سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
33. بَابُ: ذِكْرِ الاِخْتِلاَفِ عَلَى خَالِدٍ الْحَذَّاءِ
باب: تلامذہ خالدالحذاء کے اختلاف کا ذکر۔
حدیث نمبر: 4800
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ أَوْسٍ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا دَخَلَ مَكَّةَ يَوْمَ الْفَتْحِ، قَالَ:" أَلَا وَإِنَّ كُلَّ قَتِيلِ خَطَإِ الْعَمْدِ أَوْ شِبْهِ الْعَمْدِ قَتِيلِ السَّوْطِ وَالْعَصَا مِنْهَا، أَرْبَعُونَ فِي بُطُونِهَا أَوْلَادُهَا".
ایک صحابی رسول (رضی اللہ عنہ) سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب فتح مکہ کے دن مکہ میں داخل ہوئے تو فرمایا: ”سنو! ہر مقتول خواہ غلطی سے مارا گیا ہو یا شبہ عمد کے طور پر ہو، وہ کوڑے یا ڈنڈے سے قتل کیے گئے شخص کی طرح ہے (یعنی اس کی دیت بھی وہی ہے جو اس کی ہے) اس میں چالیس حاملہ اونٹنیاں ہوں“۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4800]
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ کے دن مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے تو آپ نے فرمایا: ”آگاہ رہو! جو شخص غلطی سے شبہ عمد کی صورت میں مارا جائے کوڑے اور ڈنڈے سونٹے کے ساتھ تو اس کی دیت کے اونٹوں میں چالیس اونٹنیاں ایسی ہوں جن کے پیٹ میں بچے ہوں۔“ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4800]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 4497 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 4801
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَزِيعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ أَوْسٍ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا قَدِمَ مَكَّةَ عَامَ الْفَتْحِ، قَالَ:" أَلَا وَإِنَّ قَتِيلَ الْخَطَإِ الْعَمْدِ قَتِيلَ السَّوْطِ وَالْعَصَا مِنْهَا أَرْبَعُونَ فِي بُطُونِهَا أَوْلَادُهَا".
ایک صحابی رسول (رضی اللہ عنہ) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ کے دن جب مکہ آئے تو فرمایا: ”سنو! خطا سے مقتول ہونے والا کوڑے اور ڈنڈے سے مر جانے والے کی طرح ہے (یعنی اس کی دیت بھی وہی ہے) ان میں چالیس حاملہ اونٹنیاں ہوں“۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4801]
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب فتح مکہ کے موقع پر مکہ مکرمہ تشریف لائے تو آپ نے فرمایا: ”آگاہ رہو! جو مقتول شبہ عمد کی صورت میں غلطی سے کوڑے یا ڈنڈے سونٹے سے مارا جائے، اس کی دیت کے اونٹوں میں سے چالیس اونٹنیاں ایسی ہوں جن کے پیٹ میں بچے ہوں۔“ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4801]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 4497 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 4802
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَزِيعٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا يَزِيدُ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ أَوْسٍ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَهُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ مَكَّةَ عَامَ الْفَتْحِ، قَالَ:" أَلَا وَإِنَّ قَتِيلَ الْخَطَإِ الْعَمْدِ قَتِيلَ السَّوْطِ وَالْعَصَا مِنْهَا أَرْبَعُونَ فِي بُطُونِهَا أَوْلَادُهَا".
ایک صحابی رسول (رضی اللہ عنہ) بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب فتح مکہ کے سال مکہ میں داخل ہوئے تو فرمایا: ”خطا سے مقتول ہونے والا، کوڑے اور ڈنڈے سے مقتول ہونے والے کی طرح ہے، ان میں چالیس ایسی اونٹنیاں ہوں جو حاملہ ہوں“۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4802]
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ کے سال مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”خبردار! جو شخص شبہ عمد کی صورت میں کوڑے یا سونٹے کے ساتھ غلطی سے قتل ہو جائے، اس کی دیت میں سے چالیس اونٹنیاں ایسی ہوں جن کے پیٹ میں بچے ہوں۔“ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4802]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 4497 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 4803
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ جُدْعَانَ سَمِعَهُ مِن الْقَاسِمِ بْنِ رَبِيعَة، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ , عَلَى دَرَجَةِ الْكَعْبَةِ , فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، وَقَالَ:" الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي صَدَقَ وَعْدَهُ , وَنَصَرَ عَبْدَهُ , وَهَزَمَ الْأَحْزَابَ وَحْدَهُ، أَلَا إِنَّ قَتِيلَ الْعَمْدِ الْخَطَإِ بِالسَّوْطِ وَالْعَصَا شِبْهِ الْعَمْدِ فِيهِ مِائَةٌ مِنَ الْإِبِلِ مُغَلَّظَةٌ مِنْهَا أَرْبَعُونَ خَلِفَةً فِي بُطُونِهَا أَوْلَادُهَا".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ فتح مکہ کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کعبے کی سیڑھی پر کھڑے ہوئے، اللہ کی حمد و ثنا بیان کی اور فرمایا: ”شکر ہے اس اللہ کا جس نے اپنا وعدہ سچ کر دکھایا، اپنے بندے کی مدد کی، جماعتوں کو اکیلے ہی شکست دی، سنو! کوڑے اور ڈنڈے سے غلطی سے مر جانے والا شبہ عمد کی طرح ہے، اس میں بھی دیت مغلظہ سو اونٹ ہے، ان میں سے چالیس حاملہ اونٹنیاں ہوں“۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4803]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فتحِ مکہ کے دن کعبہ کی سیڑھی پر کھڑے ہوئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی اور فرمایا: ”سب تعریف اللہ تعالیٰ کے لیے ہے جس نے اپنا وعدہ سچا کر دکھایا اور اپنے بندے (محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ) کی مدد فرمائی، نیز اس اکیلے نے کفار کی تمام جماعتوں کو شکست سے دوچار کیا۔ سنو! جو شخص شبہِ عمد کی صورت میں کوڑے یا سونٹے کے ساتھ خطاً مارا جائے، اس کی دیت سخت ہوگی، (یعنی ایسے) سو اونٹ جن میں سے چالیس اونٹنیاں حاملہ ہوں گی۔“ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4803]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الدیات 19 (4549)، سنن ابن ماجہ/الدیات 5 (2628)، (تحفة الأشراف: 7372) (صحیح) (اس کے راوی ”علی بن زید بن جدعان“ ضعیف ہیں، لیکن پچھلی سن دوں سے یہ روایت بھی صحیح ہے)»
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، ابو داود (4539) ابن ماجه (2628) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 357
حدیث نمبر: 4804
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ: حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ رَبِيعَةَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" الْخَطَأُ شِبْهُ الْعَمْدِ يَعْنِي بِالْعَصَا , وَالسَّوْطِ مِائَةٌ مِنَ الْإِبِلِ مِنْهَا أَرْبَعُونَ فِي بُطُونِهَا أَوْلَادُهَا".
قاسم بن ربیعہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ڈنڈے یا کوڑے سے غلطی سے قتل ہو جانا شبہ عمد کی طرح ہے، اس میں سو اونٹ کی دیت ہو گی جن میں چالیس حاملہ اونٹنیاں ہوں“۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4804]
قاسم بن ربیعہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قتلِ خطا شبہِ عمد کی صورت میں، یعنی جو کوڑے یا سونٹے کے ساتھ ہو، اس میں دیت سو اونٹ ہے جن میں سے چالیس اونٹنیاں حاملہ ہوں۔“ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4804]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 4797 (صحیح) (یہ روایت مرسل ہے، مگر پچھلی روایتیں متصل مرفوع ہیں)»
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 4805
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَاشِدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَنْ قُتِلَ خَطَأً فَدِيَتُهُ مِائَةٌ مِنَ الْإِبِلِ، ثَلَاثُونَ بِنْتَ مَخَاضٍ، وَثَلَاثُونَ بِنْتَ لَبُونٍ، وَثَلَاثُونَ حِقَّةً، وَعَشَرَةُ بَنِي لَبُونٍ ذُكُورٍ"، قَالَ: وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَوِّمُهَا عَلَى أَهْلِ الْقُرَى أَرْبَعَ مِائَةِ دِينَارٍ أَوْ عِدْلَهَا مِنَ الْوَرِقِ , وَيُقَوِّمُهَا عَلَى أَهْلِ الْإِبِلِ إِذَا غَلَتْ رَفَعَ فِي قِيمَتِهَا , وَإِذَا هَانَتْ نَقَصَ مِنْ قِيمَتِهَا عَلَى نَحْوِ الزَّمَانِ مَا كَانَ , فَبَلَغَ قِيمَتُهَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا بَيْنَ الْأَرْبَعِ مِائَةِ دِينَارٍ إِلَى ثَمَانِ مِائَةِ دِينَارٍ أَوْ عِدْلِهَا مِنَ الْوَرِقِ، قَالَ: وَقَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَنَّ مَنْ كَانَ عَقْلُهُ فِي الْبَقَرِ عَلَى أَهْلِ الْبَقَرِ مِائَتَيْ بَقَرَةٍ، وَمَنْ كَانَ عَقْلُهُ فِي الشَّاةِ أَلْفَيْ شَاةٍ". (حديث مرفوع) (حديث موقوف) وَقَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَنَّ الْعَقْلَ مِيرَاثٌ بَيْنَ وَرَثَةِ الْقَتِيلِ عَلَى فَرَائِضِهِمْ فَمَا فَضَلَ فَلِلْعَصَبَةِ". (حديث مرفوع) (حديث موقوف) وَقَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَنْ يَعْقِلَ عَلَى الْمَرْأَةِ عَصَبَتُهَا مَنْ كَانُوا , وَلَا يَرِثُونَ مِنْهُ شَيْئًا إِلَّا مَا فَضَلَ عَنْ وَرَثَتِهَا , وَإِنْ قُتِلَتْ فَعَقْلُهَا بَيْنَ وَرَثَتِهَا , وَهُمْ يَقْتُلُونَ قَاتِلَهَا".
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص خطا (غلطی) سے مارا جائے اس کی دیت سو اونٹ ہے: تیس اونٹنیاں ہیں جو ایک سال پورے کر کے دوسرے میں لگ گئی ہوں اور تیس اونٹنیاں جو دو سال پورے کر کے تیسرے میں لگ گئی ہوں اور تیس اونٹنیاں وہ جو تین سال پورے کر کے چوتھے سال میں لگ گئی ہوں اور دو دو سال کے دس اونٹ ہیں جو تیسرے سال میں داخل ہو گئے ہوں، اور آپ نے گاؤں والوں پر دیت کی قیمت چار سو دینار لگائی یا اتنی ہی قیمت کی چاندی، یہ قیمت وقت کے حساب سے بدلتی رہتی، اونٹ مہنگے ہوتے تو دیت (کی مالیت) بھی زیادہ ہوتی اور جب سستے ہوتے تو دیت بھی کم ہو جاتی، چنانچہ آپ کے زمانے میں دیت کی قیمت چار سو دینار سے آٹھ سو دینار تک پہنچ گئی یا اسی کے برابر چاندی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فیصلہ فرمایا: گائے والوں سے دو سو گائیں اور بکری والوں سے دو ہزار بکریاں (دیت میں) لی جائیں، نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم فرمایا: دیت مقتول کے ورثاء کے درمیان ان کے حصوں کے مطابق ترکہ ہے، پھر جو بچ رہے وہ عصبہ کے اوپر ہے، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عورت کی طرف سے اس کی دیت اس کے عصبہ ادا کریں گے جو بھی ہوں، لیکن وہ (ملنے والی) دیت میں کسی چیز کے وارث نہیں ہوں گے سوائے اس کے جو بچ رہے، اور اگر عورت مقتول ہو تو اس کی دیت اس کے ورثاء میں تقسیم ہو گی اور وہ اس کے قاتل کو قتل کریں گے“۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4805]
حضرت عمرو بن شعیب کے پردادا (حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما) سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص خطا (غلطی سے) مارا جائے، اس کی دیت سو اونٹ ہے۔ تیس «بِنْتُ مَخَاضٍ» (ایک سالہ اونٹنی)، تیس «بِنْتُ لَبُونٍ» (دو سالہ اونٹنی)، تیس «حِقَّةٌ» (تین سالہ اونٹنی) اور دس «اِبْنُ لَبُونٍ» (ایک سالہ مذکر)۔“ انہوں (حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما) نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بستیوں (گاؤں) میں رہنے والے لوگوں پر اس دیت کی قیمت چار سو دینار یا اس کے برابر چاندی مقرر فرماتے تھے اور اونٹوں والوں پر ان کی قیمت وقت کے لحاظ سے عائد فرماتے تھے۔ جب اونٹ مہنگے ہوتے تو قیمت بڑھا دیتے اور اگر سستے ہو جاتے تو قیمت کم لگاتے، جو بھی ہوتی۔ آپ کے دور مبارک میں یہ قیمت چار سو دینار سے آٹھ سو دینار تک رہی یا اس کے برابر چاندی تھی۔ انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فیصلہ بھی فرمایا کہ جو شخص گایوں سے دیت دینا چاہے تو گایوں والوں پر دیت دو سو گائے ہو گی اور جو شخص بکریوں سے دینا چاہے تو دیت دو ہزار بکریاں ہو گی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ فرمایا کہ دیت بھی وراثت کی طرح مقتول کے ورثاء میں تقسیم ہو گی، ان کو ان کے مقررہ حصوں کے مطابق دی جائے گی۔ اگر کوئی مال بچ جائے تو وہ مقتول کے عصبہ کو ملے گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ فرمایا تھا کہ عورت کی طرف سے دیت تو اس کے عصبہ بھریں گے، جو بھی ہوں، لیکن وہ اس کی وراثت سے کچھ حاصل نہیں کریں گے الا یہ کہ ورثاء کو ان کے مقررہ حصوں کی ادائیگی کے بعد کچھ بچ جائے (تو وہ بطور عصبہ ان کو ملے گا)۔ اور اگر کوئی عورت قتل کر دی جائے تو اس کی دیت ورثاء میں تقسیم ہو گی اور وہی قاتل کو قتل کریں گے (اگر وہ معاف نہ کریں)۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4805]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الدیات 18 (4541)، سنن ابن ماجہ/الدیات 6 (2630)، (تحفة الأشراف: 8709، 8710)، مسند احمد (2/183، 217، 224) (حسن)»
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن
34. بَابُ: ذِكْرِ أَسْنَانِ دِيَةِ الْخَطَإِ
باب: قتل خطا میں دیت کے اونٹوں کی عمر کا بیان۔
حدیث نمبر: 4806
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ حَجَّاجٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ خِشْفِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ مَسْعُودٍ، يَقُولُ:" قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دِيَةَ الْخَطَإِ عِشْرِينَ بِنْتَ مَخَاضٍ، وَعِشْرِينَ ابْنَ مَخَاضٍ ذُكُورًا، وَعِشْرِينَ بِنْتَ لَبُونٍ، وَعِشْرِينَ جَذَعَةً , وَعِشْرِينَ حِقَّةً".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قتل خطا کی دیت میں بیس اونٹنیاں ایک ایک سال کی جو دوسرے میں لگی ہوں، بیس اونٹ جو ایک ایک سال کے ہوں اور دوسرے میں لگے ہوں، بیس اونٹنیاں دو دو سال کی جو تیسرے میں لگی ہوں، بیس اونٹنیاں چار چار سال کی جو پانچویں میں لگی ہوں اور بیس اونٹنیاں تین تین سال کی جو چوتھے میں لگی ہوں دینے کا حکم کیا ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4806]
حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قتلِ خطا کی دیت کے بارے میں فیصلہ فرمایا کہ ”ان میں بیس «بِنْتَ مَخَاضٍ» (ایک سالہ اونٹنی)، بیس «اِبْنَ مَخَاضٍ» (ایک سالہ مذکر)، بیس «بِنْتَ لَبُونٍ» (دو سالہ اونٹنی)، بیس «جَذَعَةً» (چار سالہ اونٹنی) اور بیس «حِقَّةً» (تین سالہ اونٹنی) ہوں گے۔“ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4806]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الدیات 18 (4545)، سنن الترمذی/الدیات 1 (1386)، سنن ابن ماجہ/الدیات 6 (2631)، (تحفة الأشراف: 9198)، مسند احمد (1/450) (ضعیف) (اس کے راوی ”حجاج بن ارطاة“ مدلس ہیں اور عنعنہ سے روایت کیے ہوئے ہیں، نیز ”خشف“ کی ثقاہت میں بھی کلام ہے)»
وضاحت: ۱؎: یہ حدیث ضعیف ہے اس لیے پچھلی حدیث پر عمل ہو گا جو صحیح ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کے مقتول (جس کا ذکر قسامہ کے شروع میں گزرا) کی دیت میں سو اونٹ ادا کئے تھے جن میں کوئی بھی ابن مخاض نہیں تھا جس کا ذکر اس ضعیف حدیث میں ہے۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، ابو داود (4545) ترمذي (1386) ابن ماجه (2631) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 357
35. بَابُ: ذِكْرِ الدِّيَةِ مِنَ الْوَرِقِ
باب: چاندی سے دیت کی ادائیگی کا بیان۔
حدیث نمبر: 4807
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، عَنْ مُعَاذِ بْنِ هَانِئٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ. ح وأَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هَانِئٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:" قَتَلَ رَجُلٌ رَجُلًا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دِيَتَهُ اثْنَيْ عَشَرَ أَلْفًا وَذَكَرَ قَوْلَهُ إِلَّا أَنْ أَغْنَاهُمُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ مِنْ فَضْلِهِ فِي أَخْذِهِمُ الدِّيَةَ"، وَاللَّفْظُ لِأَبِي دَاوُدَ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایک شخص نے ایک شخص کو قتل کر دیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی دیت بارہ ہزار درہم مقرر کی، اور دیت لینے سے متعلق اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد بیان کیا «إلا أن أغناهم اللہ ورسوله من فضله» ”مگر یہ کہ اب اللہ اور اس کے رسول نے ان کو مالدار کر دیا ہے“ (المائدہ: ۵۰)، الفاظ ابوداؤد کے ہیں۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4807]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دورِ مبارک میں ایک آدمی نے دوسرے آدمی کو قتل کر دیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی دیت بارہ ہزار درہم مقرر فرمائی۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان: ﴿وَمَا نَقَمُوا إِلَّا أَنْ أَغْنَاهُمُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ مِنْ فَضْلِهِ﴾ [سورة التوبة: 74] ”اور نہیں انتقام لیا انہوں نے مگر اس بات کا کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول نے ان کو اپنے فضل سے غنی فرمایا۔“ دیت لینے کے بارے میں ہے۔ اور (مذکورہ) الفاظ ابو داود حرانی کے ہیں۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4807]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الدیات 18 (4546)، سنن الترمذی/الدیات 2 (1388، 1389)، سنن ابن ماجہ/الدیات 6 (2629)، (تحفة الأشراف: 6165) (ضعیف) (اس روایت کا مرسل ہونا ہی صحیح ہے جیسا کہ امام ابوداود نے صراحت کی ہے، اس کو عمرو بن دینار سے سفیان بن عیینہ (جو محمد بن مسلم طائفی کے بالمقابل اوثق ہیں) نے بھی روایت کیا ہے، لیکن انہوں نے ابن عباس رضی الله عنہما کا ذکر نہیں کیا ہے)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن
حدیث نمبر: 4808
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَيْمُونٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ عِكْرِمَةَ سَمِعْنَاهُ مَرَّةً، يَقُولُ: عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" قَضَى بِاثْنَيْ عَشَرَ أَلْفًا يَعْنِي فِي الدِّيَةِ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بارہ ہزار درہم کا فیصلہ کیا یعنی دیت میں۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4808]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ”دیت بارہ ہزار درہم مقرر فرمائی۔“ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4808]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظرما قبلہ (ضعیف)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
36. بَابُ: عَقْلِ الْمَرْأَةِ
باب: عورت کی دیت کا بیان۔
حدیث نمبر: 4809
أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، قَالَ: حَدَّثَنَا ضَمْرَةُ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ عَيَّاشٍ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" عَقْلُ الْمَرْأَةِ مِثْلُ عَقْلِ الرَّجُلِ، حَتَّى يَبْلُغَ الثُّلُثَ مِنْ دِيَتِهَا".
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عورت کی دیت ایک تہائی دیت تک مرد کی دیت کی طرح ہے“۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4809]
حضرت عمرو بن شعیب کے پردادا (حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما) سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عورت کی دیت مرد کے برابر ہے حتیٰ کہ تہائی کو پہنچ جائے۔“ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4809]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 8749) (ضعیف) (اس کے راوی ”اسماعیل بن عیاش“ حجازیوں سے روایت میں ضعیف ہیں، نیز ”ابن جریج“ مدلس ہیں اور عنعنہ سے روایت کیے ہوئے ہیں)»
وضاحت: ۱؎: یہ حدیث اصول حدیث کے حساب سے ضعیف ہے، مگر جمہور علماء کا یہی قول ہے، بلکہ بعض لوگوں نے اس پر اجماع نقل کیا ہے، اور یہ کہ ابن خزیمہ نے اس حدیث کی تصحیح کی ہے حدیث کا مطلب یہ ہے کہ مرد کی مکمل دیت سو اونٹ ہے اور عورت کے قتل عمد و شبہ عمد و خطا میں آدھی دیت پچاس اونٹ واجب الاداء ہوں گے، لیکن اگر اعضاء کے تلف کرنے کی دیت ہو تو جیسے ایک انگلی کی دیت دس اونٹ ہیں، مان لیا کہ کسی نے کسی عورت کی چار انگلیاں توڑ دیں تو ان کی دیت چالیس اونٹ ہوئے جو سو کے ثلث (۳۳) سے زیادہ ہو گئے تو اب انگلیاں توڑنے والے پر صرف بیس (۲۰) اونٹ واجب ہوں گے، (علی ھذا القیاس)۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، ابن جريج مكي حجازي وعنعن وهو مدلس. وإسماعيل بن عياش الشامي ضعيف، عن غير أهل بلده أى عن غير الشاميين (الفتح المبين: 68/ 3 ص 87) والحديث الآتي (الأصل: 4810) يغني عنه. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 357