سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1. بَابُ: الْكَفِّ عَمَّنْ قَالَ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ
باب: کلمہ توحید کا اقرار کرنے والے سے ہاتھ روک لینا۔
حدیث نمبر: 3927
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ , وَحَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ , عَنْ الْأَعْمَشِ , عَنْ أَبِي صَالِحٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ , حَتَّى يَقُولُوا: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ , فَإِذَا قَالُوهَا , عَصَمُوا مِنِّي دِمَاءَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ إِلَّا بِحَقِّهَا , وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں اس وقت تک لوگوں سے جنگ کروں جب تک وہ «لا إله إلا الله» نہ کہہ دیں، جب وہ «لا إله إلا الله» کا اقرار کر لیں (اور شرک سے تائب ہو جائیں) تو انہوں نے اپنے مال اور اپنی جان کو مجھ سے بچا لیا، مگر ان کے حق کے بدلے اور ان کا حساب اللہ تعالیٰ کے سپرد ہے“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 3927]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے حکم دیا گیا ہے کہ لوگوں سے جنگ کروں حتیٰ کہ وہ «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللہُ» ”اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں“ کا اقرار کر لیں۔ جب وہ یہ کلمہ پڑھ لیں تو انہوں نے اپنے خون اور مال مجھ سے محفوظ کر لیے، سوائے اس کے کہ اس (اقرار، یعنی کلمے اور اسلام) کا کوئی حق ہو (تو پھر لوگوں کے جان و مال میں تصرف کرنا جائز ہوگا) اور (دل کے معاملات میں) ان کا حساب اللہ عزوجل کے ذمے ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 3927]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «حدیث حفص بن غیاث أخرجہ: صحیح مسلم/الإیمان 8 (21)، (تحفة الأشراف: 12367)، وحدیث أبي معاویة أخرجہ: سنن ابی داود/الجہاد 104 (2640)، سنن الترمذی/الإیمان 1 (2606)، سنن النسائی/المحاربة 1 (3981)، (تحفة الأشراف: 12506)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الزکاة 1 (1399)، الجہاد 102 (2946)، المرتدین 3 (6924)، الاعتصام 2 (7284)، مسند احمد (2/528) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: ”ان کے حق کے بدلے“ کا مطلب یہ ہے کہ اگر کسی نے اس کلمہ کے اقرار کے بعد کوئی ایسا جرم کیا جو قابل حد ہے تو وہ حد اس پر نافذ ہو گی مثلاً چوری کی تو ہاتھ کاٹا جائے گا، زنا کیا تو سو کوڑوں کی یا رجم کی سزا دی جائے گی، کسی کو ناحق قتل کیا تو قصاص میں اسے قتل کیا جائے گا۔
۲؎: ”اور ان کا حساب اللہ کے سپرد ہے“ کا مطلب یہ ہے کہ اگر وہ قبول اسلام میں مخلص نہیں ہوں گے بلکہ منافقانہ طور پر اسلام کا اظہار کریں گے یا قابل حد جرم کا ارتکاب کریں گے، لیکن اسلامی عدالت اور حکام کے علم میں ان کا جرم نہیں آ سکا اور وہ سزا سے بچ گئے، تو ان کا حساب اللہ کے سپرد ہو گا یعنی آخرت میں اللہ تعالیٰ ان کا فیصلہ فرمائے گا۔
۲؎: ”اور ان کا حساب اللہ کے سپرد ہے“ کا مطلب یہ ہے کہ اگر وہ قبول اسلام میں مخلص نہیں ہوں گے بلکہ منافقانہ طور پر اسلام کا اظہار کریں گے یا قابل حد جرم کا ارتکاب کریں گے، لیکن اسلامی عدالت اور حکام کے علم میں ان کا جرم نہیں آ سکا اور وہ سزا سے بچ گئے، تو ان کا حساب اللہ کے سپرد ہو گا یعنی آخرت میں اللہ تعالیٰ ان کا فیصلہ فرمائے گا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم
حدیث نمبر: 3928
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ , حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ , عَنْ الْأَعْمَشِ , عَنْ أَبِي سُفْيَانَ , عَنْ جَابِرٍ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ , حَتَّى يَقُولُوا: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ , فَإِذَا قَالُوا: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ , عَصَمُوا مِنِّي دِمَاءَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ , إِلَّا بِحَقِّهَا , وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللَّهِ".
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے یہ حکم دیا گیا ہے کہ میں اس وقت تک لوگوں سے لڑتا رہوں جب تک وہ «لا إله إلا الله» کا اقرار نہ کر لیں، جب انہوں نے اس کا اقرار کر لیا، تو اپنے مال اور اپنی جان کو مجھ سے بچا لیا، مگر ان کے حق کے بدلے، اور ان کا حساب اللہ تعالیٰ کے سپرد ہے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 3928]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے جنگ کروں حتیٰ کہ وہ «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ» کہہ لیں۔ جب وہ «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ» کہہ لیں گے (اس کا اقرار کر لیں گے) تو انہوں نے اپنے خون اور مال مجھ سے محفوظ کر لیے (ہاں) مگر اس (کلمے) کا کوئی حق ہو (تو پھر لوگوں کے جان و مال میں تصرف کرنا جائز ہوگا) اور ان کا حساب اللہ کے ذمے ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 3928]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الإیمان 8 (21)، سنن النسائی/الجہاد 1 (3092)، تحریم الدم 1 (3982)، (تحفة الأشراف: 2298)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/394) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم
حدیث نمبر: 3929
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَكْرٍ السَّهْمِيُّ , حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ أَبِي صَغِيرَةَ , عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ سَالِمٍ , أَنَّ عَمْرَو بْنَ أَوْسٍ أَخْبَرَهُ , أَنَّ أَبَاهُ أَوْسًا أَخْبَرَهُ , قَالَ: إِنَّا لَقُعُودٌ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَهُوَ يَقُصُّ عَلَيْنَا وَيُذَكِّرُنَا , إِذْ أَتَاهُ رَجُلٌ فَسَارَّهُ , فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اذْهَبُوا بِهِ فَاقْتُلُوهُ" , فَلَمَّا وَلَّى الرَّجُلُ , دَعَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ:" هَلْ تَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ" , قَالَ: نَعَمْ , قَالَ:" اذْهَبُوا فَخَلُّوا سَبِيلَهُ , فَإِنَّمَا أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ , فَإِذَا فَعَلُوا ذَلِكَ , حَرُمَ عَلَيَّ دِمَاؤُهُمْ وَأَمْوَالُهُمْ".
اوس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، اور آپ حکایات و واقعات سنا کر ہمیں نصیحت فرما رہے تھے، کہ اتنے میں ایک شخص حاضر ہوا، اور اس نے آپ کے کان میں کچھ باتیں کیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے لے جا کر قتل کر دو“، جب وہ جانے لگا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پھر واپس بلایا، اور پوچھا: ”کیا تم «لا إله إلا الله» کہتے ہو“؟ اس نے عرض کیا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم لوگ جاؤ اسے چھوڑ دو، کیونکہ مجھے لوگوں سے لڑائی کرنے کا حکم دیا گیا ہے یہاں تک کہ وہ «لا إله إلا الله» کہیں، جب انہوں نے «لا إله إلا الله» کہہ دیا تو اب ان کا خون اور مال مجھ پر حرام ہو گیا“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 3929]
حضرت اوس بن ابو اوس حذیفہ ثقفی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے تھے اور آپ ہمیں وعظ و نصیحت فرما رہے تھے کہ ایک آدمی آیا اور اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے چپکے چپکے بات کی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے لے جاؤ اور قتل کر دو۔“ جب وہ آدمی اٹھ کر چلا تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بلایا اور فرمایا: ”کیا تو گواہی دیتا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں؟“ اس نے کہا: ”جی ہاں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جاؤ اسے آزاد کر دو۔ مجھے حکم دیا گیا ہے کہ لوگوں سے جنگ کروں حتیٰ کہ وہ «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ» ”اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں“ کا اقرار کر لیں۔ جب وہ ایسا کریں تو ان کی جانیں اور مال مجھ پر حرام ہیں۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 3929]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن النسائی/تحریم 1 (3987)، (تحفة الأشراف: 1738، ومصباح الزجاجة: 1373)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/8)، سنن الدارمی/السیر 10 (2490) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
حدیث نمبر: 3930
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ , حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ , عَنْ عَاصِمٍ , عَنْ السُّمَيْطِ بْنِ السَّمِيرِ , عَنْ عِمْرَانَ بْنِ الْحُصَيْنِ , قَالَ: أَتَى نَافِعُ بْنُ الْأَزْرَقِ وَأَصْحَابُهُ , فَقَالُوا: هَلَكْتَ يَا عِمْرَانُ , قَالَ: مَا هَلَكْتُ , قَالُوا: بَلَى , قَالَ: مَا الَّذِي أَهْلَكَنِي؟ قَالُوا: قَالَ اللَّهُ:وَقَاتِلُوهُمْ حَتَّى لا تَكُونَ فِتْنَةٌ وَيَكُونَ الدِّينُ كُلُّهُ لِلَّهِ سورة الأنفال آية 39 , قَالَ: قَدْ قَاتَلْنَاهُمْ حَتَّى نَفَيْنَاهُمْ فَكَانَ الدِّينُ كُلُّهُ لِلَّهِ , إِنْ شِئْتُمْ حَدَّثْتُكُمْ حَدِيثًا سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالُوا: وَأَنْتَ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: نَعَمْ , شَهِدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ بَعَثَ جَيْشًا مِنَ الْمُسْلِمِينَ إِلَى الْمُشْرِكِينَ , فَلَمَّا لَقُوهُمْ قَاتَلُوهُمْ قِتَالًا شَدِيدًا , فَمَنَحُوهُمْ أَكْتَافَهُمْ , فَحَمَلَ رَجُلٌ مِنْ لُحْمَتِي عَلَى رَجُلٍ مِنَ الْمُشْرِكِينَ بِالرُّمْحِ , فَلَمَّا غَشِيَهُ , قَالَ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ إِنِّي مُسْلِمٌ , فَطَعَنَهُ فَقَتَلَهُ , فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , هَلَكْتُ , قَالَ: وَمَا الَّذِي صَنَعْتَ مَرَّةً أَوْ مَرَّتَيْنِ , فَأَخْبَرَهُ بِالَّذِي صَنَعَ , فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فَهَلَّا شَقَقْتَ عَنْ بَطْنِهِ فَعَلِمْتَ مَا فِي قَلْبِهِ" , قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , لَوْ شَقَقْتُ بَطْنَهُ لَكُنْتُ أَعْلَمُ مَا فِي قَلْبِهِ , قَالَ:" فَلَا أَنْتَ قَبِلْتَ مَا تَكَلَّمَ بِهِ , وَلَا أَنْتَ تَعْلَمُ مَا فِي قَلْبِهِ" , قَالَ: فَسَكَتَ عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَلَمْ يَلْبَثْ إِلَّا يَسِيرًا حَتَّى مَاتَ , فَدَفَنَّاهُ فَأَصْبَحَ عَلَى ظَهْرِ الْأَرْضِ , فَقَالُوا: لَعَلَّ عَدُوًّا نَبَشَهُ , فَدَفَنَّاهُ ثُمَّ أَمَرْنَا غِلْمَانَنَا يَحْرُسُونَهُ , فَأَصْبَحَ عَلَى ظَهْرِ الْأَرْضِ , فَقُلْنَا: لَعَلَّ الْغِلْمَانَ نَعَسُوا , فَدَفَنَّاهُ ثُمَّ حَرَسْنَاهُ بِأَنْفُسِنَا , فَأَصْبَحَ عَلَى ظَهْرِ الْأَرْضِ , فَأَلْقَيْنَاهُ فِي بَعْضِ تِلْكَ الشِّعَابِ.
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نافع بن ازرق اور ان کے اصحاب (و تلامیذ) آئے، اور کہنے لگے: عمران! آپ ہلاک و برباد ہو گئے! عمران رضی اللہ عنہ نے کہا: میں ہلاک نہیں ہوا، انہوں نے کہا: کیوں نہیں، آپ ضرور ہلاک ہو گئے، تو انہوں نے کہا: آخر کس چیز نے مجھے ہلاک کیا ہے؟ انہوں نے کہا: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: «وقاتلوهم حتى لا تكون فتنة ويكون الدين كله لله» ”کافروں و مشرکوں سے قتال کرو یہاں تک کہ فتنہ (یعنی شرک) باقی نہ رہے، اور دین پورا کا پورا اللہ کا ہو جائے“ (سورة الأنفال: 39)، عمران رضی اللہ عنہ نے کہا: ہم نے کفار سے اسی طرح لڑائی کی یہاں تک کہ ہم نے ان کو وطن سے باہر نکال دیا، اور دین پورا کا پورا اللہ کا ہو گیا، اگر تم چاہو تو میں تم سے ایک حدیث بیان کروں جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے، ان لوگوں نے کہا: کیا آپ نے اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے؟ کہا: ہاں، میں نے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے، میں آپ کے ساتھ موجود تھا، اور آپ نے مسلمانوں کا ایک لشکر مشرکین کے مقابلے کے لیے بھیجا تھا، جب ان کی مڈبھیڑ مشرکوں سے ہوئی، تو انہوں نے ان سے ڈٹ کر جنگ کی، آخر کار مشرکین نے اپنے کندھے ہماری جانب کر دئیے (یعنی ہار کر بھاگ نکلے)، میرے ایک رشتہ دار نے مشرکین کا تعاقب کر کے ایک مشرک پر نیزے سے حملہ کیا، جب اس کو پکڑ لیا، (اور کافر نے اپنے آپ کو خطرہ میں دیکھا) تو اس نے «أشهد أن لا إله إلا الله» کہہ کر اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کیا، لیکن اس نے اسے برچھی سے مار کر قتل کر دیا، پھر وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا، اور اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں ہلاک اور برباد ہو گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے کیا کیا“؟، ایک بار یا دو بار کہا، اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنا وہ واقعہ بتایا جو اس نے کیا تھا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے اس کا پیٹ کیوں نہیں پھاڑا کہ جان لیتے اس کے دل میں کیا ہے“؟، اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اگر میں اس کا پیٹ پھاڑ دیتا تو کیا میں جان لیتا کہ اس کے دل میں کیا تھا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے نہ تو اس کی بات قبول کی، اور نہ تمہیں اس کی دلی حالت معلوم تھی“ ۱؎۔ عمران رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے متعلق خاموش رہے، پھر وہ کچھ ہی دن زندہ رہ کر مر گیا، ہم نے اسے دفن کیا، لیکن صبح کو اس کی لاش قبر کے باہر پڑی تھی، لوگوں نے خیال ظاہر کیا کہ کسی دشمن نے اس کی لاش نکال پھینکی ہے، خیر پھر ہم نے اس کو دفن کیا، اس کے بعد ہم نے اپنے غلاموں کو حکم دیا کہ اس کی قبر کی حفاظت کریں، لیکن پھر صبح اس کی لاش قبر سے باہر پڑی تھی، ہم نے سمجھا کہ شاید غلام سو گئے (اور کسی دشمن نے آ کر پھر اس کی لاش نکال کر باہر پھینک دی)، آخر ہم نے اس کو دفن کیا، اور رات بھر خود پہرا دیا لیکن پھر اس کی لاش صبح کے وقت قبر کے باہر تھی، پھر ہم نے اس کی لاش ان گھاٹیوں میں سے ایک گھاٹی میں ڈال دی“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 3930]
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: نافع بن ازرق اور اس کے ساتھی آئے، انہوں نے کہا: ”عمران! آپ ہلاک ہو گئے۔“ انہوں نے فرمایا: ”میں ہلاک نہیں ہوا۔“ انہوں نے کہا: ”کیوں نہیں! (آپ ضرور تباہ ہو گئے ہیں)“ حضرت عمران رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میں کیسے ہلاک ہو گیا؟“ ان لوگوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: ﴿وَقَاتِلُوهُمْ حَتَّىٰ لَا تَكُونَ فِتْنَةٌ وَيَكُونَ الدِّينُ كُلُّهُ لِلَّهِ﴾ [سورة الأنفال: 39] ”ان سے جنگ کرو حتیٰ کہ فتنہ باقی نہ رہے اور مکمل طور پر اللہ کا دین غالب ہو جائے۔“ انہوں نے فرمایا: ”ہم نے ان (کفار) سے جنگ کی حتیٰ کہ انہیں ملک (عرب) سے نکال دیا اور اللہ کا دین مکمل طور پر غالب ہو گیا۔ اگر تم چاہو تو تمہیں ایک حدیث سناؤں جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے۔“ انہوں نے کہا: ”آپ نے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے؟“ فرمایا: ”ہاں، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھا (جب آپ نے یہ فرمایا)، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مشرکین سے جنگ کرنے کے لیے مسلمانوں کا ایک لشکر روانہ فرمایا۔ جب ان (مسلمانوں) کا ان (مشرکوں) سے سامنا ہوا تو ان سے شدید جنگ ہوئی۔ آخر وہ لوگ مسلمانوں سے مغلوب ہو گئے۔ میرے رشتے داروں میں سے ایک آدمی نے ایک مشرک پر نیزے سے حملہ کیا۔ جب وہ اس کے سر پر پہنچ گیا تو (دشمن فوج کے) اس شخص نے کہا: «أَشْهَدُ أَنْ لَّا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ» ”میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، میں مسلمان ہوں۔“ اس (صحابی) نے (اس کے کلمۂ شہادت پر یقین نہ کرتے ہوئے) اسے نیزہ مار کر قتل کر دیا۔ پھر وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا: ”اللہ کے رسول! میں تباہ ہو گیا۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بار یا دو بار فرمایا: ”تو نے کیا کیا ہے؟“ اس نے جو کیا تھا بتا دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: ”تو نے اس کا پیٹ کیوں نہ چیر لیا کہ تجھے معلوم ہو جاتا کہ اس کے دل میں کیا ہے؟“ اس نے کہا: ”اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! اگر میں اس کا پیٹ چیرتا تو کیا مجھے معلوم ہو جاتا کہ اس کے دل میں کیا ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر تو نے نہ تو اس کی زبان کے الفاظ کو قبول کیا، نہ تو اس کے دل کی کیفیت سے واقف ہے۔“ راوی بیان کرتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہو گئے (اس کا عذر قبول نہیں فرمایا) کچھ عرصہ بعد وہ فوت ہو گیا، ہم نے اسے دفن کیا۔ صبح ہوئی تو وہ زمین کی سطح پر تھا۔ لوگوں نے کہا: ”شاید کسی دشمن نے اسے قبر سے کھود نکالا ہے۔“ پھر ہم نے اسے دفن کیا اور اپنے لڑکوں کو حکم دیا کہ اس کا پہرہ دیں۔ (اس کے باوجود) وہ (اس کی لاش) صبح کو (قبر سے باہر) زمین پر (پڑی) تھی۔ ہم نے کہا: ”شاید لڑکوں کو اونگھ آ گئی۔“ (ان کی غفلت سے فائدہ اٹھا کر کسی نے میت نکال لی) ہم نے اسے (پھر) دفن کیا اور خود پہرہ دیا۔ (اس کے باوجود) صبح کو اس کی لاش (قبر سے باہر) زمین پر تھی، چنانچہ ہم نے اسے کسی گھاٹی میں پھینک دیا۔ (اور دفن نہ کیا)“ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 3930]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 10828، ومصباح الزجاجة: 1374)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/438) (حسن)» (سند میں سوید بن سعید متکلم فیہ راوی ہیں، نیز علی بن مسہر کے یہاں نابینا ہونے کے بعد غرائب کی روایت ہے، لیکن اگلے طریق سے یہ حسن ہے بوصیری نے اس کی تحسین کی ہے)
وضاحت: ۱؎: اس لئے جب اس نے کلمہ شہادت پڑھ کر اپنے آپ کو مسلمان کہا تو اسے چھوڑ دینا تھا۔
۲؎: نافع بن ازرق وغیرہ نے عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کو مسلمانوں سے لڑنے کا مشورہ دیا، اور یہ سمجھے کہ آیت میں قتال کا حکم فتنہ کے دفع کرنے کے لئے ہے اور عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نے اس حکم کو چھوڑ دیا ہے، جب عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نے یہ جواب دیا کہ آیت میں فتنے سے شرک مراد ہے، اور مشرکین سے ہم ہی لوگوں نے لڑائی کی تھی، اور شرک کو مٹایا تھا، اب تم مسلمانوں سے لڑنا چاہتے ہو جو کلمہ گو ہیں؟ تمہارا حال وہی ہو گا جو اس شخص کا ہوا کہ زمین نے اس کی لاش قبول نہیں کی، اس کو بار بار دفن کرتے تھے، اور زمین اس کو نکال کر قبرسے باہر پھینک دیتی تھی، مسلمان کو قتل کرنے کی یہی سزا ہے، دوسرے ایک صحابی سے منقول ہے کہ مسلمانوں کے آپسی فتنے میں ان کو بھی لڑنے کے لئے کہا گیا، تو انہوں نے کہا کہ ہم نے تو اس واسطے کفار کے خلاف جنگ کی تھی کہ فتنہ باقی نہ رہے اور اللہ تعالی کا دین ایک ہو جائے اور تم اس لئے لڑتے ہو کہ فتنہ پیدا ہو۔
۲؎: نافع بن ازرق وغیرہ نے عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کو مسلمانوں سے لڑنے کا مشورہ دیا، اور یہ سمجھے کہ آیت میں قتال کا حکم فتنہ کے دفع کرنے کے لئے ہے اور عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نے اس حکم کو چھوڑ دیا ہے، جب عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نے یہ جواب دیا کہ آیت میں فتنے سے شرک مراد ہے، اور مشرکین سے ہم ہی لوگوں نے لڑائی کی تھی، اور شرک کو مٹایا تھا، اب تم مسلمانوں سے لڑنا چاہتے ہو جو کلمہ گو ہیں؟ تمہارا حال وہی ہو گا جو اس شخص کا ہوا کہ زمین نے اس کی لاش قبول نہیں کی، اس کو بار بار دفن کرتے تھے، اور زمین اس کو نکال کر قبرسے باہر پھینک دیتی تھی، مسلمان کو قتل کرنے کی یہی سزا ہے، دوسرے ایک صحابی سے منقول ہے کہ مسلمانوں کے آپسی فتنے میں ان کو بھی لڑنے کے لئے کہا گیا، تو انہوں نے کہا کہ ہم نے تو اس واسطے کفار کے خلاف جنگ کی تھی کہ فتنہ باقی نہ رہے اور اللہ تعالی کا دین ایک ہو جائے اور تم اس لئے لڑتے ہو کہ فتنہ پیدا ہو۔
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
وانظر مسند الإمام أحمد (4/ 438) والسند معلول بعلة قادحة: فيه رجل من الحي وھو مجھول،رواه السميط بن السمير عن أبي العلاء عن رجل من الحي أن عمران بن حصين حدثه به إلخ
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 517
إسناده ضعيف
وانظر مسند الإمام أحمد (4/ 438) والسند معلول بعلة قادحة: فيه رجل من الحي وھو مجھول،رواه السميط بن السمير عن أبي العلاء عن رجل من الحي أن عمران بن حصين حدثه به إلخ
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 517
حدیث نمبر: 3930M
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ حَفْصٍ الْأَيْلِيُّ , حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ , عَنْ عَاصِمٍ , عَنْ السُّمَيْطِ , عَنْ عِمْرَانَ بْنِ الْحُصَيْنِ , قَالَ: بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَرِيَّةٍ , فَحَمَلَ رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ عَلَى رَجُلٍ مِنَ الْمُشْرِكِينَ , فَذَكَرَ الْحَدِيثَ وَزَادَ فِيهِ: فَنَبَذَتْهُ الْأَرْضُ , فَأُخْبِرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَقَالَ:" إِنَّ الْأَرْضَ لَتَقْبَلُ مَنْ هُوَ شَرٌّ مِنْهُ , وَلَكِنَّ اللَّهَ أَحَبَّ أَنْ يُرِيَكُمْ تَعْظِيمَ حُرْمَةِ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ".
اس سند سے بھی عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم کو ایک سریہ کے ساتھ روانہ کیا تو ایک مسلمان نے ایک مشرک پر حملہ کیا، پھر راوی نے وہی سابقہ قصہ بیان کیا، اور اتنا اضافہ کیا کہ زمین نے اس کو پھینک دیا، اس کی خبر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دی گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”زمین تو اس سے بھی بدتر آدمی کو قبول کر لیتی ہے، لیکن اللہ تعالیٰ نے چاہا کہ تمہیں یہ دکھائے کہ «لا إله إلا الله» کی حرمت کس قدر بڑی ہے“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 3930M]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 10828)، ومصباح الزجاجة: 1375) (حسن)» (آخری عمر میں حفص بن غیاث کے حافظہ میں معمولی تبدیلی آ گئی تھی، لیکن سابقہ طریق سے تقویت پاکر یہ حسن ہے، بوصیری نے اس کی تحسین کی ہے)
وضاحت: ۱؎: جب کافر نے «لا إله إلا الله» کہہ دیا تو اس کو چھوڑ دینا چاہئے اس شخص نے اس کلمے کا احترام نہیں کیا تو اس کی سزا اللہ تعالیٰ نے تم کو دکھلا دی تاکہ آئندہ تم کو خیال رہے کہ کسی مسلمان کو مت قتل کرو۔
2. بَابُ: حُرْمَةِ دَمِ الْمُؤْمِنِ وَمَالِهِ
باب: مومن کی جان و مال کی حرمت کا بیان۔
حدیث نمبر: 3931
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ , حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ , حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ , عَنْ أَبِي صَالِحٍ , عَنْ أَبِي سَعِيدٍ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ:" أَلَا إِنَّ أَحْرَمَ الْأَيَّامِ يَوْمُكُمْ هَذَا , أَلَا وَإِنَّ أَحْرَمَ الشُّهُورِ شَهْرُكُمْ هَذَا , أَلَا وَإِنَّ أَحْرَمَ الْبَلَدِ بَلَدُكُمْ هَذَا , أَلَا وَإِنَّ دِمَاءَكُمْ وَأَمْوَالَكُمْ عَلَيْكُمْ حَرَامٌ , كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا فِي شَهْرِكُمْ هَذَا , فِي بَلَدِكُمْ هَذَا , أَلَا هَلْ بَلَّغْتُ" , قَالُوا: نَعَمْ , قَالَ:" اللَّهُمَّ اشْهَدْ".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃالوداع کے موقع پر فرمایا: ”آگاہ رہو! تمام دنوں میں سب سے زیادہ حرمت والا تمہارا یہ دن ہے، آگاہ رہو! تمام مہینوں میں سب سے زیادہ حرمت والا تمہارا یہ مہینہ ہے، آگاہ رہو! شہروں میں سب سے زیادہ حرمت والا تمہارا یہ شہر ہے، آگاہ رہو! تمہاری جان، تمہارے مال ایک دوسرے پر اسی طرح حرام ہیں جیسے تمہارا یہ دن تمہارے اس مہینے میں، تمہارے اس شہر میں، آگاہ رہو! کیا میں نے تمہیں اللہ کا پیغام نہیں پہنچا دیا“؟، لوگوں نے عرض کیا: ہاں، آپ نے پہنچا دیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے اللہ تو گواہ رہ“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 3931]
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع میں فرمایا: ”سنو! سب سے زیادہ احترام والا دن تمہارا یہ دن ہے۔ سنو! سب سے زیادہ احترام والا مہینہ تمہارا یہ مہینہ ہے۔ سنو! سب سے زیادہ احترام والا شہر تمہارا یہ شہر ہے۔ سنو! تمہارے خون اور تمہارے مال تمہارے لیے (ایک دوسرے کے لیے) اسی طرح قابلِ احترام ہیں جس طرح تمہارے اس شہر میں اس مہینے میں یہ دن۔ سنو! کیا میں نے (اللہ کا حکم کما حقہ) پہنچا دیا ہے؟“ حاضرین نے کہا: ”جی ہاں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «اللّٰهُمَّ اشْهَدْ» ”یا اللہ! گواہ رہ۔“” [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 3931]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 4022، ومصباح الزجاجة: 1376)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/80، 371) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
حدیث نمبر: 3932
حَدَّثَنَا أَبُو الْقَاسِمِ بْنُ أَبِي ضَمْرَةَ نَصْرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سُلَيْمَانَ الْحِمْصِيُّ , حَدَّثَنَا أَبِي , حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي قَيْسٍ النَّصْرِيُّ , حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ , قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَطُوفُ بِالْكَعْبَةِ , وَيَقُولُ:" مَا أَطْيَبَكِ وَأَطْيَبَ رِيحَكِ , مَا أَعْظَمَكِ وَأَعْظَمَ حُرْمَتَكِ , وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ , لَحُرْمَةُ الْمُؤْمِنِ أَعْظَمُ عِنْدَ اللَّهِ حُرْمَةً مِنْكِ مَالِهِ وَدَمِهِ وَأَنْ , نَظُنَّ بِهِ إِلَّا خَيْرًا".
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خانہ کعبہ کا طواف کرتے دیکھا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ فرما رہے تھے: ”تو کتنا عمدہ ہے، تیری خوشبو کتنی اچھی ہے، تو کتنا بڑے رتبہ والا ہے اور تیری حرمت کتنی عظیم ہے، لیکن قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے، مومن کی حرمت (یعنی مومن کے جان و مال کی حرمت) اللہ تعالیٰ کے نزدیک تجھ سے بھی زیادہ ہے، اس لیے ہمیں مومن کے ساتھ حسن ظن ہی رکھنا چاہیئے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 3932]
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کعبہ شریف کا طواف کرتے ہوئے دیکھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: ”تو کتنا پاکیزہ ہے! اور تیری خوشبو کتنی پاکیزہ ہے! تو کس قدر عظیم ہے! تیرا احترام کتنا عظیم ہے! قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی جان ہے! اللہ کے ہاں مومن کی حرمت تیری حرمت سے بڑھ کر ہے، یعنی اس کے مال اور جان کی حرمت، اور یہ کہ اس کے بارے میں بدگمانی کرنا بھی حرام ہے۔““ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 3932]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 7284، ومصباح الزجاجة: 1377) (حسن)» (سند میں نصر بن محمد ضعیف ہیں، ملاحظہ ہو: تراجع الألبانی: رقم: 89)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
نصر بن محمد: ضعيف
و للحديث شواھد ضعيفة،و روي الترمذي (2032) عن نافع و ذكر الحديث و فيه: ’’ قال: و نظر ابن عمر يومًا إلي البيت أو الكعبة فقال: ما أعظمك و أعظم حرمتك و المؤمن أعظم حرمة عند اللّٰه منك۔‘‘ و قال الترمذي: ’’ ھذا حديث حسن غريب ‘‘ إلخ وسنده حسن وھو يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 517
إسناده ضعيف
نصر بن محمد: ضعيف
و للحديث شواھد ضعيفة،و روي الترمذي (2032) عن نافع و ذكر الحديث و فيه: ’’ قال: و نظر ابن عمر يومًا إلي البيت أو الكعبة فقال: ما أعظمك و أعظم حرمتك و المؤمن أعظم حرمة عند اللّٰه منك۔‘‘ و قال الترمذي: ’’ ھذا حديث حسن غريب ‘‘ إلخ وسنده حسن وھو يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 517
حدیث نمبر: 3933
حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ , حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نَافِعٍ , وَيُونُسُ بْنُ يَحْيَ , جَمِيعًا , عَنْ دَاوُدَ بْنِ قَيْسٍ , عَنْ أَبِي سَعِيدٍ مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ كُرَيْزٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ:" كُلُّ الْمُسْلِمِ عَلَى الْمُسْلِمِ حَرَامٌ دَمُهُ وَمَالُهُ وَعِرْضُهُ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر مسلمان کا خون، مال اور عزت و آبرو دوسرے مسلمان پر حرام ہے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 3933]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر مسلمان دوسرے کے لیے قابل احترام ہے، یعنی اس کی جان، اس کا مال اور اس کی آبرو۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 3933]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/البر والصلة 10 (2564)، (تحفة الأشراف: 14941)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/277، 311، 360) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم
حدیث نمبر: 3934
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ الْمِصْرِيُّ , حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ , عَنْ أَبِي هَانِئٍ , عَنْ عَمْرِو بْنِ مَالِكٍ الْجَنْبِيِّ , أَنَّ فَضَالَةَ بْنَ عُبَيْدٍ حَدَّثَهُ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ:" الْمُؤْمِنُ مَنْ أَمِنَهُ النَّاسُ عَلَى أَمْوَالِهِمْ وَأَنْفُسِهِمْ , وَالْمُهَاجِرُ مَنْ هَجَرَ الْخَطَايَا وَالذُّنُوبَ".
فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مومن وہ ہے جس سے لوگوں کو اپنی جان اور مال کا خوف اور ڈر نہ ہو، اور مہاجر وہ ہے جو برائیوں اور گناہوں کو ترک کر دے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 3934]
حضرت فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مومن وہ ہے جس سے لوگوں کو اپنے مالوں اور اپنی جانوں کے بارے میں خطرہ نہ ہو، اور مہاجر وہ ہے جو غلطیاں اور گناہ ترک کر دے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 3934]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 11039، ومصباح الزجاجة: 1378)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/20، 21، 22) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
3. بَابُ: النَّهْيِ عَنِ النُّهْبَةِ
باب: لوٹ مار سے ممانعت کا بیان۔
حدیث نمبر: 3935
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ , وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى , قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ , حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ , عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ , عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنِ انْتَهَبَ نُهْبَةً مَشْهُورَةً فَلَيْسَ مِنَّا".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو علی الاعلان اور کھلم کھلا طور پر لوٹ مار کرے وہ ہم میں سے نہیں ہے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 3935]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے سر عام (کسی کا مال وغیرہ) چھینا، وہ ہم میں سے نہیں۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 3935]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «(یہ حدیث مکرر ہے، دیکھئے: 2591)، (تحفة الأشراف: 2800) (ضعیف) لتدلیس ابن جریج وأبی الزبیر»
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح