🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Study in Saudi Arabia with a Fully Funded Scholarship Admission Open Join Our Whatsapp Channel For Detail
سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
25. بَابُ: التَّحَرِّي
باب: (نماز شک ہونے کی صورت میں) تحری (صحیح بات جاننے کی کوشش) کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1249
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُسَافِعٍ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ شَكَّ فِي صَلَاتِهِ , فَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ بَعْدَ مَا يُسَلِّمُ".
عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص کو اس کی نماز میں شک ہو جائے، تو وہ سلام پھیرنے کے بعد دو سجدے کرے۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1249]
حضرت عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص کو نماز میں شک ہو تو وہ سلام پھیرنے کے بعد دو سجدے کرے۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1249]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الصلاة 199 (1033)، مسند احمد 1/204، 205، (تحفة الأشراف: 5224) (ضعیف) (اس کے راوی ’’عقبہ یا عتبہ‘‘ لین الحدیث ہیں، نیز ’’عبداللہ بن مسافع‘‘ کے ان سے سماع میں سخت اختلاف ہے)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1250
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ هَاشِمٍ، أَنْبَأَنَا الْوَلِيدُ، أَنْبَأَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُسَافِعٍ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنْ شَكَّ فِي صَلَاتِهِ فَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ بَعْدَ التَّسْلِيمِ".
عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو اپنی نماز میں شک کرے تو وہ سلام پھیرنے کے بعد دو سجدے کرے۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1250]
حضرت عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ سے منقول ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس آدمی کو نماز میں شک پڑ جائے تو وہ سلام پھیرنے کے بعد دو سجدے کرے۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1250]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (ضعیف) (اس کے رواة ’’مصعب‘‘ اور ’’عقبہ یا عتبہ‘‘ لین الحدیث ہیں)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1251
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، قَالَ: ابْنُ جُرَيْجٍ , أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُسَافِعٍ , أَنَّ مُصْعَبَ بْنَ شَيْبَةَ أَخْبَرَهُ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنْ شَكَّ فِي صَلَاتِهِ فَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ بَعْدَ مَا يُسَلِّمُ".
عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو اپنی نماز میں شک کرے تو وہ سلام پھیرنے کے بعد دو سجدے کرے۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1251]
حضرت عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اپنی نماز میں شک کرے تو وہ سلام پھیرنے کے بعد دو سجدے کرے۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1251]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 1249 (ضعیف) (دیکھئے پچھلی دونوں روایتیں)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1252
أَخْبَرَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ , وَرَوْحٌ هُوَ ابْنُ عُبَادَةَ , عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُسَافِعٍ , أَنَّ مُصْعَبَ بْنَ شَيْبَةَ أَخْبَرَهُ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قَالَ:" مَنْ شَكَّ فِي صَلَاتِهِ فَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ" , قَالَ حَجَّاجٌ: بَعْدَ مَا يُسَلِّمُ , وَقَالَ رَوْحٌ: وَهُوَ جَالِسٌ.
عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو اپنی نماز میں شک کرے تو وہ دو سجدے کرے، حجاج کی روایت میں ہے: سلام پھیرنے کے بعد دو سجدے کرے، اور روح کی روایت میں ہے: بیٹھے بیٹھے (دو سجدے کرے)۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1252]
حضرت عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص کو اپنی نماز میں شک ہو جائے تو وہ سلام کے بعد بیٹھے بیٹھے دو سجدے کرے۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1252]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 1249 (ضعیف) (دیکھئے پچھلی روایات)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1253
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا قَامَ يُصَلِّي جَاءَهُ الشَّيْطَانُ فَلَبَسَ عَلَيْهِ صَلَاتَهُ حَتَّى لَا يَدْرِيَ كَمْ صَلَّى , فَإِذَا وَجَدَ أَحَدُكُمْ ذَلِكَ , فَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں کوئی کھڑا ہو کر نماز پڑھتا ہے تو شیطان اس کے پاس آتا ہے، اور اس پر اس کی نماز کو گڈمڈ کر دیتا ہے، یہاں تک کہ وہ نہیں جان پاتا کہ اس نے کتنی نماز پڑھی ہے، لہٰذا جب تم میں سے کوئی ایسا محسوس کرے تو بیٹھے بیٹھے دو سجدے کرے۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1253]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی نماز پڑھنے کھڑا ہوتا ہے تو شیطان آکر اس پر اس کی نماز مشتبہ کر دیتا ہے حتیٰ کہ اسے پتہ نہیں چلتا کہ کتنی نماز پڑھی ہے، جب تم میں سے کوئی شخص یہ صورت حال پائے تو (یقین کے مطابق نماز مکمل کرکے سلام پھیرے اور) بیٹھے بیٹھے دو سجدے کرے۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1253]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/السھو 7 (1232)، صحیح مسلم/الصلاة 8 (389)، سنن ابی داود/الصلاة 198 (1030)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الصلاة 1 (6)، (تحفة الأشراف: 15244) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1254
أَخْبَرَنَا بِشْرُ بْنُ هِلَالٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ هِشَامٍ الدَّسْتَوَائِيِّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا نُودِيَ لِلصَّلَاةِ أَدْبَرَ الشَّيْطَانُ لَهُ ضُرَاطٌ , فَإِذَا قُضِيَ التَّثْوِيبُ أَقْبَلَ حَتَّى يَخْطُرَ بَيْنَ الْمَرْءِ وَقَلْبِهِ حَتَّى لَا يَدْرِيَ كَمْ صَلَّى , فَإِذَا رَأَى أَحَدُكُمْ ذَلِكَ فَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب نماز کے لیے اذان دی جاتی ہے تو شیطان ہوا خارج کرتے ہوئے پیٹھ پھیر کر بھاگتا ہے، پھر جب اقامت کہہ دی جاتی ہے تو وہ واپس لوٹ آتا ہے یہاں تک کہ آدمی کے دل میں گھس کر وسوسے ڈالتا ہے، یہاں تک کہ وہ جان نہیں پاتا کہ اس نے کتنی نماز پڑھی، لہٰذا جب تم میں سے کوئی اس قسم کی صورت حال دیکھے تو وہ دو سجدے کرے۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1254]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب نماز کے لیے اذان کہی جاتی ہے تو شیطان گوز مارتا ہوا بھاگ جاتا ہے۔ جب اقامت پوری ہو جاتی ہے تو واپس آ جاتا ہے حتیٰ کہ نمازی اور اس کے دل کے درمیان حائل ہو جاتا ہے یہاں تک کہ اسے پتا نہیں چلتا کہ اس نے کتنی نماز پڑھی ہے؟ جب تم میں سے کوئی شخص یہ صورت حال دیکھے (محسوس کرے) تو (نماز یقین کے مطابق مکمل کرنے کے بعد) دو سجدے کرے۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1254]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/السہو 7 (1231)، صحیح مسلم/الصلاة 8 (398)، مسند احمد 2/522، سنن الدارمی/الصلاة 174 (1535)، (تحفة الأشراف: 15423) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
26. بَابُ: مَا يَفْعَلُ مَنْ صَلَّى خَمْسًا
باب: آدمی پانچ رکعتیں پڑھ لے تو کیا کرے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1255
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى , وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ , وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّى , قَالَا: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ شُعْبَةَ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ , قَالَ: صَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ خَمْسًا , فَقِيلَ لَهُ: أَزِيدَ فِي الصَّلَاةِ , قَالَ:" وَمَا ذَاكَ" , قَالُوا: صَلَّيْتَ خَمْسًا , فَثَنَى رِجْلَهُ وَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ.
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر کی نماز پانچ (رکعت) پڑھی، تو آپ سے عرض کیا گیا: کیا نماز میں زیادتی کر دی گئی ہے؟ تو آپ نے پوچھا: وہ کیا؟ لوگوں نے کہا: آپ نے پانچ (رکعت) پڑھی ہے، تو آپ نے اپنا پاؤں موڑا اور دو سجدے کیے۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1255]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر کی پانچ رکعتیں پڑھا دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا گیا: کیا نماز میں اضافہ ہو گیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا ہوا؟ لوگوں نے عرض کیا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانچ رکعتیں پڑھی ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا پاؤں موڑا (یعنی قبلہ رخ ہوئے) اور دو سجدے کیے۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1255]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الصلاة 32 (404)، السہو 2 (1226)، أخبار الآحاد 1 (7249)، صحیح مسلم/المساجد 19 (572)، سنن ابی داود/الصلاة 196 (1019)، سنن الترمذی/الصلاة 173 (392)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 130 (1205)، مسند احمد 1/376، 443، 465، سنن الدارمی/الصلاة 175 (1539)، (تحفة الأشراف: 9411)، ویأتي عند المؤلف برقم: 1256 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1256
أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ، قَالَ: أَنْبَأَنَا ابْنُ شُمَيْلٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ , وَمُغِيرَةُ , عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ: صَلَّى بِهِمُ الظُّهْرَ خَمْسًا , فَقَالُوا:" إِنَّكَ صَلَّيْتَ خَمْسًا" , فَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ بَعْدَ مَا سَلَّمَ وَهُوَ جَالِسٌ".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو ظہر کی نماز پانچ رکعت پڑھائی، تو لوگوں نے عرض کیا: آپ نے پانچ (رکعت) پڑھائی ہے، تو آپ نے سلام پھیرنے کے بعد بیٹھے بیٹھے دو سجدے کیے۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1256]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ظہر کی نماز پانچ رکعتیں پڑھا دیں، لوگوں نے کہا: آپ نے پانچ پڑھی ہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرنے کے بعد بیٹھے بیٹھے دو سجدے کیے۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1256]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 1255، وتفرد بہ النسائي من طریق مغیرة بن مقسم، (تحفة الأشراف: 9449) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1257
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ آدَمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُفَضَّلُ بْنُ مُهَلْهَلٍ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سُوَيْدٍ، قَالَ: صَلَّى عَلْقَمَةُ خَمْسًا , فَقِيلَ لَهُ , فَقَالَ: مَا فَعَلْتُ , قُلْتُ بِرَأْسِي: بَلَى , قَالَ: وَأَنْتَ يَا أَعْوَرُ , فَقُلْتُ: نَعَمْ , فَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ، ثُمَّ حَدَّثَنَا، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَنَّهُ صَلَّى خَمْسًا فَوَشْوَشَ الْقَوْمُ بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ , فَقَالُوا لَهُ: أَزِيدَ فِي الصَّلَاةِ , قَالَ:" لَا فَأَخْبَرُوهُ" فَثَنَى رِجْلَهُ فَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ، ثُمَّ قَالَ:" إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ أَنْسَى كَمَا تَنْسَوْنَ".
ابراہیم بن سوید کہتے ہیں کہ علقمہ نے پانچ (رکعت) نماز پڑھی، تو ان سے (اس زیادتی کے بارے میں) کہا گیا، تو انہوں نے کہا: میں نے (ایسا) نہیں کیا ہے، تو میں نے اپنے سر کے اشارہ سے کہا: کیوں نہیں؟ آپ نے ضرور کیا ہے، انہوں نے کہا: اور تم اس کی گواہی دیتے ہو اے اعور! تو میں نے کہا: ہاں (دیتا ہوں) تو انہوں نے دو سجدے کیے، پھر انہوں نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پانچ (رکعتیں) پڑھیں، تو لوگ ایک دوسرے سے کھسر پھسر کرنے لگے، ان لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: کیا نماز میں اضافہ کر دیا گیا ہے؟ آپ نے فرمایا: نہیں، لوگوں نے آپ کو بتایا (کہ آپ نے پانچ رکعتیں پڑھی ہیں)، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا پاؤں موڑا، اور دو سجدے کیے، پھر فرمایا: میں انسان ہی ہوں، میں (بھی) بھول سکتا ہوں جس طرح تم بھولتے ہو۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1257]
ابراہیم بن سوید سے روایت ہے کہ حضرت علقمہ نے ایک دفعہ پانچ رکعتیں پڑھا دیں۔ انہیں بتایا گیا تو وہ کہنے لگے: میں نے تو ایسا نہیں کیا۔ میں نے سر کے اشارے سے کہا: کیوں نہیں؟ (آپ نے کیا ہے) وہ کہنے لگے: اے اعور! تو بھی ایسے ہی کہتا ہے؟ میں نے کہا: ہاں۔ پھر انہوں نے دو سجدے کیے۔ پھر انہوں نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے واسطے سے حدیث بیان کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی (ایک دفعہ) پانچ رکعات پڑھا دی تھیں۔ لوگ ایک دوسرے سے کانا پھوسی کرنے لگے۔ انہوں نے آپ سے کہا: کیا نماز میں اضافہ ہو گیا ہے؟ آپ نے فرمایا: نہیں۔ انہوں نے آپ کو بتایا تو آپ نے اپنے پاؤں سیدھے (قبلہ رخ) کیے اور دو سجدے کیے، پھر فرمایا: میں بھی ایک انسان ہوں۔ جس طرح تم بھولتے ہو، میں بھی بھول جاتا ہوں۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1257]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/المساجد 19 (572)، سنن ابی داود/الصلاة 196 (1022) مختصراً، مسند احمد 1/438، 448، (تحفة الأشراف: 9409)، ویأتي ہذا الحدیث عند المؤلف برقم: 1259 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1258
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ مَالِكِ بْنِ مِغْوَلٍ، قَالَ: سَمِعْتُ الشَّعْبِيَّ , يَقُولُ: سَهَا عَلْقَمَةُ بْنُ قَيْسٍ فِي صَلَاتِهِ فَذَكَرُوا لَهُ بَعْدَ مَا تَكَلَّمَ , فَقَالَ: أَكَذَلِكَ يَا أَعْوَرُ , قَالَ: نَعَمْ , فَحَلَّ حُبْوَتَهُ، ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيِ السَّهْوِ , وَقَالَ: هَكَذَا فَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: وَسَمِعْتُ الْحَكَمَ , يَقُولُ: كَانَ عَلْقَمَةُ صَلَّى خَمْسًا.
مالک بن مغول کہتے ہیں کہ میں نے (عامری شراحیل) شعبی کو کہتے ہوئے سنا کہ علقمہ بن قیس سے نماز میں سہو ہو گیا، تو لوگوں نے آپ سے میں گفتگو کرنے کے بعد ان سے اس کا ذکر کیا، تو انہوں نے پوچھا: کیا ایسا ہی ہے، اے اعور! (ابراہیم بن سوید نے) کہا: ہاں، تو انہوں نے اپنا حبوہ ۱؎ کھولا، پھر سہو کے دو سجدے کیے، اور کہنے لگے: اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا ہے، (مالک بن مغول) نے کہا: اور میں نے حکم (ابن عتیبہ) کو کہتے ہوئے سنا کہ علقمہ نے پانچ (رکعتیں) پڑھی تھیں۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1258]
حضرت شعبی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت علقمہ بن قیس رحمہ اللہ اپنی نماز میں بھول گئے۔ ان کے کلام وغیرہ کرنے کے بعد لوگوں نے ان سے ذکر کیا تو کہنے لگے: اے اعور! کیا ایسے ہی ہوا ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں۔ انہوں نے اپنی گوٹھ کھولی، پھر سہو کے دو سجدے کیے اور کہنے لگے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے کیا تھا۔ (راویِ حدیث) مالک بن مغول رحمہ اللہ نے کہا: میں نے حضرت حکم بن عتیبہ رحمہ اللہ کو فرماتے سنا کہ علقمہ رحمہ اللہ نے (سہواً) پانچ رکعتیں پڑھ لی تھیں۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1258]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، مسند احمد 1/438 (صحیح) (اس حدیث میں علقمہ نے عبداللہ بن مسعود کا ذکر نہیں کیا ہے، جن سے اوپر صحیح حدیث گزری، اس لیے یہ سند مرسل ہے، لیکن اصل حدیث دوسرے طرق سے صحیح ہے، اور امام نسائی نے اس طریق کو اس کی علت ارسال کی وضاحت کے لیے کیا ہے، یہ بھی واضح رہے کہ مزی نے تحفة الاشراف میں اس حدیث کا ذکر نہیں کیا ہے، جب کہ اس کا مقام مراسیل علقمہ بن قیس النخعی ہے)»
وضاحت: ۱؎: حبوہ: ایک طرح کی بیٹھک ہے جس میں سرین کو زمین پر ٹکا کر دونوں رانوں کو دونوں ہاتھ سے باندھ لیا جاتا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں