🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. بَابُ: الْفِطْرَةِ
باب: دین فطرت والی عادات و سنن کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5043
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا وَكِيعٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ شَيْبَةَ، عَنْ طَلْقِ بْنِ حَبِيبٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" عَشْرَةٌ مِنَ الْفِطْرَةِ: قَصُّ الشَّارِبِ، وَقَصُّ الْأَظْفَارِ، وَغَسْلُ الْبَرَاجِمِ، وَإِعْفَاءُ اللِّحْيَةِ، وَالسِّوَاكُ، وَالِاسْتِنْشَاقُ، وَنَتْفُ الْإِبْطِ، وَحَلْقُ الْعَانَةِ، وَانْتِقَاصُ الْمَاءِ"، قَالَ مُصْعَبٌ: وَنَسِيتُ الْعَاشِرَةَ إِلَّا أَنْ تَكُونَ: الْمَضْمَضَةَ.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دس چیزیں فطرت ۲؎ (انبیاء کی سنت) ہیں (جو ہمیشہ سے چلی آ رہی ہیں): مونچھیں کتروانا، ناخن کاٹنا، انگلیوں کے پوروں اور جوڑوں کو دھونا، ڈاڑھی کا چھوڑنا، مسواک کرنا، ناک میں پانی ڈالنا، بغل کے بال اکھیڑنا، ناف کے نیچے کے بال صاف کرنا، استنجاء کرنا۔ مصعب بن شبیہ کہتے ہیں: دسویں بات میں بھول گیا، شاید وہ کلی کرنا ہو۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5043]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دس چیزیں فطرتِ انسانیہ کا تقاضا ہیں: مونچھیں کاٹنا، ناخن تراشنا، انگلیوں کے جوڑوں اور پوروں کو اچھی طرح دھونا، ڈاڑھی پوری رکھنا، مسواک کرنا، ناک میں پانی چڑھانا (اور ناک کی صفائی کرنا) بغلوں کے بال اکھیڑنا، شرم گاہ کے بال مونڈنا، پانی کے ساتھ استنجا کرنا۔ مصعب بن شیبہ (راوِئ حدیث) نے کہا: دسویں چیز میں بھول گیا۔ امید ہے کہ وہ کلی کرنا ہوگا۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5043]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الطھارة 16 (261)، سنن ابی داود/الطھارة 29 (53)، سنن الترمذی/الأدب 14 (2757)، سنن ابن ماجہ/الطھارة 8 (293)، (تحفة الأشراف: 16188، 18850)، مسند احمد (1376) (حسن) (اس کے راوی ’’مصعب‘‘ ضعیف ہیں لیکن شواہد سے تقویت پاکر یہ روایت حسن ہے)»
وضاحت: ۱؎: عنوان کتاب: «کتاب الزینۃ من السنن» ہے، یعنی یہ احادیث سنن کبریٰ سے ماخوذ ہیں، جن کے نمبرات کا حوالہ ہم نے ہر حدیث کے آخر میں دے دیا ہے، اس کے بعد دوسرا عنوان: «کتاب الزینۃ من المجتبیٰ» ہے، یعنی اب یہاں سے منتخب ابواب ہوں گے جو ظاہر ہے کہ سنن کبریٰ سے ماخوذ ہوں گے یا مؤلف کے جدید اضافے ہوں گے، اس تنبیہ کی ضرورت اس واسطے ہوئی کہ مولانا عطاء اللہ حنیف بھوجیانی کے نسخے میں عنوان کتاب صحیح آیا ہے، اور مولانا نے اس پر حاشیہ لکھ کر یہ واضح کر دیا ہے کہ اس کتاب میں یہ ابواب سنن کبریٰ سے منقول ہیں، لیکن مولانا وحیدالزماں کے مترجم نسخے میں «کتاب الزینۃ: باب من السنن الفطرۃ» مطبوع ہے، اور حدیث کے ترجمہ میں آیا ہے: دس باتیں پیدائشی سنت ہیں (یعنی ہمیشہ سے چلی آتی ہیں، سب نبیوں نے اس کا حکم کیا) (۳/۴۵۵) اور اس کا ترجمہ کتاب آرائش کے بیان میں، پھر نیچے پیدائشی سنتیں لکھا ہے، اور مشہور حسن کے نسخے میں «کتاب الزینۃ من السنن الفطرۃ» مطبوع ہے، جب کہ «من السنن» کا تعلق «کتاب الزینۃ» سے ہے۔ ۲؎: اکثر علماء نے فطرت کی تفسیر سنت سے کی ہے، گویا یہ خصلتیں انبیاء کی سنت ہیں جن کی اقتداء کا حکم اللہ تعالیٰ نے ہمیں اپنے قول: «فبهداهم اقتده» (سورة الأنعام: 90) میں دیا ہے، بعض علماء اس کی تفسیر فطرت ہی سے کرتے ہیں، یعنی یہ سب کام انسانی فطرت کے ہیں جس پر انسان کی خلقت ہوئی ہے، بعض علماء دونوں باتوں کو ملا کر یوں تفسیر کرتے ہیں کہ یہ سب حقیقی انسانی فطرت کے کام ہیں اسی لیے ان کو انبیاء علیہم السلام نے اپنایا ہے۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5044
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَمِعْتُ طَلْقًا يَذْكُرُ:" عَشْرَةً مِنَ الْفِطْرَةِ: السِّوَاكَ، وَقَصَّ الشَّارِبِ، وَتَقْلِيمَ الْأَظْفَارِ , وَغَسْلَ الْبَرَاجِمِ، وَحَلْقَ الْعَانَةِ، وَالِاسْتِنْشَاقَ، وَأَنَا شَكَكْتُ فِي الْمَضْمَضَةِ".
طلق بن حبیب کہتے ہیں کہ دس باتیں فطرت (انبیاء کی سنتیں) ہیں: مسواک کرنا، مونچھ کترنا، ناخن کاٹنا، انگلیوں کے پوروں اور جوڑوں کو دھونا، ناف کے نیچے کے بال صاف کرنا، ناک میں پانی ڈالنا، مجھے شک ہے کہ کلی کرنا بھی کہا۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5044]
سلیمان تیمی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میں نے طلق بن حبیب رحمہ اللہ کو فرماتے سنا: دس چیزیں فطری ہیں: مسواک کرنا، مونچھیں کاٹنا، ناخن تراشنا، انگلیوں کے پوروں اور جوڑوں کو اچھی طرح دھونا، زیر ناف بال مونڈنا، ناک کی صفائی کرنا، کلی کے بارے میں مجھے شک ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5044]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد مقطوع
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5045
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ أَبِي بِشْرٍ عَنْ طَلْقِ بْنِ حَبِيبٍ قَالَ عَشْرَةٌ مِنْ السُّنَّةِ السِّوَاكُ وَقَصُّ الشَّارِبِ وَالْمَضْمَضَةُ وَالِاسْتِنْشَاقُ وَتَوْفِيرُ اللِّحْيَةِ وَقَصُّ الْأَظْفَارِ وَنَتْفُ الْإِبْطِ وَالْخِتَانُ وَحَلْقُ الْعَانَةِ وَغَسْلُ الدُّبُرِ قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ وَحَدِيثُ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ وَجَعْفَرِ بْنِ إِيَاسٍ أَشْبَهُ بِالصَّوَابِ مِنْ حَدِيثِ مُصْعَبِ بْنِ شَيْبَةَ وَمُصْعَبٌ مُنْكَرُ الْحَدِيثِ
طلق بن حبیب کہتے ہیں کہ دس باتیں انبیاء کی سنت ہیں: مسواک کرنا، مونچھ کاٹنا، کلی کرنا، ناک میں پانی ڈالنا، ڈاڑھی بڑھانا، ناخن کترنا، بغل کے بال اکھیڑنا، ختنہ کرانا، ناف کے نیچے کے بال صاف کرنا اور پاخانے کے مقام کو دھونا۔ ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں: سلیمان تیمی اور جعفر بن ایاس (ابوالبشر) کی حدیث مصعب کی حدیث سے زیادہ قرین صواب ہے اور مصعب منکر الحدیث ہیں ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5045]
حضرت طلق بن حبیب رحمہ اللہ نے فرمایا: دس چیزیں (انبیاء علیہم السلام کی) سنت ہیں: مسواک کرنا، مونچھیں کاٹنا، کلی کرنا، ناک کی صفائی کرنا، ڈاڑھی پوری رکھنا، ناخن تراشنا، بغلوں کے بال اکھیڑنا، ختنہ کروانا، زیر ناف (شرم گاہ) کے بال مونڈنا اور (قضائے حاجت کے بعد) پشت دھونا۔ ابوعبدالرحمن (امام نسائی رحمہ اللہ) نے فرمایا: سلیمان تیمی کی حدیث (جو اس حدیث سے پہلے بیان ہوئی ہے) اور جعفر بن ایاس کی مذکورہ (یہی) حدیث مصعب بن شیبہ کی حدیث (باب کی پہلی حدیث) سے زیادہ درست ہے۔ مصعب (ابن شیبہ) منکر الحدیث (ضعیف راوی) ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5045]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح الإسناد)»
وضاحت: ۱؎: مصعب کی توثیق تجریح میں اختلاف ہے، امام مسلم، ابن معین اور عجلی نے ان کی توثیق کی ہے، اور اس حدیث کے اکثر مشمولات دیگر روایات سے ثابت ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد مقطوع
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5046
أخبرنا حميد بن مسعدة عن بشر قال حدثنا عبد الرحمن بن إسحاق عن سعيد المقبري عن أبي هريرة قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم ‏"‏ خمس من الفطرة الختان وحلق العانة ونتف الضبع وتقليم الظفر وتقصير الشارب ‏"‏ ‏.‏ وقفه مالك ‏.‏
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پانچ چیزیں خصائل فطرت سے ہیں: ختنہ کرانا، ناف کے نیچے کے بال مونڈنا، بغل کے بال اکھیڑنا، ناخن اور مونچھیں کاٹنا۔‏‏‏‏ مالک نے اسے موقوفاً روایت کیا ہے، (ان کی روایت آگے آ رہی ہے)۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5046]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پانچ چیزیں فطری ہیں: ختنہ کرنا، شرمگاہ کے بال مونڈنا، بغلوں کے بال اکھیڑنا، ناخن تراشنا اور مونچھیں چھوٹی کرنا۔ امام مالک رحمہ اللہ نے اس (روایت) کو موقوف بیان کیا ہے (جیسا کہ اگلی روایت میں آ رہا ہے)۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5046]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 12978) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: پانچ چیزوں کے ذکر سے یہاں حصر مراد نہیں ہے، خود پچھلی حدیث میں دس کا تذکرہ ہے، مطلب یہ ہے کہ یہ پانچ، یا دس چیزیں فطرت کے خصائل میں سے ہیں۔ ان کے علاوہ بھی بعض چیزیں فطرت کے خصائل میں سے ہیں جن کا تذکرہ کئی روایات میں آیا ہے (نیز دیکھئیے فتح الباری کتاب اللباس باب ۶۳)۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5047
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ:" خَمْسٌ مِنَ الْفِطْرَةِ: تَقْلِيمُ الْأَظْفَارِ، وَقَصُّ الشَّارِبِ، وَنَتْفُ الْإِبْطِ، وَحَلْقُ الْعَانَةِ، وَالْخِتَانُ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ پانچ چیزیں خصائل فطرت سے ہیں: ناخن کترنا، مونچھ کاٹنا، بغل کے بال اکھیڑنا، ناف کے نیچے کے بال مونڈنا اور ختنہ کرنا۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5047]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: پانچ چیزیں فطرت اور سنت ہیں: ناخن تراشنا، مونچھیں کاٹنا، بغل کے بال اکھیڑنا، شرمگاہ کے بال مونڈنا اور ختنہ کروانا۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5047]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 13013) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2. بَابُ: إِحْفَاءِ الشَّارِبِ
باب: مونچھیں کٹانے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5048
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَلْقَمَةَ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" أَحْفُوا الشَّوَارِبَ , وَأَعْفُوا اللِّحَى".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مونچھیں کاٹو اور ڈاڑھیاں بڑھاؤ۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5048]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مونچھوں کو ختم کرو اور ڈاڑھی کو بڑھنے دو۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5048]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 7297)، مسند احمد (2/52) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5049
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي عَلْقَمَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَعْفُوا اللِّحَى وَأَحْفُوا الشَّوَارِبَ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ڈاڑھیاں بڑھاؤ اور مونچھیں کترو۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5049]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ڈاڑھیاں رکھو اور مونچھیں صاف کرو۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5049]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5050
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ، قَالَ: سَمِعْتُ يُوسُفَ بْنَ صُهَيْبٍ يُحَدِّثُ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" مَنْ لَمْ يَأْخُذْ شَارِبَهُ فَلَيْسَ مِنَّا".
زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: جس نے مونچھیں نہیں کاٹیں وہ ہم میں سے نہیں ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5050]
حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: جو شخص اپنی مونچھیں نہ کاٹے، وہ ہم میں سے نہیں۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5050]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 13 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
3. بَابُ: الرُّخْصَةِ فِي حَلْقِ الرَّأْسِ
باب: سر منڈانے کی اجازت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5051
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى صَبِيًّا حَلَقَ بَعْضَ رَأْسِهِ وَتَرَكَ بَعْضًا فَنَهَى عَنْ ذَلِكَ وَقَال:" احْلِقُوهُ كُلَّهُ , أَوِ اتْرُكُوهُ كُلَّهُ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بچے کو دیکھا، اس کے سر کا کچھ حصہ منڈا ہوا تھا اور کچھ نہیں، آپ نے ایسا کرنے سے روکا اور فرمایا: یا تو پورا سر مونڈو، یا پھر پورے سر پر بال رکھو۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5051]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بچہ دیکھا جس کا کچھ سر مونڈا ہوا تھا اور کچھ چھوڑ دیا گیا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا اور فرمایا: سارا سر منڈاؤ یا سارا رہنے دو۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5051]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/اللباس 31 (2120)، سنن ابی داود/الترجل 14 (4195)، (تحفة الأشراف: 7525)، مسند احمد 2/88) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
4. بَابُ: النَّهْىِ عَنْ حَلْقِ الْمَرْأَةِ، رَأْسَهَا
باب: عورت کو سر منڈانے سے ممانعت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5052
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى الْحَرَشِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ خِلَاسٍ، عَنْ عَلِيٍّ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تَحْلِقَ الْمَرْأَةُ رَأْسَهَا".
علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورت کو سر منڈانے سے منع فرمایا۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5052]
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا کہ عورت اپنا سر منڈوائے۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5052]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الحج 75 (914)، (تحفة الأشراف: 10085)، 18617) (ضعیف) (اس کی سند میں سخت اضطراب ہے)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں