🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
10. بَابُ: الْقَوَدِ مِنَ السَّيِّدِ لِلْمَوْلَى
باب: غلام کو قتل کر دینے والے مالک سے قصاص لینے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4740
أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ هُوَ الْمَرْوَزِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ سَمُرَةَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَنْ قَتَلَ عَبْدَهُ قَتَلْنَاهُ، وَمَنْ جَدَعَهُ جَدَعْنَاهُ، وَمَنْ أَخْصَاهُ أَخْصَيْنَاهُ".
سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو کوئی اپنے غلام کو قتل کر دے گا تو ہم اسے قتل کریں گے اور جو کوئی اس کا عضو کاٹے گا تو ہم اس کا عضو کاٹیں گے اور جو کوئی اپنے غلام کو خصی کرے گا، ہم اسے خصی کریں گے۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4740]
حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اپنے غلام کو قتل کرے گا، ہم اسے قتل کر دیں گے۔ جو شخص اپنے غلام کی ناک کان کاٹے گا، ہم اس کی ناک کان کاٹ دیں گے اور جو اپنے غلام کو خصی کرے گا، ہم اسے خصی کر دیں گے۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4740]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الدیات 7 (4515)، سنن الترمذی/الدیات 18(1414)، سنن ابن ماجہ/الدیات 23 (2663)، (تحفة الأشراف: 4586)، مسند احمد (5/10، 11، 12، 18، 19)، سنن الدارمی/الدیات 7 (2403)، ویأتي عند المؤلف برقم: 4516، 4517، 4741، 4742، 4757، 4758) (ضعیف) (اس کے رواة ”قتادہ“ اور ”حسن بصری“ دونوں مدلس ہیں اور روایت عنعنہ سے ہے، نیز سمرہ رضی الله عنہ سے حسن بصری کے سماع میں اختلاف ہے)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4741
أَخْبَرَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ سَمُرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَنْ قَتَلَ عَبْدَهُ قَتَلْنَاهُ، وَمَنْ جَدَعَ عَبْدَهُ جَدَعْنَاهُ".
سمرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو اپنے غلام کو قتل کر دے گا ہم اسے قتل کریں گے اور جو اپنے غلام کا عضو کاٹے گا ہم اس کا عضو کاٹیں گے۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4741]
حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اپنے غلام کو قتل کرے گا، ہم اسے قتل کر دیں گے اور جو اپنے غلام کے ناک کان کاٹے گا، ہم اس کے ناک کان کاٹ دیں گے۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4741]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (ضعیف)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4742
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ سَمُرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ قَتَلَ عَبْدَهُ قَتَلْنَاهُ، وَمَنْ جَدَعَ عَبْدَهُ جَدَعْنَاهُ".
سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو کوئی اپنے غلام کو قتل کر دے گا تو ہم اسے قتل کریں گے اور جو کوئی اس کا عضو کاٹے گا، ہم اس کا عضو کاٹیں گے۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4742]
حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اپنے غلام کو قتل کرے گا، ہم اسے قتل کریں گے اور جو شخص اپنے غلام کی ناک کان کاٹے گا، ہم اس کی ناک کان کاٹ دیں گے۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4742]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 4740 (ضعیف)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
11. بَابُ: قَتْلِ الْمَرْأَةِ بِالْمَرْأَةِ
باب: عورت کو عورت کے بدلے قتل کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4743
أَخْبَرَنَا يُوسُفُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، أَنَّهُ سَمِعَ طَاوُسًا يُحَدِّثُ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , أَنَّهُ نَشَدَ قَضَاءَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ذَلِكَ، فَقَامَ حَمَلُ بْنُ مَالِكٍ، فَقَالَ:" كُنْتُ بَيْنَ حُجْرَتَيِ امْرَأَتَيْنِ , فَضَرَبَتْ إِحْدَاهُمَا الْأُخْرَى بِمِسْطَحٍ , فَقَتَلَتْهَا وَجَنِينَهَا، فَقَضَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي جَنِينِهَا بِغُرَّةٍ وَأَنْ تُقْتَلَ بِهَا".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہیں اس سلسلے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلے کی تلاش تھی، تو حمل بن مالک رضی اللہ عنہ نے کھڑے ہو کر کہا: میں دو عورتوں کے کمروں کے درمیان میں رہتا تھا، ایک نے دوسری کو خیمے کی لکڑی سے مارا اور اسے اور اس کے پیٹ کے بچے کو مار ڈالا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بچے کے بدلے ایک غلام یا لونڈی دینے اور اس (عورت) کے بدلے اسے قتل کرنے کا حکم دیا۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4743]
حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے اس (عورت کو عورت کے بدلے قتل کرنے) کی بابت لوگوں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فیصلہ پوچھا تو حضرت حمل بن مالک رضی اللہ عنہ اٹھے اور کہا: میں دو عورتوں کے دو کمروں کے درمیان رہتا تھا کہ ایک نے دوسری کو خیمے کی لکڑی مار کر قتل کر دیا، نیز اس کے پیٹ کا بچہ بھی مر گیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پیٹ کے بچے کی دیت میں ایک غلام یا لونڈی دینے کا حکم دیا اور اس عورت کے بدلے قاتل عورت کو قتل کرنے کا حکم دیا۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4743]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الدیات 21 (4572، 4573، 4574)، سنن ابن ماجہ/الدیات 11 (2641)، (تحفة الأشراف: 3444) مسند احمد (1/364)، ویأتي عند المؤلف برقم: 4820 (صحیح الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4744
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدَةُ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ:" أَنَّ يَهُودِيًّا قَتَلَ جَارِيَةً عَلَى أَوْضَاحٍ لَهَا، فَأَقَادَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَا".
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک یہودی نے زیور کی خاطر ایک لڑکی کو قتل کر دیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس (لڑکی) کے قصاص میں اسے مار ڈالنے کا حکم دیا۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4744]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک یہودی نے ایک لڑکی کو اس کی بالیاں اتارنے کی خاطر قتل کر دیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس یہودی کو اس لڑکی کے عوض قتل کر دیا۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4744]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الدیات 13 (6885)، (تحفة الأشراف: 1188)، مسند احمد (3/170) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح بخاري

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4745
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو هِشَامٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ: أَنَّ يَهُودِيًّا أَخَذَ أَوْضَاحًا مِنْ جَارِيَةٍ، ثُمَّ رَضَخَ رَأْسَهَا بَيْنَ حَجَرَيْنِ، فَأَدْرَكُوهَا وَبِهَا رَمَقٌ , فَجَعَلُوا يَتَّبِعُونَ بِهَا النَّاسَ، هُوَ هَذَا، هُوَ هَذَا، قَالَتْ: نَعَمْ،" فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرُضِخَ رَأْسُهُ بَيْنَ حَجَرَيْنِ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک یہودی نے ایک لڑکی کا زیور لے لیا، اور پھر اس کا سر دو پتھروں کے درمیان کچل دیا، لوگوں نے اس عورت کو اس حال میں پایا کہ اس میں کچھ جان باقی تھی، وہ اسے لے کر لوگوں کے پاس پہنچے، یہ پوچھتے ہوئے: کیا اس نے مارا ہے، کیا اس نے مارا ہے، وہ بولی: ہاں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا، پھر اس کا بھی سر دو پتھروں کے درمیان کچل دیا گیا۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4745]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک یہودی نے ایک لڑکی کی بالیاں اتار لیں۔ پھر اس کا سر دو پتھروں کے درمیان کچل دیا۔ لوگوں نے لڑکی کو دیکھا تو اس میں کچھ جان باقی تھی۔ وہ لوگ اس کے سامنے مختلف اشخاص کا نام لے کر پوچھنے لگے: وہ فلاں تھا؟ وہ فلاں تھا؟ آخر (اس یہودی کے نام) پر لڑکی نے ہاں کا اشارہ کر دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا تو اس یہودی کا سر بھی اسی طرح دو پتھروں کے درمیان کچل دیا گیا۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4745]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 1140)، مسند احمد (3/262) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4746
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، عَنْ هَمَّامٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ:" خَرَجَتْ جَارِيَةٌ عَلَيْهَا أَوْضَاحٌ , فَأَخَذَهَا يَهُودِيٌّ فَرَضَخَ رَأْسَهَا، وَأَخَذَ مَا عَلَيْهَا مِنَ الْحُلِيِّ، فَأُدْرِكَتْ وَبِهَا رَمَقٌ، فَأُتِيَ بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" مَنْ قَتَلَكِ فُلَانٌ؟" , قَالَتْ بِرَأْسِهَا: لَا , قَالَ:" فُلَانٌ؟" , قَالَ: حَتَّى سَمَّى الْيَهُودِيَّ، قَالَتْ بِرَأْسِهَا: نَعَمْ، فَأُخِذَ فَاعْتَرَفَ،" فَأَمَرَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرُضِخَ رَأْسُهُ بَيْنَ حَجَرَيْنِ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک لڑکی نکلی وہ زیور ہار پہنے ہوئے تھی، ایک یہودی نے اسے پکڑا اور اس کا سر کچل دیا اور جو زیور وہ پہنے ہوئے تھی اسے لے لیا، پھر وہ پائی گئی، اس کی سانس چل رہی تھی، اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا، تو آپ نے پوچھا: تمہیں کس نے قتل کیا؟ کیا فلاں نے؟ اس نے اپنے سر کے اشارے سے کہا: نہیں، آپ نے فرمایا: کیا فلاں نے؟ یہاں تک کہ اس یہودی کا نام آیا، اس نے سر کے اشارے سے کہا: ہاں، تو اسے گرفتار کیا گیا، اس نے اقبال جرم کر لیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا اور دو پتھروں کے درمیان اس کا سر کچل دیا گیا۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4746]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ایک لڑکی گھر سے نکلی، اس کے کانوں میں بالیاں تھیں، ایک یہودی نے اسے پکڑ لیا، اس کا سر کچلا اور زیورات اتار کر لے گیا۔ جب اس لڑکی کو دیکھا گیا تو اس میں کچھ جان باقی تھی، اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا: تجھے کس نے مارا ہے؟ کیا فلاں نے؟ اس نے سر سے اشارہ کیا، نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر پوچھا: فلاں نے؟ حتیٰ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس یہودی کا نام لیا تو اس نے سر کے اشارے سے ہاں کہا۔ اس یہودی کو پکڑ کر لایا گیا، آخر اس نے تسلیم کر لیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا اور اس کا سر بھی اسی طرح دو پتھروں کے درمیان کچل دیا گیا۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4746]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الوصایا 5 (2746)، الدیات 4 (6876)، 12 (6884)، صحیح مسلم/الحدود 3 (1672)، سنن ابی داود/الدیات 10 (4527)، سنن ابن ماجہ/الدیات 24 (2665)، (تحفة الأشراف: 1391)، مسند احمد (3/183، 203، 269) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
13. بَابُ: سُقُوطِ الْقَوَدِ مِنَ الْمُسْلِمِ لِلْكَافِرِ
باب: کافر کے بدلے مسلمان کے قتل نہ کیے جانے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4747
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَفْصِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قَالَ: حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ:" لَا يَحِلُّ قَتْلُ مُسْلِمٍ إِلَّا فِي إِحْدَى ثَلَاثِ خِصَالٍ: زَانٍ مُحْصَنٌ فَيُرْجَمُ، وَرَجُلٌ يَقْتُلُ مُسْلِمًا مُتَعَمِّدًا، وَرَجُلٌ يَخْرُجُ مِنَ الْإِسْلَامِ فَيُحَارِبُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُولَهُ فَيُقْتَلُ أَوْ يُصَلَّبُ أَوْ يُنْفَى مِنَ الْأَرْضِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسلمان کا قتل جائز نہیں ہے مگر جب تین صورتوں میں سے کوئی ایک صورت ہو ۱؎: شادی شدہ ہو کر زنا کرے تو اسے رجم کیا جائے گا، کوئی شخص کسی مسلمان کو جان بوجھ کر (ناحق) قتل کرے، کوئی اسلام سے نکل جائے اور اللہ اور اس کے رسول کے خلاف محاذ جنگ بناتا پھرے، تو اسے قتل کیا جائے گا، یا سولی پر چڑھایا جائے گا، یا پھر جلا وطن کیا جائے گا۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4747]
ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کسی مسلمان کو قتل کرنا جائز نہیں الا یہ کہ وہ ان تین جرائم میں سے کوئی جرم کرے: شادی شدہ ہو کر زنا کرے تو اسے رجم کیا جائے گا، کسی مسلمان شخص کو جان بوجھ کر قتل کر دے، یا اسلام سے خارج ہو جائے اور اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے جنگ شروع کر دے تو اسے قتل کیا جائے گا یا سولی پر لٹکایا جائے گا یا اپنے علاقے سے جلا وطن کر دیا جائے گا۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4747]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 4053 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اور ان تین صورتوں میں کافر کے بدلے مسلم کو قتل کرنے کی بات نہیں ہے اسی سے مؤلف کا باب پر استدلال ہے، جو بہرحال مبہم ہے، لیکن اگلی حدیث اس باب میں بالکل واضح ہے۔ کافر چاہے حربی ہو یا ذمی، یہی جمہور علماء امت کا قول ہے۔ البتہ ذمی کے قتل کا گناہ بہت ہی زیادہ ہے، دیکھئیے اگلی حدیث۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4748
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي حَسَّانَ، قَالَ: قَالَ عَلِيٌّ: مَا عَهِدَ إِلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَيْءٍ دُونَ النَّاسِ إِلَّا فِي صَحِيفَةٍ فِي قِرَابِ سَيْفِي، فَلَمْ يَزَالُوا بِهِ حَتَّى أَخْرَجَ الصَّحِيفَةَ , فَإِذَا فِيهَا:" الْمُؤْمِنُونَ تَكَافَأُ دِمَاؤُهُمْ يَسْعَى بِذِمَّتِهِمْ أَدْنَاهُمْ، وَهُمْ يَدٌ عَلَى مَنْ سِوَاهُمْ، لَا يُقْتَلُ مُؤْمِنٌ بِكَافِرٍ، وَلَا ذُو عَهْدٍ فِي عَهْدِهِ".
ابوجحیفہ کہتے ہیں کہ ہم نے علی رضی اللہ عنہ سے کچھ پوچھا، ہم نے کہا: کیا آپ کے پاس قرآن کے سوا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی چیز ہے؟ انہوں نے کہا: نہیں، اس ذات کی قسم، جس نے دانے کو پھاڑا اور جان کو پیدا کیا، سوائے اس کے کہ اللہ تعالیٰ ایک بندے کو جو قرآن کی سمجھ دیدے، یا جو اس صحیفہ میں ہے، میں نے کہا: اس صحیفہ میں کیا ہے؟ انہوں نے کہا: اس میں دیت کے احکام ہیں، قیدیوں کو چھوڑنے کا بیان ہے، اور یہ حکم ہے کہ کوئی مسلمان کافر کے بدلے قتل نہ کیا جائے۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4748]
حضرت ابوجحیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا: کیا آپ کے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب سے قرآن مجید کے علاوہ کوئی اور چیز بھی ہے؟ انہوں نے فرمایا: قسم ہے اس ذات کی جس نے دانے کو پھاڑ کر انگوری نکالی اور روح کو پیدا فرمایا! نہیں، مگر یہ کہ اللہ تعالیٰ کسی آدمی کو اپنی کتاب کی سمجھ عطا فرمائے (اس میں فرق ہو سکتا ہے) یا پھر اس تحریر میں کچھ باتیں ہیں۔ میں نے کہا: اس تحریر میں کیا لکھا ہے؟ انہوں نے فرمایا: اس میں دیت کے مسائل ہیں، قیدی کو چھڑانے کی فضیلت کا بیان ہے اور یہ کہ کسی مسلمان کو کسی کافر کے بدلے قتل نہیں کیا جائے گا۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4748]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/العلم 39 (111)، الجہاد 171 (3047)، الدیات 24 (6903)، 31 (6915)، سنن الترمذی/الدیات 16 (1412)، سنن ابن ماجہ/الدیات 21 (2658)، (تحفة الأشراف: 10311)، مسند احمد (1/79)، سنن الدارمی/الدیات 5 2401) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح بخاري

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4749
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي حَسَّانَ، قَالَ: قَالَ عَلِيٌّ: مَا عَهِدَ إِلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَيْءٍ دُونَ النَّاسِ إِلَّا فِي صَحِيفَةٍ فِي قِرَابِ سَيْفِي، فَلَمْ يَزَالُوا بِهِ حَتَّى أَخْرَجَ الصَّحِيفَةَ , فَإِذَا فِيهَا:" الْمُؤْمِنُونَ تَكَافَأُ دِمَاؤُهُمْ يَسْعَى بِذِمَّتِهِمْ أَدْنَاهُمْ، وَهُمْ يَدٌ عَلَى مَنْ سِوَاهُمْ، لَا يُقْتَلُ مُؤْمِنٌ بِكَافِرٍ، وَلَا ذُو عَهْدٍ فِي عَهْدِهِ".
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو چھوڑ کر مجھے کوئی بات نہیں بتائی سوائے اس کے جو میری تلوار کی نیام میں رکھے اس صحیفہ میں ہے، لوگوں نے ان کا پیچھا نہ چھوڑا یہاں تک کہ انہوں نے وہ صحیفہ نکالا، اس میں لکھا تھا: سب مسلمانوں کے خون برابر ہیں، ان کا ادنیٰ اور معمولی آدمی بھی کسی کا ذمہ لے سکتا ہے، اور وہ اپنے دشمن کے خلاف ایک ہاتھ کی طرح (متحد) ہیں، کسی کافر کے بدلے کوئی مومن نہیں مارا جائے گا، اور نہ کوئی ذمی جب تک وہ ذمہ میں رہے۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4749]
حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عام لوگوں کے علاوہ مجھے کوئی خصوصی وصیت نہیں فرمائی مگر میری تلوار کی میان میں ایک تحریر ہے، لوگ آپ سے اصرار کرتے رہے (کہ آپ وہ تحریر دکھائیں) حتیٰ کہ آپ نے وہ تحریر نکالی، اس میں لکھا تھا: تمام اہل ایمان کے خون برابر حیثیت رکھتے ہیں، ایک عام مومن بھی کسی شخص کو تمام مسلمانوں کے مقابلے میں ایک ہاتھ کی طرح یکجان ہیں، کسی مسلمان کو کسی کافر کے بدلے قتل نہیں کیا جا سکتا اور کسی ذمی کو اس کے ذمی ہوتے ہوئے قتل نہیں کیا جا سکتا۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4749]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 4739 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں