سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
37. بَابُ: الاِدِّخَارِ مِنَ الأَضَاحِي
باب: قربانی کے گوشت کی ذخیرہ اندوزی کا بیان۔
حدیث نمبر: 4436
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: دَفَّتْ دَافَّةٌ مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ حَضْرَةَ الْأَضْحَى، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كُلُوا، وَادَّخِرُوا ثَلَاثًا"، فَلَمَّا كَانَ بَعْدَ ذَلِكَ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ النَّاسَ كَانُوا يَنْتَفِعُونَ مِنْ أَضَاحِيِّهِمْ، يَجْمُلُونَ مِنْهَا الْوَدَكَ، وَيَتَّخِذُونَ مِنْهَا الْأَسْقِيَةَ، قَالَ:" وَمَا ذَاكَ"؟، قَالَ: الَّذِي نَهَيْتَ مِنْ إِمْسَاكِ لُحُومِ الْأَضَاحِيِّ، قَالَ:" إِنَّمَا نَهَيْتُ لِلدَّافَّةِ الَّتِي دَفَّتْ كُلُوا، وَادَّخِرُوا، وَتَصَدَّقُوا".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ اعرابیوں (دیہاتیوں) کی ایک جماعت عید الاضحی کے دن مدینے آئی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کھاؤ اور تین دن تک ذخیرہ کر کے رکھو“، اس کے بعد لوگوں نے کہا: اللہ کے رسول! لوگ اپنی قربانی سے فائدہ اٹھاتے تھے، ان کی چربی اٹھا کر رکھ لیتے اور ان کی کھالوں سے مشکیں بناتے تھے۔ آپ نے فرمایا: ”تو اب کیا ہوا؟“ وہ بولا: جو آپ نے قربانی کے گوشت جمع کر کے رکھنے سے روک دیا، آپ نے فرمایا: ”میں نے تو صرف اس جماعت کی وجہ سے روکا تھا جو مدینے آئی تھی، کھاؤ، ذخیرہ کرو اور صدقہ کرو“۔ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4436]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ اعرابیوں کا ایک قافلہ مدینہ منورہ آیا، ادھر قربانیوں کا وقت آ گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(قربانیوں کا گوشت) تین دن رکھ کر کھا سکتے ہو (زائد نہیں)۔“ (اس کے بعد آئندہ سال) لوگوں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! لوگ اپنی قربانیوں سے فائدہ اٹھایا کرتے تھے، ان کی چربی پگھلا لیا کرتے تھے اور چمڑوں سے مشکیزے بنا لیا کرتے تھے۔ آپ نے فرمایا: ”کیا مطلب؟“ لوگوں نے کہا: آپ نے جو قربانی کا گوشت وغیرہ رکھنے سے روک دیا ہے۔ آپ نے فرمایا: ”میں نے تو اس قافلے کی وجہ سے روکا تھا جو (دیہات سے) آیا تھا۔ اب تم کھاؤ، جمع بھی رکھو اور صدقہ بھی کرو۔“ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4436]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الأضاحی 5 (1971)، سنن ابی داود/الضحایا 10 (2812)، (تحفة الأشراف: 17901)، موطا امام مالک/الضحایا 4 (7)، مسند احمد (6/51)، سنن الدارمی/الأضاحی6 (2002) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
حدیث نمبر: 4437
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَابِسٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ:" دَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ، فَقُلْتُ: أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَى عَنْ لُحُومِ الْأَضَاحِيِّ بَعْدَ ثَلَاثٍ؟، قَالَتْ: نَعَمْ , أَصَابَ النَّاسَ شِدَّةٌ، فَأَحَبَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُطْعِمَ الْغَنِيُّ الْفَقِيرَ، ثُمَّ قَالَت: لَقَدْ رَأَيْتُ آلَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْكُلُونَ الْكُرَاعَ بَعْدَ خَمْسَ عَشْرَةَ، قُلْتُ: مِمَّ ذَاكَ؟ فَضَحِكَتْ، فَقَالَتْ: مَا شَبِعَ آلُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ خُبْزٍ مَأْدُومٍ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ، حَتَّى لَحِقَ بِاللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ".
عابس کہتے ہیں کہ میں نے عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس جا کر عرض کیا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تین دن بعد قربانی کا گوشت کھانے سے منع فرماتے تھے؟ بولیں: ہاں، لوگ سخت محتاج اور ضروت مند تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چاہا کہ مالدار لوگ غریبوں کو کھلائیں، پھر بولیں: میں نے آل محمد (گھر والوں) کو دیکھا کہ وہ لوگ پائے پندرہ دن بعد کھاتے تھے، میں نے کہا: یہ کس وجہ سے؟ وہ ہنسیں اور بولیں: محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر والوں نے کبھی بھی تین دن تک سالن روٹی پیٹ بھر کر نہیں کھائی یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ عزوجل کے پاس تشریف لے گئے۔ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4437]
حضرت عابس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے ہاں حاضر ہوا اور پوچھا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قربانی کا گوشت تین دن سے زائد کھانے سے روکتے تھے؟ انہوں نے فرمایا: ہاں، لوگ بہت تنگ تھے، اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بہتر سمجھا کہ مال دار لوگ فقیروں کو کھلائیں، پھر فرمانے لگیں: میں نے دیکھا ہے کہ آلِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم پندرہ پندرہ دن کے بعد قربانی کے جانوروں کے پائے کھاتے تھے۔ میں نے کہا: ایسے کیوں؟ ہنس کر فرمانے لگیں: حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر والوں نے تین دن مسلسل سالن والی روٹی سیر ہو کر نہیں کھائی، حتیٰ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ عزوجل کے پاس تشریف لے گئے۔ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4437]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الأطعمة 27 (5423)، 37 (5438)، الأضاحی 16 (5570)، صحیح مسلم/الزہد 1 (2970)، سنن الترمذی/الأضاحی 14 (1511)، سنن ابن ماجہ/الضحایا 16 (1511)، الأطعمة 30 (3159)، (تحفة الأشراف: 16165)، مسند احمد (6/102، 127، 136، 187، 209) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح بخاري
حدیث نمبر: 4438
أَخْبَرَنَا يُوسُفُ بْنُ عِيسَى، قَالَ: حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ وَهُوَ ابْنُ زِيَادِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَابِسٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَنْ لُحُومِ الْأَضَاحِيِّ؟، قَالَتْ:" كُنَّا نَخْبَأُ الْكُرَاعَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَهْرًا، ثُمَّ يَأْكُلُهُ".
عابس کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے قربانی کے گوشت کے متعلق سوال کیا تو انہوں نے کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ایک ایک مہینے تک قربانی کے پائے رکھ چھوڑتے، پھر آپ اسے کھاتے۔ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4438]
حضرت عابس رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے قربانی کے گوشت کے بارے میں پوچھا، انہوں نے فرمایا کہ ہم ایک ایک ماہ تک قربانی کے پائے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے رکھ چھوڑتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھا لیا کرتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4438]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 4439
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ إِمْسَاكِ الْأُضْحِيَّةِ فَوْقَ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ، ثُمَّ قَالَ: كُلُوا، وَأَطْعِمُوا".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین دن سے زیادہ قربانی کا گوشت اٹھا کر رکھنے سے منع فرمایا پھر فرمایا: ”کھاؤ اور لوگوں کو کھلاؤ“۔ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4439]
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے تین دن سے زائد قربانی کا گوشت رکھنے سے منع فرما دیا تھا، پھر آپ نے فرمایا: ”(جب تک چاہو) کھاؤ اور (فقراء و مساکین کو بھی) کھلاؤ۔“ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4439]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 4295)، مسند احمد (3/57) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
38. بَابُ: ذَبَائِحِ الْيَهُودِ
باب: یہود کے ذبیحے کا بیان۔
حدیث نمبر: 4440
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُغِيرَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ هِلَالٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُغَفَّلٍ، قَالَ:" دُلِّيَ جِرَابٌ مِنْ شَحْمٍ يَوْمَ خَيْبَرَ فَالْتَزَمْتُهُ، قُلْتُ: لَا أُعْطِي أَحَدًا مِنْهُ شَيْئًا، فَالْتَفَتُّ , فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَبَسَّمُ".
عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ غزوہ خیبر کے دن چربی کی ایک مشک لٹکی ہوئی ہاتھ آئی، میں اس سے لپٹ گیا، میں نے کہا: اس میں سے میں کسی کو کچھ نہیں دوں گا، پھر میں مڑا تو دیکھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا رہے ہیں ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4440]
حضرت عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ خیبر کے دن چربی کا ایک تھیلا (قلعہ سے) باہر پھینکا گیا۔ میں اس سے چمٹ گیا۔ میں نے (اپنے آپ سے) کہا: میں اس سے کسی کو کچھ نہیں دوں گا۔ اچانک میں مڑا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (مجھے دیکھ سن کر) مسکرا رہے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4440]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الخمس 20 (3153)، المغازي 38 (4214)، الصید 22 (5508)، صحیح مسلم/الجہاد 25 (1772)، سنن ابی داود/الجھاد 137 (2702)، (تحفة الأشراف: 9656)، مسند احمد (4/86 و5/55، 56)، سنن الدارمی/السیر57(2542) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اس چربی کو لینے سے منع نہیں کیا، حالانکہ وہ یہودیوں کے ذبیحہ سے نکلی ہوئی تھی، جس سے ثابت ہوا کہ اہل کتاب (یہود و نصاریٰ) کا ذبیحہ جائز ہے، (سورۃ المائدہ آیت: ۵، میں بھی اس کی صراحت ہے) مگر شرط یہ ہے کہ ذبح اسلامی طریقہ پر کیا گیا ہو، ان کا مشینی ذبیحہ جائز نہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
39. بَابُ: ذَبِيحَةِ مَنْ لَمْ يُعْرَفْ
باب: نامعلوم اور گمنام شخص کے ذبیحہ کا بیان۔
حدیث نمبر: 4441
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ نَاسًا مِنَ الْأَعْرَابِ كَانُوا يَأْتُونَا بِلَحْمٍ، وَلَا نَدْرِي أَذَكَرُوا اسْمَ اللَّهِ عَلَيْهِ، أَمْ لَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ عَلَيْهِ وَكُلُوا".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ کچھ اعرابی (دیہاتی) ہمارے پاس گوشت لاتے تھے، ہمیں نہیں معلوم ہوتا کہ آیا انہوں نے اس پر اللہ کا نام لیا ہے یا نہیں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم لوگ اس پر اللہ کا نام لو اور کھاؤ“ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4441]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ کچھ اعرابی لوگ ہمارے پاس گوشت لاتے تھے اور ہمیں معلوم نہیں ہوتا تھا کہ انہوں نے (ذبح کرتے وقت) اللہ تعالیٰ کا نام لیا ہے یا نہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اللہ تعالیٰ کا نام لے کر کھا لیا کرو۔“ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4441]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد النسائي (تحفة الأشراف: 17256) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: معلوم ہوا کہ اس بابت خواہ مخواہ کا شک و شبہہ صحیح اور درست نہیں ہے، إلا یہ کہ پختہ طریقے سے ثابت ہو جائے کہ اس ذبیحہ پر اللہ کا نام نہیں لیا گیا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
40. بَابُ: تَأْوِيلِ قَوْلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ {وَلاَ تَأْكُلُوا مِمَّا لَمْ يُذْكَرِ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ}
باب: آیت کریمہ: ”جس پر اللہ کا نام نہ لیا گیا ہو اسے مت کھاؤ“ (الأنعام: ۱۲۱) کی تفسیر۔
حدیث نمبر: 4442
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ أَبِي وَكِيعٍ وَهُوَ هَارُونُ بْنُ عَنْتَرَةَ , عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: وَلا تَأْكُلُوا مِمَّا لَمْ يُذْكَرِ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ سورة الأنعام آية 121، قَالَ:" خَاصَمَهُمُ الْمُشْرِكُونَ، فَقَالُوا: مَا ذَبَحَ اللَّهُ فَلَا تَأْكُلُوهُ، وَمَا ذَبَحْتُمْ أَنْتُمْ أَكَلْتُمُوهُ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما آیت کریمہ: «ولا تأكلوا مما لم يذكر اسم اللہ عليه» ”جس پر اللہ کا نام نہ لیا گیا ہو اسے مت کھاؤ“ (الأنعام: ۱۲۱) کے بارے میں کہتے ہیں: (یہ اس وقت اتری جب) کفار و مشرکین نے مسلمانوں سے بحث کی تو کہا: جسے اللہ ذبح کرتا ہے (یعنی مر جائے) تو اسے تم نہیں کھاتے ہو اور جسے تم خود ذبح کرتے ہو اسے کھاتے ہو؟۔ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4442]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اللہ تعالیٰ کے فرمان ﴿وَلَا تَأْكُلُوا مِمَّا لَمْ يُذْكَرْ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ﴾ [سورة الأنعام: 121] ”وہ جانور نہ کھاؤ جس پر اللہ کا نام نہ لیا گیا ہو۔“ کے بارے میں روایت ہے، انہوں نے فرمایا: مشرکین نے مسلمانوں سے حجت بازی کی تھی کہ جس جانور کو اللہ تعالیٰ ذبح کرے، اسے تم نہیں کھاتے اور جسے تم خود ذبح کرتے ہو، اسے کھا لیتے ہو؟ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4442]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 6325) (صحیح الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن
41. بَابُ: النَّهْىِ عَنِ الْمُجَثَّمَةِ
باب: «مجثمہ» (جس جانور کو باندھ کر نشانہ لگا کر مارنے اور اس کو کھانے) کی حرمت کا بیان۔
حدیث نمبر: 4443
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، عَنْ بَحِيرٍ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تَحِلُّ الْمُجَثَّمَةُ".
ابوثعلبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «مجثمة» حلال نہیں ہے“۔ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4443]
حضرت ابوثعلبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجثمہ حلال نہیں۔“ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4443]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 4331 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: «مجثمة» یعنی وہ جانور جس کو باندھ کر نشانہ لگا کر مسلسل تیر مارا جائے یہاں تک کہ وہ مر جائے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 4444
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ زَيْدٍ، قَالَ: دَخَلْتُ مَعَ أَنَسٍ عَلَى الْحَكَمِ يَعْنِي ابْنَ أَيُّوبَ، فَإِذَا أُنَاسٌ يَرْمُونَ دَجَاجَةً فِي دَارِ الْأَمِيرِ، فَقَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تُصْبَرَ الْبَهَائِمُ".
ہشام بن زید کہتے ہیں کہ میں انس رضی اللہ عنہ کے ساتھ حکم (حکم بن ایوب) کے یہاں گیا تو دیکھا کہ چند لوگ امیر کے گھر میں ایک مرغی کو نشانہ بنا کر مار رہے ہیں، تو انس رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے کہ جانوروں کو باندھ کر اس طرح مارا جائے۔ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4444]
حضرت ہشام بن زید رحمہ اللہ سے منقول ہے کہ میں حضرت انس رضی اللہ عنہ کے ساتھ حکم بن ایوب کے پاس گیا تو کچھ لوگ امیر کے گھر میں ایک مرغی کو نشانہ بنا کر تیر مار رہے تھے، حضرت انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے کہ ”جانوروں کو باندھ کر نشانہ بنایا جائے۔“ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4444]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الصید 25 (5513)، صحیح مسلم/الصید 12 (1956)، سنن ابی داود/الأضاحی 12 (2816)، سنن ابن ماجہ/الذبائح10 (3186)، (تحفة الأشراف: 1630)، مسند احمد (3/117، 171، 180، 191) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 4445
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ زُنْبُورٍ الْمَكِّيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ يَزِيدَ وَهُوَ ابْنُ الْهَادِ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ، قَالَ: مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أُنَاسٍ وَهُمْ يَرْمُونَ كَبْشًا بِالنَّبْلِ، فَكَرِهَ ذَلِكَ، وَقَالَ:" لَا تَمْثُلُوا بِالْبَهَائِمِ".
عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر چند لوگوں کے پاس سے ہوا۔ وہ ایک مینڈھے کو تیر مار رہے تھے، آپ نے اسے پسند نہیں کیا اور فرمایا: ”جانوروں کا مثلہ نہ کرو“۔ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4445]
حضرت عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کچھ لوگوں کے پاس سے گزرے جو ایک مینڈھے کو نشانہ بنا کر تیر مار رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو سخت ناپسند کیا اور فرمایا: ”جانوروں کا مثلہ نہ کرو۔“ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4445]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 529) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن