سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
23. بَابُ: الْقَوَدِ مِنَ الْجَبْذَةِ
باب: پکڑ کر کھینچنے کے قصاص کا بیان۔
حدیث نمبر: 4780
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ مَيْمُونٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي الْقَعْنَبِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ هِلَالٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: كُنَّا نَقْعُدُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَسْجِدِ، فَإِذَا قَامَ قُمْنَا، فَقَامَ يَوْمًا وَقُمْنَا مَعَهُ حَتَّى لَمَّا بَلَغَ وَسَطَ الْمَسْجِدِ، أَدْرَكَهُ رَجُلٌ , فَجَبَذَ بِرِدَائِهِ مِنْ وَرَائِهِ وَكَانَ رِدَاؤُهُ خَشِنًا , فَحَمَّرَ رَقَبَتَهُ، فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ احْمِلْ لِي عَلَى بَعِيرَيَّ هَذَيْنِ , فَإِنَّكَ لَا تَحْمِلُ مِنْ مَالِكَ , وَلَا مِنْ مَالِ أَبِيكَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا، وَأَسْتَغْفِرُ اللَّهَ , لَا أَحْمِلُ لَكَ حَتَّى تُقِيدَنِي مِمَّا جَبَذْتَ بِرَقَبَتِي"، فَقَالَ الْأَعْرَابِيُّ: لَا , وَاللَّهِ لَا أُقِيدُكَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَلِكَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ كُلُّ ذَلِكَ، يَقُولُ: لَا وَاللَّهِ لَا أُقِيدُكَ، فَلَمَّا سَمِعْنَا قَوْلَ الْأَعْرَابِيِّ أَقْبَلْنَا إِلَيْهِ سِرَاعًا , فَالْتَفَتَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" عَزَمْتُ عَلَى مَنْ سَمِعَ كَلَامِي أَنْ لَا يَبْرَحَ مَقَامَهُ حَتَّى آذَنَ لَهُ"، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِرَجُلٍ مِنَ الْقَوْمِ:" يَا فُلَانُ , احْمِلْ لَهُ عَلَى بَعِيرٍ شَعِيرًا , وَعَلَى بَعِيرٍ تَمْرًا"، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" انْصَرِفُوا".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مسجد میں بیٹھا کرتے تھے، جب آپ کھڑے ہوتے، ہم کھڑے ہو جاتے، ایک دن آپ کھڑے ہوئے تو ہم بھی آپ کے ساتھ کھڑے ہوئے یہاں تک کہ جب آپ مسجد کے بیچوں بیچ پہنچے تو ایک شخص نے آپ کو پکڑا اور پیچھے سے آپ کی چادر پکڑ کر کھینچے لگا، وہ چادر بہت کھردری تھی، آپ کی گردن سرخ ہو گئی، وہ بولا: ”اے محمد! میرے لیے میرے ان دو اونٹوں کو لاد دیجئیے، آپ کوئی اپنے مال سے تو کسی کو دیتے نہیں اور نہ اپنے باپ کے مال سے“، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، میں اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کرتا ہوں، میں تجھے نہیں دوں گا جب تک تو میری اس گردن کھینچنے کا بدلہ نہیں دے گا“، اعرابی نے کہا: نہیں، اللہ کی قسم، میں بدلہ نہیں دوں گا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ تین بار فرمایا، ہر مرتبہ اس نے کہا: نہیں، اللہ کی قسم میں بدلہ نہیں دوں گا، جب ہم نے اعرابی کی بات سنی تو ہم دوڑ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، آپ ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: ”میں قسم دیتا ہوں، تم میں سے جو میری بات سنے اپنی جگہ سے نہ ہٹے، یہاں تک کہ میں اسے اجازت دے دوں“، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قوم کے ایک آدمی سے کہا: ”اے فلاں! اس کے ایک اونٹ پر جَو لاد دو اور ایک اونٹ پر کھجور“، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم لوگ جا سکتے ہو“۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4780]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مسجد میں بیٹھا کرتے تھے۔ جب آپ کھڑے ہوتے، ہم بھی آپ کے ساتھ کھڑے ہوتے۔ ایک دن آپ کھڑے ہوئے، ہم بھی آپ کے ساتھ کھڑے ہوئے، حتیٰ کہ جب آپ مسجد کے درمیان پہنچے تو ایک آدمی آپ کو ملا۔ اس نے پیچھے سے آپ کی چادر پکڑ کر کھینچی۔ آپ کی چادر کھردری سی تھی، اس لیے آپ کی گردن سرخ ہو گئی۔ وہ شخص کہنے لگا: اے محمد! مجھے یہ دو اونٹ (غلہ) لاد دیجیے۔ آپ کون سا اپنے یا اپنے باپ کے مال سے دیتے ہیں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں واقعتاً اپنے مال سے نہیں دیتا اور میں اللہ تعالیٰ سے بخشش طلب کرتا ہوں (کہ ایسا غلط اعتقاد رکھوں) لیکن میں تجھے کچھ بھی نہیں دوں گا حتیٰ کہ تو مجھے گردن سے چادر کھینچنے کا قصاص دے۔“ اس اعرابی نے کہا: اللہ کی قسم! میں آپ کو قصاص نہیں دوں گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ ایسے ہی فرمایا۔ وہ (اعرابی) ہر دفعہ یہی کہتا تھا: اللہ کی قسم! میں آپ کو قصاص نہیں دوں گا۔ ہم نے اعرابی کی باتیں سنیں تو ہم تیزی سے اس کی طرف بڑھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں آتے دیکھا تو فرمایا: ”جو بھی شخص میری آواز سنتا ہے، میں اسے قسم دیتا ہوں کہ وہ اپنی جگہ سے حرکت نہ کرے حتیٰ کہ میں اسے اجازت دوں۔“ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی سے کہا: ”ارے! اس کو ایک اونٹ پر جو اور دوسرے اونٹ پر خشک کھجوریں لاد دے۔“ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (دوسرے لوگوں سے) فرمایا: ”جاؤ۔ چلے جاؤ۔“ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4780]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الأدب 1(4775)، (تحفة الأشراف: 14801)، مسند احمد (2/288) (ضعیف) (اس کے راوی ہلال بن ابی ہلال لین الحدیث ہیں، لیکن اعرابی کے آپ کو پکڑ کر کھینچنے کا قصہ صحیح بخاری (لباس 18) میں انس رضی الله عنہ سے مروی ہے)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف لكن قصة الأعرابي وجبذه وأمره صلى الله عليه وسلم له بعطاء في ق
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، ابو داود (4775) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 356
24. بَابُ: الْقِصَاصِ مِنَ السَّلاَطِينِ
باب: بادشاہوں اور حکمرانوں سے قصاص لینے کا بیان۔
حدیث نمبر: 4781
أَخْبَرَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ هِشَامٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مَسْعُودٍ سَعِيدُ بْنُ إِيَاسٍ الْجُرَيْرِيُّ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي فِرَاسٍ: أَنَّ عُمَرَ، قَالَ:" رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقِصُّ مِنْ نَفْسِهِ".
عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ اپنی ذات سے بدلا دلاتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4781]
حضرت عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ذات اقدس سے قصاص دلاتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4781]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الدیات 15 (4537)، (تحفة الأشراف: 10664)، مسند احمد 1/41 (ضعیف) (اس کے راوی ”ابو فراس“ لین الحدیث ہیں)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن أبو فراس النهدي: وثقه ابن حبان و ابن خزيمة وابن الجارود والحاكم وغيرهم فهو صدوق حسن الحديث.
25. بَابُ: السُّلْطَانُ يُصَابُ عَلَى يَدِهِ
باب: سلطان (حکمراں) کے (عامل کے) ذریعہ کسی کو زخم آ جائے۔
حدیث نمبر: 4782
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ أَبَا جَهْمِ بْنَ حُذَيْفَةَ مُصَدِّقًا فَلَاحَّهُ رَجُلٌ فِي صَدَقَتِهِ فَضَرَبَهُ أَبُو جَهْمٍ، فَأَتَوْا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: الْقَوَدُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَقَالَ:" لَكُمْ كَذَا وَكَذَا"، فَلَمْ يَرْضَوْا بِهِ، فَقَالَ:" لَكُمْ كَذَا وَكَذَا"، فَرَضُوا بِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنِّي خَاطِبٌ عَلَى النَّاسِ وَمُخْبِرُهُمْ بِرِضَاكُمْ"، قَالُوا: نَعَمْ، فَخَطَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" إِنَّ هَؤُلَاءِ أَتَوْنِي يُرِيدُونَ الْقَوَدَ، فَعَرَضْتُ عَلَيْهِمْ كَذَا وَكَذَا، فَرَضُوا"، قَالُوا: لَا , فَهَمَّ الْمُهَاجِرُونَ بِهِمْ , فَأَمَرَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَكُفُّوا، فَكَفُّوا، ثُمَّ دَعَاهُمْ، قَالَ:" أَرَضِيتُمْ؟"، قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ:" فَإِنِّي خَاطِبٌ عَلَى النَّاسِ وَمُخْبِرُهُمْ بِرِضَاكُمْ"، قَالُوا: نَعَمْ، فَخَطَبَ النَّاسَ، ثُمَّ قَالَ:" أَرَضِيتُمْ؟"، قَالُوا: نَعَمْ.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوجہم بن حذیفہ رضی اللہ عنہ کو زکاۃ لینے کے لیے بھیجا تو ایک شخص اپنے صدقے کے سلسلے میں ان سے لڑ گیا، تو ابوجہم نے اسے مار دیا، ان لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر کہا: اللہ کے رسول! بدلہ دیجئیے، آپ نے فرمایا: ”اتنا اتنا مال لے لو“، وہ اس پر راضی نہ ہوئے، تو آپ نے فرمایا: ”(اچھا) اتنا اتنا مال لے لو“، تو وہ اس پر راضی ہو گئے، پھر آپ نے فرمایا: ”میں لوگوں سے خطاب کروں گا اور انہیں تمہاری رضا مندی کی اطلاع دوں گا“، ان لوگوں نے کہا: ٹھیک ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خطاب کیا اور فرمایا: ”یہ لوگ میرے پاس قصاص مانگنے آئے تھے تو میں نے ان پر اتنے اتنے مال کی پیش کش کی ہے اور وہ اس پر راضی ہیں“، لیکن وہ لوگ بولے: نہیں، تو مہاجرین نے انہیں سزا دینے کا ارادہ کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ٹھہر جانے کا حکم دیا، چنانچہ وہ لوگ باز رہے، پھر آپ نے انہیں بلایا اور فرمایا: ”کیا تم رضامند ہو؟“ وہ بولے: جی ہاں، آپ نے فرمایا: ”میں لوگوں سے خطاب کروں گا اور تمہاری رضا مندی کی انہیں اطلاع دوں گا“، انہوں نے کہا: ٹھیک ہے، چنانچہ آپ نے لوگوں سے خطاب کیا پھر (ان سے) فرمایا: ”کیا تم اس پر راضی ہو؟“ وہ بولے: جی ہاں۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4782]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابو جہم بن حذیفہ رضی اللہ عنہ کو صدقہ لینے کے لیے بھیجا، ایک آدمی نے صدقہ دینے کے بارے میں جھگڑا کیا تو حضرت ابو جہم رضی اللہ عنہ نے اس کو مارا، وہ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہا: اے اللہ کے رسول! ہمیں قصاص چاہیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمھیں اتنا معاوضہ دیتا ہوں۔“ وہ راضی نہ ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اچھا تم اتنا (اور) لے لو۔“ آخر وہ راضی ہو گئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں لوگوں کے سامنے خطبہ دے کر انھیں تمھارے راضی ہونے کی خبر دیتا ہوں۔“ انھوں نے کہا: ٹھیک ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ ارشاد فرمایا: ”یہ لوگ میرے پاس قصاص لینے آئے تھے، میں نے انھیں اتنے مال کی پیش کش کی تو یہ راضی ہو گئے ہیں۔“ لیکن وہ لوگ کہنے لگے: ہم راضی نہیں، مہاجرین نے ان کو سزا دینے کا ارادہ کیا لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو روک دیا، وہ رک گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر ان کو بلایا اور فرمایا: ”کیا تم اب راضی ہو؟“ انھوں نے کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں پھر لوگوں سے خطاب کروں گا اور انھیں بتاؤں گا کہ تم راضی ہو گئے ہو۔“ انھوں نے کہا: ٹھیک ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سے خطاب فرمایا اور ان سے پوچھا: ”تم راضی ہو؟“ انھوں نے کہا: جی ہاں۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4782]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الدیات 13 (4534)، سنن ابن ماجہ/الدیات 10 (2638)، (تحفة الأشراف: 16636)، مسند احمد (6/232) (صحیح الإسناد)»
وضاحت: ۱؎: امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے اس حدیث پر باب باندھا ہے «العامل یصاب علی یدہ خطأ» یعنی ”عامل کے ذریعہ کسی کو غلطی سے زخم لگ جائے“ اس حدیث سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ سرکاری عامل ہونے کی وجہ سے قصاص معاف نہیں ہو گا، ہاں دیت پر راضی ہو جانے کی صورت میں سرکاری بیت المال سے دیت دلوائی جائے گی جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دلوائی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، ابو داود (4534) ابن ماجه (2638) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 356
26. بَابُ: الْقَوَدِ بِغَيْرِ حَدِيدَةٍ
باب: تلوار کے بجائے کسی اور چیز سے قصاص لینے کا بیان۔
حدیث نمبر: 4783
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ , عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ: أَنَّ يَهُودِيًّا رَأَى عَلَى جَارِيَةٍ أَوْضَاحًا , فَقَتَلَهَا بِحَجَرٍ، فَأُتِيَ بِهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبِهَا رَمَقٌ، فَقَالَ:" أَقَتَلَكِ فُلَانٌ؟" , فَأَشَارَ شُعْبَةُ بِرَأْسِهِ يَحْكِيهَا: أَنْ لَا، فَقَالَ:" أَقَتَلَكِ فُلَانٌ؟" , فَأَشَارَ شُعْبَةُ بِرَأْسِهِ يَحْكِيهَا: أَنْ لَا، قَالَ:" أَقْتَلَكِ فُلَانٌ؟" , فَأَشَارَ شُعْبَةُ بِرَأْسِهِ يَحْكِيهَا: أَنْ نَعَمْ، فَدَعَا بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَتَلَهُ بَيْنَ حَجَرَيْنِ.
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک یہودی نے ایک لڑکی کو زیور پہنے دیکھا تو اسے پتھر سے مار ڈالا، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لائی گئی، اس میں کچھ جان باقی تھی، آپ نے فرمایا: ”کیا تمہیں فلاں نے قتل کیا ہے؟“ (شعبہ نے اپنے سر سے اشارہ کرتے ہوئے بتایا کہ) اس نے کہا: نہیں، آپ نے فرمایا: ”کیا تمہیں فلاں نے قتل کیا ہے؟“ (شعبہ نے اپنے سر سے اشارہ کرتے ہوئے بتایا کہ) اس نے کہا: نہیں، پھر آپ نے فرمایا: ”کیا تمہیں فلاں نے قتل کیا ہے؟“ (پھر شعبہ نے سر کے اشارے سے کہا کہ) اس نے کہا: ہاں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بلایا اور دو پتھروں کے درمیان کچل کر اسے مار ڈالا ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4783]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک یہودی نے ایک لڑکی کے کانوں میں بالیاں دیکھیں تو (ان کو حاصل کرنے کے لیے) اس نے لڑکی کو ایک پتھر سے مار ڈالا، اس بچی کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا تو اس میں کچھ جان باقی تھی، آپ نے اس سے پوچھا: ”تجھے فلاں نے قتل کیا ہے؟“ اس نے سر کے اشارے سے کہا: نہیں، آپ نے فرمایا: ”فلاں نے قتل کیا ہے؟“ اس نے سر کے اشارے سے کہا: نہیں، آپ نے پھر (تیسری بار) اس سے پوچھا: ”کیا تجھے فلاں نے قتل کیا ہے؟“ اس نے سر کے اشارے سے کہا: جی ہاں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو بلا بھیجا اور اسے دو پتھروں کے درمیان قتل کر دیا۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4783]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الطلاق 24 (5295 تعلیقًا)، الدیات 4 (6877)، 5 (6879)، صحیح مسلم/الحدود 3 (1672)، سنن ابی داود/الدیات 10 (4529)، سنن ابن ماجہ/الدیات 24 (2666)، (تحفة الأشراف: 1631)، مسند احمد (3/171، 203) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس یہودی سے تلوار کی بجائے پتھروں سے اس کا سر کچل کر قصاص لیا، اس سے ثابت ہوا کہ قصاص صرف تلوار ہی سے ضروری نہیں ہے (جیسا کہ حنفیہ کا قول ہے) بلکہ یہ تو ارشاد ربانی کے مطابق ہے «وإن عاقبتم فعاقبوا بمثل ما عوقبتم به» (سورة النحل: 126) «فاعتدوا عليه بمثل ما اعتدى عليكم» (سورة البقرة: 194) حنفیہ حدیث «لا قود إلا بالسیف» یعنی: ”قصاص صرف تلوار ہی سے ہے“ سے استدلال کرتے ہیں، حالانکہ یہ حدیث ہر طریقے سے ضعیف ہے، بلکہ بقول امام ابوحاتم ”منکر“ ہے (کذا فی نیل الا ٔوطار والإرواء رقم ۲۲۲۹)۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 4784
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ، عَنْ إِسْمَاعِيل، عَنْ قَيْسٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ سَرِيَّةً إِلَى قَوْمٍ مِنْ خَثْعَمَ فَاسْتَعْصَمُوا بِالسُّجُودِ , فَقُتِلُوا، فَقَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنِصْفِ الْعَقْلِ، وَقَالَ:" إِنِّي بَرِيءٌ مِنْ كُلِّ مُسْلِمٍ مَعَ مُشْرِكٍ"، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَلَا لَا تَرَاءَى نَارَاهُمَا".
قیس بن ابی حازم سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبیلہ خثعم کے کچھ لوگوں کی طرف (فوج کی) ایک ٹکڑی بھیجی، تو انہوں نے سجدہ کر کے اپنے کو بچانا چاہا، پھر بھی وہ سب قتل کر دئیے گئے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی آدھی دیت ادا کی ۱؎ اور فرمایا: ”میں ہر اس مسلمان سے بری الذمہ ہوں جو مشرک کے ساتھ رہے“ ۲؎، پھر آپ نے فرمایا: سنو! (مسلمان اور کافر اس حد تک دور رہیں کہ) ان دونوں کو ایک دوسرے کی آگ نظر نہ آئے ۳؎۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4784]
حضرت قیس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خثعم قبیلے کی طرف ایک لشکر بھیجا، وہ سجدے میں پڑ گئے تاکہ جان بچا سکیں لیکن وہ بھی مارے گئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی نصف دیت ادا فرمائی اور فرمایا: ”میں ہر اس مسلمان سے لا تعلق ہوں جو کافروں میں رہتا ہے۔“ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”خبردار! مسلمان اور کافر اتنے دور رہیں کہ انہیں ایک دوسرے کی آگ نظر نہ آئے۔“ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4784]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الجہاد 105 (2645)، سنن الترمذی/السیر 43 (1604، 1605)، (تحفة الأشراف: 3227، 19233) (صحیح مرسلاً وموصولاً) (یہ حدیث ابوداود اور ترمذی وغیرہ میں قیس بن ابی حازم نے جریر بن عبداللہ سے روایت کی ہے، لیکن قیس کے شاگردوں کی ایک جماعت نے قیس کے بعد جریر رضی الله عنہ کا ذکر نہیں کیا ہے بلکہ مرسلا ہی روایت کی ہے، امام بخاری نے بھی مرسل ہونے کو ترجیح دی ہے، مگر موصول کی بھی صحیح متابعات موجود ہیں جیسا کہ علامہ البانی نے ذکر کیا ہے، ملاحظہ ہو: الإروائ: 1207)»
وضاحت: ۱؎: آدھی دیت کا حکم دیا اور باقی آدھی کفار کے ساتھ رہنے سے ساقط ہو گئی کیونکہ کافروں کے ساتھ رہ کر اپنی ذات کو انہوں نے جو فائدہ پہنچایا درحقیقت یہ ایک جرم تھا اور اسی جرم کی پاداش میں آدھی دیت ساقط ہو گئی۔ ۲؎: اس جملہ کی توجیہ میں تین اقوال وارد ہیں۔ ایک مفہوم یہ ہے کہ دونوں کا حکم یکساں نہیں ہو سکتا، دوسرا یہ کہ اللہ تعالیٰ نے دارالاسلام کو دارالکفر سے علاحدہ کر دیا ہے لہٰذا مسلمان کے لیے یہ درست نہیں ہے کہ وہ کافروں کے ملک میں ان کے ساتھ رہے، تیسرا یہ کہ مسلمان مشرک کی خصوصیات اور علامتوں کو نہ اپنائے اور نہ ہی چال ڈھال اور شکل و صورت میں ان کے ساتھ تشبہ اختیار کرے۔ ۳؎: اس حدیث کا اس باب سے کوئی تعلق نہیں، ممکن ہے اس سے پہلے والے باب کی حدیث ہو اور نساخ کے تصرف سے اس باب کے تحت آ گئی ہو، اور اس حدیث کا مصداق ساری دنیا کے مسلمان نہیں ہیں کہ وہ ہر ملک میں کافروں سے الگ سکونت اختیار کریں، اس زمانہ میں تو یہ ممکن ہی نہیں بلکہ محال ہے، اس کا مصداق ایسے علاقے ہیں جہاں اسلامی حکومت ہو، اور سارے حالات و اختیارات مسلمانوں کے ہاتھ میں ہوں، جیسا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے بعد خلفاء راشدین وغیرہ کے عہدوں میں تھا، اور آج سعودیہ اور دیگر مسلم ممالک میں ہے، بعض مسلم ممالک کے اندر بھی موجودہ حالات میں الگ تھلگ رہائش مشکل ہے، «لايكلف الله نفسا إلا وسعها» (سورة البقرة: ۲۸۶)۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، ترمذي (1605) السند مرسل،وروي متصلاً بالسند الضعيف،،إسماعيل بن أبى خالد مدلس وعنعن. وللحديث شواهد ضعيف،ة. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 356
27. بَابُ: تَأْوِيلِ قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ { فَمَنْ عُفِيَ لَهُ مِنْ أَخِيهِ شَىْءٌ فَاتِّبَاعٌ بِالْمَعْرُوفِ وَأَدَاءٌ إِلَيْهِ بِإِحْسَانٍ }
باب: آیت کریمہ: ”جس کو اس کے بھائی کی طرف سے کچھ معاف کر دیا جائے تو معاف کرنے والا دستور کی پیروی کرے اور جس کو معاف کیا گیا وہ اچھی طرح دیت ادا کرے“ (البقرہ: ۱۷۸) کی تفسیر۔
حدیث نمبر: 4785
قَالَ قَالَ الْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ: قِرَاءَةً عَلَيْهِ، وَأَنَا أَسْمَعُ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:" كَانَ فِي بَنِي إِسْرَائِيلَ الْقِصَاصُ، وَلَمْ تَكُنْ فِيهِمُ الدِّيَةُ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِصَاصُ فِي الْقَتْلَى الْحُرُّ بِالْحُرِّ وَالْعَبْدُ بِالْعَبْدِ وَالأُنْثَى بِالأُنْثَى إِلَى قَوْلِهِ فَمَنْ عُفِيَ لَهُ مِنْ أَخِيهِ شَيْءٌ فَاتِّبَاعٌ بِالْمَعْرُوفِ وَأَدَاءٌ إِلَيْهِ بِإِحْسَانٍ سورة البقرة آية 178 , فَالْعَفْوُ: أَنْ يَقْبَلَ الدِّيَةَ فِي الْعَمْدِ، وَاتِّبَاعٌ بِمَعْرُوفٍ: يَقُولُ: يَتَّبِعُ هَذَا بِالْمَعْرُوفِ، وَأَدَاءٌ إِلَيْهِ بِإِحْسَانٍ: وَيُؤَدِّي هَذَا بِإِحْسَانٍ , ذَلِكَ تَخْفِيفٌ مِنْ رَبِّكُمْ وَرَحْمَةٌ سورة البقرة آية 178 مِمَّا كُتِبَ عَلَى مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ إِنَّمَا هُوَ الْقِصَاصُ لَيْسَ الدِّيَةَ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ بنی اسرائیل میں قصاص کا حکم تھا، ان میں دیت دینے کا حکم نہ تھا، تو اللہ تعالیٰ نے «كتب عليكم القصاص في القتلى الحر بالحر والعبد بالعبد والأنثى بالأنثى» ”تم پر قصاص فرض کیا گیا ان لوگوں کا جو مارے جائیں، آزاد کے بدلے آزاد، غلام کے بدلے غلام، عورت کے بدلے عورت“ سے «فمن عفي له من أخيه شىء فاتباع بالمعروف وأداء إليه بإحسان» ”جس کو اس کے بھائی کی طرف سے کچھ معاف کر دیا جائے تو معاف کرنے والا دستور کی پیروی کرے اور جس کو معاف کیا گیا وہ اچھی طرح دیت ادا کرے۔ (تمہارے رب کی طرف سے) یہ تخفیف اور رحمت ہے، اس کے بعد بھی جو سرکشی کرے گا، اسے درد ناک عذاب ہو گا“ (البقرہ: ۱۷۸) تک نازل فرمایا، تو عفو یہ ہے کہ قتل عمد میں دیت قبول کر لے اور اتباع بالمعروف یہ ہے کہ وہ دستور کی پابندی کرے، اور «وأداء إليه بإحسان» یہ ہے کہ وہ اسے اچھی طرح ادا کرے، «ذلك تخفيف من ربكم ورحمة» ”یہ تخفیف ہے تمہارے رب کی طرف سے اور رحمت ہے“ اس لیے کہ تم سے پہلے کے لوگوں پر صرف قصاص فرض تھا، دیت کا حکم نہیں تھا“۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4785]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ بنی اسرائیل میں صرف قصاص تھا، دیت نہیں تھی۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں یہ آیت اتاری: ﴿كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِصَاصُ فِي الْقَتْلَى الْحُرُّ بِالْحُرِّ وَالْعَبْدُ بِالْعَبْدِ وَالْأُنثَىٰ بِالْأُنثَىٰ فَمَنْ عُفِيَ لَهُ مِنْ أَخِيهِ شَيْءٌ فَاتِّبَاعٌ بِالْمَعْرُوفِ وَأَدَاءٌ إِلَيْهِ بِإِحْسَانٍ﴾ [سورة البقرة: 178] ”تم پر مقتولوں کے بارے میں برابر کا بدلہ لینا فرض کیا گیا ہے۔ آزاد کے بدلے وہی آزاد (قاتل) اور غلام کے بدلے وہی غلام (قاتل) اور عورت کے بدلے وہی (قاتل) عورت (قتل کی جائے گی)۔ پھر جس شخص کو اس کے بھائی (مقتول کے ولی) کی طرف سے کچھ معافی مل جائے تو (معاف کرنے والے کے لیے) اچھے طریقے سے دیت طلب کرنا اور (قاتل کے لیے) اچھے طریقے سے ادائیگی کرنا ہے)۔“ «العفو» (معافی) سے مراد یہ ہے کہ قتل عمد کی صورت میں مقتول کا ولی دیت لینا قبول کرے۔ «الاتِّبَاعُ بِالْمَعْرُوفِ» سے یہ مراد ہے کہ مقتول کا ولی مناسب انداز میں دیت وصول کر لے اور دوسرا فریق اچھے طریقے سے ادائیگی کرے۔ ﴿ذَٰلِكَ تَخْفِيفٌ مِّن رَّبِّكُمْ وَرَحْمَةٌ﴾ [سورة البقرة: 178] ”یہ تمہارے رب کی طرف سے آسانی اور رحمت ہے۔“ یعنی اہل کتاب پر نازل کردہ حکم کے مقابلے میں جو کہ صرف قصاص تھا اور دیت (کی گنجائش) نہیں تھی۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4785]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/تفسیر سورة البقرة 23 (4498)، والدیات 8 (6881)، (تحفة الأشراف: 6415) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح بخاري
حدیث نمبر: 4786
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل بْنِ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَفْصٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا وَرْقَاءُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ: كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِصَاصُ فِي الْقَتْلَى الْحُرُّ بِالْحُرِّ سورة البقرة آية 178 قَالَ:" كَانَ بَنُو إِسْرَائِيلَ عَلَيْهِمُ الْقِصَاصُ , وَلَيْسَ عَلَيْهِمُ الدِّيَةُ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَيْهِمُ الدِّيَةَ فَجَعَلَهَا عَلَى هَذِهِ الْأُمَّةِ تَخْفِيفًا عَلَى مَا كَانَ عَلَى بَنِي إِسْرَائِيلَ".
مجاہد اس آیت کریمہ «كتب عليكم القصاص في القتلى الحر بالحر» ”تم پر قصاص فرض کیا گیا ان لوگوں کا جو مارے جائیں، آزاد کے بدلے آزاد“ کے سلسلہ میں کہتے ہیں: بنی اسرائیل پر صرف قصاص فرض تھا، ان پر دیت نہیں تھی، پھر اللہ تعالیٰ نے دیت کا حکم نازل فرمایا، تو اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے بالمقابل اس امت محمدیہ پر تخفیف کی۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4786]
مجاہد رحمہ اللہ نے آیت کریمہ ﴿كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِصَاصُ فِي الْقَتْلَى﴾ [سورة البقرة: 178] ”تم پر مقتولوں کے بارے میں قصاص (برابر کا بدلہ) لینا فرض کیا گیا ہے، آزاد کے بدلے وہی آزاد۔“ کے متعلق فرمایا: بنو اسرائیل کے لیے صرف قصاص کا حکم تھا، دیت نہیں تھی، پھر اللہ تعالیٰ نے دیت کا حکم اتار کر اس امت کے لیے بنی اسرائیل کے مقابلے میں تخفیف فرما دی۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4786]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح) (سابقہ روایت سے تقویت پاکر یہ صحیح ہے)»
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
28. بَابُ: الأَمْرِ بِالْعَفْوِ عَنِ الْقِصَاصِ
باب: قصاص معاف کر دینے کے حکم کا بیان۔
حدیث نمبر: 4787
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ وَهُوَ ابْنُ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيُّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ:" أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي قِصَاصٍ فَأَمَرَ فِيهِ بِالْعَفْوِ".
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس قصاص کا ایک معاملہ آیا تو آپ نے اسے معاف کر دینے کا حکم دیا ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4787]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس قصاص کا ایک مقدمہ آیا تو آپ نے معاف کرنے کا مشورہ دیا۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4787]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الدیات 3 (4497)، سنن ابن ماجہ/البیوع 35 (2692)، (تحفة الأشراف: 1095)، مسند احمد (3/213، 252) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی: سفارش کی تاکہ قصاص نہ لے کر دیت پر راضی ہو جائے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 4788
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ , وَبَهْزُ بْنُ أَسَدٍ , وَعَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ , قَالُوا: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَكْرٍ الْمُزَنِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَطَاءُ بْنُ أَبِي مَيْمُونَةَ وَلَا أَعْلَمُهُ إِلَّا، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ:" مَا أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي شَيْءٍ فِيهِ قِصَاصٌ إِلَّا أَمَرَ فِيهِ بِالْعَفْوِ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جب بھی کوئی ایسا معاملہ آیا جس میں قصاص ہو تو آپ نے اسے معاف کر دینے کا حکم دیا ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4788]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: جب بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس قصاص کا کوئی مقدمہ آیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”معافی“ کا مشورہ دیا۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4788]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی: سفارش کی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
29. بَابُ: هَلْ يُؤْخَذُ مِنْ قَاتِلِ الْعَمْدِ الدِّيَةَ إِذَا عَفَا وَلِيُّ الْمَقْتُولِ عَنِ الْقَوَدِ
باب: جب مقتول کا وارث قصاص معاف کر دے تو کیا قاتل عمد سے دیت لی جائے گی؟
حدیث نمبر: 4789
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَشْعَثَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مُسْهِرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل وَهُوَ ابْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَمَاعَةَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ قُتِلَ لَهُ قَتِيلٌ فَهُوَ بِخَيْرِ النَّظَرَيْنِ، إِمَّا أَنْ يُقَادَ، وَإِمَّا أَنْ يُفْدَى".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کا کوئی آدمی قتل ہو گیا ہو تو اسے اختیار ہے، چاہے تو قصاص لے، چاہے تو دیت لے“ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4789]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص کا رشتہ دار قتل کر دیا جائے، اسے دو چیزوں میں سے بہتر کا اختیار ہے: قصاص لے لے یا دیت۔“ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4789]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/العلم 39 (112)، اللقطة 7 (2434)، الدیات 8 (6880)، صحیح مسلم/الحج 82 (1355)، سنن ابی داود/الدیات 4 (4505)، سنن الترمذی/الدیات 13 (1405)، سنن ابن ماجہ/الدیات 3 (2624)، (تحفة الأشراف: 15383، 19588)، مسند احمد (2/238)، ویأتي عند المؤلف بأرقام: 4790، 4791) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: قتل عمد میں مقتول کے وارثین کے لیے قصاص یا دیت دونوں میں کسی ایک کو اختیار کرنے کا حق ہے (اس میں قاتل کی مرضی کا کوئی دخل نہیں) اگر قصاص معاف کر دیتے ہیں تو دیت واجب ہو گی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه