🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سلسله احاديث صحيحه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم البانی
ترقيم فقہی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سلسله احاديث صحيحه ترقیم البانی سے تلاش کل احادیث (4035)
حدیث نمبر لکھیں:
سلسله احاديث صحيحه ترقیم فقہی سے تلاش کل احادیث (4103)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
شادی نہ کرنا رہبانیت ہے
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 394 ترقیم فقہی: -- 1495
-" يا عثمان إني لم أومر بالرهبانية أرغبت عن سنتي؟! قال: لا يا رسول الله قال: إن من سنتي أن أصلي وأنام وأصوم وأطعم وأنكح وأطلق، فمن رغب عن سنتي فليس مني، يا عثمان إن لأهلك عليك حقا ولنفسك عليك حقا".
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب سیدنا عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کا عورتوں کو ترک کرنے معاملہ پیش آیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی طرف پیغام بھیجا: ”عثمان مجھے رہبانیت کا حکم نہیں دیا گیا، کیا تو نے میری سنت سے بےرغبتی کی ہے؟“ انہوں نے کہا: نہیں، اے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرا طریقہ یہ ہے کہ میں نماز بھی پڑھتا ہوں اور سوتا بھی ہوں، روزہ بھی رکھتا ہوں اور افطار بھی کرتا ہوں اور عورتوں سے نکاح بھی کرتا ہوں اور طلاق بھی دیتا ہوں، جس نے میری سنت سے منہ موڑا وہ مجھ سے نہیں ہے۔ عثمان تیرے اہل کا تجھ پر حق ہے اور تیرے نفس کا تجھ پر حق ہے۔“ سعد کہتے ہیں: اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا عثمان کو ان کی حالت پر برقرار رکھتے تو مسلمان یہ عزم کر چکے تھے کہ وہ خصی ہو کر اللہ تعالیٰ کی عبادت کے لیے ہر شے سے یکسو ہو جائیں گے۔ [سلسله احاديث صحيحه/الزواج، والعدل بين الزوجات وتربية الاولاد والعدل بينهم وتحسين اسمائهم/حدیث: 1495]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 394

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
شادی نہ کر سکنے والا روزہ رکھے
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 2383 ترقیم فقہی: -- 1496
-" النكاح من سنتي، فمن لم يعمل بسنتي فليس مني وتزوجوا، فإني مكاثر بكم
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نکاح میری سنت ہے، جو میری سنت پر عمل نہیں کرتا وہ مجھ سے نہیں۔ تم لوگ شادیاں کیا کرو، میں تمہاری بنا پر سابقہ امتوں سے کثرت تعداد میں مقابلہ کروں گا۔ جس کے پاس وسعت ہو وہ نکاح کر لے اور جسے استطاعت نہ وہ روزے رکھے، کیونکہ روزہ شہوت کو توڑ دیتا ہے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الزواج، والعدل بين الزوجات وتربية الاولاد والعدل بينهم وتحسين اسمائهم/حدیث: 1496]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2383

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
غیاب کے بعد رات کو بیویوں کے پاس نہ آیا جائے
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 3976 ترقیم فقہی: -- 1497
- (إذا قدم أحدكم ليلاً؛ فلا يأتينَّ أهلَه طُرُوقاً، حتى تستحدَّ المُغِيبَةُ، وتمتشط الشَّعِثَة) .
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی آدمی رات کو (سفر وغیرہ سے) واپس آئے تو اسی وقت اپنی بیوی کے پاس نہ آئے یہاں تک کہ وہ استرا استعمال کر لے اور پراگندہ بالوں والی کنگھی نہ کر لے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الزواج، والعدل بين الزوجات وتربية الاولاد والعدل بينهم وتحسين اسمائهم/حدیث: 1497]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 3976

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
نیک بیوی سعادت ہے اور بدبخت شقاوت ہے
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 282 ترقیم فقہی: -- 1498
-" أربع من السعادة: المرأة الصالحة، والمسكن الواسع، والجار الصالح، والمركب الهنيء. وأربع من الشقاء: الجار السوء، والمرأة السوء، والمسكن الضيق".
سیدنا سعد بن وقاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چار چیزیں سعادت ہیں: نیک بیوی، وسیع گھر، نیک ہمسایہ اور پرسکون سواری۔ اور چار چیزیں بدبختی ہیں: برا ہمسایہ، بری بیوی، بری سواری اور تنگ گھر۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الزواج، والعدل بين الزوجات وتربية الاولاد والعدل بينهم وتحسين اسمائهم/حدیث: 1498]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 282

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
نیک بیوی کی صفات
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 3380 ترقیم فقہی: -- 1499
- (ألا أخبركم برجالكم في الجنة؛! النبي في الجنة، والصديق في الجنة، والشهيد في الجنة، والمولود في الجنة، والرجل يزور أخاه في ناحية المصر- لا يزوره إلا لله- في الجنة. ألا أخبركم بنسائكم في الجنة؛! كل ودود ولود، إذا غضبت أو أسيء إليها [أو غضب زوجها] ؛ قالت: هذه يدي في يدك؛ لا أكتحل بغمض حتى ترضى) .
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تمہیں جنتی مردوں کی خبر نہ دوں؟ نبی جنت میں داخل ہو گا، صدیق جنت میں جائے گا، شہید جنتی ہو گا، (نابالغ) بچہ جنتی ہو گا اور وہ آدمی جنت جائے گا جو شہر کے دوسرے کنارے میں بسنے والے بھائی سے اللہ تعالیٰ کے لیے ملاقات کرنے کے لیے جاتا ہے۔ اب کیا میں تمہیں جنت میں داخل ہونے والی عورتوں کی خبر نہ دوں؟ ہر محبت کرنے والی اور زیادہ بچے جنم دینے والی خاتون، کہ جب اس پر غصے ہوا جاتا ہے یا اس کے ساتھ برا سلوک کیا جاتا ہے یا اس کا خاوند اس پر غصہ ہوتا ہے تو وہ (اپنے خاوند) سے کہتی ہے: یہ میرا ہاتھ ہے آپ کے ہاتھ میں ہے، میں اس وقت تک نہیں سوؤں گی، جب تک تم مجھ سے راضی نہیں ہو جاتے۔“ یہ حدیث سیدنا انس، سیدنا ابن عباس اور سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہم سے مروی ہے۔ [سلسله احاديث صحيحه/الزواج، والعدل بين الزوجات وتربية الاولاد والعدل بينهم وتحسين اسمائهم/حدیث: 1499]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 3380

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 1838 ترقیم فقہی: -- 1500
-" خير النساء التي تسره إذا نظر وتطيعه إذا أمر ولا تخالفه في نفسها ولا مالها بما يكره".
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ کون سی عورتیں بہتر ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(وہ عورت بہتر ہے کہ) جب خاوند اس کی طرف دیکھے تو وہ اسے خوش کر دے، جب وہ اسے حکم دے تو وہ اس کی فرمانبرداری کرے اور اپنے نفس اور مال کے معاملے میں خاوند کی ایسے انداز میں مخالفت نہ کرے جسے وہ ناپسند کرتا ہو۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الزواج، والعدل بين الزوجات وتربية الاولاد والعدل بينهم وتحسين اسمائهم/حدیث: 1500]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1838

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 1849 ترقیم فقہی: -- 1501
-" خير نسائكم الودود الولود المواتية المواسية، إذا اتقين الله، وشر نسائكم المتبرجات المتخيلات وهن المنافقات لا يدخل الجنة منهن إلا مثل الغراب الأعصم".
سیدنا ابو اذینہ صدفی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہاری بہترین بیویاں وہ ہیں جو محبت کرنے والی، زیادہ بچے جننے والی، ہم نوائی کرنے والی اور ہمدردی کرنے والی ہوں، بشرطیکہ وہ اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والی ہوں۔ اور بدترین عورتیں وہ ہیں جو غیر شوہر کے سامنے زیبائش کرنے والی اور اکڑ کر چلنے والی ہوں، ایسی عورتیں منافق ہیں، ان میں سے کوئی بھی جنت میں داخل نہیں ہو گی مگر سرخ چونچ اور سرخ پیر والے کوے کی طرح بہت کم۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الزواج، والعدل بين الزوجات وتربية الاولاد والعدل بينهم وتحسين اسمائهم/حدیث: 1501]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1849

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
شگفتہ مزاج اور صالح مزاج، نہ کہ چڑچڑاپن
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 4005 ترقیم فقہی: -- 1502
- (اللهم! إني أعوذ بك من العجز والكسل، والجبن والبخل، والهرم، وعذاب القبر. اللهم! آت نفسي تقواها، وزكها أنت خير من زكاها، أنت وليها ومولاها. اللهم! إني أعوذ بك من علم لا ينفع، ومن قلب لا يخشع، ومن نفس لا تشبع، ومن دعوة لا يستجاب لها) .
سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں وہی بات کہتا ہوں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے اللہ! میں تیری پناہ میں آتا ہوں بےبسی و لاچارگی اور سستی و کاہلی سے، بزدلی اور بخل سے اور بڑھاپے اور عذاب قبر سے۔ اے اللہ! تو میرے نفس کو تقویٰ عطا فرما اور اس کو پاک کر دے، تو بہترین ہستی ہے جو اسے پاک کر سکتی ہے، تو ہی اس کا نگران کار اور پروردگار ہے۔ اے اللہ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں ایسے علم سے جو فائدہ نہیں دیتا اور ایسے دل سے جو عاجزی و انکساری نہیں کرتا اور ایسے نفس سے جو سیر و سیراب نہیں ہوتا اور ایسی دعا جو قبول نہیں ہوتی۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الزواج، والعدل بين الزوجات وتربية الاولاد والعدل بينهم وتحسين اسمائهم/حدیث: 1502]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 4005

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 3137 ترقیم فقہی: -- 1503
- (كان من دعائه - صلى الله عليه وسلم -: اللهمَّ إني أعوذُ بكَ من جارِ السُّوءِ، ومن زوجٍ تشيِّبني قبلَ المشيب، ومن ولد يكونُ عليّ رَبّاً، ومن مال يكونُ عليّ عذاباً، ومن خليلٍ ماكر عينَه تراني، وقلبُه يرعاني؛ إن رأى حسنة دفنها، وإذا رأى سيّئةً أذاعها) .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا کیا کرتے تھے: ”اے اللہ! میں تیری پناہ طلب کرتا ہوں برے پڑوسی سے اور ایسی بیوی سے جو مجھے بڑھاپے سے پہلے بوڑھا کر دے اور ایسی اولاد سے جو میرا آقا بن بیٹھے اور ایسے مال سے جو میرے لیے باعث عذاب بن جائے اور ایسے چالباز دوست سے جس کی آنکھیں مجھے تک رہی ہوں اور اس کا دل میرے پیچھے پڑا ہو اور میری ہر نیکی کو دباتا جائے اور ہر برائی کو نشر کرتا جائے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الزواج، والعدل بين الزوجات وتربية الاولاد والعدل بينهم وتحسين اسمائهم/حدیث: 1503]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 3137

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
میاں بیوی کے مابین گڑبڑ ممکن ہے، لیکن . . .
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 2901 ترقیم فقہی: -- 1504
-" ألا ترين أني قد حلت بين الرجل وبينك. يعني أبا بكر الصديق وابنته عائشة".
سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ آئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آنے کی اجازت طلب کی۔ انہوں نے سن لیا تھا کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اپنی آواز بلند کر رہی تھیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اجازت دی اور وہ اندر آ گئے اور کہا: ام رومان کی بیٹی! اور اسے پکڑنا چاہا، کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اپنی آواز بلند کرتی ہے؟ لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دونوں کے درمیان حائل ہو گئے۔ جب ابوبکر رضی اللہ عنہ چلے گئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو راضی کرتے ہوئے فرمایا: ”دیکھو تو سہی میں تیرے اور ایک آدمی کے درمیان حائل ہو گیا۔“ (اسی اثنا میں) سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ پھر آ گئے اور اجازت طلب کی اور سنا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو ہنسا رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں (اندر آنے کی) اجازت دی، وہ اندر آ گئے۔ (اب کی بار) سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے اپنے امن و صلح والے ماحول میں بھی شریک کیجئیے، جس طرح اپنی لڑائی میں کیا تھا۔ [سلسله احاديث صحيحه/الزواج، والعدل بين الزوجات وتربية الاولاد والعدل بينهم وتحسين اسمائهم/حدیث: 1504]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2901

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں