🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
26. بَابُ: مَا يَفْعَلُ مَنْ صَلَّى خَمْسًا
باب: آدمی پانچ رکعتیں پڑھ لے تو کیا کرے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1259
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ , أَنَّ عَلْقَمَةَ صَلَّى خَمْسًا فَلَمَّا سَلَّمَ , قَالَ: إِبْرَاهِيمُ بْنُ سُوَيْدٍ: يَا أَبَا شِبْلٍ صَلَّيْتَ خَمْسًا , فَقَالَ: أَكَذَلِكَ يَا أَعْوَرُ , فَسَجَدَ سَجْدَتَيِ السَّهْوِ , ثُمَّ قَالَ: هَكَذَا فَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ابراہیم سے روایت ہے کہ علقمہ نے پانچ (رکعتیں) پڑھیں، جب انہوں نے سلام پھیرا، تو ابراہیم بن سوید نے کہا: ابو شبل (علقمہ)! آپ نے پانچ رکعتیں پڑھی ہیں، انہوں نے کہا: کیا ایسا ہوا ہے اے اعور؟ (انہوں نے کہا: ہاں) تو علقمہ نے سہو کے دو سجدے کیے، پھر کہا: اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1259]
ابراہیم بن سوید رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ حضرت علقمہ رحمہ اللہ نے پانچ رکعتیں پڑھ لیں۔ میں نے کہا: اے ابوشبل! (علقمہ کی کنیت ہے) آپ نے پانچ رکعتیں پڑھی ہیں۔ کہنے لگے: اے اعور! کیا حقیقتاً ایسے ہی ہے؟ پھر انہوں نے سہو کے دو سجدے کیے۔ پھر کہنے لگے: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے ہی کیا تھا۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1259]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 1257 (صحیح) (علقمہ نے اس حدیث میں صحابی کا ذکر نہیں کیا، اس لیے یہ روایت مرسل ہے، لیکن اصل حدیث علقمہ نے عبداللہ بن مسعود سے روایت کی ہے، جیسا کہ اوپر گزرا، اس لیے یہ حدیث بھی صحیح ہے، اور امام نسائی نے اس طریق کو اس کی علت ارسال کی وضاحت کے لیے کیا ہے، یہ بھی واضح رہے کہ مزی نے تحفة الاشراف میں اس حدیث کا ذکر نہیں کیا ہے، جب کہ اس کا مقام مراسیل علقمہ بن قیس النخعی ہے)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1260
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ النَّهْشَلِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , صَلَّى إِحْدَى صَلَاتَيِ الْعَشِيِّ خَمْسًا , فَقِيلَ لَهُ: أَزِيدَ فِي الصَّلَاةِ , قَالَ:" وَمَا ذَاكَ" , قَالُوا: صَلَّيْتَ خَمْسًا , قَالَ:" إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ أَنْسَى كَمَا تَنْسَوْنَ وَأَذْكُرُ كَمَا تَذْكُرُونَ فَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ، ثُمَّ انْفَتَلَ".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شام کی دونوں نمازوں (یعنی ظہر اور عصر) میں سے کوئی ایک نماز پانچ رکعت پڑھائی، تو آپ سے کہا گیا: کیا نماز میں اضافہ کر دیا گیا ہے؟ آپ نے پوچھا: وہ کیا؟ لوگوں نے عرض کیا: آپ نے پانچ رکعتیں پڑھی ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں انسان ہی تو ہوں، میں بھی بھولتا ہوں جس طرح تم بھولتے، ہو اور مجھے بھی یاد رہتا ہے جیسے تمہیں یاد رہتا ہے، پھر آپ نے دو سجدے کیے، اور پیچھے کی طرف پلٹے۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1260]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پچھلے پہر کی دو نمازوں (ظہر اور عصر) میں سے کوئی ایک نماز پانچ رکعت پڑھا دی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا: کیا نماز میں اضافہ ہو گیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا ہوا؟ انہوں نے کہا: آپ نے پانچ رکعتیں پڑھی ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں بھی ایک انسان ہوں۔ بھول جاتا ہوں جس طرح تم بھول جاتے ہو اور یاد رکھتا ہوں جس طرح تم یاد رکھتے ہو۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو سجدے فرمائے اور تشریف لے گئے۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1260]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/المساجد 19 (572)، مسند احمد 1/409، 420، 428، 463، (تحفة الأشراف: 9171) (حسن صحیح)»
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
27. بَابُ: مَا يَفْعَلُ مَنْ نَسِيَ شَيْئًا مِنْ صَلاَتِهِ
باب: جو شخص اپنی نماز میں سے کوئی چیز بھول جائے وہ کیا کرے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1261
أَخْبَرَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ اللَّيْثِ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ مَوْلَى عُثْمَانَ، عَنْ أَبِيهِ يُوسُفَ، أَنَّ مُعَاوِيَةَ صَلَّى أَمَامَهُمْ فَقَامَ فِي الصَّلَاةِ وَعَلَيْهِ جُلُوسٌ , فَسَبَّحَ النَّاسُ فَتَمَّ عَلَى قِيَامِهِ، ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ بَعْدَ أَنْ أَتَمَّ الصَّلَاةَ، ثُمَّ قَعَدَ عَلَى الْمِنْبَرِ , فَقَالَ: إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ:" مَنْ نَسِيَ شَيْئًا مِنْ صَلَاتِهِ فَلْيَسْجُدْ مِثْلَ هَاتَيْنِ السَّجْدَتَيْنِ".
یوسف سے روایت ہے کہ معاویہ رضی اللہ عنہ نے لوگوں کے آگے نماز پڑھی (یعنی ان کی امامت کی) تو وہ نماز میں کھڑے ہو گئے، حالانکہ انہیں بیٹھنا چاہیئے تھا، تو لوگوں نے سبحان اللہ کہا، پر وہ کھڑے ہی رہے، اور نماز پوری کر لی، پھر بیٹھے بیٹھے دو سجدے کیے، پھر منبر پر بیٹھے، اور کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: جو اپنی نماز میں سے کوئی چیز بھول جائے تو وہ ان دونوں سجدوں کی طرح سجدے کر لے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1261]
حضرت یوسف (اموی) رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے انہیں امام بن کر نماز پڑھائی، وہ نماز میں (ایک مقام پر) کھڑے ہو گئے جبکہ انہیں بیٹھنا چاہیے تھا، لوگوں نے «سُبْحَانَ اللّٰهِ» کہا لیکن وہ کھڑے رہے، پھر انہوں نے نماز پوری کرنے کے بعد بیٹھے بیٹھے دو سجدے کیے، پھر منبر پر بیٹھ گئے اور فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا: جو شخص اپنی نماز میں سے کچھ بھول جائے تو وہ ان دو سجدوں کی طرح سجدے کرے۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1261]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، مسند احمد 4/100، (تحفة الأشراف: 11452) (ضعیف) (اس کے راوی ’’یوسف‘‘ اور ان کے بیٹے ”محمد“ دونوں لین الحدیث ہیں)»
وضاحت: ۱؎: ایک تو یہ حدیث سند کے اعتبار سے ضعیف ہے، دوسرے اس میں مذکور بھول بالکل عام نہیں ہے، بلکہ رکن کے سوا کسی اور چیز کی بھول مراد ہے، معاویہ رضی اللہ عنہ قعدہ اولیٰ بھولے تھے جو رکن نہیں ہے، اس طرح کی بھول کا کفارہ سجدہ سہو ہو سکتا ہے، جیسا کہ اگلی حدیث میں آ رہا ہے۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
28. بَابُ: التَّكْبِيرِ فِي سَجْدَتَىِ السَّهْوِ
باب: سہو کے دونوں سجدوں میں اللہ اکبر کہنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1262
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، قَالَ: أَنْبَأَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرٌو , وَيُونُسُ , وَاللَّيْثُ , أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ أَخْبَرَهُمْ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ ابْنَ بُحَيْنَةَ حَدَّثَهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" قَامَ فِي الثِّنْتَيْنِ مِنَ الظُّهْرِ فَلَمْ يَجْلِسْ فَلَمَّا قَضَى صَلَاتَهُ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ كَبَّرَ فِي كُلِّ سَجْدَةٍ وَهُوَ جَالِسٌ قَبْلَ أَنْ يُسَلِّمَ , وَسَجَدَهُمَا النَّاسُ مَعَهُ مَكَانَ مَا نَسِيَ مِنَ الْجُلُوسِ".
عبداللہ بن بحینہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ظہر کی دوسری رکعت کے بعد (بغیر قعدہ کے) کھڑے ہو گئے، پھر (واپس) نہیں بیٹھے، پھر جب آپ نے اپنی نماز پوری کر لی تو جو تشہد آپ بھول گئے تھے اس کے عوض بیٹھے بیٹھے سلام پھیرنے سے پہلے دو سجدے کیے، اور ہر سجدہ میں اللہ اکبر کہا، آپ کے ساتھ لوگوں نے (بھی) یہ دونوں سجدے کیے۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1262]
حضرت عبداللہ بن بحینہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ظہر کی دو رکعتوں کے بعد (بیٹھنے کی بجائے) سیدھے کھڑے ہو گئے۔ پھر (توجہ دلانے پر بھی) واپس نہ بیٹھے۔ جب نماز پوری فرما لی تو سلام پھیرنے سے پہلے بیٹھے بیٹھے دو سجدے کیے۔ ہر سجدے میں «اللّٰهُ أَكْبَرُ» اللہ بہت بڑا ہے کہتے تھے۔ لوگوں نے بھی آپ کے ساتھ سجدے کیے۔ یہ اس قعدے کی جگہ تھے جو آپ بھول گئے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1262]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 1178 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
29. بَابُ: صِفَةِ الْجُلُوسِ فِي الرَّكْعَةِ الَّتِي يَقْضِي فِيهَا الصَّلاَةَ
باب: آخری رکعت میں بیٹھنے کی کیفیت (تورک) کا بیان؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1263
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ , وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارِ بُنْ دَارٍ وَاللَّفْظُ لَهُ , قَالَا: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ , قَالَ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ السَّاعِدِيِّ، قَالَ:" كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا كَانَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ اللَّتَيْنِ تَنْقَضِي فِيهِمَا الصَّلَاةُ , أَخَّرَ رِجْلَهُ الْيُسْرَى وَقَعَدَ عَلَى شِقِّهِ مُتَوَرِّكًا، ثُمَّ سَلَّمَ".
ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب ان دو رکعتوں میں ہوتے تھے جن میں نماز ختم ہوتی ہے، تو آپ (قعدہ میں) اپنا بایاں پاؤں (داہنی طرف) نکال دیتے، اور اپنی ایک سرین پر ٹیک لگا کر بیٹھتے پھر سلام پھیرتے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1263]
حضرت ابوحمید ساعدی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، انہوں نے فرمایا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان دو رکعتوں کے بعد جن پر نماز ختم ہوتی ہے (تشہد میں بیٹھتے وقت) اپنا بایاں پاؤں دائیں طرف (پنڈلی کے نیچے سے) باہر نکال لیتے اور سرین پر (زور دے کر) بیٹھتے، پھر سلام پھیرتے۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1263]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 1040 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس بیٹھک کو تورک کہتے ہیں، اس سے پتہ چلا کہ قعدہ اخیرہ میں اس طرح بیٹھنا سنت ہے، بعض لوگ اسے کبرسنی پر محمول کرتے ہیں لیکن اس پر محمول کرنے کے لیے ان کے پاس کوئی صحیح دلیل نہیں، نیز بعض لوگوں کا یہ کہنا بھی درست نہیں کہ فجر کے قعدہ اخیرہ میں تورک ثابت نہیں، اس حدیث کے الفاظ سے صراحت کے ساتھ یہ ثابت ہو رہا ہے کہ قعدہ اخیرہ میں تورک کرتے تھے، اب خواہ یہ قعدہ اخیرہ فجر و مغرب کا ہو یا چار رکعتوں والی نمازوں کا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1264
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ، قَالَ:" رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ إِذَا افْتَتَحَ الصَّلَاةَ , وَإِذَا رَكَعَ , وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ , وَإِذَا جَلَسَ أَضْجَعَ الْيُسْرَى وَنَصَبَ الْيُمْنَى , وَوَضَعَ يَدَهُ الْيُسْرَى عَلَى فَخِذِهِ الْيُسْرَى وَيَدَهُ الْيُمْنَى عَلَى فَخِذِهِ الْيُمْنَى , وَعَقَدَ ثِنْتَيْنِ الْوُسْطَى وَالْإِبْهَامَ وَأَشَارَ".
وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، جب آپ نماز شروع کرتے تو اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے، اور جب رکوع میں جاتے اور رکوع سے اپنا سر اٹھاتے (تو بھی اسی طرح اٹھاتے) اور جب آپ (قعدہ میں) بیٹھتے تو بایاں (پاؤں) لٹاتے، اور دایاں (پاؤں) کھڑا رکھتے، اور اپنا بایاں ہاتھ اپنی بائیں ران پر اور دایاں ہاتھ دائیں ران پر رکھتے، اور درمیان والی انگلی اور انگوٹھے دونوں کو ملا کر گرہ بناتے، اور اشارہ کرتے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1264]
حضرت وائل بن حجر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ جب نماز شروع فرماتے، جب رکوع فرماتے اور جب رکوع سے سر اٹھاتے تو رفع الیدین کرتے، اور آپ جب بیٹھتے تو بائیں پاؤں کو بچھاتے اور دایاں کھڑا کرتے اور اپنا بایاں ہاتھ اپنی بائیں ران پر رکھتے اور دایاں ہاتھ دائیں ران پر رکھتے اور انگوٹھے اور درمیانی انگلی سے حلقہ بناتے اور (انگشت شہادت سے) اشارہ فرماتے۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1264]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 890 و 1160 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس حدیث میں یہ صراحت نہیں ہے کہ یہ بیان آخری قعدہ کے بارے میں ہے، اس لیے باب سے مناسبت واضح نہیں، یا یہ مراد ہے کہ یہ بیان دونوں قعدوں کے بارے میں ہے، تو یہ بھی درست نہیں، کیونکہ ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ کی حدیث صحیحین کی ہے نیز تورک کے بارے میں واضح ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
30. بَابُ: مَوْضِعِ الذِّرَاعَيْنِ
باب: (نماز میں بیٹھنے کی حالت میں) ہاتھوں کے رکھنے کی جگہ کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1265
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ مَيْمُونٍ الرَّقِّيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ وَهُوَ ابْنُ يُوسُفَ الْفِرْيَابِيُّ , قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ , أَنَّهُ:" رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَلَسَ فِي الصَّلَاةِ فَافْتَرَشَ رِجْلَهُ الْيُسْرَى وَوَضَعَ ذِرَاعَيْهِ عَلَى فَخِذَيْهِ , وَأَشَارَ بِالسَّبَّابَةِ يَدْعُو بِهَا".
وائل بن حجر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نماز میں بیٹھے تو آپ نے اپنا بایاں پاؤں بچھایا، اور اپنے دونوں ہاتھ اپنی دونوں رانوں پر رکھا، اور شہادت کی انگلی سے اشارہ کیا، آپ اس کے ذریعہ دعا کر رہے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1265]
حضرت وائل بن حجر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، آپ نماز میں بیٹھے اور اپنا بایاں پاؤں بچھایا اور اپنے دونوں بازو اپنی رانوں پر رکھے اور تشہد پڑھتے وقت انگشتِ شہادت سے اشارہ فرمایا۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1265]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الصلاة 102 (292) مختصراً، (تحفة الأشراف: 11784) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
31. بَابُ: مَوْضِعِ الْمِرْفَقَيْنِ
باب: نماز میں بیٹھنے کی حالت میں کہنیوں کے رکھنے کی جگہ کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1266
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ كُلَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ، قَالَ:" قُلْتُ لَأَنْظُرَنَّ إِلَى صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَيْفَ يُصَلِّي , فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ فَرَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى حَاذَتَا أُذُنَيْهِ، ثُمَّ أَخَذَ شِمَالَهُ بِيَمِينِهِ , فَلَمَّا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ رَفَعَهُمَا مِثْلَ ذَلِكَ وَوَضَعَ يَدَيْهِ عَلَى رُكْبَتَيْهِ , فَلَمَّا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ رَفَعَهُمَا مِثْلَ ذَلِكَ , فَلَمَّا سَجَدَ وَضَعَ رَأْسَهُ بِذَلِكَ الْمَنْزِلِ مِنْ يَدَيْهِ، ثُمَّ جَلَسَ فَافْتَرَشَ رِجْلَهُ الْيُسْرَى وَوَضَعَ يَدَهُ الْيُسْرَى عَلَى فَخِذِهِ الْيُسْرَى , وَحَدَّ مِرْفَقَهُ الْأَيْمَنَ عَلَى فَخِذِهِ الْيُمْنَى وَقَبَضَ ثِنْتَيْنِ وَحَلَّقَ وَرَأَيْتُهُ يَقُولُ: هَكَذَا , وَأَشَارَ بِشْرٌ بِالسَّبَّابَةِ مِنَ الْيُمْنَى وَحَلَّقَ الْإِبْهَامَ وَالْوُسْطَى".
وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے (اپنے جی میں) کہا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ کر رہوں گا کہ آپ نماز کیسے پڑھتے ہیں، تو (میں نے دیکھا کہ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے، اور قبلہ رو ہوئے اور اپنے دونوں ہاتھوں کو اتنا اٹھایا کہ وہ آپ کے کانوں کے بالمقابل ہو گئے، پھر اپنے دائیں (ہاتھ) سے اپنے بائیں (ہاتھ) کو پکڑا، پھر جب رکوع میں جانے کا ارادہ کیا تو ان دونوں کو پھر اسی طرح اٹھایا، اور اپنے ہاتھوں کو اپنے گھٹنوں پر رکھا، پھر جب رکوع سے اپنا سر اٹھایا تو پھر ان دونوں کو اسی طرح اٹھایا، پھر جب سجدہ کیا تو اپنے سر کو اپنے دونوں ہاتھوں کے درمیان اسی جگہ پر رکھا ۱؎، پھر آپ بیٹھے تو اپنا بایاں پاؤں بچھایا، اور اپنا بایاں ہاتھ اپنی بائیں ران پر رکھا، اور اپنی دائیں کہنی کو اپنی دائیں ران سے دور رکھا، پھر اپنی دو انگلیاں بند کیں، اور حلقہ بنایا، اور میں نے انہیں اس طرح کرتے دیکھا۔ بشر نے داہنے ہاتھ کی شہادت کی انگلی سے اشارہ کیا، اور انگوٹھے اور درمیانی انگلی کا حلقہ بنایا۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1266]
حضرت وائل بن حجر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ (ایک دفعہ) میں نے (اپنے دل میں) کہا کہ «وَاللّٰهِ» اللہ کی قسم! میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کو بغور دیکھوں گا کہ آپ کیسے نماز پڑھتے ہیں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے، قبلے کی طرف منہ فرمایا اور اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے حتیٰ کہ وہ کانوں کے برابر ہو گئے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بائیں ہاتھ کو دائیں سے پکڑ لیا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع کا ارادہ فرمایا تو انہیں پھر اسی طرح اٹھایا اور اپنے ہاتھ اپنے گھٹنوں پر رکھے، چنانچہ جب رکوع سے سر اٹھایا تو دونوں ہاتھ پھر اسی طرح اٹھائے، پھر جب سجدہ کیا تو اپنا سر اپنے ہاتھوں کے ساتھ رفع الیدین والی کیفیت میں رکھا (جہاں تک ہاتھ اٹھائے تھے، وہیں تک ہاتھ سجدے میں سر کے قریب رہے) پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ گئے اور اپنا بایاں پاؤں بچھایا اور اپنا بایاں ہاتھ بائیں ران پر رکھا اور دائیں کہنی کا کنارہ اپنی دائیں ران پر رکھا، دو (چھنگلی اور اس کے ساتھ والی) انگلیاں بند کیں اور انگوٹھے اور درمیانی انگلی سے حلقہ بنایا اور انگشتِ شہادت سے اشارہ کیا۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1266]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 890 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی اپنا سر اس طرح رکھا کہ دونوں ہاتھ دونوں کانوں کے بالمقابل ہو گئے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
32. بَابُ: مَوْضِعِ الْكَفَّيْنِ
باب: تشہد میں ہتھیلیوں کے رکھنے کی جگہ کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1267
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ شَيْخٌ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ، ثُمَّ لَقِيتُ الشَّيْخَ , فَقَالَ: سَمِعْتُ عَلِيَّ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , يَقُولُ:" صَلَّيْتُ إِلَى جَنْبِ ابْنِ عُمَرَ فَقَلَّبْتُ الْحَصَى , فَقَالَ لِي ابْنُ عُمَرَ: لَا تُقَلِّبِ الْحَصَى , فَإِنَّ تَقْلِيبَ الْحَصَى مِنَ الشَّيْطَانِ وَافْعَلْ كَمَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُ , قُلْتُ: وَكَيْفَ رَأَيْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُ؟ قَالَ: هَكَذَا وَنَصَبَ الْيُمْنَى وَأَضْجَعَ الْيُسْرَى , وَوَضَعَ يَدَهُ الْيُمْنَى عَلَى فَخِذِهِ الْيُمْنَى , وَيَدَهُ الْيُسْرَى عَلَى فَخِذِهِ الْيُسْرَى وَأَشَارَ بِالسَّبَّابَةِ".
علی بن عبدالرحمٰن کہتے ہیں کہ میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہم کے بغل میں نماز پڑھی، تو میں کنکریوں کو الٹنے پلٹنے لگا، (نماز سے فارغ ہونے پر) انہوں نے مجھ سے کہا: (نماز میں) کنکریاں مت پلٹو، کیونکہ کنکریاں کو الٹنا پلٹنا شیطان کی جانب سے ہے، (بلکہ) اس طرح کرو جس طرح میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کرتے دیکھا ہے، میں نے کہا: آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کیسے کرتے دیکھا ہے؟، انہوں نے کہا: اس طرح سے، اور انہوں نے دائیں پیر کو قعدہ میں کھڑا کیا، اور بائیں پیر کو لٹایا ۱؎، اور اپنا دایاں ہاتھ اپنی دائیں ران پر اور بایاں ہاتھ اپنی بائیں ران پر رکھا، اور شہادت کی انگلی سے اشارہ کیا ۲؎۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1267]
حضرت علی بن عبدالرحمن بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کے پاس نماز پڑھی، میں کنکریوں کو الٹ پلٹ کرنے لگا تو مجھے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کہنے لگے: کنکریوں کو نہ چھیڑو کیونکہ کنکریوں سے کھیلنا شیطانی فعل ہے بلکہ اس طرح کرو جیسے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کرتے دیکھا۔ میں نے کہا: آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کیسے کرتے دیکھا ہے؟ فرمایا: ایسے۔ پھر حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے اپنا دایاں پاؤں کھڑا کیا اور بائیں کو بچھایا اور اپنا دایاں ہاتھ اپنی دائیں ران پر رکھا اور بایاں ہاتھ اپنی بائیں ران پر رکھا اور آپ نے شہادت کی انگلی سے اشارہ کیا۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1267]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 1161 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: دائیں پاؤں کو کھڑا کر کے بائیں پاؤں کو بچھا کر اس پر بیٹھنے والی ساری روایتیں مبہم ہیں، اور ابوحمید رضی اللہ عنہ والی روایت کہ جس میں قعدہ اخیرہ میں تورک کا ذکر ہے، مفصل ہے اس لیے انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ مبہم کو مفصل پر محمول کیا جائے۔ ۲؎: دونوں قعدوں میں دائیں ہاتھ کے انگوٹھے اور درمیانی انگلی کا حلقہ بنا کر دائیں گھٹنے پر رکھنا، اور شہادت کی انگلی سے اشارہ کرنا سنت ہے اس اشارہ کا کوئی وقت متعین نہیں ہے، شروع تشہد سے اخیر تک اشارہ کرتے رہنا چاہیئے، اور اس اشارہ میں کبھی انگلی کو حرکت دینا اور کبھی نہ دینا دونوں ثابت ہے، اس بابت تمام روایات کا یہی حاصل ہے، صرف «أشھد أن لا إلہ إلا اللہ» پر اشارہ کرنا ثابت نہیں ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
33. بَابُ: قَبْضِ الأَصَابِعِ مِنَ الْيَدِ الْيُمْنَى دُونَ السَّبَّابَةِ
باب: نماز شہادت کی انگلی کے علاوہ دائیں ہاتھ کی تمام انگلیوں کو سمیٹ کر رکھنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1268
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: رَآنِي ابْنُ عُمَرَ وَأَنَا أَعْبَثُ بِالْحَصَى فِي الصَّلَاةِ , فَلَمَّا انْصَرَفَ نَهَانِي , وَقَالَ: اصْنَعْ كَمَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُ , قُلْتُ: وَكَيْفَ كَانَ يَصْنَعُ؟ قَالَ: كَانَ" إِذَا جَلَسَ فِي الصَّلَاةِ وَضَعَ كَفَّهُ الْيُمْنَى عَلَى فَخِذِهِ وَقَبَضَ يَعْنِي أَصَابِعَهُ كُلَّهَا وَأَشَارَ بِإِصْبَعِهِ الَّتِي تَلِي الْإِبْهَامَ , وَوَضَعَ كَفَّهُ الْيُسْرَى عَلَى فَخِذِهِ الْيُسْرَى".
علی بن عبدالرحمٰن کہتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہم نے مجھے نماز میں کنکریوں سے کھیلتے دیکھا تو نماز سے فارغ ہونے کے بعد انہوں نے مجھے منع کیا، اور کہا: اس طرح کیا کرو جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کرتے تھے، میں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کس طرح کرتے تھے؟ کہا: جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں بیٹھتے تو اپنی دائیں ہتھیلی اپنی دائیں ران پر رکھتے ۱؎، اور اپنی سبھی انگلیاں سمیٹے رکھتے، اور اپنی اس انگلی سے جو انگوٹھے کے قریب ہے اشارہ کرتے، اور اپنی بائیں ہتھیلی اپنی بائیں ران پر رکھتے ۲؎۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1268]
حضرت علی بن عبدالرحمٰن بیان کرتے ہیں کہ مجھے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے نماز کے دوران میں کنکریوں سے کھیلتے دیکھا، جب وہ نماز سے فارغ ہوئے تو انہوں نے مجھے روکا اور فرمایا: اس طرح کرو جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کرتے تھے۔ میں نے کہا: آپ کیسے کرتے تھے؟ انہوں نے فرمایا: آپ جب نماز میں بیٹھتے تو اپنی دائیں ہتھیلی کو (دائیں) ران پر رکھتے اور اپنی تمام انگلیاں بند کر لیتے اور اس انگلی سے اشارہ فرماتے جو انگوٹھے کے ساتھ ملتی ہے اور اپنا بایاں ہاتھ اپنی بائیں ران پر رکھتے۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1268]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 1161 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اور ایک روایت میں ہے اپنے داہنے گھٹنے پر۔ ۲؎: اور ایک روایت میں ہے اپنے بائیں گھٹنے پر۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں