سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
14. بَابُ: الإِذْنِ بِالْخِضَابِ
باب: خضاب لگانے کی اجازت کا بیان۔
حدیث نمبر: 5073
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمِثْلِهِ.
اس سند سے بھی ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے واسطے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی جیسی روایت مروی ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5073]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سابقہ روایت کی مثل حدیث بیان کرتے ہیں۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5073]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 15292) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 5074
أَخْبَرَنِي الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ الْيَهُودَ , وَالنَّصَارَى لَا تَصْبُغُ فَخَالِفُوا عَلَيْهِمْ فَاصْبُغُوا".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہود و نصاریٰ خضاب نہیں لگاتے، لہٰذا تم ان کی مخالفت کرو اور خضاب لگاؤ“۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5074]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہودی اور عیسائی بال نہیں رنگتے، تم ان کی مخالفت کرو اور بال رنگو۔“ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5074]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 5075
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عِيسَى وَهُوَ ابْنُ يُونُسَ، عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سُلَيْمَانَ , وَأبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبدِ الرَحْمَنِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِنَّ الْيَهُودَ , وَالنَّصَارَى لَا تَصْبُغُ فَخَالِفُوهُمْ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہود و نصاریٰ خضاب نہیں لگاتے، لہٰذا تم ان کی مخالفت کرو“۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5075]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہودی اور عیسائی بال نہیں رنگتے، تم ان کی مخالفت کرو۔“ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5075]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «واللباس 67 (5899)، صحیح مسلم/اللباس 25 (2103)، سنن ابی داود/الترجل 18 (4203)، سنن الترمذی/اللباس 20 (1752) (نحوہ) سنن ابن ماجہ/اللباس 33 (3621)، (تحفة الأشراف: 13480)، مسند احمد (2/240)، ویأتي عند المؤلف: 5243) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 5076
أَخْبَرَنِي عُثْمَانُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ جَنَابٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" غَيِّرُوا الشَّيْبَ وَلَا تَشَبَّهُوا بِالْيَهُودِ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بڑھاپے کا رنگ بدلو اور یہود کی مشابہت اختیار نہ کرو“۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5076]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سفید بالوں کو رنگ سے بدل لیا کرو اور یہودیوں سے مشابہت نہ کرو۔“ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5076]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 7325) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 5077
أَخْبَرَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَخْلَدِ بْنِ الْحُسَيْنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كُنَاسَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ الزُّبَيْرِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" غَيِّرُوا الشَّيْبَ وَلَا تَشَبَّهُوا بِالْيَهُودِ". وَكِلَاهُمَا غَيْرُ مَحْفُوظٍ.
زبیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بڑھاپے کا رنگ بدلو اور یہودیوں کی مشابہت اختیار نہ کرو“، یہ دونوں روایتیں محفوظ نہیں ہیں ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5077]
حضرت زبیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سفید بالوں کو رنگ لیا کرو اور یہودیوں کی مشابہت اختیار نہ کرو۔“ یہ دونوں روایتیں غیر محفوظ ہیں۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5077]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 3642)، مسند احمد (1/165) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: عروہ کبھی اس کو ابن عمر رضی اللہ عنہما کی حدیث سے روایت کرتے ہیں، اور کبھی زبیر رضی اللہ عنہ کی حدیث سے، اور کبھی عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث سے، اسی وجہ سے مؤلف نے ”غیر محفوظ“ کہا ہے، جب کہ یہ بالکل ممکن ہے کہ عروہ نے تینوں سے یہ روایت کی ہو، نیز اس کے صحیح شواہد موجود ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن
15. بَابُ: النَّهْىِ عَنِ الْخِضَابِ، بِالسَّوَادِ
باب: کالا خضاب لگانا منع ہے۔
حدیث نمبر: 5078
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ الْحَلَبِيُّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ وَهُوَ ابْنُ عَمْرٍو، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَفَعَهُ، أَنَّهُ قَالَ:" قَوْمٌ يَخْضِبُونَ بِهَذَا السَّوَادِ آخِرَ الزَّمَانِ كَحَوَاصِلِ الْحَمَامِ لَا يَرِيحُونَ رَائِحَةَ الْجَنَّةِ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مرفوعاً روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اخیر زمانے میں کچھ لوگ ایسے ہوں گے جو کبوتر کے پوٹوں کی طرح کالا خضاب لگائیں گے، انہیں جنت کی خوشبو نصیب نہ ہو گی“۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5078]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مرفوعاً روایت ہے کہ ”آخری زمانے میں ایسے لوگ ہوں گے جو سیاہ رنگ سے اپنے بال رنگیں گے جیسے کبوتروں کے سینے ہوتے ہیں، وہ جنت کی خوشبو بھی نہیں پائیں گے۔“ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5078]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الترجل 20 (4212)، (تحفة الأشراف: 5548) مسند احمد (1/273) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 5079
أَخْبَرَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: أُتِيَ بِأَبِي قُحَافَةَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ , وَرَأْسُهُ وَلِحْيَتُهُ كَالثَّغَامَةِ بَيَاضًا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" غَيِّرُوا هَذَا بِشَيْءٍ , وَاجْتَنِبُوا السَّوَادَ".
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ابوقحافہ رضی اللہ عنہ کو فتح مکہ کے دن لایا گیا، سفیدی میں ان کا سر اور ڈاڑھی دونوں «ثغامہ» کی طرح سفید تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کو کسی اور رنگ سے بدل لو، لیکن کالے رنگ سے دور رہنا“۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5079]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ حضرت ابوقحافہ رضی اللہ عنہ کو فتح مکہ کے دن لایا گیا تو ان کے سر اور داڑھی کے بال ثغامہ پودے (کے پھل اور پھول) کی طرح بالکل سفید تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان کو کسی رنگ سے بدل دو مگر سیاہ رنگ سے پرہیز کرنا۔“ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5079]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/اللباس 24 (2102)، سنن ابی داود/الترجل 18 (4204)، (تحفة الأشراف: 2807)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/اللباس 33 (3624)، مسند احمد (3/306، 322، 338) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: «ثغامہ» ایک گھاس ہے جس کے پھل اور پھول سب سفید ہوتے ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
16. بَابُ: الْخِضَابِ بِالْحِنَّاءِ وَالْكَتَمِ
باب: مہندی اور کتم لگانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 5080
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا بِهِ أَبِي، عَنْ غَيْلَانَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" أَفْضَلُ مَا غَيَّرْتُمْ بِهِ الشَّمَطَ الْحِنَّاءُ وَالْكَتَمُ".
ابوذر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سب سے بہتر چیز جس سے تم بڑھاپے کا رنگ بدلو مہندی اور «کتم» ہے“۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5080]
حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بہترین وہ چیز جس کے ساتھ تم سفید بالوں کو رنگو، مہندی اور وسمہ ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5080]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 11966) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: «کتم» ایک پودا ہے جسے مہندی کے ساتھ ملاتے ہیں، ان دونوں کو ملا کر استعمال سے بالوں کا رنگ سیاہی مائل ہو جاتا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 5081
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ الْأَجْلَحِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ الدِّيلِيِّ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ أَحْسَنَ مَا غَيَّرْتُمْ بِهِ الشَّيْبَ الْحِنَّاءُ وَالْكَتَمُ".
ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سب سے بہتر چیز جس سے تم بڑھاپے کا رنگ بدلو مہندی اور «کتم» ہے“۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5081]
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بہترین وہ چیز جس سے تم سفید بالوں کا رنگ بدلو، مہندی اور وسمہ کا آمیزہ ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5081]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الترجل 18(4205)، سنن الترمذی/اللباس 20 (1753)، سنن ابن ماجہ/اللباس 32(3622)، (تحفة الأشراف: 11927، 18885)، مسند احمد (5/147، 150، 154، 156، 169)، ویأتي عند المؤلف بأرقام: 5082- 5084) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن
حدیث نمبر: 5082
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَشْعَثَ، قَالَ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، قَالَ: حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، قَالَ: أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي لَيْلَى، عَنْ الْأَجْلَحِ، فَلَقِيتُ الْأَجْلَحَ فَحَدَّثَنِي , عَنْ ابْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ الدِّيلِيِّ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" إِنَّ مِنْ أَحْسَنِ مَا غَيَّرْتُمْ بِهِ الشَّيْبَ الْحِنَّاءَ وَالْكَتَمَ".
ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”سب سے بہتر چیز جس سے تم بڑھاپے کا رنگ بدلو، مہندی اور کتم ہے“۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5082]
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”سب سے اچھی چیز جس کے ساتھ تم سفید بالوں کو رنگ دار کرو، مہندی اور وسمے کا مرکب ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5082]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 5080 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن