🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Study in Saudi Arabia with a Fully Funded Scholarship Admission Open Join Our Whatsapp Channel For Detail
سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
90. بَابُ: التَّشْدِيدِ فِي لُبْسِ الْحَرِيرِ
باب: ریشم پہننے کی سخت ممانعت اور یہ بیان کہ اسے دنیا میں پہننے والا آخرت میں نہیں پہنے گا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5307
أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَلِيفَةُ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ، قَالَ: لَا تُلْبِسُوا نِسَاءَكُمُ الْحَرِيرَ، فَإِنِّي سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ لَبِسَهُ فِي الدُّنْيَا لَمْ يَلْبَسْهُ فِي الْآخِرَةِ".
عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ تم اپنی عورتوں کو ریشم نہ پہناؤ اس لیے کہ میں نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے دنیا میں ریشم پہنا، وہ اسے آخرت میں نہیں پہن سکے گا ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5307]
حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: اپنی عورتوں کو ریشم نہ پہنایا کرو۔ میں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص دنیا میں ریشم پہنے گا آخرت میں نہیں پہنے گا۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5307]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/اللباس 25 (5834)، صحیح مسلم/اللباس 2 (2069)، (تحفة الأشراف: 10483)، مسند احمد (1/46) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یہ عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کی اپنی سمجھ ہے، انہوں نے اس فرمان کو عام سمجھا حالانکہ یہ مردوں کے لیے ہے، ممکن ہے ان کو وہ حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم نہیں پہنچ سکی ہو جس میں صراحت ہے کہ ریشم امت کی عورتوں کے لیے حلال اور مردوں کے لیے حرام ہے، واللہ اعلم۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5308
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا حَرْبٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عِمْرَانُ بْنُ حِطَّانَ، أَنَّهُ سَأَلَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ: عَنْ لُبْسِ الْحَرِيرِ؟ فَقَالَ: سَلْ عَائِشَةَ , فَسَأَلَتْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: سَلْ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، فَسَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ , فَقَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو حَفْصٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنْ لَبِسَ الْحَرِيرَ فِي الدُّنْيَا، فَلَا خَلَاقَ لَهُ فِي الْآخِرَةِ".
عمران بن حطان سے روایت ہے کہ انہوں نے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے ریشم پہننے کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھ لو، چنانچہ میں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا تو وہ بولیں: عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھ لو، میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا تو انہوں نے کہا: مجھ سے ابوحفص (عمر) رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے دنیا میں ریشم پہنا، اس کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5308]
حضرت عمران بن حطان سے مروی ہے کہ انہوں نے حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے ریشم پہننے کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھو۔ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا تو انہوں نے فرمایا: حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھو۔ میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا تو انہوں نے فرمایا: مجھے حضرت ابو حفص (عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ) نے بیان فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو دنیا میں ریشم پہنے گا اس کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5308]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/اللباس 25 (5835)، (تحفة الٔاشراف: 10548) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یہ بطور زجر و تہدید ہے، جو صرف مردوں کے لیے حرام ہیں، البتہ سونے چاندی کے برتن، اور ریشمی زین دونوں کے لیے حرام ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5309
أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ سَلْمٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا النَّضْرُ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , وَبِشْرِ بْنِ الْمُحْتَفِزِ , عَنْ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِنَّمَا يَلْبَسُ الْحَرِيرَ مَنْ لَا خَلَاقَ لَهُ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حریر نامی ریشم تو وہی پہنتا ہے جس کا (آخرت میں) کوئی حصہ نہیں۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5309]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ریشم تو وہ لوگ پہنتے ہیں جن کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5309]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الٔاشراف: 6656، 6659) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5310
أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ سَنَةَ سَبْعٍ وَمِائَتَيْنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا الصَّعْقُ بْنُ حَزْنٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عَلِيٍّ الْبَارِقِيِّ، قَالَ: أَتَتْنِي امْرَأَةٌ تَسْتَفْتِينِي , فَقُلْتُ لَهَا: هَذَا ابْنُ عُمَرَ: , فَاتَّبَعَتْهُ تَسْأَلُهُ , وَاتَّبَعْتُهَا أَسْمَعُ مَا يَقُولُ , قَالَتْ: أَفْتِنِي فِي الْحَرِيرِ؟ , قَالَ:" نَهَى عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
علی بارقی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک عورت میرے پاس مسئلہ پوچھنے آئی تو میں نے اس سے کہا: یہ ابن عمر رضی اللہ عنہما ہیں، (ان سے پوچھ لو) وہ مسئلہ پوچھنے ان کے پیچھے گئی اور میں بھی اس کے پیچھے گیا تاکہ وہ جو کہیں اسے سنوں، وہ بولی: مجھے حریر نامی ریشم کے بارے میں بتائیے، ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5310]
حضرت علی بارقی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میرے پاس ایک عورت مسئلہ پوچھنے آئی، میں نے اسے کہا: یہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما تشریف فرما ہیں (ان سے پوچھ)، وہ ان کی طرف مسئلہ پوچھنے چلی اور میں بھی اس کے ساتھ چلا تاکہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کا جواب سن سکوں، وہ ان سے کہنے لگی: مجھے ریشم کے بارے میں فتویٰ دیجیے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5310]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الٔاشراف: 7350) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
91. بَابُ: ذِكْرِ النَّهْىِ عَنِ الثِّيَابِ الْقِسِّيَّةِ
باب: ریشمی کپڑوں کے پہننے کی ممانعت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5311
أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ أَبِي الشَّعْثَاءِ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ سُوَيْدٍ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، قَالَ:" أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَبْعٍ، وَنَهَانَا عَنْ سَبْعٍ نَهَانَا عَنْ: خَوَاتِيمِ الذَّهَبِ، وَعَنْ آنِيَةِ الْفِضَّةِ، وَعَنِ الْمَيَاثِرِ، وَالْقَسِّيَّةِ، وَالْإِسْتَبْرَقِ، وَالدِّيبَاجِ، وَالْحَرِيرِ".
براء بن عازب رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سات باتوں کا حکم دیا اور سات باتوں سے منع فرمایا: آپ نے ہمیں سونے کی انگوٹھی سے، چاندی کے برتن سے، ریشمی زین سے، قسی، استبرق، دیبا اور حریر نامی ریشم کے استعمال سے منع فرمایا ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5311]
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں سات کاموں کا حکم دیا اور سات سے منع فرمایا، آپ نے ہمیں سونے کی انگوٹھیوں، چاندی کے برتنوں، ریشمی گدیلوں، قسی کپڑوں، موٹے، باریک اور عام ریشم پہننے سے منع فرمایا۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5311]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 1941 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یہ سب ریشم کی اقسام ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
92. بَابُ: الرُّخْصَةِ فِي لُبْسِ الْحَرِيرِ
باب: ریشم پہننے کی اجازت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5312
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَرْخَصَ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ , وَالزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ فِي قُمُصِ حَرِيرٍ مِنْ حِكَّةٍ كَانَتْ بِهِمَا".
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبدالرحمٰن بن عوف اور زبیر بن عوام رضی اللہ عنہما کو کھجلی کی وجہ سے جو انہیں ہو گئی تھی ریشم کی قمیص (پہننے) کی اجازت دی ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5312]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عبدالرحمن بن عوف اور حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہما کو خارش کی بنا پر ریشم کی قمیص پہننے کی اجازت دے دی تھی۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5312]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الجہاد 91 (2991)، اللباس 29 (5839)، صحیح مسلم/اللباس 3 (2076)، سنن ابی داود/اللباس13(4056)، سنن الترمذی/اللباس 2 (1722)، سنن ابن ماجہ/اللباس17(3592)، (تحفة الأشراف: 1169)، مسند احمد (3/ 215) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یہ اجازت عذر (کھجلی) کی بنا پر تھی، اس لیے صرف عذر تک کی اجازت رہے گی، عذر ختم ہو جانے کے بعد ایسی قمیص نکال دینی ہو گی، یہ پوری قمیص پہننے کے بارے میں ہے، اور جہاں تک صرف ریشم کے بٹن کی بات ہے تو یہ مردوں کے لیے ہر حالت میں جائز ہے۔ (دیکھئیے حدیث نمبر ۵۳۱۴)
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5313
أَخْبَرَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" رَخَّصَ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ , وَالزُّبَيْرِ فِي قُمُصِ حَرِيرٍ كَانَتْ بِهِمَا , يَعْنِي لِحِكَّةٍ".
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عبدالرحمٰن اور زبیر رضی اللہ عنہما کو ریشم کی قمیص کی اجازت دی اس مرض یعنی کھجلی کے سبب جو انہیں ہو گئی تھی۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5313]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عبد الرحمن اور حضرت زبیر رضی اللہ عنہما کو خارش کی وجہ سے ریشم کی قمیص پہننے کی اجازت دی۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5313]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5314
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا جَرِيرٌ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ، قَالَ: كُنَّا مَعَ عُتْبَةَ بْنِ فَرْقَدٍ , فَجَاءَ كِتَابُ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَا يَلْبَسُ الْحَرِيرَ إِلَّا مَنْ لَيْسَ لَهُ مِنْهُ شَيْءٌ فِي الْآخِرَةِ إِلَّا هَكَذَا"، وَقَالَ أَبُو عُثْمَانَ: بِأُصْبُعَيْهِ اللَّتَيْنِ تَلِيَانِ الْإِبْهَامَ , فَرَأَيْتُهُمَا أَزْرَارَ الطَّيَالِسَةِ حَتَّى رَأَيْتُ الطَّيَالِسَةَ".
ابوعثمان النہدی کہتے ہیں کہ ہم عتبہ بن فرقد کے ساتھ تھے کہ عمر رضی اللہ عنہ کا فرمان آیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ریشم تو وہی پہنتا ہے جس کا اس میں سے آخرت میں کوئی حصہ نہیں مگر اتنا، ابوعثمان نے انگوٹھے کے پاس والی اپنی دونوں انگلیوں کے اشارے سے کہا، میں نے دیکھا وہ طیلسان کے کپڑوں کے چند بٹن تھے، یہاں تک کہ میں نے طیلسان کا کپڑا بھی دیکھا۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5314]
حضرت ابو عثمان نہدی بیان کرتے ہیں کہ ہم حضرت عتبہ بن فرقد رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے کہ ہمارے پاس (امیر المومنین) حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی تحریر پہنچی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ریشم تو وہی شخص پہنتا ہے جس کا آخرت میں اس (ریشم) سے کوئی حصہ نہیں، البتہ اتنا پہن سکتا ہے۔ حضرت ابو عثمان نے انگوٹھے کے ساتھ والی دو انگلیوں کے ساتھ اشارہ کیا ہے۔ میں نے سمجھا کہ اس سے مراد چادروں کے کناروں والی پٹیاں ہیں، حتیٰ کہ جب میں نے طیلسان کی چادریں دیکھیں تو مجھے یقین آیا۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5314]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/اللباس 25 (5828)، صحیح مسلم/اللباس 2 (2069)، سنن ابی داود/اللباس 10 (4042)، سنن ابن ماجہ/اللباس 18 (3593)، (تحفة الأشراف: 10597)، مسند احمد (1/36) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5315
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَخْلَدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ، عَنْ وَبَرَةَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ غَفَلَةَ. ح، وأَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي حَصِينٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ غَفَلَةَ، عَنْ عُمَرَ:" أَنَّهُ لَمْ يُرَخِّصْ فِي الدِّيبَاجِ إِلَّا مَوْضِعَ أَرْبَعِ أَصَابِعَ".
عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے دیباج کی اجازت صرف چار انگلی تک دی گئی ہے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5315]
حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ (مردوں کو) ریشم پہننے کی اجازت نہیں مگر چار انگلیوں کے برابر پٹی۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5315]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/اللباس 2 (2069)، سنن الترمذی/اللباس 1 (1721)، (تحفة الٔاشراف: 10459)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الجھاد 21 (2820) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی چار انگل دیباج کے استعمال میں کوئی حرج نہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
93. بَابُ: لُبْسِ الْحُلَلِ
باب: جوڑے پہننے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5316
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ الْبَرَاءِ، قَالَ:" رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْهِ حُلَّةٌ حَمْرَاءُ مُتَرَجِّلًا لَمْ أَرَ قَبْلَهُ وَلَا بَعْدَهُ أَحَدًا هُوَ أَجْمَلُ مِنْهُ".
براء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، آپ لال جوڑا ۱؎ پہنے ہوئے اور کنگھی کیے ہوئے تھے، میں نے آپ سے زیادہ خوبصورت کسی کو نہیں دیکھا، نہ آپ سے پہلے، نہ آپ کے بعد۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5316]
حضرت براء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سرخ حلہ پہنے ہوئے دیکھا، آپ نے بالوں کو کنگھی کر رکھی تھی، میں نے کوئی شخص آپ سے بڑھ کر خوبصورت نہیں دیکھا، نہ آپ سے پہلے اور نہ ہی آپ کے بعد۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5316]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 5234 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: متعدد صحیح احادیث میں یہ بات صراحت کے ساتھ آئی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مردوں کے لیے لال رنگ کو ناپسند فرمایا ہے، (دیکھئیے حدیث نمبر ۵۳۱۸، اور بعد کی حدیثیں) آپ کی مذکورہ چادر میں تھوڑی سی لال رنگ کی ملاوٹ تھی، یا لال رنگ سے آپ نے اس کے بعد منع فرمایا تھا۔ (لال رنگ کے جواز اور عدم جواز کے بارے میں تفصیلی بحث کے لیے دیکھئیے فتح الباری میں اس حدیث کی شرح، کتاب اللباس، باب الثوب الأحمر)۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں