🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
9. بَابُ: اتِّخَاذِ الشَّعْرِ
باب: بال رکھنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5063
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْمُعَافَى، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ الْبَرَاءِ، قَالَ:" مَا رَأَيْتُ أَحَدًا أَحْسَنَ فِي حُلَّةٍ حَمْرَاءَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجُمَّتُهُ تَضْرِبُ مَنْكِبَيْهِ".
براء بن عازب رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے کسی کو لال جوڑے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ خوبصورت نہیں دیکھا، آپ کے بال آپ کے مونڈھوں تک تھے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5063]
حضرت براء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں نے کسی شخص کو سرخ حلہ پہنے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ خوب صورت نہیں دیکھا، جب کہ آپ کے سر مبارک کے لمبے لمبے بال کندھوں سے ٹکراتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5063]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/المناقب 23 (3551)، اللباس 35 (5848)، 68(5901)، (تحفة الأشراف: 1802)، مسند احمد (4/295، 303) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سر کے بال تین طرح تھے: آدھے کانوں تک، پورے کانوں تک، اور کندھے تک، تینوں صورتیں مختلف احوال میں ہوتی تھیں، ان میں کوئی تضاد نہیں ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح بخاري

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5064
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ:" كَانَ شَعْرُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى أَنْصَافِ أُذُنَيْهِ".
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بال کان کے آدھے حصہ تک ہوتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5064]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بال مبارک نصف کانوں تک ہوتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5064]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الترجل 9 (4185)، (تحفة الأشراف: 469)، مسند احمد (3/113، 165) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5065
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَخْلَدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: حَدَّثَنِي الْبَرَاءُ، قَالَ:" مَا رَأَيْتُ رَجُلًا أَحْسَنَ فِي حُلَّةٍ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ"، قَالَ:" وَرَأَيْتُ لَهُ لِمَّةً تَضْرِبُ قَرِيبًا مِنْ مَنْكِبَيْهِ".
براء بن عازب رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے لال جوڑے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ خوبصورت کسی آدمی کو نہیں دیکھا، اور میں نے دیکھا کہ آپ کے بال آپ کے مونڈھوں کے قریب تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5065]
حضرت براء رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے کسی شخص کو سرخ حلہ پہنے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑھ کر خوب صورت نہیں دیکھا، نیز میں نے دیکھا کہ آپ کی زلفیں کندھوں کے قریب لہرایا کرتی تھیں۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5065]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 1903) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
10. بَابُ: الذُّؤَابَةِ
باب: سر پر چوٹی رکھنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5066
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ إِسْمَاعِيل بْنِ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ هُبَيْرَةَ بْنِ يَرِيمَ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ:" عَلَى قِرَاءَةِ مَنْ تَأْمُرُونِّي أَقْرَأُ؟ , لَقَدْ قَرَأْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِضْعًا وَسَبْعِينَ سُورَةً، وَإِنَّ زَيْدًا لَصَاحِبُ ذُؤَابَتَيْنِ , يَلْعَبُ مَعَ الصِّبْيَانِ".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ تم لوگ مجھے کس کی قرأت کے مطابق پڑھنے کے لیے کہتے ہو؟ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ستر سے زائد سورتیں پڑھیں، اس وقت زید (زید بن ثابت) کی دو چوٹیاں تھیں، وہ بچوں کے ساتھ کھیل رہے تھے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5066]
حضرت ہبیرہ بن مریم سے منقول ہے کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم مجھے کس کی قراءت کے مطابق پڑھنے پر مجبور کرتے ہو؟ (زید کی؟) جب کہ حقیقت یہ ہے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ستر سے زائد سورتیں سنا چکا تھا جب کہ زید کے سر پر دو مینڈھیاں ہوتی تھیں۔ وہ بچوں کے ساتھ کھیلا کرتا تھا۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5066]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 9592) (صحیح) (اس کے راوی ”ابواسحاق‘‘ اور ”اعمش‘‘ مدلس ہیں اور روایت عنعنہ سے ہے، مگر اگلی سند سے تقویف پا کر یہ صحیح لغیرہ ہے)»
وضاحت: ۱؎: لمبے بال کو «ذوابہ» کہتے ہیں، نہ کہ عورتوں کی طرح بندھی ہوئی چوٹی کو، ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے اس اثر نیز اگلی حدیث سے سر کے اتنے بڑے بالوں کا جواز ثابت ہوتا ہے، کیونکہ ان دونوں (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم و ابن مسعود) نے اس پر اعتراض نہیں کیا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لمبے بالوں کی بجائے انہیں چھوٹے کرنے کو زیادہ پسند کیا، جیسا کہ حدیث نمبر ۵۰۶۹ میں صراحت ہے (نیز ملاحظہ ہو: فتح الباری: کتاب اللباس، باب الذوائب)۔
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5067
أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو شِهَابٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، قَالَ: خَطَبَنَا ابْنُ مَسْعُودٍ، فَقَالَ:" كَيْفَ تَأْمُرُونِّي أَقْرَأُ عَلَى قِرَاءَةِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ بَعْدَ مَا قَرَأْتُ مِنْ فِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِضْعًا وَسَبْعِينَ سُورَةً، وَإِنَّ زَيْدًا مَعَ الْغِلْمَانِ لَهُ ذُؤَابَتَانِ".
ابووائل شقیق بن سلمہ کہتے ہیں کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ہم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تم لوگ مجھ سے زید بن ثابت کی قرأت کے مطابق پڑھنے کو کہتے ہو ۱؎، اس کے بعد کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ستر سے زائد کئی سورتیں سن چکا ہوں، اس وقت زید بچوں کے ساتھ تھے، ان کی دو چوٹیاں تھیں؟۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5067]
حضرت ابووائل رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ہمیں خطاب فرمایا اور کہا: تم مجھے کس طرح مجبور کرتے ہو کہ میں حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کی قراءت کے مطابق پڑھوں جب کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانِ مبارک سے ستر سے زیادہ سورتیں پڑھ لی تھیں اور زید ابھی بچوں کے ساتھ کھیلا کرتا تھا، اس کی دو مینڈھیاں ہوتی تھیں۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5067]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 9257)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/فضائل القرآن 8 (5000)، صحیح مسلم/الفضائل 22 (2462)، مسند احمد (1/389، 405، 411، 442) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: جب ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے کہا گیا ہے کہ آپ عثمان رضی اللہ عنہ کے مصحف کے مطابق قرآن پڑھا کریں کیونکہ آپ کے مصحف اور اس میں فرق ہے، تب انہوں نے مصحف عثمانی کے جمع کرنے والے زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات کہی، آپ کی نظر اس بات پر نہیں گئی کہ عام صحابہ نے مصحف عثمانی ہی پر اجماع کیا، بہرحال بتصریح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قرآن سات قراءتوں پر نازل ہوا، ابن مسعود صحابی رسول تھے، اور ان کو اپنے اوپر اعتماد تھا، لیکن مصحف عثمانی پر اجماع کے بعد اس کے مطابق پڑھنے پر اجماع امت ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5068
أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُسْتَمِرِّ الْعُرُوقِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا الصَّلْتُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا غَسَّانُ بْنُ الْأَغَرِّ بْنِ حُصَيْنٍ النَّهْشَلِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَمِّي زِيَادُ بْنُ الْحُصَيْنِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: لَمَّا قَدِمَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْمَدِينَةِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" ادْنُ مِنِّي، فَدَنَا مِنْهُ، فَوَضَعَ يَدَهُ عَلَى ذُؤَابَتِهِ، ثُمَّ أَجْرَى يَدَهُ وَسَمَّتَ عَلَيْهِ وَدَعَا لَهُ".
حصین رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مدینے میں آئے تو آپ نے ان سے فرمایا: میرے قریب آؤ، وہ آپ کے قریب ہوئے تو آپ نے اپنا ہاتھ ان کی چوٹی پر رکھا اور اپنا ہاتھ پھرایا پھر اللہ کا نام لے کر انہیں دعا دی۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5068]
زیاد بن حصین اپنے والد محترم (حصین بن اوس رضی اللہ عنہ) سے بیان کرتے ہیں کہ جب وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مدینہ منورہ پہنچے تو آپ نے ان سے فرمایا: آگے آجاؤ۔ جب وہ آپ کے قریب آگئے تو آپ نے اپنا ہاتھ ان کے لمبے لمبے بالوں پر رکھا اور سارے سر پر ہاتھ پھیرا اور ان کو دعا دی اور خوب دعا دی۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5068]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 3415) (صحیح الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
11. بَابُ: تَطْوِيلِ الْجُمَّةِ
باب: لمبے بال رکھنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5069
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا قَاسِمٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ، قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلِي جُمَّةٌ، قَالَ:" ذُبَابٌ" , وَظَنَنْتُ أَنَّهُ يَعْنِينِي، فَانْطَلَقْتُ فَأَخَذْتُ مِنْ شَعْرِي، فَقَالَ:" إِنِّي لَمْ أَعْنِكَ , وَهَذَا أَحْسَنُ".
وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا، میرے سر پر لمبے بال تھے، آپ نے فرمایا: نحوست ہے، میں سمجھا کہ آپ کی مراد میں ہی ہوں۔ میں گیا اور اپنے بال کتروا دیئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری مراد تم نہیں تھے، ویسے یہ زیادہ اچھا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5069]
حضرت وائل بن حجر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوا تو میرے لمبے لمبے بال تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (یہ) منحوس چیز ہے۔ میں نے سمجھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے کہہ رہے ہیں۔ میں اٹھا اور اپنے بال کاٹ کر پھر حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے تجھے نہیں کہا تھا۔ ویسے یہ زیادہ اچھی حالت ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5069]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 5055 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
12. بَابُ: عَقْدِ اللِّحْيَةِ
باب: داڑھی میں گرہ لگانے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5070
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ حَيْوَةَ بْنِ شُرَيْحٍ , وَذَكَرَ آخَرَ قَبْلَهُ، عَنْ عَيَّاشِ بْنِ عَبَّاسٍ الْقِتْبَانِيِّ، أَنَّ شُيَيْمَ بْنَ بَيْتَانَ حَدَّثَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ رُوَيْفِعَ بْنَ ثَابِتٍ، يَقُولُ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" يَا رُوَيْفِعُ , لَعَلَّ الْحَيَاةَ سَتَطُولُ بِكَ بَعْدِي , فَأَخْبِرِ النَّاسَ أَنَّهُ: مَنْ عَقَدَ لِحْيَتَهُ , أَوْ تَقَلَّدَ وَتَرًا , أَوِ اسْتَنْجَى بِرَجِيعِ دَابَّةٍ , أَوْ عَظْمٍ فَإِنَّ مُحَمَّدًا بَرِيءٌ مِنْهُ".
رویفع بن ثابت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے رویفع! شاید میرے بعد تمہاری عمر لمبی ہو، لہٰذا تم لوگوں کو بتا دینا کہ جس نے کر اپنی داڑھی میں گرہ لگائی یا گھوڑے کے گلے میں تانت ڈالی (کہ نظر نہ لگے) یا کسی چوپائے کے گوبر یا ہڈی سے استنجاء کیا تو محمد اس سے بری ہیں۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5070]
حضرت رویفع بن ثابت رضی اللہ عنہما کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے رویفع! شاید تو میرے بعد عرصۂ دراز تک زندہ رہے، لہٰذا لوگوں کو بتا دینا کہ جس شخص نے اپنی ڈاڑھی کو گرہیں دیں یا گلے میں تندی ڈالی یا جانور کے گوبر اور ہڈی سے استنجا کیا تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5070]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الطہارة 20 (36)، (تحفة الأشراف: 3616)، مسند احمد (4/108، 109) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
13. بَابُ: النَّهْىِ عَنْ نَتْفِ الشَّيْبِ
باب: سفید بال اکھاڑنا منع ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5071
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" نَهَى عَنْ نَتْفِ الشَّيْبِ".
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سفید بال اکھاڑنے سے منع فرمایا۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5071]
حضرت عمرو بن شعیب کے پردادا محترم (حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما) سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سفید بال اکھیڑنے سے منع فرمایا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5071]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 8764)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الأدب 59 (2821)، سنن ابن ماجہ/الأدب 25 (3721)، مسند احمد (2/206، 207، 210، 212) (حسن، صحیح)»
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
14. بَابُ: الإِذْنِ بِالْخِضَابِ
باب: خضاب لگانے کی اجازت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5072
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمِّي، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: قَالَ أَبُو سَلَمَةَ: إِنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. ح وأَخْبَرَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: أَنْبَأَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَخْبَرَهُ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" الْيَهُودُ , وَالنَّصَارَى لَا تَصْبُغُ فَخَالِفُوهُمْ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہود و نصاریٰ خضاب نہیں لگاتے، لہٰذا تم ان کی مخالفت کرو۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5072]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہودی اور عیسائی سفید بالوں کو نہیں رنگتے، لہذا تم ان کی مخالفت کرو۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5072]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الأنبیاء 50 (3462)، (تحفة الأشراف: 15190، 15347)، مسند احمد (2/240، 260، 309، 401) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی ان کی مخالفت میں خضاب لگاؤ۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح بخاري

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں