَيْدٍ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي جَعْفَرٍ ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَوْ كُنْتُ رَاجِمًا أَحَدًا بِغَيْرِ بَيِّنَةٍ، لَرَجَمْتُ فُلَانَةَ، فَقَدْ ظَهَرَ فِيهَا الرِّيبَةُ فِي مَنْطِقِهَا وَهَيْئَتِهَا، وَمَنْ يَدْخُلُ عَلَيْهَا".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر میں گواہوں کے بغیر کسی کو رجم کرتا تو فلاں عورت کو کرتا، اس لیے کہ اس کی بات چیت سے اس کی شکل و صورت سے اور جو لوگ اس کے پاس آتے ہیں اس سے اس کا فاحشہ ہونا ظاہر ہو چکا ہے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الحدود/حدیث: 2559]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 5877، ومصباح الزجاجة: 905)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الطلاق 31 (5310)، 36 (5316)، الحدود 43 (6856)، صحیح مسلم/اللعان 1 (1497)، سنن النسائی/الطلاق 36 (3497)، مسند احمد (1/335، 357، 365) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اگر کسی عورت کا فاحشہ ہونا معلوم ہو، تو بھی اس کو زنا کی حد نہیں لگا سکتے جب تک کہ اس کی طرف سے جرم کا اعتراف و اقرار نہ ہو، یا چار آدمیوں کی گواہی کا ثبوت نہ ہو۔
قال الشيخ الألباني: صحيح وشطره الأول متفق عليه
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2560
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ خَلَّادٍ الْبَاهِلِيُّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، قَالَ: ذَكَرَ ابْنُ عَبَّاسٍ الْمُتَلَاعِنَيْنِ، فَقَالَ لَهُ ابْنُ شَدَّادٍ: هِيَ الَّتِي قَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَوْ كُنْتُ رَاجِمًا أَحَدًا بِغَيْرِ بَيِّنَةٍ لَرَجَمْتُهَا"، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: تِلْكَ امْرَأَةٌ أَعْلَنَتْ.
قاسم بن محمد کہتے ہیں کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے دو لعان کرنے والوں کا تذکرہ کیا، تو ان سے ابن شداد نے پوچھا: کیا یہ وہی عورت تھی جس کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: اگر میں گواہوں کے بغیر کسی کو رجم کرتا تو اس عورت کو کرتا؟ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: وہ تو ایسی عورت تھی جو علانیہ بدکار تھی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الحدود/حدیث: 2560]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الحدود 30 (6855)، التمني 9 (7238)، صحیح مسلم/اللعان (1497)، (تحفة الأشراف: 6327)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/335، 336، 357، 365) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
12. بَابُ: مَنْ عَمِلَ عَمَلَ قَوْمِ لُوطٍ
باب: قوم لوط کے عمل (اغلام بازی) کی سزا کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2561
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ خَلَّادٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيرِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنْ وَجَدْتُمُوهُ يَعْمَلُ عَمَلَ قَوْمِ لُوطٍ فَاقْتُلُوا الْفَاعِلَ وَالْمَفْعُولَ بِهِ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس کو تم پاؤ کہ وہ قوم لوط کا عمل (اغلام بازی) کر رہا ہے، تو فاعل اور مفعول دونوں کو قتل کر دو۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الحدود/حدیث: 2561]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الحدود 29 (4462)، سنن الترمذی/الحدود 24 (1456)، (تحفة الأشراف: 6176)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/269، 300) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2562
حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نَافِعٍ ، أَخْبَرَنِي عَاصِمُ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الَّذِي يَعْمَلُ عَمَلَ قَوْمِ لُوطٍ قَالَ:" ارْجُمُوا الْأَعْلَى وَالْأَسْفَلَ ارْجُمُوهُمَا جَمِيعًا".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قوم لوط کے عمل یعنی اغلام بازی کرنے والوں کے بارے میں فرمایا: اوپر والا ہو کہ نیچے والا، دونوں کو رجم کر دو۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الحدود/حدیث: 2562]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 12686، ومصباح الزجاجة: 906)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الحدود 24، (1456 تعلیقاً) (حسن)» ‏‏‏‏ (سند میں عاصم بن عمر ضعیف ہیں، لیکن سابقہ شاہد سے تقویت پاکر یہ حسن ہے)
قال الشيخ الألباني: حسن لغيره
قال الشيخ زبير على زئي:حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں