سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
20. بَابُ: ذِكْرِ الاِخْتِلاَفِ عَلَى عَطَاءٍ فِي هَذَا الْحَدِيثِ
باب: اس حدیث میں عطاء بن ابی رباح کے تلامذہ کے اختلاف کا بیان۔
حدیث نمبر: 4770
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ يَعْلَى، عَنْ أَبِيهِ: أَنَّ رَجُلًا عَضَّ يَدَ رَجُلٍ , فَانْتُزِعَتْ ثَنِيَّتُهُ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" فَأَهْدَرَهَا".
یعلیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے دوسرے شخص کا ہاتھ کاٹ کھایا تو پہلے شخص کا دانت اکھڑ گیا، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، تو آپ نے اسے لغو قرار دیا ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4770]
حضرت یعلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے دوسرے آدمی کے بازو پر کاٹ کھایا جس سے اس کا سامنے والا دانت اکھڑ گیا، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس (دیت لینے کے لیے) آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ”رائیگاں قرار دیا۔“ (اس کا کوئی معاوضہ نہیں دلوایا)۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4770]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الإجارة 5 (2265)، الجہاد 20 (2973)، المغازي 78 (4417)، الدیات 18 (6893)، صحیح مسلم/الحدود 4 (1674)، سنن ابی داود/الدیات 24 (4584)، (تحفة الأشراف: 11837)، مسند احمد (4/222، 223، 224)، ویأتي عند المؤلف بأرقام: 4771- 4776) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی دیت نہیں دلوائی۔
قال الشيخ الألباني: سكت عنه الشيخ
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 4771
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ مَرَّةً أُخْرَى، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ يَعْلَى، عَنْ يَعْلَى. وَابْنُ جُرَيْجٍ , عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ يَعْلَى، عَنْ يَعْلَى أَنَّهُ اسْتَأْجَرَ أَجِيرًا، فَقَاتَلَ رَجُلًا , فَعَضَّ يَدَهُ فَانْتُزِعَتْ ثَنِيَّتُهُ، فَخَاصَمَهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" أَيَدَعُهَا يَقْضَمُهَا كَقَضْمِ الْفَحْلِ".
یعلیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے ایک شخص کو نوکر رکھا، اس کی ایک آدمی سے لڑائی ہو گئی، تو اس نے اس کا ہاتھ کاٹ کھایا، چنانچہ اس کا دانت اکھڑ گیا، وہ اس کے ساتھ جھگڑتے ہوئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو آپ نے فرمایا: ”کیا وہ اپنا ہاتھ چھوڑ دیتا کہ وہ اسے اونٹ کی طرح چبا جائے“۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4771]
حضرت یعلی رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ انہوں نے ایک شخص کو نوکر رکھا، وہ کسی آدمی سے لڑ پڑا اور اس کا ہاتھ کاٹ کھایا، ساتھ ہی دانت بھی اکھڑ گیا۔ وہ یہ مقدمہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی عدالت میں لے گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا وہ اپنا ہاتھ (تیرے منہ میں) چھوڑ دیتا کہ تو اسے اونٹ کی طرح چباتا رہتا؟“ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4771]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 4770 (صحیح الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 4772
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ يَعْلَى، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: غَزَوْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ، فَاسْتَأْجَرْتُ أَجِيرًا، فَقَاتَلَ أَجِيرِي رَجُلًا , فَعَضَّ الْآخَرُ فَسَقَطَتْ ثَنِيَّتُهُ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ، فَأَهْدَرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
یعلیٰ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں غزوہ تبوک میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ گیا، میں نے ایک شخص کو نوکر رکھا، پھر میرے نوکر کی ایک شخص سے لڑائی ہو گئی، تو دوسرے نے اسے دانت کاٹ لیا، چنانچہ اس کا دانت اکھڑ گیا، پھر وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا اور آپ سے اس کا تذکرہ کیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے لغو قرار دیا۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4772]
حضرت یعلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں غزوۂ تبوک میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جنگ پر گیا تو میں نے ایک شخص نوکر رکھ لیا، پھر میرا نوکر کسی آدمی سے لڑ پڑا، اس آدمی نے اسے کاٹ کھایا حتیٰ کہ اس کا سامنے والا دانت گر گیا، وہ شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ کے سامنے یہ بات ذکر کی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے رائیگاں قرار دیا (اس کا کوئی معاوضہ نہ دلوایا)۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4772]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر رقم 4770 (صحیح الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 4773
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ يَعْلَى، عَنْ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ، قَالَ: غَزَوْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَيْشَ الْعُسْرَةِ وَكَانَ أَوْثَقَ عَمَلٍ لِي فِي نَفْسِي , وَكَانَ لِي أَجِيرٌ، فَقَاتَلَ إِنْسَانًا فَعَضَّ أَحَدُهُمَا إِصْبَعَ صَاحِبِهِ فَانْتَزَعَ إِصْبَعَهُ فَأَنْدَرَ ثَنِيَّتَهُ فَسَقَطَتْ، فَانْطَلَقَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَهْدَرَ ثَنِيَّتَهُ، وَقَالَ:" أَفَيَدَعُ يَدَهُ فِي فِيكَ تَقْضَمُهَا".
یعلیٰ بن امیہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جیش العسرۃ ۱؎ (غزوہ تبوک) میں جہاد کیا، میرے خیال میں یہ میرا بہت اہم کام تھا، میرا ایک نوکر تھا، ایک شخص سے اس کا جھگڑا ہو گیا تو ان میں سے ایک نے دوسرے کی انگلی کاٹ کھائی، پھر پہلے نے اپنی انگلی کھینچی تو دوسرے آدمی کا دانت نکل کر گر پڑا، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا، آپ نے اس کے دانت کی دیت نہیں دلوائی، اور فرمایا: ”کیا وہ اپنے ہاتھ تیرے منہ میں چھوڑ دیتا کہ تو اسے چباتا رہے؟“۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4773]
حضرت یعلی بن امیہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تنگی والے لشکر میں گیا اور میرے نزدیک میرا یہ عمل سب سے افضل عمل ہے۔ وہاں میرا ایک نوکر کسی آدمی سے لڑ پڑا۔ ان میں سے کسی ایک نے دوسرے کی انگلی پر دانت گاڑ دیا۔ اس نے جو انگلی کھینچی تو ساتھ ہی دانت بھی اکھڑ آیا۔ دوسرا شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کوئی معاوضہ نہ دلوایا بلکہ فرمایا: ”کیا وہ اپنا ہاتھ تیرے منہ میں دیے رکھتا کہ تو اسے چبا ڈالتا؟“ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4773]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 4770 (صحیح الإسناد)»
وضاحت: ۱؎: یہ اس آیت کریمہ: «الذين اتبعوه في ساعة العسرة» سے ماخوذ ہے اور یہ غزوہ تبوک کا دوسرا نام ہے، اس جنگ میں زاد سفر کی بے انتہا قلت تھی اسی لیے اسے ساعۃ العسرۃ کہا گیا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 4774
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ , فِي حَدِيثِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ ابْنِ يَعْلَى، عَنْ أَبِيه بِمِثْلِ الَّذِي عَضَّ، فَنَدَرَتْ ثَنِيَّتُهُ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَا دِيَةَ لَكَ".
یعلیٰ رضی اللہ عنہ سے اس جیسے شخص جس نے دانت کاٹا ہو اور اس کا دانت اکھڑ گیا ہو کے بارے میں روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارے لیے دیت نہیں ہے“۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4774]
حضرت یعلی رضی اللہ عنہ سے اس شخص کے بارے میں جس نے ساتھی کو کاٹ کھایا تھا اور اس کا دانت اکھڑ گیا تھا، سابقہ روایت کی طرح بیان ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: ”تجھے کوئی دیت نہیں ملے گی۔“ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4774]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 4769 (صحیح الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 4775
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ بُدَيْلِ بْنِ مَيْسَرَةَ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ يَعْلَى ابْنِ مُنْيَةَ: أَنَّ أَجِيرًا لِيَعْلَى ابْنِ مُنْيَةَ عَضَّ آخَرُ ذِرَاعَهُ فَانْتَزَعَهَا مِنْ فِيهِ، فَرَفَعَ ذَلِكَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَقَدْ سَقَطَتْ ثَنِيَّتُهُ، فَأَبْطَلَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ:" أَيَدَعُهَا فِي فِيكَ تَقْضَمُهَا كَقَضْمِ الْفَحْلِ".
صفوان بن یعلیٰ بن منیہ (امیہ) سے روایت ہے کہ یعلیٰ بن منیہ (امیہ) رضی اللہ عنہ کے ایک نوکر کو ایک دوسرے شخص نے ہاتھ میں دانت کاٹ لیا، اس (نوکر) نے اپنا ہاتھ اس کے منہ سے کھینچا، یہ معاملہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے جایا گیا اور حال یہ تھا کہ اس آدمی کا دانت اکھڑ کر گر گیا تھا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے لغو قرار دیا، اور فرمایا: ”کیا وہ تمہارے منہ میں اسے چھوڑ دیتا تاکہ تم اسے اونٹ کی طرح چبا جاؤ“۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4775]
حضرت صفوان بن یعلی بن منیہ سے روایت ہے کہ میرے والد حضرت یعلی بن منیہ رضی اللہ عنہ کے ایک نوکر کے بازو پر ایک دوسرے شخص نے دانت گاڑ دیے۔ اس نے اپنا ہاتھ اس کے منہ سے کھینچا تو اس کا دانت گر گیا۔ یہ مقدمہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پیش ہوا تو آپ نے اس دانت کا کوئی معاوضہ نہ دلوایا بلکہ فرمایا: ”کیا وہ اپنا ہاتھ تیرے منہ میں رکھ چھوڑتا کہ تو اسے اونٹ کی طرح چباتا رہتا؟“ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4775]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 4770 (صحیح) (سابقہ روایت سے تقویت پاکر یہ صحیح ہے)»
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 4776
أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاق، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْجَوَّابِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمَّارٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ الْحَكَمِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ يَعْلَى: أَنَّ أَبَاهُ غَزَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ، فَاسْتَأْجَرَ أَجِيرًا، فَقَاتَلَ رَجُلًا , فَعَضَّ الرَّجُلُ ذِرَاعَهُ , فَلَمَّا أَوْجَعَهُ نَتَرَهَا فَأَنْدَرَ ثَنِيَّتَهُ، فَرُفِعَ ذَلِكَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" يَعْمِدُ أَحَدُكُمْ فَيَعَضُّ أَخَاهُ كَمَا يَعَضُّ الْفَحْلُ" فَأَبْطَلَ ثَنِيَّتَهُ.
صفوان بن یعلیٰ سے روایت ہے کہ ان کے والد نے غزوہ تبوک میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جہاد کیا، انہوں نے ایک نوکر رکھ لیا تھا، اس کا ایک شخص سے جھگڑا ہو گیا تو اس آدمی نے اس (نوکر) کے ہاتھ میں دانت کاٹ لیا، جب اسے تکلیف ہوئی تو اس نے اسے زور سے کھینچا، تو اس (آدمی) کا دانت نکل پڑا، یہ معاملہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچا، تو آپ نے فرمایا: ”کیا تم میں سے کوئی شخص یہ چاہتا ہے کہ اپنے بھائی کو چبائے جیسے اونٹ چباتا ہے؟“ چنانچہ آپ نے دانت کی دیت نہیں دلوائی۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4776]
حضرت صفوان بن یعلیٰ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میرے والد (حضرت یعلیٰ بن منیہ رضی اللہ عنہ) غزوہ تبوک میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ گئے۔ وہ ساتھ ایک نوکر بھی لے گئے۔ وہ کسی آدمی سے لڑ پڑا۔ اس آدمی نے اس کی کلائی پر کاٹ لیا۔ جب اس کو تکلیف ہوئی تو اس نے زور سے ہاتھ کھینچا، ساتھ ہی دانت بھی اکھڑ آیا۔ یہ مقدمہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی شخص اپنے بھائی کی طرف بڑھتا ہے اور اس کو اس طرح کاٹ کھاتا ہے جیسے اونٹ چباتا ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے دانت کا کوئی معاوضہ نہ دلوایا۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4776]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 4769 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
21. بَابُ: الْقَوَدِ فِي الطَّعْنَةِ
باب: نیزے کی ضرب کے قصاص کا بیان۔
حدیث نمبر: 4777
أَخْبَرَنَا وَهْبُ بْنُ بَيَانٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , عَنْ عَبِيدَةَ بْنِ مُسَافِعٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: بَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْسِمُ شَيْئًا أَقْبَلَ رَجُلٌ فَأَكَبَّ عَلَيْهِ، فَطَعَنَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعُرْجُونٍ كَانَ مَعَهُ، فَخَرَجَ الرَّجُلُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" تَعَالَ , فَاسْتَقِدْ"، قَالَ: بَلْ قَدْ عَفَوْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ.
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کچھ تقسیم کر رہے تھے کہ اسی دوران اچانک ایک شخص آپ کے اوپر گر پڑا تو آپ نے اسے ایک لکڑی جو آپ کے ساتھ تھی چبھا دی، وہ شخص نکل گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آؤ اور بدلہ لے لو“ اس نے کہا: اللہ کے رسول! میں نے تو معاف کر دیا۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4777]
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کوئی چیز تقسیم فرما رہے تھے کہ ایک آدمی آیا اور (بے صبری میں) آپ پر اوندھا ہی ہو گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ میں پکڑی ہوئی چھڑی کی نوک اس کو مار دی، وہ آدمی (حلقہ سے) نکل گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بھائی! ادھر آ اور بدلہ لے لے۔“ اس نے کہا: (نہیں) بلکہ میں نے معاف کر دیا۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4777]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الدیات 15 (4536)، (تحفة الأشراف: 4147)، مسند احمد (3/28) (ضعیف) (اس کے راوی ’’عبیدہ‘‘ لین الحدیث ہیں)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، ابو داود (4536) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 356
حدیث نمبر: 4778
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الرِّبَاطِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، أَنْبَأَنَا أَبِي، قَالَ: سَمِعْتُ يَحْيَى يُحَدِّثُ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَبِيدَةَ بْنِ مُسَافِعٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: بَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْسِمُ شَيْئًا إِذْ أَكَبَّ عَلَيْهِ رَجُلٌ، فَطَعَنَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعُرْجُونٍ كَانَ مَعَهُ، فَصَاحَ الرَّجُلُ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" تَعَالَ , فَاسْتَقِدْ"، قَالَ: بَلْ عَفَوْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ.
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کچھ تقسیم فرما رہے تھے کہ اسی دوران اچانک ایک شخص آپ پر گر پڑا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ایک لکڑی جو آپ کے پاس تھی چبھا دی، وہ شخص چیخ پڑا تو آپ نے اس سے فرمایا: ”آؤ، بدلہ لے لو“ اس نے کہا: اللہ کے رسول! میں نے تو معاف کر دیا۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4778]
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کوئی چیز تقسیم فرما رہے تھے کہ ایک آدمی (لینے کے لیے) آپ پر اوندھا ہی ہو گیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ میں پکڑی ہوئی ایک چھڑی سے اسے کچوکا لگایا تو وہ ہائے وائے کرنے لگا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: ”ادھر آ اور بدلہ لے لے۔“ اس نے کہا: اللہ کے رسول! (نہیں) بلکہ میں نے معاف کر دیا۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4778]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (ضعیف)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، ابو داود (4536) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 356
22. بَابُ: الْقَوَدِ مِنَ اللَّطْمَةِ
باب: طمانچے اور تھپڑ کے قصاص کا بیان۔
حدیث نمبر: 4779
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى، أَنَّهُ سَمِعَ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ، يَقُولُ: أَخْبَرَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ: أَنَّ رَجُلًا وَقَعَ فِي أَبٍ كَانَ لَهُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ , فَلَطَمَهُ الْعَبَّاسُ، فَجَاءَ قَوْمُهُ، فَقَالُوا: لَيَلْطِمَنَّهُ كَمَا لَطَمَهُ , فَلَبِسُوا السِّلَاحَ، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَصَعِدَ الْمِنْبَرَ، فَقَالَ:" أَيُّهَا النَّاسُ , أَيُّ أَهْلِ الْأَرْضِ تَعْلَمُونَ أَكْرَمُ عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ"، فَقَالُوا: أَنْتَ، فَقَالَ:" إِنَّ الْعَبَّاسَ مِنِّي وَأَنَا مِنْهُ، لَا تَسُبُّوا مَوْتَانَا، فَتُؤْذُوا أَحْيَاءَنَا"، فَجَاءَ الْقَوْمُ , فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ غَضَبِكَ اسْتَغْفِرْ لَنَا.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے ان کے جاہلیت کے کسی باپ دادا کو برا بھلا کہا تو عباس رضی اللہ عنہ نے اسے تھپڑ مار دیا، اس کے آدمیوں نے آ کر کہا: وہ لوگ بھی انہیں تھپڑ ماریں گے جیسا کہ انہوں نے مارا ہے اور ہتھیار اٹھا لیے۔ یہ بات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچی تو آپ منبر پر چڑھے اور فرمایا: ”لوگو! تم جانتے ہو کہ زمین والوں میں اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ باعزت کون ہے؟“ انہوں نے کہا: آپ، آپ نے فرمایا: ”تو عباس میرے ہیں اور میں عباس کا ہوں، تم لوگ ہمارے مردوں کو برا بھلا نہ کہو جس سے ہمارے زندوں کو تکلیف ہو“، ان لوگوں نے آ کر کہا: اللہ کے رسول! ہم آپ کے غصے سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں، ہمارے لیے مغفرت کی دعا فرمائیے۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4779]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے حضرت عباس رضی اللہ عنہ کے جاہلی دور کے ایک جدِ امجد کو برا بھلا کہا۔ حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے اسے تھپڑ رسید کر دیا۔ اس آدمی کے قبیلے والے آئے اور کہنے لگے: یہ بھی انہیں تھپڑ مارے گا جس طرح انہوں نے اسے تھپڑ مارا ہے، حتیٰ کہ انہوں نے اسلحہ پہن لیا۔ یہ بات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر چڑھے اور فرمایا: ”اے لوگو! تم روئے زمین پر بسنے والے لوگوں میں سے کس شخص کو اللہ تعالیٰ کے نزدیک زیادہ معزز و محترم سمجھتے ہو؟“ انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر سن لو! عباس مجھ سے ہیں اور میں ان سے ہوں۔ ہمارے فوت شدہ آباؤ اجداد کو برا نہ کہو، اس طرح تم ہم میں سے زندہ افراد کو تکلیف پہنچاؤ گے۔“ وہ لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوئے اور کہا: ہم آپ کی ناراضی سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتے ہیں، (معاف فرما دیجیے اور) اللہ تعالیٰ سے ہمارے لیے بخشش کی دعا فرمائیے۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4779]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 5545)، مسند احمد (1/300) (ضعیف) (اس کے راوی ”عبدالاعلی ثعلبی“ حافظہ کے کمزور ہیں، لیکن اس کا جملہ ’’لاتسبوا۔۔۔“ شواہد سے تقویت پاکر صحیح ہے)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، ترمذي (3759) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 356