سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
19. بَابُ: كَرَاهِيَةِ رِيحِ الْحِنَّاءِ
باب: مہندی کی بو کی کراہت کا بیان۔
حدیث نمبر: 5093
أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو زَيْدٍ سَعِيدُ بْنُ الرَّبِيعِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ، قَالَ: سَمِعْتُ كَرِيمَةَ، قَالَتْ: سَمِعْتُ عَائِشَةَ , سَأَلَتْهَا امْرَأَةٌ عَنْ الْخِضَابِ بِالْحِنَّاءِ؟ قَالَتْ: لَا بَأْسَ بِهِ، وَلَكِنْ أَكْرَهُ هَذَا لِأَنَّ حِبِّي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَكْرَهُ رِيحَهُ" تَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
کریمہ کہتی ہیں کہ میں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے سنا: ان سے کسی عورت نے مہندی لگانے کے بارے میں پوچھا تو وہ بولیں: اس میں کوئی حرج نہیں، لیکن میں اسے اس لیے ناپسند کرتی ہوں کہ میرے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم اس کی بو کو ناپسند کرتے تھے یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5093]
حضرت کریمہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے ایک عورت کو مہندی لگانے کے بارے میں سوال کرتے ہوئے سنا، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: کوئی حرج نہیں لیکن میں اسے ناپسند کرتی ہوں کیونکہ میرے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم اس کی بو کو ناپسند فرماتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5093]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الترجل 4 (4164)، (تحفة الأشراف: 17959)، مسند احمد (6/117، 210) (ضعیف) (اس کی راویہ ’’کریمہ‘‘ لین الحدیث ہیں)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، ابو داود (4164) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 360
20. بَابُ: النَّتْفِ
باب: سفید بال اکھاڑنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 5094
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، وَأَبُو الْأَسْوَدِ النَّضْرُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، قَالَا: حَدَّثَنَا الْمُفَضَّلُ بْنُ فَضَالَةَ، عَنْ عَيَّاشِ بْنِ عَبَّاسٍ الْقِتْبَانِيِّ، عَنْ أَبِي الْحُصَيْنِ الْهَيْثَمِ بْنِ شُفَيٍّ، وَقَالَ أَبُو الْأَسْوَدِ شُفَيٌّ: إِنَّهُ سَمِعَهُ يَقُولُ: خَرَجْتُ أَنَا وَصَاحِبٌ لِي يُسَمَّى أَبَا عَامِرٍ، رَجُلٌ مِنْ الْمَعَافِرِ، نُصَلِّي بِإِيلِيَاءَ، وَكَانَ قَاصُّهُمْ رَجُلًا مِنْ الْأَزْدِ، يُقَالُ لَهُ: أَبُو رَيْحَانَةَ مِنَ الصَّحَابَةِ، قَالَ أَبُو الْحُصَيْنِ: فَسَبَقَنِي صَاحِبِي إِلَى الْمَسْجِدِ، ثُمَّ أَدْرَكْتُهُ، فَجَلَسْتُ إِلَى جَنْبِهِ، فَقَالَ: هَلْ أَدْرَكْتَ قَصَصَ أَبِي رَيْحَانَةَ؟ فَقُلْتُ: لَا، فَقَالَ: سَمِعْتُهُ يَقُولُ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ عَشْرٍ: عَنْ الْوَشْرِ، وَالْوَشْمِ، وَالنَّتْفِ، وَعَنْ مُكَامَعَةِ الرَّجُلِ الرَّجُلَ بِغَيْرِ شِعَارٍ، وَعَنْ مُكَامَعَةِ الْمَرْأَةِ الْمَرْأَةَ بِغَيْرِ شِعَارٍ، وَأَنْ يَجْعَلَ الرَّجُلُ أَسْفَلَ ثِيَابِهِ حَرِيرًا مِثْلَ الْأَعَاجِمِ، أَوْ يَجْعَلَ عَلَى مَنْكِبَيْهِ حَرِيرًا أَمْثَالَ الْأَعَاجِمِ، وَعَنِ النُّهْبَى، وَعَنْ رُكُوبِ النُّمُورِ، وَلُبُوسِ الْخَوَاتِيمِ إِلَّا لِذِي سُلْطَانٍ".
ابوالحصین ہیثم بن شفی کہتے ہیں کہ میں اور میرا ایک ساتھی جس کی کنیت ابوعامر تھی اور وہ قبیلہ معافر ۱؎ کا تھا دونوں ایلیاء (بیت المقدس) میں نماز پڑھنے کے لیے نکلے، بیت المقدس میں لوگوں کے واعظ صحابہ میں سے قبیلہ ازد کے ابوریحانہ نامی ایک شخص تھے، میرے ساتھی مسجد میں مجھ سے پہلے پہنچے، پھر ان کے پیچھے میں آیا اور آ کر ان کے بغل میں بیٹھ گیا تو انہوں نے مجھ سے پوچھا: آپ نے ابوریحانہ کا کچھ وعظ سنا؟ میں نے کہا: نہیں، وہ بولے: میں نے انہیں کہتے ہوئے سنا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دس باتوں سے منع فرمایا ہے: ”دانت باریک کرنے سے، گودنا گودنے سے، (سفید) بال اکھیڑنے سے، دو مردوں کے ایک ساتھ ایک کپڑے میں سونے سے، دو عورتوں کے ایک ساتھ ایک ہی کپڑے میں سونے سے، مرد کے اپنے کپڑوں کے نیچے عجمیوں کی طرح ریشمی کپڑا لگانے سے، یا عجمیوں کی طرح اپنے مونڈھوں پر ریشم لگانے سے، دوسروں کے مال لوٹنے سے، درندوں کی کھال پر سوار ہونے سے، اور انگوٹھی پہننے سے سوائے بادشاہ (حاکم) کے“ ۲؎۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5094]
حضرت ابوالحصین ہثیم بن شفی نے کہا کہ میں اور میرا ایک ساتھی، جو (یمن کے علاقے) معافر سے تھا اور اس کا نام ابوعامر تھا، بیت المقدس میں نماز پڑھنے کے ارادے سے چلے۔ وہاں ایک صحابی جن کا نام ابوریحانہ ازدی رضی اللہ عنہ تھا، وعظ فرما رہے تھے۔ میرا ساتھی مجھ سے پہلے مسجد میں چلا گیا (اور وعظ سننے لگا)۔ پھر میں بھی اس کے پاس پہنچ گیا اور اس کے پہلو میں بیٹھ گیا۔ وہ مجھ سے پوچھنے لگا: کیا تو نے حضرت ابوریحانہ رضی اللہ عنہ کا وعظ سنا ہے؟ میں نے کہا: نہیں۔ وہ کہنے لگا، میں نے ان کو فرماتے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دس کاموں سے منع فرمایا ہے: ”دانتوں کو رگڑ کر باریک کرنا، جسم کو گدوانا (جسم کھود کر رنگ بھرنا)، بال اکھیڑنا، آدمی کا آدمی کے ساتھ ننگے جسم لیٹنا، عورت کا عورت کے ساتھ ننگے جسم لیٹنا، عجمیوں کی طرح مرد کا اپنے کپڑوں کے نیچے ریشم پہننا، عجمیوں کی طرح کندھوں پر ریشمی کپڑا ڈالنا، ڈاکا ڈالنا، چیتے کی کھال پر سوار ہونا اور انگوٹھی پہننا علاوہ حاکم کے (اور وہ انگوٹھی پہن سکتا ہے)۔“ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5094]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/اللباس 11 (4049)، سنن ابن ماجہ/اللباس 46 (3655)، (تحفة الأشراف: 12039)، مسند احمد (4/134، 135)، سنن الدارمی/الإستئذان 20 (2690)، ویأتي عند المؤلف بأرقام: 5113-5115 (ضعیف الإسناد) (اس کے راوی ’’ابو عامر معافری لین الحدیث ہیں، لیکن نمبر 5114 کی سند میں ان کا واسطہ نہیں ہے اس لیے اس سند سے یہ روایت صحیح ہے)»
وضاحت: ۱؎: ”معافر“ یمن میں ایک جگہ کا نام ہے۔ ۲؎: اکثر سلف نے صرف زیب و زینت کی خاطر انگوٹھی پہننے سے منع کیا ہے، (کچھ علماء اس ممانعت کو مکروہ تنزیہی قرار دیتے ہیں) بادشاہ، یا بادشاہ کے نائبین جیسے عامل، گورنر، اسی طرح کسی بھی ادارے یا اس کے سربراہ کے لیے اپنی تحریر پر مہر لگانے کی خاطر انگوٹھی کے جواز کے سب قائل ہیں۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، ابو داود (4049) ابن ماجه (3655) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 360
21. بَابُ: وَصْلِ الشَّعْرِ بِالْخِرَقِ
باب: بالوں میں دوسرے بال جوڑنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 5095
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ هِشَامٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، أَنَّ مُعَاوِيَةَ، قَالَ:" إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ الزُّورِ".
معاویہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فریب کاری (یعنی اپنے بالوں میں دوسرے بال جوڑنے) سے منع فرمایا۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5095]
حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”جعلی بال لگانے سے منع فرمایا ہے“۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5095]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الأنبیاء 54 (3488)، اللباس 83 (5938)، صحیح مسلم/اللباس 33 (2127)، (تحفة الأشراف: 11418)، مسند احمد (4/91، 93، 101)، ویأتی عند المؤلف بأرقام 5248-5250 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 5096
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، قَالَ: أَنْبَأَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مَخْرَمَةُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، قَالَ: رَأَيْتُ مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ عَلَى الْمِنْبَرِ وَمَعَهُ فِي يَدِهِ كُبَّةٌ مِنْ كُبَبِ النِّسَاءِ مِنْ شَعْرٍ، فَقَالَ: مَا بَالُ الْمُسْلِمَاتِ يَصْنَعْنَ مِثْلَ هَذَا؟! إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" أَيُّمَا امْرَأَةٍ زَادَتْ فِي رَأْسِهَا شَعْرًا لَيْسَ مِنْهُ فَإِنَّهُ زُورٌ تَزِيدُ فِيهِ".
سعید مقبری کہتے ہیں کہ میں نے معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما کو منبر پر دیکھا ان کے ساتھ ان کے ہاتھوں میں عورتوں کے بالوں کی ایک چوٹی تھی، انہوں نے کہا: کیا حال ہے مسلمان عورتوں کا جو ایسا کرتی ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جس عورت نے اپنے سر میں کوئی ایسا بال شامل کیا جو اس میں کا نہیں ہے تو وہ فریب کرتی ہے“۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5096]
حضرت سعید مقبری رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میں نے دیکھا، حضرت معاویہ بن ابوسفیان رضی اللہ عنہما منبر (مدینہ) پر بیٹھے تھے اور ان کے ہاتھ میں جعلی بالوں کا ایک گچھا تھا۔ انہوں نے فرمایا: کیا بات ہے کہ مسلمان عورتیں یہ کام کرتی ہیں؟ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”جو عورت اپنے سر کے بالوں میں اور بالوں کا اضافہ کرے تو یہ جعلی سازی ہے جس سے وہ اضافہ کر رہی ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5096]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 11417) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن
22. بَابُ: الْوَاصِلَةِ
باب: بال جوڑنے والی عورت کا بیان۔
حدیث نمبر: 5097
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل بْنِ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ امْرَأَتِهِ فَاطِمَةَ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" لَعَنَ الْوَاصِلَةَ وَالْمُسْتَوْصِلَةَ".
اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بال جوڑنے والی اور بال جوڑوانے والی عورت پر لعنت فرمائی ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5097]
حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”جعلی بال لگانے والی اور لگوانے والی پر لعنت فرمائی ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5097]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/اللباس 83 (5935)، 85 (5941)، صحیح مسلم/اللباس 33 (2122)، سنن ابن ماجہ/النکاح 52 (1988)، (تحفة الأشراف: 15747)، مسند احمد (6/111، 345، 346، 353)، ویأتي عند المؤلف برقم: 5252 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
23. بَابُ: الْمُسْتَوْصِلَةِ
باب: بال جوڑوانے والی عورت کا بیان۔
حدیث نمبر: 5098
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ:" لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْوَاصِلَةَ، وَالْمُسْتَوْصِلَةَ، وَالْوَاشِمَةَ، وَالْمُوتَشِمَةَ". أَرْسَلَهُ الْوَلِيدُ بْنُ أَبِي هِشَامٍ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ بال جوڑنے والی اور جوڑوانے والی، گودنے والی اور گودوانے والی عورت پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت فرمائی ہے۔ (ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں:) ولید بن ہشام نے اسے مرسلاً روایت کیا ہے، (ان کی روایت آگے آ رہی ہے)۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5098]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”جعلی بال لگانے والی، لگوانے والی، رنگ بھرنے والی اور بھروانے والی عورتوں پر لعنت فرمائی ہے“۔ ولید بن ابو ہشام نے اس روایت کو مرسل بیان کیا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5098]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 8107)، ویأتي عند المؤلف: 5253 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 5099
أَخْبَرَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ، قَالَ: حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ بْنُ أَسْمَاءَ، عَنْ الْوَلِيدِ بْنِ أَبِي هِشَامٍ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" لَعَنَ الْوَاصِلَةَ، وَالْمُسْتَوْصِلَةَ، وَالْوَاشِمَةَ، وَالْمُسْتَوْشِمَةَ".
نافع سے روایت ہے کہ انہیں یہ بات پہنچی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بال جوڑنے والی اور جوڑوانے والی، گودنے والی اور گودوانے والی عورت پر لعنت فرمائی ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5099]
حضرت نافع رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”جعلی بال ملانے والی، ملوانے والی، گودنے والی (جسم کے مختلف حصوں میں چھید کر رنگ بھرنے والی یا جسم پر نقش و نگار بنانے والی) اور گدوانے والی (جسم کے مختلف حصوں کو چھدوا کر ان میں رنگ بھروانے والی یا جسم کے مختلف حصوں پر چھدوا کر نقش و نگار کرانے والی) عورت پر لعنت فرمائی ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5099]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/اللباس 83 (5937)، 85 (5940)، 87 (5947)، صحیح مسلم/اللباس 33 (2124)، سنن ابی داود/الترجل 5 (4168)، سنن الترمذی/اللباس 25 (1759)، الأدب 33 (2784)، سنن ابن ماجہ/النکاح 52 (1759)، مسند احمد (2/21)، ویأتي عند المؤلف برقم: 5251 و 5253 (صحیح) (یہ مرسل ہے لیکن اوپر کی حدیث میں نافع نے اسے ابن عمر سے روایت کیا ہے اس سے تقویت پاکر یہ صحیح لغیرہ ہے)»
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 5100
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ وَهْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مِسْكِينُ بْنُ بُكَيْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ الْحَسَنِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَعَنَ اللَّهُ الْوَاصِلَةَ، وَالْمُسْتَوْصِلَةَ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بال جوڑنے والی اور جوڑوانے والی عورت پر اللہ تعالیٰ نے لعنت فرمائی ہے“۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5100]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے جعلی بال لگانے والی اور لگوانے والی عورت پر لعنت فرمائی ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5100]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/النکاح 94 (5205)، اللباس 83 (5934)، صحیح مسلم/اللباس 33 (2123)، (تحفة الأشراف: 17849)، مسند احمد (6/111، 116، 228) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 5101
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ مُوسَى، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عَزْرَةَ، عَنْ الْحَسَنِ الْعُرَنِيِّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ الْجَزَّارِ، عَنْ مَسْرُوقٍ , أَنَّ امْرَأَةً أَتَتْ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ، فَقَالَتْ: إِنِّي امْرَأَةٌ زَعْرَاءُ أَيَصْلُحُ أَنْ أَصِلَ فِي شَعْرِي؟ فَقَالَ: لَا، قَالَتْ: أَشَيْءٌ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ تَجِدُهُ فِي كِتَابِ اللَّهِ؟ قَالَ: لَا، بَلْ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَجِدُهُ فِي كِتَابِ اللَّهِ , وَسَاقَ الْحَدِيثَ.
مسروق سے روایت ہے کہ ایک عورت نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آ کر کہا: میرے سر پر بال بہت کم ہیں، کیا میرے لیے صحیح ہو گا کہ میں اپنے بال میں کچھ بال جوڑ لوں؟ انہوں نے کہا: نہیں، اس نے کہا: کیا آپ نے اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے یا کتاب اللہ (قرآن) میں ہے؟ کہا: نہیں، بلکہ میں نے اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے۔ اور اسے کتاب اللہ (قرآن) میں بھی پاتا ہوں …، اور پھر آگے حدیث بیان کی۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5101]
حضرت مسروق رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ایک عورت حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آئی اور کہنے لگی کہ میرے سر کے بال نہ ہونے کے برابر ہیں تو کیا میں جعلی بال لگا سکتی ہوں؟ انہوں نے فرمایا: نہیں۔ وہ کہنے لگی: کیا یہ بات آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی یا کتاب اللہ میں پائی ہے؟ انہوں نے فرمایا: ہاں، میں نے یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی سنی اور میں اسے کتاب اللہ میں بھی پاتا ہوں۔ پھر راوی نے پوری حدیث بیان کی۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5101]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 9584)، مسند احمد (1/415) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
24. بَابُ: الْمُتَنَمِّصَاتِ
باب: منہ کے روئیں اکھاڑنے والی عورتوں کا بیان۔
حدیث نمبر: 5102
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلَّامٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الْحَفَرِيُّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ:" لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْوَاشِمَاتِ، وَالْمُوتَشِمَاتِ، وَالْمُتَنَمِّصَاتِ، وَالْمُتَفَلِّجَاتِ لِلْحُسْنِ الْمُغَيِّرَاتِ".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گودنے والی، گودوانے والی، پیشانی کے بال اکھاڑنے والی، خوبصورتی کے لیے دانتوں کے درمیان کشادگی کروانے والی، اور اللہ تعالیٰ کی بنائی ہوئی چیز کو بدلنے والی عورتوں پر لعنت فرمائی ہے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5102]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”رنگ بھرنے والی، بھروانے والی، بال اکھیڑنے والی اور دانتوں کو رگڑ رگڑ کر باریک کرنے والی عورتوں پر لعنت فرمائی ہے جو حسن کی خاطر (اللہ تعالیٰ کی بنائی ہوئی صورت میں) بگاڑ پیدا کرتی ہیں۔“ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5102]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/تفسیرسورة الحشر 4 (4886)، اللباس 82 (5931)، 84 (5939)، 85 (5943)، 86 (5944)، 87 (5948)، صحیح مسلم/اللباس 33 (2125)، سنن ابی داود/الترجل 5 (4169)، سنن الترمذی/الأدب 33 (2782)، سنن ابن ماجہ/النکاح 52 (1989)، (تحفة الأشراف: 9450)، مسند احمد (1/433، 443، 465)، سنن الدارمی/الإستئذان 19 (2689)، ویأتي عند المؤلف برقم: 5110- 5112، 5254- 5257 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: چونکہ یہ سارے اعمال ممنوع ہیں اس لیے ان کو کرنے والے اور ان کے کرنے میں مدد دینے والے سب پر لعنت کی گئی ہے، دانتوں میں کشادگی کے لیے، دانتوں کی تراش خراش کرنی پڑتی ہے اور یہ عمل قدرتی دانتوں میں تبدیلی ہے جو اللہ کی تخلیق میں دخل دینا ہے اس لیے یہ عمل بھی ممنوع ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه