🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Study in Saudi Arabia with a Fully Funded Scholarship Admission Open Join Our Whatsapp Channel For Detail
سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
83. بَابُ: ذِكْرِ النَّهْىِ عَنْ لُبْسِ السِّيَرَاءِ
باب: سیراء چادر پہننے کی ممانعت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5297
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ , أَنَّهُ رَأَى حُلَّةَ سِيَرَاءَ تُبَاعُ عِنْدَ بَابِ الْمَسْجِدِ , فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , لَوِ اشْتَرَيْتَ هَذَا لِيَوْمِ الْجُمُعَةِ وَلِلْوَفْدِ إِذَا قَدِمُوا عَلَيْكَ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّمَا يَلْبَسُ هَذِهِ مَنْ لَا خَلَاقَ لَهُ فِي الْآخِرَةِ"، قَالَ فَأُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدُ مِنْهَا بِحُلَلٍ فَكَسَانِي مِنْهَا حُلَّةً، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , كَسَوْتَنِيهَا وَقَدْ قُلْتَ فِيهَا مَا قُلْتَ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَمْ أَكْسُكَهَا لِتَلْبَسَهَا، إِنَّمَا كَسَوْتُكَهَا لِتَكْسُوَهَا , أَوْ لِتَبِيعَهَا"، فَكَسَاهَا عُمَرُ أَخًا لَهُ مِنْ أُمِّهِ مُشْرِكًا.
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ مسجد کے دروازے کے پاس میں نے ایک ریشمی دھاری والا جوڑا بکتے دیکھا، تو عرض کیا: اللہ کے رسول! اگر آپ اسے جمعہ کے دن کے لیے اور اس وقت کے لیے جب آپ کے پاس وفود آئیں خرید لیتے (تو اچھا ہوتا) ۱؎، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ سب وہ پہنتے ہیں جن کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں۔ پھر اس میں کے کئی جوڑے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، تو ان میں سے آپ نے ایک جوڑا مجھے دے دیا، میں نے کہا: اللہ کے رسول! یہ جوڑا آپ نے مجھے دے دیا، حالانکہ اس سے پہلے آپ نے اس کے بارے میں کیا کیا فرمایا تھا؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے تمہیں یہ پہننے کے لیے نہیں دیا ہے، بلکہ کسی (اور) کو پہنانے یا بیچنے کے لیے دیا ہے، تو عمر رضی اللہ عنہ نے اسے اپنے ایک ماں جائے بھائی کو دے دیا جو مشرک تھا۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5297]
حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے مسجد (نبوی) کے دروازے پر ریشمی دھاریوں والا حلہ فروخت ہوتے دیکھا تو میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اگر آپ یہ حلہ جمعۃ المبارک کے دن اور وفود کی آمد کے موقع پر استعمال کے لیے خرید لیں تو مناسب رہے گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایسے حلے تو وہ لوگ پہنتے ہیں جن کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہے۔ پھر بعد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اسی قسم کے کچھ حلے آئے تو آپ نے مجھے بھی ان میں سے ایک حلہ دے دیا۔ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ نے یہ حلہ مجھے دیا ہے جب کہ آپ نے تو اس بارے میں بڑے سخت الفاظ فرمائے تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے تجھے یہ پہننے کے لیے نہیں دیا بلکہ اس لیے دیا ہے کہ تو کسی اور کو پہنائے یا بیچ لے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے وہ اپنے ایک مشرک اخیافی بھائی کو دے دیا۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5297]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/اللباس 2 (2068)، (تحفة الٔاشراف: 10551) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمر رضی اللہ عنہ کی اس بات پر کوئی نکیر نہیں کی، اس سے ثابت ہوا کہ ان مواقع کے لیے اچھا لباس اختیار کرنے کی بات پر آپ نے صاد کیا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
84. بَابُ: ذِكْرِ الرُّخْصَةِ لِلنِّسَاءِ فِي لُبْسِ السِّيَرَاءِ
باب: عورتوں کو ریشمی دھاری والے لباس پہننے کی اجازت۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5298
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ:" رَأَيْتُ عَلَى زَيْنَبَ بِنْتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَمِيصَ حَرِيرٍ سِيَرَاءَ".
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی زینب رضی اللہ عنہا کو ریشم کی دھاری والی قمیص پہنے دیکھا۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5298]
حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی حضرت زینب رضی اللہ عنہا کو دھاری دار ریشمی قمیص پہنے ہوئے دیکھا۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5298]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابن ماجہ/اللباس19(3598)، (تحفة الأشراف: 1540) (شاذ) (صحیح نام ’’ام کلثوم“ ہے، جیسا کہ اگلی روایت میں ہے، اسی وجہ سے یہ روایت شاذ ہے ویسے اس روایت کے معنی میں کوئی ضعف نہیں)»
قال الشيخ الألباني: شاذ والمحفوظ أم كلثوم مكان زينب
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، ابن ماجه (3598) الزهري عنعن. والمحفوظ ’’أم كلثوم‘‘ بدل زينب. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 363

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5299
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، عَنْ بَقِيَّةَ، حَدَّثَنِي الزُّبَيْدِيُّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ , أَنَّهُ حَدَّثَنِي:" أَنَّهُ رَأَى عَلَى أُمِّ كُلْثُومٍ بِنْتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بُرْدَ سِيَرَاءَ، وَالسِّيَرَاءُ الْمُضَلَّعُ بِالْقَزِّ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی ام کلثوم رضی اللہ عنہا کو سیراء دھاری دار ریشمی چادر پہنے دیکھا۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5299]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی ام کلثوم رضی اللہ عنہا کو ریشمی دھاری دار چادر اوڑھے دیکھا۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5299]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/اللباس 30 (5842)، سنن ابی داود/اللباس 14 (4058)، (تحفة الٔاشراف: 1533) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5300
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا النَّضْرُ , وَأَبُو عَامِرٍ , قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي عَوْنٍ الثَّقَفِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا صَالِحٍ الْحَنَفِيَّ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عَلِيًّا، يَقُولُ: أُهْدِيَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُلَّةُ سِيَرَاءَ , فَبَعَثَ بِهَا إِلَيَّ فَلَبِسْتُهَا، فَعَرَفْتُ الْغَضَبَ فِي وَجْهِهِ، فَقَالَ:" أَمَا إِنِّي لَمْ أُعْطِكَهَا لِتَلْبَسَهَا"، فَأَمَرَنِي فَأَطَرْتُهَا بَيْنَ نِسَائِي.
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سیراء چادر تحفے میں آئی، تو آپ نے اسے میرے پاس بھیج دی، میں نے اسے پہنا، تو میں نے آپ کے چہرے پر غصہ دیکھا، چنانچہ آپ نے فرمایا: سنو، میں نے یہ پہننے کے لیے نہیں دی تھی، پھر آپ نے مجھے حکم دیا تو میں نے اس کو اپنے خاندان کی عورتوں میں تقسیم کر دیا۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5300]
حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمتِ عالیہ میں ایک ریشمی دھاری دار حلہ بطور تحفہ بھیجا گیا، آپ نے وہ مجھے بھیج دیا، میں نے اسے پہن لیا۔ (آپ نے مجھے دیکھا تو) میں نے آپ کے چہرہ انور پر غصے کے آثار دیکھے، آپ نے فرمایا: میں نے تجھے اس لیے نہیں دیا تھا کہ تو اسے پہنے۔ پھر میں نے آپ کے حکم سے اسے اپنے گھر کی عورتوں میں تقسیم کر دیا۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5300]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/اللباس 2 (2071)، سنن ابی داود/اللباس 10 (4043)، (تحفة الأشراف: 10329)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/اللباس 30 (5840)، مسند احمد 1/130، 139) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
85. بَابُ: ذِكْرِ النَّهْىِ عَنْ لُبْسِ الإِسْتَبْرَقِ
