سلسله احاديث صحيحه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم البانی
ترقيم فقہی
عربی
اردو
نسب کی طرح رضاعت سے بھی رشتے حرام ہو جاتے ہیں
ترقیم الباني: 1182 ترقیم فقہی: -- 1515
-" ادفعوها إلى خالتها، فإن الخالة أم".
سیدنا علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہم مکہ سے نکلے، سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کی بیٹی ہمارے پیچھے چل پڑی اور آواز دی: میرے چچا جان! میرے چچا جان! سو میں نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا اور اسے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے حوالے کرتے ہوئے کہا: یہ تیرے چچا کی بیٹی ہے، اس کو اپنی نگہداشت میں رکھ۔ جب ہم مدینہ پہنچے تو اس کے بارے میں، میں سیدنا زید رضی اللہ عنہ اور سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ تینوں جھگڑنے لگے۔ میں نے کہا: میں اس کو لے کر آیا ہوں اور یہ میرے چچا کی بیٹی ہے۔ زید نے کہا: یہ میرے بھائی کی بیٹی ہے اور جعفر نے کہا: یہ میرے چچا کی بیٹی ہے اور اس کی خالہ میری بیوی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (فیصلہ کرتے ہوئے) جعفر سے فرمایا: ”تو پیدائشی اور اخلاقی اوصاف میں میرے مشابہ ہے۔“ زید سے فرمایا: ”تو ہمارا بھائی اور دوست ہے۔“ اور مجھ (علی) کو فرمایا: ”تو مجھ سے ہے اور میں تجھ سے ہوں۔ اس طرح کرو کہ یہ بچی اس کی خالہ کے حوالے کر دو، کیونکہ خالہ ماں ہی ہوتی ہے۔“ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ اس سے شادی کیوں نہیں کے لیتے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ میری رضائی بھتیجی ہے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الزواج، والعدل بين الزوجات وتربية الاولاد والعدل بينهم وتحسين اسمائهم/حدیث: 1515]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1182
اولاد کے مابین عدل کرنا
ترقیم الباني: 1240 ترقیم فقہی: -- 1516
-" اعدلوا بين أولادكم، اعدلوا بين أولادكم، اعدلوا بين أولادكم".
سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنی اولاد کے مابین انصاف کرو، اپنی اولاد کے مابین انصاف کرو، اپنی اولاد کے مابین انصاف کرو۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الزواج، والعدل بين الزوجات وتربية الاولاد والعدل بينهم وتحسين اسمائهم/حدیث: 1516]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1240
ترقیم الباني: 2994 ترقیم فقہی: -- 1517
-" فما عدلت بينهما. أي بين الابن والبنت في التقبيل".
سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا، اس کے پاس اس کا بیٹا آیا، اس نے اس کا بوسہ لیا اور اسے اپنی گود میں بیٹھا لیا، اس کے بعد اس کی بیٹی آئی، اس نے اسے اپنے ساتھ بیٹھا لیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو نے اس کے درمیان انصاف کیوں نہیں کیا؟“ یعنی بیٹے کا بوسہ لیا اور بیٹی کا نہیں لیا۔ [سلسله احاديث صحيحه/الزواج، والعدل بين الزوجات وتربية الاولاد والعدل بينهم وتحسين اسمائهم/حدیث: 1517]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2994
ترقیم الباني: 3946 ترقیم فقہی: -- 1518
- (اتقُوا الله، واعدِلُوا بينَ أولادِكم؛ كما تُحبُّون أنْ يَبَرُّوكم) .
عامر کہتے ہیں: میں نے سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے سنا، جبکہ وہ خطبہ دے رہے تھے: میرے باپ نے مجھ پر صدقہ کیا، سیدہ عمرہ بنت رواحہ نے کہا: میں اس وقت تک راضی نہیں ہوں گی جب تک کہ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس پر شاہد نہیں بنائے گا۔ پس سیدنا بشیر رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہا: میں نے اپنے بیٹے پر صدقہ کیا ہے اور عمرہ بنت رواحہ نے مجھے کہا کہ میں اس وقت تک راضی نہیں ہوں گی جب تک تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گواہ نہیں بنائے گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا: ”کیا اس کے علاوہ تیرے اور بیٹے بھی ہیں؟۔“ اس نے کہا: جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو نے ان سب کو وہ چیز دی جو اس کو دی ہے؟“ اس نے کہا: نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ ظلم ہے، مجھے ظلم پر گواہ نہ بناؤ، اللہ سے ڈر جاؤ اور اپنی اولاد کے مابین عدل و انصاف کیا کرو، جیسا کہ تم پسند کرتے ہو کہ وہ سب تم سے (برابر کا) حسن سلوک کریں۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الزواج، والعدل بين الزوجات وتربية الاولاد والعدل بينهم وتحسين اسمائهم/حدیث: 1518]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 3946
ترقیم الباني: 2847 ترقیم فقہی: -- 1519
-" إن عليك من الحق أن تعدل بين ولدك كما عليهم من الحق أن يبروك".
سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میرے باپ نے مجھے ایک عطیہ دیا، پھر اس نے چاہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس پر شاہد بنائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا تو نے ایک بیٹے کی طرح اپنے تمام بیٹوں کو عطیے دیئے ہیں۔“ انہوں نے کہا: نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلاشبہ تجھ پر لازم ہے کہ تو اپنی اولاد کے مابین عدل کرے، جیسا کہ ان پر فرض ہے کہ وہ تجھ سے (برابر کا) حسن سلوک کریں۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الزواج، والعدل بين الزوجات وتربية الاولاد والعدل بينهم وتحسين اسمائهم/حدیث: 1519]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2847
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا آخرت میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی ہوں گی
ترقیم الباني: 2255 ترقیم فقہی: -- 1520
-" أما ترضين أن تكوني زوجتي في الدنيا والآخرة؟ قلت: بلى. قال: فأنت زوجتي في الدنيا والآخرة".
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کا ذکر کیا تو میں نے کچھ (ناقدانہ) کلام کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فرمایا: ”کیا تو اس بات پر راضی نہیں ہے کہ دنیا و آخرت میں میری بیوی ہو؟“ میں نے کہا: کیوں نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سو تو دنیا و آخرت میں میری بیوی ہے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الزواج، والعدل بين الزوجات وتربية الاولاد والعدل بينهم وتحسين اسمائهم/حدیث: 1520]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2255
بیوی جنت میں آخری خاوند کے ساتھ ہو گی
ترقیم الباني: 1281 ترقیم فقہی: -- 1521
-" المرأة لآخر أزواجها".
میمون بن مہران کہتے ہیں کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے سیدہ ام دردا کو نکاح کا پیغام بھیجا، لیکن انہوں نے ان سے شادی سے انکار کر دیا اور کہا: میں نے ابودردا رضی اللہ عنہ سے سنا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عورت (جنت میں) اپنے آخری خاوند کے ساتھ ہو گی۔“ اور میں سیدنا ابو دردا کے عوض کسی کو نہیں چاہتی۔ [سلسله احاديث صحيحه/الزواج، والعدل بين الزوجات وتربية الاولاد والعدل بينهم وتحسين اسمائهم/حدیث: 1521]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1281
اولاد اور اس کا مال و دولت والدین کی کمائی ہیں
ترقیم الباني: 1548 ترقیم فقہی: -- 1522
-" أما علمت أنك ومالك من كسب أبيك؟!".
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے اپنے باپ کے خلاف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مدد طلب کی اور کہا: اس نے میرا مال لے لیا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تجھے علم نہیں کہ تو اور تیرا مال (دونوں) باپ کی کمائی ہیں؟“ [سلسله احاديث صحيحه/الزواج، والعدل بين الزوجات وتربية الاولاد والعدل بينهم وتحسين اسمائهم/حدیث: 1522]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1548
ترقیم الباني: 2564 ترقیم فقہی: -- 1523
-" إن أولادكم هبة الله لكم * (يهب لمن يشاء إناثا ويهب لمن يشاء الذكور) * (¬1) ، فهم وأموالهم لكم إذا احتجتم إليها".
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بےشک اللہ نے تمہیں تمہاری اولادیں ہبہ کی ہیں، (وہ جسے چاہتا ہے بیٹیاں عطا کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے بیٹے دیتا ہے) (سورة الشوری: ۴۹) وہ اور ان کے اموال تمہارے لیے ہیں، جب بھی تمہیں ضرورت پڑے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الزواج، والعدل بين الزوجات وتربية الاولاد والعدل بينهم وتحسين اسمائهم/حدیث: 1523]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2564
اللہ تعالیٰ کی غیرت کے تقاضے
ترقیم الباني: 3515 ترقیم فقہی: -- 1524
- (إن الله يغار، وإنّ المؤمن يغارُ، وغيرةُ الله: أن يأتي المؤمن ما حرم عليه) .
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالی بھی غیرت کرتا ہے اور مومن بھی غیرت کرتا ہے، اللہ تعالی کی غیرت یہ ہے کہ مومن اس کے حرام کردہ امور کا ارتکاب کرے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الزواج، والعدل بين الزوجات وتربية الاولاد والعدل بينهم وتحسين اسمائهم/حدیث: 1524]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 3515