سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
33. بَابُ: نَحْرِ مَا يُذْبَحُ
باب: ذبح کیے جانے والے جانور کو نحر کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 4426
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ آدَمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدَةُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ فَاطِمَةَ، عَنْ أَسْمَاءَ، قَالَتْ:" ذَبَحْنَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَسًا، وَنَحْنُ بِالْمَدِينَةِ فَأَكَلْنَاهُ".
اسماء رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایک گھوڑا ذبح کیا، ہم مدینے میں تھے پھر ہم نے اسے کھایا۔ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4426]
حضرت اسماء رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دورِ مبارک میں مدینہ میں رہتے ہوئے گھوڑا ذبح ( «نَحْر») کیا اور پھر اسے کھایا۔ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4426]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 4411 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی «نحرنا» کی جگہ «ذبحنا» ہے، اور ہشام کے اکثر شاگردوں کی روایت «نحرنا» ہی کی ہے، صرف ”عبدہ“ کی روایت میں «ذبحنا» ہے اسی اختلاف الفاظ سے استدلال کرتے ہوئے مؤلف نے یہ باب باندھا ہے بہرحال نحر و ذبح دونوں جائز ہیں، مقصد خون بہانا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
34. بَابُ: مَنْ ذَبَحَ لِغَيْرِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ
باب: غیر اللہ کے لیے ذبح کرنے والوں کا بیان۔
حدیث نمبر: 4427
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى وَهُوَ ابْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ ابْنِ حَيَّانَ يَعْنِي مَنْصُورًا، عَنْ عَامِرِ بْنِ وَاثِلَةَ، قَالَ: سَأَلَ رَجُلٌ عَلِيًّا، هَلْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسِرُّ إِلَيْكَ بِشَيْءٍ دُونَ النَّاسِ؟ , فَغَضِبَ عَلِيٌّ حَتَّى احْمَرَّ وَجْهُهُ، وَقَالَ: مَا كَانَ يُسِرُّ إِلَيَّ شَيْئًا دُونَ النَّاسِ، غَيْرَ أَنَّهُ حَدَّثَنِي، بِأَرْبَعِ كَلِمَاتٍ، وَأَنَا وَهُوَ فِي الْبَيْتِ، فَقَالَ:" لَعَنَ اللَّهُ مَنْ لَعَنَ وَالِدَهُ، وَلَعَنَ اللَّهُ مَنْ ذَبَحَ لِغَيْرِ اللَّهِ، وَلَعَنَ اللَّهُ مَنْ آوَى مُحْدِثًا، وَلَعَنَ اللَّهُ مَنْ غَيَّرَ مَنَارَ الْأَرْضِ".
عامر بن واثلہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے علی رضی اللہ عنہ سے سوال کیا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو چھوڑ کر آپ کو کوئی راز کی بات بتاتے تھے؟ اس پر علی رضی اللہ عنہ غصہ ہو گئے یہاں تک کہ ان کا چہرہ لال پیلا ہو گیا اور کہا: آپ لوگوں کو چھوڑ کر مجھے کوئی بات راز کی نہیں بتاتے تھے، سوائے اس کے کہ آپ نے مجھے چار باتیں بتائیں، میں اور آپ ایک گھر میں تھے، آپ نے فرمایا: ”اللہ اس پر لعنت کرے جس نے اپنے والد (ماں یا باپ) پر لعنت کی، اللہ اس پر بھی لعنت کرے جس نے غیر اللہ کے لیے ذبح کیا، اللہ اس پر لعنت کرے جس نے کسی بدعتی کو پناہ دی ۱؎، اور اللہ تعالیٰ اس پر لعنت کرے جس نے زمین کی حد کے نشانات بدل ڈالے“ ۲؎۔ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4427]
حضرت عامر بن واثلہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ کو لوگوں سے الگ کوئی پوشیدہ باتیں بتلایا کرتے تھے؟ حضرت علی رضی اللہ عنہ غضب ناک ہو گئے حتیٰ کہ ان کا چہرہ سرخ ہو گیا۔ اور آپ نے فرمایا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے لوگوں سے الگ کوئی پوشیدہ بات نہیں بتلاتے تھے، البتہ ایک دفعہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یہ چار باتیں ارشاد فرمائیں جبکہ اس وقت گھر میں، میں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ اس شخص پر لعنت کرے جو اپنے باپ کو لعنت کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس شخص پر لعنت کرے جو غیر اللہ کے لیے ذبح کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس شخص پر لعنت کرے جو کسی بدعتی یا باغی کو ٹھکانا مہیا کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ اس شخص پر بھی لعنت کرے جو زمین کی علامات کو تبدیل کرتا ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4427]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الأضاحي 8 (1978)، (تحفة الأشراف: 10152) مسند احمد (1/108، 118، 152) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی اس کی تائید و حمایت کی اور بدعت سے خوش ہوا۔ ۲؎: مثلاً دو آدمیوں کی زمین کو الگ کرنے والے نشانات بدلے، اور اس سے مقصد دوسری کی زمین میں سے کچھ ہتھیا لینا ہو۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
35. بَابُ: النَّهْىِ عَنِ الأَكْلِ، مِنْ لُحُومِ الأَضَاحِي بَعْدَ ثَلاَثٍ وَعَنْ إِمْسَاكِه
باب: تین دن بعد قربانی کا گوشت کھانا اور اسے رکھ چھوڑنا منع ہے۔
حدیث نمبر: 4428
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" نَهَى أَنْ تُؤْكَلَ لُحُومُ الْأَضَاحِيِّ بَعْدَ ثَلَاثٍ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین دن کے بعد قربانی کا گوشت کھانے سے روکا ہے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4428]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”تین دن سے زائد قربانیوں کا گوشت کھانے سے منع فرمایا۔“ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4428]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الأضاحی 5 (1970)، (تحفة الأشراف: 6946)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الأضاحی 16 (5574)، سنن الترمذی/الأضاحی 13 (1509)، مسند احمد (2/9، 16، 34، 81، 135) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یہ پابندی شروع شروع میں تھی، پھر گوشت رکھنے کی اجازت دے دی گئی، جیسا کہ اگلے باب میں ہے، یہ حالات و ظروف کے لحاظ سے ہے، اگر لوگوں کو گوشت کی زیادہ حاجت ہے تو ذخیرہ اندوزی صحیح نہیں، بصورت دیگر صحیح ہے۔ (دیکھئیے حدیث نمبر ۴۴۳۴)۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
حدیث نمبر: 4429
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ غُنْدَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ، عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ مَوْلَى ابْنِ عَوْفٍ، قَالَ: شَهِدْتُ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ كَرَّمَ اللَّهُ وَجْهَهُ فِي يَوْمِ عِيدٍ، بَدَأَ بِالصَّلَاةِ قَبْلَ الْخُطْبَةِ، ثُمَّ صَلَّى بِلَا أَذَانٍ، وَلَا إِقَامَةٍ، ثُمَّ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَنْهَى أَنْ يُمْسِكَ أَحَدٌ مِنْ نُسُكِهِ شَيْئًا فَوْقَ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ".
عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کے غلام ابو عبید کہتے ہیں کہ میں نے علی بن ابی طالب کرم اللہ وجہہ کو عید کے دن دیکھا، انہوں نے خطبے سے پہلے نماز شروع کی اور بلا اذان اور بلا اقامت پڑھی، پھر کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو منع فرماتے ہوئے سنا کہ کوئی تین دن سے زیادہ اپنی قربانی میں سے کوئی چیز روکے رکھے، (یعنی اسے چاہیئے کہ بانٹ دے)۔ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4429]
حضرت ابوعبید سے روایت ہے کہ میں نے عید کے دن حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے ساتھ عید پڑھی، آپ نے خطبے سے پہلے نماز عید پڑھائی، اذان ہوئی نہ اقامت، پھر فرمانے لگے: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ”تین دن سے زائد قربانی کا گوشت رکھنے سے منع فرماتے تھے۔“ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4429]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 10332)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الأضاحی 16 (5573)، صحیح مسلم/الضحایا 5 (1969)، مسند احمد (3/317، 378، 388) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 4430
أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ أَبَا عُبَيْدٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ، قَالَ:" إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ نَهَاكُمْ أَنْ تَأْكُلُوا لُحُومَ نُسُكِكُمْ فَوْقَ ثَلَاثٍ".
علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہیں منع فرمایا ہے کہ تم تین دن سے زیادہ اپنی قربانی کا گوشت کھاؤ۔ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4430]
حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”تمہیں تین دن سے زائد اپنی قربانیوں کے گوشت کھانے سے منع فرما دیا ہے“۔ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4430]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
36. بَابُ: الإِذْنِ فِي ذَلِكَ
باب: قربانی کا گوشت تین دن سے زیادہ کھانے کی اجازت کا بیان۔
حدیث نمبر: 4431
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ وَاللَّفْظُ لَهُ، عَنِ ابْنِ الْقَاسِمِ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ أَكْلِ لُحُومِ الضَّحَايَا بَعْدَ ثَلَاثٍ، ثُمَّ قَالَ:" كُلُوا، وَتَزَوَّدُوا، وَادَّخِرُوا".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین دن کے بعد قربانی کا گوشت کھانے سے منع فرمایا، پھر فرمایا: ”کھاؤ، توشہ (زاد سفر) بناؤ اور ذخیرہ کر کے رکھو“۔ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4431]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین دن سے زائد قربانی کا گوشت کھانے سے منع فرمایا تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اب کھاؤ، سفر میں بھی ساتھ لے جاؤ اور ذخیرہ بھی کرو۔“ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4431]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الأضاحی 5 (1972)، (تحفة الأشراف: 2936)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الحج 124 (1719)، موطا امام مالک/الضحایا 4 (6)، مسند احمد (3/325، 344) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
حدیث نمبر: 4432
أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ زُغْبَةُ، قَالَ: أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنِ ابْنِ خَبَّابٍ هُوَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ خَبَّابٍ، أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، قَدِمَ مِنْ سَفَرٍ، فَقَدَّمَ إِلَيْهِ أَهْلُهُ لَحْمًا مِنْ لُحُومِ الْأَضَاحِيِّ، فَقَالَ: مَا أَنَا بِآكِلِهِ حَتَّى أَسْأَلَ، فَانْطَلَقَ إِلَى أَخِيهِ لِأُمِّهِ قَتَادَةَ بْنِ النُّعْمَانِ، وَكَانَ بَدْرِيًّا , فَسَأَلَهُ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ:" إِنَّهُ قَدْ حَدَثَ بَعْدَكَ أَمْرٌ نَقْضًا لِمَا كَانُوا نُهُوا عَنْهُ مِنْ أَكْلِ لُحُومِ الْأَضَاحِيِّ بَعْدَ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ".
عبداللہ بن خباب سے روایت ہے کہ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ ایک سفر سے آئے تو ان کے گھر والوں نے انہیں قربانی کے گوشت میں سے کچھ پیش کیا، انہوں نے کہا: میں اسے نہیں کھا سکتا جب تک کہ معلوم نہ کر لوں، چنانچہ وہ اپنے اخیافی بھائی قتادہ بن نعمان کے پاس گئے (وہ بدری صحابی تھے) اور ان سے اس بارے میں پوچھا؟ انہوں نے کہا: تمہارے بعد نیا حکم ہوا جس سے تین دن بعد قربانی کا گوشت کھانے پر سے پابندی ہٹ گئی۔ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4432]
حضرت عبداللہ بن خباب رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ ایک سفر سے واپس تشریف لائے تو ان کے گھر والوں نے ان کو قربانی کا گوشت پیش کیا، وہ فرمانے لگے: میں تو نہیں کھاؤں گا حتیٰ کہ میں یہ مسئلہ پوچھوں، پھر وہ اپنے اخیافی (مادری) بھائی حضرت قتادہ بن نعمان رضی اللہ عنہ جو بدری صحابی تھے، کے پاس گئے اور ان سے اس کے متعلق پوچھا تو انہوں نے بتایا: آپ کے بعد ایک نیا حکم جاری ہو چکا ہے، اس حکم کو ختم کرنے کے لیے جس میں انہیں (صحابہ کرام کو) تین دن کے بعد قربانیوں کا گوشت کھانے سے منع کر دیا گیا تھا (مطلب یہ ہے کہ تمہارے بعد ایک نیا حکم جاری ہو چکا ہے، جس سے تین دن کے بعد قربانی کا گوشت نہ کھانے کا حکم منسوخ ہو گیا ہے)۔ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4432]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/المغازی 12 (3997)، الأضاحی 16(5568)، (تحفة الأشراف: 11072)، موطا امام مالک/الضحایا 4 (8) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: ”اخیافی بھائی“ وہ بھائی، بہن جن کی ماں ایک ہو اور باپ الگ الگ ہوں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح بخاري
حدیث نمبر: 4433
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِسْحَاق، قَالَ: حَدَّثَتْنِي زَيْنَبُ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ لُحُومِ الْأَضَاحِيِّ فَوْقَ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ، فَقَدِمَ قَتَادَةُ بْنُ النُّعْمَانِ، وَكَانَ أَخَا أَبِي سَعِيدٍ لِأُمِّهِ، وَكَانَ بَدْرِيًّا، فَقَدَّمُوا إِلَيْهِ، فَقَالَ: أَلَيْسَ قَدْ نَهَى عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟، قَالَ أَبُو سَعِيدٍ: إِنَّهُ قَدْ حَدَثَ فِيهِ أَمْرٌ:" أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَانَا أَنْ نَأْكُلَهُ فَوْقَ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ، ثُمَّ رَخَّصَ لَنَا أَنْ نَأْكُلَهُ، وَنَدَّخِرَهُ".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین دن سے زیادہ قربانی کا گوشت کھانے سے روکا ہے، پھر قتادہ رضی اللہ عنہ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور وہ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کے اخیافی بھائی اور بدری صحابی تھے، ابوسعید نے قتادہ کو (گوشت) پیش کیا، تو وہ بولے: کیا اس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے روکا نہیں ہے؟ ابوسعید رضی اللہ عنہ نے کہا: اس سلسلہ میں ایک نیا حکم آیا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں تین دن سے زیادہ اسے کھانے سے روکا تھا، پھر ہمیں اسے کھانے اور ذخیرہ کرنے کی رخصت دی۔ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4433]
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”تین دن سے زائد قربانی کا گوشت کھانے سے منع فرمایا ہے“۔ حضرت قتادہ بن نعمان رضی اللہ عنہ آئے جو حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کے اخیافی (مادری) بھائی اور بدری صحابی تھے۔ گھر والوں نے انہیں گوشت پیش کیا تو وہ فرمانے لگے: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع نہیں فرمایا؟ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اس کی بابت نیا فرمان جاری ہو چکا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے ”تین دن سے زیادہ قربانی کا گوشت کھانے سے منع فرمایا تھا“، پھر اجازت فرما دی کہ ہم ”کھا بھی سکتے ہیں اور ذخیرہ بھی کر سکتے ہیں“۔ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4433]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (شاذ) (اس سے پہلے والی حدیث جو صحیح بخاری میں بھی ہے) میں کھانے سے رکنے سے والے ابوسعید خدری رضی الله عنہ ہیں اور اجازت کی روایت کرنے والے قتادہ رضی الله عنہ ہیں اور اس حدیث میں کھانے سے رکنے والے قتادہ ہیں اور اجازت کی روایت کرنے والے ابوسعید خدری رضی الله عنہ ہیں، جو صحیح بخاری میں ہے وہی زیادہ صحیح ہے)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 4434
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ وَهُوَ النُّفَيْلِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ. ح وَأَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْدَانَ بْنِ عِيسَى، قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَعْيَنَ، قَالَ: حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا زُبَيْدُ بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنِّي كُنْتُ نَهَيْتُكُمْ عَنْ ثَلَاثٍ، عَنْ زِيَارَةِ الْقُبُورِ فَزُورُوهَا، وَلْتَزِدْكُمْ زِيَارَتُهَا خَيْرًا، وَنَهَيْتُكُمْ عَنْ لُحُومِ الْأَضَاحِيِّ بَعْدَ ثَلَاثٍ، فَكُلُوا مِنْهَا، وَأَمْسِكُوا مَا شِئْتُمْ، وَنَهَيْتُكُمْ عَنِ الْأَشْرِبَةِ فِي الْأَوْعِيَةِ، فَاشْرَبُوا فِي أَيِّ وِعَاءٍ شِئْتُمْ، وَلَا تَشْرَبُوا مُسْكِرًا". وَلَمْ يَذْكُرْ مُحَمَّدٌ: وَأَمْسِكُوا.
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے تم لوگوں کو تین چیزوں سے روکا تھا: قبروں کی زیارت کرنے سے، اب ان کی زیارت کرو، اس زیارت سے تم میں خیر و بھلائی بڑھنی چاہیئے، میں نے تمہیں تین دن بعد قربانی کا گوشت کھانے سے روکا تھا، لیکن اب کھاؤ اور جتنا چاہو روک کر رکھو، میں نے تمہیں کچھ برتنوں میں پینے سے روکا تھا لیکن اب جس برتن میں چاہو پیو، لیکن کوئی نشہ لانے والی چیز نہ پیو۔ محمد بن معدان کی روایت میں «امسکوا» ”روک کر رکھنے“ کا ذکر نہیں ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4434]
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے تمہیں تین باتوں سے روکا تھا: (ایک تو میں نے تمہیں) قبروں پر جانے سے (روکا تھا)۔ اب جایا کرو لیکن قبروں پر جانا تمہاری نیکی میں اضافے کا ذریعہ بننا چاہیے۔ (دوسرا) میں نے تمہیں تین دن سے زائد قربانیوں کا گوشت کھانے سے منع فرمایا تھا، اب کھاؤ جب تک چاہو اور رکھو جب تک چاہو۔ اور (تیسرا) میں نے تمہیں چند برتنوں میں (پانی یا نبیذ) پینے سے روکا تھا، اب تم جس برتن میں چاہو پی سکتے ہو لیکن کوئی نشے والی چیز نہ پینا۔“ محمد (ابن معدان) نے «وَأَمْسِكُوا» کے الفاظ بیان کیے۔ (مطلب یہ کہ یہ الفاظ استاد عمرو بن منصور نے بیان کیے ہیں)۔ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4434]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 2034 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 4435
أَخْبَرَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ الْعَنْبَرِيُّ، عَنْ الْأَحْوَصِ بْنِ جَوَّابٍ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ رُزَيْقٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ عَدِيٍّ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنِّي كُنْتُ نَهَيْتُكُمْ عَنْ لُحُومِ الْأَضَاحِيِّ بَعْدَ ثَلَاثٍ، وَعَنِ النَّبِيذِ إِلَّا فِي سِقَاءٍ، وَعَنْ زِيَارَةِ الْقُبُورِ، فَكُلُوا مِنْ لُحُومِ الْأَضَاحِيِّ مَا بَدَا لَكُمْ، وَتَزَوَّدُوا وَادَّخِرُوا، وَمَنْ أَرَادَ زِيَارَةَ الْقُبُورِ فَإِنَّهَا تُذَكِّرُ الْآخِرَةَ، وَاشْرَبُوا، وَاتَّقُوا كُلَّ مُسْكِرٍ".
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے تمہیں تین دن بعد قربانی کا گوشت کھانے سے، مشکیزے کے علاوہ کسی برتن میں نبیذ بنانے سے اور قبروں کی زیارت کرنے سے روکا تھا۔ لیکن اب تم جب تک چاہو قربانی کا گوشت کھاؤ اور سفر کے لیے توشہ بناؤ اور ذخیرہ کرو، اور جو قبروں کی زیارت کرنا چاہے (تو کرے) اس لیے کہ یہ آخرت کی یاد دلاتی ہے اور ہر مشروب پیو لیکن نشہ لانے والی چیز سے بچو“۔ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4435]
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے تمہیں تین دن سے زائد قربانی کا گوشت کھانے سے روکا تھا، اور مشکیزے کے علاوہ کسی برتن میں نبیذ بنانے سے بھی روکا تھا۔ اسی طرح قبروں پر جانے سے بھی منع کیا تھا۔ اب تم جب تک چاہو، قربانی کا گوشت کھا سکتے ہو۔ سفر میں ساتھ بھی لے جا سکتے ہو اور ذخیرہ بھی کر سکتے ہو۔ اور جو شخص چاہے، قبروں پر جا سکتا ہے کیونکہ وہ آخرت یاد دلاتی ہیں۔ اسی طرح اب تم ہر برتن میں نبیذ بنا کر پی سکتے ہو لیکن ہر نشے والی چیز سے بچو۔“ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4435]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 1976)، ویأتي عند المؤلف برقم: 5654) (صحیح) (اس کے راوی ’’ابواسحاق‘‘ مدلس اور مختلط ہیں، لیکن پچھلی سند سے تقویف پا کر صحیح ہے)»
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح