🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
94. بَابُ: مَنْ آتَاهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مَالاً مِنْ غَيْرِ مَسْأَلَةٍ
باب: جس شخص کو اللہ تعالیٰ بغیر مانگے مال دے دے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2606
أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَبُو عُبَيْدِ اللَّهِ الْمَخْزُومِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ حُوَيْطِبِ بْنِ عَبْدِ الْعُزَّى، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ السَّعْدِيِّ، أَنَّهُ قَدِمَ عَلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنَ الشَّامِ فَقَالَ: أَلَمْ أُخْبَرْ أَنَّكَ تَعْمَلُ عَلَى عَمَلٍ مِنْ أَعْمَالِ الْمُسْلِمِينَ، فَتُعْطَى عَلَيْهِ عُمَالَةً فَلَا تَقْبَلُهَا، قَالَ: أَجَلْ إِنَّ لِي أَفْرَاسًا وَأَعْبُدًا وَأَنَا بِخَيْرٍ، وَأُرِيدُ أَنْ يَكُونَ عَمَلِي صَدَقَةً عَلَى الْمُسْلِمِينَ، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: إِنِّي أَرَدْتُ الَّذِي أَرَدْتَ، وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْطِينِي الْمَالَ، فَأَقُولُ: أَعْطِهِ مَنْ هُوَ أَفْقَرُ إِلَيْهِ مِنِّي، وَإِنَّهُ أَعْطَانِي مَرَّةً مَالًا فَقُلْتُ لَهُ: أَعْطِهِ مَنْ هُوَ أَحْوَجُ إِلَيْهِ مِنِّي، فَقَالَ:" مَا آتَاكَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ هَذَا الْمَالِ مِنْ غَيْرِ مَسْأَلَةٍ وَلَا إِشْرَافٍ، فَخُذْهُ فَتَمَوَّلْهُ أَوْ تَصَدَّقْ بِهِ وَمَا لَا فَلَا تُتْبِعْهُ نَفْسَكَ".
عبداللہ بن السعدی القرشی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ وہ شام سے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس آئے تو انہوں نے کہا: کیا مجھے یہ خبر نہیں دی گئی ہے کہ تم مسلمانوں کے کاموں میں سے کسی کام پر عامل بنائے جاتے ہو، اور اس پر جو تمہیں اجرت دی جاتی ہے تو اسے تم قبول نہیں کرتے، تو انہوں نے کہا: ہاں یہ صحیح ہے، میرے پاس گھوڑے ہیں، غلام ہیں اور میں ٹھیک ٹھاک ہوں (اللہ کا شکر ہے کوئی کمی نہیں ہے) میں چاہتا ہوں کہ میرا کام مسلمانوں پر صدقہ ہو جائے۔ تو عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: جو تم چاہتے ہو وہی میں نے بھی چاہا تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مجھے مال دیتے تو میں عرض کرتا: اسے آپ اس شخص کو دے دیجئیے جو مجھ سے زیادہ اس کا ضرورت مند ہو، ایک بار آپ نے مجھے مال دیا تو میں نے عرض کیا: آپ اسے اس شخص کو دے دیجئیے جو اس کا مجھ سے زیادہ ضرورت مند ہو، تو آپ نے فرمایا: اللہ عزوجل اس مال میں سے جو تمہیں بغیر مانگے اور بغیر لالچ کئے دے، اسے لے لو، چاہو تم (اسے اپنے مال میں شامل کر کے) مالدار بن جاؤ، اور چاہو تو اسے صدقہ کر دو۔ اور جو نہ دے اسے لینے کے پیچھے مت پڑو۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2606]
حضرت عبداللہ بن سعدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں علاقہ شام سے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ انہوں نے فرمایا: مجھے بتایا گیا ہے کہ تم مسلمانوں کے کام (سرکاری خدمات) سر انجام دیتے ہو اور پھر جب تمہیں معاوضہ دیا جاتا ہے تو تم قبول نہیں کرتے؟ میں نے عرض کیا: جی ہاں! میرے پاس بہت سے گھوڑے اور غلام ہیں، میں مال دار ہوں اور چاہتا ہوں کہ میری تنخواہ مسلمانوں پر صدقہ ہو جائے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں) میں نے بھی ایسا ہی کرنا چاہا تھا جس طرح تو نے کرنا چاہا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے مال وغیرہ (بصورت معاوضہ) عطا فرماتے تو میں کہہ دیتا کہ یہ کسی ایسے شخص کو دے دیجیے جو مجھ سے زیادہ ضرورت مند ہو۔ ایک دفعہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے کچھ مال عطا فرمایا تو میں نے عرض کیا کہ یہ ایسے شخص کو دے دیں جو مجھ سے زیادہ محتاج ہو، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو مال تجھے اللہ تعالیٰ تیرے مانگے اور لالچ و طمع کے بغیر دے، اسے لے لیا کر، پھر چاہے تو اپنے پاس رکھ، چاہے صدقہ کر دے۔ اور جو مال اس طرح اپنے آپ نہ ملے اس کے پیچھے اپنے آپ کو نہ لگا۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2606]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح بخاري

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2607
أَخْبَرَنَا كَثِيرُ بْنُ عُبَيْدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ، عَنِ الزُّبَيْدِيِّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ، أَنَّ حُوَيْطِبَ بْنَ عَبْدِ الْعُزَّى أَخْبَرَهُ , أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ السَّعْدِيِّ أَخْبَرَهُ , أَنَّهُ قَدِمَ عَلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فِي خِلَافَتِهِ فَقَالَ لَهُ عُمَرُ: أَلَمْ أُحَدَّثْ أَنَّكَ تَلِي مِنْ أَعْمَالِ النَّاسِ أَعْمَالًا، فَإِذَا أُعْطِيتَ الْعُمَالَةَ رَدَدْتَهَا، فَقُلْتُ: بَلَى، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: فَمَا تُرِيدُ إِلَى ذَلِكَ؟ فَقُلْتُ: لِي أَفْرَاسٌ وَأَعْبُدٌ وَأَنَا بِخَيْرٍ، وَأُرِيدُ أَنْ يَكُونَ عَمَلِي صَدَقَةً عَلَى الْمُسْلِمِينَ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ: فَلَا تَفْعَلْ، فَإِنِّي كُنْتُ أَرَدْتُ مِثْلَ الَّذِي أَرَدْتَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْطِينِي الْعَطَاءَ، فَأَقُولُ أَعْطِهِ أَفْقَرَ إِلَيْهِ مِنِّي , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" خُذْهُ فَتَمَوَّلْهُ أَوْ تَصَدَّقْ بِهِ مَا جَاءَكَ مِنْ هَذَا الْمَالِ، وَأَنْتَ غَيْرُ مُشْرِفٍ وَلَا سَائِلٍ فَخُذْهُ وَمَا لَا فَلَا تُتْبِعْهُ نَفْسَكَ".
عبداللہ بن السعدی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ وہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس ان کی خلافت کے زمانہ میں آئے، تو عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: کیا مجھے یہ نہیں بتایا گیا ہے کہ تم عوامی کاموں میں سے کسی کام کے ذمہ دار ہوتے ہو اور جب تمہیں مزدوری دی جاتی ہے تو قبول نہیں کرتے لوٹا دیتے ہو؟ میں نے کہا: جی ہاں (صحیح ہے) اس پر عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اس سے تم کیا چاہتے ہو؟ میں نے کہا: میرے پاس گھوڑے، غلام ہیں اور میں ٹھیک ٹھاک ہوں (مجھے کسی چیز کی محتاجی نہیں ہے) میں چاہتا ہوں کہ میرا کام مسلمانوں پر صدقہ ہو۔ تو عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: ایسا نہ کرو کیونکہ میں بھی یہی چاہتا تھا جو تم چاہتے ہو (لیکن اس کے باوجود) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے عطیہ (بخشش) دیتے تھے تو میں عرض کرتا تھا: اسے میرے بجائے اس شخص کو دے دیجئیے جو مجھ سے زیادہ اس کا ضرورت مند ہو، تو آپ فرماتے: اسے لے کر اپنے مال میں شامل کر لو، یا صدقہ کر دو، سنو! تمہارے پاس اس طرح کا جو بھی مال آئے جس کا نہ تم حرص رکھتے ہو اور نہ تم اس کے طلب گار ہو تو وہ مال لے لو، اور جو اس طرح نہ آئے اس کے پیچھے اپنے آپ کو نہ ڈالو۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2607]
حضرت عبداللہ بن سعدی رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ میں حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں ان کے پاس حاضر ہوا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے مجھ سے فرمایا: کیا یہ بات درست ہے کہ تم سرکاری کام کرتے ہو اور جب تمہیں حق الخدمت دیا جاتا ہے تو تم واپس کر دیتے ہو؟ میں نے کہا: جی ہاں۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرمانے لگے: تمہارا مقصد کیا ہوتا ہے؟ میں نے کہا: میرے پاس بہت سے گھوڑے اور غلام ہیں، میں مال دار ہوں (میرے پاس اللہ تعالیٰ کا دیا بہت کچھ ہے)۔ میں چاہتا ہوں کہ میری تنخواہ مسلمانوں پر صدقہ ہو جائے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ایسے نہ کیا کرو، میں نے بھی (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دورِ مبارک میں) ایسا ہی کرنا چاہا تھا جس طرح تو نے کرنا چاہا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے کوئی عطیہ وغیرہ دیتے تو میں کہہ دیتا کہ یہ کسی ایسے شخص کو دے دیجیے جسے اس کی مجھ سے زیادہ ضرورت ہو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لے لیا کر، پھر جی چاہے تو رکھ لے، نہیں تو صدقہ کر دیا کر۔ اس قسم کا مال جو تیرے پاس بغیر تیری طمع اور خواہش کے آئے، وہ لے لیا کر اور جو اس طرح نہ ملے اس کے پیچھے اپنے آپ کو نہ لگا۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2607]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 2605 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2608
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ، وَإِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ , عَنِ الْحَكَمِ بْنِ نَافِعٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي السَّائِبُ بْنُ يَزِيدَ، أَنَّ حُوَيْطِبَ بْنَ عَبْدِ الْعُزَّى أَخْبَرَهُ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ السَّعْدِيِّ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ قَدِمَ عَلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فِي خِلَافَتِهِ فَقَالَ عُمَرُ: أَلَمْ أُخْبَرْ أَنَّكَ تَلِي مِنْ أَعْمَالِ النَّاسِ أَعْمَالًا فَإِذَا أُعْطِيتَ الْعُمَالَةَ كَرِهْتَهَا، قَالَ: فَقُلْتُ: بَلَى، قَالَ: فَمَا تُرِيدُ إِلَى ذَلِكَ، فَقُلْتُ: إِنَّ لِي أَفْرَاسًا وَأَعْبُدًا وَأَنَا بِخَيْرٍ، وَأُرِيدُ أَنْ يَكُونَ عَمَلِي صَدَقَةً عَلَى الْمُسْلِمِينَ، فَقَالَ عُمَرُ: فَلَا تَفْعَلْ فَإِنِّي كُنْتُ أَرَدْتُ الَّذِي أَرَدْتَ، فَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْطِينِي الْعَطَاءَ فَأَقُولُ: أَعْطِهِ أَفْقَرَ إِلَيْهِ مِنِّي، حَتَّى أَعْطَانِي مَرَّةً مَالًا، فَقُلْتُ: أَعْطِهِ أَفْقَرَ إِلَيْهِ مِنِّي، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" خُذْهُ فَتَمَوَّلْهُ وَتَصَدَّقْ بِهِ، فَمَا جَاءَكَ مِنْ هَذَا الْمَالِ وَأَنْتَ غَيْرُ مُشْرِفٍ، وَلَا سَائِلٍ فَخُذْهُ وَمَا لَا فَلَا تُتْبِعْهُ نَفْسَكَ".
عبداللہ بن السعدی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ وہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے زمانہ خلافت میں ان کے پاس آئے تو عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا مجھے یہ خبر نہیں دی گئی ہے کہ تم عوامی کاموں میں سے کسی کام کے والی ہوتے ہو تو جب تمہیں اجرت دی جاتی ہے تو تم اسے ناپسند کرتے ہو؟ وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: کیوں نہیں (ایسا تو ہے) انہوں نے کہا: اس سے تم کیا چاہتے ہو؟ میں نے کہا: میرے پاس گھوڑے اور غلام ہیں اور میں ٹھیک ٹھاک ہوں، میں چاہتا ہوں کہ میرا کام مسلمانوں پر صدقہ ہو جائے، اس پر عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ایسا نہ کرو، کیونکہ میں بھی وہی چاہتا تھا جو تم چاہتے ہو۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مجھے عطایا (بخشش) دیتے تھے، تو میں عرض کرتا تھا: آپ اسے دے دیں جو مجھ سے زیادہ اس کا ضرورت مند ہو، یہاں تک کہ ایک بار آپ نے مجھے کچھ مال دیا، میں نے کہا: آپ اسے اس شخص کو دے دیں جو مجھ سے زیادہ اس کا ضرورت مند ہو، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے لے کر اپنے مال میں شامل کر لو، نہیں تو صدقہ کر دو۔ (سنو!) اس مال میں سے جو بھی تمہیں بغیر کسی لالچ کے اور بغیر مانگے ملے اس کو لے لو، اور جو نہ ملے اس کے پیچھے نہ پڑو۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2608]
حضرت عبداللہ بن سعدی رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ میں حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے دور حکومت میں آپ کے پاس آیا تو آپ فرمانے لگے: مجھے پتہ چلا ہے کہ تو لوگوں کی خدمات سر انجام دیتا ہے لیکن جب تجھے تنخواہ دی جاتی ہے تو تو اسے ناپسند کرتا ہے؟ میں نے کہا: ہاں! (ایسے ہی ہے)۔ تو انہوں نے فرمایا: تمہارا مقصد کیا ہوتا ہے؟ میں نے کہا: میرے پاس بہت سے گھوڑے اور غلام ہیں اور میں مال دار ہوں (اچھا گزارا کر رہا ہوں)۔ میں چاہتا ہوں کہ میری تنخواہ مسلمانوں پر صدقہ ہو جائے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ایسے نہ کر۔ میں نے بھی ایسا ہی کرنا چاہا تھا جس طرح تو نے کرنا چاہا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مجھے تنخواہ وغیرہ دیتے تو میں کہہ دیتا کہ یہ کسی زیادہ حاجت مند کو دے دیجئے، حتیٰ کہ ایک دفعہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے کچھ مال دیا۔ میں نے (حسب عادت) کہہ دیا کہ یہ مجھ سے زیادہ محتاج کو دے دیجئے۔ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرمانے لگے: لے لے، پھر رکھ یا صدقہ کر۔ اس قسم کا مال تیرے پاس آئے جبکہ تجھے نہ لالچ ہو اور نہ تو نے مانگا ہو تو وہ لے لیا کر اور جو خود بخود نہ ملے، اس کے پیچھے اپنے آپ کو نہ لگا۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2608]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 2605 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح بخاري

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2609
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، قَالَ: سَمِعْتُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْطِينِي الْعَطَاءَ فَأَقُولُ: أَعْطِهِ أَفْقَرَ إِلَيْهِ مِنِّي، حَتَّى أَعْطَانِي مَرَّةً مَالًا فَقُلْتُ لَهُ: أَعْطِهِ أَفْقَرَ إِلَيْهِ مِنِّي فَقَالَ:" خُذْهُ فَتَمَوَّلْهُ وَتَصَدَّقْ بِهِ، وَمَا جَاءَكَ مِنْ هَذَا الْمَالِ وَأَنْتَ غَيْرُ مُشْرِفٍ وَلَا سَائِلٍ فَخُذْهُ، وَمَا لَا فَلَا تُتْبِعْهُ نَفْسَكَ".
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں نے عمر رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مجھے عطیہ دیتے تو میں کہتا: آپ اسے اس شخص کو دے دیجئیے جو مجھ سے زیادہ ضرورت مند ہو۔ یہاں تک کہ ایک بار آپ نے مجھے کچھ مال دیا تو میں نے آپ سے عرض کیا: اسے اس شخص کو دے دیجئیے جو مجھ سے زیادہ اس کا حاجت مند ہو، تو آپ نے فرمایا: تم لے لو، اور اس کے مالک بن جاؤ، اور اسے صدقہ کر دو، اور جو مال تمہیں اس طرح ملے کہ تم نے اسے مانگا نہ ہو اور اس کی لالچ کی ہو تو اسے قبول کر لو، اور جو اس طرح نہ ملے اس کے پیچھے اپنے آپ کو نہ ڈالو۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2609]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مجھے کوئی عطیہ عنایت فرماتے تو میں کہہ دیا کرتا تھا کہ یہ کسی ایسے شخص کو دے دیجیے جسے مجھ سے زیادہ اس کی ضرورت ہو، حتیٰ کہ ایک دفعہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے کچھ مال دیا تو میں نے کہہ دیا: کسی ایسے شخص کو دے دیجیے جو مجھ سے زیادہ فقیر ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لے لے، اسے استعمال بھی کر اور صدقہ بھی کر۔ یہ مال اگر تیرے پاس خود بخود آئے، تجھے نہ تو اس کی طمع ہو اور نہ تو نے مانگا ہو تو اسے لے لیا کر اور جو اپنے آپ نہ ملے، اس کے پیچھے اپنے آپ کو نہ لگا۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2609]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الزکاة 51 (1473)، الأحکام 17 (7164)، صحیح مسلم/الزکاة 37 (1045)، تحفة الأشراف: 10520)، مسند احمد (1/21، سنن الدارمی/الزکاة 19 (1688) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
95. بَابُ: اسْتِعْمَالِ آلِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم عَلَى الصَّدَقَةِ
باب: آل رسول صلی الله علیہ وسلم کو صدقہ پر عامل بنانے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2610
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ سَوَّادِ بْنِ الْأَسْوَدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ الْهَاشِمِيِّ، أَنَّ عَبْدَ الْمُطَّلِبِ بْنَ رَبِيعَةَ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ أَخْبَرَهُ، أَنَّ أَبَاهُ رَبِيعَةَ بْنَ الْحَارِثِ، قَالَ: لِعَبْدِ الْمُطَّلِبِ بْنِ رَبِيعَةَ بْنِ الْحَارِثِ، وَالْفَضْلِ بْنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ: ائْتِيَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُولَا لَهُ اسْتَعْمِلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ عَلَى الصَّدَقَاتِ، فَأَتَى عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ وَنَحْنُ عَلَى تِلْكَ الْحَالِ، فَقَالَ لَهُمَا: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَسْتَعْمِلُ مِنْكُمْ أَحَدًا عَلَى الصَّدَقَةِ، قَالَ عَبْدُ الْمُطَّلِبِ: فَانْطَلَقْتُ أَنَا وَالْفَضْلُ حَتَّى أَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لَنَا:" إِنَّ هَذِهِ الصَّدَقَةَ إِنَّمَا هِيَ أَوْسَاخُ النَّاسِ، وَإِنَّهَا لَا تَحِلُّ لِمُحَمَّدٍ وَلَا لِآلِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
عبدالمطلب بن ربیعہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ان کے والد ربیعہ بن حارث نے عبدالمطلب بن ربیعہ اور فضل بن عباس رضی اللہ عنہم سے کہا کہ تم دونوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤ، اور آپ سے کہو کہ اللہ کے رسول! آپ ہمیں صدقہ پر عامل بنا دیں، ہم اسی حال میں تھے کہ علی رضی اللہ عنہ آ گئے تو انہوں نے ان دونوں سے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تم دونوں میں سے کسی کو بھی صدقہ پر عامل مقرر نہیں فرمائیں گے۔ عبدالمطلب کہتے ہیں: (ان کے ایسا کہنے کے باوجود بھی) میں اور فضل دونوں چلے یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچے، تو آپ نے ہم سے فرمایا: یہ صدقہ جو ہے یہ لوگوں کا میل ہے، یہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے آل کے لیے جائز نہیں۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2610]
حضرت عبدالمطلب بن ربیعہ بن حارث بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ میرے والد ربیعہ بن حارث نے مجھے اور حضرت فضل بن عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ سے کہا کہ تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤ اور آپ سے عرض کرو کہ ہمیں بھی صدقات اکٹھے کرنے کی خدمت پر مقرر فرمائیں۔ ابھی ہم یہ باتیں کر ہی رہے تھے کہ حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ تشریف لے آئے اور فرمانے لگے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تم میں سے کسی کو صدقات پر مقرر نہیں فرمائیں گے۔ میں اور فضل بن عباس پھر بھی چل پڑے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچ کر عرض کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ زکاۃ و صدقات لوگوں کا میل کچیل ہیں، اس لیے یہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور آلِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے حلال نہیں۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2610]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الزکاة51 (1072)، سنن ابی داود/الخراج والإمارة20 (2985)، (تحفة الأشراف: 9737)، مسند احمد 4/166 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
96. بَابُ: ابْنِ أُخْتِ الْقَوْمِ مِنْهُمْ
باب: لوگوں کے بھانجے کا شمار بھی انہیں ہی میں ہوتا ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2611
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: قُلْتُ لِأَبِي إِيَاسٍ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ، أَسَمِعْتَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" ابْنُ أُخْتِ الْقَوْمِ مِنْ أَنْفُسِهِمْ"؟ قَالَ: نَعَمْ.
شعبہ کہتے ہیں کہ میں نے ابوایاس معاویہ بن قرہ سے پوچھا: کیا آپ نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگوں کا بھانجا بھی انہیں میں سے ہوتا ہے، انہوں نے کہا: جی ہاں (میں نے سنا ہے)۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2611]
حضرت شعبہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت ابو ایاس معاویہ بن قرہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا: کیا تم نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کسی قوم کا بھانجا بھی اس قوم میں شامل ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2611]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 1598)، مسند احمد (3/119، 171، 222، 231، سنن الدارمی/السیر 82 (2569) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2612
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا وَكِيعٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" ابْنُ أُخْتِ الْقَوْمِ مِنْهُمْ".
انس بن مالک رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگوں کا بھانجا بھی انہیں میں سے ہوتا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2612]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کسی قوم کا بھانجا بھی ان میں سے ہی ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2612]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/المناقب14 (3516)، الفرائض24 (6761)، صحیح مسلم/الزکاة46 (1059) مطولا، سنن الترمذی/المناقب 66 (3901) (تحفة الأشراف: 1244)، مسند احمد (3/172، 173، 180، 222، 275، 276، 277) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
97. بَابُ: مَوْلَى الْقَوْمِ مِنْهُمْ
باب: لوگوں کا غلام بھی انہیں میں شمار ہو گا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2613
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَكَمُ، عَنِ ابْنِ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَعْمَلَ رَجُلًا مِنْ بَنِي مَخْزُومٍ عَلَى الصَّدَقَةِ، فَأَرَادَ أَبُو رَافِعٍ أَنْ يَتْبَعَهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ الصَّدَقَةَ لَا تَحِلُّ لَنَا، وَإِنَّ مَوْلَى الْقَوْمِ مِنْهُمْ".
ابورافع رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنی مخزوم کے ایک شخص کو صدقہ پر عامل مقرر فرمایا، تو ابورافع نے بھی اس کے ساتھ جانا چاہا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: صدقہ ہمارے لیے حلال نہیں ہے، لوگوں کا غلام بھی انہیں میں سے شمار ہوتا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2613]
حضرت ابو رافع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو مخزوم کے ایک شخص کو صدقات جمع کرنے پر مقرر فرمایا۔ ابو رافع (یعنی میں) نے بھی اس کے ساتھ جانے کی خواہش کی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: صدقات ہمارے لیے حلال نہیں اور کسی خاندان کا آزاد کردہ غلام بھی ان میں شامل ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2613]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الزکاة29 (1650)، سنن الترمذی/الزکاة25 (657)، (تحفة الأشراف: 2018)، مسند احمد (6/8، 10، 390) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: ابورافع رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام تھے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
98. بَابُ: الصَّدَقَةِ لاَ تَحِلُّ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم
باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کے لیے صدقہ و زکاۃ کے جائز نہ ہونے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2614
أَخْبَرَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ وَاصِلٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا بَهْزُ بْنُ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ:" كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أُتِيَ بِشَيْءٍ سَأَلَ عَنْهُ أَهَدِيَّةٌ أَمْ صَدَقَةٌ، فَإِنْ قِيلَ صَدَقَةٌ لَمْ يَأْكُلْ، وَإِنْ قِيلَ هَدِيَّةٌ بَسَطَ يَدَهُ".
بہز بن حکیم کے دادا (معاویہ بن حیدہ) رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس (کھانے کی) کوئی چیز لائی جاتی تو آپ پوچھتے: یہ ہدیہ ہے یا صدقہ؟ اگر کہا جاتا کہ یہ صدقہ ہے تو آپ نہ کھاتے اور اگر کہا جاتا یہ ہدیہ ہے تو آپ (کھانے کے لیے) اپنا ہاتھ بڑھاتے۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2614]
حضرت بہز بن حکیم کے دادا رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کوئی چیز لائی جاتی تو آپ اس کے بارے میں پوچھتے کہ یہ تحفہ ہے یا صدقہ؟ اگر کہا جاتا: صدقہ ہے، تو آپ نہیں کھاتے تھے اور اگر کہا جاتا ہے: تحفہ ہے، تو آپ تناول فرما لیتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2614]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الزکاة25 (656)، (تحفة الأشراف: 11386)، مسند احمد (5/5) (حسن صحیح)»
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
99. بَابُ: إِذَا تَحَوَّلَتِ الصَّدَقَةُ
باب: صدقہ و زکاۃ بدل کر ہدیہ ہو جائے تو اس کے حکم کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2615
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ يَزِيدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا بَهْزُ بْنُ أَسَدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَكَمُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا أَرَادَتْ أَنْ تَشْتَرِيَ بَرِيرَةَ فَتُعْتِقَهَا، وَإِنَّهُمُ اشْتَرَطُوا وَلَاءَهَا، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" اشْتَرِيهَا وَأَعْتِقِيهَا، فَإِنَّ الْوَلَاءَ لِمَنْ أَعْتَقَ وَخُيِّرَتْ حِينَ أُعْتِقَتْ"، وَأُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِلَحْمٍ فَقِيلَ: هَذَا مِمَّا تُصُدِّقَ بِهِ عَلَى بَرِيرَةَ، فَقَالَ:" هُوَ لَهَا صَدَقَةٌ وَلَنَا هَدِيَّةٌ" , وَكَانَ زَوْجُهَا حُرًّا.
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے بریرہ رضی اللہ عنہا کو خرید کر آزاد کر دینا چاہا، لیکن ان کے مالکان نے ولاء (ترکہ) خود لینے کی شرط لگائی۔ تو انہوں نے اس کا تذکرہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا، تو آپ نے فرمایا: اسے خرید لو، اور آزاد کر دو، ولاء (ترکہ) اسی کا ہے جو آزاد کرے، اور جس وقت وہ آزاد کر دی گئیں تو انہیں اختیار دیا گیا کہ وہ اپنے شوہر کی زوجیت میں رہیں یا نہ رہیں۔ (اسی درمیان) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گوشت لایا گیا، کہا گیا کہ یہ ان چیزوں میں سے ہے جو بریرہ رضی اللہ عنہا پر صدقہ کیا جاتا ہے، تو آپ نے فرمایا: یہ اس کے لیے صدقہ ہے، اور ہمارے لیے ہدیہ ہے، ان کے شوہر آزاد تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2615]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے منقول ہے کہ میں نے ارادہ کیا کہ حضرت بریرہ رضی اللہ عنہا کو خرید کر آزاد کر دوں لیکن اس کے مالکوں نے اس کے «الْوَلَاءُ» ولاء کی شرط لگا لی۔ میں نے یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کی تو آپ نے فرمایا: خرید کر آزاد کر دے، ولا اسی کا حق ہے جو آزاد کرے۔ (اسی طرح) جب وہ آزاد ہوئی تو اسے (خاوند کے پاس رہنے یا نہ رہنے کا) اختیار دیا گیا۔ (اسی طرح) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گوشت لایا گیا اور بتایا گیا کہ یہ اس (گوشت) میں سے ہے جو حضرت بریرہ رضی اللہ عنہا پر صدقہ کیا گیا ہے۔ آپ نے فرمایا: وہ اس کے لیے صدقہ ہے، ہمارے لیے ہدیہ (تحفہ) ہے۔ (یاد رہے کہ) حضرت بریرہ رضی اللہ عنہا کا خاوند آزاد تھا۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2615]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الزکاة 61 (1493)، العتق 10 (2536)، الھبة 7 (2578)، النکاح 18 (5097)، الطلاق 14 (5279)، 17 (5284)، والأطعمة 31 (5430)، الکفارات 8 (6717)، الفرائض 19 (6751)، 20 (6754)، 22 (6757)، 23 (6759)، (تحفة الأشراف: 15930)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الزکاة52 (1075)، العتق 2 (1504)، سنن ابی داود/الفرائض 12 (2916)، الطلاق 19 (2233)، سنن الترمذی/البیوع 33 (1256)، الولاء 1 (2125)، سنن ابن ماجہ/الطلاق 29 (2074)، موطا امام مالک/الطلاق 10 (25)، مسند احمد 6/42، 46، 115، 123، 170، 172، 175، 178، 180، 191، 207، 209، ویأتي عند المؤلف 3480 (صحیح) (یہ روایت ’’وکان زوجھا عبدا‘‘ کے لفظ کے ساتھ صحیح ہے، اور ’’کان حرا‘‘ کا لفظ صرف ”الحکم عن الأسود عن عائشة“ کے طریق میں ہے، جو بقول امام بخاری راوی ’’حکم‘‘ کا ارسال ہے)»
قال الشيخ الألباني: صحيح دون قوله حر المحفوظ عبد
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں