سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
17. بَابُ: الْقِصَاصِ مِنَ الثَّنِيَّةِ
باب: دانت کے قصاص کا بیان۔
حدیث نمبر: 4760
أَخْبَرَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ , وَإِسْمَاعِيل بْنُ مَسْعُودٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا بِشْرٌ، عَنْ حُمَيْدٍ، قَالَ: ذَكَرَ أَنَسٌ: أَنَّ عَمَّتَهُ كَسَرَتْ ثَنِيَّةَ جَارِيَةٍ، فَقَضَى نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْقِصَاصِ , فَقَالَ أَخُوهَا أَنَسُ بْنُ النَّضْرِ: أَتُكْسَرُ ثَنِيَّةُ فُلَانَةَ , لَا وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ لَا تُكْسَرُ ثَنِيَّةُ فُلَانَةَ، قَالَ: وَكَانُوا قَبْلَ ذَلِكَ سَأَلُوا أَهْلَهَا الْعَفْوَ وَالْأَرْشَ، فَلَمَّا حَلَفَ أَخُوهَا وَهُوَ عَمُّ أَنَسٍ وَهُوَ الشَّهِيدُ يَوْمَ أُحُدٍ رَضِيَ الْقَوْمُ بِالْعَفْوِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ مِنْ عِبَادِ اللَّهِ مَنْ لَوْ أَقْسَمَ عَلَى اللَّهِ لَأَبَرَّهُ".
انس رضی اللہ عنہ نے ذکر کیا کہ ان کی پھوپھی نے ایک لڑکی کے دانت توڑ دیے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قصاص کا فیصلہ کیا، ان کے بھائی انس بن نضر رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا فلاں کا دانت توڑا جائے گا؟ نہیں، اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے، فلاں کے دانت نہیں توڑے جائیں گے، اور وہ لوگ اس سے پہلے اس کے گھر والوں سے معافی اور دیت کی بات کر چکے تھے، پھر جب ان کے بھائی نے قسم کھائی (وہ انس رضی اللہ عنہ کے چچا تھے، جو احد کے دن شہید ہوئے) تو وہ لوگ معاف کرنے پر راضی ہو گئے، چنانچہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کے بعض بندے ایسے ہیں جو اگر اللہ کے بھروسے پر قسم کھا لیں تو اللہ انہیں سچا کر دکھاتا ہے“۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4760]
حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میری پھوپھی نے ایک لڑکی کا سامنے والا دانت توڑ دیا، تو اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قصاص کا حکم دے دیا۔ ان کے بھائی انس بن نضر رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا اس کا دانت توڑ دیا جائے گا؟ نہیں، قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو سچا نبی بنایا ہے! اس کا دانت نہیں توڑا جائے گا۔ اس سے پہلے انہوں نے اس لڑکی کے گھر والوں سے معافی اور دیت کی گزارش کی تھی (مگر وہ نہ مانے تھے)۔ پھر جب ان کے بھائی، جو حضرت انس کے چچا تھے اور جنگ احد میں شہید ہوئے، نے قسم کھا لی تو وہ لوگ معافی پر راضی ہو گئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کے کچھ بندے ایسے (بلند مرتبہ) ہوتے ہیں کہ اگر وہ اللہ تعالیٰ پر بھروسا کرتے ہوئے قسم کھا لیں تو اللہ تعالیٰ ان (کی قسم) کو سچا کر دیتا ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4760]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 605) صحیح البخاری/ الصلح 8 (2703)، وتفسیر البقرة 23 (4500)، المائدة 6 (4611)، الدیات 19 (6894)، صحیح مسلم/القسامة 5 (1675)، سنن ابی داود/ الدیات 32 (4595)، سنن ابن ماجہ/الدیات 16 (4669)، مسند احمد 3/128، وانظر ماقبلہ (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 4761
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: كَسَرَتْ الرُّبَيِّعُ ثَنِيَّةَ جَارِيَةٍ , فَطَلَبُوا إِلَيْهِمُ الْعَفْوَ فَأَبَوْا , فَعُرِضَ عَلَيْهِمُ الْأَرْشُ فَأَبَوْا , فَأَتَوْا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَأَمَرَ بِالْقِصَاصِ، قَالَ أَنَسُ بْنُ النَّضْرِ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، تُكْسَرُ ثَنِيَّةُ الرُّبَيِّعِ لَا وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ لَا تُكْسَرُ، قَالَ:" يَا أَنَسُ , كِتَابُ اللَّهِ الْقِصَاصُ" , فَرَضِيَ الْقَوْمُ وَعَفَوْا، فَقَالَ:" إِنَّ مِنْ عِبَادِ اللَّهِ مَنْ لَوْ أَقْسَمَ عَلَى اللَّهِ لَأَبَرَّهُ".
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ربیع نے ایک لڑکی کے دانت توڑ دیے، چنانچہ انہوں نے معاف کر دینے کی درخواست کی تو ان لوگوں نے انکار کیا، پھر ان کے سامنے دیت کی پیش کش کی گئی، تو انہوں نے اس کا بھی انکار کیا، چنانچہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، آپ نے انہیں قصاص کا حکم دیا، انس بن نضر رضی اللہ عنہ بولے: اللہ کے رسول! کیا ربیع کے دانت توڑے جائیں گے؟ نہیں، قسم اس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے، وہ نہیں توڑے جائیں گے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انس! اللہ کی کتاب میں قصاص کا حکم ہے“، پھر وہ لوگ راضی ہو گئے اور انہیں معاف کر دیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کے بعض بندے ایسے ہیں جو اگر اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کر کے قسم کھائیں تو اللہ تعالیٰ انہیں سچا کر دکھاتا ہے“۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4761]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: (میری پھوپھی) حضرت ربیع رضی اللہ عنہا نے ایک لڑکی کا سامنے والا دانت توڑ دیا۔ ان کے رشتہ داروں نے لڑکی کے رشتہ داروں سے معافی مانگی، انہوں نے انکار کر دیا۔ انہیں دیت کی پیش کش کی گئی تو انہوں نے پھر انکار کر دیا۔ پھر وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قصاص کا حکم جاری فرما دیا۔ حضرت انس بن نضر رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! ربیع کا دانت توڑا جائے گا؟ نہیں، قسم اس ذات کی جس نے آپ کو برحق نبی بنایا! ہرگز نہیں توڑا جائے گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انس! اللہ تعالیٰ کی کتاب تو قصاص کا حکم دیتی ہے۔“ اتنے میں فریق ثانی راضی ہو گیا اور انہوں نے معافی دے دی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلاشبہ اللہ تعالیٰ کے کچھ بندے ایسے ہیں کہ اگر اللہ تعالیٰ کا نام لے کر قسم کھا لیں تو اللہ تعالیٰ ان کی لاج رکھ لیتا ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4761]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابن ماجہ/الدیات 16 (2649)، (تحفة الأشراف: 636) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 4762
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ أَبُو الْجَوْزَاءِ، قَالَ: أَنْبَأَنَا قُرَيْشُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ ابْنِ عَوْنٍ، عَنْ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، أَنَّ رَجُلًا عَضَّ يَدَ رَجُلٍ , فَانْتَزَعَ يَدَهُ فَسَقَطَتْ ثَنِيَّتُهُ، أَوْ قَالَ: ثَنَايَاهُ فَاسْتَعْدَى عَلَيْهِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا تَأْمُرُنِي؟ تَأْمُرُنِي أَنْ آمُرَهُ أَنْ يَدَعَ يَدَهُ فِي فِيكَ تَقْضَمُهَا كَمَا يَقْضَمُ الْفَحْلُ، إِنْ شِئْتَ فَادْفَعْ إِلَيْهِ يَدَكَ حَتَّى يَقْضَمَهَا , ثُمَّ انْتَزِعْهَا إِنْ شِئْتَ".
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے ایک آدمی کا ہاتھ کاٹ لیا، اس نے اپنا ہاتھ کھینچا، تو اس کا ایک دانت ٹوٹ کر گر گیا (یا دو دانت) اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے فریاد کی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: ”تم مجھ سے کیا کہنا چاہتے ہو؟ کیا یہ کہ میں اسے حکم دوں کہ وہ اپنا ہاتھ تمہارے منہ میں دئیے رہے تاکہ تم اسے جانور کی طرح چبا ڈالو، اگر تم چاہو تو اپنا ہاتھ اسے دو تاکہ وہ اسے چبائے پھر اگر چاہو تو اسے کھینچ لینا“ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4762]
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے دوسرے آدمی کے ہاتھ پر کاٹ لیا۔ اس نے اپنا ہاتھ کھینچا تو اس کے سامنے والا ایک دانت اکھڑ گیا۔ اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عدالت میں اس کے خلاف دعویٰ دائر کر دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فرمایا: ”تو کیا چاہتا ہے؟ کیا تو چاہتا ہے کہ میں اسے کہوں کہ وہ اپنا ہاتھ تیرے منہ میں دیے رکھے اور تو اسے چباتا رہے، جیسے اونٹ چباتا ہے؟ اگر تو چاہتا ہے تو اپنا ہاتھ اس کے منہ میں ڈال دے تاکہ وہ اسے چبائے، پھر تو چاہے تو اپنا ہاتھ کھینچ لینا۔“ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4762]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/القسامة 4 (الحدود 4) (1673)، (تحفة الأشراف: 10840) مسند احمد (4/230) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ اگر کوئی کسی کا ہاتھ اپنے دانتوں سے کاٹنے لگے اور وہ اپنا ہاتھ زور سے کھینچ لے جس کی وجہ سے اس کے دانت ٹوٹ جائیں تو ان دانتوں کا قصاص (یا دیت) ہاتھ کھینچنے والے سے نہیں لیا جائے گا، یہ بات صرف دانت کھینچنے میں ہی نہیں اس جیسے دیگر معاملات میں بھی ہو گی۔ دیکھئیے اسی حدیث پر مولف کا باب باندھنا «الرجل یدفع عن نفسہ» (حدیث نمبر: ۴۷۶۷)۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
18. بَابُ: الْقَوَدِ مِنَ الْعَضَّةِ وَذِكْرِ اخْتِلاَفِ أَلْفَاظِ النَّاقِلِينَ لِخَبَرِ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ
باب: دانت کاٹ لینے کا قصاص اور اس بابت عمران بن حصین رضی الله عنہ کی حدیث میں راویوں کے الفاظ کے اختلاف کا ذکر۔
حدیث نمبر: 4763
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ: أَنَّ رَجُلًا عَضَّ آخَرَ عَلَى ذِرَاعِهِ فَاجْتَذَبَهَا، فَانْتَزَعَتْ ثَنِيَّتَهُ، فَرُفِعَ ذَلِكَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَبْطَلَهَا، وَقَالَ:" أَرَدْتَ أَنْ تَقْضَمَ لَحْمَ أَخِيكَ كَمَا يَقْضَمُ الْفَحْلُ".
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص نے دوسرے کا ہاتھ کاٹ لیا، پہلے نے اسے کھینچا تو دوسرے کا دانت نکل پڑا، معاملہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچا تو آپ نے اسے کچھ نہ دلایا اور فرمایا: ”کیا چاہتے ہو کہ تم اونٹ کی طرح اپنے بھائی کا گوشت چباؤ“۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4763]
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے دوسرے کے بازو پر کاٹ کھایا، اس نے اپنا بازو کھینچا تو اس (کاٹنے والے) کا سامنے والا دانت گر گیا، یہ مقدمہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عدالت میں پیش کیا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دانت کا کوئی معاوضہ نہیں دلوایا بلکہ فرمایا: ”تیرا مقصد یہ ہے کہ تو اونٹ کی طرح اپنے بھائی کا گوشت چباتا رہتا؟ (اور وہ کچھ بھی نہ کرتا)۔“ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4763]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الدیات 18 (6892)، صحیح مسلم/القسامة 4 (1673)، سنن الترمذی/الدیات 20 (1416)، سنن ابن ماجہ/الدیات 20 (2657)، (تحفة الأشراف: 10823)، ویأتي عند المؤلف بأرقام: 4764-4766)، مسند احمد (4/427، 428، 435، سنن الدارمی/الدیات 14 (2413) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 4764
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ زُرَارَةَ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، قَالَ: قَاتَلَ يَعْلَى رَجُلًا , فَعَضَّ أَحَدُهُمَا صَاحِبَهُ , فَانْتَزَعَ يَدَهُ مِنْ فِيهِ فَنَدَرَتْ ثَنِيَّتُهُ، فَاخْتَصَمَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" يَعَضُّ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ كَمَا يَعَضُّ الْفَحْلُ لَا دِيَةَ لَهُ".
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ یعلیٰ رضی اللہ عنہ کا ایک شخص سے جھگڑا ہو گیا ۱؎، ان میں سے ایک نے دوسرے کو دانت کاٹا، پھر ایک نے اپنا ہاتھ کھینچا تو دوسرے کا دانت نکل پڑا، وہ لوگ جھگڑا لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے، آپ نے فرمایا: ”تم میں سے ایک آدمی اونٹ کی طرح اپنے بھائی کے ہاتھ کو کاٹتا ہے (پھر دیت مانگتا ہے) اسے دیت نہیں ملے گی“۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4764]
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ حضرت یعلی رضی اللہ عنہ کا ایک آدمی سے جھگڑا ہو گیا تو ان میں سے ایک نے دوسرے کو دانت کاٹا، اس نے اس کے منہ سے اپنا ہاتھ کھینچا تو کاٹنے والے کا سامنے والا دانت گر گیا۔ وہ دونوں یہ جھگڑا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے کر آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (غصے سے) فرمایا: ”کیا تم میں سے ایک آدمی اپنے بھائی کو اونٹ کی طرح چباتا ہے؟ جاؤ اس دانت کی کوئی دیت نہیں۔“ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4764]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 4763 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس روایت میں صراحت ہے کہ دانت کاٹنے والے یعلیٰ بن امیہ رضی اللہ عنہ تھے اور جس کو دانت کاٹا تھا وہ ان کا مزدور تھا، چونکہ معاملہ خود یعلیٰ رضی اللہ عنہ کا تھا اس لیے اپنی روایتوں میں (جو آگے آ رہی ہیں) انہوں نے دانت کاٹنے والے کا نام مبہم کر دیا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 4765
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ زُرَارَةَ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، أَنَّ يَعْلَى، قَالَ: فِي الَّذِي عَضَّ فَنَدَرَتْ ثَنِيَّتُهُ: إِنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَا دِيَةَ لَكَ".
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ یعلیٰ رضی اللہ عنہ نے اس شخص کے بارے میں کہا جس نے دانت کاٹ کھایا، تو اس کا دانت اکھڑ گیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارے لیے دیت نہیں ہے“۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4765]
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت یعلی رضی اللہ عنہ نے اس آدمی کے بارے میں جس نے دوسرے کو کاٹا تھا جس سے اس کا دانت گر گیا تھا، فرمایا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے (اس جیسے مقدمے میں) فرمایا تھا: ”جاؤ تجھے کوئی دیت نہیں ملے گی۔“ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4765]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 4763 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 4766
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو هِشَامٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبَانُ، قَالَ: حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا زُرَارَةُ بْنُ أَوْفَى، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ: أَنَّ رَجُلًا عَضَّ ذِرَاعَ رَجُلٍ , فَانْتَزَعَ ثَنِيَّتَهُ، فَانْطَلَقَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ:" أَرَدْتَ أَنْ تَقْضَمَ ذِرَاعَ أَخِيكَ كَمَا يَقْضَمُ الْفَحْلُ" , فَأَبْطَلَهَا.
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص نے ایک آدمی کے ہاتھ میں دانت کاٹا تو اس کا دانت اکھڑ گیا، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا اور آپ سے اس کا ذکر کیا تو آپ نے فرمایا: ”تم چاہتے تھے کہ تم اپنے بھائی کا ہاتھ اونٹ کی طرح چبا ڈالو“ پھر آپ نے اس کی دیت نہیں دلوائی۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4766]
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے دوسرے آدمی کے بازو پر دانت کاٹا جس کے نتیجے میں اس کا سامنے والا دانت اکھڑ گیا۔ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا اور آپ سے اس کا تذکرہ کیا۔ آپ نے فرمایا: ”تیرا مقصد یہ ہے کہ تو اپنے بھائی کا بازو اونٹ کی طرح چباتا رہتا۔“ پھر آپ نے اس کا کوئی معاوضہ نہ دلوایا۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4766]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 4763 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
19. بَابُ: الرَّجُلِ يَدْفَعُ عَنْ نَفْسِهِ
باب: اپنا دفاع کرنے میں دوسرے کے نقصان ہو جانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 4767
أَخْبَرَنَا مَالِكُ بْنُ الْخَلِيلِ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ الْحَكَمِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ يَعْلَى ابْنِ مُنْيَةَ , أَنَّهُ قَاتَلَ رَجُلًا , فَعَضَّ أَحَدُهُمَا صَاحِبَهُ , فَانْتَزَعَ يَدَهُ مِنْ فِيهِ فَقَلَعَ ثَنِيَّتَهُ، فَرُفِعَ ذَلِكَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" يَعَضُّ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ كَمَا يَعَضُّ الْبَكْرُ" فَأَبْطَلَهَا.
یعلیٰ بن منیہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص سے ان کا جھگڑا ہو گیا ان میں سے ایک نے دوسرے کو دانت کاٹا، پہلے نے اپنا ہاتھ دوسرے کے منہ سے چھڑایا تو اس کا دانت اکھڑ گیا، معاملہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تک لایا گیا، تو آپ نے فرمایا: ”کیا تم میں سے کوئی اپنے بھائی کو جوان اونٹ کی طرح کاٹتا ہے“ پھر آپ نے اسے تاوان نہیں دلایا۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4767]
حضرت یعلی بن منیہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں ایک آدمی سے لڑ پڑا۔ ہم میں سے ایک نے دوسرے کو دانت کاٹا تو اس نے اپنا ہاتھ اس کے منہ سے کھینچا اور اس کا دانت اکھیڑ دیا۔ یہ مقدمہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا گیا تو آپ نے فرمایا: ”تم میں سے ایک آدمی اپنے بھائی کو اس طرح کاٹتا ہے، جیسے اونٹ؟“ پھر آپ نے اسے باطل اور لغو قرار دیا۔ (اس کے دانت کا کوئی معاوضہ نہیں دلوایا۔) [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4767]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 11847) (صحیح الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 4768
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عَقِيلٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَدِّي، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ الْحَكَمِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ يَعْلَى ابْنِ مُنْيَةَ: أَنَّ رَجُلًا مِنْ بَنِي تَمِيمٍ قَاتَلَ رَجُلًا , فَعَضَّ يَدَهُ فَانْتَزَعَهَا , فَأَلْقَى ثَنِيَّتَهُ، فَاخْتَصَمَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" يَعَضُّ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ كَمَا يَعَضُّ الْبَكْرُ" فَأَطَلَّهَا , أَيْ: أَبْطَلَهَا.
یعلیٰ بن منیہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ بنی تمیم کے ایک آدمی کا ایک شخص سے جھگڑا ہو گیا، تو پہلے نے دوسرے کا ہاتھ کاٹ کھایا، اس نے اسے کھینچا تو اس کا دانت نکل پڑا، وہ دونوں جھگڑا لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے، آپ نے فرمایا: ”کیا تم میں سے کوئی اپنے بھائی کو جوان اونٹ کی طرح دانت کاٹتا ہے“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی دیت نہیں دلوائی۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4768]
حضرت یعلی بن منیہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ بنو تمیم کے ایک آدمی نے ایک دوسرے شخص سے لڑائی کی اور اس کے ہاتھ پر دانت گاڑ دیے۔ اس نے اپنا ہاتھ کھینچا تو ساتھ ہی اس کا دانت بھی باہر آگیا۔ وہ یہ جھگڑا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اپنے بھائی کو اس طرح کاٹتے ہو جس طرح اونٹ کاٹتا ہے؟“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے باطل قرار دیا، یعنی اس کے دانت کا کوئی معاوضہ نہ دلوایا۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4768]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
20. بَابُ: ذِكْرِ الاِخْتِلاَفِ عَلَى عَطَاءٍ فِي هَذَا الْحَدِيثِ
باب: اس حدیث میں عطاء بن ابی رباح کے تلامذہ کے اختلاف کا بیان۔
حدیث نمبر: 4769
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ بَكَّارٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَمَّيْهِ سَلَمَةَ , وَيَعْلَى ابْنَيْ أُمَيَّةَ، قَالَا: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ، وَمَعَنَا صَاحِبٌ لَنَا، فَقَاتَلَ رَجُلًا مِنَ الْمُسْلِمِينَ , فَعَضَّ الرَّجُلُ ذِرَاعَهُ , فَجَذَبَهَا مِنْ فِيهِ فَطَرَحَ ثَنِيَّتَهُ، فَأَتَى الرَّجُلُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَلْتَمِسُ الْعَقْلَ، فَقَالَ:" يَنْطَلِقُ أَحَدُكُمْ إِلَى أَخِيهِ فَيَعَضُّهُ كَعَضِيضِ الْفَحْلِ، ثُمَّ يَأْتِي يَطْلُبُ الْعَقْلَ، لَا عَقْلَ لَهَا، فَأَبْطَلَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
سلمہ بن امیہ اور یعلیٰ بن امیہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ تبوک میں نکلے، ہمارے ساتھ ایک اور ساتھی تھے وہ کسی مسلمان سے لڑ پڑے، اس نے ان کے ہاتھ میں دانت کاٹ لیا، انہوں نے ہاتھ اس کے منہ سے کھینچا تو اس کا دانت اکھڑ گیا، وہ شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دیت کا مطالبہ کرنے آیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے ایک آدمی اپنے بھائی کے پاس جا کر اونٹ کی طرح اسے دانت کاٹتا ہے، پھر دیت مانگنے آتا ہے، ایسے دانت کی کوئی دیت نہیں“، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دیت نہیں دلوائی۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4769]
امیہ کے بیٹوں سلمہ اور یعلی رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ہم غزوۂ تبوک میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ گئے۔ ہمارے ساتھ ہمارا ایک ساتھی بھی تھا۔ وہ کسی دوسرے مسلمان سے لڑ پڑا۔ اس آدمی نے اس کے بازو پر دانت گاڑ دیے۔ اس نے بازو اس کے منہ سے کھینچا تو ساتھ دانت بھی نکل آیا۔ وہ آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا اور دیت دلوانے کا مطالبہ کرنے لگا۔ آپ نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی شخص اپنے بھائی کو جا کر اس طرح کاٹتا ہے جیسے اونٹ چباتا ہے، پھر آ کر دیت مانگنا شروع کر دیتا ہے؟ اس (طرح کے دانتوں) کی کوئی دیت نہیں۔“ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دانت کا کوئی معاوضہ نہ دلوایا۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4769]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابن ماجہ/الدیات 20 (2656)، (تحفة الأشراف: 4554، 11835)، مسند احمد (4/222، 223، 224) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن