سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
5. بَابُ: النَّهْىِ عَنِ الْقَزَعِ
باب: قزع یعنی کچھ بال رکھنا اور کچھ منڈانا منع ہے۔
حدیث نمبر: 5053
أَخْبَرَنِي عِمْرَانُ بْنُ يَزِيدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي الرِّجَالِ، عَنْ عُمَرَ بْنِ نَافِعٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" نَهَانِي اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ، عَنِ الْقَزَعِ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے اللہ تعالیٰ نے «قزع» (سر کے کچھ بال منڈانے اور کچھ رکھ چھوڑنے) سے منع کیا ہے“۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5053]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ عزوجل نے مجھے قزع سے منع فرمایا ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5053]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/اللباس72(5921)، صحیح مسلم/اللباس31(2120)، سنن ابی داود/الترجل14(4193)، سنن ابن ماجہ/اللباس38(3637)، مسند احمد (2/4، 39، 55، 67، 83، 101، 106، 118، 137، 143، 154)، ویأتي عند المؤلف بأرقام5230- 5233 (منکر) (اس کے راوی ’’عبدالرحمن‘‘ حافظہ کے کمزور ہیں، لیکن اس کے بعد کی حدیث صحیح ہے)»
قال الشيخ الألباني: منكر
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن
حدیث نمبر: 5054
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْقَزَعِ"، قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: حَدِيثُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، وَمُحَمَّدِ بْنِ بِشْرٍ أَوْلَى بِالصَّوَابِ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے «قزع» (سر کے کچھ بال منڈانے اور کچھ رکھ چھوڑنے) سے منع فرمایا ہے۔ ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں: یحییٰ بن سعید اور محمد بن بشر کی حدیث زیادہ قرین صواب ہے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5054]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے «الْقَزَعِ» ”قزع“ سے منع فرمایا ہے۔ ابوعبدالرحمٰن (امام نسائی رحمہ اللہ) نے کہا کہ یحییٰ بن سعید (القطان) اور محمد بن بشر کی روایت (اس مذکورہ روایت سے) زیادہ درست اور صحیح ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5054]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 7901) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یحییٰ بن سعید اور محمد بن بشر کی حدیث باب «ذکر النہی عن أن یحلق بعض شعر الصبي و یترک بعضہ» کے ضمن میں نمبر ۵۲۳۲، ۵۲۳۳ کے تحت ذکر ہے۔ ان دونوں حدیثوں میں عبیداللہ اور نافع کے درمیان عمر بن نافع کا ذکر ہے، جب کہ سفیان کی اس روایت میں ایسا نہیں ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
6. بَابُ: الأَخْذِ مِنَ الشَّعْرِ
باب: مونچھ کاٹنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 5055
أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ أَخُو قَبِيصَةَ، وَمُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ كُلَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ، قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلِي شَعْرٌ، فَقَالَ: ذُبَابٌ، فَظَنَنْتُ أَنَّهُ يَعْنِينِي، فَأَخَذْتُ مِنْ شَعْرِي، ثُمَّ أَتَيْتُهُ , فَقَالَ لِي:" لَمْ أَعْنِكَ , وَهَذَا أَحْسَنُ".
وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور میرے سر پر (لمبے) بال تھے، آپ نے فرمایا: ”نحوست ہے“، میں نے سمجھا کہ آپ مجھے کہہ رہے ہیں، چنانچہ میں نے اپنے سر کے بال کٹوا دیے پھر میں آپ کے پاس آیا تو آپ نے فرمایا: ”میں نے تم سے نہیں کہا تھا، لیکن یہ بہتر ہے“۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5055]
حضرت وائل بن حجر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوا تو میرے لمبے لمبے بال تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «ذُبَابٌ ذُبَابٌ» ”نحوست ہے (یہ بری چیز ہے)۔“ میں نے سمجھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اشارہ میری طرف ہے، میں نے اپنے بال کاٹ دیے، پھر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «إِنِّي لَمْ أَعْنِكَ وَهَذَا أَحْسَنُ» ”میرا اشارہ تیری طرف نہیں تھا۔ ویسے یہ تیری زیادہ اچھی حالت ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5055]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الترجل 11 (4190)، سنن ابن ماجہ/اللباس 37 (3636)، (تحفة الأشراف: 11782)، ویأتي عند المؤلف برقم: 5069) (صحیح الإسناد)»
وضاحت: ۱؎: اکثر نسخوں میں یہ تبویب ہے، بعض نسخوں میں «الأخذ من الشعر» ہے جو احادیث کے سیاق کے مناسب ہے، کیونکہ ان میں صرف بال کاٹنے کا تذکرہ ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 5056
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، قَالَ: سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ:" كَانَ شَعْرُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَعْرًا رَجْلًا , لَيْسَ بِالْجَعْدِ، وَلَا بِالسَّبْطِ بَيْنَ أُذُنَيْهِ وَعَاتِقِهِ".
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بال درمیانے قسم کے تھے، نہ بہت گھنگرالے تھے، نہ بہت سیدھے، کانوں اور مونڈھوں کے بیچ تک ہوتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5056]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سر کے بال لہردار تھے، نہ گھنگھریالے، نہ بالکل سیدھے، (اور عموماً) کانوں اور کندھے کے درمیان رہتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5056]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/اللباس 68 (5905، 5906)، صحیح مسلم/فضائل 26 (2338)، سنن الترمذی/الشمائل 3 (26)، سنن ابن ماجہ/اللباس 36 (3634)، (تحفة الأشراف: 1144)، مسند احمد (3/ 135، 203) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 5057
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ دَاوُدَ الْأَوْدِيِّ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحِمْيَرِيِّ، قَالَ: لَقِيتُ رَجُلًا صَحِبَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمَا صَحِبَهُ أَبُو هُرَيْرَةَ أَرْبَعَ سِنِينَ، قَالَ:" نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَمْتَشِطَ أَحَدُنَا كُلَّ يَوْمٍ".
حمید بن عبدالرحمٰن حمیری کہتے ہیں کہ میری ملاقات ایک ایسے شخص سے ہوئی، جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی طرح چار سال رہا تھا، اس نے کہا: ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے روزانہ کنگھی کرنے سے منع فرمایا ہے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5057]
حضرت حمید بن عبد الرحمن حمیری سے روایت ہے کہ میں ایک بزرگ سے ملا جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمتِ اقدس میں اسی طرح رہے تھے جس طرح حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ چار سال آپ کی خدمتِ اقدس میں رہے، انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”ہمیں ہر روز کنگھی کرنے سے“ منع فرمایا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5057]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 239 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یہ حدیث اگلے باب سے متعلق ہے، ناسخین کتاب کی غلطی سے یہاں درج ہو گئی ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
7. بَابُ: التَّرَجُّلِ غِبًّا
باب: ایک دن چھوڑ کر (بالوں میں) کنگھی کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 5058
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ التَّرَجُّلِ إِلَّا غِبًّا".
عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (بالوں میں) کنگھی کرنے سے منع فرمایا، مگر ایک دن چھوڑ کر۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5058]
حضرت عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”بلا ناغہ کنگھی کرنے سے منع فرمایا ہے“۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5058]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الترجل 1 (4159)، سنن الترمذی/اللباس 22 (1756)، (تحفة الأشراف: 9650، 18562، 19306) مسند احمد (4/86) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، ابو داود (4159) ترمذي (1756) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 360
حدیث نمبر: 5059
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ الْحَسَنِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" نَهَى عَنِ التَّرَجُّلِ إِلَّا غِبًّا".
حسن بصری سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کنگھی کرنے سے منع فرمایا مگر ایک دن چھوڑ کر۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5059]
حضرت حسن بصری رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ”بلا ناغہ کنگھی کرنے سے روکا ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5059]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح) (یہ روایت مرسل ہے، وہ بھی حسن بصری کی جو مدلس بھی ہیں، لیکن پچھلی روایت متصل مرفوع ہے)»
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، ضعيف، قتادة عنعن. والحديث مرسل. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 360
حدیث نمبر: 5060
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا بِشْرٌ، عَنْ يُونُسَ، عَنْ الْحَسَنِ , وَمُحَمَّدٍ , قَالَا:" التَّرَجُّلُ غِبٌّ".
حسن بصری اور محمد بن سیرین کہتے ہیں: (بالوں میں) کنگھی ایک ایک دن چھوڑ کر کرنا چاہیئے۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5060]
حضرت حسن بصری رحمہ اللہ اور حضرت محمد بن سیرین رحمہ اللہ نے فرمایا: کنگھی ناغے سے ہونی چاہیے۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5060]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر للمرفوع قبلہ (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، يونس بن عبيد عنعن. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 360
حدیث نمبر: 5061
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ كَهْمَسٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، قَالَ: كَانَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامِلًا بِمِصْرَ، فَأَتَاهُ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِهِ , فَإِذَا هُوَ شَعِثُ الرَّأْسِ مُشْعَانٌّ، قَالَ: مَا لِي أَرَاكَ مُشْعَانًّا وَأَنْتَ أَمِيرٌ؟ قَالَ:" كَانَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَانَا عَنِ الْإِرْفَاهِ"، قُلْنَا: وَمَا الْإِرْفَاهُ، قَالَ:" التَّرَجُّلُ كُلَّ يَوْمٍ".
عبداللہ بن شقیق کہتے ہیں کہ ایک صحابی رسول جو مصر میں افسر تھے، ان کے پاس ان کے ساتھیوں میں سے ایک شخص آیا جو پراگندہ سر اور بکھرے ہوئے بال والا تھا، تو انہوں نے کہا: کیا وجہ ہے کہ میں آپ کو پراگندہ سرپا رہا ہوں حالانکہ آپ امیر ہیں؟ وہ بولے: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں «ارفاہ» سے منع فرماتے تھے، ہم نے کہا: «ارفاہ» کیا ہے؟ روزانہ بالوں میں کنگھی کرنا۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5061]
حضرت عبداللہ بن شفیق رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے ایک صحابی رضی اللہ عنہ مصر کے حاکم تھے، ان کا ایک ساتھی ان کے پاس آیا تو دیکھا کہ ان کے بال پراگندہ اور بکھرے ہوئے ہیں، وہ کہنے لگا: کیا وجہ ہے کہ آپ کے بال بکھرے ہوئے ہیں، حالانکہ آپ حاکم ہیں؟ انہوں نے فرمایا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں ”زیادہ ٹیپ ٹاپ سے روکا کرتے تھے“، اس نے کہا: ٹیپ ٹاپ کا کیا مطلب ہے؟ انہوں نے فرمایا: ہر روز کنگھی کرنا۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5061]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 9747، 15611) ویأتی عندہ برقم: 5241 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
8. بَابُ: التَّيَامُنِ فِي التَّرَجُّلِ
باب: بالوں میں داہنی طرف سے کنگھی کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 5062
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ بِشْرٍ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ أَبِي الشَّعْثَاءِ، عَنْ الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحِبُّ التَّيَامُنَ يَأْخُذُ بِيَمِينِهِ، وَيُعْطِي بِيَمِينِهِ، وَيُحِبُّ التَّيَمُّنَ فِي جَمِيعِ أُمُورِهِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (کاموں کو) دائیں طرف سے شروع کرنا پسند فرماتے تھے (کوئی چیز) لیتے تھے تو دائیں ہاتھ سے، دیتے تھے تو دائیں ہاتھ سے، نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہر کام میں داہنی طرف سے ابتداء کرنا پسند فرماتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5062]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دائیں طرف اختیار کرنے کو پسند فرماتے تھے۔ اپنے دائیں ہاتھ سے لیتے، دائیں ہاتھ سے دیتے بلکہ تمام معاملات میں دائیں طرف کو ترجیح دیتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5062]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 16006) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح