سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
34. بَابُ: قَبْضِ الثِّنْتَيْنِ مِنْ أَصَابِعِ الْيَدِ الْيُمْنَى وَعَقْدِ الْوُسْطَى وَالإِبْهَامِ مِنْهَا
باب: دائیں ہاتھ کی انگلیوں میں سے دو کو سمیٹ کر رکھنے اور بیچ والی انگلی اور انگوٹھے کو ملا کر حلقہ بنانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1269
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ زَائِدَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ كُلَيْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي , أَنَّ وَائِلَ بْنَ حُجْرٍ ,: قُلْتُ: لَأَنْظُرَنَّ إِلَى صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَيْفَ يُصَلِّي؟ فَنَظَرْتُ إِلَيْهِ فَوَصَفَ , قَالَ: ثُمَّ قَعَدَ وَافْتَرَشَ رِجْلَهُ الْيُسْرَى وَوَضَعَ كَفَّهُ الْيُسْرَى عَلَى فَخِذِهِ وَرُكْبَتِهِ الْيُسْرَى , وَجَعَلَ حَدَّ مِرْفَقِهِ الْأَيْمَنِ عَلَى فَخِذِهِ الْيُمْنَى، ثُمَّ قَبَضَ اثْنَتَيْنِ مِنْ أَصَابِعِهِ وَحَلَّقَ حَلْقَةً , ثُمَّ رَفَعَ أُصْبُعَهُ فَرَأَيْتُهُ يُحَرِّكُهَا يَدْعُو بِهَا" مُخْتَصَرٌ.
وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے (اپنے جی میں) کہا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کو دیکھوں گا کہ آپ کیسے پڑھتے ہیں؟ تو میں نے دیکھا، پھر انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نماز پڑھنے کی کیفیت بیان کی، اور کہا: پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا بایاں پیر بچھایا، اور اپنی بائیں ہتھیلی اپنی بائیں ران اور گھٹنے پر رکھا، اور اپنی دائیں کہنی کے سرے کو اپنی دائیں ران پر کیا، پھر اپنی انگلیوں میں سے دو کو سمیٹا، اور (باقی انگلیوں میں سے دو سے) حلقہ بنایا، پھر اپنی شہادت کی انگلی اٹھائی تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ اسے ہلا رہے تھے، اس کے ذریعہ دعا مانگ رہے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1269]
حضرت وائل بن حجر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں نے ارادہ کیا کہ میں ضرور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کو بغور دیکھوں گا کہ آپ کیسے نماز پڑھتے ہیں۔ میں نے غور سے دیکھا…… پھر انہوں نے بیان کیا کہ ……… پھر آپ بیٹھے اور اپنا بایاں پاؤں بچھایا اور اپنی بائیں ہتھیلی اپنی بائیں ران اور گھٹنے پر رکھی اور اپنی دائیں کہنی کا کنارہ اپنی دائیں ران پر رکھا۔ پھر (اپنے دائیں ہاتھ کی) دو انگلیاں بند کیں اور (درمیانی انگلی اور انگوٹھے سے) حلقہ بنایا۔ پھر اپنی انگشتِ شہادت کو اٹھایا۔ میں نے آپ کو دیکھا، آپ اسے حرکت دیتے تھے اور اس کے ساتھ دعا کرتے تھے۔ یہ روایت مختصر ہے۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1269]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 890 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
35. بَابُ: بَسْطِ الْيُسْرَى عَلَى الرُّكْبَةِ
باب: بائیں (ہاتھ) کو گھٹنے پر رکھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1270
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كَانَ إِذَا جَلَسَ فِي الصَّلَاةِ وَضَعَ يَدَيْهِ عَلَى رُكْبَتَيْهِ , وَرَفَعَ أُصْبُعَهُ الَّتِي تَلِي الْإِبْهَامَ , فَدَعَا بِهَا وَيَدُهُ الْيُسْرَى عَلَى رُكْبَتِهِ بَاسِطُهَا عَلَيْهَا".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز میں بیٹھتے تو آپ اپنے دونوں ہاتھوں کو اپنے دونوں گھٹنوں پر رکھ لیتے، اور جو انگلی انگوٹھے سے لگی ہوتی اسے اٹھاتے، اور اس سے دعا مانگتے، اور آپ کا بایاں ہاتھ آپ کے بائیں گھٹنے پر پھیلا ہوتا تھا، (یعنی: بائیں ہتھیلی کو حلقہ بنانے کے بجائے اس کی ساری انگلیاں بائیں گھٹنے پر پھیلائے رکھتے تھے)۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1270]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز میں بیٹھتے تو اپنے دونوں ہاتھ اپنے گھٹنوں پر رکھتے اور انگوٹھے کے ساتھ والی انگلی اٹھاتے اور اس کے ساتھ دعا کرتے اور بائیں ہاتھ کو کھول کر گھٹنے پر رکھتے۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1270]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/المساجد 21 (580)، سنن الترمذی/الصلاة 105 (294)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 27 (913)، مسند احمد 2/147، (تحفة الأشراف: 8128) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
حدیث نمبر: 1271
أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْوَزَّانُ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، قَالَ: ابْنُ جُرَيْجٍ , أَخْبَرَنِي زِيَادٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ، عَنْ عَامِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَانَ" يُشِيرُ بِأُصْبُعِهِ إِذَا دَعَا وَلَا يُحَرِّكُهَا" , قَالَ: ابْنُ جُرَيْجٍ , وَزَادَ عَمْرٌو , قَالَ: أَخْبَرَنِي عَامِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ" رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُو كَذَلِكَ , وَيَتَحَامَلُ بِيَدِهِ الْيُسْرَى عَلَى رِجْلِهِ الْيُسْرَى".
عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب دعا کرتے تو اپنی انگلی سے اشارہ کرتے تھے، اور اسے ہلاتے نہیں تھے ۱؎۔ ابن جریج کہتے ہیں کہ عمرو نے (اس میں) اضافہ کیا ہے، انہوں نے کہا کہ عامر بن عبداللہ بن زبیر نے مجھے خبر دی، وہ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ اسی طرح دعا کرتے، اور آپ اپنے بائیں ہاتھ سے اپنے بائیں پاؤں کو تھامے رہتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1271]
حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب دعا کرتے (تشہد پڑھتے) تو اپنی انگلی سے اشارہ کرتے اور اسے حرکت نہیں دیتے تھے۔ دوسری روایت میں حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے یہ مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ اسی طرح دعا کرتے تھے اور آپ اپنا بایاں ہاتھ (کھول کر) اپنی بائیں ٹانگ پر رکھتے تھے اور اس پر بوجھ ڈالتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1271]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الصلاة 186 (989، 990)، مسند احمد 4/3، سنن الدارمی/الصلاة 83 (1377)، (تحفة الأشراف: 5264) (شاذ) صرف ’’ولا یحرکھا‘‘ کا جملہ شاذ ہے۔»
وضاحت: ۱؎: حدیث کے اس ٹکڑے ”اور اس کو ہلاتے نہیں تھے“ کو بعض علماء نے ”شاذ“ قرار دیا ہے، اور بعض اس کا یہ معنی بیان کرتے ہیں کہ ”کبھی بھی نہیں ہلاتے تھے، اور صرف اشارہ پر اکتفاء کرتے تھے“ یا یہ مطلب ہے کہ صرف اشارہ کے عمل کو وائل رضی اللہ عنہ نے ”ہلاتے رہتے تھے“ سے تعبیر کر دیا ہے، اور ابن زبیر رضی اللہ عنہم نے اصل حقیقت بیان کر دی ہے، یعنی اشارہ کرتے تھے ہلاتے نہیں تھے، ہمارے خیال میں: تمام روایات کا خلاصہ یہ ہے کہ آپ اشارہ تو بلاتعیین وقت کرتے تھے، رہی ہلانے کی بات تو کبھی ہلاتے تھے اور کبھی نہیں ہلاتے تھے، جس نے جو دیکھا اسے بیان کر دیا، یا مطلب یہ ہے کہ اشارہ میں انگلی کا ہل جانا بالکل ممکن ہے اس کو وائل رضی اللہ عنہ نے ”ہلاتے تھے“ سے تعبیر کر دیا، اصل کام اشارہ تھا۔
قال الشيخ الألباني: شاذ بزيادة ولا يحركها
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، ابو داود (989) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 330
36. بَابُ: الإِشَارَةِ بِالأُصْبُعِ فِي التَّشَهُّدِ
باب: تشہد میں انگلی سے اشارہ کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1272
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمَّارٍ الْمَوْصِلِيُّ، عَنِ الْمُعَافَى، عَنْ عِصَامِ بْنِ قُدَامَةَ، عَنْ مَالِكٍ وَهُوَ ابْنُ نُمَيْرٍ الْخُزَاعِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ:" رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاضِعًا يَدَهُ الْيُمْنَى عَلَى فَخِذِهِ الْيُمْنَى فِي الصَّلَاةِ وَيُشِيرُ بِأُصْبُعِهِ".
نمیر خزاعی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نماز میں اپنا دایاں ہاتھ اپنی دائیں ران پر رکھے ہوئے تھے، اور اپنی انگلی سے اشارہ کر رہے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1272]
حضرت نمیر خزاعی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دورانِ نماز میں دایاں ہاتھ دائیں ران پر رکھے ہوئے دیکھا، آپ اپنی انگلی سے اشارہ فرما رہے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1272]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الصلاة186 (991)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 27 (911)، (تحفة الأشراف: 11710)، مسند احمد 3/471، ویأتي عند المؤلف برقم: 1275 (صحیح) (شواہد سے تقویت پاکر یہ روایت بھی صحیح ہے ورنہ اس کے راوی ”مالک“ لین الحدیث ہیں)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن
37. بَابُ: النَّهْىِ عَنِ الإِشَارَةِ، بِأُصْبُعَيْنِ وَبِأَىِّ أُصْبُعٍ يُشِيرُ
باب: دو انگلیوں سے اشارہ کرنے کی ممانعت اور کس انگلی سے اشارہ کرے؟
حدیث نمبر: 1273
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ عِيسَى، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ عَجْلَانَ، عَنِ الْقَعْقَاعِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَجُلًا كَانَ يَدْعُو بِأُصْبُعَيْهِ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَحِّدْ أَحِّدْ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی اپنی دو انگلیوں سے اشارہ کر رہا تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک سے (اشارہ) کرو ایک سے“۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1273]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے، ایک آدمی اپنی دو انگلیوں سے اشارہ کر رہا تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک انگلی سے اشارہ کر، ایک انگلی سے اشارہ کر۔“ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1273]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الدعوات 105 (3557)، (تحفة الأشراف: 12865)، مسند احمد 2/420، 520 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، ترمذي (3557) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 330
حدیث نمبر: 1274
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ الْمُخَرِّمِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ سَعْدٍ , قَالَ: مَرَّ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَأَنَا أَدْعُو بِأَصَابِعِي , فَقَالَ:" أَحِّدْ أَحِّدْ وَأَشَارَ بِالسَّبَّابَةِ".
سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میرے پاس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گزرے، اور میں (تشہد میں) اپنی انگلیوں ۱؎ سے (اشارہ کرتے ہوئے) دعا کر رہا تھا، تو آپ نے فرمایا: ”ایک سے (اشارہ) کرو ایک سے“، اور آپ نے شہادت کی انگلی سے اشارہ کیا۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1274]
حضرت سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس سے گزرے جبکہ میں اپنی کئی انگلیوں سے اشارہ کر رہا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک سے کر، ایک سے کر۔“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی (دائیں ہاتھ کی) انگشت شہادت کے ساتھ اشارہ کیا۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1274]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الصلاة 358 (1499)، (تحفة الأشراف: 3850) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس سے پہلے والی روایت میں، دو انگلیوں سے اشارہ کرنے کا ذکر ہے اس لیے اسے اقل جمع یعنی دو پر محمول کیا جائے گا، یا یہ مانا جائے کہ یہ دو الگ الگ واقعات ہیں، واللہ اعلم۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، ابو داود (1499) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 331
38. بَابُ: إِحْنَاءِ السَّبَّابَةِ فِي الإِشَارَةِ
باب: اشارہ میں شہادت کی انگلی کو جھکانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1275
أَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى الصُّوفِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عِصَامُ بْنُ قُدَامَةَ الْجَدَلِيُّ قَالَ: حَدَّثَنِي مَالِكُ بْنُ نُمَيْرٍ الْخُزَاعِيُّ مِنْ أَهْلِ الْبَصْرَةِ , أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ , أَنَّهُ:" رَأَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَاعِدًا فِي الصَّلَاةِ , وَاضِعًا ذِرَاعَهُ الْيُمْنَى عَلَى فَخِذِهِ الْيُمْنَى , رَافِعًا أُصْبُعَهُ السَّبَّابَةَ قَدْ أَحْنَاهَا شَيْئًا وَهُوَ يَدْعُو".
نمیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز میں بیٹھے ہوئے دیکھا، اس حال میں کہ آپ اپنا دایاں ہاتھ اپنی دائیں ران پر رکھے ہوئے تھے، اور اپنی شہادت کی انگلی اٹھائے ہوئے تھے، اور آپ نے اسے کچھ جھکا رکھا تھا، اور آپ دعا کر رہے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1275]
حضرت نمیر خزاعی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز میں بیٹھے ہوئے دیکھا، آپ نے اپنا دایاں بازو اپنی دائیں ران پر رکھا تھا اور اپنی انگشتِ شہادت اٹھا رکھی تھی، البتہ اسے کچھ جھکایا ہوا تھا اور آپ تشہد پڑھ رہے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1275]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 1272 (منکر) (انگلی کو جھکانے کا ’’تذکرہ‘‘ منکر ہے، اس کے راوی ”مالک“ لین الحدیث ہیں، اور اس ٹکڑے میں ان کا کوئی متابع نہیں ہے، باقی کے صحیح شواہد موجود ہیں)۔»
قال الشيخ الألباني: منكر بزيادة الإحناء
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن
39. بَابُ: مَوْضِعِ الْبَصَرِ عِنْدَ الإِشَارَةِ وَتَحْرِيكِ السَّبَّابَةِ
باب: شہادت کی انگلی کو ہلانے اور اشارہ کرنے کے وقت نظر کی جگہ کا بیان۔
حدیث نمبر: 1276
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ عَامِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كَانَ إِذَا قَعَدَ فِي التَّشَهُّدِ , وَضَعَ كَفَّهُ الْيُسْرَى عَلَى فَخِذِهِ الْيُسْرَى وَأَشَارَ بِالسَّبَّابَةِ , لَا يُجَاوِزُ بَصَرُهُ إِشَارَتَهُ".
عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب تشہد میں بیٹھتے تھے تو اپنی بائیں ہتھیلی بائیں ران پر رکھتے، اور شہادت کی انگلی سے اشارہ کرتے، آپ کی نگاہ آپ کے اشارہ سے آگے نہیں بڑھتی تھی۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1276]
حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب تشہد میں بیٹھتے تو اپنی بائیں ہتھیلی اپنی بائیں ران پر رکھتے اور (دائیں ہاتھ کی) انگشت شہادت سے اشارہ فرماتے، آپ کی نظر اشارے سے آگے نہیں جاتی تھی۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1276]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/المساجد 21 (579)، سنن ابی داود/الصلاة 186 (988) مختصراً، (تحفة الأشراف: 5263)، مسند احمد 4/3 (حسن صحیح)»
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
40. بَابُ: النَّهْىِ عَنْ رَفْعِ الْبَصَرِ، إِلَى السَّمَاءِ عِنْدَ الدُّعَاءِ فِي الصَّلاَةِ
باب: نماز میں دعا کے وقت آسمان کی طرف نگاہ اٹھانے سے ممانعت کا بیان۔
حدیث نمبر: 1277
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي اللَّيْثُ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَيَنْتَهِيَنَّ أَقْوَامٌ عَنْ رَفْعِ أَبْصَارِهِمْ عِنْدَ الدُّعَاءِ فِي الصَّلَاةِ إِلَى السَّمَاءِ , أَوْ لَتُخْطَفَنَّ أَبْصَارُهُمْ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نماز میں دعا کے وقت لوگ اپنی نگاہوں کو آسمان کی طرف اٹھانے سے باز آ جائیں، ورنہ ان کی نگاہیں اچک لی جائیں گی“۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1277]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگ نماز کے دوران میں دعا کے وقت آسمان کی طرف نظریں اٹھانے سے باز آ جائیں ورنہ ان کی نظریں اچک لی جائیں گی۔“ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1277]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الصلاة 26 (429)، مسند احمد 2/333، 367، (تحفة الأشراف: 13631) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یہ ممانعت حالت نماز میں ہے، نماز سے باہر دعا کرنے والا آسمان کی طرف نظر اٹھا سکتا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
41. بَابُ: إِيجَابِ التَّشَهُّدِ
باب: تشہد کے وجوب کا بیان۔
حدیث نمبر: 1278
أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَبُو عُبَيْدِ اللَّهِ الْمَخْزُومِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَان، عَنِ الْأَعْمَشِ , وَمَنْصُورٌ، عَنْ شَقِيقِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: كُنَّا نَقُولُ فِي الصَّلَاةِ قَبْلَ أَنْ يُفْرَضَ التَّشَهُّدُ: السَّلَامُ عَلَى اللَّهِ , السَّلَامُ عَلَى جِبْرِيلَ وَمِيكَائِيلَ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تَقُولُوا هَكَذَا , فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ هُوَ السَّلَامُ , وَلَكِنْ قُولُوا: التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ , السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ , السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ , أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ".
ابن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ نماز میں تشہد کے فرض کئے جانے سے پہلے «السلام على اللہ السلام على جبريل وميكائيل» ”سلام ہو اللہ پر، سلام ہو جبرائیل اور میکائیل پر“ کہا کرتے تھے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم لوگ اس طرح نہ کہو، کیونکہ اللہ تو خود سلام ہے، بلکہ یوں کہو: «التحيات لله والصلوات والطيبات السلام عليك أيها النبي ورحمة اللہ وبركاته السلام علينا وعلى عباد اللہ الصالحين أشهد أن لا إله إلا اللہ وأشهد أن محمدا عبده ورسوله» ”تمام قولی، فعلی اور مالی عبادتیں اللہ ہی کے لیے ہیں، اے نبی آپ پر اللہ کی جانب سے سلامتی ہو، اور آپ پر اس کی رحمتیں اور اس کی برکتیں نازل ہوں، سلامتی ہو ہم پر اور اللہ کے نیک بندوں پر، میں گواہی دیتا ہوں کہ نہیں ہے کوئی معبود برحق سوائے اللہ کے، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں“۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1278]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ تشہد فرض ہونے سے پہلے ہم کہا کرتے تھے: «السَّلَامُ عَلَى اللّٰهِ، السَّلَامُ عَلَىٰ جِبْرِيلَ وَمِيكَائِيلَ» ”اللہ پر سلام ہو۔ جبریل و میکائیل پر سلام ہو۔“ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایسے نہ کہو کیونکہ اللہ عزوجل خود سلام ہے، لیکن یوں کہو: «التَّحِيَّاتُ لِلّٰهِ ……… وَرَسُولُهُ» ”تمام آداب (یا قولی عبادات) اور تمام دعائیں اور نمازیں (یا بدنی عبادات) اور پاکیزہ کلمات (یا مالی عبادات) اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں۔ اے نبی! آپ پر اللہ تعالیٰ کا سلام، رحمت اور برکتیں ہوں۔ ہم پر اور اللہ تعالیٰ کے نیک بندوں پر بھی سلام ہو۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اس کے بندے اور رسول ہیں۔““ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1278]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 1166، 1171 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، سفيان بن عيينة مدلس وعنعن فى هذا اللفظ. والحديث السابق (1171) يغني عنه. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 331