باب: استبرق نامی ریشم پہننا منع ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5301
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ الْمَخْزُومِيُّ، عَنْ حَنْظَلَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ يُحَدِّثُ، أَنَّ عُمَرَ خَرَجَ فَرَأَى حُلَّةَ إِسْتَبْرَقٍ تُبَاعُ فِي السُّوقِ , فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , اشْتَرِهَا فَالْبَسْهَا يَوْمَ الْجُمُعَةِ , وَحِينَ يَقْدَمُ عَلَيْكَ الْوَفْدُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّمَا يَلْبَسُ هَذَا مَنْ لَا خَلَاقَ لَهُ"، ثُمَّ أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِثَلَاثِ حُلَلٍ مِنْهَا , فَكَسَا عُمَرَ حُلَّةً، وَكَسَا عَلِيًّا حُلَّةً , وَكَسَا أُسَامَةَ حُلَّةً فَأَتَاهُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , قُلْتَ فِيهَا مَا قُلْتَ ثُمَّ بَعَثْتَ إِلَيَّ، فَقَالَ:" بِعْهَا , وَاقْضِ بِهَا حَاجَتَكَ , أَوْ شَقِّقْهَا خُمُرًا بَيْنَ نِسَائِكَ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ عمر رضی اللہ عنہ نکلے تو دیکھا بازار میں استبرق کی چادر بک رہی ہے، آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر کہا: اللہ کے رسول! اسے خرید لیجئے اور اسے جمعہ کے دن اور جب کوئی وفد آپ کے پاس آئے تو پہنئے۔ آپ نے فرمایا: یہ تو وہ پہنتے ہیں جن کا (آخرت میں) کوئی حصہ نہیں ہوتا، پھر آپ کے پاس تین چادریں لائی گئیں تو آپ نے ایک عمر رضی اللہ عنہ کو دی، ایک علی رضی اللہ عنہ کو اور ایک اسامہ رضی اللہ عنہ کو دی، عمر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر کہا: اللہ کے رسول! آپ نے اس کے بارے میں کیا کیا فرمایا تھا، پھر بھی آپ نے اسے میرے پاس بھیجوایا؟ آپ نے فرمایا: اسے بیچ دو اور اس سے اپنی ضرورت پوری کر لو یا اسے اپنی عورتوں کے درمیان دوپٹہ بنا کر تقسیم کر دو۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5301]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ (گھر سے) نکلے تو دیکھا کہ «إِسْتَبْرَق» استبراق کا ایک جوڑا بازار میں فروخت ہو رہا ہے۔ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہا: اے اللہ کے رسول! یہ حلہ خرید لیجیے اور جمعۃ المبارک کے دن اور وفود کی آمد کے موقع پر زیب تن فرمایا کیجیے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایسے کپڑے تو وہ لوگ پہنتے ہیں جن کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس قسم کے تین حلے لائے گئے۔ آپ نے ایک حلہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو، دوسرا حضرت علی رضی اللہ عنہ کو اور تیسرا حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ کو دے دیا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے آپ کے پاس حاضر ہو کر عرض کی: اے اللہ کے رسول! ان حلوں کے بارے میں تو آپ نے بڑے سخت الفاظ ارشاد فرمائے تھے۔ اب آپ نے وہ حلہ مجھے بھیج دیا ہے۔ آپ نے فرمایا: اسے بیچ کر اپنی ضروریات پوری کر لے یا دو پٹے بنا کر اپنی عورتوں میں تقسیم کر دے۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5301]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الٔاشراف: 6759) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: استبرق ایک قسم کا ریشم ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
86. بَابُ: صِفَةِ الإِسْتَبْرَقِ
باب: استبرق نامی سبز اطلس قسم کے ریشمی کپڑے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5302
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى وَهُوَ ابْنُ أَبِي إِسْحَاق، قَالَ: قَالَ سَالِمٌ: مَا الْإِسْتَبْرَقُ؟ قُلْتُ: مَا غَلُظَ مِنَ الدِّيبَاجِ , وَخَشُنَ مِنْهُ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ , يَقُولُ:" رَأَى عُمَرُ مَعَ رَجُلٍ حُلَّةَ سُنْدُسٍ، فَأَتَى بِهَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: اشْتَرِ هَذِهِ" , وَسَاقَ الْحَدِيثَ.
یحییٰ بن ابی اسحاق کہتے ہیں کہ سالم نے پوچھا: استبرق کیا ہے؟ میں نے کہا: ایک قسم کا ریشم ہے جو سخت ہوتا ہے، وہ بولے: میں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو کہتے ہوئے سنا کہ عمر رضی اللہ عنہ نے ایک شخص کے پاس ایک جوڑا سندس کا دیکھا، اسے لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہا: اسے خرید لیجئیے … پھر پوری روایت بیان کی۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5302]
حضرت یحیی بن ابی اسحاق رحمہ اللہ نے کہا کہ حضرت سالم رحمہ اللہ نے مجھ سے پوچھا: «إِسْتَبْرَقُ» کیا ہوتا ہے؟ میں نے کہا: موٹا کھردرا ریشم۔ وہ کہنے لگے: میں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو فرماتے سنا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ایک آدمی کے پاس «سُنْدُسٍ» کا حلہ دیکھا، وہ یہ حلہ لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوئے اور عرض کیا: یہ خرید لیجیے۔ پھر راوی نے حسبِ سابق حدیث بیان کی۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5302]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الٔمدب 66 (6081)، صحیح مسلم/اللباس 2 (2068)، (تحفة الٔاشراف: 7033)، مسند احمد (2/4949) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: سندس یہ بھی ایک قسم کا ریشمی کپڑا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
87. بَابُ: ذِكْرِ النَّهْىِ عَنْ لُبْسِ الدِّيبَاجِ
باب: دیبا نامی ریشمی کپڑا پہننا منع ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5303
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، وَيَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، وَأَبُو فَرْوَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُكَيْمٍ، قَالَ: اسْتَسْقَى حُذَيْفَةُ، فَأَتَاهُ دُهْقَانٌ بِمَاءٍ فِي إِنَاءٍ مِنْ فِضَّةٍ، فَحَذَفَهُ، ثُمَّ اعْتَذَرَ إِلَيْهِمْ مِمَّا صَنَعَ بِهِ، وَقَالَ: إِنِّي نُهِيتُهُ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" لَا تَشْرَبُوا فِي إِنَاءِ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ، وَلَا تَلْبَسُوا الدِّيبَاجَ، وَلَا الْحَرِيرَ، فَإِنَّهَا لَهُمْ فِي الدُّنْيَا وَلَنَا فِي الْآخِرَةِ".
عبداللہ بن عکیم سے روایت ہے کہ حذیفہ بن الیمان رضی اللہ عنہ نے پانی مانگا تو ایک اعرابی (دیہاتی) چاندی کے برتن میں پانی لے آیا، حذیفہ رضی اللہ عنہ نے اسے پھینک دیا، پھر جو کیا اس کے لیے لوگوں سے معذرت کی اور کہا: مجھے اس سے روکا گیا ہے۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: سونے اور چاندی کے برتن میں نہ پیو اور دیبا نامی ریشم نہ پہنو اور نہ ہی حریر نامی ریشم، کیونکہ یہ ان (کفار و مشرکین) کے لیے دنیا میں ہے اور ہمارے لیے آخرت میں ہیں۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5303]
حضرت عبداللہ بن عکیم سے روایت ہے کہ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے پانی مانگا تو ایک دیہاتی نمبردار چاندی کے برتن میں پانی لایا۔ انہوں نے وہ برتن اسی کو دے مارا۔ پھر حاضرین سے اس سلوک پر معذرت کی اور فرمایا: میں نے اسے کئی بار (چاندی کے برتن میں پانی لانے سے) روکا ہے جبکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: سونے چاندی کے برتن میں پانی نہ پیو اور دیباج و حریر (کسی قسم کا ریشم) نہ پہنو کیونکہ یہ چیزیں ان (کافروں) کے لیے دنیا میں ہیں اور ہمارے لیے آخرت میں ہیں۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5303]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الأطعمة 29 (5426)، الأشربة 27 (5632)، 28 (5633)، اللباس 25 (5831)، 27 (5837)، صحیح مسلم/اللباس 1 (2067)، سنن ابی داود/الأشربة 17 (3723)، سنن الترمذی/الأشربة 10 (1879)، سنن ابن ماجہ/الأشربة 17 (3414)، (تحفة الأشراف: 3368، 3373)، مسند احمد (5/385، 39، 396، 400، 408) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
88. بَابُ: لُبْسِ الدِّيبَاجِ الْمَنْسُوجِ بِالذَّهَبِ
باب: سونے کے کام والے دیبا نامی ریشمی کپڑا پہننے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5304
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ قَزَعَةَ، عَنْ خَالِدٍ وَهُوَ ابْنُ الْحَارِثِ , قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ وَاقِدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ حِينَ قَدِمَ الْمَدِينَةَ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ , فَقَالَ: مِمَّنْ أَنْتَ؟ قُلْتُ: أَنَا وَاقِدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ، قَالَ: إِنَّ سَعْدًا كَانَ أَعْظَمَ النَّاسِ وَأَطْوَلَهُ، ثُمَّ بَكَى فَأَكْثَرَ الْبُكَاءَ، ثُمَّ قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ إِلَى أُكَيْدِرٍ صَاحِبِ دُومَةَ بَعْثًا , فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ بِجُبَّةِ دِيبَاجٍ مَنْسُوجَةٍ فِيهَا الذَّهَبُ، فَلَبِسَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قَامَ عَلَى الْمِنْبَرِ وَقَعَدَ، فَلَمْ يَتَكَلَّمْ وَنَزَلَ فَجَعَلَ النَّاسُ يَلْمِسُونَهَا بِأَيْدِيهِمْ، فَقَالَ:" أَتَعْجَبُونَ مِنْ هَذِهِ , لَمَنَادِيلُ سَعْدٍ فِي الْجَنَّةِ أَحْسَنُ مِمَّا تَرَوْنَ".
واقد بن عمرو بن سعد بن معاذ کہتے ہیں کہ انس بن مالک رضی اللہ عنہ جب مدینے آئے، تو میں ان کے پاس گیا، میں نے انہیں سلام کیا تو انہوں نے کہا: تم کون ہو؟ میں نے کہا: میں واقد بن عمرو بن سعد بن معاذ ہوں، وہ بولے: سعد تو بہت عظیم شخص تھے اور لوگوں میں سب سے لمبے تھے، پھر وہ رو پڑے اور بہت روئے، پھر بولے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دومۃ کے بادشاہ اکیدر کے پاس ایک وفد بھیجا، تو اس نے آپ کے پاس دیبا کا ایک جبہ بھیجا، جس میں سونے کی کاریگری تھی، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پہنا، پھر آپ منبر پر کھڑے ہوئے اور بیٹھ گئے، پھر کچھ کہے بغیر اتر گئے، لوگ اسے اپنے ہاتھوں سے چھونے لگے، تو آپ نے فرمایا: کیا تمہیں اس پر تعجب ہے؟ سعد کے رومال جنت میں اس سے کہیں زیادہ بہتر ہیں جسے تم دیکھ رہے ہو ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5304]
حضرت واقد بن عمرو بن سعد بن معاذ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ جب حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ مدینہ منورہ تشریف لائے تو میں ان کے پاس حاضر ہوا اور سلام عرض کیا، انہوں نے کہا: تو کن میں سے ہے؟ میں نے کہا: میں واقد بن عمرو ہوں، حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کا پوتا۔ انہوں نے کہا: حضرت سعد رضی اللہ عنہ بڑے سردار اور لمبے قد کے آدمی تھے، پھر (ان کو یاد کر کے) روئے اور بہت روئے، پھر فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دومۃ الجندل کے حکمران اکیدر کی طرف ایک لشکر بھیجا تو اس نے (اطاعت قبول کی اور) آپ کی خدمت میں ریشم کا ایک حلہ بھیجا جو سونے کے تاروں سے بنا گیا تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے زیب تن کیا پھر منبر پر تشریف فرما ہوئے، صرف بیٹھے رہے، کوئی تقریر نہیں فرمائی، کچھ دیر بعد اتر آئے، لوگ ہاتھ لگا لگا کر حلے کو دیکھتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم اس (کی عمدگی اور نرمی) پر تعجب کرتے ہو؟ اللہ کی قسم! سعد بن معاذ کے (ہاتھ منہ کی صفائی والے) رومال جنت میں اس سے کہیں بڑھ کر خوب صورت ہیں۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5304]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/اللباس 3 (1723)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الہبة 28 (2615)، وبدء الخلق 8 (3248)، صحیح مسلم/فضائل الصحابة 24 (2469)، مسند احمد (2/121) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: دیبا نامی ایسا ریشمی کپڑا پہننا منسوخ ہے، جیسا کہ اگلی روایت میں آ رہا ہے۔
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
89. بَابُ: ذِكْرِ نَسْخِ ذَلِكَ
باب: دیبا نامی ریشم پہننے کی اباحت کے منسوخ ہونے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5305
حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرًا، يَقُولُ: لَبِسَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قِبَاءً مِنْ دِيبَاجٍ أُهْدِيَ لَهُ، ثُمَّ أَوْشَكَ أَنْ نَزَعَهُ، فَأَرْسَلَ بِهِ إِلَى عُمَرَ، فَقِيلَ لَهُ: قَدْ أَوْشَكَ مَا نَزَعْتَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ. قَالَ:" نَهَانِي عَنْهُ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام". فَجَاءَ عُمَرُ يَبْكِي، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَرِهْتَ أَمْرًا وَأَعْطَيْتَنِيهِ. قَالَ:" إِنِّي لَمْ أُعْطِكَهُ لِتَلْبَسَهُ، إِنَّمَا أَعْطَيْتُكَهُ لِتَبِيعَهُ"، فَبَاعَهُ عُمَرُ بِأَلْفَيْ دِرْهَمٍ.
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیبا کی ایک قباء پہنی جو آپ کو ہدیہ کی گئی تھی، پھر تھوڑی دیر بعد اسے اتار دیا اور اسے عمر رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجا، عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! آپ نے اسے بہت جلد اتار دی، فرمایا: مجھے جبرائیل علیہ السلام نے اس کے استعمال سے روک دیا ہے، اتنے میں عمر رضی اللہ عنہ روتے ہوئے آئے اور بولے: اللہ کے رسول! ایک چیز آپ نے ناپسند فرمائی اور وہ مجھے دے دی؟ فرمایا: میں نے تمہیں پہننے کے لیے نہیں دی، میں نے تمہیں بیچ دینے کے لیے دی ہے، چنانچہ عمر رضی اللہ عنہ نے اسے دو ہزار درہم میں بیچ دیا۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5305]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ریشم کی قبا پہنی جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بطور تحفہ ملی تھی، پھر جلد ہی اتار دی اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس بھیج دی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا گیا: اے اللہ کے رسول! آپ نے اتنی جلدی اتار دی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جبریل علیہ السلام نے مجھے اس سے روک دیا۔ پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ روتے ہوئے آئے اور عرض گزار ہوئے: اے اللہ کے رسول! آپ نے ایک چیز ناپسند فرمائی پھر وہ مجھے دے دی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے تجھے پہننے کے لیے نہیں دی بلکہ اس لیے دی کہ تو اسے بیچ (کر اپنی ضروریات پوری کر) لے۔ پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اسے دو ہزار درہم میں بیچ دیا۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5305]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/اللباس 2 (2070)، (تحفة الٔاشراف: 2825)، مسند احمد (3/383) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
90. بَابُ: التَّشْدِيدِ فِي لُبْسِ الْحَرِيرِ
باب: ریشم پہننے کی سخت ممانعت اور یہ بیان کہ اسے دنیا میں پہننے والا آخرت میں نہیں پہنے گا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5306
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ ثَابِتٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ يَخْطُبُ، وَيَقُولُ: قَالَ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ لَبِسَ الْحَرِيرَ فِي الدُّنْيَا، فَلَنْ يَلْبَسَهُ فِي الْآخِرَةِ".
ثابت کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کو سنا وہ منبر پر خطبہ دیتے ہوئے کہہ رہے تھے: محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے دنیا میں ریشم پہنا وہ آخرت میں اسے ہرگز نہیں پہن سکے گا ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5306]
حضرت ثابت رحمہ اللہ نے فرمایا: میں نے حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کو منبر پر دورانِ خطبہ فرماتے سنا کہ حضرت محمد مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس آدمی نے دنیا میں ریشم پہنا وہ آخرت میں ہرگز نہیں پہن سکے گا۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5306]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/اللباس 25 (5833)، (تحفة الأشراف: 5257)، مسند احمد (4/5) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یہ مردوں کے لیے ہے۔ عورتوں کے لیے ریشم پہننا جائز ہے، جیسا کہ حدیث نمبر ۱۵۵۱ میں گزرا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح بخاري

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں